نقلی جمہوریت کا نقلی انصاف

138

تنویر اﷲ خان
ابھی کچھ ہی دن پہلے جناب نواز شریف کے سمدھی اور اسی اہلیت کے بَل پر کابینہ میں شامل وفاقی وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار صاحب قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ میں محض وزیر نہیں ہوں بلکہ محمدؐ کا غلام ہوں اور انؐ کا غلام ہونے کی حییثت سے ملک کی خدمت کررہا ہوںیہ منصب میرے لیے وزارت سے زیادہ عبادت ہے۔ اُن ہی اسحاق ڈار سے جب سوال ہوا کہ آمدنی سے زیادہ آپ کے اخراجات ہیں یہ پیسہ اٖضافی پیسہ کہاں سے آیا تو وہ جواب دینے کے بجائے پاکستان سے بھاگ کر لندن کے اسپتال میں دل کے مریض بن کر بستر نشین ہوگئے، مومن سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن جھوٹا نہیں ہوسکتا۔
یہ نقالوں کی’’ میڈ ان پاکستان اور میڈ فارایلیٹ کلاس‘‘ جمہوریت ہے جو بہت بڑے چوروں، قاتلوں کو جہاز میں بٹھا کر جمہوریت کے مرکزلندن پہنچاکر ہسپتال میں داخل کردیتی ہے جیسے الطاف حسین، اسحاق ڈار اور ان کے دوسرے مشہور رشتہ دار، یہی نقلی جمہوریت بہت بڑے سے چھوٹے چوروں اور قاتلوں کو ملک کی جیل محفوظ ٹھکانہ فراہم کرتی ہے جیسے عزیر بلوچ اور آفاق احمد وغیرہ اور بہت ہی چھوٹے اور چھوٹی چھوٹی چوریاں کرنے والے چوروں کو عدالتوں سے پیشی پر پیشاں دلواتی رہتی ہے اس طرح انصاف ہو یا نہ ہو لیکن انصاف کے بالا خانے ضرور آباد رہتے ہیں اوران ہی بہت ہی چھوٹے چوروں کے دم سے عدالتی پیش کار، محرر، صدا لگانے والے، وکلا اور منصفوں کا دال دلیہ بھی چلتا رہتا ہے ،یہ ہے نقلی جمہوریت کا نقلی انصاف۔
جس طرح آپ ہم زیارت قبور کے لیے قبرستان جاتے ہیں تاکہ عبرت حاصل ہو ایسے ہی کبھی انصاف کے قبرستان یعنی عدالت کی راہدیوں کا چکر لگا کر دیکھیں کہ وہاں عام پاکستانی کس طرح روز مرتا ہے۔
جناب سراج الحق کا بروقت اور صائب مشورہ ہے کہ نیب کے دفتر کے ساتھ بین الاقوامی معیار کا ایک ہسپتال بنا دیا جائے کیوں کہ جس کو بھی نیب تفتیش کے لیے بلاتی ہے وہ نیب کے دفتر جانے کے بجائے ہسپتال پہنچ جاتا ہے۔
سچے اور سادہ سراج الحق کو کوئی جاکر بتائے کہ ایک تو ایسا ہسپتال بننا ہی نہیں ہے کیوں کہ اس کا فیصلہ بھی اُن ہی حکمرانوں کو کرنا ہے جو تفتیش سے بچنے کے لیے لندن فرار ہوتے ہیں۔
ان فراریوں سے نجات کا آسان طریقہ یہ ہے کہ حکمرانی سے مال بنانے کا راستہ بند کردیا جائے کیوں کہ ہمارے حکمرانوں کو نہ طاقت حاصل کرنے کا شوق ہے اور نہ ناموری کا کریز ہے اور نہ ہی اُنھیں عزت کمانے کی فکر ہے یہ صرف اور صرف مال کے بچاری ہیں جب حکمرانی کے منصب سے پیسہ نکل جائے گا تو یہ سارے لوگ وزارت، وزارت اعلی اوروزارت سے انڈے نہ دینے والی کُڑک مرغی کے ساتھ ہونے والی جیسی بے رُخی اختیار کرلیں گے، لیکن یہ بھی ہوتا نظر نہیں آتا،ذمہ داری گھوم پھرکر عوام پر آجاتی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو ووٹ دیںاور ان کے ہاتھ مضبوط کریں جو سرکاری خزانے کو باپ کا مال سمجھنے کے بجائے عوام کا بیت المال سمجھتے ہوں، تاکہ ان لالچیوں، بھگوڑوں، اور ہسپتال کے بیڈ پر لیٹ کر مکاری کرنے والوں سے پاکستان کو نجات ملے۔
