لامکاں‘ یہ نقطے … پھر دائرہ دائرہ ہمیں قید کرلیں گے… ہماری سوچوں سمیت

87

افشاں نوید
جہاز آہستہ آہستہ فضا میں بلند ہورہا ہے۔ اور جب وہ رن وے پر دوڑ رہا تھا تو ہم ایئرپورٹ پر لگے درختوں کے پھولوں اور راہ داریوں میں لگی ٹائلوں کے رنگ بھی جہاز کی کھڑکی سے دیکھ رہے تھے۔ پھر ایک جھٹکا… اور تیزی سے رن وے پر دوڑتے جہاز نے زمین سے ناتا توڑ لیا۔
جب جہاز فضا میں بلند ہوتا ہے تو احساسات کتنے عجیب ہوتے ہیں! زمین سے بلند ہونے کا تصور… بادلوں سے بلند، دس ہزار، کبھی بیس ہزار یا اُس سے زیادہ فٹ کی بلندی۔ جب تک جہاز دوبارہ رن وے کو نہ چھولے، فضا میں معلق ایک فرد کیا کیا سوچ سکتا ہے…! مگر اب لوگ سوچنے کے لیے وقت ہی کہاں پاتے ہیں؟
میرے چاروں طرف مسافر بیٹھے تھے۔ کچھ ادھیڑ عمر کے لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے اور کچھ اخبارات کی ورق گردانی میں۔ نوجوان لیپ ٹاپ پر دنیا ومافیہا سے بے خبر تھے۔ کچھ خواتین نیند پوری کررہی تھیں اور کچھ بچوں کے ناز اٹھا رہی تھیں۔ میں کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔
جب جہاز بلند ہونا شروع ہوا تو ہمیں اطراف کی بستیاں صاف نظر آرہی تھیں، پھر گھر چھوٹے اور چھوٹے ہوتے گئے۔ پھر لکیروں کی صورت میں سڑکیں اور نقطوں کی صورت میں ان پر پھسلتی گاڑیاں۔ پھر مکان نقطوں میں تحلیل ہوگئے اور پھر نظروں سے اوجھل ہوگئے۔
ہم سب اپنے مکانوں کو چھوڑ آئے ہیں، واپس پلٹنے تک۔ ہمارے یہ مکان جو نقطوں میں تحلیل ہوکر نظروں سے اوجھل ہوگئے، وہ بستیوں کی بستیاں جن پر سے ہم لمحوں میں گزر گئے… ہمارے مکان، ہماری بستیاں، بستیوں کے لوگ… کیسے کیسے عبرت دلاتا ہے رب بستیوں کے ان لوگوں کو پچھلے گزرے ہوئے لوگوں کے واقعات یاد دلا کر … رسول بھیجے گئے، شریعتیں اتاری گئیں… ایک ہی تو غرض تھی کہ بستیوں کے لوگ ایمان لے آئیں۔ شریعت موجود ہے، الہامی تعلیمات موجود، مگر بستیوں کے لوگ باغیانہ روش چھوڑنے پر آمادہ ہی نہیں…!!
آہ… یہ ہماری بستیاں… ہمارے مکان… یہ قلعہ نما گھر… چھوٹے گھر، بڑے گھر، جھونپڑیاں، فٹ پاتھوں کے باسی لوگ… بہت سے محل نما گھروں میں رہنے والوں کے دماغ جھونپڑیوں میں رہتے ہیں، اور بہت سے گدڑی کے لعل پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا کرتے ہیں۔
ہمارے مکان تو اصلاً ہمارے ذہن ہی ہیں، وہ چھوٹے ہوں یا بڑے… کتنی حفاظت کرتے ہیں ہم اپنے مکانوں کی… اور اپنے ذہنوں کو کن کن وادیوں میں بھٹکنے کے لیے آوارہ چھوڑ دیتے ہیں۔
وہ مکان جو اوجھل ہوگئے لمحہ بھر میں نظروں سے… کتنے قیمتی ہیں ہمارے لیے یہ مکان، کتنی حفاظت کرتے ہیں ہم ان کی۔ سیکورٹی گارڈ رکھتے ہیں، آٹومیٹک سیکورٹی سسٹم سے اپنے مکانوں کو محفوظ کرتے ہیں۔ بلند دیواریں، آہنی دروازے… وہ کیا چیز ہے جس کی ہم اتنی حفاظت کرتے ہیں؟
