امریکا کا پاکستان کے بغیر افغانستان میں رہنا اور نکلنا دونوں مشکل ہیں

87

قاضی جاوید
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن دورۂ بھارت پر نئی دلی میں موجود ہیں جہاں انہوں نے بھارتی ہم منصب سشما سوراج سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان دفاعی تعاون، خطے کی سلامتی اور تعاون سمیت دیگر معاملات پر بات چیت کی گئی۔ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت امریکا کا قدرتی دوست ہے جس کی خطے میں اہمیت ہے اور امریکا بھارت کی خطے میں بطور لیڈر حمایت کرتا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے یقین دہانی کرائی کہ بھارتی فوج کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے گا۔ ریکس ٹلرسن نے کہا کہ وہ بھارت کے ساتھ لڑاکا طیارے ایف 16 اور ایف 18 پر مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ اس موقع پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور امریکا نے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان کو اپنے ملک میں موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا ہوگا۔
یہ ہے وہ منظرنامہ جس پر امریکا اور بھارت پاکستان کے خلاف متحد ہورہے ہیں۔ بھارت روانگی سے قبل امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے پاکستان کا بھی دورہ کیا، لیکن یہاں وہی ’’مارو اپنوںکو یا مرو‘‘ کی پالیسی کا اعلان کیا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے پاکستان میں موجودگی کے دوران دہشت گردوں کی پناہ گاہوںکا ذکر نہیں کیا لیکن بھارت میں بھارتی ہم منصب سشما سوراج کے ساتھ اپنی پریس کانفرنس میں پاکستان میں دہشت گردوںکی پناہ گاہوںکا ذکر بھی کیا اور خوب قوت سے اعلان کیا گیا کہ ان دہشت گردوںکی پناہ گاہوںکو ختم کرنا ہوگا۔ ہمارے ذرائع بتاتے ہیں کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی کوشش تھی کہ ان کا سعودی عرب اور افغانستان کی طرح پاکستان میں استقبال کیا جائے، لیکن پاکستان کے اہم ہاتھوں نے کسی ایک وزیر کو بھی استقبال کے لیے نہیں بھیجا، اور وزارتِ خارجہ کے چند افسران نے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو وزیراعظم ہاؤس تک پہنچایا، جہاں پروگرام کے مطابق فوجی اور سول قیادت نے اُن سے مشترکہ مذاکرات کیے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن پاکستان سے ڈومور چاہتے تھے اور بھارت کو اسلحہ کی فراہمی کی خوشخبری سناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکا بھارت کے ساتھ لڑاکا طیارے ایف 16 اور ایف 18 پر مذاکرات کے لئے تیار ہے۔ نئی دہلی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے ہونے والے مذاکرات کا دائرہ پاکستان کے اردگرد گھومتا رہا اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج وقت اور حالات کی نبض پر ہاتھ رکھے پوری طرح یہ کوشش کرتی رہیں کہ پاکستان کو سب سے بڑا دہشت گرد ملک ظاہر کیا جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 اگست کو پاکستان، افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا، جس کا پاکستان کی حکومت اور خاص طور پر خفیہ ہاتھوںکو شدت سے انتظار تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں، مگر وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے۔ افغانستان میں ہمارا ساتھ دینے سے پاکستان کو فائدہ، دوسری صورت میں نقصان ہوگا۔ بھارت کی طرح امریکا کے صدر نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر امریکا خاموش نہیں رہے گا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا کی نئی پالیسی میں افغانستان اور پاکستان خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ سفارتی، سیاسی اور فوجی حکمت عملی کو یکجا کرکے اقدام کریں گے۔ صدر ٹرمپ کی اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بھارت جا کر یہی کہا کہ پاکستان کو ’’ڈومور‘‘ کرنے ضرورت ہے۔ اندرونی اطلاعات کے مطابق پاکستان نے ڈومور کا جواب ’’نو مور‘‘ سے دیا ہے، لیکن بھارت پہنچنے پر امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور ان کی بھارتی ہم منصب سشما سوراج کے تیور بتارہے ہیں کہ پاکستان کے خلا ف دونوں ملکوں کا اتحاد کسی بڑی منصوبہ بندی کا پیش خیمہ ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور ان کی بھارتی ہم منصب سشما سوراج نے خارجہ سے زیادہ دفاعی حکمت عملی پر گفتگو کی۔ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے پتا چلتا ہے کہ امریکا پاکستان کے خلاف بھارت کی اسی طرح مدد کرنا چاہتا ہے جس طرح اس نے اسرائیلی وزیراعظم گولڈا میئر کی مصر، اردن اور شام کے خلاف جنگ میں مدد کی تھی۔