پاکستان کا اصل مسئلہ حکمران نہیں ہیں بلکہ عوام کا دوست اور دشمن، صحیح اور غلط کے درمیان فرق نہ کرنا ہے، یہ ٹھیک ہے کہ ہمارا انتخابی نظام دیدہ اور نادیدہ حکمرانوں کی رکھیل ہے وہ جس طرح چاہتے ہیں اس سے کھیلتے ہیں لیکن اس سب کے ہوتے ہوئے بھی اگر عوام تہیہ کرلیں کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے،اپنے ووٹ کو بے توقیر نہیں کریں گے اور اس کا استعمال تمام تر ذاتی لالچ، لسانی عصبیت، مسلکی اختلاف سے بالاتر ہوکرکریں گے تو کوئی مقامی بیرونی ملٹری، سول طاقت مثبت تبدیلی کو نہیں روک سکے گی۔
حکمرانوں کی بدعنوانیاں وہ آئس برگ ہے جو بہت تھوڑا سا نظر آتا ہے اور بہت زیادہ پانی کے نیچے ہوتا ہے لہذا جب تک یہ حکمران ہیں اُس وقت تک لوٹنے والے لوٹتے رہیں گے اور لٹنے والے شور مچاتے رہیں گے، باقی آئندہ۔
کراچی میں اُس جاسوسی کہانی کو دہرایا جارہا ہے جو کبھی الطاف کے نام سے شائع ہوتی ہے اور کبھی سرورق بدل کرآفاق احمد کے نام سے شائع ہوتی ہے کبھی کمال کے نام سے شائع ہوتی ہے کبھی فاروق ستار کے نام سے چھپتی ہے ، جرائم پیشہ لوگوں کو مجرم کو پکڑنے اور ان کے جرائم پر نظر رکھنے والوں نے ایک بار پھر ایک پیج پر جمع کردیا ہے یعنی فاروق ستار جو اپنے قائد کے ایک نعرے سے ایسے بدظن ہوئے کہ اپنے ہی قائد کی جماعت اُنھوں نے چُرا لی اور جناب کمال جو طارق بن زیاد کی طرح اپنا جہاز جس پر بیٹھ کر وہ دبئی سے آئے تھے جو انھوں نے ائرپورٹ پر جلا دیا تھا فرق صرف یہ ہے کہ طارق بن زیاد نے تو اسپین فتح کرلیا تھا لیکن جناب کمال صاحب نے دشمنوں لڑنے کے بجائے اُن سے صلح کرلی ہے، اللہ اہل کراچی کو ظالم الطاف کے غداروں کے گٹھ جوڑ کے شر سے محفوظ رکھے۔
سندھ کی اسٹیبلشمنٹ میں تو نہ ہی اتنی صلاحیت ہے اور نہ ہی اُن کو کراچی سے ایسی دلچسپی ہے کہ وہ کراچی کے لیے کوئی تانا بانا بُنیں، سندھ حکومت کے افسران اور حکمران رشوت، سفارش، کلف لگے کپڑے، سفید ٹویوٹاکرولا، اسمبلی میں بیٹھ کر خواتین کو چھیڑنے اور موبائل پر فلمیں دیکھنے کے شوقین ہیں لہٰذا وہ تو اپنا شوق پورا کررہے ہیں اور گاہے بہ گاہے زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کا نعرہِ مستانہ بلند کرتے رہتے ہیں یہی ان کی پہلی اور آخری خواہش ہے جو پوری ہورہی ہے، بزرگ کہتے تھے کہ اللہ شکر خورے کو شکر دیتا ہے اس وقت تو ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ دادی ہم سے شکر چھپا کر رکھتی تھی کیوں کہ ان کے ،مطابق شکر کھانے سے پیٹ میں کیڑے پڑجاتے ہیںاور ایک ناقابل اشاعت کجھلی بھی ہوجاتی تھی لیکن سندھ کے حکمرانوں کو دیکھ کر بزرگوں کی یہ بات سمجھ میںآگئی ہے۔
بات سندھ کی بیوروکریسی اور حکمرانوں کی ہورہی تھی اور کہا ں جاپہنچی، بہرحال یقین کی حد تک گمان یہ ہے کہ کراچی میں اُٹھا پٹخ کرنے والے وہ لوگ ہیں جو پاکستان سے بوجوہ محبت رکھتے ہیں، جعلی حکمرانوں نے تو بیرون ملک اتنا سرمایہ جمع کرلیا ہے کہ وہ یہاں سے بھاگ کر وہاں اپنا کام کاروبار جما لیں گے لیکن حقیقی حکمرانوں کو پاکستان اور پاکستان کا تجارتی وصنعتی شہر کراچی بہت عزیز ہے ہمیں بھی بحیثیت پاکستانی کراچی بہت عزیز ہے لیکن ارباب اخیتار کراچی پر قابو رکھنے کے لیے جو شارٹ کٹ اختیار کرتے ہیں وہ شارٹ کٹ کراچی کے جسم پر ایک اور لانگ کٹ لگادیتا ہے۔
