لاپتا کراچی کی تلاش

134

سید اقبال چشتی
مسجد سے جمعہ کی نماز پڑھ کر باہر نکلے تو باہر یو سی چیئرمین اکیلے کھڑے 5 نومبر جلسے کے ہینڈ بل تقسیم کر رہے تھے پہلے تو حیرت ہوئی کہ یہ وقت آگیا ہے کہ اب ایم کیو ایم سے وابستہ یو سی چیئرمین کا بلدیاتی عہدہ رکھنے والا فرد مسجد کے باہر ہینڈ بل وہ بھی اکیلے کیا ان کے پاس افراد نہیں ہیں یو سی چیئرمین سے علیک سلیک کی اور ہم نے خیریت کے بعد پوچھا آپ اب تک ایم کیو ایم میں ہی ہیں تو ہنس پڑے مگر کو ئی جواب نہیں دیا اور ہم ہینڈ بل لے کر گھر آگئے گھر آکر ہینڈ بل کو پڑھا تو ہنسی بھی آئی اور لکھنے والوں کی معصومیت پر ترس بھی آیا کہ کس دیدہ دلیری سے جھوٹ لکھ کر ایک بار پھر کراچی کے عوام کو بے وقوف بنانے کی کو شش کی گئی ہے۔ ہینڈ بل پڑھتے ہوئے ہم بھی ماضی کے لاپتا کراچی کی یادوں میں چلے گئے۔
کراچی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا جس کی راتیں جاگتی تھیں ہر زبان بو لنے والے امن و امان محبت اور الفت کے ساتھ ہنستے بستے تھے جہاں ہر گلی محلے میں نفرت نہیں پیار تھا‘ جہاں تعلیم صحت اور روزگار کے مواقع ہر کسی کو حاصل تھے‘ جہاں نہ گندگی تھی اور نہ ہی کوئی بڑے مسائل۔ پانی ہر گھر میں روزانہ کی بنیاد پر آتا تھا جہاں طلبہ بھی عزت کے ساتھ اپنی ٹرانسپورٹ میں تعلیم کے حصول کے لیے جاتے تھے کراچی یو نیورسٹی سے 120 سے زائد پوانٹ کی بسیں طلبا و طالبات کو سفری سہولیات فراہم کرتی تھیں میئر کراچی عبدالستار افغانی بلدیہ کے خصوصی بجٹ سے کراچی یو نیورسٹی، NED کو ہر سال دو بسوں کا تحفہ دیتے تھے ہم نے GCT جامعہ ملیہ پو لی ٹیکنک کو جب بس ملی اس تقریب میں بھی شرکت کی تھی الغرض تعلیم کے متوالوں کو کو ئی پریشانی نہ ہوں اس شہر کی بلدیہ نے ہر طرح کی سہولیات دینے کا جو وعدہ طلبہ اور عوام سے کیا اس کو پورا کیا نہ صرف طلبہ بلکہ کراچی کے شہریوں کو با آسانی روزگار پر جانے اور واپسی کے لیے KTC کے نام سے پورے شہر میں 300 بسیں چلائی گئی تھیں جہاں زیادہ سے زیادہ سرکلر ٹرینیں ٹرانسپورٹ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے چلتی تھیں‘ بے روزگاری کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس شہر کی معیشت کا یہ عالم تھا کہ لوگ پورے پاکستان سے روزگار کی تلاش میں یہاں آتے تھے اور یہ شہر سب کو اپنے دامن میں سمیٹ کر عزت کی روٹی دیتا تھا۔
لوگ محنت کرتے اورسب ساتھ مل جل کر امن کے ساتھ رہتے تھے ہر سال کی طرح نئے سال کو یہ شہر خوش آمدید کہتا ہے لوگ اپنے طور پر خوشیاں بناتے ہیں لیکن کس کو معلوم تھا کہ 1985 کا یہ سال کراچی کے لئے ظلم اور دہشت کے ساتھ آگ اور خون کے علاوہ نفرت اور لاشوں کی سیاست لے کر آئے گا اچانک ایسا ہوتا ہے کہ پُر امن کراچی کو نظر لگ جاتی ہے اور ہر طرف حقوق نا انصافی کی بات ہو نے لگتی ہے شہر کے لوگوں کی اکثریت مہاجر ازم کا نعرہ لگانے والی جماعت کا ساتھ دیتی ہے کہ ہماری شناخت ہوگی‘ ہمارا کوٹہ ہوگا‘ ہمارے وہ بھائی جو بنگلا دیش کے کیمپوں میں ہیں‘ پاکستان لائے جائیں گے‘ حیدرآباد میں یونی یورسٹی بنے گی۔ الغرض حقوق کے نام پر عوام کے تعاون سے پروان چڑھنے والی مہاجر قومی موومنٹ ہر الیکشن میں اپنے مخالفین کو بری طرح شکست دے کر قومی اور صوبائی سطح کی تمام نشستیں اپنے نام کر تی ہے۔ لوگ خوش ہو جاتے ہیں کہ جتنے بھی نعرے حقوق کے نام پر لگائے گئے ہیں سب تسلیم ہو جائیں گے‘ مہاجروں اور اس شہر کی قسمت بدل جائے گی کیونکہ کوئی حکومت ان کے ووٹوں کے بغیر نہیں بن سکتی چاٹرڈ آف ڈیمانڈ حکومت میں جانے سے پہلے پارٹی کے رہنما پیش کرتے ہیں وفاقی وزارتیں، صوبائی وزارتیں پھر سندھ کی گورنر شپ وہ بھی 12 سال تک رہتی ہے‘ ہر حکومت میں شامل ہونا کہ ہم حقوق لینے آئے ہیں۔
