اخبارِ ادب

75

ڈاکٹر نثار احمد نثار
مشاعرے ہماری تہذیب و تمدن کے علم بردار ہیں جو لوگ اس ادارے کی ترویج و ترقی کے لیے مصروف عمل ہیں وہ قابل ستائش ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ کراچی شہر میں شعر وادب کی محافل بام عروج پر تھیں لیکن دہشت گردوں نے اس شہر کو برباد کیا جس کے باعث فنونِ لطیفہ کے شعبے بھی متاثر ہوئے‘ مشاعروں کا سلسلہ بھی زوال پزیر ہوا‘ خدا کا شکر ہے کہ اب ادبی محفلیں تواتر کے ساتھ ہو رہی ہیں ان خیالات کا اظہار حافظ نعیم الرحمن نے چیپل سن سٹی گلستانِ جوہر کراچی میں منعقدہ جوہرادب فیملی مشاعرے میں کیا وہ اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے انہوں نے مزید کہا کہ معاشرتی و سیاسی حالات کا درست تجزیہ کیا جائے اور کراچی کو ایک زندہ شہر ہونا چاہیے اس کی رونقیں بحال ہونی ضروری ہیں کسی بھی معاشرے کی ادبی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے میں شاعر و ادیب اہم کردار ادا کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو بڑی بڑی تحریکوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ شعرا کرام نے تحریک قیام پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ان صاحبانِ عقل و دانش میں شاعر مشرق علامہ اقبال بھی شامل تھے جنہوں نے مسلمانانِ ہند کو خوبِ غفلت سے بیدار کرنے میں نمایاں خدمات انجام دیں انہوں نے اسلامی تشخص کو زندہ کیا‘ الگ وطن کا نظریہ پیش کیا کہ جہاں مسلمان اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔ مقامِ افسوس یہ ہے کہ ہم اپنے اکابرین کی ہدایات کو فراموش کر بیٹھے ہیں ہمارے شاعروں کا بیشتر کلام اردو زبان میں موجود ہے لیکن فی زمانہ صورت حال یہ ہے کہ ’’شعر فہم طبقہ‘‘ روز بہ روز کم ہوتا جارہا ہے ہم اور ہمارے بچے اردو زبان سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ آپ اپنی اولادوں کو انگریزی پڑھایے لیکن اردو زبان سے اپنا رابطہ مت توڑیے اس زبان کو سیکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اردو ہماری قومی زبان ہے۔ ہندوستان کے انگریز حکمرانوں نے ایک سازش کے تحت مسلمانوں کو فارسی اور عربی سے دور کرنے کی کوشش کی لیکن اردو زبان ایک عظیم طاقت بن کر سامنے آئی اس زبان نے آزادی کی تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا۔ آج یہ زبان ایک بین الاقوامی زبان ہے۔ پاکستان کے تمام علاقوں میں یہ زبان بولی جاتی ہے یہ رابطے کی زبان ہے اس زبان کو مٹایا نہیں جاسکتا اس کی ترقی کا سفر جاری ہے اس زبان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ اپنے اندر دوسری زبانوں کے الفاظ جذب کرلیتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے حضرت مولانا مودودیؒ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علم کی دولت پھیلائی عوام الناس میں اسلام فہمی پیدا کی ان کے فرمودات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی علمی و سیاسی بصیرت سے استفادہ کریں۔ اس موقع پر حافظ نعیم الرحمن نے جوہر ادب کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں مبارک باد پیش کی۔ اس مشاعری کے مہمان اعزاز یونس بارائی نے کہا کہ کراچی شہر 32 سال کی گھٹن سے اب آزاد ہو رہا ہے۔ بے یقینی کے بادل چھٹ رہے ہیں امن کی صبح طلوع ہو رہی ہے امن وامان کی بحالی میں قلم کاروں کا بھی کنٹری بیوشن ہے انہوں نے مزید کہا کہ نجیب ایوبی اور ان کے رفقا ادبی سرگرمیوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں انہوں نے آج بھی ایک شان دار مشاعرے کا اہتمام کیا ہے جس میں زندگی کے مختلف شعبوں کی اہم شخصیات یہاں موجود ہیں بلاشبہ ہمارعے شہر کو اس قسم کی تقریبات کی ضرورت ہے۔ مشاعرے کے ناظم ممتاز شاعر و صحافی نجیب ایوبی نے کہا کہ آج کے مشاعرے کی بے مثال کامیابی کا سہرا فہیم عثمانی اور ان کی ٹیم کے سر ہے کہ جن کی شبانہ روز محنت سے یہ تقریب کامیاب ہوئی انہوں نے مزید کہا کہ عنایت اللہ اسماعیل اگرچہ اس وقت کراچی میں نہیں ہیں پھر بھی وہ پس پردہ ہمہ وقت موجود تھے ان کی مستقل توجہ اور رہنمائی سے ہمارے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ نجیب ایوبی نے خواتین کلب‘ مہمان شعرا‘ میزبان شعرا‘ اہالیان چیپل سن سٹی‘ راہ ٹی وی چینل‘ مکتبہ نورِ حق‘ جماعت اسلامی کراچی‘ الخدمت آفیشل فوٹو گرافر جوہر ادب یونٹ‘ شاہد اسلام اور بزمِ شعر و سخن کا شکریہ ادا کیا کہ ان کے تعاون اور محبتوں نے آج کے پروگرام کو چار چاند لگا دیے۔ نجیب ایوبی نے جوہر ادب کے بارے میں کہا کہ یہ ادبی تنظیم 2014ء میں قائم ہوئی اس ادارے کے تحت شاہ فیصل کالونی‘ گلشن اقبال اور گلستان جوہر میں بے شمار چھوٹی بڑی شعری نشستیں ہو چکی ہیں اور تین سالانہ مشاعرے بھی ہوئے ہیں اس تنظیم کی مجلس منتظمہ میںعنایت اللہ اسماعیل‘ حمزہ عنایت‘ سید وصی‘ پروفیسر حکیم بیگ چغتائی‘ ڈاکٹر صفوان‘ عبدالرب‘ شاکر علی شامل ہیں۔ رقم الحروف نے پہلی بار نجیب ایوبی کی نظامت کے جوہر دیکھے۔ انہوں نے بہت عمدہ نظامت کی چھوٹے چھوٹے دل چسپ جملوں کے ذریعے سامعین کی سماعتوں کو گرماتے رہے۔ تقدیم و تاخیر کے مسائل بھی پیدا نہیں ہوئے اور مشاعرے کا ٹیمپو کہیں بھی نہیں ٹوٹا‘ بلاشبہ یہ ایک کامیاب مشاعرہ تھا‘ منتظمین کے انتظامات بہت اچھے تھے اسٹیج بھی بہت خوب صورت بنایا گیا تھا‘ سامعین و مہمان شعرا کو چائے پان پیش کیے گئے اور گرما گرم بریانی کھلائی گئی۔ شعرا کرام کو گل دستے اور کتابوںکے تحفے پیش کیے گیے اس موقع پر میزبان مشاعرہ فہیم عثمانی نے کلمات تشکر پیش کرتے ہوئے جوہر ادب کے اغراض و مقاصد بھی بیان کیے انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم اردو ادب کے فروغ میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ آج کا مشاعرہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ہمارے ساتھ علم دوست شخصیات ہیں جن کے تعاون سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم بہت جلد کُل پاکستان مشاعرہ کرنے جا رہے ہیں اور جوہر ادب کے زیر اہتمام ایک مجلہ بھی شائع کریں گے۔ اس مشاعرے کے صدر اعجاز رحمانی نے اپنی غزلیں سنانے سے پہلے اپنے خطاب میں کہا کہ جوہر ادب کا فیملی مشاعرہ کئی حوالوں سے یادگار ہے اس مشاعرے میں سامعین کی کثیر تعداد موجود ہے خواتین بھی مشاعرہ گاہ میں تشریف فرما ہیں۔ تمام لوگ نظم و ضبط کے ساتھ مشاعرہ سماعت کر رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ آج کے مشاعری میں نوجوان نسل شعرا کی تعداد زیادہ ہے یہ ایک اچھی علامت ہے ہمیں چاہیے کہ ہم نوجوان شعرا کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ اردو ادب کا سلسلہ آگے بڑھے۔ آج تمام شعرا نے بہت اچھا کلام پیش کیا۔ انہوں نے منتظمین مشاعرہ کو ہدایت کی کہ اس قسم کا مشاعرہ سہ ماہی بنیادوں پر ضرور ہونا چاہیے۔ مشاعرے میں اعجاز رحمانی‘ خالد معین‘ اجمل سراج‘ راقم الحروف‘ علاء الدین خانزادہ‘ نعمان جعفری‘ نورالدین نور‘ سیمان نوید‘ عمران شمشاد‘ یاسمین یاس‘ ثانی سید‘ شاہدہ عروج‘ خالد میر‘ زاہد عباس عبدالرحمن مومن‘ نجیب ایوبی‘ سجاد حیدر‘ ڈاکٹر اصغر حسین‘ اسد علی چنگیزی‘ محمود غازی بھوپالی‘ داتر‘ فاروق مظہر اور راشد منان نے کلام سنایا۔
…٭…
آزاد خیال ادبی فورم کے تحت کے ایم سی آفیسرز کلب کشمیر روڈ کراچی میں مذاکرہ اور مشاعرہ ترتیب دیا گیا۔ مذاکرے کا موضوع تھا ’’اردو شاعری کے نئے دبستان۔‘‘ اس تقریب کے دونوں حصوں کی صدارت حیات رضوی امروہوی نے کی۔ ڈاکٹر اکرام الحق شوق مہمان خصوصی تھے۔ سرور جاوید نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور مذاکرے کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کراچی اور لاہور اردو شاعری کے اہم مراکز بن چکے ہیں‘ ان دونوں شہروں کے علاوہ کوئی دوسرا شہر اردو شاعری کا دبستان نہیں کہلا سکتا۔ 2008ء میں ڈاکٹر اسلم فرخی کی نگرانی میں جاوید منظر نے ’’کراچی کا دبستان شاعری‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی ہے۔ سرور جاوید نے مزید کہا کہ کسی بھی دبستان کے قیام کے لیے علاقہ ہونا ضروری ہے شاعروں کے اعتبار سے شاعری کے معیار کے حوالے سے اور شعری روایات کے تسلسل میں بھی کراچی کو دبستان کی حیثیت حاصل ہے۔ اربابِ سخن جس علاقے میں رہائش پزیر ہوتے ہیں وہاں کے کلچر سے وابستہ ہونے کے بعد اس علاقے کے معاشرتی ماحول اور سیاسی طرز فکر کو شاعری بناتے ہیں۔ موضوعات‘ علاقات‘ ترکیب لفظی‘ صوتی اثرات مل کر دبستان کی تعریف مکمل کرتے ہیں۔ شاعری زندگی کی عکاس ہے شاعری میں کلچر کی نمائندگی ہوتی ہے۔ لاہور میں نئے الفاظ کے استعمال پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ لاہور کے شعرا نئے نئے الفاظ‘ نئی نئی ردیفیں بلک چونکا دینے والی ردیفیں بنا رہے ہیں۔ لاہور کے نئی نسل شعرا کو نئی ردیفیں نکالنے کا بہت شوق ہے لیکن اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ کی فکر‘ آپ کا خیال‘ ردیف کا پابند ہوجاتا ہے اور اچھے اشعار نہیں نکل پاتے ردیف کی شاعری یا مصرع طرح کی شاعری سے بڑی شاعری جنم نہیں لے سکتی تاہم کچھ سخن ور‘ اپنی ماہرانہ صلاحیتوں کی بنا پر ردیف قافیے کی پابندی کے باوجود بھی اچھی شاعری کر لیتے ہیں۔ سرور جاوید نے بتایا کہ لاہور کے ظفر اقبال نے لفظوں کے بگاڑ نے کا کام شروع کیا۔ انہوں نے لفظوں کی جمع بنانے میں نئی ترکیب نکالیں جیسے انہوں نے گلاب کی جمع اگلاب بنائی ہے۔ یہ طریقۂ کار غلط ہے اردو زبان میں آپ اپنی مرضی سے ترمیم و تنسیخ نہیں کرسکتے۔ اساتذہ نے اردو شاعری کی راہیں متعین کردی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سرور جاوید نے کہا کہ شروع شروع میں کراچی اور لاہور نے اردو شاعری کے اساتذہ کی روایات شاعری کو ملحوظ خاطر رکھا انہوں نے غالب‘ میر‘ اقبال اور جوش سے استفادہ کیا نئے تلازمات اور جدید لفظیات سے گریز کیا جس کی وجہ سے شاعری پر جمود طاری ہوا یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ احمد فراز نے یہ کہا تھا کہ کراچی میں کوئی شاعر نہیں ہے‘ شاعری میں نئے نئے تجربات بھی ہوئے۔ ن۔ م راشد اور تصدق حسین نے آزاد نظم کا تجربہ کیا‘ لاہور میں لفظوںکے اصل مفہوم و معنی سے ہٹ کر لکھا گیا یعنی لاہور والوں کے یہاں شاعری کی قدیم روایات تقریباً ختم ہوچکی ہیں۔ ویسے بھی لفظوں کا برمحل استعمال شاعری کو خوب صورت بناتا ہے۔ تلازمات کے ٹوٹنے سے الفاظ اپنے اصل معنی سے دور ہو جاتے ہیں اور شاعری کا حسن مجروح ہوتا ہے۔ ایک لفظ کے ایک معنی نہیں ہوتے‘ استعمال کے ساتھ ساتھ لفظ کے معنی بدل جاتے ہیں۔ پہلے لفظ بادشاہوں‘ نوابوں کے دربار سے نکلتے ہیں تب عوام تک پہنچتے تھے۔ آج کے زمانے میں میڈیا سے الفاظ ترتیب پا رہے ہیں۔ میڈیا اینکرز جس طرح لفظوںکو برت رہے ہیں عوام ان کا اثر لے رہے ہیں اس طرح بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اصول یہ ہے کہ جب آپ کوئی نیا لفظ بنائیں گے تو وہ لفظ روایت سے جڑا ہونا چاہیے مختلف علاقوں کے شعرا لفظوں کو مختلف انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔ ہر علاقی کی شاعری الگ ہے کیونکہ ہر معاشرے کے اپنے مسائل ہیں۔ ہر دبستان کا شعر اپنے اردگرد کے ماحول سے متاثر ہو کر شاعری کرتا ہے۔ جو لوگ ہجرت کرکے ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جاتے ہیں ان کے اندر بھی اس علاقے کے اثرات در آتے ہیں کہ وہ جہاں رہائش پزیر ہوتے ہیں ۔ کراچی کے مسائل الگ ہیں پنجاب کے مسائل الگ ہیں دونوں جگہوں کے رہنے والوں کے خیالات جدا جدا ہیں اسی لیے لاہور و کراچی کی شاعری میں فرق ہے۔ اس مذاکرے میں تنویر حسن‘ غلام علی وفا‘ عبدالمختار‘ سلمان ثروت‘ جہانگیر اور آزاد حسین آزاد نے بھی حصہ لیا۔ اکرم الحق شوق نے کہا کہ ہر شاعر پر علاقائی اثرات مرتب ہوتے ہیں‘ ذرائع ابلاغ بھی شاعری پر اثر انداز ہوتے ہیں پوری دنیا اب گلوبل ویلج بن گئی ہے لہٰذا ایک علاقے کے رہنے والے دوسرے علاقوں کے مسائل و حالات سے واقف ہوجاتے ہیں ان کے اشعار میں متعلقہ علاقے کے اثرات نمایاں نظر آتی ہیں۔ موجودہ دور میں جدید لفظیات نئے نئے استعارے وضع کیے جاہے ہیں۔ نوجوان نسل شعرا کے یہاں نئے نئے مضامین آرہے ہیں خدا کا شکر ہے کہ اب ہماری شعری روایات نئی نسل تک پہنچ گئی ہے۔ صاحب صدر نے کہاکہ سرور جاوید نے بہت تفصیلی گفتگو کی ہے کراچی اور لاہور کے شعر اردو ادب کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
پروگرام کے دوسرے دور میں مشاعرہ ہوا جس میں صاحبِ صدر‘ مہمان خصوصی کے علاوہ سرور جاوید‘ افضال بیلا‘ بسمل ساغری‘ غلام علی وفا‘ راقم الحروف‘ عادل فریدی‘ سلمان ثروت‘ الحاج یوسف اسماعیل‘ تنویر حسن‘ احمد جہانگیر‘ ڈاکٹر عبدالمختار‘ نعیم سمیر‘ اختر رضا‘ عارف شیخ‘ م۔م۔مغل‘ توقیر تقی‘ نثار محمود تاثیر اور آزاد حسین آزاد نے کلام پیش کیا۔
…٭…
