(علیردالفسار(سلمان

202

اس میں کیا شک ہے کہ ذرائع ابلاغ نے عوام الناس کی سیاسی بلوغت میں خاطرخواہ اضافہ کیا ہے۔ چین میں آج سے آٹھ ماہ قبل سماجی میڈیا سے خبریں لفٹ کرکے شائع کرنے پر سخت کارروائی کی گئی، کیونکہ اُن کے مطابق سماجی میڈیا پر آنے والی خبریں بغیر تصدیق اخبارات نے شائع کرنا شروع کردی تھیں۔ سماجی میڈیا اطلاعات اور خبروں کی ترسیل کے ساتھ ساتھ آزادانہ آراء کے فروغ کا بھی مؤثر ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے، کیونکہ اس سے قبل ٹی وی یا ریڈیو پر سامعین و ناظرین سامنے والے کی سننے پر مجبور تھے، مگر اب وہ خود بھی بہت کچھ لکھ اور بول سکتے ہیں، خصوصاً پاکستان کے ابلاغی ماحول میں جہاں ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر خودساختہ دانش وروں اور نت نئے تجزیہ کاروں کی بھرمار کے نتیجے میں ریٹنگ کی ایسی دوڑ شروع ہوچکی ہے جس میں ہر شخص اپنا حصہ ملانے کو بے تاب ہے۔ ایسا نہیں کہ مذکورہ حصہ درست یا غلط ہے، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ ہمارے نوجوان طبقے میں ایسے گروہ نے بھی جنم لے لیا ہے جس نے انٹرنیٹ کو فلموں، ڈراموں، جنس مخالف سے رابطے بڑھانے اور وقت کے ضیاع کی دیگر سرگرمیوں کے بجائے سنجیدہ موضوعات اور ملکی معاملات میں دلچسپی اور رائے کا اظہار اپنے الفاظ میں کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ صحافت میں کالم نگاری ایک بڑا عالمانہ اور فکری قسم کا ایسا کام سمجھا جاتا تھا جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ آج انٹرنیٹ کی دنیا میں بلاگ کی صورت بے شمار ویب سائٹس پر، واٹس ایپ اور فیس بک پر تحریروں کی بھرمار ہوچکی ہے۔ چونکہ کوئی سنسر نہیں، لہٰذا دے مار ساڑھے چار کے مصداق کاپی پیسٹ اور اپ لوڈ جیسے فنکشن کی بدولت سنجیدہ، غیر سنجیدہ، تازہ و منقول ہر قسم کا مواد دستیاب برائے مطالعہ اور تبصرہ بھرا پڑا ہے۔ یہ ایک ٹھوس حقیقت بن چکی ہے کہ سیکولرازم، لبرل ازم کے مقابلے میں اسلام اور پاکستان کا دفاع کرنے کا یہ ایک مؤثر پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ اس لیے ایک نظریاتی مملکت میں انٹرنیٹ، میڈیا، سماجی میڈیا پر سنجیدہ فکر رکھنے والے حقیقی محبِ وطن اور اسلام سے محبت کرنے والوں کی موجودگی کسی نعمت سے کم نہیں۔ اُن کی مثال میں اُن اللہ والوں کے مصداق قرار دیتا ہوں کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر دنیا سے نیک لوگ ختم ہوجائیں گے تو دنیا ہی ختم ہوجائے گی۔ سوشل میڈیا سے وابستگی اور چاروں طرف چھائی بے حسی اور رنگینی کے اس ماحول میں جب انسان اپنے ہی اطراف سے غافل ہوجائے تو مستقبل میں بھیانک نتائج مرتب ہوں گے ۔پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد حالات کو قابو میں لانے کے لیے پاک فوج نے ایک اور فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا جسے آپریشن ردالفساد کا نام دیا گیا ہے۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے، ملک میں امن ہونا چاہیے اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ مگر اتفاق یا حسنِ اتفاق سے ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ ملک کے سوچنے سمجھنے والے طبقات نے ایسے سوالات پیدا کردیے کہ اس آپریشن کا ہی آپریشن شروع ہوگیا۔ پاک فوج کے جذبات، ہمت اور جرأت کو مہمیز دینے کے لیے بے شمار تہنیتی اور حب الوطنی سے معمور پیغامات اور ہیش ٹیگز نے اپنی جگہ بنائی، مگر پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائیوں نے اندرون خانہ شاید سب پر پانی پھیر دیا۔ ملک میں لگاتار چار بم دھماکوں کے تین چار دن بعد ہی سیکورٹی فورسز کی تیار شدہ پریس ریلیز کے بقول ڈیڑھ سو سے زائد دہشت گرد مقابلوں میں مار دیے گئے۔اس بھرپور کارروائی نے جہاں سیکورٹی فورسز کو خوب داد دلائی وہیں ایسے ایسے سوالات کھڑے کردیے کہ ’’جولی ایل ایل بی 2‘‘ کی کہانی حقیقت بن کر سامنے آگئی۔گو کہ پی ایس ایل کے شور میں اس سنجیدہ موضوع کو دبایا گیا، مگر چونکہ بہنے والا لہو بے آواز تو ہوتا ہے مگر بے رنگ نہیں، اس لیے اُس نے اپنا رنگ سماجی میڈیا کے سفید صفحات کو بھی سیاہ کرکے ظاہر کیا۔
ملک کے مؤقر روزنامہ ایکسپریس میں مورخہ21 اکتوبر 2015ء کو شائع شدہ خبر:’’4 ماہ قبل لاپتا ہونے والے دو بھائیوں (اجتبیٰ فیروز، اصباح فیروز) کے والد فیروز احمد نے ارباب اختیار سے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں مبینہ طور پر لاپتا کیے جانے والے بچوں کو بازیاب کرایا جائے یا ہمارے گھر پر ڈرون پھینک دیا جائے تاکہ ہم سب ختم ہوجائیں‘‘۔۔۔ کے تناظر میں اسامہ شفیق نے آپریشن ردالفساد یا الفسادکے عنوان سے اپنی وال پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات کھڑے کیے ہیں: ’’9/11 کے بعد سے پاکستان میں فوجی آپریشنز کی بہار لگی ہوئی ہے۔ ہر آرمی چیف کی تبدیلی کے ساتھ ایک نیا آپریشن نئے ماہر سرجن کی نگرانی میں شروع کردیا جاتا ہے اور بے چاری مریض قوم کو یہ حق بھی نہیں کہ گزشتہ آپریشنز کے بارے میں سوال ہی کرسکے کہ ان آپریشنز کے بعد مریض قوم میں کیا بہتری پیدا ہوئی؟ 9/11 کے بعد سے چار آرمی چیف اس ملک کا مقدر بنے، تو ہر ایک نے اپنے آپریشن کا نیا برانڈ متعارف کروایا۔ پرویزمشرف، اشفاق پرویز کیانی، راحیل شریف اور اب قمر جاوید باجوہ۔۔۔ اسی طرح چار آپریشن راہِ نجات، راہِ راست، ضربِ عضب، اور اب ردالفساد۔ میں ان آپریشنز کا پُرزور حامی ہوتا اگر ان تین کے نتیجے میں ملک میں امن وامان قائم ہوتا۔ دہشت گردوں کی بیخ کنی ہوجاتی اور ملک میں امن و خوشحالی کا دور دورہ ہوتا۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا اور پاکستان کی تاریخ میں افواجِ پاکستان آئینی، عدالتی اور غیر قانونی حراست کے اختیارات رکھنے کے باوجود نہ تو انصاف کرسکیں اور نہ ہی اپنے اختیارات کا درست استعمال۔ میں یقیناًیہ تحریر نہیں کرتا اگر اصل حقائق تک میری رسائی نہ ہوتی۔ آپریشن ردالفساد کے ساتھ ہی پہلے دن سیہون حملے کی پاداش میں 100افراد کو پولیس اور رینجرز مقابلے میں ہلاک کردیا گیا۔ ان میں سے ایک نام اجتبیٰ فیروز کا بھی ہے۔ آج سے ڈیڑھ سال قبل رات کے آخری پہر سادہ لباس میں ملبوس سیکورٹی فورسز کے اہلکار گھر پر چھاپہ مار کر دو سگے بھائیوں کو بلا کسی وجہ کے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر لے گئے۔ 