(خاندان ٹوٹنے ،بکھرنے سے بچائیں (ڈاکٹر عبدالتوحید

442

کبھی سنجیدگی سے سوچا جائے یا ہم اور آپ سے کوئی فرد سوال کرے کہ ہماری زندگی کا سب سے بڑا المیہ کیا ہے؟ تو ہم سب ایک ہی اور قریباً مشترکہ جواب دیں گے کہ ہمارا خاندانی ڈھانچا ٹوٹ رہا ہے، بِکھررہا ہے۔ ہماری وہ مشرقی، معاشرتی روایات، جن پر ہمیں فخر ہوتا تھا، اب ماضی کی داستانیں بن گئی ہیں۔
ہم سب بدل گئے ہیں یا معاشرہ تبدیل ہوگیا ہے؟ یہ اس دور کا اہم ترین سوال ہے اور ستم تو یہ ہے کہ ہمارے دانش ورحضرات، ہمارے اکابرین اس تبدیلی کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ انہیں احساس ہی نہیں کہ نام نہاد ترقی کے جنون میں ہم اجتماعیت چھوڑکر انفرادیت کی طرف جارہے ہیں، مشترکہ خاندان کے بجائے تنہا زندگی گزارنے لگے ہیں۔ بزرگوں سے عزت کا برتاؤ اور زندگی کے دیگر آداب اب ہم اپنے بچوں کو کہانیوں میں سُناتے ہیں اور وہ حیرت سے دریافت کرتے ہیں۔۔۔کیا ایسا ہوتا تھا؟
مشرقی اور مغربی دنیا میں جہاں دیگر ہزاروں فرق ہیں، وہاں سب سے اہم فرق خاندان کے تصور کا ہے۔ مشرق میں خاندان کا مطلب دادا دادی، ماں باپ، بھائی بہن کے ساتھ رہنا اور ان کے علاوہ نانا نانی، چاچا چاچی اور دیگر رشتے داروں سے رابطہ رکھنا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ محلّے کے دیگر افراد اور بزرگوں سے بھی ادب سے برتاؤ خاندانی آداب کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ ہم لوگ بدقسمتی سے مغرب کی پیروی میں اپنی ان شان دار روایات کو بھلاتے جارہے ہیں۔ جن گھروں میں دادا دادی، نانا نانی کو عزت اور احترام سے رکھا جاتا تھا، وہاں اب والدین کو بوجھ سمجھا جارہا ہے اور ان سے انتہائی خراب برتاؤ روا رکھا جاتا ہے۔ اب تو یہ حالت ہے کہ جہاں والدین نے بیٹے کی شادی کی، وہیں سے نئے جوڑے کے دماغ میں مشترکہ خاندان کے طور پر رہنے کے بجائے جلدازجلد اپنا ذاتی گھر بنانے کا خیال ستانے لگا، جہاں وہ والدین سے الگ تھلگ رہ سکیں۔ مغرب کی اندھی تلقید میں معاشی مسائل اور آج کے تیز رفتار مادہ پرستانہ دور میں جہاں ہم بہت سی انمول چیزوں کو چھوڑ چکے ہیں، وہیں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر رہنے کا رواج فروغ پارہا ہے۔
مشرقی اور مغربی تہذیب میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مغرب کا معاشی اور معاشرتی نظام مشرقی خاندان کے تصور سے کوسوں دور ہے۔ بدقسمتی سے ہم بھی اب مغربی انداز میں مدرز ڈے، فادرز ڈے، ویمن ڈے اور دیگر ڈے منا کر سال میں ایک بار ماں باپ، بہن بھائی اور دیگر رشتے داروں کو یاد کرکے اپنا فرض پورا کرلیتے ہیں۔ یہ کوئی صدیوں پرانی بات نہیں بلکہ چند عشروں پہلے کی بات ہے کہ عید یا بقرعید جیسے تہواروں پر پورا خاندان بچوں کے ہمراہ عیدگاہ جاتا تھا۔ واپسی پر دادی یا والدہ میٹھے تیار کیے پکوان کے ساتھ ان سب کا انتظار کررہی ہوتی تھیں۔ سب مل کر شیرخورما اور سویاں کھاتے تھے، خاندان کے بزرگ بچوں کو عیدی دیتے تھے۔ اس کے بعد محلّے کے بچے جمع ہوکر پورے محلے کے گھروں میں جاتے، سب کو سلام کرتے۔ ہر گھر میں بچوں کو کچھ میٹھا کھلایا جاتا اور اپنی استطاعت کے مطابق عیدی یا دعاؤں سے نوازا جاتا تھا۔ افسوس، اب یہ روایت قریباً ختم ہوچکی ہے۔
