حسن لازوال(حمیرا خالد)

124

 کتنی حسّاس تھی وہ اپنی صورت شکل کو سنوارنے اور سجانے میں۔۔۔ کون سا پارلر اور کون سا سلمنگ سینٹر ہے، جو اس کے علم میں نہ تھا! خوب خاک چھانی تھی اس نے اپنے رنگ روپ کے لیے۔ گھر سے نکلتے ہوئے دس بار سوچتی کہ دھوپ تیز تو نہیں! وہ اپنے ہاتھ اور چہرے کو اچھی طرح ڈھانپ لیا کرتی کہ عورت کی کھال بے حد نازک ہوتی ہے۔۔۔ سورج کی شعاعیں مرد کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتیں، جتنا کہ عورت کے لیے مضر ہیں۔ شاید اسی لیے قدرت نے عورت کو پردے میں رہنے کی تاکید کی ہے۔ اسی لیے گھر سے نکلتے ہوئے اعلیٰ قسم کا سن بلاک لگانا نہ بھولتی اور چھتری یا کیپ بھی ضرور ساتھ رکھتی۔
تیز روشنی سے چہرے پر جُھریاں بن جایا کرتی ہیں، لہٰذا دھوپ کے چشمے کا استعمال بھی ضروری تھا۔ اس کے پاس نت نئے ڈیزائن کے ڈھیروں چشمے تھے۔ ہر مہینے پارلر میں مساج کروانا اس کا معمول تھا۔ اس کے خیال میں حسین رہنا ہی زندگی میں سب سے اہم تھا۔ حسین چہرہ ہی تو لوگوں کے لیے کشش رکھتا اور توجہ حاصل کرتا ہے۔ اگر صورت ہی نہ بھائے تو کیسا میل ملاپ اور کیا عزت۔۔۔!
توجہ اور عزت کس کو نہیں چاہیے ہوتی! اس نے شخصیت کو پُرکشش بناکر ہر دل عزیز بننے کا راز جان لیا تھا۔
اب اپنا وقت اور سرمایہ اس مقصد پر خرچ کرنا اس کا مشغلہ نہیں بلکہ دین و ایمان تھا، اس کے بغیر حسن کو تازگی مل ہی نہیں سکتی تھی۔ اگرچہ آمدنی کا زیادہ حصہ ان لوازمات پر خرچ ہوجاتا، لیکن اس کے بغیر چارہ بھی نہ تھا۔ اسکرب، لوشن، پالش، کلرز اور نہ جانے کیا کیا۔۔۔ آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں اس کے قدم نہ روکتیں۔ ایک لمبی فہرست تھی، جس میں جدید اشیا کا اضافہ بھی ہوتا جاتا۔۔۔ حسین ہونا یا حسین کہلانا فطری مانگ تھی تو اس کی تسکین کرنا کوئی معیوب نہیں، اسی فلسفے پر چلتے چلتے وہ ایک دن پارلر سے ایمرجنسی وارڈ میں جاپہنچی، حالاں کہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور نئی نئی ایجادات کے لیے وہ سلام عقیدت رکھتی تھی کہ جس کی بدولت عمر کی رفتار پر بھی قابو پالیا تھا۔ اب نہ کھال ڈھیلی ہوکر لٹکتی، نہ آنکھوں کے گرد جُھریاں یا ہالے بنتے، نہ گردن ڈھلکتی دکھائی دیتی، نہ تھوڑی فربہ ہوتی۔ دور سے دیکھیے تو نوجوانی کا عکس ہی لگتا۔۔۔ کینسر وارڈ میں اس کی چیخیں درودیوار کو ہلا رہی تھیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ جوان اور حسین بنانے والے ان تمام لوازمات نے رفتہ رفتہ چہرے کے قدرتی خلیات کو نقصان پہنچایا ہے۔۔۔ بڑھتی عمر نے مدافعتی عمل کو کمزور کیا تو کینسر کے جراثیم اندر سرائیت کرگئے۔
اس کے نرم و نازک بال اب اس کی مٹھی میں تھے۔ وہ ہذیانی کیفیت میں تھی۔۔۔ ’’مجھے بچالو۔۔۔ میرا یہ خوب صورت چہرہ مجھ سے الگ نہ کرو۔۔۔ میں اپنی صورت نہ دیکھ سکوں گی۔۔۔
ہاں میں نے ہی اسے تباہ کیا ہے۔ یہ تو پہلے ہی دل کش تھا، لیکن میں اسے مصنوعی طریقوں سے مزید خوب صورت بنانا چاہتی تھی، لیکن مجھے کیا پتا تھا کہ قدرت اپنی چیزوں میں ملاوٹ برداشت نہیں کرتی، اور جو فطرت سے دور نکل جائے اسے سزا دیے بغیر نہیں چھوڑتی۔ میں معافی مانگی ہوں اپنے رب سے، مجھے یقین ہے وہ مجھے معاف کردے گا، لیکن ڈاکٹر تم تو میرے چہرے کو نہ کاٹو، مجھے ایسے ہی بغیر سرجری کے ٹھیک کردو، مجھے ایسے ہی میرا پہلے والا چہرہ لوٹادو۔۔۔‘‘
وہ چلاّ رہی تھی اور آنسوؤں نے اس کے چہرے کو دھو ڈالا تھا۔ اس وقت وہ تمام مصنوعی محلولوں سے آزاد تھی۔ انجیکشن اپنا اثر دکھا چکا تھا۔ وہ معصوم چہرہ اب قدرتی حسن کی تصویر بنا دل لبھا رہا تھا اور اس کے معالج دعاگو تھے کہ قدرت اسے اس کا حسن لوٹا دے، جس کو زوال نہیں۔

حصہ