90 دن بنا کسی الزام کے حراست میں رکھنے کے قانون کے باوجود اور فوجی عدالتوں کو سزا کا اختیار رکھنے کے باوجود نہ تو ان دو سگے بھائیوں کو کسی فوجی اور غیر فوجی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی، اور چار دن قبل اجتبیٰ فیروز کو رینجرز مقابلے میں ہلاک کرکے بنی بنائی پریس ریلیز جاری کردی گئی۔ لاش کو لواحقین کے حوالے کردیا گیا۔ یہ کون سا آپریشن ہے کہ جس میں براہِ راست سیکورٹی فورسز زیر حراست لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر ٹھکانے لگا رہی ہیں! اور یہ سب کچھ نہ تو بلوچستان کے ریگ زاروں میں ہورہا ہے اور نہ ہی خیبر پختون خوا کے پہاڑوں میں۔ یہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہورہا ہے، لیکن کوئی نہیں جو ان مظالم کے خلاف آواز اٹھائے۔ کوئی انسانی حقوق کی تنظیم، کوئی سیاسی و مذہبی جماعت اور کوئی عدالت ان ماورائے عدالت اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے کو تیار نہیں۔ یہ کون سا آپریشن ہے کہ جس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دوسری جانب سے بھی دہشت گردی کی جارہی ہے، اور لقمہ اجل دونوں طرف کے بے گناہ بن رہے ہیں۔ نہ تو ریاست انصاف کرتی ہے اور نہ ہی مبینہ دہشت گرد۔ دونوں طرف سے ایک ہی رٹ ہے، بقول جالب
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
ریاست کو اب بھی ہوش نہ آیا اور یونہی یہ زیرحراست بے گناہ لوگ مقابلوں میں مارے جاتے رہے تو یہ دہشت گردی قیامت تک ختم نہیں ہوسکتی۔ جس باپ کے سامنے اُس کے زیر حراست بیٹے کو مقابلے میں ہلاک کرنے کے بعد اس کا لاشہ رکھ دیا جائے تو وہ کس ریاست، کس عدالت اور کس قانون پر یقین کرے؟ یہی کہانی وزیرستان سے لے کر آواران اور کراچی تک پھیلی ہوئی ہے۔ اگر کسی کو وزیرستان تک رسائی نہیں تو میں اس کو کراچی کے اجتبیٰ فیروز کے گھر لیے چلتا ہوں۔ پھر اجتبیٰ کی والدہ اور والد کے سامنے بیٹھ کر سوال کریں کہ دہشت گردی کیسے ختم ہوگی؟ اگر سچ سننے، بولنے اور سچ کو سچ کہنے کی ہمت ہے تو آئیں سچ بولیں، ورنہ یہ اظہارِ آزادئ رائے، آزاد میڈیا سب ایک فریب ہے۔ صرف بالادست کے ہاتھوں میں ایک کھلونا، کہ جو مظلوم کو ظالم بناکر دکھاتا ہے۔‘‘
منصور احمد خان اس پوسٹ کے ذیل میں مزید پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے اپنے احساسات کو مزید تاریخی شواہد کے ساتھ یوں بیان کرتے ہیں:
’’آپریشن المیزان 2002-2006ء (فاٹا) ۔آپریشن راہِ حق نومبر 2007ء (سوات) ۔آپریشن شیر دل ستمبر 2008ء (باجوڑ) ۔آپریشن زلزلہ 2008-9ء (ساؤتھ وزیرستان)۔آپریشن صراط مستقیم 2008ء (خیبر ایجنسی)۔آپریشن راہِ راست مئی 2009ء (سوات) ۔آپریشن راہِ نجات اکتوبر 2009ء (ساؤتھ وزیرستان) ۔آپریشن کوہ سفید جولائی 2011ء (کرّم ایجنسی)۔آپریشن ضربِ عضب جون 2014ء۔ آپریشن کراچی تاحال جاری۔ لاتعداد کومبنگ آپریشن (پورا پاکستان) ۔آپریشن ردالفساد 2017ء (پورا پاکستان)۔ ایک بیماری کے پیچھے اتنے سارے آپریشن کرنا مریض کی غلطی نہیں بلکہ طبیب کی نااہلی کا ثبوت ہے۔‘‘
سمیع قائم خانی نے چند ماہ قبل گستاخانہ مواد سوشل میڈیا پر جاری کرنے والے کچھ افراد کی گمشدگی کے دوران احتجاج کرنے والی نام نہاد لبرل سوسائٹی کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ
’’سلمان حیدر و دیگر بلاگرز کی ماورائے عدالت گرفتاریوں پر چاؤں چاؤں کرنے والے دانشور حالیہ دہشت گردی کی لہر کے بعد سیکورٹی فورسز کی طرف سے ایک ہی جھٹکے میں ماورائے عدالت لپیٹے گئے 105 ملزمان کے لیے ’’چوں‘‘ بھی نہیں کررہے۔۔۔ دراصل سلمان حیدر و دیگر نے اِنہیں بتادیا تھا کہ جب ناخن کو پلاس سے پکڑتے ہیں اورگوشت کو گرم چمٹے سے دبایا جاتا ہے تو ساری کامریڈی، بھگت سنگھی، دیسی لبرل ازم اور پاکستانی سیکولرازم ایک چیخ میں نکل جاتا ہے۔‘‘
محمد عبید نے اپنی وال پر پاک فوج کے لیے نیک تمنائیں اور مکمل پشت پناہی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
I support Pak Army in the execution of Op. Radd-ul-Fasaad. This op. aims at indiscriminately eliminating the menace of terrorism across the country. I know the Pak Army will not hesitate to lay down their lives to eliminate terrorism from Pak. I pray for their success. The days of these terrorists are now numbered #OperationRaddUlFasaad۔
مہتاب عزیز اس دوران امریکی ڈرون حملے کے آغاز پر نہایت فکر انگیز سوال اٹھاتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ
’’میڈیا رپورٹس کے مطابق آج امریکی ڈرون طیاروں نے لوئر کرم ایجنسی کے علاقے میں ڈرون حملہ کیا ہے۔ ماضی میں ہمارا غیر اعلانیہ مؤقف تھا کہ ڈرون حملے اُن علاقوں میں ہورہے ہیں جہاں ہماری فورسز کی رسائی بہت محدود ہے۔ اس لیے یہ ہماری خودمختاری کے منافی ہونے کے باوجود قومی سلامتی کے لیے مفید ہیں۔ لیکن اب آپریشن ضرب عضب کی کامیاب تکمیل اور آپریشن ردالفساد کی کامیابیوں کے عین درمیان، ڈرون حملوں کی صورت میں قومی وقار اور خودمختاری کی اس طرح تحقیر پر خاموشی کا کیا جواز ہوسکتا ہے؟ کیا ہمارے اربابِ اختیار غور فرمانے کی زحمت کریں گے کہ اس سے قوم کو کیا پیغام دیا جارہا ہے؟ دوسری جانب حکومتِ پنجاب کی جانب سے پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے حوالے سے جن اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے اُس پر بھی خاصی تنقید کی گئی ہے۔ گو کہ حکومتِ پنجاب نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے مگر جس تیزی سے سماجی میڈیا پر لاہور کی ایک تاجر انجمن کا ہینڈ بل اور آئی ایس پی آر کے نام سے مختلف پیغامات کا اجراء ہوا وہ آگ لگانے کے لیے کافی تھا۔‘‘
فہیم پٹیل نے اپنے احساسات اور واقعات کا یوں تجزیہ کیا ہے:
’’جن کی شناخت یہ تھی کہ وہ کبھی لسانیت اور تعصب کا شکار نہیں ہوئے، آج وہ بھی پنجابی اور پختون بن گئے۔ لاہور کے مقامی تھانے کے افسران کی غلطی نے اتنا تعصب اور نفرت نہیں پھیلائی جتنا پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگوں نے دو دن سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گند مچا رکھی ہے۔ کیا یہ ضروری ہے کہ پختونوں کی حمایت کے لیے پنجابیوں کو رگڑا جائے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ پنجابیوں کو اچھا ثابت کرنے کے لیے دوسروں پر کیے جانے والے احسانات کا پرچار کیا جائے؟ بس کیجیے جناب! آپ کیوں اپنا معیار تھانے کے حوالدار تک کھینچ لائے ہیں؟ نفرت کے بجائے سب کو قریب لانے کی کوئی ترکیب کیجیے،کیونکہ یہ کام آپ زیادہ بہتر طریقے سے کرسکتے ہیں!‘‘
