کس کے بند ے بنو گے ؟نام نہیں لکھا

196

آخر کیا چیز ہے جس کے انعام میں جنت رکھی گئی، اور جنت بھی ایسی جہاں محض چند لاکھ مربع میٹر پر تعمیر کیے گئے بنگلوں کی جگہ نہیں بلکہ اتنی لامحدود جگہ کہ آپ برسوں گھومتے رہیں اور جنت کی سیر مکمل نہ کرسکیں۔ جہاں نوکر آپ کی خدمت کے لیے قطار در قطار کھڑے ہوں، جہاں صبح و شام عمدہ، نفیس اور لذیذ ترین کھانے آپ کے لیے سجائے جاتے ہوں، جہاں آپ کا نصیب ہو تو حوریں بھی آپ کے لیے میسر ہوں، جہاں آپ کی فیملی خواتین و مرد سب کے لیے نہایت مہنگے ترین لباس ہوں جیسے ہم اس دنیا میں کسی بادشاہ یا شہزادی کو زیب تن کیے دیکھ سکتے ہیں، جہاں برتن سونے چاندی کے ہوں، جہاں خواتین ہی نہیں مردوں کے لیے بھی سونا، چاندی، یاقوت، مرجان سب میسر ہو۔ جو دل چاہے وہ پلک جھپکتے آپ کے سامنے پیش ہو۔ نہ کوئی محنت نہ تھکن۔ تو آخر کیا وجہ ہے کہ وہ دعوت پانچ بار آپ کی سماعت سے گزرتی ہوئی آگے چلی جاتی ہے، اور آپ اس کی طرف توجہ مبذول نہیں کرپاتے! اور دنیا کے ایک ٹائم کا سچ آپ کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ تو وجہ اس کے سوا اور کوئی نہیں کہ یہاں کی دعوت پر کوئی رکاوٹ درمیان میں نہیں ہے، اور اس جنت کی کنجی والی دعوت پر آپ کا ازلی دشمن رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ ابھی یہ کام ہے، ابھی وہ کام ہے، ابھی جاتا ہوں، یہ کرلوں وہ کرلوں، وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح آپ کسی اذان پر لبیک نہیں کہہ پاتے، کیوں کہ آپ کا دشمن تو آپ کو جنت سے نکلوانے کا وعدہ کرکے آیا ہے کہ بہکاؤں گا، ورغلاؤں گا، دنیا کی خواہشوں میں لگاکر جنت کے راستے سے روکوں گا۔ مگر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو اللہ کے نیک اور فرماں بردار بندے ہیں، اُن پر شیطان کا زور نہیں چل سکے گا۔ تو شیطان آپ کو اور مجھے بہکاتا ہے تاکہ ہم جنت کے راستے پر نہ جاسکیں، کیوں کہ جب ہم نماز کی طرف جائیں گے تو دراصل اللہ کی یاد کی طرف جائیں گے، کیوں کہ نماز اللہ کی یاد ہے، ظاہر ہے اس کی یاد ہی دل میں ہوتی ہے، اسے ہی ہم یاد کرتے، اس کا ذکر کرتے اور اس کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں۔ اس کی یاد دل میں بسے گی تو ہم اسی سے محبت کریں گے، اسی کی بات مانیں گے، اسی کی مرضی سے چلنے لگیں گے۔ ہمیں قرار ہی اس کی بارگاہ، اس کی یاد سے ملے گا، اس کی رضا والے کام کرنے میں ملے گا، اس کی ناراضی سے بچنے لگیں گے۔ اور جب سب ہی نماز پڑھیں گے تو شیطان کو تو اپنا منہ ہی لٹکا دکھائی دے گا کہ کوئی اس کے بہکاوے میں آہی نہیں رہا۔ کوئی اس کی مرضی پوری کر ہی نہیں رہا۔ آپ تو اُس کی مرضی پوری کرنے میں لگ جائیں گے جس نے آپ کو پیدا کیا، زندگی دی، وسائل دیے اور پھر ہمیشہ کے لیے رہنے والی جنت بنائی کہ جب اس کے فرماں بردار بندے اس کی طرف لوٹ کر آئیں، یعنی موت کے بعد، تو انہیں ہمیشہ رہنے والی جنت دوں کہ جس کا منظر کبھی کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا، کسی دل میں اس کا خیال تک نہ گزرا۔ اِس حیران کن دنیا کے حسین مقامات کو ہی دیکھ لیں، پھر وہ حسین جنت کیسی ہوگی جس کو آپ سوچ بھی نہیں سکتے، اس کی کنجی یعنی چابی آپ کو ملے گی، ان شاء اللہ نماز ہی کے ذریعے ملے گی کہ نماز جنت کی کنجی ہے۔ سوچیں، اگر چابی خراب ہو تو آپ تالا کھول سکتے ہیں؟ پھر ہمیں نہ صرف یہ کہ نمازوں کی پابندی کرنا ہے بلکہ انہیں بہتر سے بہتر بھی کرنے کی کوشش میں لگنا ہے، کہ کوشش و سعی ہی وہاں آخرت میں قابل قدر ٹھیرے گی کہ کس نے یہاں کے لیے، یہاں کے انعام کے لیے کوششیں کیں۔۔۔