دہشتگردی کی لہر

190

ملک بھرمیں دہشت گردی کی لہر نے پورے ملک کو ہلا دیا ہے ، تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں ، زخمیوں کی تعداد بھی پانچ سو سے زائد افرادہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔لاہور، پشاور، کوئٹہ ، سہون کو شامل کر لیا جائے توان دھماکوں سے پورے ملک کے ہر صوبے میں یہ بزدلانہ کارروائیاں کر کے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔پورا ملک اس وقت سوگ کے ساتھ ایک شدید المناک اور خوف کی حالت میں ہیں ۔جس ترتیب سے دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے وہ ہر پاکستانی کو خوف زدہ کرنے کیلیے کافی ہے کہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اگلا دھماکہ کب کہاں کن حالات میں ہو جائے۔بہر حال پاکستان نے چند سال قبل بھی ان سب حالات کا امریکہ کی افغانستان پر یلغار کے دوران بھی سامنا کیا ہے ۔جہاں ہمارے الیکڑانک میڈیا پر کوریج جاری ہے اور ماہرین کے تجزیے و تبصرے سننے کو مل رہے ہیں وہاں ہماری عوام بھی سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کھل کر رہی ہے ۔ یہ دھماکے کس نے کرائے اس حوالے سے جو سماجی میڈیا پر آراء سامنے آرہی ہیں اُن میں بھارت، افغانستان، ایران ، امریکہ اور اُن ممالک کے مالی وسائل پر کام کرنے والی کالعدم خفیہ تنظیموں کے نام بھی لیے جا رہے ہیں۔داعش جیسامتنازعہ نام بھی سی این این کے ذریعہ ایک خفیہ پیغام کے نتیجے میں سہون دھماکے کے حوالے سے سامنے آیا ہے ۔پانامہ کیس سے توجہ ہٹانے کا بہترین اوزاربھی قرار دیا گیا ہے ۔ کوئی سابق آرمی چیف کی کمی کا رونا رورہا ہے تو کوئی آپریشن ضرب عضب پر سوال اٹھا رہا ہے،کہیں سانحے کے بعد سندھ میں ہسپتالوں کی ناگفتہ بہ صورتحال پر کھل کر تنقید کی جا رہی ہے۔ کچھ جگہوں سے پولیس کے جعلی مقابلوں والے رد عمل کا رد عمل قرار دیا گیا ہے۔انسانی جذبے کے تحت ہم نے دیکھا کہ سوشل میڈیا پر دعائیہ کلمات کے علاوہ زخمیوں کی امداد خصوصاً خون کی فراہمی کے لیے اپیلیں کی گئیں کہ قرب و جوار کے افراد زندگی موت کی جنگ لڑتے اپنے بھائیوں کے لیے خون کے عطیات دے سکیں۔
یہ تمام آزاد تجزیے سماجی میڈیا پر اور ہمارے میڈیاپر عوامی غم و غصہ کے نتیجے میں کیے گئے ہیں۔سماجی میڈیا کی اہمیت کے پیش نظر ہم نے کوشش کی ہے کہ کچھ تجزیوں ، تاثرات کو جمع کریں۔
اس حوالے سے پاکستان میں #Sehwan، #Peshawarٹوئیٹر ٹرینڈز میں شامل رہا ۔ٹرینڈز میپ کے مطابق صرف ٹوئیٹر پر 71000ٹوئیٹس سیہون کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ریکارڈ کی گئیں۔ اس کے ساتھ #PrayForSehwan #SehwanBlast #laalshehbaz, بھی ٹرینڈ بننے کے لیے لوگوں کی تحریرکا حصہ بنے رہے۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کا آفیشل ٹوئیٹر پیج بھی مستقل اپ ڈیٹ نظر آیاجس میں زخمیوں کی امداد سے لے کر چیف آف آرمی اسٹاف کے بیان بھی شامل رہے۔
حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے فیس بک پر ارتضیٰ نشاط کے اس شعر کو خاصا شیئر کیا گیا
کرسی ہے تمہارا جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے
ملک کے نامور صحافی فیصل عزیز خان کے ٹوئٹر پر کیے گئے تجزیے کو بھی پذیرائی ملی جس میں اُنہوں نے ان دھماکوں کو توجہ ہٹانے کا عمل قرار دیا ہے اور نواز شریف اور اُن کے خاندان کو پانامہ اسکینڈل اور ڈان لیکس سے بچانے کے لیے ہیں۔علاج ٹرسٹ کے جبران ناصر نے اپنی ٹوئیٹ میں بتایا کہ قائد عوام یونیورسٹی نوابشاہ سے صرف چند گھنٹوں میں سو کے قریب مختلف بلڈ گروپس کے طلباء بطور ڈونر رجسٹریشن کرالی ہے۔
صحافی مبشر زیدی نے اپنے ٹوئیٹ میں بلاول بھٹو زرداری کی عدم موجودگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ’’ بلاول بھٹو زرداری کہاں ہیں ایسے وقت میں جب اُن کے اپنا صوبہ تکلیف میں ہے۔
