بانو علی

136

کاغذ کی یہ مہک ، یہ نشہ ٹوٹنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی
سماجی رابطوں کی کسی سائٹ پر آپ آج بھی دورہ کر رہے ہوں تو آپ کی وال پرمرحوم اشفاق احمد اور بانوقدسیہ کے اقوال و تحاریر کی خوبصورت پوسٹیں نظر سے ضرور گزر جائیں گی۔اللہ پاک سے دعاہے کہ دونوں مرحومین کی مغفرت فرمائے اور بلند درجات نصیب فرمائے۔بانوقدسیہ اور اشفاق احمد کو ہم نے اپنے بچپن سے ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی پھر ایس ٹی این کے زمانے سے جانا جہاں کم و بیش نصف صدی تک اِن کی جوڑی کا شہرہ رہا ۔اردو ادب سے متعلق اِن کی اس جوڑی نے بلاشبہ اردو ادب پر اَن مِٹ نقوش چھوڑے ہیں ایک پوری نسل نے ان سے بہت کچھ سیکھا اور تربیت پائی ہے ۔کہنے کو تو یہ دونوں ہستیاں سوشل میڈیا کے زمانے سے قبل کی ہی شمار کی جائیں گی مگر فی زمانہ ایسا ہے نہیں۔ٹیکنا لوجی اور جدید ذرائع ابلاغ میں بھی بانوقدسیہ اور اشفاق احمد کی بھر پور رسائی اُن کے غیر معمولی ادب اور اُس کے اثرات کی بدولت نظر آتی ہے ۔بانو قدسیہ کے نام سے فیس بک پر تین مختلف پیجز موجود ہیں جنہیں اُن کے چاہنے والے چلا رہے ہیں ۔ ان میں سب سے زیادہ مقبول ایک ہی پیج نظر آیا،جسے ہم آفیشل کا درجہ ان معنوں میں دے سکتے ہیں کہ اُس پیج پر سب سے زیادہ عوامی رجوع نظر آیا۔بانو قدسیہ کے مذکورہ فیس بک پیج پر اُن کے مداحوں کی ایک قابل ذکر تعداد اس وقت 252,943لائکس(پسندیدگی)کی شکل میں موجود ہے جبکہ دیگر پیجز پر 4000اور 3000کے قریب لائکس ہیں۔
اس پیج کی آخری پوسٹ میں چند دن قبل 10مارچ کو بانوقدسیہ کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس کا دعوت نامہ ،اُن کے چہلم کی پوسٹ اور نماز جنازہ کی اطلاع موجود ہے۔نیچے اُن کے چاہنے والوں کے غم سے بھرے تاثرات اور دعائیہ کلمات کی قطار ہے۔فیس بک اور سوشل میڈیا نے زبان پر جو اثرات ڈالے اُس میں ہمارے بیان (تحریر) کو بھی خوب نچوڑا ہے۔ اب کسی کے انتقال پر جو فی زمانہ انگریزی حروف تہجی کے حروف جمع کیے گئے ہیں وہ ہیں RIPیعنی Rest in Peace۔ہم اس کے لفظی ترجمے اور گہرائی میں جائے بغیر فیس بک کی زبان میں اسے مرحوم کے لیے ایک دعا کہہ سکتے ہیں ۔
اسلیے RIPBanoQudsiaجہاں دیکھیں سمجھ جائیں کہ کہنے والا کیا کہنا چا ہ رہا تھا ۔ میں کبھی مرحومہ سے ملاقات تو نہیں کرسکا ، بس اُن بے شمار قارئین میں سے ایک قاری ہوں لیکن سوشل میڈیا کی بدولت اُن کے متعلق بہت کچھ جاننے کو ملا۔ہمارے دوست سہیل قیصر نے ایسے ہی ایک کمنٹ میں اُن کی شخصیت کا نقشہ ایسا بیان کیا کہ ’’ شرافت سے سرشار چہرہ، سراپا انکساری و عاجزی، سادگی و شفقت کا پیکر ، گفتگو ایسی کہ احساس ہی نہ ہو کہ کب کتنا وقت گزر گیا ، رہنمائی کریں تو زندگی کے اسرار و رموز کھول کر رکھ دیں، ایسی تھیں ہماری بانو آپا۔ بانو آپا کہتی تھیں کہ صرف با ادب ہی بانصیب ہو سکتا ہے ۔‘‘
بانو قدسیہ کے انتقال پر علم، ادب، سیاست، سماجیات ، صحافت ، نوجوان و زندگی کے تمام طبقات نے اپنے غموں بھرے تاثرات اور مرحومہ کی علمی و ادبی خدمات پر بھرپور احساسات پیش کیے (قطع نظر اس بات کہ اُنہوں نے کبھی مرحومہ کے ادب کو کسی حد تک پڑھا یاپھر صرف سُنا )۔ معروف ڈرامہ نگار ، ادیب ، شاعر افتخاراحمد عثمانی ( عفی)نے جو بانو آپا اور اشفاق احمد سے بہت قربت رکھتے تھے اُنہوں نے مرحومہ کے رسم قل کے موقع پر سوشل میڈیا ( فیس بک)کے ذریعہ پوری دنیا میں اُ ن کے چاہنے والوں سے جوڑا ۔
مرحومہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لاہور میں اُن کے گھر داستان سرائے کے باہر جہاں کے دروازے ہمیشہ لوگوں کے لیے کھلے رہتے تھے وہاں بے شمار مداحوں اور عقیدت مندوں نے جس طرح سے اُن کے لیے اپنے تاثرات اور پیغامات چھوڑے اُن سے ہمیں بہت اچھی طرح آگاہ کیا۔افتخار نے فیس بک پیغام میں تمام لوگوں کو بانو قدسیہ آپا کے درجات کی بلندی کی دعا کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہاکہ ’’یہ وہ لوگ ہیں جو مشعل راہ ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جو محبت کرنا سکھاتے رہے ،یہ وہ ہیں جنہوں نے نہ صرف حضرت انسان کی خدمت کی بلکہ ہماری نسلوں کے لیے اپنی کتب کی صورت بھی خزانہ چھوڑا ۔‘‘ معروف شاعر امجد اسلام امجد نے بانو آپا کے گھر میں منعقدہ قرآن خوانی کے موقع پر اپنے احساسات بیان کرتے ہوئے کہاکہ ’’ بانو آپا میری بڑی بہن کی طرح تھیں۔میں نے اُن سے بہت کچھ سیکھا ۔اُن کی صوفیانہ گفتگو اُن کے عمل سے ظاہر ہوتی تھی ‘‘۔معروف شاعر فیض احمد فیض کے نواسے اور اداکار عدیل ہاشمی نے اپنے تاثرات یوں تحریر کیے ’’پہلے بھی غریب تھے آج آپ کے جانے کے بعد مزید غریب ہو گئے ۔اللہ مغفرت کرے اور ہم سب کو صبر دے۔‘‘پاکستان کے معروف کرنٹ افیئر شوز کے اینکرز ڈاکٹر شاہد مسعود، حامد میر، وسیم بادامی ، کامران شاہد نے (مشترکہ طور پر )اپنے تاثرات کا اظہار کیا کہ ’’پیاری ماں جی، بانوقدسیہ،پاکستان آپ کا احسان مند رہے گا۔آپ کی فکر ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔‘‘اداکار فیصل قریشی نے اپنی وال پر بانو صاحبہ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے تحریر کیا کہ’’بانو صاحبہ گزر گئیں، پاکستان نے ایک عظیم لکھاری کھو دیا، دعا ہے کہ اُن کی روح کوسکونپہنچے۔آمین‘‘
جماعت اسلامی پاکستان کے آفیشل فیس بک پیج پر بھی امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اور جنرل سیکریٹری لیاقت بلوچ کی جانب سے بھی مرحومہ کے انتقال پر گہرے دکھ ، دعائے مغفرت اورادبی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان و رہنما تحریک انصاف عمران خان نے بھی بانو آپا کے لیے ٹوئیٹر پر اپنے اکاؤنٹ میں تحریر کیا ہے کہ
Saddened by the passing of a literary legend: Mohtarma Bano Qudsia.
سابق سینیٹر و معروف قانون دان بابر اعوان نے بھی ٹوئیٹ میں تحریر کیا ہے کہ
Banu Qudsia,2nd pearl lost after her spouse, Ashfaq Ahmad.Both will be remembered always.
پاکستان ٹیلی وژن کی میزبان نازیہ ملک نے اپنی فیس بک وال پر مرحومہ کے لیے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تحریر کیا کہ
Biggest loss. But your words will be saved forever like treasure and your words will always give new strength to every new generation.
پاکستان میں معروف اینکر و تجزیہ کار سید طلعت حسین نے ٹوئیٹ میں تحریر کیا کہ
We lose a giant of a writer. So long #BanoQudsia
سینیٹر سسی پلیجو نے بھی بانو آپا کے انتقال پراپنے تاثرات یوں رقم کیے کہ
Her novels touched our hearts she inspired generations.
