(ساکنان شہر قائد کا سلور جوبی مشاعرہ(زاہد عباس

218

اچھی شاعری سننا میری طبیعت میں شامل ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کہیں بھی کوئی مشاعرہ ہو تو میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ میں مشاعرہ سننے جاؤں۔ کراچی ماضی میں ایسی ادبی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے حالات کی خرابی کے باعث گلی محلوں میں ہونے والے مشاعرے اب نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میری طبیعت شاعرانہ ہے اس لیے مشاعرے کی خبر میرے لیے خوشی کی علامت ہوتی ہے اس لیے میں کبھی کبھار اپنی دوستوں میں شعر کہہ لیتا ہوں۔
ہر شخص میں خدا کی طرف سے کوئی نہ کوئی صلاحیت ہوا کرتی ہے ادب سے محبت میرے یے خدا کی طرف سے دی گئی وہ عنایت ہے جس کی بنیاد پر مجھے شاعری سے بہت زیادہ لگاؤ ہے۔ کہیں مشاعرہ ہو اور میں نہ جاسکوں ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے۔
22 مارچ کو منعقد ہونے والے 25 ویں سلور جوبلی مشاعرہ بیاد اظہر عباس ہاشمی کی خبر ملی تو میں خوشی سے نہال ہوگیا۔ بین الاقوامی شاعر ہوں‘ بڑا مشاعرہ ہو تو بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ میں نہ جاؤں۔ کراچی میں مانند پڑتی ادبی سرگرمیوں کو زندہ کرنے کے لیے میرے نزدیک ادب وہ چراغ ہے جس کی روشنی چار سو پھیلے گی۔ مشاعرے کی خبر سننے کے بعد میں نے 22مارچ کے اپنے تمام پروگرام کینسل کیے اور ایکسپو سینٹر کی راہ لی۔ میرے ساتھ میری فیملی کے نوجوان بھی تھے جو میری طرح مشاعرے ے دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایک ایسے شہر میں جہاں کاروبار زندگی رات گئے تک چلتا رہتا تھا اس شہر میں لوگوں کا حالات کے باعث گھروں میں محصور ہوجانا ادبی محفلوں سے دوری کا سبب بنا۔ ان حالات میں کراچی میں سلور جوبلی مشاعرہ ہونا ادبی حلقوں اور ادب دوستوں کے لیے نوید سحر سے کم نہ تھا۔
خیر میں رات گیارہ بجے ایکسپو سینٹر پہنچ گیا جہاں دنیا ہی نرالی تھی۔ مشاعرے کے لیے پنڈال کو بڑی خوب صورتی سے سجایا گیا تھا‘ بڑے اسٹیج کے سامنے فرشی نشست پر لوگوں کے بیٹھنے کے لیے چھ ہزار افراد کی گنجائش تھیء جب کہ چار ہزار کرسیاں اس کے علاوہ لگائی گئی تھیں اس طرح سامعین کے لیے دس ہزار نشستوں کا اہتمام کیا گیا۔ اسٹیج کے دائیں جانب قائداعظم محمد علی جناح جب کہ بائیں جانب اظہر عباس ہاشمی صاحب کی قدر آور تصاویر لگائی گئی تھیں۔ میرے وہاں پہنچنے سے پہلے عوام کی بہت بڑی تعداد پنڈال میں موجود تھی۔
پنڈال کے چاروں طرف رنگ برنگی لڑیاں لگائی گئی تھیں جس سے مشاعرہ گاہ میں رنگ و نور کی برسات ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔ لوگ ٹولیوں کی شکل میں ایکسپو سینٹر میں داخل ہو رہے تھے۔ آنے والوں کی ایک ہی منزل تھی‘ لوگوں کا جوش و خروش اور مشاعرے میں آنے والوں کا منفی سوچ رکھنے والوں کو ایک جواب تھا جس کی مثال نہیں ملتی۔ انتظامیہ اور منتظمین مشاعرہ پوری توانائیوں کے ساتھ پنڈال میں موجود تھے ہر آنے والے شخص کو اسٹیج سے خوش آمدید کہا جاتا لوگ اپنی فیملیوں کے ساتھ مشاعرے میں شریک ہوئے جب کہ سیاسی قائدین‘ صحافیوں‘ ادیبوں اور سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد سلور جوبلی مشاعرے میں شریک تھا۔ نظامت کے فرائض جناب سلمان صدیقی‘ شکیل خان‘ فراست رضوی اور عنبرین حبیب امبر نے ادا کیے۔ مشاعرے کی صدارت صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر رسا چغتائی نے کی۔ عوام کا جوش و خروش دیکھتے ہوئے شعرا کرام نے کلام پیش کیے۔ بھارت سے آئے ہوئے شعرا نے پاکستان کی محبت میں غزلیں بھی سنائیں جس کو پنڈال میں موجود لوگوں نے سراہا۔ بھارت سے آئی شاعرہ شبینہ ادیب نے کہا کہ وہ پاکستان سے بہت محبت کرتی ہیں ہندوستان جاتی ہیں تو انہیں پاکستان کی بہت یاد تی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوریاں ختم ہونی چاہئیں تاکہ ادبی لوگ ایک دوسرے سے آسانی کے ساتھ ملتے رہیں۔ بھارت سے آئے شعراتاج الدین تاج‘ جوہر کانپوری اور حسن کاظمی نے بھی اپنے کلام سے شرکاء محفل سے خوب داد سمیٹی۔
دوران مشاعرہ مہمانوں کی آمد کا سلسلہ بھی چلتا رہا اس دوران گورنر سندھ محمد زبیر خان کے ساتھ میئر کراچی وسیم اختر بھی پنڈال میں آچکے تھے۔ عوام نے کھڑے ہو کر معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ دونوں مہمانان گرامی اسٹیج پر اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوئے۔ گورنر سندھ اور میئر کراچی کی آمد پر مشاعرے کا ردھم متاثر ہوا جسے بعدازاں وہیں سے شروع کیا گیا جہاں سے روکا گیا تھا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ شاعر جناب اجمل سراج کو خاص طور پر ان مہمانوں کے سامنے غزلیں سنانے کی دعوت دی گئی تاکہ پنڈال میں موجود شرکا کے جوش میں اضافہ کیا جاسکے۔ اجمل سراج نے اپنی غزلیں اور نظم سنا کر عوام سے نہ صرف داد سمیٹی بلکہ مشاعرے میں نئی روح پھونک دی۔ اسی دوران آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ مشاعرے میں امریکا‘ برطانیہ اور ملک کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے شعرا کرام نے کلام سنائے۔
گونر سندھ محمد زبیر خان نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشاعرے روایت بہت قدیم ہے‘ مہذب معاشرے میں مشاعرے ادب اور ذوق کی پہچان ہوتے ہیں۔ میئر کراچی وسیم اختر نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مل کر شہر کی رونقیں لوٹانی ہیں۔ انہوں نے کہا آج مشاعرے کی 25 ویں سالگرہ بنائی جارہی ے چونکہ مشاعرہ بیاد اظہر عباس ہاشمی مرحوم ہے تو میں اعلان کرتا ہوں کہ کراچی کی کسی اچھی اور بڑی شاہراہ کا نام اظہر عباس ہاشمی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔ میئر کراچی کے اس اعلان پر شرکائے محفل مسکرانے لگے۔ میرے پوچھنے پر ایک شخص نے بتایا کہ ہم تو سمجھیں تھے کہ ادب کے حوالے سے کوئی بڑا اعلان کیا جائے گا‘ سڑک کا نام موسوم کرنا اپنی جگہ میئر کو شعرا کی فلاح و بہبود کے کسی منصوبے کا اعلان ضرور کرنا چاہیے تھا یا پھر ادب کے حوالے سے کسی ایسے پروگرام کا اعلان ضروری تھا جس سے کراچی میں مانند پڑتی ادبی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہوسکتی یہ تو کوئی کارنامہ نہیں جس کا اعلان اتنے بڑے مجمع کے سامنے کیا جاتا یہ کام تو صرف ایک نوٹس نکال دینے سے بھی ہوجاتا ہے۔ مشاعرے میں موجود لوگوں نے میئر کراچی کے اس اقدام کو نامناسب قرار دیا۔
دوران مشاعرہ احمد شاہ صاحب بہت زیادہ سرگرم دکھائی دیے۔ وہ کبھی اسٹیج پر نظر آتے تو کبھی عوام کے درمیان موجود ہوتے ان کو دیکھ کر مجھے بھارتی فلم ’’میں ہوں نا‘‘ یاد آگئی کیوں کہ شاہ صاحب کی ہر جگہ موجودگی سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ جناب ’’میں ہوں ناں‘‘ یعنی ہر جگہ ہوں۔ استقبالیہ پڑھتے ہوئے ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے کہا کہ شہر قائد کا عالمی مشاعرہ بڑا بارونق اور بامعنی ہے سندھ دھرتی محبت کرنے والوں کی دھرتی ہے‘ پاکستان سے محبت کرنے والوں اور اچھی سوچ رکھنے والوں نے زبان اور ادب کے فروغ کے لیے عالمی مشاعرہ کا 25 سال قبل آغاز کیا تھا جو اب اس شہر کی پہچان بن چکا ہے۔ انہوں نے گورنر سندھ اور میئر کراچی کے ساتھ ساتھ آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ کا بھی شکریہ ادا کیا جن کے تعاون و سرپرستی کی وجہ سے مشاعرے کا انعقاد ممکن ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورنر سندھ بڑے پرجوش آدمی ہیں جس پر مشاعرہ کمیٹی گورنر سندھ اور میئر کراچی کے تعاون کی مشکور ہے۔ مشاعرہ کمیٹی کی جانب سے میئر کراچی اور گورنر سندھ کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی مشاعرے کے درمیان اس چھوٹی سی تقریب کے بعد شعرا نے اپنے کلام سنانے شروع کیے۔ حاضرین محفل اچھے شعروں پر دل کھول کر داد دیتے جب کہ ہلکے پھلکے کلام پر آوازیں کستے۔ کچھ خواتین نے وصی شاہ کو کہا کہ ’’شعر سنائیں چیتے نہیں‘‘ بعض لوگ پنڈال سے یہ کہتے ہوئے نکلے ’’اچھا کلام سناؤ ورنہ ہم چلیں۔‘‘
جوں جوں رات گہری ہوتی جارہی تھی عوام کی دل چسپی میں کمی آتی جارہی تھی اسٹیج پر موجود بڑے شعرا کا کلام سننے کو حاضرین آوازیں لگاتے رہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کرسیاں خالی ہوتی جارہی تھیں اور ایک لمحے تقریباً ساری کرسیاں خالی ہوچکی تھیں فرشی نشستوں پر براجمان لوگوں کے درمیان بھی خلا بڑھتا جارہا تھا کچھ دیر پہلے جو پنڈال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا وہ اب تصویر کا دوسرا رخ پیش کررہا تھا۔ اتنے بڑے مشاعرے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت کے بعد ان کا مشاعرے کے درمیان سے اٹھ جانا منتظمین مشاعرہ کے لیے کئی سوالات چھوڑ گیا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ مشاعرے کے انعقاد پر منتظمین دو حصوں میں تقسیم ہوچکے تھے ایک گروپ نے واضح طور پر اس عالمی مشاعرے سے لاتعلقی کرلی جس کی وجہ سے مشاعرے کی تمام تر ذمے داری احمد شاہ صاحب کے کاندھوں پر آن پڑی اب جس قدر ممکن تھا لوگوں تک اس مشاعرے کی تشہیر کی گئی سب کچھ بہتر ہونے کے بعد اس طرح کی صورت حال کا ہوجانا معنی خیز ہے۔ خیر جو بھی ہو شہر کراچی میں سلور جوبلی مشاعرہ آنے والے وقتوں میں ایسا چراغ ہوگا جس کی روشنی سے ادبی حلقوں میں نئے دیپ جلیں گے۔ فجر کی اذان کے ساتھ ہی اس عالمی مشاعرے کا اختتام ہوا مشاعرے میں انور مسعود‘ امجد اسلام امجد نے بھی اپنا کلام پڑھ کر سنایا۔ اختتامی تقریب پر احمد شاہ نے عوام کو بتایا کہ 13 اگست کو یوم آزادی پاکستان کی مناسبت سے بڑے پیمانے پر مشاعرے کا اہتمام کیا جائے گا۔
یوں صبح کی روشنی پھیلنے کے بعد میں گھر آگیا کراچی میں ہونے والا یہ عالمی مشاعرہ میرے ذہن مین اچھی یادوں کے ساتھ ساتھ ان تلخ یادوں کو بھی چھوڑ گیا جو میرے نزدیک انتظامیہ کی جانب سے عدم تعاون کی وجہ سے ہوئیں یا پھر انتظامیہ کے آپس کے جھگڑوں کی وجہ سے ہوئیں یا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ منتظمین کو اس بات کا احساس ہی نہ تھا کہ رات بہت زیادہ ہو چکی ہے اور لوگ اپنی فیملیوں کے ساتھ موجود ہیں ان کی دلچسپی صرف اس صورت برقرار رکھی جاسکتی تھی کہ نامور شعرا کو جلد کلام کی دعوت دے دی جائے۔
جو بھی ہوا مجھے امید ہے کہ آنے والے ادبی پروگراموں میں ان باتوں کا ضرور خیال رکھا جائے گا بڑی سمجھ کے سات فیصلے کرنے سے کراچی کے ساتھ ساتھ ملک میں ادب کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
nn

حصہ