دھمال اور سوشل میڈیا

265

حافظ خلیل اپنی وال پر رقم طراز ہیں کہ ’’اگر مزاروں پر دھماکا کرنا غلط بات ہے تو مزاروں پر دھمال ڈالنا بھی تو حرام ہے‘‘۔ پاکستانی علماء میں ایک نمایاں اور معتبر نام مفتی منیب الرحمٰن کا ہے جنہوں نے اہل سنت کے دیگر علماء کے ساتھ سیہون کے مقام کا دورہ کیا اور پریس کانفرنس میں واضح اور دوٹوک انداز میں گفتگو کرتے ہوئے جو باتیں کہیں وہ بھی سوشل میڈیا پر خاصی گردش میں رہی۔ مفتی منیب الرحمٰن کے مطابق ’’دھمال، مرد اور خواتین کے مخلوط اجتماعات کا اولیائے کرام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ یہاں وہ روحانی ماحول بھی نہیں جو یہاں آنے والے زائرین کو ملنا چاہیے۔ دکھ کی بات ہے کہ مزارات منشیات فروشی اور منشیات نوشی کے مراکز بنا دیے گئے ہیں۔ مزارات کے ماحول کو پاکیزہ بنانا چاہیے جہاں مستقل درس و تدریس، وعظ و نصیحت، اذکار، تسبیحات ودرود یا تلاوتِ کلامِ پاک اور دینی تربیت کا اہتمام ہونا چاہیے۔‘‘
ہمارے ایک سوشل میڈیا کے لکھاری دوست یوسف ابو الخیر نے مفتی منیب الرحمٰن کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے اُنہیں خراج تحسین اس انداز میں پیش کیا ’’میں ذاتی طور پر مفتی صاحب کی اس حق گوئی اور جرأت کو سلام پیش کرتا ہوں کیوں کہ انہوں نے جس طرح سے ان خرافات کی حوصلہ شکنی کی ہے، اتنا حوصلہ اور ظرف علمائے حق کا ہی وصف ہو سکتا ہے۔ اللہ مفتی صاحب کی کوششوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور صحت و سلامتی سے نوازے۔ آمین (باقی دہشت گردی کی حمایت تو کوئی صاحب عقل کر ہی نہیں سکتا۔ اور جن کے پاس عقل نہیں، ان سے بحث یا ان پر غصہ نہیں کرتے بلکہ ان کے حال پر ترس کھا کر دعا کرتے ہیں۔)‘‘ گو کہ مفتی منیب الرحمٰن کے بعد کوئی بات نہیں ہونی چاہیے تھی مگر شیما کرمانی کے قدموں کی چھاپ دور دور تک گئی جس کے نتیجے میں رد عمل اس طرح آتے رہے ’’لبرلز اور سادہ لوح کہتے ہیں دھمال ڈالنا دھماکوں سے بہتر ہے اس میں کسی کی جان نہیں جاتی۔ عرض ہے دھمال سے جان نہیں ایمان جانے کا خطرہ ہے جو جان سے زیادہ قیمتی متاع ہے‘‘۔ سلطان بھائی لکھتے ہیں ’’دھمال والوں پر خودکش بمبار نے خود کو بم سے اڑا دیا، غلط ہوا بہت غلط ہوا۔ محترمہ شیما کرمانی نے اس مداوے کی کوشش ایسے کی کہ ایک گیروا سرخ رنگ کا لباس پہنا، پاؤں میں گھونگرو باندھے، بال کھولے، تلک لگایا اور ایک نعرہ مستانہ اور پھر جو رقص کیا وہ رقص دھمال بنا۔ یہ دھمال ان مرنے والوں کے ساتھ یکجہتی منانے کے لیے تھا۔۔ اور اس دھمال کے ساتھ ہی سارے دیسی لبرلز کی روح تڑپ گئی انہوں نے بھی اپنی ڈی پی دھمال اور رقص کرتی رقاصہ کی لگا کر شیما کرمانی سے یکجہتی کی۔ وہ آگ اور خون کی ہولی جو سہون شریف میں کھیلی گئی اس پر محترمہ کا دھمال کتنا روح پرور یا سکون بخش ہوگا یہ تو وہ دھمال دیکھنے والے ہی یا جو براہ راست اس سے متاثر ہوئے، بتاسکتے ہیں یا سینکڑوں مردوں کے بیچ ناچتی ہوئی عورت معاف کیجیے گا دھمال ڈالتی ہوئی عورت کس کس کی تسکین کا باعث بنی یہ بھی وہی بتا سکتے ہیں لیکن ہوا کچھ یوں کہ دھمال ختم ہوا سارنگیاں ڈھول سمٹے گھنگرو اترے اور رقاصہ یہ جا اور وہ جا۔ وہ جن کے جگر کے ٹکڑے گئے، جن کے سر کے سائیں گئے، جن کے دنیاوی آسرے گئے، ان کو اس دھمال سے کیا ملا؟ یہ ایک سوال ہے۔ ایک سوال اور بھی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ موم بتی مافیا کی طرح ایک نئی روایت جنم لے اور اب کسی بھی حادثے پر اظہار یکجہتی کے لیے دھمال ڈالنا فرض عین سمجھا جائے۔