ہماری شناخت کون مٹانا چاہتا ہے(سعدیہ جنید)

127

اسکول میں اُستاد بچوں کو بتارہے تھے کہ پاکستان بڑی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے اور ہمارا یہ کام ہے کہ اپنے وقت کو تعمیری کاموں میں صرف کریں اور اللہ کے نام پر حاصل کیے گئے اس ملک کو صحیح معنوں میں اسلامی مملکت بنائیں۔ اتنے میں پیریڈ کی گھنٹی بج اُٹھی اور اُستاد کلاس سے چلے گئے۔ وقفے میں سب بچے میدان میں فٹ بال کھیلنے لگے۔ حاشر ابھی تک اُستاد کے جملوں پر غور کررہا تھا۔ وہ حسّاس اور سمجھ دار لڑکا تھا، اس کا شمار کلاس کے بہترین پڑھنے والے طالب علموں میں ہوتا تھا اور اسکول کے تمام اساتذہ اس کی اچھی عادتوں کی وجہ سے اسے بہت چاہتے تھے۔
چھٹی میں جب حاشر گھر پہنچا تو گھر میں داخل ہوتے ہی اس کے کانوں میں بے ہنگم موسیقی اور اوٹ پٹانگ گانوں کے الفاظ پڑے۔ اس نے افسوس سے سر ہلایا اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔ کھانا بھی اس نے بس واجبی سا کھایا۔ امی ابو نے ٹوکا بھی، مگر وہ ’’بھوک نہیں ہے۔۔۔‘‘ کہہ کر اٹھ گیا۔
’’بھیا جی، نئی انڈین مووی آئی ہے، بڑی زبردست ہے، ہم دیکھ رہے ہیں، آپ بھی آجائیں۔۔۔‘‘ اس کے چھوٹے بھائی نے آکرکہا۔ حاشر نے امی ابو کی طرف دیکھا، جو ڈرائنگ روم میں بیٹھے خود کوئی انڈین چینل دیکھ رہے تھے اور انہیں اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ بچے اور وہ سب کیا کررہے ہیں؟ امی ابو کے رویّے سے حاشر کو افسوس ہوا۔ وہ اپنے کمرے میں آگیا اور کتاب کھول کر بیٹھ گیا، مگر اس سے پڑھا نہ گیا، وہ سوچ رہا تھا کہ اپنے گھر والوں کو کیسے سمجھائے کہ جو ملک ہمارا پانی روک لیتا ہے، جو ہمارے مسلمان بھائیوں کو انڈیا میں گوشت کھانے نہیں دیتا، انہیں اتنی سی بات پر شہید کردیتا ہے، جو کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرکے کشمیری مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑتا اور انہیں آزادی نہیں دیتا ہے، جس نے 1971ء میں ہمارا ایک بازو کاٹ دیا اور جو ہمیں تکلیف دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، ہم اسی کے کلچر سے متاثر ہیں! سرحدوں پر اس کا مقابلہ کرنے کے بجائے اسے اپنے گھروں کے اندر لے آئے ہیں! کیا قائداعظمؒ اور دوسرے مسلمانوں نے تکالیف اٹھاکر یہ ملک اس لیے حاصل کیا تھا کہ مسلمان ایک دن اپنی شناخت کھودیں! ہم اپنے اللہ کو کیا جواب دیں گے؟ حاشر نے دل میں عہد کیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو موقع دیکھ کر سمجھائے گا۔
دن اسی طرح گزرتے رہے۔ ایک دن حاشر اسکول سے گھر آیا تو اس نے امی ابوکو دیکھا۔ وہ بہت پریشان نظر آرہے تھے۔ حاشر نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ چھوٹے بہن بھائی اسکول کا کام وقت پر نہیں کرتے اور پڑھائی میں بھی بالکل زیرو ہوگئے ہیں۔ ان کی کلاس ٹیچر نے بلایا تھا اور شکایت کی کہ وہ سب کام چور ہوگئے ہیں اور سب سے تکلیف دہ بات یہ کہ ٹیچر کے ساتھ بدتمیزی کرنے لگے ہیں۔
ابو نے کہا: اگر ان کا یہی حال رہا تو انہیں اسکول سے نکال دیا جائے گا۔
حاشر نے دھیرے سے بڑی نرمی سے کہا: امی ابو، اصل قصوروار تو ہم بڑے ہیں۔ جب بچے سارا وقت ٹی وی اور لیپ ٹاپ پر واہیات پروگرام دیکھیں گے تو وہی باتیں سیکھیں گے اور دوسروں پر اَپلائی بھی کریں گے۔
تم ٹھیک کہہ رہے ہو بیٹا۔ ہمیں اب اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے۔ امی، ابو ایک ساتھ بولے۔
حاشر نے کہا: انڈین چینلز سے چلنے والے پروگرام تفریح کے نہیں بلکہ بچوں بڑوں کی تباہی و بربادی کے ہیں۔ انڈیا پاکستان کے مستقبل کو برباد کرنا چاہتا ہے۔
لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔۔۔امی ابو کے لہجے میں ایک عزم تھا۔
یہ سن کر حاشر مطمئن ہوکر کپڑے بدلنے کمرے میں چلا گیا!!
***

حصہ