(کراچی کو رضیہ بنا کر غنڈوں میں پھنسا دیا گیا(افشاں نوید

170

ماضی میں اس شہر کا سب سے بڑا مسئلہ لاء اینڈ آرڈر کا تھا۔ رینجرز کے صبر آزما آپریشن کے بعد امن و امان بحال ہوتے ہی شہر کا سب سے بڑا جینوئن مسلہ جو صفائی ستھرائی کے حوالے سے تھا اس جانب سب کی توجہ منبذول ہوگئی۔ گزشتہ بیس سالوں میں جس طرح اس بنیادی نظام اور کام کو تباہ و برباد کیا گیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
کراچی میں گز شتہ تیس سالوں سے متحدہ قومی موومنٹ کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ حکومت رہی ہے اور اب بھی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ شہر کی بلدیہ عظمی کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت میں اپنے وزیروں کی فوج کے ساتھ اعلی ترین وزارتوں پر بھی متحدہ کو رکھا جاتا رہا ہے۔ اس کے باوجود اس جماعت کی سب سے بڑی آبادی کا تعلق یا تو کراچی سے ہے یا پھر حیدرآباد سے۔ دونوں ہی شہر کچرے کی کونڈیوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔
بارہ مئی کے قتل عام سے شہرت رکھنے والے متحدہ کے رہنما جناب وسیم اختر صاحب اس شہر عظمی کے مئیر بھی منتخب ہوئے اور اپنے حلف کے بعد 30 نومبر کو کراچی کی صفائی ستھرائی کے لئے ایک سو دن کی عظیم الشان مہم کا اعلان فرمایا۔ دس مارچ کو اس مقصد کے لئے چلائی جانے والی مہم اپنے ایک سو دن پورے کرنے کے بعد سے لیکر آج تک میڈیا پر یہ گفتگو چل رہی ہے کہ مئیر کراچی اپنی مہم میں کس حد تک کامیاب ہوئے۔؟
جناب وسیم اختر نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں سب سے پہلے تو اس بات کا واویلا کیا کہ بلدیہ عظمی کے پاس سے اختیارات کو چھین لیا گیا ہے۔ کئی محکمے جو پہلے ان کے پاس تھے اب سندھ حکومت نے واپس لے لئے ہیں۔اسی طرح بلدیہ کے بجٹ میں بھی کٹوتی کی گئی ہے۔
دوسرا اعلان یہ تھا کہ پورے کراچی کی صفائی کے بجائے چند علاقوں کو مڈل یو سی کے طور پر صاف کیا جائے گا۔ گویا یہ اس بات کا اعلان تھا کہ پورے کراچی کا مینڈنٹ حاصل کرچکنے کے بعد جب کام کا موقع ہاتھ آیا تو صرف چند علاقوں میں علامتی صفائی کا عندیہ سنایا گیا۔
کراچی کی پانچ ڈی عام سیز میں سے تین دی عام سیز مکمل طور پر متحدہ کے پاس ہیں۔ مگر ان کا اپنا حال اسقدر دگرگوں ہے کہ الامان۔لانڈھی ، کورنگی، سینٹرل ، لیاقت آباد ، اورنگی ، نیو کراچی گلشن اقبال اور اسی طرح سے اردو بولنے والے تمام ہی علاقوں نے متحدہ کو منتخب کیا اس کے باوجود سب سے زیادہ گندگی اور غلاظت ان ہی علاقوں میں دکھائی دے رہی ہے۔
کسی نے بالکل درست کہا کہ ” سالوں ” کا کچرا سو دنوں میں کیسے آٹھ سکتا ہے ؟
کراچی میں ایک محتاطاندازے کے مطابق دس ہزار میٹرک ٹن کچرا روزانہ کی بنیاد پر گلیوں اور کچرا کنڈیوں میں پہنچتا ہے۔ مگر اس کچرے میں سے صرف بیس ہزار میٹرک ٹن کچرا ٹھکانے لگایا جارہا ہے ، اس میں سے بھی چار ہزار میٹرک ٹن کچرا پٹھان اور افغانی بچے بلا کسی معاوضے کے اپنے طور پر اٹھا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ساٹھ سے اسی میٹرک ٹن کچرا بدستور کراچی کی گلیوں ، سڑکوں ، میدانوں اور نالوں میں جمع ہورہا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فاروق ستار ، مصطفیٰ کمال اور پھر اس کے بعد جناب وسیم اختر کے لگاتار اور مسلسل دور بلدیہ میں اس حوالے سے کوئی منصوبہ بندی کیوں نہیں کی گئی۔ کہتے ہیں کہ سبق وزیر اعلی سندھ جناب قائم علی شاہ کی برطرفی بھی کچرے کے گھمگھیر مسئلے کی بناء4 پر ہوئی تھی۔ اور موجودہ وزیر اعلی نے اپنے دفتر میں جاتے ہی اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کچرے ہی کو موضوع گفتگو بناتے ہوئے تمام انتظامیہ کو تین دن کی مہلت دی تھی کہ فوری طور پر کچرا صاف کیا جائے۔ مگر تین دن کا حکم اس کان سے سن کر دوسرے کانوں سے نکال دیا گیا۔
یہی معاملہ وسیم اختر صاحب کی سو روزہ صفائی مہم کا ہوا۔
دو علامتی ڈمپر دس بارہ وردی اور زرد جیکٹ پہنے خاکروب دس بیس بلدیاتی افسران اور دس بارہ لینڈ کروزرز میں بیٹھے وسیم اختر اور ان کے ٹیم ممبران کراچی میں نمائشی صفائی کرتے دکھائی تو ضرور دئیے مگر آخر میں اپنی ہر پریس بریفنگ میں اختیارات کی کمی کا رونا گانا چلاتے رہے۔
اس وقت دو دی ایم سیز میں صفائی کا کام چائنا کو ٹھیکے پر دیا جا چکا ہے۔ فی ٹن کچرا 465 روپے میں چائنا کی کمپنی وصول کر رہی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر فی ٹن اتنے ہی پیسے مقامی ٹھیکیداروں کو دے دئیے جاتے یا ان رقوم سے اپنا ہی کوئی نظام بنا لیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ ویسٹ منجمنٹ اور نظام کی بدولت توانائی حاصل کی جارہی ہے ، کھاد بنائی جارہی ہے ، ری سائکلنگ کی صنعت کے استمعال میں لیا جارہا ہے۔ مگر ہماری بلدیہ اس قیمتی کچرے سے حاصل ہونے والے فوائد کے بجائے الٹا پیسے دے کر غیر ملک کے حوالے کررہے ہیں۔
کراچی کے لوگ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جب ان کی بلدیہ کے اختیارات اور محکمے ان سے واپس لئے جارہے تھے یا فنڈز میں کمی کی جارہی تھی اس وقت متحدہ اپنی پوری قوت کے ساتھ سندھ حکومت کا حصّہ تھی۔ مجال ہے کہ اس وقت ان کا کوئی احتاجی بیان یا کوئی ساونڈ قسم کا ایکشن سامنے آتا۔ اس وقت تو عالم یہ تھا کہ لندن کا موسم اچانک خراب ہوجاتا تو کراچی میں ہڑتال کروادی جاتی تھی۔دوسری بات یہ کہ اگر اختیارات میں کمی کی گئی ہے تو اس میں بھی قصوروار کون ہے ؟ جس بیدردی کے ساتھ کراچی کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا ، پارک، ہسپتال ، امونٹی پلاٹس ، اور ندی نالوں پر چائنا کٹنگ کی گئی اس سے کون وا قف نہیں ہے ؟
یا تو اسی قسم کی چائنا کٹنگ کرنے کی اجازت دینے کو اختیار کہا جاتا ہے تو یہ ایک علیحدہ بات ہے۔اب آئیے اس رونے گانے کی طرف کہ ہمارے پاس گاڑیاں اور مشینیں نہیں ہیں۔ سینٹری ورکرز نہیں ہیں۔ یہ بھی محض ایک ڈھکوسلہ ہے۔ صرف ڈسٹرکٹ سینٹرل کے اعداد و شمار کے مطابق 277 گاربچ لفٹر ٹرکس اور مشینری چالو حالت میں موجود ہے۔ اسی طرح 2200 سینیٹری ورکرز موجود ہیں جن کو ماہانہ تنخواہ دی جارہی ہے۔ حد یہ ہے کہ ان گاڑیوں میں روزانہ بیس ہزار روپے کا ڈیزل بھی بھروایا جارہا ہے۔ مگر نہ تو یہ گاربیچ لفٹر اور نہ ہی سینٹری ورکرز روڈ پر دکھائی دے رہے ہیں۔ متحدہ اور پی پی پی کی عظیم تر مفاہمت کی بنیاد ہی گھوسٹ ملازمین کی بھرتی تھی۔ دونوں پارٹیوں نے اپنے اپنے ورکرز کو صرف تنخواہیں دلوانے کے لئے ان اداروں میں بھرتی کروایا تھا۔ سب سے بڑا ظلم تو یہ ہوا کہ نالوں کی صفائی اور سینٹری جابس کے لئے پہلے صرف اقلیتی برادری کو ملازمت دی جاتی تھی مگر ان نا ا ہلوں نے مسلمان افراد کو ان کی سیٹوں پر بھرتی کروایا۔ اسطرح ایک جانب تو اقلیتی افراد کی حق تلفی کی گئی دوسری جانب اپنے کارکنوں کو معاشی سپورٹ فراہم کی گئی۔
