(چمکیلی کاروں میں منجن بیچنے والے کیا کھوج رہے ہیں (زاہد عباس

282

پہلے زمانے میں دانتوں کی صفائی کے لیے مختلف چیزوں کا استعمال کیا جاتا۔ گھر کے بزرگوں کا معمول تھا کہ فجر کی نماز سے پہلے اٹھتے اور نیم کی چھوٹی سی ٹہنی توڑ کر مسواک بنا لیتے جس سے دانتوں کو صاف کیا جاتا۔ بازاروں میں مسواک کی فروخت بھی ہمارے سامنے ہے، مطلب یہ کہ دانتوں کی حفاظت اور صفائی کا ذریعہ مسواک ہوتی۔ گھر کی خواتین دنداسہ استعمال کرتیں، جس کو دانتوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ ہونٹوں اور مسوڑوں پر بطور سرخی بھی استعمال کیا جاتا۔ ذرا ذہن لگایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت لوگوں کے پاس دانتوں کی صفائی اور حفاظت کے لیے اور بھی طریقے تھے، مثلاً اخروٹ اور بادام کے چھلکوں کو جلاکر اسے اچھی طرح پیس لینے اور ذرا سا نمک ملا کر جو راکھ بنتی، وہ بھی دانتوں کی صفائی کے لیے بہترین سمجھی جاتی یا پھر کوئلے کوٹ کر اس سے بھی کام چلالیا جاتا۔ شاید، یہ ہی وجہ تھی کہ شہر کی گاڑیوں اور بس اسٹاپوں پر چیزیں فروخت کرنے والوں سے زیادہ تعداد منجن فروشوں کی ہونے لگی ان منجن فروشوں نے بڑی تیزی کے ساتھ اس کاروبار کو چلانے کی کوشش کی۔ اندرون شہر اور بیرون شہر جاتی کوئی پبلک ٹرانسپورٹ ایسی نہ تھی جس میں منجن نہ بیچاگیا ہو۔ میرا مطلب ہے کہ دوران سفر کچھ ملے نہ ملے، لیکن منجن ضرور مل سکتا ہے اُس وقت منجن فروخت کرنے والے صاحب ایک چٹکی میں شفاکے نام پر وہ وہ دعوے کرتے سنائی دیتے، گویا ہر مرض کا علاج صرف اور صرف یہ منجن ہی ہو۔ دانت کے درد سے لے کر پائیریا جیسے مرض کا علاج کرتے یہ صاحب گاڑی کے چکر کاٹتے نہ تھکتے۔ ان کا دعویٰ ہوتا کہ سچائی تجربے کی محتاج ہے، سچائی کے لیے ایک چٹکی مفت منجن، خالص اجزا کا منہ بولتا ثبوت ہوا کرتی۔ اس دلیل کے بعد مسافروں پر منحصر ہوتا کہ وہ منجن خریدیں یا نہ خریدیں۔ اسی طرح، دانتوں کے لیے بہترین فارمولے کے نام پر منجن کی فروخت ہوا کرتی۔ نہ جانے کیوں منجن کی فروخت دورانِ سفر یا پھر بس اسٹاپوں پر ہی ہوا کرتی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ہر چیز میں ترقی آتی گئی۔ بھلا، منجن کس طرح پیچھے رہ سکتا تھا۔ کل تک پبلک ٹرانسپورٹ میں بکنے کی ناکام کوشش کے بعد آج منجن ’’صاحب کار‘‘ ہوگیا یعنی اگر کراچی کی گلیوں، بازاروں اور شاہراہوں پر نظر دوڑائی جائے تو اب یہ منجن ہمیں کاروں میں فروخت ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ میں نے جب اس صورت حال کا جائزہ لیا تو حیران رہ گیا کہ آج چمکتی کاروں اور ہائی روف میں منجن فروخت ہورہا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ چمکتی کاروں میں سے دس روپے منجن کی آوازیں لگاتے افراد خود گاڑیوں کے مالک بھی ہیں اور ان کا کسی بھی علاقے میں بڑے آرام و سکون کے ساتھ اپنی ذاتی گاڑی میں ٹھاٹ سے بیٹھ کر صرف دس روپے میں منجن فروخت کرنا معنی خیز ہے۔ سارا دن کار کا مستقل چلنا، سی این جی کا خرچہ خود مالک کے گھر کے اخراجات گاڑی کی سروس۔۔۔کون سے کلیے کے تحت نکالے جاسکتے ہیں؟ میں نے کئی مرتبہ ایسی ہی نہ جانے کتنی گاڑیوں کی کھوج لگانے کی کوشش کی تاکہ میں یہ جان سکوں کے اتنے زیادہ اخراجات دس روپے والے منجن جس کی فروخت پر بھی کئی سوالیہ نشان ہوں، سے کس طرح پورے کیے جا سکتے ہیں؟ میری سمجھ میں یہ بات اب تک نہ آئی۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ سارا دن جگہ جگہ چکر لگا کر اتنے منجن نہیں بکتے ہوں گے جس سے صرف گاڑی کے لیے سی این جی بھروا لی جائے۔ میرے نزدیک ان منجن فروشوں سے کہیں زیادہ پیسے ایک دھاڑی دار مزدور کما لیتا ہو گا، پھر ایسا کون سا فارمولا ہے، جس کی بنیاد پر یہ صاحب کار منجن نہ بکنے پر بھی تمام اخراجات پورے کررہے ہیں۔ میں ان کار والوں کی اداؤں کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ ہاتھ میں مہنگی سگریٹ کا پیکٹ صاف ستھرے کلف لگے کپڑے چہرے سے بڑے مطمئن، جنہیں دیکھ کر بالکل بھی اس بات کا اندازہ نہ ہو کہ موصوف منجن فروش ہیں بلکہ ان کی چال ڈھال بات کرنے کے انداز سے وہ کسی محکمے کے سربراہ سے کم نہیں لگتے۔ میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو برسوں سے بچوں کی چیزیں سپلائی کر رہے ہیں۔ کئی دہائیوں سے سپلائی کرنے کے باوجود وہ لوگ آج بھی سائیکل پر ہی اپنے گھر والوں کے لیے روزی کماتے نظر آتے ہیں اُن میں اتنی بھی تبدیلی نہ آسکی کہ وہ سائیکل سے ترقی کرکے موٹر سائیکل تک ہی آجاتے وہ تو بمشکل گھر چلانے کی ہی سکت رکھتے ہیں۔ اُن کے چہروں سے غربت صاف دکھائی دیتی ہے۔ دن رات سائیکل چلا کر اپنے بچوں کے لیے کچھ کرنا ہی ان کی ترقی ہے۔ شہر کراچی میں نہ جانے کتنے لوگ اسی طرح محنت کرکے صرف دو وقت کی روٹی ہی کما سکتے ہیں۔
اگر ہمارے سامنے حقائق کے منافی مثالیں ہوں تو پھر ذہن میں شک کا پیدا ہونا فطری عمل ہے اور کیوں نہ ہو جب ملک کے حالات خراب ہوں، جگہ جگہ بم دھماکے ہوں تو اپنے سائے سے بھی ڈر لگتا ہے۔ میں کسی کے روزی کمانے کا مخالف نہیں اور نہ ہی میرا ارادہ کسی کی ذات پر انگلیاں اٹھانے کا ہے۔ میں تو اس بات پر پریشان ہوں کہ جس منجن کا خریدار دور دور تک دکھائی نہ دے اور فروخت کرنے والے کاروں میں بیٹھ کر بیچنے کی ناکام کوشش کرتے رہیں، ان کے پیچھے ایسے کون سے عوامل ہیں، جو اتنے زیادہ ہوتے اخراجات پورے کررہے ہیں۔ دنیا میں کوئی کاروباری شخصیت ایسی نہیں، جو ہر روز نقصان برداشت کرکے بھی کاروبار جاری رکھے اور اپنی جیب سے رقم لگاتی رہے۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ شہر کراچی کی سڑکوں، محلوں میں دوڑتی یہ گاڑیاں اب تک کسی کی نظر میں کیوں نہ آئیں؟ کسی نے ان پر اب تک کوئی سوال کیوں نہ اٹھایا جو کاروبار سائیکل کے اخراجات پورے نہ کرسکے وہ چمکتی گاڑیوں میں کس طرح کیا جا رہا ہے؟؟ میری تحریر کا مقصد ان قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پیغام دینا ہے، جو دن رات وطن عزیز کو پُرامن بنانے میں مصروف ہیں۔ اگر ہم اپنے اطراف نگاہ ڈالیں تو ایسے کئی پھر اسرار کردار دکھائی دیں گے۔ اب اس مرتبہ گزرتی سردیوں کو ہی لے لیجیے، جب جنوری میں دو چار دن ٹھنڈی ہواؤں نے کراچی میں ڈیرے ڈالے اور شہری سخت سردی کی وجہ سے گھروں میں بند ہو کر رہ گئے۔ میں نے شہر کے کئی علاقوں میں رات گئے تک آئس کریم فروخت کرنے والوں کو گلیوں اور محلوں میں پھیریاں لگاتے دیکھا۔ سردی کی شدت سے جہاں انسان بستر سے نہ نکل سکے، اُس دوران گلیوں میں آئس کریم کی فروخت بہت کچھ بتاتی ہے، روزگار کمانا ہر فرد کا حق ہے، اگر کوئی محنت مزدوری کرتا ہے تو اس پر شاید ہی کسی کو اعتراز ہو، میری طبیعت میں شک کا بڑھنا بے وجہ نہیں۔ جو گرم دودھ سے جلا ہو وہ چھاج بھی پھونک پھونک کہ پیتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے، جب میرے ملک میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہوں تو میرا فرض ہے کہ میں معاشرے میں ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھوں، یہی ملک سے محبت اور وفاداری کا ثبوت ہے۔ اب جب کہ ملک میں آپریشن ’’رَدُالفساد‘‘ شروع ہو چکا ہے، قوم کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اطراف ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھے۔ باقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے کہ وہ تحقیقات کریں تاکہ کسی بڑے واقعے سے بچا جا سکے!!
nn

حصہ