سسرالی جن

56

ڈاکٹر خالد مشتاق
دوپہر کا وقت تھا، کلینک میں مریض نہیں تھے۔ کلینک میں کام کرنے والی خاتون جس کی عمر 40 سال تھی، بولی ’’ڈاکٹر صاحب میرے سر میں درد ہورہا ہے، بلڈ پریشر چیک کرو، لو (کم) ہے۔‘‘ بلڈ پریشر نارمل تھا۔ اُس نے پوچھنے پر بتایا کہ اسے رات کو نیند نہیں آتی، سر میں درد رہتا ہے۔ جن کا مسئلہ ہے، بیٹی پر جن آتے ہیں۔ تفصیل اس نے بتانے سے انکار کیا۔ بولی: آپ لوگ کراچی والے ہیں، آپ کو یقین نہیں آئے گا۔
یہ کلینک سندھ کے قدیم شہر ٹھٹہ میں واقع ہے۔ ٹھٹہ دریائے سندھ کے آخری کنارے پر واقع ہے جہاں دریا سمندر میں گرتا ہے۔ اس ہزاروں سال پرانے شہر میں روایات بھی پرانی ہیں اور بہت سے مریضوں کے ساتھ یہ مسائل ہیں کہ جب کوئی چیز سمجھ میں نہ آئے تو اسے جن کہہ دیا جاتا ہے۔
میرے کئی مرتبہ کہنے پر وہ اپنی بیٹی کو لے کر آگئی۔ لڑکی کی عمر 19 سال تھی۔ جب تفصیل معلوم کی تو اس نے بتایا: ’’میری بیٹی بالکل ٹھیک تھی، جب 16 برس کی ہوئی تو ہم نے سوچا اب اس کی منگنی کردیں۔ دیر کرنا گناہ کی بات ہے۔ ہم نے منگنی کے لیے ایک رشتے دار لڑکے کا سوچا، منگنی طے ہوگئی۔ جس دن لڑکے والے ہمارے گھر آئے، لڑکی پر جن آگیا۔ ہم نے اسے کپڑے پہنائے، تیار کررہے تھے کہ لڑکی پر جن جیسی کیفیت طاری ہوگئی، اس کے ہاتھ پائوں سخت ہوگئے، اس نے ہاتھ موڑ لیے، اس کے پورے جسم کو جن زور زور سے جھٹکے دے رہا تھا، ہم نے ہاتھ سیدھا کرنے کی کوشش کی تو اس کے اندر اتنی طاقت آگئی تھی کہ تین مرد بھی مل کر سیدھا نہ کرسکے، بلکہ اس کی ٹانگ پکڑنے کی کوشش کی تو اس نے اتنا زوردار جھٹکا دیا کہ میری بہن لڑکے والوں کی پھوپھی پر جا گری۔ اسے چوٹ آئی، سر پھٹ گیا۔ پھوپھی کو اسپتال لے کر گئے۔ لڑکے والوں کے ساتھ ایک مولوی صاحب بھی تھے، انہوں نے لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر دم کرنا شروع کیا لیکن اس نے اتنی زور سے جھٹکا دیا کہ مولوی صاحب گر گئے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ یہ جن ہے، لڑکی پر جن آگیا ہے۔ انہوں نے ہم سے پوچھا کہ یہ جن پہلے کبھی آیا تھا؟ ہم نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا: ایسا لگتا ہے یہ جن ہم لوگوں کے آنے سے خفا ہے اسی لیے اس نے لڑکے والوں پر غصہ دکھایا ہے۔ غصے میں جن کی وجہ سے لڑکی کے منہ سے جھاگ نکل رہے تھے۔ لڑکے والے کچھ دیر بعد چلے گئے۔ لڑکی ہوش میں آگئی۔ اسے یاد ہی نہیں تھا کہ اسے کیا ہوا تھا۔ سر میں درد تھا، وہ پریشان تھی۔ ہم اگلے دن لڑکی کو ایک بابا کے پاس لے گئے، یہاں بہت سے لوگ جن اتروانے آئے ہوئے تھے۔ جن اتارنے والے نے لڑکی کے سر پر دو مرتبہ ڈنڈی ماری اور کچھ پڑھ کر پھونکیں ماریں اور کہا کہ پہلے دن ہم نے جن کو کم مارا ہے، کل سے دیکھیں گے، اگر جن نہ گیا تو سر پر زیادہ ڈنڈیاں ماریں گے۔ تین دن بعد 10 ڈنڈیاں ماری گئیں۔ لڑکی سے پوچھا کہ جن گیا یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں چلا گیا۔ اس طرح جان چھوٹی۔ ہم نے لڑکے والوں کو بتایا کہ جن چلا گیا، شادی کردیں۔ شادی ہوگئی۔ پہلے دن تو کچھ نہ ہوا، دوسرے دن سسرال میں اچانک جن آگیا۔ لڑکی نے زور سے لات ماری جو کہ شوہر کے منہ پر لگی۔ اس کے خون نکلنے گا، نکسیر پھوٹ گئی۔ سسر نے ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی، لیکن وہ ہلا بھی نہ سکا۔ لڑکی کے منہ سے آواز نکلی۔ غصے میں منہ سے جھاگ نکل رہے تھے۔ شوہر گھبرا کر پیچھے ہٹا تو ساس پر گر گیا۔ وہ پیچھے کھڑی تھی، اسے کہنی پر شدید چوٹ آئی۔ ایکسرے کروایا، ہڈی متاثر تھی۔ پلاسٹر کروانا پڑا۔ لڑکے والوں کے رشتے دار نے ہمیں اطلاع دی۔ ہم وہاں پہنچے تو لڑکی کا جن جا چکا تھا۔ ہم لڑکی کو گھر لے آئے۔ پھر عامل کے پاس لے گئے، اس نے بتایا کہ یہ سسرالی جن ہے، یہ صرف سسرال جانے پر چڑھتا ہے۔ لڑکی ایک ماہ سے گھر پر ہے۔ عامل نے چند دن علاج کیا اور سب کو بتادیا کہ یہ سسرالی جن ہے۔‘‘
میں نے لڑکی کی ماں سے کہا: اماں یہ جن نہیں دماغ کی بیماری ہے۔ آپ لڑکی کو بلائیں، میں دوا دیتا ہوں وہ ٹھیک ہوجائے گی۔
اس نے لڑکی کو بلایا، وہ مایوس تھی۔ ایک نیورولوجسٹ کو فون کیا اور مشورہ کیا۔ صبح شام کھانے کی دوا دی۔ لڑکی خود کو بہتر محسوس کررہی تھی۔ میں نے لڑکی کی ماں سے کہا: اس کے شوہر کو بلائو۔ وہ جب آیا تو ہم نے اسے سمجھایا کہ لڑکی کو دماغ کی بیماری ہے، اس بیماری کا دورہ جب پہلی مرتبہ پڑا تو سسرال کے لوگ موجود تھے، دوسری دفعہ پڑا تب وہ سسرال میں موجود تھی۔ یہ اتفاقی بات ہے۔ حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ طاقت کا آنا، ہاتھ مڑنا، جھٹکے، منہ سے جھاگ، منہ بند ہونا… یہ سب مرگی کی بیماری کی علامات ہیں۔ یہ قابلِ علاج بیماری ہے۔
دو ماہ تک انہوں نے انتظار کیا، پھر ڈرتے ڈرتے لڑکی کو لے گئے۔ وہ سسرال میں رہ رہی ہے اور مرگی کی دوا کھا رہی ہے۔
ہمارے معاشرے میں معلومات کی کمی سے ہزاروں مریض عاملوں سے مار کھاتے ہیں جو مرگی کے دورے کو جن سمجھ کر مریض پر تشدد کرتے ہیں۔

حصہ