(صوبائیت کا زہر(زاہد عباس

286

خدا نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر دنیا میں بھیجا عقل و شعور عطا کیا اور ساتھ ہی ایک ضابطۂ حیات دے کر یہ بھی بتا دیا کہ وہ ان اصولوں کے مطابق اپنی زندگی کا سفر جاری رکھے خدا کی طرف سے دیے اس ضابطۂ حیات پر عمل کرکے ہی فلاح پائی جا سکتی ہے بصورت دیگر زندہ تو رہا جا سکتا ہے مگر اس جینے کو اگر خسارے کی زندگی میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا آدم سے لے کر آخری نبی محمدؐ تک ہر آنے والے نبیؑ نے ایک ہی پیغام لوگوں تک پہنچایا جس کے مطابق خدا کے بتائے ہوئے قوانین کا احترام اور اس کے تحت ہی زندگی کی گاڑی کو چلانا ہے۔ خدا کے بتائے ہوئے قوانین پر عمل کرکے ہی دنیا اور آخرت میں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ آئینِ حیات ایسا آئین ہے جس میں کسی قسم کی کمی کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اضافہ۔ یہ ایک ایسا مکمل آئین ہے جو بنی نوع انسان کو کامیابی کے ساتھ منزل مقصود تک لے جاتا ہے، اس کے برعکس انسانی ذہن سے تخلیق کردہ آئین انسانوں کو تقسیم در تقسیم کرتا چلا جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی نے اپنے نظریات لوگوں پر مسلط کرنے کی کوششں کی تو مسائل نے جنم لیا اور کاروبارِ دنیا الجھتا گیا خطۂ زمین پر بسنے والے نہ صرف گروہوں میں بٹے بلکہ رنگ نسل اور زبان کی بنیاد پر تقسیم ہو کر رہ گئے فرعون ہو یا نمرود قرآن نے ہمیں بتا دیا کہ دنیا پر حکمرانی کا خواب لیے یہ ظالم عذاب کے مستحق ہی ٹھہرے۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ یہ غالب ہونے کے لیے ہی آیا ہے بے شک اس آئین پر ہی عمل کرتے ہوئے دنیا میں حکومت کی جا سکتی ہے۔ ایک ایسی حکومت جس میں انسانیت کی تقسیم نہ ہو جہاں عدل ہو، وہ حکومت جس کا حاکم عوام کے سامنے جواب دہ ہو اُن کا مسیحا ہو، جس مملکت میں لوگ تعلیم سے محروم نہ ہوں ایسا معاشرہ جہاں زکوٰۃ دینے والے تو ہوں مگر لینے والے نہ ہوں ایسا معاشرہ جس میں طاقت ور کمزور پر ظلم نہ کر سکے یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان اپنے رب کی طرف سے دیے گئے آئین کے مطابق زندگی بسر کرے مدینے میں قائم کی گئی حکومت نے دنیا کو بتا دیا کہ قرآنی معاشرہ کس طرح کامیاب ہوا لیکن بد قسمتی سے آج کا مسلمان قرآن سے دوری اختیار کرتے ہوئے دنیا کی رونقوں میں گم ہوتا چلا گیا اور خدا کے بتائے ہوئے قوانین کو چھوڑ کر انسانوں کے بنائے ہوئے آئین پر عمل کرنے لگا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان رنگ و نسل کی بنیاد پر تو کہیں زبان کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم ہوتا چلا گیا مذاہب کے نام پر تعصب کو بڑھاوا دیا جانے لگا خدا کی طرف سے انسان کو زندگی گزارنے کا جو اصول دیا گیا اسے اپنی اپنی قوم کے لیے تصور کیا جانے لگا دنیا کی بات چھوڑیے مملکتِ خدا داد پاکستان کی مثال ہی لے لیجیے، اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے اس ملک میں جہاں خدا کا نظام نافذ کرنے کی نوید سنائی گئی تھی پہلے دن سے تیرے میرے کی جنگ ہونے لگی یہاں بھی انسان نے اپنے ذہن کا استعمال کیا اور قرآن کو چھوڑ کر انسانی نظریات کو قائم کرنے کا نتیجہ قوم کے سامنے ہے، قیامِ پاکستان کے بعد چند برسوں ہی میں زبان کی بنیاد پر ملک دولخت ہو گیا۔
دنیا میں زبان کا تعصب سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ زبان کی بنیاد پر بڑی تیزی سے تقسیم ہو جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کا قیام بتاتا ہے کہ لسانیت کس تیزی سے اپنا کام کرتی ہے مشرقی پاکستان کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ حکمران ایسے اقدامات کرتے جن سے نفرتوں اور تعصبات میں کمی آتی، لوگوں میں محبتیں بڑھتیں، تعصب کی آگ کو ہوا دی جانے لگی پنجابی، پختون، بلوچی اور سندھی کے نام پر عوام کو تقسیم کیا جانے لگا سیاسی جماعتوں نے پاکستانی قوم کے ساتھ جو سیاست کی مجھے یہاں اس کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں میں تو صرف اس تعصب کی بات کرتا ہوں جسے پاکستان میں سیاست کے نام پر بڑھاوا دیا گیا، خدا کے آئین کو چھوڑ کر آئین پاکستان میں ایک سے بڑھ کر ایک ایسی شق ڈالی گئی جو پاکستانیوں کو زبان کی بنیاد پر تقسیم کرتی چلی گئی صوبائی خود مختاری کے نام پر پاس کی گئی آئینی ترمیم نے تو کام تمام کرکے رکھ دیا، اختیارات کی صوبائی حکومتوں کو منتقلی کے نام پر اس آئینی شق نے ہر صوبے کو اپنے تیءں ایک ملک کا درجہ دے دیا لسانیت میں اس قدر اضافہ ہوا کہ مرکزی سیاست کرنے والی جماعتیں بھی صوبائی سیاست کرنے لگیں حکمران زبان کی بنیاد پر اپنے اپنے علاقوں میں ترقیاتی کام کرنے لگے کسی سیاسی جماعت کو اب کیا ضرورت کہ وہ وطن عزیز کے چپے چپے کے لیے ترقیاتی منصوبے بنائے۔ صوبہ مرکز پر الزام لگاتا ہے تو مرکز صوبوں کو نظر انداز کرتا ہے وفاق کی سیاست کرنے والی جماعتوں کا یہ رویہ دیکھ کر ایک عام سیاسی کارکن نے بھی یہ فیصلہ کرلیا کہ وہ بھی اپنے صوبے میں ہم زبان قائدین کا ہی ساتھ دے گا جس سے لسانی جماعتوں کو تقویت ملی، بڑی جماعتوں نے اس کو بھانپتے ہوئے یہ بہتر سمجھا کہ وہ بھی صوبائی سیاست کرکے ہی زندہ رہ سکتیں ہیں سیاسی قائدین نے پاکستان میں بڑھتی لسانیت پر آنکھیں بند کر لیں جب ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو لازمی طور پر یہی نتیجہ نکلنا تھا کہ آج ملک کے چپے چپے میں تعصب نے وہ پنجے گاڑے ہیں جس سے چھٹکارا حاصل کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔ ملک میں ہر طرف حقوق اور اختیار کی آوازیں بلند ہوتی سنائی دے رہی ہیں نا اہل سیاست دانوں نے صوبائی خود مختاری کے نام پر پاکستانیوں کے درمیان تعصب کی وہ لکیر کھینچ دی جس کو مٹانے کا مطلب زبان سے غداری تصور کیا جانے لگا یعنی اگر آپ اس نام نہاد صوبائی خود مختاری پر بات کرنے کی کوشش کریں تو ہر صوبہ اسے اپنے اوپر حملہ تصور کرنے لگتا ہے اس آئینی شق سے نہ صرف صوبائیت میں اضافہ ہوا بلکہ ایک صوبے میں برسوں سے آباد مختلف قومیتوں کے درمیان بھی دوریاں بڑھنے لگیں، سندھی زبان بولنے والوں نے سندھ کو اپنی جاگیر بنا لیا تو پنجابی زبان کے اعتبار سے پنجاب کے حاکم بنے یہی بلوچستان اور کے پی کے میں ہونے لگا۔
یہ بات ہر انسان جانتا ہے کہ جب آپ زبان کی بنیاد پر صوبے بنائیں گے اور اس پر صوبائی خودمختاری جیسی متعصب ترین شق لائیں گے تو ملک کو لسانی طور پر تقسیم سے کوئی نہیں روک سکتا، اس کی تازہ ترین مثال ہمیں ردالفساد آپریشن کے شروع ہونے پر نظر آئی جب حکومت پنجاب کی طرف سے ایسے اقدامات کیے گئے جس سے پختونوں کو صوبۂ پنجاب میں کافی دشواریاں ہوئیں۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنی زبان پر فخر کرتا ہے اس کا مطلب بالکل یہ نہیں ہوتا کہ زبان کی بنیاد پر لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرکے اپنی حکمرانی کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ حکمرانوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ مختلف زبانیں بولنے والوں کے درمیان تفریق نہ ہونے دیں ایک مرکزیت کی طرف عوام کو لے جانے سے ملک مضبوط ہوا کرتے ہیں اگر حکمران خود ہی ایسے قوانین بنائیں جس سے تفریق پیدا ہو تو ان کی عقلوں پر ماتم کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی صوبائیت کو اگر نہ روکا گیا تو یقین جانیے اس کے نتائج بڑے بھیانک نکل سکتے ہیں خاص کر خطے کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے جہاں افغانستان میں بیٹھ کر بھارت مستقل ہمارے خلاف کارروائیاں کررہا ہے ہمیں حالات کی نزاکت کو سمجھنا ہوگا حکمرانی کا وہ انداز اپنانا ہو گا جس سے عوام کو مطمئن کیا جا سکے صوبائی حکومتوں کے بجائے اختیارات کا وہ فارمولا بنانا ہوگا جو زبان کی بنیاد پر بنے صوبوں سے تعصب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے، اس سلسلے میں اگر ڈویژن کی سطح پر اختیارات دیے جائیں تو کافی حد تک تعصب اور نفرت کا خاتمہ ممکن ہے جب ہر ڈویژن عوام کے لیے با اختیار ہو گا تو لوگ سندھ پنجاب کے بجائے اپنے ڈویژن کا نام لیں گے اس سے سندھی، پنجابی، پختون اور بلوچی زبانوں پر الزام کے بجائے وفاق مضبوط ہو گا ہمیں صوبائی خود مختاری کے نام پر پاس کی گئی اس آئینی شق پر بھی نظرثانی کرنی ہو گی جس نے ملک میں نفرتوں میں اضافہ کیا۔ جمہوریت کا راگ الاپنے سے بہتر ہے کہ اس راستے کا انتخاب کیا جائے جس پر چل کر دنیا اور آخرت میں سرخ رو ہوا جا سکے چور دروازے سے عوام کو لڑا کر حکومت میں آنے سے بہتر ہے کہ عوام کی امنگوں کے مطابق قوانین بنائیں جائیں وہی حکومتیں جمہوری ہوا کرتی ہیں جو خدا کے بنائے ہوئے قوانین پر چلیں انسان کے تخلیق کردہ قوانین انسانیت دشمن تو ہو سکتے ہیں انسان دوست نہیں۔
nn

حصہ