(خلائی سائنس(سید بابر علی

175

* خلا میں کشش ثقل لہروں کی موجودگی:
ہر سال کی طرح اِس سال بھی وطن عزیز کا نام دنیا بھر خصوصاً مغربی ممالک میں دہشت گردی، انتہا پسندی اور سیاسی و اقتصادی بحرانوں کا شکار ریاست کے طور پر لیا جاتا رہا۔ بدعنوان سیاست دانوں کے تاریک چہرے یا دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کے سیاہ عکس ہماری شناخت قرار پائے، لیکن کچھ ایسے تابندہ چہرے بھی ہیں جن کی تابندگی پاکستان کا روشن حوالہ اور ہمارے دمکتے مستقبل کی نوید بنی اور خلائی تحقیق کے بین الاقوامی مشن میں پہلی بار دو پاکستانیوں کے نام ’نرگس ماول والا‘ اور ’عمران خان‘ سنائی دیے۔
11 فروری 2016ء کوکیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور امریکی حکومت کے 620 ملین ڈالر بجٹ کے پروجیکٹ ایڈوانسڈ لیزر انٹرفیرومیٹر گریوی ٹیشنل ویو آبزرویٹری (لیگو) کے سائنس دانوں پر مشتمل ٹیم نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں مشہور سائنس داں آئن اسٹائن کے خلا میں کشش ثقل کی لہروں کی موجودگی کے نظریے کی تصدیق کی۔ اس خبر نے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں سنسنی پھیلادی۔ لیکن اس اہم سائنسی دریافت کا اعلان کرنے والی ٹیم میں دو پاکستانی نژاد سائنس دانوں کی موجودگی نے دنیا بھر میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا۔ پاکستان کی قابلِ فخر بیٹی اور بیٹے نرگس ماول والا اور عمران خان نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے پاکستان کا روشن چہرہ اجاگر کیا۔
خلا میں کشش ثقل کی لہروں کی موجودگی کا اعلان کرنے والی سائنس دانوں کی ٹیم کے مطابق ’’ہم نے بلیک ہولز سے آنے والی اُن ثقلی امواج کو شناخت کرلیا ہے، جن کی موجودگی کا دعویٰ ایک صدی قبل 1915ء میں آئن اسٹائن نے کیا تھا‘‘۔ لیگو کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ خلا میں ثقلی امواج کی موجودگی کی تصدیق گزشتہ سال ستمبر میں ہی ہوگئی تھی، لیکن انہوں نے چھے ماہ تک اس بات کی تصدیق کی اور مکمل مطمئن ہونے کے بعد اس دریافت کا اعلان کیا۔
ان سائنس دانوں کے مطابق کشش ثقل کی یہ لہریں سوا ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود اور جسامت میں سورج سے تیس گنا بڑے دو بلیک ہولز کے درمیان تصادم کی وجہ سے پیدا ہوئی تھیں۔ اس تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لہریں روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہوئی ستمبر 2015ء میں زمین کے پاس سے گزریں۔ اس دریافت کا اعلان واشنگٹن میں Laser Interferometer Gravitational- Wave Observatory (لیگو) نے کیا۔یہ وہ خیال ہے جو ایک صدی قبل یعنی 1915ء میں معروف سائنس داں البرٹ آئن اسٹائن نے پیش کیا تھا، جس کی تصدیق 100 سال بعد اب ہوئی ہے۔
