(عقل اور کامیابی(عابد علی جوکھیو

217

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مابین مختلف درجات رکھے ہیں۔ ہر ایک کو کسی نہ کسی پر فضیلت بخشی ہے۔ وہ فضیلت علم کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے اور مال کی صورت میں بھی۔ اسی طرح صحت کی صورت میں ہوسکتی ہے اور اولاد کی صورت میں بھی۔ الغرض ہر انسان کسی نہ کسی صورت میں دوسرے سے فضیلت رکھتا ہے۔ لیکن بعض لوگ اس فضیلت کا ادراک ہی نہیں کرپاتے اور ہر وقت اللہ کی ناشکری کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ فضیلت ازل سے رہی ہے اور ابد تک رہے گی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہر کوئی بہت بڑا عالم اور دانا ہو، ہر ایک مالدار ہو، ہم میں سے کوئی بھی زندگی بھر ہسپتال کا منہ نہ دیکھے۔۔۔ انسان کی اصل آزمائش ہی اس میں ہے کہ وہ حاصل نعمتوں کا شکر اور محروم چیزوں پر بھی صبر و شکر کرے۔۔۔ اگر انسان اس مقابلے اور مسابقت میں پڑگیا تو کبھی بھی چین وسکون نہ پاسکے گا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن فقرا مہاجرین رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! دولت مند لوگ بلند درجات میں ہم سے سبقت لے گئے (یعنی وہ اپنے مال و دولت کی وجہ سے بڑا ثواب حاصل کرتے ہیں اور بہشت کی نعمتوں کے مستحق ہوتے ہیں، اور ہم اپنی غربت و افلاس کی وجہ سے بلندئ درجات میں اُن سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ کیسے؟
انہوں نے عرض کیا: وہ اسی طرح نماز پڑھتے ہیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں، اور وہ اسی طرح روزہ رکھتے ہیں جس طرح ہم رکھتے ہیں (ان اعمال میں تو وہ اور ہم برابر ہیں، لیکن مال و زر کی وجہ سے) وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور ہم صدقہ و خیرات کر نہیں سکتے، وہ غلام آزاد کرتے ہیں، ہم غلام آزاد نہیں کرسکتے۔ (اس طرح وہ ان اعمال کے ثواب کے حق دار ہوجاتے ہیں اور ہم محروم رہتے ہیں)
یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں تم لوگوں کو ایسی بات نہ بتادوں کہ اس پر عمل کرکے تم ان لوگوں کے درجات کو پہنچ جاؤ جو تم سے پہلے اسلام لا چکے ہیں، اور ان لوگوں کے مرتبے سے بڑھ جاؤ جو تمہارے بعد کے ہیں (یعنی تمہارے بعد اسلام لائے ہیں یا تمہارے بعد پیدا ہوں گے)، اور (مالدار لوگوں میں سے) کوئی آدمی تم سے بہتر نہ ہوگا بجز اُس آدمی کے جو تم ہی جیسا عمل کرے۔ (یعنی اگر مالدار لوگوں نے میری بتائی ہوئی بات پر تمہاری طرح علم کیا تو پھر مرتبے کے اعتبار سے وہی تم سے بہتر ہوں گے)
فقرا نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! بہتر ہے، فرمائیے (وہ کیا بات ہے؟)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ہر نماز کے بعد سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمدللہ تینتیس مرتبہ پڑھ لیا کرو۔
