(جو ڈالی جھکنا نہ جانے وہ ٹوٹ جاتی ہے(افروز عنایت

248

زندگی میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے کچھ اصول و ضوابط کا ہونا لازمی ہے۔ مثلاً وقت پر اٹھنا بیٹھنا، آرام و کام کے لیے منظم طریقے سے وقت کو تقسیم کرنا، بچوں کی سر گرمیوں اور پڑھائی کے لیے ٹائم ٹیبل مرتب کرنا، رشتے داروں اور دوست احباب سے فون وغیرہ پر بات چیت کرنے کے لیے مناسب وقت نکالنا جس سے انہیں اور آپ کو بھی آسانی ہو یعنی گراں نہ گزرے، عبادت کے وقت کسی اور کام میں مصروفیت نہ رکھنا وغیرہ۔ ان اصول و ضوابط سے آپ کی زندگی میں نہ صرف سہولت پیدا ہوتی ہے بلکہ مشکل اور پریشانی سے بچا جا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی یعنی اپنے گھرانے کو بھی منظم کرنے اور انہیں سہولت دینے کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات دوسروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ان اصولوں میں ترمیم لانا بھی ضروری ہوجاتی ہے۔ لکیر کے فقیر بن کر ہم دوسروں کو ان اصولوں کا پابند نہیں کرسکتے۔ یعنی اپنے اصولوں میں لچک پیدا کرنا ضروری ہے، ورنہ آپ کو اور دوسروں کو بھی نقصان اور پریشانی لاحق ہوسکتی ہے۔ بے شک اسلامی تعلیمات کے مطابق طور طریقوں، رہن سہن اور خیالات میں ترمیم پیدا کرنا غلط روش ہے۔ ہماری زندگیوں کا بنیادی ڈھانچہ ہی قرآن اور حدیث پر عمل کرنے پر منحصر ہے، اس میں تبدیلی ناممکن ہے۔ لیکن عام طور طریقوں میں وقت کے مطابق یا دوسروں کی سہولت کے لیے لچک پیدا کرنا ضروری ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہایت بردباد، سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے، آپؐ کے مزاج میں بھی سمجھ و فہم پوشیدہ تھے۔ لیکن آپؐ کی زندگی کے چند اوراق کو دیکھیں تو سبحان اللہ آپؐ دوسروں کی خوشی کو مقدم رکھتے تھے، مثلاً اماں عائشہؓ (اُم المومنین) آپؐ کے عقدِ مبارک میں شریک ہوئیں تو کم سن تھیں۔ ایک مرتبہ گھر کے باہر بچے کھیل رہے تھے تو نہ صرف آپؐ نے اُم المومنین کو دروازے سے ان بچوں کو دیکھنے کی اجازت دی بلکہ اتنی دیر آپؐ بھی وہاں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ اس طرح آپؐ اپنے نواسوں کے ساتھ کھیلتے اور انہیں وقت دیتے۔ کبھی صحابہ کرامؓ کے ساتھ بھی ہلکا پھلکا سا مزاح فرماتے جس سے کسی کی دل آزاری نہ ہو، اور اس میں سے سمجھ داری کا پہلو بھی ظاہر ہو۔ یہی جھلک صحابہ کرامؓ کی زندگیوں میں بھی نظر آتی ہے۔ لیکن آج میں اپنے اردگرد نظر دوڑاتی ہوں تو کچھ لوگ ایسے نظر آتے ہیں جو اپنے اصولوں میں لچک لانا اپنی ’’انا‘‘ کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ کچھ بھی ہوجائے ہمیں اپنے اصول نہیں توڑنے، چاہے ناتے اور رشتے ٹوٹ جائیں، چاہے کسی کا نقصان ہوجائے۔
