ڈارک میٹر ’’سائنس‘ ٹیسٹ ٹیوب سے باہر‘‘

77

قاضی مظہر الدین طارق
انسان جب سوچتا ہے تو اُس کے ذہن میں بہت سارے سوالات ضرور آتے ہیں۔ وہ پوچھتا ہے: کیا ہم کو کسی نے بنایا ہے؟ اور اگر کسی نے بنایا ہے، تو کیوں بنایا ہے؟ کس لیے بنایا ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو ہر انسان کے دماغ میںکلبلاتے ہیں، یہ اور بات ہے کہ کوئی اِس پر زیادہ سوچتا ہے، اِس میں تجسس زیادہ ہوتا ہے، توکوئی دوسرے مشاغل میں ڈوب کر اسے ایک طرف رکھ دیتا ہے۔
انسان قدیم زمانے سے اِن سوالات پر بہت سوچ بچار کرتا رہا ہے۔ اب تک انسانی علم کا دارومدار صرف حواسِ خمسہ کے ذریعے حاصل ہونے والے مشاہدے، تجربات و تجزیوں پر تھا۔ ظاہر ہے یہ سب اس کے ہی مشاہدے پر مشتمل ہوسکتا تھا، جوکچھ اس جہاں میںانسان کو نظر آسکتا، یا محسوس ہوسکتا، چاہے براہِ راست یا مختلف آلات کی مدد سے۔ جو کچھ حواس سے ماورا ہے انسان نہ اس کا مشاہدہ کرسکتا تھا، نہ محسوس کرسکتا تھا، نہ اس پر تجربات کرسکتا تھا۔ سائنس کا علم مادّے اور توانائی جیسی محسوس ہونے والی چیزوں تک محدود تھا۔ انسان جو کچھ حاضر و موجود ہے اُس کا ہی علم رکھتا تھا۔ جو کچھ کائنات میں اس وقت موجود ہے، اس کا ہی مشاہدہ کرسکتا تھا، اس پر تجربات اور تجزیہ کرسکتا تھا۔ جو ٹیسٹ ٹیوب سے باہر ہے سائنس دان اس کو نہیں مانتا تھا۔
مگر! آج کل ایک مادّہ ایسا بھی دریافت ہوا ہے، جس کو انسان نہ دیکھ سکتا ہے، نہ محسوس کرسکتا ہے، نہ ہی اس پر تجربات کرسکتا ہے۔
اس کا نام ’اندھیرا مادّہ‘(Dark Matter)ہے۔ اس کے ساتھ ہی ’اندھیری توانائی‘ (Dark Energy) بھی ہے۔ ان دونوں کو بھی ٹیسٹ ٹیوب میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
حیرت انگیز! پھر بھی سائنس اسے مانتی ہے، یا ماننے پر مجبور ہے۔
لیجیے! سائنس دانوں کا یہ بہانا بھی ختم ہوا کہ جو چیز ٹیسٹ نہیں کی جا سکتی، اس کو ہم نہیں مانتے،کیونکہ ہم روح، فرشتوں اور اللہ کو (خاکم بدہن) ٹیسٹ ٹیوب میں نہیں ڈال سکتے اس لیے ہم ان کو نہیں مانتے۔
لیکن جو کچھ حاضر و موجود ہے، اس کے بارے میں بھی انسان کا علم انتہائی ناقص ہے، اس لیے کہ انسان کے حواسِ خمسہ ہی ناقص ہیں۔
ایک وقت تھا جب انسان نے آنکھوں دیکھا مشاہدہ کیا کہ روزانہ سورج مشرق سے نکلتا ہے اور سر پر سے گزر کر مغرب میں غروب ہوجاتا ہے۔
اُس نے اُس وقت تک کے علم کے مطابق بالکل صحیح نتیجہ اخذ کیا کہ سورج زمین کے اطراف گھوم رہا ہے۔ یہ سائنس پندرہویں صدی تک، سائنس ہی تھی۔
یہ غلط ہے کہ ’کوپرنیکس‘ کے نئے نظریے کو صرف بائبل کی بنیاد پر رد کیا گیا۔ نہیں! اس کے رد میں اُس وقت کی سائنسی بنیاد سے بھی تردید کی گئی تھی۔ اُس نے زمین کے گرد سورج کی گردش کے مقابلے میں، سورج کے گرد زمین کے گھومنے کا نظریہ پیش کیا تھا۔ یہ کہتے تھے زمین ساکن ہے، وہ کہتا تھا سورج ساکن ہے۔ اِس کی تردید کے لیے اِنہوں نے کئی سائنسی تجربات بھی کیے۔ مثلاً:
ایک یہ کہ ایک ’کمہار کا پہیہ‘ (potters wheel) لیا، اس کے کناروں پر چند پتھر رکھے اور پہیے کو گھمایا، تو سارے پتھرگر گئے، نتیجہ نکالا گیا کہ زمین اگر ساکن نہ ہوتی گھوم رہی ہوتی، تو ہم سب گر جاتے۔
