جامعہ پنجاب اور سوشل میڈیا

126

یوم پاکستان کی تقریب کے موقع پر پنجاب یونیورسٹی میں قاضی حسین احمد کی بیٹی پر حملہ، نظریہ پاکستان پر حملہ ہے! نجیب ایوبی کی پوسٹ اور اس سے متعلقہ بے شمار پوسٹس اورکئی منتخب الفاظ بطور ہیش ٹیگز سوشل میڈیا پر مستقل زیرگردش رہے ہیں۔ جب ہمارے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے جامعہ پنجاب میں ہونے والے واقعے پر ایک قسم کی یک طرفہ اور جانب دارانہ رپورٹنگ کی حدیں پار کیں تو سماجی میڈیا پر حقائق و واقعات کی تفصیلات کی بھرمار شروع ہوگئی۔ تجزیے، تبصرے، دلائل، اِدھر سے اُدھر سے، ہر جانب شور مچ گیا۔ جتنا زور الیکٹرانک میڈیا نے اس واقعہ کو قومی مسئلہ بنانے میں لگایا اُتنی ہی شدت سے سماجی میڈیا پر گھن گرج جاری رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ اسلامی جمعیت طلبہ کے موجودہ و سابقین کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو سماجی میڈیا سے وابستہ ہے۔ دنیا کے کونے کونے میں موجود ہونے کے باوجود، کبھی آپس میں ملاقات نہ ہونے کے باوجود بھی نظریات کی ایسی ان دیکھی ڈور سے بندھے ہوتے ہیں کہ اگر آپ اس کا حصہ نہیں رہے تو سمجھ نہیں سکتے۔ پھر اِس طرزکے واقعات اِنہیں مزید جوڑ دیتے ہیں۔
سارے میڈیا نے جیسے مکمل حقیقت نہ بتانے کا عزم کر رکھا تھا، اور ایسا منظرنامہ بنا رہے تھے جیسے جمعیت نے معصوم پشتون طلبہ کے کلچرل ڈے پر حملہ کرکے سب کچھ تہہ و بالا کردیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی جمعیت طلبہ انسانوں کی ہی جماعت ہے۔ یہ طلبہ یونین کے سنہرے دور پر پابندی کے بعد جامعہ پنجاب میں بھی طویل عرصے سے ایک مستحکم اور مضبوط طلبہ تنظیم کی حیثیت سے موجود ہے۔ جمعیت کا اپنا نظام احتساب موجود ہے، اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں جن پر اسلامی جمعیت طلبہ کے اپنے احتسابی نظام نے غلطیوں اور کوتاہیوں پر صرفِ نظر کرنے کے بجائے نظم و ضبط و اخلاقیات کی مثالیں قائم کی ہیں۔ تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ سے قبل اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس واقعہ کے پیچھے بھی کسی ایک جانب سے زیادتی والا معاملہ ہوا ہو، مگر یہ بات سمجھنی ضروری ہوگی کہ یہ سب نوجوان ہیں، اس لیے جوش، جذبہ، برداشت، تحمل جیسی صفات کے درجات کی اُن میں موجودگی اُن کی عمروں کے مطابق ہی دیکھی جانی چاہیے۔ ایک جانب سے یہ تکرار ہے کہ ہمیں پختون کلچرل ڈے منانے سے روکا گیا اور طاقت کا استعمال کیا گیا، تو دوسری جانب جمعیت نے اس پورے عمل کو جمعیت کے طے شدہ پروگرام کے خلاف باقاعدہ منصوبے کا حصہ قرار دیا۔ بہرحال سوشل میڈیا پر جامعہ پنجاب کے پی آر او کی لاہور پریس کلب میں پختون طلبہ کی پریس کانفرنس میں موجودگی کی تصاویر نے بہت سارا عقدہ کھولا۔ لاہور کی مقامی این جی او سے وابستہ سماجی کارکن فائقہ سلمان صاحبہ کا ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی صاحبہ کے ہمراہ تصویر کے ساتھ ایک ٹوئٹ منظر عام پر آیا اور وائرل ہوتا چلا گیا جس میں انہوں نے اصل واقعہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میں اور سمیحہ راحیل صاحبہ یوم پاکستان کے موقع پر لڑکیوں کے پروگرام میں مدعو تھیں جب ہم پر حملہ ہوا۔‘‘ دوسری جانب سے جماعت اسلامی کو مستقل رگیدا جا رہا ہے اور تکرار اس بات کی ہے کہ پختون طلبہ اپنا ثقافتی دن منا رہے تھے اور اسی ضمن میں ڈھول کی تھاپ پر اپنا روایتی رقص کررہے تھے جس کو سبوتاژ کرنے کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نے حملہ کردیا۔ ٹوئٹر پر اُن کا ایک اور ٹوئٹ ان الفاظ میں تھا:
Definitely it was an attack on girls. Attacked with hockeys Harassed Verbaly Abused. Shameful.Women r soft targets.