میں کسی پڑوسی کے بیٹے کی شادی میں شریک تھی۔ میزبان نے پوری کوشش کی کہ کھانا دس بجے سے پہلے شروع ہو، لیکن پھر بھی دس بج گئے۔ دولہا کی بہن نے کھانا نہیں کھایا کہ مجھے دیر ہوجائے گی اور وہ کھانا کھائے بغیر چلی گئی۔ ماں نے جلدی جلدی کچھ کھانا پیک کروا دیا تاکہ وہ لے جائے۔ سب کو بڑی حیرانی ہوئی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس بچی کے سسر کا یہ اصول ہے کہ دس بجے کے بعد گھر کا کوئی فرد گھر سے باہر نہ ہوگا۔ اس دن دلہن والوں کا فنکشن تھا، اس لیے اسے ماں کے گھر رہنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ اسے ولیمے کے دن والدین کے گھر رہنے کی اجازت ملی تھی۔ بہن کے دل میں بھائی کی شادی کی بڑی حسرتیں ہوتی ہیں، لیکن اس بچی کی مجبوری تھی، کیوں کہ اس کے سسر اپنے اصول نہیں توڑ سکتے تھے۔
***
’’ماسی اتنی جلدی آگئیں، ابھی تو بچے سوئے ہوئے ہیں، گھر کس طرح صاف ہوگا! ویسے بھی تمہارا ٹائم تو 11 بجے آنے کا ہے۔ََ
’’باجی صرف دو ماہ کے لیے مجھے اجازت دیں کہ میں اسی وقت آؤں، کیوں کہ جس باجی کے گھر اِس وقت جاتی ہوں وہ اور ان کے بچے چھٹیوں کی وجہ سے گھر پر ہوتے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ اب یہ دو مہینے تم دیر سے آنا، میں اس وقت بچوں کے ساتھ آرام کروں گی۔ ‘‘
’’بھئی یہ تو سب کے ساتھ مسئلہ ہے، سب کہیں گے کہ چھٹیاں ہیں۔‘‘
’’پھر باجی میں کیا کروں؟‘‘
میرے لیے بھی اس وقت ماسی کو بلانا بڑا مسئلہ تھا لیکن میں نے اس سے کہا کہ صحیح ہے تم پندرہ دن میرے پاس اس وقت آجاؤ، پھر دوسری باجیوں سے بھی بات کرو۔ اس طرح پندرہ پندرہ دن سب کے پاس صبح جاؤ گی تو تمہارا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ اگلے دن آئی تو کہنے لگی ’’باجی صرف دو باجیاں مان گئی ہیں، آپ مہربانی کرکے مجھے ایک مہینے کے لیے صبح میں آنے دیں‘‘۔ مجھے مجبوراً صرف اس ماسی کی سہولت کی وجہ سے اس سے سمجھوتا کرنا پڑا۔
***
ایک بچی نے بتایا کہ ’’میں ملازمت کرتی ہوں، چھوٹا بچہ بھی ہے، اس کی ذمہ داری، گھر کی ذمہ داری، شوہر کی ذمہ داری ہے۔۔۔ میں نے ساس سے کہا کہ مجھے اجازت دیں کہ میں رات میں دو وقت کا کھانا بنا لوں اور آٹا بھی گوندھ کے رکھ دوں، لیکن ساس نے یہ کہہ کر میری بات کو رد کردیا ’’بی بی ساری زندگی ہم نے تازہ کھانا بناکر کھایا ہے، یہ انگریزوں والے فیشن ہمارے یہاں نہیں چلیں گے‘‘۔ لہٰذا اب میں ملازمت سے تھکی ہاری آتی ہوں، بچہ روئے یا بھوکا سوجائے، مجھے ہر صورت میں ساس سسر کو وقت پر کھانا دینا ہوتا ہے، اس لیے آتے ہی پہلے کچن میں گھستی ہوں تاکہ گھر میں امن رہے۔‘‘