مہاجر انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئے یعنی مہاجروں نے پہلا قدم ہی ہجرت جیسے مقدس عمل کی تقلید میں اُٹھایاتھا اگر مہاجروں نے نقل مکانی کی ہوتی تو وہ یہاں بھی مکان بنانے کی کوشش کرتے بہرحال مہاجر ان خیالوں میں گُم پاکستان میں داخل ہوئے تھے کہ ہرطرف اُن کے لیے استقبالی کیمپ لگے ہوئے ہوں گے سجی سجائی دف بجاتی بچیاں واہگہ اور مونا باو کے پار ان کے استقبال کے لیے کھڑی ہوں گی لیکن یہاں تو منظر ہی کچھ اور تھا، منصف کی طرح نتائج سے بے پرواہ ہوکر حق کہہ دینے والے مولانا مودودی ؒ رودادِ جماعت اسلامی میں بیان کرتے ہیں کہ مہاجرین کے کیمپ پر ہر وقت بردہ فروشوں کے دھاوے کا خطرہ رہتا تھا، لہذا مہاجروں کا استقبال دف بجاتی بچیوں نے تو نہ کیا بلکہ اُنھیں اپنی ہی بچیوں کو بچانا بھی مشکل ہو گیا اور یہی حالات آج تک ہیں۔
چالاک لیکن بُزدل الطاف حسین نے اس صورتحال کو سمجھا اور ان حالات سے اپنے لیے طاقت، حکمرانی، مال، شہرت خوب کشید کی ، بُزدل آدمی کی عادت ہوتی ہے کہ وہ یا تو ظلم سہتا ہے یا ظلم کرتا ہے، لہذا جناب الطاف حسین کو جیسے ہی طاقت ملی تو وہ مظلوم سے ظالم بن کر ابھرے پھر کراچی میں کیا نہیں ہوا ہلاکو خان کی روح شرماتی نہ ہوگی تو کم از کم خوش ضرور ہوتی ہوگی کہ کراچی میں اُس جیسا ایک اور پیدا ہوگیا، الطاف حسین نے بے گُناہ مخالفین کا قتل عام کیا پھر اپنے ہی کارکنان سے جرائم کروا کر اُن کی گردنیں کاٹیں، اپنے ہی ووٹرز کو ہٹلر کی طرح بلدیہ فیکڑی کو بھٹی بناکر جلا کر راکھ کردیا، تاجروں، صنعت کاروں، غریب دکان داروں، پھیری لگانے والوں، قبرستان کے گورکنوں تک سے بھتہ وصول کیا اب کراچی میں وہی لوگ رہ گئے ہیں جو یا تو بھتہ وصول کرنے والے تھے یا وہ جو کہیں بھاگ جانے کی ہمت اور وسائل نہیں رکھتے یا بہت تھوڑی تعداد اُن لوگوں کی ہے جو کراچی کے شجر سے پیوستہ رہ کر بہار کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
پاکستان کے اصل اسٹیک ہولڈر اگر کراچی کو بچانا، بڑھانا اور پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتے ہیں تو اُنھیں کمال، ستار، آفاق کے جعلی جوڑ کے بجائے کراچی کے سچے خیر خواہوں سے آس لگانا چاہیے۔
پہلے بھی بیان کرچکا ہوں کہ پیپلز پارٹی کراچی کو بغیر چارہ کھائے دودھ دینے والی گائے سمجھتی ہے اور پی ٹی آئی کو یقین ہے کہ پنجاب فتح ہوجائے گا تو کراچی کو کہاں جانا ہے اُن کی بلا سے بلا جیتے یا پتنگ جیتے، مسلم لیگ ن کے خیال میں پاکستان لاہور پر ختم ہوجاتا ہے اسی لیے انھوں نے اپنے ایک محل سے دوسرے محل تک موٹر وے بناکر اپنا آنا جانا آسان کرلیا ہے، اب ایک جماعت اسلامی رہ جاتی ہے جو کراچی سے مخلص بھی ہے اور کراچی میں جم کر بیٹھی بھی ہے اور اہل کراچی کی تمام تر بے رُخی کے بعد بھی اُن کی خیر خواہ بھی ہے لیکن نہ جانے ایسا کیا ہے کہ اہل کراچی اس پر بھروسہ کرنے پر تیار نہیں ہیں، میں تو آج تک یہ گتھی نہ سلجھا سکا اہل علم ودانش، صاحب بصیرت، مستقبل بین ہی کچھ بتائیں کہ ماجرا کیا ہے؟۔

حصہ