حدیث کے ایک راوی ابوصالح فرماتے ہیں کہ کچھ دنوں کے بعد فقرا مہاجرین پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے دولت مند بھائیوں نے ہمارے عمل کا حال سنا اور وہ بھی وہی کرنے لگے جو ہم کرتے ہیں۔ (اس طرح پھر وہی لوگ ہم سے افضل ہوگئے)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے، سب ایک جیسی صلاحیتوں کے مالک نہیں۔ یہ اللہ کا نظام ہے کہ اس نے ہر ایک کو دوسرے کا کسی نہ کسی درجے میں محتاج بنایا ہے، اور انسانی معاشرہ بھی اسی صورت میں تشکیل پاسکتا ہے جب لوگوں کا ایک دوسرے سے مختلف حیثیتوں میں تعلق پیدا ہو۔ انسانوں کا یہ تعلق بھی تقریباً عقل و شعور کی بنیاد پر ہوتا ہے، یعنی ہم میں سے کوئی بھی کسی مخبوط الحواس (پاگل) انسان سے دیرپا تعلق قائم نہیں کرتا، کیونکہ اس انسان سے آپ کچھ زیادہ فائدہ حاصل نہیں کرسکتے، یا پھر یوں کہیے کہ ہماری ذہنی سطح کی موافقت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی تعلق قائم نہیں ہوسکتا۔ (البتہ اس کے ساتھ ہمدردی، مدد وغیرہ الگ معاملہ ہے) اب جب عقل و شعور کی بات کریں تو سب انسانوں کو بھی ایک جیسی فہم و فراست عطا نہیں کی گئی۔ کوئی بہت اچھا سوچ، بول اور تجزیہ کرسکتا ہے، تو کسی میں یہ صلاحیت اوسط یا نچلے درجے کی ہوگی۔ قرآن مجید میں مذکور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے کی اصل بیان فرمائی ہے کہ ایک بار حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم (بنی اسرائیل) کو خطاب فرما رہے تھے، اسی دوران میں ایک شخص نے سوال کیا کہ انسانوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟ موسیٰ علیہ السلام (چونکہ اللہ کے نبی تھے) نے جواب میں کہا: میں ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے گرفت فرمائی کہ موسیٰ علیہ السلام نے اس معاملے کو اللہ کے حوالے نہ کیا (کہ اللہ بہتر جانتے ہیں)۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ ایسے علاقے میں جاؤ جہاں دو دریا، یا سمندر آپس میں ملتے ہیں، وہاں میرا ایک بندہ تمہیں ملے گا، وہ تم سے زیادہ عالم ہے (بخاری)۔ حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو علم کے نئے ابواب اور زاویے سکھائے، جو واقعی ان کے لیے حیران کن تھے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس واقعے سے جہاں اہلِ علم کی قدر و منزلت معلوم ہوتی ہے، وہیں اللہ کے احکامات پر سر تسلیم خم کرنے کا بھی اشارہ ملتا ہے کہ انسان اللہ کے احکامات کے معاملے میں اپنی عقل نہ دوڑائے، کیونکہ اس کے معاملے میں عقل دوڑانے سے سوائے تھکاوٹ اور ہار و رسوائی کے کچھ نہ ملے گا۔ (حضرت موسیٰ اور خضر علیہم السلام کا واقعہ کتب تفسیر و حدیث میں موجود ہے، یہاں تفصیل مقصود نہیں۔)
یہ امر مسلّم اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی حکم دیا ہے اسے بے چوں وچرا قبول کرلینے میں ہی عافیت اور کامیابی ہے، اس کے حکم کے مقابلے میں اپنی عقل استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ حقیقت یہی ہے کہ جو لوگ بھی مثبت انداز میں کام کرتے ہیں وہ اچھی اور فائدے کی بات کو فوراً مان کر اس پر عمل کرنا شروع کردیتے ہیں، اپنے گمان و خیالات اور وسوسوں کے مطابق اس بات کے منفی پہلو تلاش نہیں کرتے۔ جبکہ منفی یا شیطانی انداز میں کام کرنے والے افراد اچھی بات کو قبول کرنے کے بجائے اپنے غلط کام کو درست ثابت کرنے کے لیے مختلف دلائل کا سہارا لیتے ہیں۔ استادِ محترم ڈاکٹر ساجد جمیل صاحب نے اس بات کو قرآن میں مذکور تخلیقِ آدم علیہ السلام اور شیطان کے رویّے کے واقعے سے سمجھایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور جنّات کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمؑ کو سجدہ کریں تو فرشتوں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ (حضرت آدمؑ ) کون ہے؟ اس کو سجدہ کرنے سے کون سا اچھا کام ہوگا؟ ہمیں تو اللہ نے خود بتایا ہے کہ میرے سوا کسی کو سجدہ نہ کرنا، اب اس کے خلاف حکم کیوں دیا؟ وغیرہ۔۔۔ بلکہ فرشتوں نے فوراً سرتسلیم خم کرتے ہوئے حضرت آدمؑ کو سجدہ کرلیا۔ اس خاکی کو سجدہ کرنے میں نوری مخلوق کے دلوں میں ذرا بھی خیال نہ آیا کہ ہم تواس سے اعلیٰ ہیں، ہر وقت اللہ کی عبادت کرتے ہیں، فساد نہیں پھیلاتے، نافرمانی نہیں کرتے۔ الغرض نہ تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کے مقابلے میں اپنی عقل کے گھوڑے دوڑائے اور نہ ہی اپنے عمل اور مرتبے پر اترائے، بلکہ فوراً سجدے میں گر گئے۔ ہمیں بھی اگر کوئی حکم سمجھ میں نہیں آتا تو اس پر ہمارا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ یہ حق ہے، رب کی طرف سے ہے، جو ہورہا ہے بہترین ہے، ہم اس کے بارے میں کیوں سوچیں؟ ہمیں انتظار کرنا چاہیے، ہم کیوں خیال کے گھوڑے دوڑائیں؟ اس کا جو بھی مطلب ہوگا وہ (اللہ) ہمیں سمجھا دے گا۔
اس کے برعکس شیطان نے سجدہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے دلائل دینا شروع کردیے کہ میں سجدہ کیوں کروں؟ میں آگ سے بنا ہوں اور یہ مٹی سے۔۔۔ میں تو اس سے بہتر اور برتر ہوں۔۔۔ شیطان اپنے متعلق سوچنے لگا۔ درحقیقت شیطان کو اپنی برتری پر بہت ناز تھا اور خواہش تھی کہ ہر وقت اس کی تعریف کی جائے۔ اس لیے وہ تکبر کا شکار ہوگیا اور بغاوت پر اتر آیا۔ حتیٰ کہ یہ سوچا کہ میں نے سجدہ نہ کرکے کوئی غلطی نہیں کی، یہ تو میرا حق تھا۔۔۔ یہیں سے شیطان اللہ کے خلاف عملی کام کرنے میں لگ گیا۔ استادِ محترم اس واقعے سے حاصل سبق بتاتے ہیں کہ اگر کوئی صاحبِ علم شخص ملے، جو علم اور تجربے میں ہم سے زیادہ ہو اور وہ ہمیں کوئی مشورہ دے اور اس کے عوض کوئی چیز بھی نہ مانگے تو ایسے شخص کی بات سننی چاہیے۔ اس کی ٹوہ نہ لگائیں کہ وہ یہ بات کیوں کررہا ہے؟ اس کا پس منظر کیا ہے۔۔۔؟ وہ آپ کے بھلے کی بات کررہا ہے تو اس میں کوئی منطق تلاش نہ کریں بلکہ اس پر فوراً عمل کریں۔ کیونکہ اللہ کے حکم پر فوراً عمل کرنے والے ہی کامیاب رہتے ہیں، جبکہ وہ لوگ جو اللہ کی رائے کو پہلے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر بات سمجھ میں آئے گی تو اس پر عمل کریں گے، وہ ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ اس واقعے کا نتیجہ یہ نکلا کہ فرشتے اللہ کے حکم پر فوراً عمل کرکے کامیاب ہوگئے، جبکہ اپنی عقل استعمال کرکے اطاعت میں دیر کرنے والے ناکام ہوگئے۔
nn

حصہ