‘‘ شیما کرمانی کے دھمال کو لے کر مزید سخت احساسات شیئر ہوتے رہے۔ ایک دوست نے تحریر کیا کہ ’’دھمال پر دھماکا کرنے والے شدت پسند دہشت گرد اور سولاشوں پر ناچ منعقد کرنے والے، دھمال کے حق میں لمبے لمبے دلائل دینے والوں سے درخواست ہے کہ آئندہ سے اپنے والدِ مرحوم کی قبر پر فاتحہ خوانی کے بجائے “ناچ پارٹی عرف دھمال کرایئے گا سا زندے نہ ملیں تو ڈیک لے جانا۔‘‘ ریئیلیٹی نامی فیس بک پیج پر بھی فرض عبادات پر توجہ اس انداز سے دلائی گئی کہ ’’تین گھنٹے دھمال ڈال لینی ہے مگر دس منٹ نکال کر نماز نہیں پڑھنی”پھر کہتے ہیں ہم تو سائیں کے مرید ہیں سائیں بخشوا لیں گے” جبکہ بیوقوفوں کو نہیں پتا جو بخشوا سکتا ہے وہ صرف سائیوں کا سائیں محمّد صلی اللہ علیہ وسلّم ہے جس نے کسی قبر پر دھمال تو دور کی بات اپنی قبر مبارک کو سجدہ گاہ بنانے سے بھی سختی سے منع فرمایا ہے۔‘‘
ایک دوست قائم خانی نے اپنی وال پر دھمال کے قلندر ؒ سے تعلق کے تاریخی حوالے پر مبنی یہ تفصیلی پوسٹ ڈالی جس کی سرخی کچھ یوں تھی۔
دھماکوں سے دھمال روک نہیں پاؤ گے۔ میرے لعل کی لاج کا سوال ہے۔۔۔۔ “اندھیر نگری چوپٹ راج” تو سنا ہوگا ؟
دراصل جس وقت عثمان علی مروندی سندھ تشریف لائے اس وقت سہون پر ہندو راجہ جیسر جی کی حکومت تھی جو کہ عرف عام میں راجا چوپٹ کہلاتا تھا، جیسر جی ایک دم عیاش اور ’’دم مارو دم‘‘ مزاج کا انسان تھا۔ راجہ جی رعایا کے حال سے بے خبر رہتا۔ لاقانونیت اور ظلم و تشدد ہر طرف عام تھا کسی کی کوئی فریاد نہیں سنی جاتی تھی۔ اسی وقت کا یہ مقولہ بھی مشہور ہے‘‘ اندھیر نگری چوپٹ راج‘‘۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ جیسے اولیاء اللہ نے اسلام کی تبلیغ واشاعت میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ انسانوں کی رہنمائی کی اور انہیں خوابِ غفلت سے بیدار کیا۔ یہ اللہ کے ایسے بندے تھے جو فا تحینِ زمانہ تھے لیکن انہوں نے لشکر کشی یا تلوار استعمال نہیں کی۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ انہوں نے محبت، انسانیت، مساوات، اخوت، رواداری اور وسیع النظّری سے لوگوں کے قلوب میں اپنی جگہ بنائی۔
حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے والد حضرت کبیر الدین احمد تقویٰ اور پرہیزگاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ حضرت سید محمد کبیرا لدین احمد شاہؒ کی ابتداء میں کئی سال تک کوئی اولاد نہیں تھی اور ان کی اہلیہ اس مسئلے کی وجہ سے اداس رہنے لگی تھیں۔ سید محمد کبیر الدین ہر شب تہجد کے بعد بارگاہِ ایزدی میں مناجات کرتے اور ایک حالتِ گریہ طاری ہوجاتی۔ ایک شب انہیں خواب میں فرزند کی بشارت ہوئی۔ جس کے بعد اللہ نے اپنے فضل سے انہیں نوازا، فرزند نے 7 برس کی عمر میں قرآن حفظ کیا، حضرت شیخ منصورؒ کی نگرانی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی عربی اور فارسی زبانوں میں آپ نے بہت کم عرصے میں خاصی مہارت حاصل کرلی، مگر ابھی تک دھمال کا سبق نہ لیا۔۔۔۔ ظاہری علوم کی تحصیل کے بعد آپ کا میلان طریقت و معرفت روحانی علوم کی طرف ہوا، امام موسی کاظم ؒ کے پوتے جلیل القدر شخصیت سید ابراہیم ولیؒ بڑے عابد وزاہد اور جیّد عالم تھے۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ حضرت ابراہیم ولیؒ کی خدمت میں رہ کرتحصیلِ علم میں مشغول ہوگئے۔ حضرت ابراہیم ولیؒ نے حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی صلاحیتوں کو پرکھ کر جلد ہی مشائخ اور علماء کی ایک محفل میں حضرت لعل شہباز قلندرؒ کو خلافت کی دستار سے نواز دیا۔ دھمال کے ثبوت یہاں بھی ندارد ہیں۔۔۔۔۔ غیبی اشارہ ملنے پر مروند سے عراق اور وہاں سے ایران تشریف لائے۔ حضرت امامِ رضاؒ سے روحانی وقلبی وابستگی کی وجہ سے آپ کے مزار پُرانوار پر حاضر ہوئے۔ چندروز تک مراقبے کا سلسلہ جاری رہا، خانقاہِ رضویہ میں مصروفِ عبادت رہے یہ سلسلہ چالیس روز تک جاری رہا اور آخری ایّام میں آپ کو حکم ہو ا کہ حج بیت اللہ اور زیارتِ روضہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف حاصل کریں۔ اس طرح آپ امام رضاؒ سے روحانی اجازت ملنے کے بعد حجازِمقدس روانہ ہوگئے۔ اس سفر میں عراق پہنچنے پر حضر ت لعل شہباز قلندرؒ ، حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کے مزار پر بھی حاضر ہوئے۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ نے بغداد سے حجاز تک راستے میں کئی مقامات مقدسہ کی زیارت کی۔ آپ تین ماہ تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے حج کی ادائی کے بعدمدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ مسجدِ نبوی میں جب روضہ اطہر کے قریب پہنچے تو دیر تک بارگاہِ رسالت میں سرجھکائے سلام پیش کرتے رہے۔ گیارہ ماہ مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔مورخین بتاتے ہیں کہ اس دوران کہیں دھمال نہیں ڈالی گئی، فضیلت، عاجزی اور خشوع سے عبادت میں مصروف رہے اور فیض حاصل کرتے رہے۔ پھر سندھ روانہ ہوئے، مکران کے ساحل پہنچے، جب آپ وادی پنج گور میں داخل ہوئے تو ایک سرسبز میدان نے آپ کے قدم پکڑلیے۔ آپ نے یہاں چلہ کشی کی اور اس میدان کو یادگار بنا دیا۔ مقامی مکرانیوں نے اس ویرانے میں ایک فقیر کو چلہ کشی کرتے دیکھا تو دیدار کے لیے امڈ آئے۔ آپ کی عبادت و ریاضت (دھمال سے نہیں) سے متاثر ہو کر ہزاروں مکرانیوں اور بلوچوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ملتان پہنچے، آپ کی شخصیت سے متاثر ہو کر ملتان اور گرد و نواح کے لوگ آپ کے پاس آنے لگے۔ ہر وقت لوگوں کا ایک ہجوم رہنے لگا۔ یہ لوگ طرح طرح کے مسائل لے کر آپ کے پاس آتے۔ قلندر شہبازؒ کی دعاؤں سے بے شمار مریضوں کو شفا ملی، لاتعداد دُکھیاروں کے دکھ دور ہوئے، ان خوش نصیب لوگوں کی زبانی قلندر شہبازؒ کی کرامات کا شہرہ بھی دور دور تک ہونے لگا۔ ملتان کے قاضی علامہ قطب الدین کاشانی کی سماعت بھی ان قصوں سے آشنا ہوئی۔ علامہ قطب الدین کاشانی ایک عالم فاضل شخص تھے لیکن صوفیت اور درویشی پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے آپ کے خلاف فتویٰ جاری کردیا۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے کسی عقیدت مند نے قاضی کا یہ فتویٰ آپ تک بھی پہنچا دیا۔آپ چند خدمت گاروں کے ساتھ ملتان کی طرف روانہ ہوگئے۔حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ کی روحانی ولایت سے اس وقت ملتان فیض یاب ہو رہا تھا۔ ہر روز مجلس ارشاد کا انعقاد ہوتا تھا۔ ہزاروں طالبان حق کسب فیض کے لیے حاضر ہوتے تھے۔آپ مسند ارشاد پر جلوہ افروز تھے کہ کسی نے اطلاع دی:‘‘حضرت عثمان مروندی قلندرؒ نام کے کوئی بزرگ علامہ قطب الدین کاشانی سے مناظرے کے لیے تشریف لارہے ہیں۔ ’’حضرت لعل شہباز قلندرؒ ابھی ملتان کے دروازے پر پہنچے تھے کہ بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ کے مریدین آپ کے استقبال کے لیے پہنچ گئے۔ اب آپ کے قدم قاضی کی عدالت کے بجائے حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ کی خانقاہ کی جانب تھے، حضرت بہاؤالدین زکریاؒ سے پہلی ہی ملاقات دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ ایسی صحبتوں کے متلاشی تھے۔ خانقاہ میں بیٹھے تو اُٹھنا بھول گئے۔ دن رات صحبتیں رہنے لگیں۔ اسی خانقاہ میں آپ کی ملاقات حضرت فرید الدین گنج شکرؒ اور حضرت سرخ بخاریؒ سے بھی ہوئی۔ خطۂ پنجاب میں کئی علاقے ایسے تھے جہاں ابھی تک اسلام کی روشنی نہیں پہنچی تھی۔ ان حالات کے پیش نظر حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ نے رُشد و ہدایت اور اسلام کی تبلیغ کا ایک عملی منصوبہ تیار کیا۔ ایک طرف اپنے مریدوں کو مختلف تبلیغی دوروں پر روانہ کیا تو دوسری جانب حضرت لعل شہباز قلندرؒ ، حضرت فرید الدین گنج شکرؒ اور سید جلال سرخ بخاریؒ کے ہمراہ تبلیغی دوروں پر روانہ ہوئے، جونا گڑھ بھی گئے۔ کہیں دھمال نہیں ڈالی بلکہ ’’ادفع بالتی ھی احسن‘‘ پر قائم رہ کر گمراہوں کے دلوں کو اللہ کی طرف پھیر دیا۔ یہ چاروں ہم عصر تھے اور “چار یار” کے نام سے مشہور ہوئے۔
سیاحت کے لیے گجرات اور گرنار گئے، وہاں بھی لوگوں کو توحید اور حقانیت کا درس دیا۔ جس زمانے میں آپ گرنار میں مقیم تھے، آپ کے گرد حاجت مندوں کا ہجوم رہتا تھا۔ یہ زمانے بھر کے ستائے ہوئے، بیمار اور مفلس انسان تھے جنہیں قلندرؒ کے تسکین آمیز کلمات جینے کا حوصلہ دیتے تھے۔ آپ دکھی لوگوں کے آنسو پونچھتے، انہیں تسلی دیتے، غم خواری فرماتے۔ چولا پہن کر دما دم اور دھمال نہ کرتے۔۔۔۔ اسی سیاحت کے دوران بو علی قلندرؒ سے ملاقات ہوتی ہے جو انہیں سیوستان (سہون) جانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس وقت سندھ اور پنجاب کے بعض علاقوں میں حسن بن صباح کے مریدوں قرامطہ فرقے کا ’’روحانی فساد‘‘ عروج پر تھا، حضرت لعل شہبازؒ نے قرامطیوں کے خلاف آپریشن ’’ردالفساد‘‘ کا آغاز کیا، ساتھ ہی چوپٹ راج کے خلاف سماجی جدوجہد شروع کی۔ آپ چونکہ سندھ کی بولی اور ثقافت سے واقف نہیں تھے اس لیے، حالات کا مشاہدہ کرنے اور اپنی تبلیغ و جدوجہد کو موثر بنانے کی غرض سے ایک جگہ مستقل سکونت اختیار کرنے کا ارادہ ترک کرکے پہلے ارد گرد علاقوں میں تبلیغی دوروں کاآغاز کیا۔
پہلے ٹھٹہ گئے، آرائی قبیلے میں پڑاؤ کیا۔ کچھ عرصے کے لیے منگھو پیر کراچی گئے، حیدرآباد کے نزدیک دریائے سندھ کے کنارے گنجو ٹکر (کوہسار اور ٹنڈوغلام حسین) مشہور ہے، آپ یہاں چلہ کش ہوئے، آپ نے حیدرآباد کے اطراف میں بھی کئی تبلیغی دورے کیے تھے۔
دھمال کا نام نسب یہاں بھی نہ مل سکا۔
سہون شریف کے ریلوے اسٹیشن کے جنوب میں ایک بلند پہاڑ ہے جس کے اندر ایک قدیم غار موجود ہے۔ روایت ہے کہ اس غار میں حضرت لعل شہباز قلندرؒ نے چلہ کشی کی تھی۔ سہون کے ر یلوے اسٹیشن کے قریب آپ کے نام سے منسوب ایک ’’لعل باغ‘‘ بھی ہے روایات کے مطابق اس باغ کے قریب ایک پہاڑی پر بھی آپ نے چلی کشی کی تھی۔ مقامی لوگوں میں یہ روایت مشہور ہے کہ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی آمد سے قبل نہ یہ باغ تھا اور نہ یہ چشمہ۔ لوگ اس مقام پر چشمے کی موجودگی کو شہباز قلندرؒ کی کرامت سمجھتے ہیں۔ سہون میں جس جگہ لعل شھباز اور ان کے ساتھیوں (گدڑی والوں) نے پڑاؤ ڈالا اس کے قریب، “سماجی کارکنوں” حسن بن صباح کے مریدوں” “نظر بن حارث کے ‘آرٹسٹوں’ ” کی ایک بستی آباد تھی، بستی میں شراب و شباب کی خرید و فروخت، مناسب دام پر اور کرایہ پر لین دین ہوتی تھی۔ درویش کے پڑاؤ کی وجہ سے اس بستی کے مکینوں نے خوف محسوس کیا اور راجہ چوپٹ کے پاس جاکر ان کی شکایت کی۔ شدید مخالفتوں کے باوجود آپ نے سہون شریف میں رہ کر اسلام کا نور پھیلایا ہزاروں لوگوں کو راہِ ہدایت دکھائی، لاتعداد بھٹکے ہوئے افراد کا رشتہ خدا سے جوڑا، لوگوں کو اخلاق او ر محبت کی تعلیم دی۔ سچائی اور نیکی کی لگن انسانوں کے دلوں میں اجاگر کی۔ آپ کی تعلیمات اور حسن سلوک سے سہون کی ایسی کایا پلٹی کہ بہت بڑی تعداد میں غیر مسلموں نے اسلام قبول کرلیا۔ آپ نے لاتعداد بھٹکے ہوئے افراد کا رشتہ خدا سے جوڑا، لوگوں کو اخلاق کی تعلیم دی، سچائی اور نیکی کی لگن انسانوں کے دلوں میں پیداکی۔ دھمال کا سبق یہاں بھی تاریخ کے صفحات سے غائب ہے۔ لعل قلندر کی وجہ سے راجہ کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آرہا تھا۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ شاعر بھی تھے۔ آپ کے کلام میں معرفتِ الٰہی اور سرکارِ مدینہ کی مدح سرائی، عشق حقیقی کا والہانہ انداز جا بہ جا نظر آتا ہے۔ آپ کی شاعری میں روحانی وارفتگی اور طریقت و تصوف کے اسرار و رموز بے حد نمایاں اور واضح ہوکر سامنے آتے ہیں حضرت لعل شہباز قلندرؒ اپنے کلام میں عبد و معبود کے رشتوں کی ترجمانی اتنے حسین پیرائے میں کرتے ہیں کہ پڑھنے اور سننے والوں کے قلوب میں گداز اور عشق و محبت کا جذبہ فروزاں ہونے لگتا ہے۔ یہاں بھی دھمال کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ سو سال کی عمر مکمل کرچکے تو ملتان جانے کا خیال آیا۔ آپ کے دوست حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ اب اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔ ان کے فرزند حضرت صدرالدین عارفؒ ان کے جانشین تھے اور شہزادہ سلطان محمد تغلق حاکم ملتان۔ سلطان نے اپنے دربار محفل سماع رکھی، محفل میں دوران سماع اچانک حضرت لعل شہباز قلندرؒ پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی۔ آپ حالت وجد میں ابن العربی کے حلقہ کی طرح جھومنے اور رقص کرنے لگے، “رنگ دو میری چنریاں ڈھولا لعل قلندر’ والی دھمال کا ذکر یہاں بھی نا ملا۔ ملتان سے آنے کے کچھ عرصہ بعد قلندر رحلت فرماگئے۔
قلندرؒ نے تقریباً 103 برس کی عمر پائی، آسمانِ ولایت کا یہ شہباز سہون اور سندھ کے گردونواح کے تاریک علاقوں کو نورِ اسلام سے منور کرنے والا آفتاب 18شعبان 1275ء میں غروب ہوگیا لیکن لوگوں کے دلوں میں تاقیامت اس آفتاب کی روشنی انشاء اللہ باقی رہے گی۔ آج نظر بن حارث، حسن بن صباح اور الطائر من الاحد کے مرید و روحانی وارث، نظر بن حارث کے قحبہ خانوں اور حسن بن صباح کے قلعہ الموت سے نکل نکل کر الطائر بن الاحد کے قلمی حشاشین (Assassins) اور قرامطی داعی بنے بدیسی آقاؤں کے دیسی قلمی اردلی اس بات پر ڈھائی من کا زور لگا کر دباؤ ڈالے بیٹھے ہیں کہ قلندر، دھمال، دم مارو دم، چلم چٹائی والے کوئی بابا تھے، کہ گویہ ننگے بازو کے ساتھ لال لباس میں کوئی شخص کسی کونے کھدرے میں چند درویشوں کو لے کر دنیا سے بے نیاز ہوکر بیٹھا ہے جو کہ لعل کی لاج پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔ لعل اس وقت کے طاغوت کے خلاف ایک پتھر تھا، اور مجبورو محکوم پسے ہوئے طبقے اور استبداد سے برأت کے لیے حریت کی ایک امید، اور امید بھی وہ جو بر آئی۔ جس نظام، سماج، بے دینی اور دین کے نام پر خرافات کے خلاف قلندر شھباز صف آراء تھے آج ان ہی خرافات کو لعل کی قبر سے جوڑ کر لعل کی لاج پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ مکرو مکر اللہ واللہ خیر ماکرین۔۔۔۔!