13 اکتو بر 2017ء کو فیضی رحمن آرٹ گیلری کراچی میں کے ایم سی کلچر ڈپارٹمنٹ کراچی کے تعاون سے جاوید آفتاب نے ’’امن مشاعرہ‘‘ کا اہتمام کیا اس پروگرام کے دو حصے تھے دونوں ادوار کی صدارت محمود شام نے کی۔ ڈاکٹر عالیہ امام اور افضال بیلا مہمانان خصوصی تھے۔ تلاوتِ کلام مجید کی سعادت استاد مظہر نے حاصل کی جب کہ ارشد حسین نے نعت رسول اکرمؐ پیش کی۔ ابتدائی کلمات زیڈ ایچ خرم نے ادا کیے اور جاوید آفتاب کو مائیک پر بلایا جنہوں نے کہا کہ 1935ء میں قائم ہونے والی انجمن ترقی پسند مصنفین اپنی افادیت کھو بیٹھی ہے‘ ہم نے ان سے بیس سال کا حساب مانگا لیکن وہ ہمیں مطمئن نہیں کرسکے اس وقت یہ ادارہ قلم کاروں کی خدمت کے بجائے ستائش باہمی کی بنیاد پر کام کر رہا ہے جو ادارے حکومتِ وقت سے سازباز کر لیتے ہیں یعنی ایجنسیوں کے پے رول پر آجاتے ہیں وہ اپنی تنظیم کو آگے نہیں بڑھا سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کراچی میں انجمن ترقی پسند مصنفین کراچی پاکستان کی شاخ قائم کر رہے ہیں اور آج کا اجلاس اسی تناظر میں بلایا گیا ہے ہم نامساعد حالات کے باوجود قلم کاروں کی خدمت کا عزم رکھتے ہیں۔ ہم طبقاتی تقسیم سے بالاتر ہو کر کام کریں گے ہم ادب کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں نئی تنظیم بنانے روکا جارہا ہے انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انہیں پانچ لاکھ کی آفر ہوئی تھی لیکن انہوں نے پیش کش ٹھکرا دی۔ ہم سسٹم بدلنے کے لیے میدان میں اترے ہیں۔ اپنی تقریر کے دوران جاوید آفتاب اپنے نوزائیدہ تنظیم کا طویل منشور بڑھ کر سنایا جس کے باعث حاضرین میں شامل اویس ادیب انصاری نے جاوید آفتاب سے کہا کہ آپ نے امن مشاعرہ بلایا ہے یا یہ کوئی اجلاس ہو رہا ہے کہ آپ اتنی دیر سے گفتگو کر رہے ہیں۔ مشاعرہ شروع کیجیے حاضرین بور ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر صاحب صدر نے بھی جاوید آفتاب کو حکم دیا کہ وہ جلدازجلد اپنی بات ختم کرکے مشاعرہ شروع کریں اس موقع پر پروفیسر اوج کمال نے بھی جاوید آفتاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ ہم انجمن ترقی پسند مصنفین کے کون سے گروپ کو حق بجانب سمجھیں‘ ہم کن لوگوں کو اپنا نجات دہندہ سمجھیں جب کہ اس وقت لاہور میں اس تنظیم کے دو گروپ موجود ہیں اور کراچی میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے دو گروپ کام کر رہے ہیں۔ جاوید آفتاب نے پرفیسر اوج کمال کے سوالوںکے جواب دیے لیکن بات واضح نہیں ہوسکی بہر حال جاوید آفتاب نے انجمن ترقی پسند مصنفین کراچی کی شاخ کے اراکین و عہدیدران کا اعلان کیا۔ ان کے اعلان کے مطابق احمد نوید صدر‘ سینئر نائب صدر پروین حیدر‘ نائب صدر عمران شمشاد‘ قندیل جعفری سیکرٹری جنرل ہوں گی۔ مزید کہا گیا کہ کراچی کی باڈی 33 افراد پر مشتمل ہوگی لیکن اس اجلاس میں تمام ارکان موجود نہیں تھے۔ حلفِ وفاداری کی تقریب کے بعد محمود شام‘ افضال بیلا‘ سعدیہ حریم‘ جاوید آفتاب‘ ندیم اسد‘ کامران پارس‘ سید علی بابا‘ ہدایت سائر‘ مہتاب شاہ‘ عمران شمشاد‘ علی ساحل‘ ڈاکٹر عین الرضا‘ ثانی سید‘ وقار زیدی‘ حجاز مہندی‘ اظہار صدیقی‘ یاسمین یاس‘ فرخ جعفری‘ کونین‘ سلیم شہزاد‘ انیس جعفری اور قندیل جعفری نے کلام نذیر سامعین کیا۔

حصہ