عبد اللہ شجاعت اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’مدافعانہ جنگ،مذمتی بیانات،لنگڑی سیاست،آزاد عدلیہ،چیختی بریکنگ نیوز، خود مختار سپاہ ، سیاسی پولیس،نامعلوم افراد،ان گنت مولوی،بے لگام موم بتی مافیا،تعفن زدہ بیوروکریسی اور پیٹ پوجا میں مصروف عوام کو تبدیل ہونا پڑے گا اور ایک اِکائی میں جڑے بنا دشمن،عفریت اور سازش سے نجات ممکن نہیں۔‘‘سہون دھماکے کے بعد افغان سفارتی حکام کی جی ایچ کیو طلبی کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر اسامہ شفیق نے اپنی فیس بک وال پر عندیہ دیا ہے کہ ’’ہم پاکستانی خارجہ پالیسی کے ایک نئے عہد میں داخل ہونے کو ہیں ۔ یہ ذمہ داری وزارت خارجہ کی ہے یا فوج کی ؟‘‘اسی طرح سوشل میڈیا پر ایک اور خوبصورت تبصرہ پڑھنے کو ملا ’’ایک طرف تو حال یہ ہے کہ مزار پر قائم گنبد کی تزئین و آرائش پر پچھلے دنوں 31 کڑور روپے خرچ کیے گئے اور ارب پتی سجادہ نشین کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کررہے ہیں تو دوسری طرف معاملہ یہ ہے کہ سیہون شریف میں نہ سیکورٹی کا کوئی تصور ہے، نہ کوئی معقول اسپتال ہے اور نہ کوئی قابل ذکر سڑک۔ یہ ہے مادیت سے کنارہ کشی اختیار کرکے خدمت انسانیت کو اپنا شعار بنانے والوں کے ساتھ ان کے نام نہاد ورثہ کا معاملہ۔‘‘صہیب جمال نے مختصر مگر دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ’’دہشت گردوں نے لوہے کے چنے چبا کر دانت تڑوا کر نقلی لگوالیے ہیں۔‘‘عالمی شہرت یافتہ کرکٹ کے کھلاڑی شاہد خان آفریدی نے ٹوئیٹر پر اپنی کیفیت کااظہار ان الفاظ میں کیا
Distressed hearing the reports on the #sehwan blast. Praying for a return to peace in our homeland. All affected in my thoughts and prayers.
فیس بک پر مشتاق احمد خان اس حوالے سے سخت تجزیوں پر مشتمل مختلف خیالات کو جمع کر کے لکھتے ہیں کہ ’’ایک خیال یہ بھی ہے کہ دھماکے پانامہ لیکس سے توجہ ہٹانے کے لیے کیے جارہے ہیں۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ دھماکے نواز حکومت کو ناکام ثابت کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ دھماکے اِن کاروائیوں کے ذریعے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کرالی جائے گی۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ دھماکے دہشت گردی کی دکان کے بند ہونے سے بہت سی دکانوں پر تالے پڑ جائیں گے۔‘‘ ان کی اس پوسٹ پر معروف ماہر ابلاغیات و سابق اسسٹنٹ پروفیسر جامعہ اردوسلیم مغل اپنے تاثرات میں تحریر کرتے ہیں کہ’’ بہت قوی خیال یہ بھی ہے کہ دشمن قوتیں ایک بار پھر منظم ہوکر سامنے آگئی ہیں۔ یہ عالمِ اسلام کے خلاف ایک بڑی اور منظم جنگ کا حصہ ہے۔ بظاہر یہ ایک اعلانیہ جنگ نہیں مگر عالمی منظر نامے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ایک خوب سوچی سمجھی جنگ ہے جس میں دشمن پورے وسائل اور حکمت عملی کے ساتھ شریک ہے۔ کمزور، خوفزدہ اور کرپٹ مسلم حکومتیں اپنی غیر حکیمانہ پالیسیوں کی وجہ سے دشمن کے کام کو آسان کر رہی ہیں۔ وہ لوگ جو کل تک ہماری قوت اور دوسری دفاعی لائن تھے وہ ہمارے دشمن ہو گئے ہیں۔ کبھی غور کیا یہ آگ کتنے اسلامی ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ پاکستان، افغانستان، شام ، عراق، فلسطین ، ترکی ، یمن اور گنتے چلے جائیے۔ خود بھارت اور کشمیر میں بھی مسلمانوں پر ظلم کی نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ ایک نئی مسلم فوج کا قیام بھی مجھے مستقبل کی ایک خوفناک سازش لگتا ہے۔ اللہ کرم فرمائے۔ الحفیظ الامان۔۔۔ الحفیظ الامان‘‘۔ اسی طرح سابق (ر)جنرل راحیل شریف کی تصاویر بھی بڑی تعداد میں اس کیپشن کے ساتھ پوسٹ کی گئی ہیں کہ We Miss You۔برطانیہ کے سیکرٹری اسٹیٹ برائے خارجہ امور بورس جاہنسن نے بھی اپنی ٹوئیٹ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا پالیسی بیان دیتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ
Sickened by shrine attack in #Sehwan and car bomb in #Baghdad. UK stands with #Pakistan and #Iraq in fight against terrorism.