کراچی کے میئر وسیم اختر نے بھی اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اپنے آفیشل ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر مرحومہ کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے تحریر کیا
Deeply saddened to hear about the sad demise of Legend #BanoQudsia, her valuable contribution for Urdu literature will be remembered forever.
لاہور سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی نامور گلوکارہ فریحہ پرویز نے بھی تحریر کیا کہ
Saddened by the demise of Bano Qudsia sahiba. We lost yet another gem. May Allah bless her soul and give patience to her family. Aameen!
اس کے علاوہ مدثر عاقل چیف ایگزیکٹیو فنکا مائیکرو فائنانس بینک، معروف فوٹو گرافر ، آرٹسٹ مبین انصاری ، ریڈیو کمنٹیٹر ہارون جاوید سمیت بے شمار احباب نے سوشل میڈیا پر جس طرح مرحومہ کے لیے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کیا وہ اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ بانو آپا نے اپنے جانے کے بعد بھی نسل کی تربیت کا پورا سامان رکھ چھوڑا ہے۔
سوشل میڈیا پر بانو آپا کے حوالے سے کچھ احباب کے تاثرات :بانو قدسیہ آپا دنیائے ادب کا ایک روشن ستارہ ہیں. ان کی ادبی خدمات بھلانا ناممکن ہے. ان کا شہرہ آفاق ناول ‘‘راجہ گدھ’’ انسانی نفسیات پر بہت گہرا مطالعہ پیش کرتا ہے. اللہ ان کی ادبی خدمات سے سب کو مستفید ہونے کی توفیق عطا فر مائیں۔)آمین (ہمارے ایک دوست شیراز بھٹی نے تاثرات میں تحریر کیا کہ ’’نہایت افسوس ہوا آج داستان سرائے کا دوسرا مکین بھی اللہ کو پیارا ہو گیا۔بابا جی اشفاق احمد کی رحلت کے بعد پیدا ہونے والا خلاءآج تک پورا نہیں ہوا تھا کہ آج بانو آپا بھی اللہ کے پاس چلی گیءں۔اردو ادب کا تو بہت بڑا نقصان ہوا ہی ہے اسکے علاوہ پاکستان کا بھی بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔اللہ پاک بانو آپا کو جنت نصیب فرمائے۔آمین‘‘
یہ اور اس جیسے بے شمار تاثرات پر مبنی پوسٹوں کا سلسہ اُن کے انتقال کے موقع پر بھی میری فیس بک وال اور ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر نظروں سے گزرتے رہے۔اردو زبان سے دلچسپی رکھنے والا اور اردو ادب کو پڑھنے والا کون ہوگا جو بانو قدسیہ کے نام سے واقف نہ ہو.اپنی زندگی کی پانچ دہائیاں انہوں نے اردو ادب کے نام کی ہیں. بانو قدسیہ اردو و پنجابی ادب کا ایساچمکتا ستارہ ہے جو نئے لکھنے والوں کے لئے روشنی دکھانے کا سبب بن سکتی ہیں یہی وجہ ہے کہ سی ایس ایس کے سلیبس میں ان کا ناول راجہ گدھ شامل ہے اگر یہ کہا جائے کہ وہ ایک انسٹیٹیوٹ کی حیثیت رکھتی ہیں تو غلط نہ ہو گا۔آخر میں مرحومہ کے لیے خراج عقیدت پر مبنی اس سے بہتر الفاظ مجھے نہیں مل سکے اس لیے اوریا مقبول جان کے ان الفاظ پر مضمون کا اختتام کرتا ہوں۔اردو ادب کی وہ آواز آج ہم سے روٹھ گئی جس کی پہچان اس سیکولرازم اور لبرل ازم کے طوفان میں اللہ کی وحدانیت او ر سید الانبیاء صلی الللہ علیہ وسلم کے عشق سے عبارت تھی۔ ایک باد بان جس کے گرتے ہی لگتا ہے دعاؤں کا سائبان چھن گیا ھو۔چالیس سالوں سے یہ گھر ادب کے ملحدانہ ماحول، سیکولرازم کے طوفان، حقوق نسواں کی نعرہ بازی، فیشن پریڈ اور تماشہ بنائی گئی عورت سے لتھڑے ہوئے میڈیا کے درمیان ایک الگ تھلگ بستی تھا۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کا گھر ایک پورا شہر تھا جس میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، ان سے عشق اور اس کی امت کے صالح چراغوں کی گفتگو گونجتی رہتی تھی۔

حصہ