کاشف نصیر نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ:
’’پختونوں کے ساتھ بنگالیوں کا سا سلوک نہ کریں، اس خوبصورت، ہنرمند اور جفاکش قوم کے مسلم ہندوستان پر بڑے احسانات ہیں، اس کا ہی مان رکھ لیں‘‘۔
کاشف نصیر کی پوسٹ کے جواب میں مصطفی خاور رقم طراز ہیں کہ:
’’پاکستانی پٹھانوں کی اوٹ میں چھپے ہوئے افغانیوں کو اگر دریافت کیا جارہا ہے تو میرے خیال میں پٹھانوں کو اس بات پر واویلا کرنے کے بجائے اپنی حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، تاکہ غیر قانونی غیر ملکیوں کو ملک سے نکالا جا سکے۔ کے پی کے میں خود پٹھان لوگ افغانوں سے تنگ ہیں۔ اپنے پٹھانوں کے کام کاروبار کے تحفظ کے لیے کہیں سے تو آپریشن شروع کرنا ہی پڑے گا۔ اب اگر پنجاب سے شروع ہوا ہے تو میرے خیال میں بہتر ہی ہوا ہے‘‘۔
ملک میں تعصب کی اس نئی لہر کے خاتمے کے لیے معروف بلاگر رعایت اللہ فاروقی بھی ’’یہ ہے میرا پاکستان‘‘ کے عنوان سے خوبصورت منظرکشی کرتے نظر آئے:
’’2005ء میں ہولناک زلزلہ آیا تو اس سے خیبر پختون خوا میں واقع میرا ضلع بھی متاثر تھا۔ میں اور میرا بھائی اس ضلع میں مدد کو پہنچے تو ہمارے ساتھ ہمارے دو پنجابی اور دو مہاجر دوست بھی تھے جو اپنے ذاتی لاکھوں روپے وہاں خرچ کرنے آئے تھے۔ یہ ہے میرا پاکستان۔کچھ عرصہ قبل میرا ایک بھائی اپنے دوستوں کے ساتھ نصف شب کے وقت سندھ کی ایک ویران شاہراہ سے گزر رہا تھا تو ٹائر پنکچر ہوگیا۔ وہ ٹائر بدلنے کو رکے تو پیچھے سے ایک بڑی گاڑی بھی آکر رک گئی، ایک وڈیرہ ٹائپ شخص اپنے گن مینوں کے ساتھ اترا اور وہیں کھڑا ہوگیا۔ میرے بھائی نے شکریہ ادا کرکے آگاہ کیا کہ کسی قسم کی مدد درکار نہیں تو وہ یہ کہہ کر آخر تک کھڑا رہا ’’یہ علاقہ محفوظ نہیں، آپ کو تنہاء نہیں چھوڑا جا سکتا‘‘ یہ ہے میرا پاکستان۔ میں نصف شب کے قریب اسلام آباد کے جی 8 سیکٹر سے ایک کرسچین کی ٹیکسی میں بیٹھ کر پنڈی اپنے گھر آیا اور جیب میں صرف ہزار کا نوٹ تھا، چینج نہ ہونے کے سبب میں نے یہ کہہ کر وہ نوٹ اسے دے دیا ’’جب بھی اس علاقے میں آنا ہو، بقایا دے جانا۔‘‘ وہ کرسچین اگلے روز 700 روپے گھر دے گیا۔ یہ ہے میرا پاکستان۔ اسلام آباد کے آئی 10 سیکٹر میں میرا بیٹا بیمار ہوا، میں ٹیکسی والے سے بھاؤ تاؤ کیے بغیر فوراً اسے ٹیکسی میں ڈال کر پمز پہنچا اور ٹیکسی والے سے کرایہ پوچھا تو اس نے کہا ’’میں مریضوں سے کرایہ نہیں لیتا‘‘۔ عرض کیا ’’مجھے کوئی تنگی نہیں، آپ لے لیں‘‘ تو اس نے کہا ’’اللہ آپ کو اور دے، مگر میں مریضوں سے کرایہ نہیں لیتا‘‘ یہ ہے میرا پاکستان۔ میں بہت ہی اداس کیفیت میں کراچی کے ایک چائے خانے پر بہت دیر سے بیٹھا تھا، دس برس کا کوئٹہ وال ویٹر بچہ میرے پاس آیا اور مسکراتے ہوئے پوچھا ’’تم کیوں اتنا پریشان بیٹھا ہے؟‘‘ اور میرا سارا دکھ اسی لمحے ختم ہوگیا۔ یہ ہے میرا پاکستان۔ جو میرے اس پاکستان میں نفرت کا پرچار کرے وہ میرا دوست تو ہرگز نہیں ہوسکتا۔‘‘

حصہ