تاریخ کا دوسرا تفصیلی رُخ جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر دھمال کو دعا کی ایک خاص کیفیت ثابت کرنے کی کوشش میں رہا، اُسے عامر انور خان کی وال سے ہم نے منتخب کیا ہے ۔
دعا کی ایک قسم ابتہال کہلاتی ہے جس میں دونوں ہتھیلیاں آسمان کی جانب بلند ہوتی ہیں۔ حالت دھمال کی ابتدا حالتِ ابتہال سے ہوتی ہے۔ دھمال دعا کی اشاراتی زبان ہے۔ وہاں اجمیر میں خواجہ صاحب نے دیکھا کہ سارا دن یہ طبلے اور ہارمونیم پہ بھجنگ گاتے ہیں اور میں اگر یہاں نحمدہ و نصلی سے تبلیغ کروں گا تو کوئی نہیں سنے گا تو انہوں نے ہارمونیم پہ تبلیغ کی۔ ہندو ہارمونیم اور طبلے پہ بھجن گایا کرتے تھے اور یہ حمد اور نعتیں پڑھنے لگے۔ تاریخ میں ہے کہ سات لاکھ سے زائد ہندوؤں نے ان کے ہاتھ پہ اسلام قبول کیا۔ سندھ میں بھی یہی معاملہ تھا۔ یہاں کے باسی کتھک کے رسیا تھے۔ اپنے بھگوان سے کتھک یعنی اشاروں کی زبان میں گفتگو کرتے تھے۔ یہاں مروند سے آئے وہ شخص جو فارسی اور عربی کے عالم تھے اور حافظِ قرآن بھی تھے، اسلام کی تبلیغ انہی کے انداز میں کرنے لگے۔ جیسے اجمیر میں خواجہ صاحبؒ نے بھجن کی جگہ قوالی سے تبلیغ کی اسی طرح یہاں سہون کی دھرتی پر جنابِ عثمان مروندیؒ نے کتھک کی جگہ دھمال سے تبلیغ کی۔ میرے علم میں نہیں ہے کہ دعا کی کس حالت کا کیا نام ہوتا ہے کوشش کروں گا دوبارہ مطالعہ کر کے ان حالتوں کے نام لکھ سکوں۔ لیکن مختلف حالتوں میں ہاتھوں کی پوزیشن مختلف ہوتی ہے۔ جیسے ابتہال میں ہتھیلیاں آسمان کی جانب ہوتی ہیں اسی طرح دعا کی ایک حالت میں ہتھیلیوں کی پشت آسمان کی جانب اور رخ زمین کی طرف ہوتا ہے۔ حالت سجدہ میں اگر دعا کریں تو ہاتھوں کی یہی پوزیشن ہوتی ہے۔ ہاتھوں کی یہ پوزیشن آفات و بلیات سے پناہ مانگنے کے دوران اپنائی جاتی ہے۔ دعا کی ایک حالت میں شہادت کی انگلی آسمان کی طرف ہوتی ہے جیسے کوئی انگلی بلند کرکے اللہ کی وحدانیت کی گواہی دیتا ہے۔ اور اسی طرح دعا کی ایک حالت میں دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی اور بائیں ہاتھ کی پہلی انگلی آسمان کی طرف اٹھی ہوتی ہے، یوں جیسے کوئی انسان اعلان کے انداز میں دونوں ہاتھوں کی پہلی انگلیاں بلند کرتا ہے۔ دھمال میں ان ساری کیفیت کو اپنایا جاتا ہے۔ ایک عام غلط خیال جو رائج ہے کہ دھمال خوشی کی حالت میں ہوتی ہے۔ دھمال تب تک دھمال نہیں ہوتی جب تک اس میں سوگ نہ ہو۔ آپ نے دھمال میں تڑپ کا انداز سنا ہو گا۔ یہ وہی تڑپ ہوتی ہے جو غم میں ہوتی ہے۔ دھمال میں پاؤں زمین کی طرف نہیں جاتے بلکہ فقیروں کی دھمال میں پیر زمین کی طرف سے اٹھ کے اوپر کی طرف آتے ہیں یوں جیسے تپتی ریت کے اوپر پیر رکھیں تو پاؤں کے جلنے سے کوئی اچانک پاؤں اٹھاتا ہے پھر دوسرا رکھتا اور تپش کے جلنے سے فوری اٹھا لیتا ہے۔ دعا میں وسیلہ شامل ہونے سے دعا کی قبولیت کی شرح میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حالتِ دھمال میں جب صوفی درویش اس کیفیت میں ہوتے ہیں کہ ان کے پاؤں زمین سے اوپر کی طرف اٹھتے ہیں تو وہ اشاراتی طور پر اپنی دعا میں ان کا وسیلہ دے رہے ہوتے ہیں جن کے پیر کربلا کی تپتی ریت سے جھلستے تھے اور وہ پاک ارواح جلدی سے پیر اٹھا لیتے تھے۔ کبھی تجربہ کر کے دیکھ لیجے گا۔ ایک حقیقی ملنگ یا درویش جب اس حالتِ دھمال میں ہو گا اس کی آنکھوں سے آنسو ہوں گے اور اس کے ہاتھ گردن کی پشت پہ بندھے ہوں گے جن کی ہتھیلیوں کا رخ یا زمین کی طرف ہو گا یا آسمان کی طرف اور اس کی گردن قدرے جھکی ہو گی۔ اوپر لکھا تھا کہ دھمال دعا کی اشاراتی زبان ہے۔ پیروں کا زمین سے بے تابانہ اوپر کو اٹھنا سیدہ سکینہ بنتِ حسین سلام للہ علیہا کی کیفیت کا اشاراتی اظہار ہے، ہاتھوں کا پشت پہ بندھے ہونا اور گردن کا جھکا ہونا امام سجادؒ کے حالتِ طوق میں کربلا کی طرف عازمِ سفر ہونے کی کیفیت کا اشاراتی اظہار ہے۔ اور اظہار اس وقت کیا جاتا ہے جب دعا میں وسیلہ دینا مقصود ہوتا ہے۔
سید بلھے شاہ نے رقص کیا تھا وہ بھی اشاراتی تھا۔ مولانا جلال الدین رومیؒ دائروی صورت میں گھوما کرتے تھے وہ بھی اشاراتی سلسلہ ہے۔ ویسے سورج سے لے کر زرے میں موجود ایٹموں تک ہر چیز دائرے میں ہی گھومتی ہے۔ اسی طرح خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ موسیقی کے اشاروں کو کام میں لائے۔ معاملہ مگر یہ ہے کہ اشاروں کی زبان نہ سمجھنے والے ان باتوں سے اپنے اپنے مفہوم اخذ کر لیتے ہیں۔ ہمیں کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے جستجو ضرور کرنی چاہیے۔‘‘
سانحے کے بعد اور پھر مزار کھلنے کے بعد شروع ہونے والے دھمال کے سلسلے پر عادل اسحق رقم طراز ہیں کہ دہشت گردی اور دھمال دونوں اسلام میں نہیں پھر یہ کون لوگ ہیں ؟
دوسری جانب یہ بے وزن شعر بھی خاصا پھیلتا رہا:
قلندر کا کیسا کمال جاری ہے
لہو میں ڈوب کر بھی دھمال جاری ہے
جعفر رضوی سمیت سیکڑوں نے اپنی وال پر یہ نامعلوم قول چسپاں کیا جس کے مطابق’’دھمال ایک کیفیت ہے جو یار کے عشق میں مجنوں پر طاری ہوتی ہے, بندہ اپنے محبوب کو ڈھونڈتا ہے دنیاوی فکروں سے آذاد ہوکر اور مجنوں پر شریعت ساکت ہے. بحث کی گنجائش ہی نہیں۔‘‘ شیما کرمانی نے سہون میں اپنے دھمال کو اظہار محبت اور امن قرار دیا تو دوسری جانب سید رحمانی و دیگر نے اسی اصول کے تحت ’’ساری عوام سے گزارش ہے کہ ملک دشمنوں سے اظہارنفرت کے لیے دو منٹ دھمال ڈالیں‘‘۔
شہدائے سہون پاک کے نام عرفان حیدر عرفان کے یہ اشعار بھی گردش میں رہے:
یزیدیت کے ارادوں کو روند کر تم نے
ادا کیا ہے یہ کیسا کمال کا سجدہ
تمہارے خون نے لکھا دھر کے ماتھے پر
حسینی لعل کے در پر دھمال کا سجدہ
ااندرون سندھ کے دوست کے بی بھٹو نے اپنی وال پر اپنے احساسات اس انداز سے تحریر کیے کہ:
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجے پھر سمجھیے زندگی کیا چیز ہے
