(یوٹیلیٹی اسٹورز کے آخری دن(زاہدعباس

222

ایک وقت تھا جب گھر کے بڑے آٹے اور چینی کے حصول کے لیے راشن شاپ پر لمبی قطاریں لگایا کرتے۔ ہر علاقے میں ایک یا دو راشن شاپ ہوتے جہاں عوام کا ایک ہجوم لگا رہتا۔ راشن شاپ مالک کا رویہ عوام کے ساتھ بڑا حاکمانہ ہوا کرتا، جس سے ظاہر ہوتا کہ جیسے وہی لوگوں کے رزق کا مالک ہے۔ اُس کے نزدیک لوگوں کی پریشانی کی کوئی اہمیت نہ ہوتی۔ لوگ گھنٹوں دھوپ میں کھڑے ہوکر اپنے گھر کا راشن حاصل کرتے۔ جس نے بھی وہ زمانہ دیکھا ہے، یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ راشن شاپ سے آٹے اور چینی کا حصول آسان کام نہ تھا۔ آٹے اور چینی کی تقسیم ایک فارمولے کے تحت ہوتی جس کے لیے عوام کو راشن کارڈ بنا کر دیے گئے تھے۔ راشن کارڈ میں گھرانے کے افراد کی تعداد کے مطابق اشیا کا کوٹہ درج کیا جاتا۔ جس کا جتنا کوٹہ بنتا اسے اتنا ہی راشن دینا ہوتا۔ قانونی طور پر اس فارمولے کو نافذ کرکے اُس وقت کی حکومتوں نے اپنی جانب سے ایک بڑا کارنامہ کردکھایا۔ یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ راشن کے حصول کے لیے بنائے گئے کوٹے پر شاید ہی کبھی عمل کیا گیا ہو۔ لوگوں کو دی جانے والی چینی میں تقریباً ہر مرتبہ ہی کٹوتی ہوا کرتی۔ اس طرح عوام کو دی جانے والی چینی مہنگے داموں مٹھائی فروشوں کو دے دی جاتی۔ کئی راشن شاپ مالک تو عوام کو ان کے حصے میں آئی چینی تک بلیک میں فروخت کرتے۔ یہ کالا دھندا زیادہ تر کسی تہوار کی آمد پر بڑے زور شور سے کیا جاتا۔ آٹے کے نام پر انتہائی ناقص گندم عوام کو دی جاتی۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق عوام اُس وقت غیر معیاری آٹا مجبوراً کھاتے رہے۔ اس نظام کے تحت عوام کو کچھ ملا ہو یا نہ ملا ہو لیکن ملک میں راشن شاپ مالکان نے وہ لوٹ مار مچائی جسے سوچ کر آج بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ یہ بات مجھے اب بھی یاد ہے کہ جب بھی کوئی تہوار آتا تو ابو جان بجائے گھر میں رہنے کے راشن کی لائن میں کھڑے ہوتے۔ تہواروں پر اشیاء کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا۔
حکومتیں بدلیں، حالات بدلے۔۔۔ یہ الگ بحث ہے کہ حکومتیں کس طرح تبدیل ہوئیں۔ یہاں میرا نکتہ سیاسی نہیں بلکہ اشیائے خورو نوش کا حصول ہے، اس لیے میں اپنی ساری توجہ عوام کے اس مسئلے پر ہی رکھنا چاہتا ہوں۔ حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی عوام کو آٹا اور چینی بازاروں سے ملنے لگا، اس طرح عوام نے سکھ کا سانس لیا اور لمبی قطاروں سے بھی چھٹکارا مل گیا۔ کسی بھی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرے، خاص کر معیاری اشیاء کی فراہمی حکومت کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔ اوپن مارکیٹ سے آٹے اور چینی کا آسانی سے مل جانا ہی اُس وقت عوام کے لیے نئی حکومت کا ایک بڑا کارنامہ تھا جسے عوام نے پسند کیا۔ بلکہ حکومتی فیصلے کے بعد ان چیزوں کا مارکیٹ سے ضرورت کے مطابق مل جانا بڑی تبدیلی سمجھا جانے لگا۔ اس طرح عوام کو اس جاگیردار سے نجات بھی مل گئی جو راشن شاپ مالک کی صورت عوام کے رزق پر قبضہ کیے بیٹھا تھا۔ اس طرح خوراک کی تقسیم کا یہ فارمولہ بری طرح ناکام ہوگیا۔ کمیونزم کے نظریات کے مطابق بنائے گئے فارمولے کی ناکامی کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت لوگوں کو معیاری اشیاء فراہم کرتی۔ اس کے برعکس عوام کو دکانداروں کے حوالے کردیا گیا۔ اُس وقت عوام نے حکومتی اقدام کو محض اس لیے پسند کیا کہ وہ راشن شاپ مالکان اور حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا تھے۔ راشن شاپ کا ختم ہونا اسی ہی سراہا گیا، نہ کہ اس لیے کہ عوام کو دکانداروں کے حوالے کردیا جائے۔ لوگوں کی ضروریاتِ زندگی کا سامان مارکیٹ سے مل جانے کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت کا اب کوئی کام باقی نہیں، بلکہ ملک میں سستی اور معیاری چیزوں کی فراہمی کی ذمہ دار حکومت ہی ہوا کرتی ہے۔