بلدیہ کے ذمے صحت کا محکمہ بھی تھا مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان کے اپنے زیر انتظام چلنے والے کسی بھی ہسپتال اور ڈسپنسری میں معمولی نوعیت کی ادویات بھی عوام کے لئے دستیاب نہیں ہیں۔
اب عالم یہ ہے کہ نہ تو فائر برگیڈ کا محکمہ درست حالت میں کام کر رہا ہے نہ ہی کے ایم سی اور نہ ہی صحت۔
ایسا لگتا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کراچی کی بلدیہ کو نااہل ثابت کروا کر اس کو کسی بزنس مین کے حوالے کردینے کا کام کیا جانا ہے۔
گزشتہ دنوں معروف بزنس ٹا ئیکون جناب ملک ریاض ڈمپر لوڈر سمیت کراچی کی شاہراہوں پر نکل آئے اور بنا کسی لالچ کے ” سالوں ” کا گند صاف کرنے کی مہم پر لگ گئے۔
اب کوئی ان سے یہ پوچھے بھائی آپ پنڈی اور اسلم آباد کی صفائی کرتے تو کوئی بات بھی تھی آپ نے کراچی کا راستہ صاف کرنے کا کیوں سوچا ؟ کون نہیں جانتا کہ موصوف ماضی زرداری صاحب کے فینانسر کے حیثیت سے مشہوری حاصل کرچکے ہیں۔ اور اپنے پلے سے لاہور میں زرداری صاحب کو قیمتی محل تحفے میں دے چکے ہیں۔ خدا کے واسطے کراچی کو رضیہ بنا کر غنڈوں کے حوالے نہ کرو۔ اور عوام نے جو اعتماد کا ووٹ دیا ہے اس پر دل لگا کر کام کرو۔
کراچی میں ان کے مقاصد بھی غیر مبہم نہیں ہیں۔ اسفالٹ پلانٹ پر جو کہ کے دی اے کی ملکیت ہے۔ اربوں روپے کی قیمتی زمین جو سفور? چوک سے چند قدموں کی مسافت پر ہے اس جگہ ماضی میں کراچی کا اسفالٹ پلانٹ کامیابی کے ساتھ چل رہا تھا۔ یہ قیمتی پلانٹ جناب عبدالستار افغانی نے فرانس کی حکومت کے تعاون سے حاصل کیا اور یہاں پر سیمنٹ کے پائپ اور سڑک بنانے کا مٹیریل اعلی ترین کوالٹی کا تیار کیا جاتا تھا۔ سڑک کے لئے خصوصی نوعیت کا کرش بنایا جاتا تھا۔ جس کو بچھانے سے پہلے دھویا جاتا اور خاص مقدار میں سیمنٹ بھی ملائی جاتی تھی۔ متحدہ کی پہلی بلدیہ میں اس پلانٹ کو ناکارہ بنایا گیا اور اب اس کو کے۔ڈ ی۔ اے سے واپس لے کر کچرا ڈمپنگ اسٹیشن میں تبدیل کرنے کی سازش تیار کی جاچکی ہے۔ اسی لئے پہلے سے گراونڈ تیار کیا جارہا ہے کہ ملک ریاض کراچی کے ” ان داتا” کے طور پر سامنے آکر گندگی اٹھا ئیں اور پھر حکومت سے جگہ مانگیں کہ کچرا تو میں اٹھا ہی رہا ہوں مگر مجھے کچرا ڈمپ کرنے کی جگہ فراہم کی جائے اور اسطرح ایک ہی نوٹیفکیشن کی بدولت اربوں روپے کی قیمتی اراضی ملک ریاض کی جیب میں چلی جائے گی۔
پہلے سے طے شدو ایجنڈے پر رنگ بھرنے کے لئے آئندہ بھی ایم کیو ایم اس نیک کام میں پیپلز پارٹی کے ساتھ عظیم تر مفاہمت کے اصولوں پر کاربند رہے گی۔
ہماری ملک صاحب اور دیگر تمام ان داتاؤں سے گزارش ہے کہ خدارا کراچی کو ” چھیپا ” کا دستر خوان نہ سمجھا جائے کہ جس کا منہ اٹھے وہ زکوا ت خیرات سے اس شہر کی مدد کرے۔ ہمارا اپنا بجٹ موجود ہے ہم نے ماضی میں بھی دیانت دار قیادت کے ساتھ موجودہ وسائل اور اس سے کم تر بجٹ میں شہر کی خدمت موجودہ لوگوں سے زیادہ اچھے انداز میں کی ہے اور آئندہ بھی کرسکتے ہیں۔

حصہ