(حَضرت نوح علیہِ السَّلام (مہر الدین افضل

564

ہزار برس کا قصہ ہے، دو چار صدی کی بات نہیں
حؑ کی عمر اور عرصہ دعوت :
سورَۃ عنکبوت آیت14 میں ا رشاد ہوا : ’’ہم نے نُوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ پچاس کم ایک ہزار برس اُن کے درمیان رہا۔ آیت میں ’’نو سو پچاس برس‘‘ کے الفاظ استعمال نہیں کیے گئے کیوں کہ ہزار کے لفظ سے عظمت، شان اور عزیمت کی طرف متوجہ کرنا ہے۔۔۔ بتانا یہ ہے کہ حضرت نوحؑ نے اِتنی طویل مدت تک ایک ظالم اور گمراہ قوم کو دعوت دی اور اُس کی فریب کاریوں کا مقابلہ کیا، زیادتیاں برداشت کیں اور ہمت نہ ہاری۔ اِس آیت کے مطابق اُن کی عمر کم از کم ایک ہزار سال ہونی چاہیے کیوں کہ ساڑھے نو سو سال تو صرف وہ مدت ہے جو نبوت پر مامور ہونے کے بعد سے طوفان پربا ہونے تک اُنہوں نے دعوت و تبلیغ میں گزاری۔ ظاہر ہے کہ نبوت اُنہیں پختہ عمر کو پہنچنے کے بعد ہی ملی ہوگی اور وہ طوفان کے بعد بھی کچھ مدت زندہ رہے ہوں گے۔
(حضرت عبداللہ اِبن عباسؓ نے فرمایا کہ چالیس سال کی عمر میں حضرت نوحؑ کو نبوت ملی اور وہ ساڑھے نو سو برس تک قوم کو ہدایت کرتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس تک زندہ رہے‘ جب لوگوں کی نسلیں بڑھ گئیں اور پھیل گئیں اور آپ کی عمر ایک ہزار پچاس برس ہوئی تو آپ کی وفات ہوئی۔ وہب کا بیان ہے کہ حضرت نوحؑ کی عمر ایک ہزار چار سو برس ہوئی۔ آخر وقت میں موت کے فرشتے نے آپؑ سے پوچھا ’’اے دراز ترین عمر والے پیغمبر! آپؑ نے دنیا کو کیسا پایا؟‘‘آپؑ نے جواب دیا ’’جیسے کسی نے ایک مکان بنایا ہو، جِس کے دو دروازے رکھے ہوں، میں ایک دروازے سے داخل ہوا اور دوسرے دروازے سے باہر نکل گیا۔‘‘ (تفسیر مظہری‘ سورہ عنکبوت جلد نہم صفحہ نمبر112 )
یہ طویل عمر بعض لوگوں کے لیے ناقابل یقین ہے لیکن خدا کی اس خدائی میں عجائبات کی کمی نہیں ہے۔ جِس طرف بھی آدمی نگاہ ڈالے، اُس کی قدرت کے کرشمے غیر معمولی واقعات کی شکل میں نظر آجاتے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ کچھ واقعات اور حالات کا ایک خاص صورت میں ہوتے رہنا اِس بات کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے کہ اِ س سے ہٹ کر غیر معمولی صورت حال میں کوئی واقعہ نہیں ہو سکتا۔ اِس مفروضے کو توڑنے کے لیے ہماری آنکھوں کے سامنے غیر معمولی واقعات ہوتے رہتے ہیں۔۔۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آگ جلاتی ہے، لیکن سیدنا ابراہیمؑ کے لیے، آگ اپنے خالق کے حکم سے سلامتی بن جاتی ہے۔۔۔ چھری کا کام کاٹنا ہے لیکن سیدنا اسماعیلؑ کی گردن پر وہ اپنا کام بھول جاتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جس شخص کے ذہن میں اللہ تعالٰی کے قادر مطلق ہونے کا تصور واضح ہو، وہ تو کبھی بھی اِس غلط فہمی میں نہیں پڑ سکتا کہ کسی اِنسان کو ایک ہزار برس یا اِس سے کم یا زیادہ عمر عطا کر دینا اُس خدا کے لیے بھی ممکن نہیں ہے جو زِندگی اور موت کا خالق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر خود چاہے تو ایک لمحے کے لیے بھی زندہ نہیں رہ سکتا لیکن خدا اُسے جب تک چاہے زِندہ رکھ سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جس زمانے میں حضرت نوحؑ پیدا ہوئے اُس زمانے میں سب لوگوں کی عمریں زیادہ ہوتی تھیں۔۔۔ اگر ایسا ہوتا تو نو سو پچاس برس کی تبلیغ میں کوئی غیر معمولی بات ہی نہیں تھی جِس کا ذکر کیا جائے !غیر معمولی تو وہ اِسی صورت میں ہوئی جب کہ حضرت نوحؑ نسل در نسل اور پشت در پشت لوگوں کو دعوت دیتے رہے۔ اندازہ کریں کہ ہر نسل میں آپؑ کی دعوت قبول کرنے والے کتنے ہی لوگ اِس آرزو کے ساتھ گزر گئے کہ زمین پر پھر سے اللہ کا حکم جاری ہو۔۔۔ اور کتنے ہوں گے جو اِس جرمِ خدا پرستی میں شہید کیے گئے ہوں گے ۔ اِس میں قیامت تک کے داعیانِ حق کے لیے سبق اور پیغام یہ ہے کہ وہ دعوت دیے چلے جائیں، اُن کی کامیابی اِس میں ہے کہ وہ مرتے دم تک دعوت دیتے رہیں اور اِس دَعوت میں کوئی تبدیلی اور کمپرومائز نہ کریں۔ قوموں کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ضروری نہیں کہ مختصر مدت میں ہو جائے‘ اِس کے لیے قوم نوحؑ جیسی طویل مدت بھی ہو سکتی ہے۔۔۔ لیکن آخری کامیابی اہلِ حق ہی کی ہوگی، جیسے کہ زمین کے وارث حضرت نوحؑ اور اُن پر ایمان لانے والے ہی ہوئے اور نو حؑ ایک مرتبہ پِھر زمین کی اصلا ح کرکے اپنے رب کے پاس گئے اور دنیا کی زندگی کی حقیقت ہی کیا ہے جیسا کہ آپ نے حضرت نوحؑ کا قول پڑھا اتنی طویل مدت گزارنے کے بعد بھی ایسا ہی ہے کہ ایک دروازے سے داخل ہوئے اور دوسرے دروازے سے نکل گئے۔
انبیا کی پہلی خصوصیت علم الیقین :
زمین و آسمان اور کائنات کے نظام میں نظم وضبط تو سب ہی محسوس کرتے ہیں‘ اپنے جسم کی بناوٹ اور مختلف اعضا کے تناسب اور کام کی تو سب ہی توصیف کرتے ہیں۔۔۔ اپنے نفس میں اچھائی اور برائی کی تمیز اور اچھائی کرنے پر تعریف اور برائی کرنے پر ملامت تو سب ہی محسوس کرتے ہیں اور یہ خیال تو سب کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ یہ نظام ہست و بود کوئی ہے جو چلا رہا ہے لیکن غوروفکر کرکے جو لوگ اِس نتیجے پر پہنچ جاتے تھے کہ اِس کائنات کا خالق، مالک پَروردگار، حاکم و فرماں روا صرف ایک خدا ہے اور یہ کہ اِس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی بھی ضرور ہونی چاہیے جس میں انسان اپنے خدا کو اپنے اعمال کا حساب دے اور اپنے کیے کی جزا اور سزا پائے۔ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو اپنی پیغمبری کے لیے منتخب کرتا تھا۔ یعنی یہ اپنے زمانے کے ذہین ترین لوگ ہوتے تھے جو اس کائنات اور اپنے وجود کے بارے میں علمی انداز سے غوروفکر کر کے خدا اور آخرت کے بارے میں علم الیقین حاصل کر لیتے تھے۔ اللہ اُن کو منصبِ نبوت عطا کرتے وقت عین الیقین اور حق الیقین عطا کرتا تھا۔ سورۃ ہود آیت نمبر 29, 28 میں حضرت نوحؑ کا قول نقل ہوا ہے : ’’اس نے کہا ’’اَے برادرانِ قوم، ذرا سوچو تو سہی کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا اور پِھر اُس نے مجھ کو اپنی خاص رحمت سے بھی نوازدیا ، مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہمارے پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا نہ چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سر چپیک دیں؟ یہی بات اس سورۃ کی آیت نمبر 17 میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوائی جا چکی ہے کہ پہلے میں خود زمین و آسمان اور اپنے نفس میں خدا کی نشانیاں دیکھ کر توحید کی حقیقت تک پہنچ چکا تھا، پھر خدا نے اپنی رحمت (یعنی وحی) سے مجھے نوازا اور ان حقیقتوں کا براہِ راست علم مجھے بخش دیا جن پر میرا دل پہلے سے گواہی دے رہا تھا۔‘‘
انبیا کی دوسری خصوصیت، بے غرضی :
حضرت نوحؑ نے مزید کہا : اور اے برادرانِ قوم! میں اس کام پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ کے ذمے ہے۔ یعنی میں ایک بے غرض نصیحت کرنے والا ہوں۔ اَپنے کسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ تمہارے ہی بھلے کے لیے یہ ساری مشقتیں اور تکلیفیں برداشت کر رہا ہوں۔ تم کسی ایسے ذاتی مفاد کی نشان دہی نہیں کر سکتے جو اس امرِ حق کی دعوت دینے میں اور اس کے لیے جان توڑ محنتیں کرنے اور مصیبتیں جھیلنے میں میرے پیش نظر ہو۔ قرآن مجید میں حضرت نوحؑ کے علاوہ بھی جن اَنبیاء4 انبیا علیہِم السلام کے قصے آئے ہیں اُن میں ہم دیکھتے ہیں کہ نبیؑ اُٹھ کر اپنی قوم سے کہتا ہے کہ میں تم سے کوئی اَجر نہیں مانگتا، میرا اَجر تو اللہ رب العَالمین کے ذمے ہے۔ سورہ یٰسین میں نبیؑ کی صداقت جانچنے کا معیار یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی دعوت میں بے غرض ہوتا ہے۔ (آیت 21) خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان سے قرآنِ پاک میں بار بار یہ کہلوایا گیا ہے کہ میں تم سے کسی اَجر کا طالب نہیں ہوں (الانعام 90۔یوسف 104۔المومنون 72۔ الفرقان 57۔ سبا 47۔ ص 82۔ الطور 40۔ القلم 46) حضرت محمد مصطفیؐ کی زندگی ہمارے سامنے ہے کوئی شخص ایمان داری کے ساتھ یہ الزام نہ پہلے لگا سکا تھا نہ آج لگا سکتا ہے کہ آپؐ نے سار ی محنت اِس لیے کی کہ کوئی ذاتی غرض آپؐ کے پیش نظر تھی۔ نبوت سے پہلے اچھی خاصی تجارت چمک رہی تھی، مِلک التّجار کہلاتے تھے، اَ ب افلاس میں مبتلا ہو گئے۔ قوم میں عزت کے ساتھ دیکھے جاتے تھے‘ ہر شخص ہاتھوں ہاتھ لیتا تھا‘ اب وہی برا بھلا کہتے ہیں، راہ میں کانٹے بچھاتے ہیں اور پتھر مارتے ہیں یہاں تک کہ جان کے دشمن بن گئے ہیں۔ چین سے اپنے بیوی بچوں میں ہنسی خوشی دن گزار رہے تھے اب ایک ایسی سخت کشمکش میں پڑ گئے ہیں جو کسی دم قرار نہیں لینے دیتی۔ اِس پر مزید یہ کہ بات وہ لے کر اٹھے ہیں جس کی بدولت سارا ملک دشمن ہو گیا ہے یہاں تک کہ خود اپنے ہی بھائی بند خون کے پیاسے ہو رہے ہیں۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک خود غرض آدمی کے کرنے کا کام ہے؟ خود غرض ہوتے تو اپنی قوم اور قبیلے کے تعصبات کا عَلم اٹھا کر اپنی قابلیت اور جوڑ توڑ سے سرداری حاصل کرنے کی کوشش کرتے لیکن آپؐ تو وہ دعوت لے کر اٹھے جو تمام قومی تعصبات کے خلاف ایک چیلنج تھی، اِس دعوت نے اُس چیز کی جڑ ہی کاٹ دی جس پر مشرکینِ عرب میں آپؐ کے قبیلے کی چودھراہٹ قائم تھی۔ یہ وہ دلیل ہے جس کو قرآن میں نہ صرف نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بلکہ بالعموم تمام انبیاء علیہم السلام کی صداقت کے ثبوت میں بار بار پیش کیا گیا ہے۔
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے :
اب پیغمبری کا سلسلہ بند ہو چکا ہے لیکن قرآن مجید اور سنتِ رسولؐ موجود ہے اور دعوت کا کام باقی ہے لیکن اِس دعوت کو لے کر اُٹھنے کے لیے صرف پیدائشی مسلمان ہونا کافی نہیں اُسے شعوری طور پر ایمان لانا اور سب کے سامنے اس کا اعلان کرنا ہوگا اور یہ ایمان اُس کے دل کی پکار ہو۔ دوسرے لفظوں میں جو لوگ انبیاؑ کے طریقے پر دعوت کا کام کرنا چاہتے ہیں اُن میں آغاز سے پہلے دو صفات کا ہو نا لازمی ہے ، ایک یہ کہ اُنہیں اللہ کی وحدانیت پر کامِل یقین اور یک سوئی حاصل ہو، پھر جسے اللہ پر یقینِ کامل ہو گا‘ اُس کا ہر عمل آخرت کی جواب دہی کے اِحساس کے ساتھ ہو گا اور یہ چیز چھپنے والی نہیں بلکہ آدمی کے ہر عمل سے ظاہر ہونے والی ہے اور اِسے جانچنے کا پیمانہ آدمی کے اقوال و اعمال ہیں۔ دوسری چیز یہ کہ اُس کا عمل بے غرض ہوگا، کسی دنیوی مفاد کا حصول اُس کے پیش نظر نہ ہو گا۔
ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے
پھونک ڈالے یہ زمین وآسمانِ مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے
اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کا صحیح فہم بخشے اور اس فہم کے مطابق دین کے سارے تقاضے اور مطالبے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘آمین ۔ وآخر دعوانا انالحمد وﷲ رب العالمین۔
تفصیلات کے لیے دیکھیے (( ماخوذ ازسورۃ ہود‘ حاشیہ35:34سورۃ المومنون 70سورۃ الشورٰی :41)

حصہ