جیسے ایک فرماں بردار غلام کرتا ہے، آپ اس غلام کو کیسا کہیں گے جو ہاتھ باندھے صرف کھڑا ہی رہے، آپ کہیں پانی لاؤ، تو ہاتھ باندھے کھڑا رہے، کھانا منگوائیں تو کھڑا رہے، ہر کام میں ایسا ہی کرے۔ تو پھر ہمیں تو اپنے رب کا فرماں بردار غلام بننا ہے، ان شاء اللہ۔۔۔ وہ حکم دے والدین کا ادب کرو تو کرنا ہے، نیکیاں پھیلانی ہیں، معاشرے میں، اکیلے بھی اور جماعت بن کر بھی معاشرے کا کام کرنا ہے، برائیاں مٹانی ہیں، روکنی ہیں، یہ بھی کرنا ہے کہ سود کا نظام مٹ جائے۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ ہو۔ ربّ کی مرضی ہے ہم یہ کام کریں، اور وہ اس لیے ہم سے کروانا چاہتا ہے کہ ہمیں اس نے بنایا ہی خلیفہ ہے اس دنیا میں کہ ہماری حیثیت، پوزیشن ہی یہی ہے، جو ہمیں قرآن نے بتائی ہے۔ جس طرح ساری مخلوق اپنے فرائض ادا کررہی ہے۔ سورج، چاند کا کام روشنی پھیلانا ہے تو وہ اسی کام پرعمل پیرا ہیں، چرند پرند، انسان، جنات، سب اپنی حیثیت میں اپنا کام کررہے ہیں۔ ہماری حیثیت نائب خلیفۂ زمین کی ہے تو ہمیں اپنا کام کرنا ہے، چاہے کسی کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ جس کے پاس جانا ہے، جس سے جنت لینی ہے، جو ہمیں جہنم سے بچا سکتا ہے، اُس کی مرضی یہی ہے۔ اور نماز ہمیں وہ سب کام کرنے کی ترغیب بھی دیتی ہے اور وہ بھی ربّ کے حکم پر لبیک کہہ کر ملے گی۔ تبھی ہم حقیقت میں فرماں بردار غلام ہوں گے جیسا کہ ہمیں سورہ بقرہ میں مخاطب کیا گیا ہے جس کا مفہوم ہے:
’’فرماں بردار غلام کس طرح کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘
اب آپ ہی بتائیں جب یہ سب کام، اور ہر کام ہی ربّ کی رضا کا ہو اور اس کی رضا کے مطابق ہو تو آپ بھی فرماں بردار غلام ہی ہوئے ناں۔۔۔ یا وہ والے غلام جو ہاتھ باندھے کھڑا ہی رہے، کرے کچھ نہیں۔۔۔؟ درحقیقت شیطان تمہیں اس راستے سے بچانے میں اپنی ساری کوششیں صرف کرتا ہے، اس لیے ورغلاتا ہے، مگر تمہیں، ہمیں اپنے ربّ کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے حاضر ہونا ہے، ہر بار نماز کے لیے دوڑنا ہے کہ وہ خزانے کی چابی ہے، آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ مومن کے بارے میں سید مودودیؒ نے کیا خوب کہا ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ نماز پڑھتا ہو مگر مومن نہ ہو، مگر ایسا نہیں ہوسکتا کہ مومن ہو اور نماز نہ پڑھے۔ اللہ مجھے اور آپ کو ایسا سچا مومن بندہ بنائے، جس کے لیے جنت کے وعدے اور ربّ کی رضا ہے، اور جس راستے پر چلنے کی دعا ہر نماز میں ہم سورہ فاتحہ میں مانگتے ہیں کہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن سے تُو خوش ہو اور جن کے لیے انعامات ہیں۔ اور اُن لوگوں کے راستے سے بچا، جن پر تیرا غضب ہوگا اور جو تیرے عذاب کے مستحق ہوں گے۔۔۔
اللہ پاک ہم سب کو ایسے لوگوں سے بچائے اور اُن لوگوں میں شامل فرمائے، جن سے وہ راضی اور جن کے لیے انعام، اور جو اس کے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے والے ہوں۔ اور ایسے لوگوں سے بچائے جو اس کے نافرمان لوگ ہیں، سورہ مدثر میں دوزخی لوگوں کی تین صفات بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کہیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے۔ اللہ پاک مجھے اور آپ کو توبہ کرنے والا بنائے کہ وہ بخشنے والا، مہربان ہے اور ہمیں نماز قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور وہ انجام عطا فرمائے کہ موت کے بعد جب اس کے دربار میں حاضر ہوں تو وہ ہم سے خوش اور جنت کی خوش خبری سناکر جنت کی چابی ہمارے حوالے کردے!!

حصہ