ایک صدی بعد آئن اسٹائن کا خیال درست ثابت ہوگیا۔ فلکیات کے میدان میں اس صدی کی سب سے اہم دریافت کا نظریہ البرٹ آئن اسٹائن نے اپنے عمومی نظریۂ اضافیت میں پیش کیا تھا۔ اس نظریے میں انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ خلا میں رونما ہونے والے طاقت ور تصادم، جیسے بڑے ستاروں یا بلیک ہولز کا ٹکراؤ، کائنات میں بڑے پیمانے پر انتشار کا سبب بنتے ہیں۔ آئن اسٹائن کا خیال تھا کہ اس تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیرمعمولی توانائی لہروں کی شکل میں منتشر ہوکر روشنی کی رفتار سے خلا میں انتشار کا سبب بنے گی، جسے ہم اسپیس ٹائم کہتے ہیں۔ تاہم کمزور ہونے کی وجہ سے اُس وقت اور آج بھی ان ثقلی امواج کو شناخت کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
لیگو کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہم نے ان لہروں کی شناخت کے لیے ایک خصوصی مشین استعمال کی، جو کہ لائٹ اسٹوریج آرم، بیم اسپلیٹر، شیشے اور فوٹو ڈی ٹیکٹر پر مشتمل تھی۔ ہم نے مشین میں ایک لیزر شعاع داخل کی، جس نے اس کی روشنی کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ ان منقسم حصوں نے لیزر شعاع کو چار کلومیٹر لمبی دو ٹیوبز میں منتقل کردیا، جس سے روشنی منعکس ہوکر ہر سرنگ میں چار سو مرتبہ آگے پیچھے ہوکر ڈی ٹیکٹر تک پہنچتی۔ اس طرح ہر شعاع سولہ سو کلومیٹر آنے جانے کا سفر طے کرکے اپنے ماخذ کے قریب اکٹھی ہوئی۔
عام حالات میں روشنی کی یہ لہریں ایک جگہ پر مرتکز ہوکر ایک دوسرے کو مکمل طور پر کاٹ دیتی ہیں اور قریبی ڈی ٹیکٹر میں کسی حرکت کا سگنل نہیں ملتا، مگر کشش ثقل کی لہر پاس سے گزرنے پر ایسا نہیں ہوتا، کیوں کہ اس صورت میں دو شعاعیں ایک ہی زاویے پر اکٹھی نہیں ہوپاتیں، اور ڈی ٹیکٹر سگنل کو پکڑ لیتا ہے۔ امریکی ریاست واشنگٹن اور لوزیانا میں نصب کیے گئے ان ڈی ٹیکٹرز پر ملنے والے سگنلز سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ یہ ثقلی امواج زمین سے آئی ہیں یا خلا سے۔
*خلا سے کچرا ہٹانے کے لیے جاپان کا خلائی مشن
زمین کو بنی نو ع انسانی نے کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کر ہی دیا ہے لیکن خلا کو تسخیر کرنے کی خواہش اور اس دوڑ میں شامل ہونے کی جستجو نے خلا میں بھی کچرے کے ڈھیر لگا دیے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق خلا میں ہونے والے سیٹلائٹ شکن تجربات، راکٹوں کے خالی خول، شیشے کے ٹکڑوں، مُردہ سیٹلائٹ اور رنگ کے ذرات پر مشتمل یہ کچرا تقریباً ایک کروڑ ٹن وزنی ہے۔ خلا میں موجود کوڑا اٹھانے کے لیے جاپان کی ایرواسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی نے تانیگا شیما خلائی مرکز سے 9 دسمبر 2016ء کو ایک خلائی جہاز اسٹورک روانہ کیا۔ اس پراجیکٹ کی سربراہی کرنے والے سائنس داں Koichi Inoue کا کہنا ہے کہ اسٹورک کے ساتھ ایلمونیم اور اسٹیل کے تاروں سے بنا ایک خصوصی سات سو میٹر طویل مقناطیسی آلہ (میگنیٹک ٹیتھر) منسلک کیا گیا ہے جو زمین کے مدار کے گرد موجود کچرے کو سمیٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس جدید مقناطیسی جال کو خلا میں زیرگردش کچرے کی رفتار کو آہستہ کرکے جمع کرنے کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جب کہ روبوٹک آرم کی مدد سے اس جال نما ڈیوائس کو دس ہزار میٹر (32ہزار آٹھ سو فٹ) تک طول دے کر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔ یہ آلہ توانائی خارج کرکے کچرے کا