میئر کراچی سٹی ناظم ہر جگہ اسی تنظیم کی کامیابیاں جاری رہتی ہیں وسائل ہی وسائل‘ اختیارات ہی اختیارات ان کے چاہنے والے عوا م سڑکوں پر خوشی کے مارے ناچنے لگتے ہیں‘ گھروں پر پارٹی کے جھنڈے‘ ڈرائنگ روم میں قائد کی تصویر لگ جاتی ہے۔ اس کامیابی پر لوگ اپنے قائد کے دیوانے ہوجاتے ہیں کہ جس نے ہمیں شعور دیا‘ ہمارے حقوق کی بات کی پھر نعرہ لگاتے ہیں ’’ہم نہ ہوں ہمارے بعد ، ہمیں منزل نہیں رہنما چاہیے…‘‘
قافلہ چلتا رہتا ہے لوگ اپنے حقوق ملنے کے انتظار میں رہتے ہیں لیکن جلد ہی کچھ لوگ جان جاتے ہیں کہ بے وقوف بنایا جارہا ہے‘ پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں پھر نعرہ لگتا ہے جو ’’قائد کا غدار ہے‘ وہ موت کا حقدار ہے…‘‘ قتل و غارت گری کا بازار ہے جو پھیلتا ہی چلا جاتا ہے… پُرامن کراچی ’’حقوق‘‘ کے نام پر خاک اور خون میں نہلا دیا جاتا ہے‘ ٹارگٹ کلنگ اور ہڑتالوں کی وجہ سے کاروبار ختم ہو جاتا ہے‘ بے روزگاری بڑھ جاتی ہے… ’’بھتہ دو ورنہ گولی کھا کر قبر میں سو جائو‘‘ پرچی ملتی ہے‘ پھر مختلف کارخانے اور ملیں کراچی سے دوسرے شہروں میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ تعلیم کا حرج ہو نے لگتا ہے… چار سال کا کورس پانچ اور چھ سال بعد بھی مکمل نہیں ہوپاتا‘ ترقیاتی فنڈز بلدیہ سے لے کر تمام ممبران اسمبلی کو ملنے کے بعد بھی حقوق کا نعرہ لگتا ہی رہتا ہے مگر مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھنے لگتے ہیں‘ لوگوں کی سوچ بدلنے لگتی ہے کہ ہم کس سراب کے پیچھے چل پڑے… پھر بھی لوگ جانتے بوجھتے ہوئے کہ یہ فراڈ ہو رہا ہے‘ اس سوچ کے ساتھ کہ کوئی آپشن نہیں ہے‘ پارٹی ہی کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہ سوچ بڑھنے لگتی ہے تو پارٹی کا نام بدل کر ’’متحدہ قومی موومنٹ‘‘ رکھ دیا جاتا ہے مگرسندھ کے شہروں پر راج کر نے والی پارٹی حقوق کے حصول میں ناکام ہوجاتی ہے کیو نکہ ان کی نیت میں ہی حقوق حاصل کرنا نہیں تھا‘ پھر اطلاعات آتی ہیں کہ کوئی کہتا ہے یہ پاکستان کے دشمنوں کے ایجنٹ ہیں‘ کو ئی کہتا ہے یہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ ہیں… کہنے والے عوام کو خبردار کرتے رہے لیکن قوم حقوق کی تلاش میں سب کچھ برداشت کرتی رہی اور ہر قدم پر اپنے قائد کی جانب دیکھتی ہے‘ جو مشکل کی کھڑی میں قوم کو چھوڑ کر لندن چلے جاتے ہیں اور برطانوی شہریت لے کر ملکہ برطانیہ کے ساتھ وفاداری کا حلف اُٹھا لیتے ہیں‘ مگر جدوجہد جاری رہتی ہے‘ کا میابیاں پھر بھی ملتی ہیں لیکن اچانک ایسا کیا ہوتا ہے کہ جو دینی جماعتیں اور سیاسی پارٹیاں کئی برسوں سے جو بات کہہ رہی تھیں اُس پارٹی کا اپنا سرکردہ لیڈر علیحدگی اختیار کرتا ہے جو چار سال اس شہر کا سٹی ناظم رہ چکا ہے لوگ اس شخصیت کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں کیو نکہ لوگ اس کے نام اور کمال سے واقف تھے وہی شخصیت ایک دن پریس کانفرنس کر کے کہتی ہے قائد الطاف ــ را کا ایجنٹ ہے کراچی کا پیسہ لندن جاتا رہا ہے کراچی کو ایک عالمی سازش کے تحت قتل و غارت گری کی نظر کر کے تباہ کیا گیا میں قوم سے معافی مانگتا ہوں پھر لوگوں کو پتا چلتا ہے قائد بھی اایک جلسے میں فوج اور پاکستان کو گالیاں دے چکے ہیںیہ سچ ہے جس کے اشارے پر لوگ جان دیتے اور لے لیتے تھے اس قائد سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں ابھی سوچ کے دھارے آگے بڑھنے بھی نہ پائے تھے کہ عصر کی اذان سنائی دیتی ہے اور میری سوچ ایک جگہ رک جاتی ہے جس طرح شہر کراچی کی ترقی اور امن رک گیا تھا نماز پڑھنے مسجد جاتا ہوں تو اُسی جگہ نظر پڑتی ہے جہاں سے مجھے 5نومبر کی احتجاجی ریلی کا ہینڈ بل ملا تھا جس میں لکھا تھا کراچی سے محبت کر نے والو! اُٹھو… اپنے حق کے لئے اپنی تلاش کے لئے اپنے خلاف ہو نے والی نا انصافیوں کے خلاف ۔۔ مگر آپ خود سو چیے اس شہر کراچی کو سب سے زیادہ نقصان کس نے پہنچایا 30 سال بعد بھی وہی نعرہ وہی باتیں یہ لوگ کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں لیکن اس احتجاج میں لوگوں نے شرکت نہ کرکے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اب مزید حقوق کے نام پر دھوکہ دینے والوں کا ساتھ نہیں دے سکتے کیونکہ سب سے زیادہ پڑھی لکھی قوم پاکستان میں مہاجر کہلاتی تھی لیکن اب تعلیمی میدان میں سب سے پیچھے ہے کراچی معیشت کا مرکز تھا لیکن اب یہاں بے روزگاری سے اندازہ ہو تا ہے کہ یہاں روزگار نہیں ہے معیشت اور حقوق کی بات کر نے والے بتائیں اس شہر کراچی کو انہوں نے کیا دیا KESCکو بیچ کر کے الیکٹرک کاعذاب ، کھیل کے میدانوں میں چائنا کٹنگ، ہزاروں لوگوں کی لاشیں ، ہڑتالیں ، بھتہ خوری ، کانا ، لنگڑا ، کن کٹا ، ٹی ٹی ، پڑھی لکھی قوم کو یہ نام دیئے آج بھی لوگ غربت اور افلاس کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن ممبران اسمبلی اور قائدین کے اربوں کے اثاثے لندن امریکا میں بن گئے لیکن اب بھی جاگنے اور حقوق کا نعرہ لگا کر کس کو بیوقوف بنانا چاہتے ہو اس شہر کراچی میں جہاں کوئی لسانی تقسیم نہیں تھی سب قومتیں مل کر ایک جگہ ایک گلی اور محلے میں رہتے تھے لیکن اب کراچی بھی مختلف زبانیں بو لنے والے علاقوں میں تقسیم ہو چکا ہے کیوں !ڈر اور خوف کی وجہ سے جبکہ سب مسلمان ہیں اب بھی اگر سندھ کے شہروں میں رہنے والوں بالخصوص اسٹیبلشمنٹ جس نے کراچی کو لاپتا کیامصنوعی پارٹی کے حوالے کر نے کی سوچ نہ بدلنے کے ساتھ اگر انہوں نے کراچی کی ترقی کے لئے عقل اور شعور کاراستہ اختیار نہ کیااورتمام قومیتوںنے عصبیت کا راستہ نہ چھوڑا تو یقینا تباہی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا کیونکہ دشمن پہلے ہی تاک میں بیٹھا ہے کراچی کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنانا اور اس شہر کو تلاش کرنا ہے تو اللہ کی طرف پلٹنے اور کرپشن سے پاک قیادت کے ساتھ اسلامی پاکستان جس کے لئے ہمارے آبائو اجداد نے قر بانیاں دی تھیں اُسی طرف جانے میںحقوق بھی ہیں اُمن بھی ہے عزت اور روزگاربھی ہے سب سے بڑھ کر ہمارا ملک پاکستان بھی ہے

حصہ