خیر، وقت گزرتا گیا۔ ملک میں یوٹیلٹی اسٹور متعارف کروا دیے گئے۔ یوٹیلٹی اسٹور بنانے کا واحد مقصد یہ تھا کہ مارکیٹوں میں بڑھتی مہنگائی کے مقابلے میں عوام کو یہاں سے سستی چیزیں دستیاب ہوں تاکہ انہیں تھوڑا سا ریلیف مل سکے۔ شروع شروع میں یوٹیلٹی اسٹورز پر بے شک عوام کو حکومت کی طرف سے دی جانے والے سبسڈی کے فوائد ملتے رہے اور بازار کی نسبت ان اسٹورز پر قیمتوں میں خاصا فرق ہوتا۔ حکومتیں آتی جاتی رہیں، ہر آنے والی حکومت اپنی پالیسی کے مطابق غریبوں کے لیے بنائے گئے یوٹیلٹی اسٹورز کو چلاتی رہی۔ پھر آہستہ آہستہ یہاں سے قیمتوں میں ملنے والا ریلیف ختم ہونے لگا۔ چیزیں غیر معیاری اور زیادہ تر سامان انتہائی ناقص ملنے لگا۔ ایک یا دو چیزوں کی قیمتیں بازار سے کم تھیں تو یہ فرق بھی وقت کے ساتھ ساتھ ایسا ختم ہوا کہ آج مارکیٹ کے مقابلے میں یوٹیلٹی اسٹورز پر چیزیں زیادہ مہنگی اور غیر معیاری فروخت ہورہی ہیں۔ حکومتی عدم توجہ کے باعث ہر آنے والے دن کے ساتھ یہ در بھی بند ہوتا دکھائی دینے لگا ہے۔
پاکستان میں بنائے گئے سپر اسٹورز پر اچھے چاول اور معیاری اشیاء کا کم قیمت پر فروخت ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انسان سوچنے پر مجبور ہے کہ نجی سپر اسٹورز پر روزمرہ ضروریات کا سامان مارکیٹ ریٹ سے کم فروخت ہوسکتا ہے تو یوٹیلٹی اسٹورز پر اس کی فروخت میں کون سی دیوار حائل ہے؟ ملک بھر میں نجی سپر اسٹورز پر لوگوں کی بڑھتی تعداد بتاتی ہے کہ یہ اسٹورز عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف تو دیتے ہوں گے جس کی بنا پر لوگوں کا ہجوم وہاں جانے پر مجبور ہے۔ میں نے اسی سلسلے میں جب یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی جانب سے بنائے گئے ویئرہاؤس کی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو ایک عجیب صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ انتظامیہ کے ایک افسر نے مجھے اپنا نام صیغۂ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا کہ جس دوران حکومت سبسڈی دیا کرتی تھی تو روزمرہ استعمال کی اشیاء پر کافی ریلیف ملتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ جب چیزیں مارکیٹ ریٹ سے کم ہوتی تھیں تو ہمارے افسران یوٹیلٹی اسٹورز کا سامان بازاروں میں سپلائی کردیا کرتے تھے اور عوام کو ان کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ آئے دن سامان ختم ہوجاتا۔ اب جبکہ حکومت نے سبسڈی ختم کردی ہے تو چیزیں تو مل جاتی ہیں لیکن بازار سے زیادہ مہنگی ملتی ہیں، ہم مجبور ہیں، حکومت کی طرف سے دی جانے والی پرائس لسٹ کے مطابق ہی سامان دے سکتے ہیں۔ کم کس طرح کریں! اگر کسی چیز کو سستا کریں تو حکومت کو اپنی جیب سے پیسے ادا کرنے پڑیں گے۔ بازاروں میں سستی چیزیں ہیں تو یہاں کوئی کیوں خریداری کرے گا! اور دوسری وجہ یہ کہ زیادہ تر چیزیں غیر معیاری ہیں۔۔۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ نجی سپر اسٹورز، کمپنیوں سے سبسڈی لیتے ہیں، زیادہ سامان فروخت کرنے پر اسکیم کے تحت فوائد حاصل کرتے ہیں، کسی بھی کمپنی کو اپنا مال فروخت کرنے کے لیے بڑے گروپس کی ضرورت ہوتی ہے، اس کا ہی فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ سپر اسٹور مالکان کمپنیوں سے قیمتوں میں ریلیف حاصل کرلیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہاں سستی چیزیں ملتی ہیں، ہمارے وزیروں کو اتنی فرصت کہاں کہ وہ عوام کے لیے کمپنیوں سے بات کریں، ان کا تو کام صرف لیٹر نکالنا ہوتا ہے، انہیں مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کی کیا خبر! اُس نے جو باتیں بتائیں ان کے ثبوت کے لیے وہ مجھے مارکیٹ ریٹ اور یوٹیلٹی اسٹور کی ریٹ لسٹ دکھاتا رہا۔ اس کی ایک ایک بات بالکل سچ تھی۔ وہ کر بھی کیا سکتا تھا! حکومتی پالیسیوں پر وہ بہت زیادہ نالاں دکھائی دے رہا تھا۔ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اُس نے مجھے بتایا کہ جب حکمرانوں کی جانب سے کسی محکمے کو نظرانداز کیا جانے لگے تو سمجھ لو کہ ادارے کی بندش کے بارے میں فیصلے کیے جا چکے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے یہ خوف ہے کہ کہیں حکومت یوٹیلٹی اسٹورز ختم نہ کردے، اگر ایسا ہوا تو کئی ہزار گھرانوں کے چولہے ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ اس کی باتیں اپنی جگہ، لیکن ایک بات جو میرے ذہن میں بار بار آتی، وہ یہ کہ ایک عام شخص کاروبار کرتے ہوئے جب گھی، تیل، صابن یا اور دوسری اشیائے ضرورت کے لیے متعلقہ کمپنیوں سے کاروباری ڈیل جس سے عوام کو ریلیف ملے، کرسکتا ہے تو پاکستان میں کاروبار کرنے والی ان کمپنیوں سے غریب عوام کے لیے حکومت کوئی ڈیل کیوں نہیں کرسکتی؟ میرے نزدیک اگر حکمران اس سلسلے میں کوئی پیکیج لینے کی ذرا سی بھی بات کریں تو یقیناًکسی بھی عام کاروباری شخصیت سے زیادہ ریلیف لے سکتے ہیں۔ پھر گھی، تیل و دیگر چیزیں بنانے والوں کی کیا مجال کہ وہ پاکستان میں رہ کر کاروبار کریں اور حکومت کی ناراضی مول لیں۔ خاص کر حکمرانوں کے ساتھ بیٹھے وہ شوگر مل مالکان اور سندھ سے تعلق رکھنے والے سیاستدان و حکمران جن کی درجنوں شوگر ملیں ہیں۔
حکومت کے پاس اتنے زیادہ اختیارات ہونے کے باوجود یوٹیلٹی اسٹورز پر کسی ایک چیز پر بھی عوام کو ریلیف نہ ملنا صاف بتاتا ہے کہ حکمرانوں کے پاس عوام کو دینے کے لیے کچھ نہیں یا وہ دینا نہیں چاہتے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز پر فروخت ہوتی چند چیزیں ایسی بھی تھیں جن پر کمپنی ریٹ کم لکھے ہوئے تھے جبکہ ان اشیاء کی فروخت لکھی ہوئی رقم سے زیادہ پر کی جا رہی تھی۔ اس ساری صورت حال میں کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ مجھے اس ویئر ہاؤس اور ساتھ بنے یوٹیلٹی اسٹور کو دیکھ کر بہت افسوس ہورہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ کروڑوں روپے مالیت کی چیزیں مارکیٹ ریٹ سے زیادہ ہونے کی وجہ سے کیسے فروخت کی جا سکتی ہیں! کسی کو کیا ضرورت جو مہنگی چیزیں خریدے! اگر یہی حالت رہی تو یہ ساری چیزیں خراب ہوکر کچرے کی طرح کسی کوڑے دان کی نذر ہوسکتی ہیں۔ مجھے حکمرانوں کی بنائی گئی پالیسیوں پر بھی غصہ آ رہا تھا جن کی وجہ سے عوام کی ریلیف کے لیے بنائے گئے یوٹیلٹی اسٹور کھنڈر بنتے جا رہے ہیں۔ میں اس کے سوا اور کر بھی کیا سکتا ہوں کہ حکومت سے یہ اپیل کروں کہ خدارا کوئی تو ایسی چیز باقی رہنے دو جس سے غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔ خدا حکمرانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے تاکہ انہیں ملک میں بڑھتی غربت نظر آسکے۔ آخر کب تک حکومتوں کے مزے لوٹتے سیاست دان غریبوں کو ذلیل و رسوا کرتے رہیں گے۔ وہ کون سا دن ہوگا جب یہاں کے حکمران عوام کی دادرسی کریں گے۔ میری حکومت سے اپیل ہے کہ وہ فوری طور پر یوٹیلٹی اسٹورز کی بگڑتی صورت حال کا نوٹس لے اور ایسی پالیساں بنائے جن سے غریب عوام کو روزمرہ استعمال کی چیزیں سستی مل سکیں۔

حصہ