دوسرا تجربہ یہ کیا گیا کہ ایک مینار پر چڑھ کر ایک بڑا سا پتھر پھینکا گیا، جو ظاہر ہے کہ مینار کی بنیاد کے پاس گرا۔ نتیجہ نکالا گیا کہ زمین چل رہی ہوتی تو یہ دور گرتا جیسے کسی گاڑی سے پھینکا جانے والا پتھر دور جا گرتا ہے، پتھر زمین پر گرنے تک گاڑی آگے جا چکی ہوتی ہے۔ جب یہ دور نہ گرا تو ثابت ہوا کہ زمین ساکن ہے، اس لیے قریب گرا۔ آج کے علم کے بعد یہ تجربہ اور اس کا نتیجہ بے وقوفی کے سوا کچھ نہ لگے گا۔ تو یہ حقیقت ہے، سائنس کی۔
حقائق کبھی نہیں بدلتے، لیکن حقائق کے بارے میں انسان کا علم اور اس کی سمجھ کے ترقی کرنے کے ساتھ انسانی علم بدل جاتا ہے، کل جو سائنسی حقیقت تھی آج جہالت نظر آتی ہے۔
آج کی سائنس کے مطابق ’اندھیرا مادّہ‘ (dark matter)کیسے دریافت ہوا۔
ہوا یوں کہ کائنات کی ’مجموعی کمیّت‘(total mass)کا حساب کیا جارہا تھا، تو وہ نظر آنے والی کائنات سے بہت ہی زیادہ تھا۔ پس قیاس کیا گیا کہ کچھ ’اندھیرا مادّہ‘ ہے، جو ہم کو نظر نہیں آتا، وہ پچانوے فیصد ہے۔ جو عام مادّہ ہم کو نظر آتا ہے وہ پورا پانچ فیصد بھی نہیںہے۔
مگر یہ بھی ایک قیاس ہے، جیسے زمین کے گرد سورج کے گھومنے کا قیاس تھا۔
آئندہ نئی معلومات میں اضافے کے ساتھ اس قیاس کا بھی پچھلے قیاسوں جیسا حال ہونے کا پورا پورا امکان موجود ہے۔
لیجیے! آئندہ کا انتظار بھی ختم، ابھی ابھی خیال پیدا ہوا ہے کہ کہکشائوں کے درمیان جو خلا ہے، جس کو(voids between galxies)کہا جاتا ہے، جو بہت ہی وسیع و عریض ہیں، جس میں مادّے کے بکھرے بکھرے بادلوں کی اَن گنت، نظر سے اوجھل ٹولیاں ہیں، یہ بھی ہم کو نظر نہیں آتیں، قیاس ہے کہ اس میں اتنا مادّہ ہوسکتا کہ جو اس ’اندھیرے مادّے‘ کے قیاس کو بھی دفنا دے!
اس قیاس کی یہ خبر ابھی چند روز ہی گزرے ہیں کہ منظرِعام پر آئی ہے۔
بہرحال یہ دونوں قیاس ہی ہیں، آئندہ کی معلومات کی بنیاد پر دیکھیے کون ٹھیرتا ہے، کون ہوا میں اُڑ جاتا ہے۔
ناقص انسانی علم کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ جو صدیوں سے انسان کے لیے حاضر و موجود ہے، اس میدان میں بھی سب کچھ ہرا ہرا نہیں ہے۔
یہ سورج، چاند، ستارے اور اس زمین پر موجود اَن گنت اَنواع و اَقسام کے جانور پہلی مرتبہ کیسے وجود میں آئے اس کے بارے میں سائنس دان علمی و سائنسی بنیادوں پر حتمی طور سے وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ وہ قیاس کرسکتے ہیں کہ شاید ایسے وجود میں آئے ہوں، یا شاید ایسے۔ پھر اس قیاس کی بنیاد پر کچھ تجربات کرکے اپنے قیاس کو ثابت کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں، اس بنیاد پر کچھ اصول و ضوابط بناسکتے ہیں۔ مثلاً:
جب بیسویں صدی کے اَوائل میں آسمان کا مشاہدہ کرنے والے ایک شخص ’اَڈوِن ہبل‘ نے فلک پر موجود اور نظر آنے والی کہکشائوں کو ایک دوسرے سے دور بھاگتے دیکھا تو اس بنیاد پر قیاس کیا کہ ایک ایسا وقت ضرور رہا ہوگا جب یہ ساری کائنات ایک جان تھی، ایک نہایت باریک نقطہ سے بننا شروع ہوکر اب اس قدر پھیل گئی ہے۔ اس قیاس کو Big Bang کا نام دیا گیا۔ برسوں تجربات کرکے بڑی مشکل اور بڑی مزاحمت کے بعد علمی و سائنسی دنیا کی عظیم اکثریت نے اِس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ ایسا ہی ہوا ہوگا، توجہ کریں ’ہے‘ نہیں ’ہوگا‘۔