مغرب میں چوں کہ اب خاندان باقی نہیں رہا، اسی لیے اس کی باقیات کو محفوظ کرکے اسے یاد کیا جاتا ہے اور ’’فیملی ڈے‘‘ یا ’’خاندان کا دن‘‘ منایا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم مشرقی لوگ بھی مغربی روایتوں سے لطف اندوز ہونے لگے ہیں اور دیگر مشرقی ممالک کی مانند پاکستان میں بھی اب اس طرح کے دن منانے کی روایت کا آغاز ہوچلا ہے۔ ’’خاندان‘‘ کا تصور مختصر ہوکر ’’میرے گھر‘‘ تک محدود ہوگیا ہے، بس عید اور بقرعید کی چھٹیوں کے موقع پر خاندان کو جمع کرکے ہلاگلا کیا جاتا ہے یا خدانخواستہ خاندان میں کسی کی وفات پر خاندان مل بیٹھتا ہے۔ اس طرز کی زندگی کی ابتدا کرنے والوں کو اندازہ ہی نہیں کہ وہ ہماری روایات کو پامال کرکے مشرقی اقدار کا خاتمہ کررہے ہیں۔ دیگر ایام کی طرح، گزشتہ چند برسوں سے پاکستان میں بھی ’’بلیک فرائیڈے‘‘ منایا گیا، جو عیسائی ممالک میں کرسمس کے آغاز کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن اشیا سستی کرکے صارفین کو خریداری کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔ کیا ستم ہے کہ ہم اپنے مذہبی تہواروں، خاص طور پر رمضان میں تو اشیا کو مہنگا کردیں اور بلیک فرائیڈے کے اصل مقاصد کو فراموش کرکے اس دن کو منائیں اور اشیا سستی کردیں۔
چند عشروں قبل ہماری سوچ یہ تھی کہ ہماری ترقی سے ہمارا خاندان ترقی کرے گا۔ اگر ہم کوئی کارنامہ کرنا چاہتے تھے تو ہماری سوچ یہ ہوتی تھی کہ اس کامیابی سے ہمارے ملک اور شہر کا نام روشن ہوگا۔ اب ہماری سوچ کا دائرہ مختصر ہوگیا ہے۔ ہم اپنے یا اپنی اولاد کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ایک لمحے کے لیے تصور کرلیں کہ اگر کل ہماری سوچ صرف ہم تک رہ گئی تو کیا ہوگا؟ اگر ہماری اولاد بالغ ہوتے ہی ہم سے جدا ہوجائے تو ہم پر کیا بیتے گی؟ گہرائی سے سوچیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ تمام ترقی کے باوجود مغربی زندگی اور جنگل کی زندگی میں کوئی فرق نہیں۔ جنگل میں بھی جانور جدا جدا رہتے ہیں اور صرف اپنی بقا کا سوچتے ہیں۔ مغرب میں بھی فرد اپنے بارے میں سوچتا ہے، اور ہم ہیں کہ اُن کے قدموں کے نشانات پر چلتے جا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی آسائشیں حاصل کرنے کے جنون میں ہم حقیقی خوشیوں کے اسباب کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ زندگی کی گہما گہمی، افراتفری اور بھاگ دوڑ میں اپنے آپ سے ملنے کا وقت نہیں ملتا تو خاندان اور خاندان والے کسے یاد رہ سکتے ہیں!