مدار تبدیل کرکے Atmosphere میں پھینک دے گا، جہاں یہ زمین کی سطح سے ٹکرانے سے قبل ہی جل کر خاک ہوجائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت اجرام فلکی میں پرانے سیٹلائٹ کے غیر مستعمل آلات، راکٹ کے ٹکڑے اور دوسرے کچرے پر مشتمل سو ملین ٹکڑے موجود ہیں، جن میں سے بہت سی اشیا 12500میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بہت سی اشیا جسامت میں ایک چھوٹے اسکرو جتنی ہیں لیکن یہ چھوٹا سا ٹکڑا بھی بہت سارے سیٹلائٹس یا خلائی اسٹیشن کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے، اور اس کا بالواسطہ اثر زمین پر ہوگا۔
*پیگی وٹسن خلا میں جانے والی معمر ترین خاتون
امریکی خلاباز پیگی وٹسن نے تیسری بار خلائی سفر پر روانہ ہوکر خلا میں جانے والی معمر ترین خاتون کا اعزاز حاصل کیا۔ 56 سالہ پیگی وٹسن روس کے خلا باز اولیگ نویستکی اور فرانس کے تھامس پکسیل کے ہمراہ 17نومبر 2016ء کو قازقستان کے بیکونر خلائی مرکز سے سویوز نامی روسی خلائی جہاز کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے روانہ ہوئیں۔ دو دن بعد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچنے کے بعد پیگی خلا میں سفر کرنے والی معمر ترین خاتون بن گئی ہیں۔ پیگی کے نام سے شروع ہونے والے اس سفر میں دوسرے امریکی خلابازوں سے زیادہ وقت خلا میں رہ کر اپنے ہی ہم وطن خلانورد جیف ولیم کا ریکارڈ توڑنے کے لیے پُرعزم ہیں۔جیف نے 534دن خلا میں رہ کر یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔Expedition 50/51 میں پیگی وٹسن فروری 2017ء میں اپنا جنم دن بھی خلا میں منائیں گی۔ پیگی وٹسن نے 1996ء سے ناسا سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور ناسا کے متعدد طبی سائنس اور تحقیقاتی منصوبوں پر کام کیا۔ وٹسن نے 2002ء میں خلا کا سفر کرنے والی پہلی خاتون اور 2007ء میں دوسری بار خلا میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
* خلا کی کھوج: دنیا کی سب سے بڑی دوربین
چین نے خلا کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے جنوبی صوبے Guizhou میں دنیا کی سب سے بڑی ریڈیو ٹیلی اسکوپ نصب کی۔ 18کروڑ ڈالر کی لاگت سے بننے والی اس 1650فٹ چوڑی ڈش نما دوربین فاسٹ (فائیو ہنڈرڈ میٹر اپرچر اسفیریکل ٹیلی اسکوپ) کو مکمل کرنے میں 5سال کا عرصہ لگا۔ فاسٹ پورٹو ریکو میں خلائی تحقیق میں استعمال ہونے والی 300 میٹر قطر کی مشاہدہ گاہ سے بھی کہیں زیادہ بڑی ہے۔ فاسٹ کا مقصد کائنات کے ارتقا کے قوانین کو دریافت کرنا ہے۔
*بھارت کا سب سے چھوٹا خلائی شٹل لانچ
سال 2016ء خلائی میدان میں بھارت کے لیے خوش قسمت ثابت ہوا۔ یہ شٹل بھارتی خلائی ادارے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (آئی ایس آر او) کے جنوب مشرقی لانچنگ پیڈ سے 24 مئی 2016ء کو صبح سات بجے لانچ کیا گیا۔ آر ایل وی تیکنیک کے ذریعے لانچ کیے جانے والے بھارت کے اس پہلے خلائی شٹل نے تیرہ منٹ کی کامیاب پرواز کی۔ ایک عام خلائی شٹل کے حجم سے 6 گنا چھوٹا یہ شٹل 70 کلومیٹر اونچائی تک سفر کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