ریحان رضا دھمال کی کیفیت کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ ’’اِن سب کا تعلق وجد کے ساتھ ہے۔ وجد ایک باطنی کیفیت ہے جو طالب و مطلوب کے درمیان ہوتی ہے۔ ذکر اللہ، ذکرِ رسول آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم اور ذکرِ اولیاء اللہ کرنے اور سننے سے وجد کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ یہ کیفیت جن پر طاری ہوئی ان میں سے کسی نے تو اپنا گریبان چاک کر ڈالا، کوئی اٹھ کے ناچ پڑا،کوئی زمیں پر گرا اور ماہئ بے آب کی طرح تڑپا، اور کسی نے اِسی کیفیت میں تڑپتے تڑپتے جان دے دی۔ وجد کے بعد کی کیفیات دیکھتے ہوئے کسی نے اِسے رقصِ بسمل کا نام دیا۔کسی نے اِسے سماع کہا کسی نے اِسے دھمال کا نام دے دیا۔
مفتی بدر عالم نے اپنی وال پر دھمال کے بارے میں تفصیل یوں لکھی ہے کہ ’’ارشاد ربانی ہے کہ‘‘ مومنین کاملین وہ ہیں کہ جب اللہ تعالٰی کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرزنے لگتے ہیں ان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے”۔آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:”اللہ کا ذکر اِس کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ (پاگل) کہنے لگیں”۔ اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر اللہ والوں کے عشق و محبت کی باتیں سن کر کچھ لوگوں پر ’’حال‘‘ طاری ہوجاتا ہے۔ جذب کی کیفیت آجاتی ہے۔ یہ کیفیت انسانوں پر ہی نہیں بلکہ حیوانوں اور جمادات و نباتات پربھی طاری ہوتی ہے۔حضرت داؤد علیہ السلام کا یہ معجزہ تھا کہ جب وہ خود ذکر کرتے تھے تو پہاڑ اور طیور بھی ان کا ساتھ دیتے تھے۔گویا کہ آپ علیہ السلام کا ذکر سن کر پہاڑ وجد میں آجاتے اور جذب و مستی میں جھوم اٹھتے۔ حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قطب ربانیؒ سے وجد کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا۔ ’’روح اللہ عزوجل کے ذکر کی حلاوت میں مستغرق ہو جائے اور حق تعالیٰ کے لیے سچے طور پر غیر کی محبت دل سے نکال دے ”(بحجۃ الاسرار، ص۶۳۲) محبوب سبحانی سید شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے عمدہ وعظوں کی تاثیر سے کئی افراد کا بے خود ہوکر بے ہوش ہو جانا واقعات سے ثابت ہے۔ ایک مرتبہ حضرت جنیدؒ ، حضرت محمد بن سیریںؒ اور حضرت ابو العباس بن عطار رحمتہ اللہ ایک جگہ جمع تھے۔ قوال نے چند اشعار گائے۔ دونوں باہم وجد کرنے لگے اور جنید ساکن بیٹھے رہے۔ وہ کہنے لگے اے شیخ اس سماع میں آپ کا کوئی حصہ نہیں ہے؟ حضرت جنید نے اللہ تعالی کا قول پڑھا: ’’تم ان کو جامد و ساکن خیال کرتے ہو حالانکہ وہ گزرنے والے بادلوں کی مانند گزر جاتے ہیں‘‘۔ سورۃ النمل88۔ محفل سماع شرعی حدود کے اندر شرائط کے ساتھ جائز ہے۔ یعنی کہ محفل میں افراد باوضو ہوں، توحید و رسالت اور دین کے بارے میں اشعار ہوں، خواتین اور مرد آپس میں خلط ملط نہ ہوں یعنی کہ ملے ہوئے نہ ہوں، توجہ الفاظ اور اشعار پر ہو۔ اگر خلاف شرع کوئی کام نہ ہو تو جائز ہے۔ واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

حصہ