افسوس، آج کے سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں انسانی رشتوں کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ خونیں زنجیریں اور ان کی کڑیاں ٹوٹ رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرہ خاندان سے تشکیل پاتا ہے۔ خاندان والوں کی محبتیں، چاہتیں، باہمی ایثار، اپنائیت، ایک دوسرے کا خیال اور خوشی وغم میں شرکت سے زندگی کو رونقیں ملتی ہیں، لیکن مادہ پرستی اور جاہ پرستی خاندانوں کو توڑنے کا سبب بن رہی ہے۔ خودغرضی نے ہمیں اپنے جال میں پھانس لیا ہے اور ہم نام ونمود کے لیے، پیسے کے لیے، ترقی کی دوڑ میں شامل ہوکر اپنے خونیں رشتوں کو فراموش کرتے جارہے ہیں۔ آج تو یہ حال ہے کہ خاندان میں بھی ہم اُن سے ملنا پسند کرتے ہیں، جن سے ہمیں کچھ دنیاوی فائدے کی اُمید ہوتی ہے۔
اسلام نے زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ ساتھ والدین اور قرابت داروں سے نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور حقوق العباد کی اہمیت بتائی ہے۔ معاشرے کے تمام افراد کے حقوق کے بارے میں تمام باتیں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جا بجا بیان کی ہیں، معاشرے کے تمام افراد کے فرائض اور حقوق مقرر کیے ہیں، تاکہ آپس کے جھگڑوں اور رنجشوں سے محفوظ رہتے ہوئے خاندانی نظام اور معاشرے کو مضبوط بنایا جاسکے۔ والدین یا ساس سسر کو تو چھوڑیں، اسلام میں پڑوسیوں کے اتنے حقوق بیان کیے گئے ہیں کہ لوگوں کو شبہ ہُوا کہ کہیں پڑوسیوں کا حصہ وراثت میں تو نہیں ہوجائے گا؟
خاندان کا وجود والدین کے والدین اور ان کی اولاد سے آتا ہے۔ جب اولاد بڑی ہوتی ہے تو ان کی شادی کے نتیجے میں دو مختلف خاندان ملتے اور نئے رشتے جنم لیتے ہیں۔ معاشرے کی تشکیل رشتوں کے اس بناؤ سے ہی ہوتی ہے۔ خوش گوار زندگی کے لیے ہم سب کو دوسروں کی مدد اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاندان کے افراد زنجیر کی صورت میں ایک دوسرے سے باہم پیوست ہوتے ہیں۔ جتنا پیار، اپنائیت، خلوص و محبت ہوگی، رشتے میں اُتنی ہی پائیداری ہوگی۔ پیار، اپنائیت،خلوص و محبت تبادلے کی اشیا ہیں، اِنہیں حاصل کرنے کے لیے دوسروں کو بھی یہی سب دینا پڑتا ہے۔ خاندانی رسم و رواج، ملنا ملانا، خوشی غمی میں شرکت جیسے روابط رکھنا خاندان کو پائیداری بخشتا ہے۔ یہی روابط اپنے دُکھ سُکھ کے موقع پر ایک نعمت محسوس ہوتے ہیں۔ دوسروں کی خوشی میں شریک ہونا، غموں میں ساتھ دینا، ایک دوسرے کو تحفے تحائف دینا، دعوتیں کرنا، مزاج پُرسی کو جانا، عیادت کرنا، تعزیت کرنا۔۔۔ یہ سب خاندانی روابط کا حصہ ہے۔ اور ہر دکھ درد کی مشکل گھڑی میں یہی روابط کام آتے ہیں۔ اگر اللہ نے آپ کو مال و دولت سے نوازا ہے تو دوسروں کی مدد کریں۔۔۔ اگر نہیں، تو مشکل وقت میں ان سے محبت کے چند بول ضرور بولیں۔ صلۂ رحمی اور ہمدردی کرنے والے کو خاندان میں لوگ عزت اور محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
