(دوداد پی ایس ایل 2(غلام مصطفےٰ عزیز

210

پاکستان سپر لیگ کی کوریج کے لیے کراچی سے متحدہ عرب امارات کی ریاستیں دبئی اور شارجہ تک کے سفر کی روداد قارئین کی نذر ہیں۔ اس سفر میں ایک سینئر صحافی سید وزیر علی قادری بھی میرے ہمراہ تھے۔ پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) کے دوسرے ایڈیشن کا شیڈول آتے ہی نا صرف کراچی بلکہ ملک سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے جو کھیلوں کی سرگرمیوں کی کوریج کرتے ہیں پی ایس ایل ٹورنامنٹ کی کوریج کرنے کیلیے منصوبہ بند شروع کردی۔ شعبہ صحافت سے وابستگی کی بناء پر ہم نے بھی کراچی میں رہتے ہوئے ناصرف پی ایس ایل2 کے تمام میچوں کی بھرپور کوریج کی اور اس پر مقامی اخبارات میں مضامین بھی لکھے بلکہ دبئی اور شارجہ پہنچ کر پلے آف میچوں کی بھرپور کوریج بھی کی۔
جزیرہ نما ہائے عرب کے جنوب مشرقی ساحلوں پر واقع امارات 7 ریاستوں پر مشتمل ہے جس میں ابوظہبی، عجمان، دبئی، فجیرہ، راس الخیمہ، شارجہ اور ام القوین شامل ہیں۔ 1971ء سے پہلے یہ ریاستیں ریاستہائے ساحل متصالح (Trucial States) کہلاتی تھیں۔ متحدہ عرب امارات کی سرحدیں سلطنت عمان اور سعودی عرب سے ملتی ہیں۔ یہ ملک تیل اور قدرتی گیس کی دولت سے مالامال ہے اور اس کا انکشاف 1970ء میں ہونے والی براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کے نتیجہ میں ہونے والی دریافتوں میں ہوا جس کی بدولت متحدہ عرب امارات کا شمار جلد ہی نہایت امیر ریاستوں میں ہونے لگا۔ متحدہ عرب امارات انسانی فلاح و بہبود کے جدول میں ایشیاء کے بہت بہتر ملکوں میں سے ایک اور دنیا کا 39 واں ملک ہے۔
متحدہ عرب امارات کے 7 شہر دراصل 7 صوبوں کی حیثیت رکھتے ہیں جو بہت سے امور میں مکمل طور پر آزاد ہیں، ان صوبوں کی اپنی حکومت ہے، ان کی اپنی پالیسی ہے تاہم یہ7 صوبے مل کر ایک ملک یا یو اے ای کہلاتے ہیں اور داخلہ و خارجہ پالیسی تقریباً تمام صوبوں کی یکساں ہے۔ امیگریشن میں پاسپورٹ پر متحدہ عرب امارات کی مہر لگتی ہے، یو اے ای کے ویزے پر تمام ریاستوں میں جانے کی اجازت ہے۔ دنیا کے مالدار ترین ملکوں میں متحدہ عرب امارات کا نام سرفہرست ہے، دبئی، ابوظہبی اور شارجہ اس کے معروف شہر ہیں جہاں دنیا بھر سے آنے والوں کا ایک تانتا لگا رہتا ہے، دبئی کی حیثیت ایک ”بزنس حب” کی ہے جہاں کم وبیش 80 ممالک کے لوگ اور تاجر بیک وقت موجود ہوتے ہیں، سیاح اور سیر وتفریح کیلیے بھی یہاں آنے والوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، مہنگائی کے اعتبار سے بھی دبئی کا مقام بہت بلند ہے، دنیا میں سب سے مہنگے ہوٹل جینوا کے بعد یہاں ہیں، شاپنگ اور خریداری بھی بہت مہنگی ہوتی ہے، دبئی اپنی ان گنت خصوصیات کے ساتھ 3 امور میں سب سے نمایاں ہے، لگڑری شاپنگ سینٹرز، رات کے خوبصورت مناظر اور بلند ترین عمارتیں ان 3 چیزوں نے دبئی کو پوری دنیا میں ممتاز بنا رکھا ہے جس کی کشش دنیا بھر کے رہنے والوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے۔