اہم بات یہ ہے کہ اول تا آخر تمام الیکٹرانک میڈیا ایک ہی بیانیہ پر مشتمل رپورٹنگ کرتا رہا۔ کسی نے بھی جمعیت طالبات کے مذکورہ پروگرام کا نام تک نہیں لیا بلکہ جلنے والے کیمپ کو پختون ثقافتی کیمپ قرار دیتے رہے اور اُنہیں مظلوم بنا کر پیش کرتے رہے۔ اُن ہی کی تقلید میں سماجی میڈیا پر سیکولر، لبرل طبقات پشتون برادری پر ہونے والے ’’مظالم‘‘کے خلاف میدان میں اتر آئے۔
جمعیت کے خلاف سماجی میڈیا پر اس طرح کی پوسٹس کے نیچے کمنٹس میں جب باعزت انداز سے لوگوں نے متوجہ کیا کہ جمعیت طالبات والے پروگرام پر بھی تو کچھ حقائق بتائیں، تو اس پر بالاتفاق سب نے چپ ہی سادھے رکھی۔
اس پورے معاملے پر میڈیا کے جانب دارانہ رویوں پر بھی خاصی کڑی تنقید کی گئی۔ اسی ضمن میں ’’میڈیا کی ایجنڈا سیٹنگ، فوجی عدالتیں اور جامعہ پنجاب‘‘کے عنوان سے ڈاکٹر اسامہ شفیق نے مسئلہ کے حقیقی حل کی جانب بھی توجہ دلائی۔ کراچی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ کے ایک استاد کی حیثیت سے بھی اور ماضی میں ایک متحرک طلبہ رہنما ہونے کے تجربات کی روشنی میں انہوں نے ایک قابلِ عمل حل کی جانب نہایت خوبصورتی سے توجہ دلائی ہے۔ ساتھ ساتھ ابلاغ عامہ کے ایک معروف نظریے جسے ایجنڈا سیٹنگ کہا جاتا ہے، میڈیا کی حکمت عملی کو اُس نظریے کی عملی مثال قرار دیتے ہوئے کچھ دیگر پہلوؤں پر روشنی ڈالی جس پر غور کیا جانا ضروری ہے۔ ’’اگر میڈیا پر مرغا لڑاؤ آئٹم نمبر ختم ہوگیا ہو تو عرض یہ کرنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عرصہ دوسال کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دے دی گئی ہے۔ جس وقت یہ قانون قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے پاس ہوا، عین اسی دن اپنے آپ کو سیاسی عمل کا چیمپئن کہلانے والے پاکستانی میڈیا کا موضوع پاکستان میں فوجی عدالتوں کا قیام نہیں تھا بلکہ جامعہ پنجاب میں ہونے والا دو طلبہ تنظیموں کا تصادم تھا۔ شومئ قسمت ایک ایسی نابینا قوم اور معاشرے میں ہمارا میڈیا اور مقتدر حلقے ایسی ’’ایجنڈا سیٹنگ‘‘ کررہے ہیں کہ جہاں اہم قومی معاملات کو پس پشت ڈال کر پوری قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا جاتا ہے۔ ایجنڈا ایسا ترتیب دیا جاتا ہے کہ نان ایشوز کو ایشوز، اور ایشوز کو نان ایشوز بنادیا جاتا ہے، اور نام نہاد دانشور پورے پرائم ٹائم میں نان ایشوز کی جگالی کرتے رہتے ہیں اور آزاد میڈیا اپنے پاؤں میں ایجنڈے کی زنجیر لیے آزادی کا راگ الاپتا رہتا ہے۔ کیسی قسمت اس قوم نے پائی ہے کہ آج تک قیادت کا بحران حل ہونے کا نام نہیں لیتا۔ قوم کے مستقبل کو قیادت سے محروم رکھے ہوئے طلبہ یونین پر پابندی کو 34 سال مکمل ہوچکے ہیں لیکن کوئی سیاسی، یا آمرانہ حکومت طلبہ یونین کو بحال نہ کرسکی۔ ملک میں اٹھارہ سال کا نوجوان ملکی سیاسی عمل میں ووٹ کے ذریعے تو حصہ لیتا ہے لیکن اس کو اپنے تعلیمی اداروں میں اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ یہ پیکیج صرف عام عوام کے لیے ہے ورنہ وہ ادارے جہاں اشرافیہ کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں وہاں ان کو کسی نہ کسی طور پر اپنے نمائندے منتخب کرنے اور اپنے معاملات چلانے کا حق حاصل ہے۔ میں خود ایک ایسے کیمپس میں استاد ہوں کہ جہاں بیک وقت دو سرکاری ادارے حکومتی متضاد پالیسی کی عملی مثال ہیں۔ ایک طرف آئی بی اے اور دوسری طرف جامعہ کراچی، اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ حکمران جوکہ طلبہ یونین کو زہر قاتل قرار دیتے ہیں، اور جب وہ خود یا ان کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں تو وہ طلبہ یونین میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ اگر میڈیا کو جامعہ پنجاب کے واقعے سے فرصت مل گئی ہو تو ذرا اس پر بھی بات کرلی جائے کہ دو سالہ فوجی عدالتوں نے کون سا عظیم کارنامہ انجام دے دیا ہے کہ جس کی بنیاد پر مزید دوسال کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی جارہی ہے؟ دوسال قبل سیاست دانوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کو محض دو سال کرنے اور اس کے بعد اس کو توسیع نہ دینے کے جو وعدے کیے تھے ذرا نام بنام ان کو بھی دوبارہ چلادیا جائے۔ اگر ہمارا میڈیا اتنا ہی آزاد ہے تو ذرا ملک کے طول و عرض میں ہونے والے جعلی مقابلوں پر بھی کچھ نشر کردے۔ اگر میڈیا کے اندر اتنی بھی ہمت نہیں تو بس ایک کام ضرور کردے، جامعہ پنجاب کو غنڈوں سے آزاد کروا دے۔ اس میں فوجی وائس چانسلر سے لے کر پولیس آپریشن تک سب ناکام ہوگئے ہیں، لہٰذا میرے نزدیک ایک ہی حل موجود ہے کہ طلبہ یونین کے الیکشن کروائے جائیں اور طلبہ اپنے نمائندے خود منتخب کریں، اور اِن منتخب نمائندوں کی مدد سے تمام غنڈہ عناصر کا خاتمہ کیا جائے۔ اگر میڈیا واقعی آزاد ہے اور جامعہ پنجاب کا مسئلہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا مسئلہ ہے تو میڈیا ہرگز پیچھے نہ ہٹے اور طلبہ یونین کے انتخابات تک اس مسئلے کو زندہ رکھے، تاکہ وقفے وقفے سے پیدا ہونے والے جامعہ پنجاب کے مسائل کا پائیدار حل نکالا جاسکے۔‘‘