اس کے مقابلے میں مجھے ایک خاتون نے بتایا کہ ’’میرے گھر کے کچھ اصول و ضوابط تھے، مثلاً وقت پر کھانا پینا، گھر کی نفاست، ہر چیز قرینے سے اپنی جگہ پر ہونا۔ اب گھر میں بہوئیں بھی ہیں۔ آنے والے حیران ہوتے ہیں کہ سب تبدیل ہوگیا ہے! لیکن میری یہ مجبوری ہے، میں سختی کرکے سب کو اپنے اصولوں کا پابند نہیں کرسکتی، ایسا کرنے سے رشتوں کے بندھن میں کمزوری آجائے گی، اس لیے مجھ سے جتنا ممکن ہوسکا ہے میں نے اپنی شخصیت اور طریقوں میں لچک پیدا کی ہے۔‘‘
***
ایک خاتون نے بتایا: ’’مجھے بہت سی چیزیں اور طریقے پسند نہیں لیکن میں اپنے بچوں کی وجہ سے سمجھوتا کرنے پر مجبور ہوں۔ اس لیے میں نے اپنے بہت سے اصول پسِ پشت ڈال دیے ہیں۔‘‘
***
ایک بچی نے بتایا کہ میری ساس صبح نماز اور ناشتے سے فارغ ہوکر مجھے بھی کہتی ہیں کہ اٹھ جاؤ۔ میں بچوں کے ساتھ تمام رات جاگتی رہتی ہوں، صبح شوہر کے دفتر اور بیٹی کے اسکول جانے کے بعد دو تین گھنٹے فارغ ہوتی ہوں اس لیے کمر سیدھی کرنے کے لیے لیٹ جاتی ہوں اور تھکاوٹ کی وجہ سے نیند آجاتی ہے، ساس دروازہ بجاکر واویلا مچاتی ہیں کہ اٹھ جاؤ۔ مزے کی بات یہ کہ خود جاکر سوجاتی ہیں اور میں پاگلوں کی طرح اِدھر اُدھر گھومتی رہتی ہوں۔ میری ساس کے یہ کس قسم کے اصول ہیں جن سے میں پریشان رہتی ہوں!
***
’’میڈم میرا بچہ بہت چھوٹا ہے، مجھے آنے میں کچھ دیر ہوجاتی ہے، اگر آپ اجازت دیں تو میں آدھا گھنٹہ دیر سے آجاؤں؟ ویسے بھی میرا پہلا پیریڈ فری ہے‘‘۔ میڈم خود بھی بچوں والی تھیں، وہ ماؤں کے مسائل سے واقف تھیں، اس لیے انہوں نے سعدیہ کو اجازت دے دی، حالانکہ وہ اس تعلیمی ادارے کے اصول و ضوابط کو کبھی بھی توڑنا پسند نہیں کرتی تھیں، دیر سے آنے والوں پر ناراض ہوتی تھیں، لیکن سعدیہ کی مشکل اور مسئلے کا صرف یہی ایک حل تھا جس کی وجہ سے انہیں اپنے اصول میں نرمی پیدا کرنی پڑی، کیونکہ سعدیہ ایک اچھی استانی بھی تھی۔
***
میڈم زینب نے بچوں سے کہا کہ ہر صورت میں یہ اسائنمنٹ آپ کو کل تک جمع کروانا ہے کیونکہ مجھے اس کے نمبر بھی امتحان میں شامل کرنے ہیں۔ سب کو معلوم تھا کہ میڈم اپنے اصولوں پر کتنی مضبوطی سے عمل کرنے والی ہیں، اس لیے ہر صورت میں اسائنمنٹ جمع کروانا لازمی تھا، ایک دن لیٹ ہونا، سمجھو کہ اسائنمنٹ بیکار ہوگیا، دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔
میڈم کلاس سے باہر آئیں تو عشرت بھی ان کے پیچھے پیچھے آگئیں، میڈم نے مڑ کر دیکھا اور پوچھا ’’کیا بات ہے؟‘‘
’’میڈم۔۔۔ وہ۔۔۔ (عشرت کو معلوم تھا میڈم نہیں مانیں گی) میری بہت بڑی مجبوری ہے، کل میری منگنی ہے، میرا کالج آنا ناممکن ہے، میں آج گھر جاکر کسی طرح اسائنمنٹ تیار کر بھی لوں تو کل کس طرح جمع کروا سکتی ہوں!‘‘ میڈم کو عشرت کی آنکھوں میں سچائی کی جھلک نظر آئی۔’’آپ کی وجہ سے میرا رزلٹ ایک دن لیٹ ہوجائے گا، خیر پرسوں کالج میں آتے ہی مجھے اسائنمنٹ دے جانا‘‘۔ باقی لڑکیوں نے جب سنا تو بڑی حیران ہوئیں کہ میڈم جو اپنے اصولوں میں بالکل لچک نہیں آنے دیتیں، عشرت کی بات کیسے مان گئیں!
