(وقت کی آواز سنو (ڈاکٹر زرینہ

272

وقت بھی کیا چیز ہے، چلتا ہی رہتا ہے، کبھی تھکتا نہیں۔ ہم تھک جاتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک منٹ ایسا لگتا ہے جیسے ایک گھنٹہ ہو، اور کبھی کبھی ایک گھنٹہ گزر جانے پر بھی ایسا لگتا ہے کہ ایک لمحے میں گزر گیا، حالاں کہ ایک منٹ ہمیشہ ایک منٹ ہی میں گزرتا ہے اور ایک گھنٹہ ایک گھنٹے میں۔
وقت سچی حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی سورۃ العصر اور سورۃ الدھر میں اس وقت کی قسم کھائی ہے۔ اس بات کا ذکر تو بے شمار جگہ ہے کہ ہر چیز کا وقت مقرر ہے، جب وہ مقررہ وقت آجاتا ہے تو پھر وہ ایک لمحہ یا ایک ساعت بھی آگے پیچھے نہیں ہوتا اور انسان ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے کہ کاش، میرے پاس کچھ اور وقت ہوتا۔
بہت سی چیزیں قرآن شریف میں متشابہات میں آتی ہیں، یعنی ان کو دیکھا نہیں جاسکتا، لیکن ان چیزوں کو اپنی عقل استعمال کرکے پہچانا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بہت سی جگہوں پر دعوت دی ہے کہ اے عقل والو، آنکھیں کھولو اور اللہ کی دنیا میں وہ نشانیاں تلاش کرو جو ہر جگہ موجود ہیں، اس کی ذات کے بارے میں، لوگوں کے دوبارہ مبعوث ہونے کے بارے میں، روزِ قیامت کے بارے میں وغیرہ وغیرہ۔ پیدا ہونا اور مرنا تو خیر ایسے مشاہدے ہیں جن سے بچپن سے لے کر بڑھاپے تک ہر شخص آشنا ہوتا رہتا ہے، لیکن اور چیزوں کے لیے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ چلتی ہوئی گھڑی نے مجھے بھی غور و فکر کی دعوت دی۔ شکر ہے میں نے اس دعوت کو قبول کیا۔ ذرا دیر سے ہی سہی لیکن قبول تو کیا۔ اور پھر مجھ پر بھی بہت سے راز آشکارا ہوئے، جو آپ میں سے بہت لوگ جانتے بھی ہوں گے اور کچھ شاید نہ بھی جانتے ہوں۔ یہ گھڑی کی سوئی آگے ہی آگے چلتی رہتی ہے، جو لمحہ گزر گیا، وہ پکڑا نہیں جاسکتا، وقت گزر جاتا ہے ہنستے ہوئے بھی، روتے ہوئے بھی، وقت کو کارآمد بناتے ہوئے بھی اور اس کو لایعنی چیزوں میں برباد کرتے ہوئے بھی، نیکیاں جمع کرتے ہوئے بھی اور گناہ سمیٹتے ہوئے بھی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کو خوش کرتے ہوئے بھی اور اس قہار اور جبار لیکن ساتھ ساتھ رحیم و کریم ذات کو ناراض کرتے ہوئے بھی۔
میں نے بھی اس وقت کی گھڑی کے ساتھ بہت سارے سال گزار دیے، ان ہی تمام باتوں میں جن کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے، میں نے زندگی بھی دیکھی، موتیں بھی دیکھیں، لوگ بچھڑ گئے، کل تک جو بالکل ساتھ تھے، آج غائب ہیں، نظر نہیں آتے اور نہ کبھی نظر آئیں گے۔ ہر کوئی جو زندہ ہے، وہ اپنے لوگوں میں سے کسی کو جاتا ہوا دیکھے گا۔ اس لیے کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ ہر لمحہ جو گزر رہا ہے، وہ ہر ایک کو موت سے قریب کررہا ہے۔
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹادی
یعنی حقیقت اور یاد رکھنے والی چیز جو اس وقت والی گھڑی نے مجھے بتائی وہ یہی موت ہے، سب سے پہلا امتحان تو عالم نزع کا ہے (سورۂ نازعات)
یعنی موت کے وقت آنے والے فرشتے۔ ناشطات یعنی بہت محبت اور آسانی سے روح کھینچنے والے اچھی پیاری شکلوں والے فرشتے، یا پھر نازعات سختی سے روح کھینچنے والے کرخت شکلوں والے فرشتے۔ ایسے روح کھینچیں گے، جیسے کوئی کانٹے دار چیز کہیں سے نکالی جاتی ہے اور اِدھر اُدھر سب جگہ زخم پیدا کردیتی ہے۔ پھر دفنانے کے بعد قبر اور اس کا حساب کتاب۔ قبر ہی آخرت کی پہلی منزل ہے۔ مستند حدیث شریف ہے کہ قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں یا تو جنت ہے یا جہنم، تیسری چیز کا کوئی امکان نہیں ہے۔ قبر میں جاتے ہی تین سوال ہوتے ہیں: تیرا ربّ کون، تیرے نبی کون اور تیرا دین کیا؟ جس نے دُنیا میں عملی طور پر یہ سوال حل کیا ہوتا ہے، وہی اس دن کامیاب ہوگا۔ زبانی مسلمان ہونے کا دعویٰ اس دن کام نہیں آئے گا۔ نماز کی پوچھ گچھ بھی قبر ہی سے شروع ہوجاتی ہے۔ پیشاب کی نجاست سے بچاؤ کا امتحان بھی یہیں ہوجاتا ہے۔ مغربی ممالک میں کھڑے ہوکر پیشاب کرنے یا ٹھیک سے طہارت نہ کرنے کے بے ہودہ طریقے اس دن بہت پریشانی کا باعث بنیں گے۔
ہاں، تو ہم گزرتے وقت کے ساتھ قبر تک تو پہنچ گئے۔ قبر میں پہنچ جانے پر صاحبِ قبر کے عمل کا رجسٹر بند کردیا جاتا ہے، کیوں کہ اس کے عمل کی مدت تو ختم ہوچکی، اب تو وہ دوسروں کا محتاج ہے کہ کون اس کو دعا کی شکل میں یا صدقۂ جاریہ کی شکل میں کیا تحفہ بھیجتا ہے۔ بے شک، وہ تحفہ اس تک پہنچتا ہے اور اس کی مغفرت میں معاون ثابت ہوتا ہے اور درجات بڑھاتا ہے۔ وقت کے پہیّے کے ساتھ وہ وقت بھی آنا ہے، جب یہ لکھنے والا بھی قبر میں سورہا ہوگا اور اس کے عمل کا دفتر بھی بند ہوچکا ہوگا، لیکن وقت رُکے گا تھوڑی۔۔۔ چلتا رہے گا۔ چلتا رہے گا۔ یقیناًوہ وقت آئے گا، یہ نہیں معلوم کہ کتنا وقت گزرنے کے بعد۔۔۔ جب تین صور پھونکے جائیں گے، پہلے صور میں سب بے ہوش ہوجائیں گے، دوسرے صور میں سب مرجائیں گے اور تیسرے صور میں سب اُٹھا کر کھڑے کردیے جائیں گے اور اپنی اپنی قبروں سے بے تحاشا اس آواز کی طرف دوڑیں گے، جہاں سے وہ آرہی ہوگی۔ وہ روزِ محشر ہوگا اور مقامِ محشر ہوگا عرفات کا میدان۔ اس کو اس دن اللہ تعالیٰ اتنا وسیع کردیں گے کہ شروع سے لے کر آخر تک جتنے بھی بنی آدم پیدا ہوئے ہیں، سب اس میں سما جائیں گے۔ وہ دن گناہ گاروں کے لیے بہت سخت اور بہت طویل ہوگا اور نیکو کاروں کے لیے آسان اور چھوٹا۔ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس دن بھی اپنے اُمتیوں کو یاد رکھیں گے اور صرف ہمارے نبیؐ کی ہی یہ انفرادی خصوصیت ہوگی۔ اس دن ایسا نہ ہو کہ ہمارا مہربان اور شفیق نبیؐ حوضِ کوثر پر ہمیں پہچاننے سے انکار کردے، کیوں کہ اس دن انسان کی شناخت صحیح عقیدہ اور پھر نیکیوں سے ہوگی۔ روزِ محشر اللہ تعالیٰ اپنا جلوہ دکھائیں گے۔ نیک لوگ بے اختیار سجدے میں گر جائیں گے۔ بدنصیب لوگ سجدہ کرنا بھی چاہیں گے تو کمر اکڑ جائے گی۔ رسول اللہؐ نے فرمایا: تین مقامات پر کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔ میزان میں عمل تُلتے وقت، نامۂ اعمال بٹتے وقت، اور پلِ صراط پر گزرتے وقت۔ پلِ صراط پر نیک لوگوں کو اپنے اعمال سے روشنی ملے گی اور وہ اس کی مدد سے اپنا راستہ دیکھ پائیں گے۔ حضرت ابوبکرؓ کی روشنی اتنی زیادہ ہوگی کہ یمن کے شہر صنعا تک پہنچے گی، کچھ کی اتنی تو ہوگی کہ سنبھل سنبھل کر صحیح جگہ پر اپنے قدم رکھ سکیں، اور کچھ بدبختوں کے پاس کچھ نہیں ہوگا اور وہ کٹ کٹ کر نیچے گر پڑیں گے۔ یہ پلِ صراط جہنم کے اُوپر واقع ہوگا، کیوں کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جہنم ہر ایک کو دکھائی جائے گی، چاہے وہ جنتی ہو یا دوزخی۔ جنتی اس کو دیکھ کر ہزار شکر ادا کرے گا کہ پروردگار تُو نے مجھے بچالیا، اور جہنمی اپنے اعمال کی وجہ سے وہاں اپنا ٹھکانہ بنائے گا۔ پلِ صراط کے اختتام پر ایک دروازہ ہوگا، اس کے باہر آگ کا نظارہ ہوگا اور اندر ٹھنڈک ہوگی۔ یہ دروازہ جنت کی طرف کھلے گا۔ پلِ صراط سے کامیاب ہونے والے وہاں سے نعمتوں بھری جنت میں داخل ہوں گے، بہت سے بے عمل کلمہ گو مسلمان کچھ مدت کے لیے دوزخ میں بھی جائیں گے، اس لیے کہ گناہوں کی آلودگی کے ساتھ وہ جنت کے قابل نہیں بن سکتے، جو بہت پاک صاف جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو جلا کر ان کو صاف شفاف کرکے جنت میں ڈالے گا، اور یہ بھی ہمارے پیارے رسولؐ کی سفارش سے ہوگا۔ وہ اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، جب تک اپنے ایک ایک کلمہ گو اُمتی کو بخشوا نہ لیں۔
اللہ نہ کرے، جہنم میں پہنچنے کے بعد یہ وقت کا پہیّہ رک جائے گا، کیوں کہ پھر کوئی موت نہیں۔ ہر چیز دائمی ہے۔ پھر وقت کو آگے بڑھانا بے معنی ہوجاتا ہے۔ یہی اللہ کی حکمت ہے۔ لیکن فی الحال اس موجودہ لمحہ سے لے کر ان شاء اللہ جنت کے داخلے تک یا بدبختوں کے آخری انجام جہنم کے داخلے تک یہ وقت ایسے ہی چلتا رہے گا۔ آگے ہی آگے۔ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھے گا۔ اس کے اسی طرح چلنے سے جو ہم سب کا مشاہدہ ہے، یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ حق ہیں۔ اس کے سارے رسول اور ہمارے پیارے نبیؐ حق ہیں۔ فرشتے، کتابیں، مرنا اور پھر دوبارہ اُٹھنا، قیامت کا برپا ہونا، حساب کتاب ہونا اور پھر اپنے آخری انجام کو پہنچنا، سب حق ہے اور اس انسان کو اگر وہ مسلمان بھی ہے تو بے اختیار پکار اُٹھنا چاہیے۔ اور۔۔۔ یہ کہ یہ جو لمحات ہمیں یقیناًپیش آنے والے ہیں، ان سب کی بھرپور تیاری کریں، ورنہ اللہ نہ کرے کفِ افسوس ملنے کے سوا کچھ نہ ملے گا، اس لیے کہ پھر جو کچھ بھی اچھا یا بُرا ملے گا، وہ دائمی ہوگا۔ اللہ ہم سب کو وہ وقت اور یہ سب یاد رکھنے کی اور پھر ان کی تیاری کی ہدایت عطا فرمائے، آمین۔

حصہ