لانچ کیا جانے والا شٹل آر ایل وی (ری یوز ایبل لانچ سسٹم) یعنی قابل تجدید لانچ سسٹم کے تحت لانچ کیا گیا ہے اور جس راکٹ سے اسے لانچ کیا گیا وہ اب بھی دوبارہ قابلِ استعمال ہے۔ اس تیکنیک سے بھارت اپنے خلائی سفر کو آسان اور کم خرچ بنانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ بھارت کے خلائی ادارے کی سربراہ دیوی پرساد کے مطابق اس منصوبے پر صرف 14 ملین ڈالر لاگت آئی ہے جو عام خلائی منصوبوں کے اخراجات کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ واضح رہے کہ اربوں ڈالر کی اسپیس انڈسٹری میں راکٹ بنانا بہت منہگا عمل ہے۔
*انوویٹو پیٹری ڈش
خلانوردوں کے کھانے پینے کی اشیا اور خصوصاً پینے کے صاف پانی کا حصول نہایت کٹھن ہے، خلابازوں کی اسی مشکل کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی خلائی تحقیق کے ادارے ناسا کے سائنس دانوں نے انوویٹو پیٹری ڈش (گول شفاف ڈش جس میں ایک کیمیکل ڈال کر بیکٹریا کی نشوونما چیک کی جاتی ہے) کی ایک سیریز تیار کی، جس سے خلا میں ری سائیکل کیے گئے پانی میں بیکٹیریائی آلودگی کے معائنے اور تجزیے کرنے میں مدد ملے گی۔
اس نئے طریقہ کار کو زمین پر بھی ایسے مضافاتی علاقوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں پینے کے صاف پانی کی فراہمی مشکل ہو۔ نہ صرف یہ بلکہ خلابازوں کے لیے اندرونی ماحول کو صاف اور ہائی جینک رکھنے کے لیے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے کولمبس ماڈیول کے اطراف چار ڈیوائس لگائی گئیں، جس کا مقصد ایسے جدید مادوں کا تجزیہ کرنا ہے جس سے بیکٹریا کی نشوونما کو روکا جاسکے۔
*مشتری کے گردشی نظام کا مطالعہ اور امونیا گیس کی موجودگی
امریکی سائنس دانوں نے زمین پر نصب ایک نئی ریڈیو دوربین کی مدد سے سیارہ مشتری میں سرخ حصے کے اندر کے ماحول کو دیکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ سائنس دانوں نے سی جے وی ایل اے (کارل جے جینسکی ویری لارج ایرے) نامی اس دوربین کی مدد سے سیارے کے اوپر دکھائی دینے والے بادلوں کے نیچے موجود ’گردشی نظام‘ کا مطالعہ کیا اور انہیں اس دوران مشتری کے اندر امونیا گیس کی موجودگی کا علم ہوا۔ سائنس دانوں نے اس دوربین کی مدد سے مشتری کے بڑے سرخ نشان کی بنیادیں دیکھیں جو کہ وہاں گزشتہ 400 برس سے برپا ایک بڑا طوفان ہے۔
سائنسی جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق سائنس دانوں کی اس ٹیم کی قیادت کرنے والے امکے ڈی پیٹر کا کہنا ہے کہ سی جے وی ایل اے سے حاصل ہونے والی تصاویر سے ہمیں مشتری سے متعلق بہت اہم معلومات کا خزانہ ملا ہے۔ ’’مشتری کی اندرونی سطح کی تصاویر ہمارے لیے بہت حوصلہ افزا بات ہے۔ ہم مختلف جگہیں، ہنگامہ خیز خصوصیات، طوفانوں اور یہاں تک کہ اس کے سرخ مقام کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ نیو میکسکیو کے صحرائی علاقے میں نصب کارل جے جینسکی ویری لارج ایرے اپنی نوعیت کی خصوصی دوربین ہے جو مختلف النوع حساس اینٹینوں سے لیس ہے، اور اس دوربین کی مدد سے فضا میں خارج ہونے والی ریڈیائی لہروں کا بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

حصہ