مرد کی دنیا گھر کے باہر کی ہوتی ہے۔ اسے گھر سے نکل کر بیرونی دنیا میں کام کرنا ہوتا ہے، جب کہ گھر کے اندر عورت کی حکمرانی ہوتی ہے، خاندان کو مضبوط بنانے میں خواتین اہم ہوتی ہیں۔ خاندان کو ایک اکائی بنانے، اور ایک دوسرے کو باہم پیوست رکھنے میں ایک عورت ہی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خواتین اگر چاہیں تو اپنی سمجھ داری سے خاندانی روابط کو اتنا مضبوط بنا سکتی ہے کہ وہ بڑے سے بڑے جھٹکے سے بھی نہ ٹوٹیں۔ اور یہی عورت اپنی نادانی سے ان خاندانی روابط کو اس طرح بکھیر سکتی ہے کہ افراد کے باہمی روابط ختم ہوجائیں اور خاندان ٹوٹ جائیں۔ انسانی رشتوں کی اہمیت خواتین سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ رشتے داریاں نبھانا، رشتوں کی نزاکتوں کو سمجھنا، ان کے تقاضوں کو پورا کرنا، خاندان کے تمام افراد کو ملانا، باہمی اختلافات ختم کرانا خواتین کی اہم ذمے داریوں میں شامل ہے۔ چوں کہ خواتین فطرتاً حساس اور نرم دل ہوتی ہیں لہٰذا بہتر طریقے سے ان ذمے داریوں سے نبرد آزما ہوتی ہیں۔ عورت بیٹی، بیوی اور ماں کے رُوپ میں خاندان کو آپس میں ملا کر رکھنے کا فرض احسن طریقے سے ادا کرتی ہے۔
خاندان میں عورت کی اہمیت مسلمہ ہے۔ ابتدا سے ہی بیٹی کے روپ میں بھی وہ خاندان کے افراد کے درمیان پیارو محبت بڑھانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ لڑکیاں اپنی امن پسند، مصلحت پسند طبیعت کے سبب خاندان کو بہت سے جھگڑوں سے دُور رکھتی ہیں اور لڑکوں کے مقابلے میں نانا نانی، دادا دادی، چچا، ماموں اور خالہ، پھوپھی سے محبت زیادہ کرتی ہیں۔ بیٹی بڑی ہوکر بیوی کے رُوپ میں نئے خاندان میں شامل ہوکر نئی زندگی میں قدم رکھتی اور دو مختلف خاندانوں کے درمیان رابطے کا کام دیتی ہے۔ سمجھ دار لڑکی اپنی فہم وفراست سے دو خاندانوں کو ایک کردیتی ہے اور اپنی محبت و اطاعت سے سسرال میں سب کا دل جیت سکتی ہے اور شوہر کے خاندان کو اپنا بناسکتی ہے۔ بعض اوقات چند بے وقوف اورعاقبت نااندیش خواتین سسرالی رشتہ داروں سے گھلنا ملنا پسند نہیں کرتیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسلام نے ساس سسر کے کوئی حقوق مقرر نہیں کیے ہیں، لہٰذا ساس سسر کی خدمت تو دُور کی بات ہے، اُن کی عزت بھی نہیں کی جاتی۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہ ساس سسر تو بہو کے لیے ہوتے ہیں، شوہر کے تو والدین ہوتے ہیں۔ اس کو تو اپنے والدین کے حقوق کی آگاہی ہونی چاہیے۔ اور جب شوہر ان حقوق کو ادا کرے تو بہتر یہ ہو کہ بیوی اس کا ہاتھ بٹائے۔ لیکن اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم شوہر کی راہ میں مزاحمت نہ کرے۔ بہو کو صرف ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ جلد ہی وہ بھی کسی کی ساس بننے والی ہے۔ ہر فرد کوشش کرے کہ سب کے حقوق کی ادائیگی ہوسکے۔ شوہر کے والدین یا دیگر بزرگ جو ایک چھت تلے رہتے ہیں، اُن کے ساتھ محبت و ہمدردی کا سلوک کیا جانا چاہیے۔ اُنہیں اپنے والدین کی طرح سمجھا جائے۔ شوہر کا وجود، اس کی تعلیم و تربیت سب کچھ ان کی محنتوں کے باعث ہی ممکن ہے۔ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے بہت مشکل اور بہت دشوار زندگی گزاری ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جوانی میں بہت متحرک رہے ہوں۔ ایک بھرپور اور متحرک زندگی گزارنے والے بزرگ کے لیے چند لمحوں کی توجہ بھی بہت ہوتی ہے، جواب میں وہ آپ کے بچوں کی عمدہ نگہداشت کرسکتے ہیں۔
