(صرف دنایوی تعلیم ہی کیون ہے کوئی جواب ہمارے پاس؟(ثوبیہ امجد

152

آج کا دور تعلیمی دور ہے۔ پہلے زمانے میں گھر، کام اور پیٹ کو بھرنے کے لیے دو وقت کی روٹی کے لیے تگ ودو ہی زندگی کا حصہ تھی۔ قرآن کی تعلیم، نماز، روزہ، حج سب امور سکھائے جاتے تھے، تبھی لوگ ایمان دار اور سادہ لوح تھے۔ پہلے کے لوگ دین کو نظام زندگی سمجھتے تھے، لیکن آج کے دور میں ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نام ہی کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ ہم نے دین کو نظام حیات سمجھنے کے بجائے جزوِحیات بنالیا ہے۔ ہمارا مقصد صرف اور صرف آگے بڑھنا ہے، دولت کے انبار کھڑے کرنا ہے، اس کے لیے چاہے اسلام کی دھجیاں بکھیر دی جائیں، چاہے اسلام کے نام پڑھ کر سب کچھ بھول جائیں۔ جائزو ناجائز ذرائع استعمال کرکے دنیاوی تعلیم کو ہر قیمت پر حاصل کرنا اور اپنے بچوں کو شروع ہی دن سے انگریزی طرز کی کتابوں کی طرف مرکوز کرنا، ان کتابوں کو اندھادھند بچوں پر مسلط کرنا جیسے ہمارے فرائض میں سے ایک ہے، لیکن اسلامی تعلیم کی طرف بڑھنا، اس کی طرف رجحان پیدا کرنا ہماری حیات کا مقصد نہیں رہا۔
اسلام میں نماز، روزہ، حج فرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس سے ہمارے مومن لوگ ایک ساتھ پروان چڑھتی ہوئی برائی کے خاتمے کے لیے ایسی قوت پیدا کریں جو ایک چٹان بن جائے۔ اسلام ایک مکمل دین ہے، جو زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتا ہے، لیکن ہم اسے کہیں دور پیچھے چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔ قرآن پاک جو معاشی، معاشرتی، سیاسی، ثقافتی، تمدنی غرض ہر پہلو پر مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے، حتیٰ کہ دنیاوی تعلیم کے تمام پہلو بھی اسی میں موجود ہیں، ہر لحاظ سے یہ مکمل ضابطۂ حیات ہے، پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو دینِ اسلام حیاتِ زندگی ہے، وہ بچوں کے اندر پروان چڑھانا ہمارے اوّلین فرائض میں کیوں نہیں۔۔۔؟ اسلامی تعلیم ہمارے بچوں کو ایک پختہ انسان بناتی ہے، اس سے روگردانی کیوں؟
ہم اپنا دین بھلا کر مغرب کی اندھی تقلید میں بڑھ چڑھ کر حصہ کیوں لے رہے ہیں؟ آخر ایسی کیا وجہ ہے جو ہم مغربی کلچر اور انگریزی تعلیم پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔۔۔ آخر کیوں ؟ ہے کوئی جواب ہمارے پاس؟؟
اسلام ہی پر بات ختم نہیں ہونی چاہیے، میں یہ نہیں کہتی کہ دنیاوی تعلیم روک دی جائے، لیکن یہ ایک دائرے میں رہ کر حاصل کرنی چاہیے۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ اسلامی تعلیم بھی ہماری ترجیح میں شامل ہونی چاہیے۔ یہی ہماری اور ہماری نسلوں کی ترقی کا ذریعہ ہے۔
آج میں نے ایک ایسے انسان کو دیکھا، جس نے اپنے بیٹے کو دینی تعلیم کے نزدیک بھٹکنے ہی نہیں دیا ، جوکہ درست راستہ تھا۔ وہ بچہ صرف مغربی طرز کی دنیاوی تعلیم کی طرف لگا رہا اور بڑا ہوگیا۔ ایک بہت کامیاب انسان بنا۔ لیکن اس کی وہ تعلیم کسی کام نہیں آئی۔ اس کی موت کا وقت قریب تھا، وہ کہہ رہا تھا: یہ سب ڈگریاں میرے کس کام کی ہیں؟ جو اصل تعلیم تھی، جو میری اگلی زندگی کی نعمتوں کی ضمانت تھی، وہ تو میرے پاس ہے ہی نہیں، میں خالی ہاتھ جارہا ہوں، یہ ڈگریاں آپ ہی کو مبارک ہوں۔ وہ اپنے والد کو حقیقت کا ادراک کراکر اس دنیا سے کوچ کرگیا۔ لیکن بوڑھا باپ، جس کی بوڑھی ہڈیوں میں مزید دم نہیں تھا، خالی ہاتھ رہ گیا۔ اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب بار بار قرآن پاک کو سمجھنے کی طرف بلایا جاتا ہے، بتایا جاتا ہے تب ہم کیوں دور بھاگتے ہیں؟ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ رب کو بھولنے والے کو رب خود بھی بھلا دیتا ہے۔ ہم اس کی پروا نہیں کریں گے تو وہ بھی ہماری پروا کرنا چھوڑ دے گا۔ ہم گڑگڑا کر اچھا مستقبل نہیں مانگیں گے تو وہ بھی نہیں دے گا۔ جب اس انسان کو اتنی تکلیف سزا کے طور پر مل سکتی ہے تو کوئی اور اس کی زد میں آئے گا؟ ضرور آئے گا! ہماری بھول ہے کہ ہم اس کی پکڑ میں نہیں آسکتے۔ اس کی پہنچ سے کیا دور ہے ! جتنا وہ بے نیاز ہے، جتنی اس نے ہماری رسیاں ڈھیلی چھوڑی ہیں، وہ کھینچ بھی سکتا ہے، جیسے اپنے اذن سے ہمارے جسموں میں روح پھونکی ہے، اتنی ہی آسانی سے ہمارے جسموں سے تڑپا تڑپا کر نکال بھی سکتا ہے۔
تو جس نے ہمیں اتنی نعمتیں دیں، قرآن جیسی مکمل کتاب دی، جس کے مقابلے کی چند آیات بھی بنانے سے عرب وعجم عاجز رہے۔ جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی ، اسے بھلا کر ہم مغرب کو تر جیح دے رہے ہیں۔ جبکہ ہمارا تو مقصدِ حیات ہی یہ ہونا چاہیے کہ اسلامی تعلیم کو دنیاوی تعلیم پر ترجیح دیں۔ ہمارا اندازِ بیاں قرآن سے، اسلام سے شروع ہوکر قرآن اور اسلام ہی پر ختم نہ ہو بلکہ دنیاوی تعلیم بھی ہو۔ لیکن اسے ایک دائرے میں رہ کر حاصل کرنا چاہیے۔
ترجمہ: کیا وہ نہیں دیکھتے، کیا وہ غور نہیں کرتے، کیا وہ تدبر نہیں کرتے۔۔۔؟
دنیاوی تعلیم کے ساتھ اسلامی تعلیم بھی ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔ یہی ہماری اور ہماری نسلوں کی ترقی کا راز ہے۔

حصہ