***
آپ ہر جگہ اور ہر موقع پر اپنے اصولوں کو لے کر نہیں چل سکتے۔ موقع محل، وقت اور حالات کے مطابق اپنے آپ کو تھوڑا بدلنا پڑتا ہے۔ اس طرح آپ نہ صرف دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات اس سے آپ کو بھی فائدہ پہنچتا ہے، اور سب سے بڑی بات کہ تعلقات میں کشیدگی سے بچنے اور بندھن اور ناتوں کو مضبوط کرنے کے لیے تھوڑی بہت لچک پیدا کرنا ضروری ہے۔ یوں سمجھیں کہ سامنے والوں سے تعلقات خوشگوار رکھنے کے لیے اپنے اصولوں میں نرمی پیدا کرنا ضروری ہے، اسی صورت میں خوبصورت تعلقات استوار ہوتے ہیں، خاص طور پر رشتوں اور خاندانوں میں۔ اکثر بہوئیں ساسوں سے اور ساسیں بہوؤں سے بدظن اور دور رہتی ہیں، جس کی وجہ عموماً یہی ہے کہ دونوں طرف لچک نہیں ہوتی، اور آخرکار نوبت دوری تک پہنچ جاتی ہے، ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی اجنبیت کی دیوار حائل ہوتی ہے جس کی لپیٹ میں گھر کا ہر فرد آجاتا ہے، خصوصاً بچے۔ اسی طرح دیکھا گیا ہے کہ جہاں میاں بیوی بھی اپنے طریقہ کار، اصولوں اور خیالات میں لچک اور نرمی لانے سے قاصر رہتے ہیں وہاں کشیدگی اور ناخوشگوار واقعات جنم لیتے ہیں۔ مثلاً ایک بچی نے بتایا کہ ’’میرے اور شوہر کے ماحول میں زمین آسمان کا فرق تھا، نہ صرف ماحول میں بلکہ خیالات اور طور طریقوں میں بھی۔ میں اگر انا کا مسئلہ بنا لیتی تو ظاہر ہے نقصان میرا ہی زیادہ ہوتا، لہٰذا میں نے اپنی شخصیت، عادتوں اور دلچسپیوں میں لچک پیدا کی، کیونکہ شوہر جس قسم کا بندہ نظر آیا اُس میں تبدیلی کا امکان ناممکن تھا۔ میرے اس اقدام اور نرمی سے مجھے آگے چل کر بہت فائدہ پہنچا، وہ بندہ جو اپنے فیصلے کے سوا کسی کو اہمیت نہیں دیتا تھا، اب میری بات تحمل سے سن لیتا ہے چاہے آخری فیصلہ اسی کا ہو، اس کے علاوہ بھی کہیں نہ کہیں نرمی یا لچک نظر آتی ہے، اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ آج ہم دونوں کے درمیان خوشگوار تعلقات ہیں، میں سمجھ گئی ہوں کہ اُسے کیا چیز ناپسند ہے اس سے پرہیز کرتی ہوں تاکہ اسے ’’زک‘‘ نہ پہنچے۔‘‘
اس کے برعکس ایک اور میاں بیوی کی زندگی کو دیکھا کہ بچی ہر معاملے میں ضد پر اڑ جاتی ہے۔ کہیں جھکنا یا شوہر کی پسند ناپسند کو اہمیت دینا اُس کے لیے اہم نہیں۔ ان حالات کی وجہ سے دونوں میں خوبصورت تعلقات میں کمی نظر آتی ہے۔ شوہر کہتا ہے کہ اس کی شخصیت میں بالکل لچک نہیں ہے، کہیں یہ بات اسے نقصان نہ پہنچائے، اس لیے میں ہی درگزر سے کام لے رہا ہوں۔