بچپن ہی میں اگر والدہ اولاد کو باہمی پیار و محبت، الفت اور باہمی احترام کے ساتھ رہنے کی تعلیم دے اور بچوں کو بزرگوں کے احترام کی اہمیت بتائے تو بچوں کو یہ باتیں تمام عمر یاد رہیں اور ساری عمر کام آئیں۔ خاندان کی ماں اگر بزرگ ہو تو ساس، نانی یا دادی کی صورت میں خاندان کو اکٹھا رکھنے کی بھاری ذمے داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔ یہی کلیہ مرد پر لاگو ہوتا ہے۔ والد، دادا، نانا یا سسر سب پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ خاندان بزرگوں ہی کے دم سے مضبوط ہوتا ہے۔ ایک اور اہم بات ہمیں فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ یہ بزرگ ہی خاندان کے بچوں کی بہتر تربیت کرسکتے ہیں، بگاڑ کی صورت میں بھی بہترین اصلاح کرسکتے ہیں۔ جہاں انسان ہوں گے، وہاں کچھ نہ کچھ اختلافات بھی ہوں گے۔ اختلافات کے مواقع پر باہمی احترام، درگزر، بُردباری اور رواداری سے کام لیا جائے تو مسائل آسانی سے حل ہوجاتے ہیں۔ اگر بزرگ سب کے مسائل اور شکایات ہمدردی سے سنیں اور ان شکایت و مسائل، ظلم و زیادتیوں کا ازالہ اس طرح کریں کہ بات بڑھنے کے بجائے ختم ہوجائے تو خاندان برقرار رہ سکتا ہے۔
افرادِ خاندان کے باہمی تعلقات خوش گوار ہوں تب ہی گھر، معاشرہ، شہروں میں سکون اور اطمینان قائم ہوسکتا ہے۔ جو رشتہ جتنا قریبی ہے، اُس کے ساتھ اُتنا ہی قریب ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ دنیا میں محبت سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں، اور اسی ہتھیار کے سہارے خاندانی رشتوں کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جاسکتا ہے، بس اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ زندگی اجتماعیت کا نام ہے، انفرادیت کا نہیں۔ روزانہ صرف چند لمحے، چند منٹوں کی سلام دعا رشتوں کو دوام عطا کرسکتی ہے۔ اپنوں کا نہ ہونا اتنی تکلیف نہیں دیتا، جتنا کہ اپنوں کے ہوتے ہوئے بھی ان سے دور رہنا ہوتا ہے۔ محبت کے ہتھیار سے رشتوں کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔ انسان اپنے خاندان کو کتنا بھی بھولنا چاہے، ہر دُکھ سُکھ میں خاندان اور خاندان والے ہی کام آتے ہیں۔ تنہا فرد کچھ نہیں ہوتا۔ زندگی کے ہر پہلو کی خوب صورتی انسانوں کے باہمی روابط سے بڑھتی ہے۔ بچوں کو صرف تمیز کے اسباق نہ سکھائیں، انہیں رشتوں سے آگاہی دیں، رشتوں کی اہمیت سے آگاہ کریں، باادب بنائیں، انہیں بزرگوں سے ادب اور تمیز سے برتاؤ کرنا سکھائیں۔ اگر رشتے ہی نہ ہوں تو وہ ادب اور تمیز کے ہتھیار کہاں استعمال کریں گے؟ پُرسکون زندگی کے لیے خاندان کا، رشتے داروں، عزیزوں اور اقربا کا ہونا لازمی ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید میں ہم بہت کچھ گنوا چکے ہیں، لیکن ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ ہماری سوچ کی ذرا سی تبدیلی سے ہمارا معاشرہ جنگل میں تبدیل ہونے سے محفوظ ہوسکتا ہے۔ اگر ہم تمام تر رعنائیوں اور خوب صورتیوں کے ساتھ زندگی کے روز و شب دیکھنا چاہتے ہیں تو دن کا کچھ حصہ خاندان اور رشتوں کے لیے مخصوص کرنا ہوگا۔ ان سے ملنا، دعا سلام کرنا، ان کی دعائیں لینا اور ان کے لیے دعائیں کرنا ہوں گی۔ اس تبدیلی کے بعد ہی ممکن ہوسکتا ہے کہ ہمیں ان خوشیوں کے لیے کسی ایک مخصوص دن کا انتظار نہ کرنا پڑے، جس میں مغرب مبتلا ہے!!

حصہ