عوام جدید ٹیکنالوجی سے بڑی حد تک استفادہ کرنے میں باشعور ہوچکے ہیں، پھر یونیورسٹی کی سطح کے طلبہ و طالبات نے اپنے موبائل کیمروں کی مدد سے بہت کچھ مواد جمع کیا۔ اس طرح ہمارے ٹی وی چینل نے نہ سہی البتہ موبائل فون کیمروں نے اس معاملے کی حقیقت عام کی۔ اسی واقعہ کے تناظر میں سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ پھیلی ہوئی ویڈیو جامعہ پنجاب کے ایک طالب علم کی ہے جسے کچھ لوگ بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ پختون طلبہ اسے اپنا قرار دے رہے ہیں، وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ اپنا الگ بیان دے رہے ہیں، مگر ہسپتال کی تصاویر اور واضح چہرے کے ساتھ جو بات سامنے آئی اُس پریہ بات بھی کئی تبصروں میں سامنے آئی ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران کے اثرات اور اُن کا ایجنڈا جامعہ میں اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف آج بھی جاری ہے، اس کا اظہار ٹوئٹر پر بے شمار پوسٹس سے ہوا جن میں مجاہد کامران کو اس واقعہ کے پیچھے نامزد کیا گیا۔ ارشد اللہ نے اس حوالے سے ٹوئٹ میں تحریر کیا ہے کہ ’’جب تک مجاہد کامران اور اس کا ٹولہ جامعہ پنجاب میں موجود ہے، وہاں امن کا خواب دیوانے کی بڑ ہے۔‘‘ شمس الدین امجد جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سوشل میڈیا انچارج ہیں، انہوں نے اپنی وال پر اس حوالے سے 22 مارچ کو تحریر کیا ہے کہ ’’میڈیا آپ کو خبر نہیں دے گا مگرآج پشاور یونیورسٹی سے باچا خان یونیورسٹی تک، اور اسلامی یونیورسٹی سے کوئٹہ تک، چھوٹے بڑے تعلیمی اداروں میں جمعیت کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں اور خود پختون طلبہ نے قوم پرستانہ غنڈہ گردی کو مسترد کرتے ہوئے جمعیت کی حمایت کی ہے۔ ڈاکٹر سمیحہ راحیل خاتون بھی ہیں اور پختون بھی۔ ان پر حملہ ہوا، انھیں دھکے دیے گئے۔ ایک خاتون کی توہین ہوئی اور پختون کی بھی۔ عورت کا تقدس پامال ہوا، اور پختون کا بھی۔ کیا کس نے؟ پختون کا نام لینے والے چند شرپسند قوم پرستوں نے۔ مگر الیکٹرانک میڈیا سے سوشل میڈیا کے لبرلز اور ان کے دم چھلے ’’درمیانے حلقے‘‘ کی تحریروں میں کہیں اس پہلو کا ذکر نہیں ہے۔ انھیں پختون اور خاتون بھی وہ عزیز ہے جو اسلام مخالف ہو، اسلام کا مذاق اڑاتی ہو۔ یہ فی الحال رہنے دیتے ہیں کہ کیمپ بھی جمعیت کا جلا، اور نوجوان بھی جمعیت کے زخمی ہوئے۔ پاکستانی پرچم کی بے حرمتی کی گئی، قائداعظم اور مشاہیرِ پاکستان کی تصاویر پھاڑ دی گئیں۔ جامعہ پنجاب میں جمعیت کی اعلان کردہ یوم پاکستان ریلی (22 مارچ) کو خراب کرنے کے لیے یہ جھگڑا کیا گیا۔ پوری قوم یوم پاکستان کی مناسبت سے تقریبات کررہی ہے اور کچھ قوم پرست عناصر جو دراصل پاکستان اور نظریۂ پاکستان کے خلاف ہیں، وہ قوم پرستی اور صوبائیت کو ہوا دینے کے لیے اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ یاد رہے کہ آج پاکستان اور دنیا بھر میں کہیں بھی پشتون کلچر ڈے نہیں منایا جا رہا۔ پنجاب یونیورسٹی میں یہ کوئی طلبہ تنظیم نہیں ہے بلکہ کچھ مخصوص لوگ ہیں جن میں سے اکثر جامعہ کے طالب علم بھی نہیں، بلکہ باہر سے آتے ہیں اور ان کی پشت پناہی جامعہ کے اندر سے مجاہد کامران صاحب کی لابی اور باہر سے قوم پرست اور پاکستان مخالف عناصر کرتے ہیں۔ کچھ دن قبل جامعہ پنجاب میں ہی بلوچ کلچرل ڈے منایا گیا تو جمعیت نے اُس تقریب میں بھرپور انداز میں حصہ لیا۔‘‘