آخر میں یہ واقعہ بیان کرنا ضروری سمجھتی ہوں جس کی بدولت دو سگے بہن بھائی زندگی بھر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں ہوئے۔
حشمت خان صوم و صلوٰۃ کا بڑا پابند، نیک بندہ تھا۔ تمام خوبیوں کے باوجود وہ اپنی انا، ضد اور اصولوں کا بڑا مضبوط تھا۔ اگر نہ کردی تو کوئی طاقت اس کا فیصلہ بدلوا نہیں سکتی۔ ماں باپ کا سایہ نہ تھا۔ ایک بہن اور دو بھائی تھے۔ سب ایک بڑے مشترکہ خاندان میں عزت اور پیار و محبت کی زندگی گزارتے تھے۔ دونوں بھائیوں کو اپنی چھوٹی بہن سے بہت زیادہ محبت تھی، دونوں اس کے لاڈ اٹھاتے، خاص طور پر حشمت خان۔۔۔ اپنی اولاد ہونے کے بعد بھی بہن کی محبت میں کمی نہیں آئی، بلکہ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہ محبت بڑھتی گئی۔ حشمت کی بہن خدیجہ نے جوانی میں قدم رکھا تو آس پاس سے رشتے آنے لگے، لیکن حشمت ایک روایت پسند مرد تھا، ان کی خاندانی روایت کے مطابق لڑکیوں کی شادی صرف خاندان میں ہی کی جاتی تھی، لہٰذا وہ ہر رشتے پر انکار کردیتا، وہ انتظار میں تھا کہ دور پرے کا ہی کوئی رشتہ دار ظاہر ہو جس کے ہاتھ میں بہن کا ہاتھ تھما دے۔
دلاور نے کسی عزیز کے گھر خدیجہ کی ایک جھلک دیکھ لی اور دیوانہ ہوگیا کہ میں اسی لڑکی سے شادی کروں گا۔ دلاور خود بھی ایک پڑھا لکھا، خوبرو، اعلیٰ عہدے پر فائز، ایک اونچے گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دلاور کے رشتے کو حشمت اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتا، لیکن اس نے رشتہ دینے سے انکار کردیا۔ گھر والے اس رشتے کے لیے راضی تھے، چھوٹے بھائی نے بھی سمجھانے کی کوشش کی، لیکن حشمت اپنے فیصلے پر اٹل رہا۔ دلاور ناامید نہیں ہوا تھا، وہ اپنی سی کوشش میں لگا ہوا تھا۔ اسی دوران حشمت کا بزنس کی غرض سے بیرونِ ملک جانے کا اتفاق ہوا۔ دلاور نے کسی طرح خدیجہ سے ملاقات کی۔ خدیجہ بھی دلاور کی شرافت اور شخصیت سے متاثر ہوئی، لیکن وہ مجبور تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فون وغیرہ کی اتنی زیادہ سہولت نہ تھی۔ بہت عرصے تک حشمت کا اپنے گھر والوں سے رابطہ نہ ہوسکا۔ دلاور کو یہ وقت مناسب لگا، اُس نے خدیجہ کو راضی کیا نکاح کے لیے، اور وعدہ کیا کہ جب تک تمہارا بھائی راضی نہ ہوگا رخصتی نہیں ہوگی۔ چنانچہ چند بزرگوں کی موجودگی میں دونوں کا نکاح ہوگیا۔ سب نے سوچا کہ جب حشمت آئے گا تو بہن کی محبت سے مجبور ہوکر اس فیصلے کو قبول کرلے گا۔ لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ ایک سال بعد حشمت واپس آیا، آتے ہی اس نے یہ خبر سنی تو طیش میں آگیا، گھر والوں سے بھی ناراض ہوا اور حکم دیا کہ آج سے خدیجہ میرے لیے اور میں اس کے لیے مرگیا، میں جیتے جی اس کا منہ نہیں دیکھوں گا۔ لوگوں نے سمجھانے کی بہت کوشش کی، لیکن بے سود۔ بہن، بھائی کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ساری زندگی ترستی رہی، وہ خود بھی اس آگ میں سلگتا رہا لیکن انا کے خول میں بند اپنے فیصلے پر اٹل رہا۔ جب حشمت شہر سے باہر ہوتا تو ڈر ڈر کر باقی گھر والے خدیجہ سے مل لیتے۔ اس طرح ماہ و سال گزرتے گئے، خدیجہ کے بچے بھی جوان ہوگئے۔ وہ ایک پُرتعیش اور لگژری زندگی گزار رہی تھی لیکن دل میں ایک کسک تھی، وہ بھائی جو باپ سے بڑھ کر تھا، جس نے اسے لاڈ و پیار میں گڑیوں کی طرح پالا پوسا تھا، اس کی ہر خواہش پر سرِ تسلیم خم کرتا، اس کی شادی کو مثل خطا سمجھ کر خود بھی اذیت میں رہا۔ بہن کبھی کبھار چھپ کر ڈرائیور سے گاڑی وہاں رکوالیتی جہاں سے حشمت کا گزر ہوتا، تاکہ بھائی کی ایک جھلک دیکھ سکے۔ زندگی نے کبھی کسی کا ساتھ نہیں دیا۔ ایک دن خدیجہ کے انتقال کی خبر آئی۔ حشمت خان کے بیٹے نے بڑے دکھ سے یہ خبر باپ کو سنائی اور پہلی مرتبہ باپ کے سامنے جرأت کی اور بولنے کی کوشش کی کہ بابا اس کے مرنے کے ساتھ اب آپ کو اپنی ضد ختم کردینی چاہیے، جیتے جی اس کا منہ آپ نے نہیں دیکھا، اب آپ ضرور چلیں گے، شاید اس طرح اس کی روح کو سکون نصیب ہو اور آپ کو بھی۔ پھر سب نے دیکھا کہ حشمت خان بہن کے جنازے میں خاموس و اداس بیٹھا تھا اور اس کی آنکھوں میں آتے آنسوکسی سے چھپ نہ سکے۔
جب والدہ نے حشمت خان کا واقعہ سنایا تو ہمیں بڑا تعجب ہوا کہ کوئی بندہ اپنے اصولوں کا اس قدر پابند ہوسکتا ہے کہ ٹوٹ گیا لیکن جھک نہ پایا! اس واقعہ کے بعد حشمت خان کے خاندان میں اس روایت کی پیروی ختم کردی گئی۔ ایک ضد اور ایک اصول کی پیروی کی وجہ سے رشتوں میں قطع رحمی ہوئی، محبت کرنے والے ایک دوسرے سے دور ہوگئے بلکہ قطع تعلق ہوگئے۔
غرض کہ وہ لوگ جو اپنی شان اور انا کی خاطر اپنے فیصلوں میں ترمیم نہیں لاتے اُن کی مثال ایسی ہے جیسے ’’جو ڈالی جھکنا نہ جانے وہ ٹوٹ جاتی ہے۔‘‘
لہٰذا اپنی اور دوسروں کی خوشی اور آرام کی خاطر کبھی کبھار اپنے فیصلوں میں نرمی لانی ضروری ہے۔
nn

حصہ