آئندہ کی معلومات کی بنیاد پر یہ امکان اب بھی باقی ہے کہ ایسا نہ ہوا ہو، مگر فی الحال یہ تسلیم شدہ ہے۔
لیکن، خالقِ کائنات نے پندرہ صدی پہلے یقین کے ساتھ قرآنِ حکیم میں لکھ دیا تھاکہ ’’زمین وآسمان سب ایک جان تھے، ہم نے ان کو جدا کیا!‘‘
پھر سورۂ فلق میں، فلق کے معنیٰ ہی پھاڑنا یا دھماکا کرنا ہے۔ تخلیق کی ابتدا ہمیشہ پھٹنے سے ہوتی ہے، مثلاً بیج پھٹتا ہے تو پودا نکلتا ہے، انڈا ٹوٹتا ہے تو چوزا نکلتا ہے، بادل پھٹتے ہیں تو پانی برستا ہے۔
مگر جب ایسا ہی ایک نظریہ، اس زمین پر زندگی کی آمد کے بارے میں قیاس کیا گیا تھا، کہ حیات کا پہلا سالمہ زمین کے ماحول میں بہت سے عناصر اور سالموں کے ازخود مل جانے سے خودبخود، اپنے آپ اتفاقیہ، حادثاتی طور پر تشکیل پاگیا اور اس سے ترقی کرتا ہوا انسانی ارتقاء کی منزل تک پہنچ گیا۔
پہلے سالمے کے ازخود بن جانے کے اس قیاس کو ثابت کرنے کے لیے ایک سائنس دان ’اسٹنلے ملّر‘ نے ناکام تجربہ کیا اور اس کے بعد سے اب تک ہزاروں تجربات کیے گئے، لیکن اب ایک صدی ہونے کو آئی، کسی کو کامیابی نصیب نہ ہوسکی،کوئی اب تک یہ ثابت نہیں کرسکا کہ خودبخود فطری (naturally) طور پر غیر نامیاتی مرکب (inorganic compound) سے کوئی نامیاتی مرکب بن سکتا ہے۔ تجربہ گاہ میں تو عام حالت میں غیر موجود عنصر (element) بھی بن سکتا ہے اورDNA &RNA بھی۔
بے شک کچھ مشاہدات کی بنیاد پرکچھ لوگوں نے چند نظریے ایسے پیش کیے جو اب تک علمی و سائنسی طور پر تجربات سے ثابت نہیں کیے جا سکے، اِرتقاء کا جو نظریہ اس پہلے سالمے کی ازخود، اتفاقیہ، حادثاتی پیدائش کی بنیاد پرtheory of evolution کے نام سے پیش کیا گیا تھا، ڈیڑھ صدی گزرنے کے بعد بھی اب تک تھیوری ہے!
کہتے ہیں ’’ایک سادہ ترین واحد خَلوی (Mono Cellular)جاندار سے اِرتقاء پاتا ہوا انسان بنا۔‘‘
مگر جب پہلا زندہ خلیہ بنانے کے لیے پہلے ’سالمے‘ کا ازخود بن جانے کا ثبوت نہ مل سکا اور نہ ہی پہلے زندہ خلیے کا ثبوت ملا، نہ ہی یہ معلوم ہوسکا کہ یہ کب،کہاں اور کیسے پیدا ہوا؟
بلکہ انسانی علم تو اب تک یہ بھی نہیں طے کرسکا کہ حیات کی ابتدا کس مرحلے سے ہوئی۔ ایک خلیے سے، DNA سے، RNA سے، amino acids سے، یا اس سے بھی بنیادی حیاتی سالموں (nucleotides)سے، تو انسان کی ارتقاء کے ذریعے آپ سے آپ پیدائش کی بات کیسے کی جا سکتی ہے؟
کیا اندھیرے مادّے اور توانائی کی دریافت نے کم از کم یہ ثابت نہیں کردیا کہ آج کے سائنس دان کسی ایسی چیز کو بھی تسلیم کرسکتے ہیں جو ٹیسٹ ٹیوب میں نہیں ڈالی جا سکتی، یعنی سائنس اب ٹیسٹ ٹیوب سے باہر آگئی ہے، اور مزید یہ کہ یہ خود ان کا اعتراف کرتے ہیںکہ وہ اندھیرے مادّے اور توانائی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ مطلب یہ کہ ان کا علم پچانوے فیصد حقائق، یعنی اس کی سائنس کے بارے میں صفر بھی نہیں؟
(لاتعلم واللّٰہُ اعلم)

حصہ