اس چھوٹے سے ملک نے حیرت انگیز ترقی کی ہے خصوصاً شیخ زید بن سلطان النہیان کے صدر بننے کے بعد اس خطے کی تقدیر ہی بدل گئی، عرب امارات کی ریت سونا بن گئی، صحراؤں میں گل و گلزار کھلنے کا اصل مفہوم سامنے آیا اور حالات بدلتے چلے گئے، اب گزرے واقعات کی تصویر تاریخ کے فریموں میں نظر آتی ہے۔ یہاں ہر شعبہ زندگی میں مستعدی ہے، تعلیمی لحاظ سے بڑے بڑے ادارے اور یونیورسٹیاں قائم ہیں، سرکاری اداروں اور نجی دفاتر میں کام اور کارکردگی کا معیار بلند ترین ہے، ہسپتال میں علاج و معالجہ کی بہترین اور مکمل سہولتیں موجود ہیں، صحت و صفائی کا یہ عالم ہے کہ آئینہ محو حیرت ہے، امن کی فضا ہے، چوری چکاری کا کوئی خطرہ نہیں، دکانیں کھلی ہیں، کسی کی جرات نہیں کہ کچھ اٹھا لے، سڑکیں انتہائی کشادہ اور وسیع وعریض ہیں، جگہ جگہ پیادہ پل بنے ہوئے ہیں، جہاں پیادہ پل نہیں ہیں وہاں پیادہ پا چلنے والوں اور سڑک عبور کرنے والوں کو ترجیح دی جاتی ہے، اگر کوئی سڑک عبور کر رہا ہے تو گاڑی کیلیے ٹھہرنا ضروری ہے، پارکنگ کا خوبصورت نظام ہے، سڑکوں کے کنارے پارکنگ کیلیے جگہ مختص ہے، ایک منٹ کیلیے بھی فری پارکنگ نہیں کر سکتے، ہر جگہ ٹوکن کیلیے مشین لگی ہوئی ہے، پولیس صحیح معنوں میں عوام کی محافظ ہے، ٹریفک پولیس کا نظام مربوط و ہمدردانہ اور تسلی بخش ہے، ائیر پورٹ پر امن وسکون کا ماحول ہے، سیکورٹی کے نام پر مسافروں کو پریشان کئے جانے کا کوئی تصور نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سختی برتی جاتی ہے، دنیا بھر سے آئے لو گ بلا تخصیص مطمئن و شادہیں، حاکم اور رعایا دونوں کیلیے یکساں قانون ہے۔ دبئی اور شارجہ کے سفر میں کئی مشاہدات بھی ہوئے جن کا چیدہ چیدہ تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہو ں۔ 23 فروری کو سینئر صحافی وزیر علی قادری کے ہمراہ جب سفر کا آغاز کیا تو کراچی کے قائد اعظم انٹر نیشنل ایئرپورٹ پر بورڈنگ کارڈ کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور ائیرلائن کے کاؤنٹر پر نصب کمپیوٹر سے مقامی ٹریول ایجنسی کی جانب سے جاری کئے جانے والے ائیرلائن کے ٹکٹ پر ”ok to board” اور iataکے رجسٹریشن نمبر کی تصدیق میں ناکامی کے باعث اس روز سفر کا آغاز نہ ہوسکا اور واپس اپنی رہائشگاہ کی جانب گامزن ہو ئے تاہم ائیرپورٹ پر سینئر صحافی اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔ اس کٹھن دشواری کے باوجود ہم نے ہمت نہیں ہاری اور ایک مرتبہ پھر 27 فروری کو دبئی کے لیے سیٹ بک کروالی۔ اس مرتبہ خوش قسمتی سے کسی دشواری کا سامنا کئے بغیر بورڈنگ کارڈ حاصل کیا اور امیگریشن کے مرحلے سے گذرتے ہوئے ہوائی جہاز تک پہنچ گئے۔ تقریباً 2 گھنٹے 10 منٹ کے سفر کے بعد دبئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اتر گئے۔ ایئرپورٹ کی بے انتہاء خوبصورتی دیکھ کر ہم محو حیرت تھے اور اس کی خوبصورت تزئین و آرائش کو دیکھتے ہوئے بالاخر بڑے وسیع و عریض اور خوبصورت ائیرپورٹ سے گذر کر ہم باہر آ گئے جہاں ہماری آمد کے منتظر ہمارے جگری دوست جمی اور حارث نے استقبال کیا۔ یہاں یہ تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ دبئی ایئرپورٹ پر3 ٹرمینل ہیں اور ہر 2یا 3 منٹ بعد یا تو جہاز ٹیک آف کرتے ہیں یا لینڈنگ کرتے ہیں۔ ایئرپورٹ سے ہم اپنے عزیزوں کے ساتھ بذریعہ جیپ سفر کرتے ہوئے رہائش گاہ ڈیرہ دبئی کی طرف روانہ ہوئے۔ جیپ سے شہر کا نظارہ کرنے لگے، نئی نئی ٹریکس والی کشادہ، صاف و شفاف سڑکیں انتہائی دلکش نظارہ پیش کررہی تھیں جیسے ابھی ابھی ان سڑکوں کو دھویا گیا ہو، ہماری جیپ کبھی اوور بریج پر چڑھ رہی تھی اور کبھی راؤنڈ اباؤٹ پر گھوم رہی تھی، کبھی ٹرنل سے گزر رہی تھی تو کبھی ون وے ٹریک پر دوڑ رہی تھی۔ ہم تو یہ دیکھ کر بھی حیران ہو رہے تھے کہ ایئرپورٹ سے نکلنے کے بعد ہی سے سڑکوں کے دونوں کناروں پر 25/25، 30/30 منزلہ خوبصورت عمارتیں ایک قطار میں سربلند تھیں اور ہم عالم حیرت میں گم ہر عمارت کی خوبصورتی کو دیکھ کر عش عش کر رہے تھے۔ ہر ایک عمارت انسانی تخلیق کا شاندار نمونہ تھی جبکہ دبئی حکومت کی جانب سے کیا گیا یہ اقدام قابل ستائش تھا کہ ان اونچی اونچی عمارتوں پر ہیلی پیڈ کی تعمیر کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ دنیا کی مشہور اور بلند ترین عمارتوں میں برج الخلیفہ اور برج العرب کا شمار ہوتا ہے، برج العرب پام جمیارہ ہی میں سمندر کے کنارے واقع ہے اور یہ عمارت خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ دبئی کے شیخ زاید روڈ پر صاحب ثروت افراد کے خوبصورت ولاز اور شاندار عمارتیں واقع ہیں، دبئی میں بڑے بڑے شاپنگ مالز ہیں جس میں فیسٹیول سٹی، ابن بطوطہ مال، ایمرٹس مال، سٹی سینٹر اور دبئی مال وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ دبئی مال اپنی مثال آپ ہے یہ اس قدر طویل و عریض ہے کہ 2,3 روز میں بھی اس کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ دبئی مال کے ایک کنارے پر برج الخلیفہ کی 160 منزلہ عمارت سربلند کھڑی ہے جو دبئی آنے والے سیاحوں کو حیران زدہ کر دیتی ہے، اس عمارت کے دامن میں میوزیکل فونٹین اور فائیو اسٹار ہوٹلز کی خوبصورت عمارتوں کا مشاہدہ کرنے کیلیے ملکی اور غیر ملکی سیاح جوق درجوق چلے آتے ہیں۔ برج الخلیفہ کی بلند ترین عمارت ساری دنیا میں اپنی شہرت رکھتی ہے، بہرکیف یہ سارے نظارے کرتے کرتے بالآخر ہم اپنی قیام گاہ پر پہنچ گئے۔ سفر کی تھکاوٹ اور حسب عادت رات کو نیند لینے کے بعد جب دبئی میں دن کا آغاز ہوا تو نظارے کرنے کے لیے ہم شہر میں نکل پڑے۔ مدنی ذخائر اور پیٹرول کی دولت سے مالا مال یو اے ای کے شیوخ نے اپنے کروڑوں، اربوں کے سرمایہ سے دبئی کو جنت ارضی بنا رکھا ہے۔
دبئی کے فائیو اسٹار عالی شان ہوٹل میں قیام پذیر تمام ٹیموں کے کھلاڑیوں اور پی ایس ایل کے عہدیداروں سے ملاقات اور ایکریڈیشن کارڈ کے حصول کے لیے تقریباً ایک بجے دوپہر ہوٹل کانریڈ پہنچا جہاں یہ دیکھ کر حیرانگی کی انتہا نہ رہی کہ صحافیوں اور میڈیا کے نمائندوں کے معاملات کو خوش اسلوبی سے انجام دہی تک پہنچانے پر معمورآفیشلز اقربا پروری کا شکار تھے اور اپنے دوستوں کے مسائل حل کرنے میں مصروف نظر آئے۔
ایکریڈیشن کارڈ حاصل کرنے کے بعد دبئی کی اہم ترین شاہراہ شیخ زید روڈ پر ٹریفک جام کا مقابلہ کرتے ہوئے تقریباً 2 گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم 15 ہزار تماشائیوں کی گنجائش رکھنے والے شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم پہنچے۔ شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم کو بناوٹ کے لحاظ سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم اور لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کے جیسا ہی پایا۔
شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں موجود متعدد صحافی حضرات ایک یا 2 عدد پاسز کے حصول کے لیے کوشاں تھے جو کہ کو کسی کو میسر آئے اور کسی کو میسر نہ آسکے۔ کئی صحافیوں نے راقم سے پاسز کے حصول کے لیے درخواست کی جس پر راقم نے وہاں موجود پی سی بی کے نمائندوں سے 2 عدد پاس طلب کئے تاہم 2 عدد پاس تو نہ مل سکے لیکن ایک عدد پاس ضرور مل گیا جو کہ ضرورت مند صحافی کو راقم نے فراہم کر دیا۔ پاسز کے مسائل کے علاوہ بہت سے صحافی حضرات رہائش سمیت دیگر مسائل کا شکار بھی تھے جو کہ انہوں نے اپنے وسائل میں رہتے ہوئے ان مسائل کو حل کیا۔ اس کے علاوہ کئی ایسے چہرے نظر آئے جو کسی بھی طرح رپورٹرز کی لسٹ میں نہیں آتے مگر بہتی گنگا میں وہ بھی اس سے مستفید ہویے اور اصل صحافی اپنے خرچے پر رپورٹنگ کے لیے پیش پیش تھے مگر مستفید مرد و خواتین صرف اپنی موجودگی کا احساس دلارہے تھے۔
رات 8 بجے پہلا پلے آف کوئٹہ گلیڈیٹرز اور پشاور زلمی کے درمیان شروع ہوا تو اسٹیڈیم میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی، پریس گیلری بھی ملکی اور غیر ملکی صحافیوں سے کچھا کھچ بھری ہوئی تھی۔ اسٹیڈیم کے اطراف فلڈ لائٹس کا انتظام بھی بہت دیدہ زیب تھا۔ یہ میچ کوئٹہ گلیڈیٹرز نے ایک دلچسپ مقابلے کے بعد پشاور زلمی کو شکست دے کر جیت لیا۔ اگلے ہی روز یکم مارچ کو اسی جگہ پر دوسرا پلے آف میں کراچی کنگز نے اسلام آباد یونائٹڈ کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔
دبئی اور شارجہ کا دورہ اس وقت مزید پرلطف ہوگیا جب 2 مارچ کو سینئر صحافی سید وزیر علی قادری لندن اور ترکی سے ہوتے ہوئے دبئی پہنچے اور اسی دوران معروف سینئر فوٹو گرافر ناصر عبداللہ کشمیری نے بھی بہت پزیرائی کی۔
3 مارچ کو 25 ہزار تماشائیوں کی گنجائش رکھنے والے دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کراچی کنگز اور پشاور زلمی کے درمیان کھیلے گئے تیسرے پلے آف میچ کو دیکھنے اور اس کی کوریج کے لیے جب اسٹیڈیم پہنچے تو اتنا خوبصورت اور دلکش اسٹیڈیم دیکھ کر حیرت کی انتہاء نہ رہی۔ اس اسٹیڈیم میں فلڈ لائٹس کو بہترین انداز میں نصب کیا گیا ہے۔ عموماً فلڈ لائٹس کی تنصیب کے لیے قدآور کھمبوں کا استعمال کیا جاتا ہے، برعکس اس کے دبئی اسٹیڈیم میں فلڈ لائٹس انکلوڑر کی چھت کے ساتھ گول دائرے میں بہت خوبصورتی سے نصب کی گئی ہیں جو لائٹس کے آن ہونے کے بعد انتہائی دلکش منظر پیش کرتی ہیں جبکہ تماشائیوں کے انکلوژ ر سمیت صحافیوں اور میڈیا کے نمائندوں کے لیے قائم کئے گئے تمام سہولیات سے آراستہ بکس بھی بہت پر آسائش، وسیع اور دیدہ زیب ہیں۔
بہرکیف جب رات 8 بجے پشاور زلمی اور کراچی کنگز کے درمیاں میچ کا آغاز ہوا تو اسٹیڈیم میں کوئی نشست خالی نہ تھی اور پرہجوم تماشائیوں کے سامنے پشاور زلمی نے کراچی کنگز کو بآسانی شکست دیکر فائنل تک رسائی حاصل کرلی جبکہ کوئٹہ گلیڈیایٹرز پہلے ہی فائنل میں پہنچ چکی تھی۔
پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے تاریخی اور کامیاب انعقاد پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان سپر لیگ کے عہدیداران مبارکباد کی مستحق ہیں جنہوں نے شب و روز کی کاوشوں کے بعد نہ صرف پی ایس ایل کے انعقاد کو خوش اسلوبی سے ممکن بنایا بلکہ اس ٹورنامنٹ کا فائنل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں انتہائی پرامن انداز میں کروا کے پاکستان میں کرکٹ کی بحالی میں اہم پیشرفت بھی کی۔
nn

حصہ