مکانوں کی ان فصیلوں سے ہزاروں فٹ بلند، زمین وآسمان کے درمیان معلق میں سوچ رہی ہوں۔ ہم اپنے مکانوں کی حفاظت کے لیے اس قدر حساس ہیں، جب کہ ہماری بستیاں غیر محفوظ ہیں۔ اپنے اپنے مکانوں کی سجاوٹ کی فکر کرتے ہیں جب کہ بستیاں لٹ رہی ہیں۔
ہم سماج سے بے نیاز اپنے مکانوں کے جسم میں قید ہیں۔ ان کو جنت یا جنت نما بنانا ہماری اوّلین آرزو ہے۔ یہ مکان ہماری شناخت بن گئے۔ عزت اور بڑائی کا معیار بن گئے۔ اچھے بڑے مکان کی خواہش، وہ جائز طریقے سے حاصل نہ ہوسکے تو ہر ناجائز راستہ اختیار کرلیتے ہیں ہم۔ یہ مکان ہماری پیشانیوں پر فخریہ سجے ہوئے جھومر ہیں۔ یہ ہمیں بہت عزیز ہیں۔ مگر یہ ہمیں کیوں عزیز ہیں؟
اس لیے کہ ہم آرام کی طلب میں ان کا رخ کرتے ہیں۔ یہ در ودیوار، یہ مکان ہمیں آسودہ کرتے ہیں۔ مزید آرام، مزید آسودگی، ہل من مزید کی طلب قبروں تک پہنچا دیتی ہے۔ اپنے گھروں کو مزید آسودہ بنانے کے لیے ہم دنیا بھر کے سامانِِ تعیش اکٹھا کرنے میں اپنی زندگی کا کتنا قیمتی وقت لگا دیتے ہیں۔ ہم ان مکانوں کو اپنا گھر سمجھتے ہیں جبکہ فی الواقع یہ ہمارے گھر نہیں ہیں…!!
ہاں ابھی ابھی پائلٹ نے اعلان کیا ہے کہ اس وقت ہم بیس ہزار فٹ کی بلندی پر سفر کررہے ہیں۔ ہم نصف گھنٹے میں اپنے مطلوبہ ایئرپورٹ پر لینڈ کریں گے۔ ہم مسافرت کے گھر میں ہیں۔ ہم حقیقتاً خود کو مسافر نہیں سمجھتے۔ ہمارے رہن سہن کے طریقے، طرزِ بودوباش ہرگز نہیں بتاتے کہ ہم مسافر ہیں اور منزل کو پہنچنے والے ہیں۔ یہ فضائیں، یہ سمندر اس نے کلیتاً ہمارے اختیار میں تو نہیں دے دئیے۔ ہر مسافر منزل پر کامیاب ہی پہنچے یہ ضروری بھی نہیں۔ کبھی پہاڑوں سے ٹکرا جاتے ہیں یہ جہاز، کبھی پانیوں میں گر جاتے ہیں، اور دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ کبھی کبھی لاپتا بھی ہوجاتے ہیں۔ جدید ترین ٹیکنالوجی رکھنے والا انسان پہاڑوں اور سمندروں میں انہیں تلاش کرتا ہی رہ جاتا ہے، اور کبھی ٹائی ٹینک کی صورت میں دنیا کے کبر کے منہ پر ایک ہلکی سی چپت رسید کی جاتی ہے کہ خدا کی خدائی میں رہتے ہوئے خدا بننے کا دعویٰ کب زیب دیتا ہے تمہیں!
لینڈنگ کے لیے جہاز نیچے اتر رہا ہے۔ چند لمحوں میں جہاز رن وے کو چھولے گا۔ ہم اپنی سوچوں سمیت فضائوں سے زمین پر آجائیں گے۔ پھر اپنے ان مکانوں میں جو ہمارا خواب ہیں، جو ہماری آرام گاہیں ہیں، جو نقطوں میں گم ہوگئے تھے تو کتنے حقیر لگ رہے تھے، کم مایہ… اب پھر دائرہ در دائرہ ہمیں قید کرلیں گے ہماری سوچوں سمیت۔ وہ بڑے بڑے گھر بنانے والے، مکان تعمیر کرنے والے جو خیالوں کی دنیا میں ایک جھونپڑا بھی تعمیر کرنے کی سکت نہیں رکھتے شاید!
یہ سفر تو کبھی کبھی حاضر وموجود سے بیزار کردیتے ہیں۔ وہ مکان جو نقطوں میں تبدیل ہوگئے تھے… بس اتنی ہی حقیقت ہے ان کی… اور جو حقیقت ہے وہ دھوکا ہے، سراب ہے جس کے آخری سرے پر صرف العطش ہے۔ اگر ان مکانوں کو زبان مل جائے تو ہماری ہوس کی کہانیوں کی کتابوں کے لیے کتنے ہزار نئی لائبریریاں بنانا پڑیں گی۔
گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں

حصہ