امریکا کہتا ہے کہ طالبان پاکستان کے لیے خطرہ ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ ہرگز نہیں۔ طالبان کی جو اصل طاقت ہے وہ افغانستان میں مصروفِ عمل ہے۔ پاکستان کے طالبان اُن طالبان کا حصہ نہیں جو افغانستان میں امریکا کے خلاف (خوف کی وجہ سے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اپنے دورۂ افغانستان کے دوران 2 گھنٹے کے قیام میں بگرام ائیربیس سے باہر نہیں آئے) لڑ رہے ہیں۔ پاکستانی طالبان ایک خاص منصوبے کے تحت بنائے گئے ہیں تاکہ پاک فوج ان کے خلاف لڑے اور افغانستان میں موجود طالبان انہیں اپنا ہمدرد خیال کرکے امریکہ سے لڑنے کے بجائے اپنی طاقت پاکستانی طالبان کے ساتھ بانٹ لیں۔ اصل میں یہ بھی سی آئی اے کا ہی ایک منصوبہ ہے۔
امریکی جب افغانستان میں تھے، اُس وقت ’’را‘‘ نے بہت مفید کام سرانجام دیا۔ آج بھی ’’را‘‘ امریکا کے شانہ بشانہ کام کررہی ہے۔ امریکا کہتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوںکے ٹھکانے ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دھماکا خیز مواد کسی جنرل اسٹور سے مل جاتا ہے؟ کیا یہ بارود پاکستان میں کاشت کیا جارہا ہے؟ ہرگز نہیں، اس سارے کام میں ہمیشہ تیسرا ہاتھ ملوث ہوتا ہے۔ جو چہرے سامنے ہوتے ہیں وہ ڈمی ہوتے ہیں۔ امریکا سیاسی طور پر ہر دھماکے کی مذمت کرتا رہا ہے، لیکن اصل میں یہ کام اُس کی ہی ایجنسی سرانجام دے رہی تھی۔ پاکستانی طالبان جنہوں نے ملک میں ہونے والے ہر دھماکے کی ذمہ داری قبول کی اُن کے پاس یہ دھماکا خیز مواد کہاں سے آیا؟ طالبان کل کی پیداوار ہیں، ایسے دھماکے وہ کیسے کرسکتے ہیں! امریکی وزیر دفاع نے اپنے دورۂ بھارت کے موقع قبول کیا کہ پاکستانی طالبان کی بھارت مدد کرتا رہا ہے۔ امریکا پاکستان کو اپنا اتحادی کہتا ہے لیکن وہ بھارت سے مل کر پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہے۔ امریکا کا مقصد افغانستان میں رہ کر چین پر نظر رکھنا ہے۔ اور بھارت اور امریکا کو معلوم ہے کہ پاکستان اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکا جانتا ہے کہ جب تک پاکستان کمزور نہیں ہوتا امریکا مستقل بنیادوں پر افغانستان کو اپنا اڈا نہیں بنا سکتا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی حکمران تو امریکا کے ساتھ ہیں، اس کے باوجود امریکا مسائل کا شکار کیوں ہے؟ تو اس کا آسان جواب امریکا کے پاس ہے۔ امریکا کو سب سے بڑا خطرہ پاک فوج سے ہے۔ پاکستانی فوج کسی صورت بھی خطے میں امریکا کی زیادہ دیر موجودگی برداشت نہیں کرے گی۔ پاکستانی فوج اس وقت دنیا کی بہترین فوج ہے جو ہر طرح کے حالات میں آپریشن سرانجام دے سکتی ہے۔ پاک فوج خطے کی سب سے بڑی قوت ہے جو اسلامی ممالک کے لیے ایک احساس تحفظ اور چین کے لیے قوت کا باعث ہے۔ پاکستانی فوج 1980ء کی دہائی سے دو گنا مضبوط اور زیادہ تربیت یافتہ ہے۔ یوں کہا جائے تو ٹھیک ہوگا کہ امریکا کو شکست سے دوچار کرنے والی فوج امریکا کے سامنے دوگنا طاقت کے ساتھ موجود ہے۔ ایسی صورت میں امریکا کے پاس واحد راستہ یہ ہے کہ کسی طرح پاک فوج کو اتنا کمزور کردیا جائے یا تھکا دیا جائے کہ وہ امریکی منصوبوں میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ اس مقصد کے لیے امریکا بھارت کو خطے کی لیڈرشپ دینے کا احمقانہ خواب دیکھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جانب سے خفیہ منصوبوں کے تحت پاک فوج کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس فوج کی صورت میں واقعی ایسی قیمتی اور نایاب طاقت موجود ہے کہ ہر عالمی طاقت کو اس سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ پہلے یونین آف سوویت ری پبلک (USSR) پاکستان کے ہاتھوں انجام کو پہنچی، اور اب امریکا اسی صورتِ حال سے دوچار ہے۔
اس لیے میں یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا کہ پاکستان میں کچھ تو ہے کہ دوسری عالمی طاقت اس کے ہاتھوں مشکلات کا شکار ہے۔ وقت اور حالات بتارہے ہیں کہ پاکستان کی مدد کے بغیر امریکا افغانستان میں نہ رہ سکتا ہے اور نہ ہی افغانستان سے نکلنے میںکامیا ب ہوگا۔

حصہ