عمر عباس تنقید کرنے والے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’تنقید کریں، تنقید کرنا آپ کا حق ہے۔ نظریاتی تنظیمیں تنقید سے نہیں گھبراتیں بلکہ اس کو اپنے لیے ایک سبق سمجھتی ہیں۔ لیکن دو گروہوں کی لڑائی میں ایک پر بے پکڑ تنقید، چند واقعات کی بنیاد پر اس کی 70 سالہ تاریخ کو مسخ کرنا اور اس کے نظریہ اور منشور سے واقفیت کے باوجود اس کے قلابے سیہون شریف تک سے جوڑدینا اور دوسری طرف نام نہاد لبرل گروہ جو خود کو خواتین کے ’’حقوق‘‘کا بھی چیمپئن سمجھتا ہے، کی جانب سے خواتین کیمپ پر حملے، ان کو ہراساں کرنے اور آگ لگانے کے واقعے کو سرے سے منظر ہی سے غائب کرکے ان کو کلین چٹ دینا آپ کے اندر کے بغض اور تعصب کو عیاں کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور اس سب کے باوجود اپنے آپ کو غیر جانبدار تجزیہ نگار کہلوانے کا شوق! حقیقت یہ ہے کہ تعصبات دونوں طرف موجود ہیں۔ آپ کی عصبیت کی بنیاد نسل، علاقہ اور نام نہاد ثقافت ہے اور ہمارے تعصب کی بنیاد اسلام اور پاکستان ہے۔‘‘ اسی ضمن میں ندیم ملک اپنی وال پررقم طراز ہیں کہ ’’کل سے جامعہ پنجاب کے واقعہ پر جانب دارمیڈیا اور فیس بک پر موجود لبرلز و اسلامی سیکولرز نے جو طوفان مچا رکھا ہے اس سے اندازہ ہوا کہ بات لڑائی جھگڑے کی نہیں، بات اسلامی جمعیت طلبہ سے جو بغض دلوں میں چھپا ہے، اس کی ہے۔۔۔ ورنہ لڑائیاں تو میں نے اس سے بڑی بڑی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں، اس پر کبھی اتنا شور نہ ہوا۔ زیادہ دور کی بات نہیں، کچھ دن قبل کراچی کی داؤد یونیورسٹی میں یہی پٹھان قوم پرست، روسی یتیم، کانگریس و باچا خان کی اولادوں کا سندھی قوم پرست جئے سندھ نامی طلبہ تنظیم سے زبردست جھگڑا ہوا، اس پر کہیں بھی کوئی تذکرہ نہ ہوا۔ الحمدللہ ہم نے تو پاکستان میں بسنے والی سب قوموں کو اپنے ماتھے کا جھومر بنایا ہے اور اپنی صفوں میں انہیں وہی مقام دیا جس کا ہر وہ فرد حق دار ہے جو لسانی، زبانی، قومیتی تعصب سے پاک ہے۔ یہ میری جمعیت کی تربیت ہے کہ میں نے ہمیشہ کسی بھی قسم کی دوستی میں لسانی، مذہبی تعصب کو فوقیت نہیں دی۔ مجھے تو کراچی کے اردو بولنے والوں سے ہمیشہ محبت رہی ہے جو لسانی تعصب سے بالاتر ہیں۔۔۔اور ہر قوم سے یہی رویہ میری جمعیت کی تربیت کا حسن ہے۔‘‘
جمعیت اور جامعہ پنجاب کا سنگم رہے گا
حاسدوں کی صف میں ماتم ہے سدا ماتم رہے گا
nn

حصہ