کشمیری رہنما ، چیئرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس میر واعظ عمر فاروق نے بھی اس بزدلانہ کارروائی کی مذمت ٹوئیٹر پر ان الفاظ میں کی ہے
Strongly denounce the cowardly terror attack on a Sufi shrine in Sehwan, our condolences & solidarity with the families & people of Pakistan۔
معروف اداکار ہمایوں سعید نے سہون شریف کے مزار پر اپنی ایک ریکارڈنگ کی یادگار تصویر کو پوسٹ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ
Whoever is behind these attacks aimed at destabilizing our country; know that you will neversucceed. Prayers for victims of #SehwanAttack۔
سوشل میڈیا نے عوام میں جو سیاسی شعور پیدا کیا ہے اُس کے اثرات عوام کے تاثرات سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ اس طرح کے مواقع پر جو روایتی بیانات جاری کیے جاتے ہیں اُن کو بھی طنز و تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔معروف بلاگر اور تجزیہ کار فہیم پٹیل نے حکمرانوں کے پی آر اوز کے تحریر کردہ روایتی بیانات پر اپنا تبصرہ فیس بک کے ذریعہ تحریر کیا ہے کہ’’وزیراعظم اور آرمی چیف کہتے ہیں کہ دہشتگردی کی نئی لہر نے قوم کو متحد کردیا ہے۔اگر یہی فلسفہ ٹھیک ہے تو قوم کو مزید قریب لانے کے لیے اپنی نا اہلی سے مزید دھماکے کروانے میں کوئی عیب نہیں ویسے۔ بس پھر لگے رہیے اور قوم کو قریب لاتے رہیے!!!حملے کے ذمہ دار دہشتگرد نہیں بلکہ حکمران اور ہماری حفاظت کے ذمہ دار ادارے ہیں۔‘‘سماجی میڈیا ( فیس بک، ٹوئٹر)پر 40لاکھ سے زائد شائقین کی طویل فہرست رکھنے والے پاکستانی اداکار اور مقامی نیوز چینل کے میزبان حمزہ علی عباسی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھائے ہیں کہ
I fail to understand how in the world can we even talk or expect from Afghan Govt to take action against terrorists in Kunar province when the Afghan Govt doesnt even control more than 50% of the country. Secondly, have terrorists stopped us from reforming our Judiciary and Police System? Has TTP stopped us from acting on National Action Plan? Has Mullah Fazlullah stopped us from prohibiting our mosques from being owned and used by sectarian extremists? Have the terrorists also stopped the Govt from merging FATA with KP? Is it because of RAW and TTP that we are governed by corrupt useless human scum who have failed reform our education syllabus and system? Look at Iran, they have a border with Afghanistan and Afghan refugees, why arent they victims of terrorism of this magnitude? Because they have GOVERNANCE!!! We must fix ourselves so others cant exploit our weaknesses!
واشنگٹن میں ولسن سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے ایشیا پروگرام مائیکل کیوگلمین نے مغربی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ
It’s sad how little Western media attention has been accorded to today’s #Pakistan terror attack. Here in US it’s all Trump, Trump, Trump.
اسی طرح دھماکے کے بعد زخمیوں کی امداد کے تناظر میں سیہون کے قرب و جوار میں ہسپتال کی عدم موجودگی اور دستیاب ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم دستیابی بھی سخت تنقید کا نشانہ بنی رہی۔کراچی کے ایک معروف صحافی رضوان بھٹی نے اپنی پوسٹ میں حالیہ دنوں حکومت سندھ کے زیر اہتمام موہن جو دڑو کانفرنس کے اخراجات پر تنقید کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ
Rs 210 million spent on Int. MohenjoDaro Conference but no fund for Hospitals.۔
ان سہولیات کی کمی پر فہیم پٹیل نے جو نقشہ کھینچا ہے وہ یقیناتلخ ہے ’’سہون ایک ایسا شہر ہے جہاں ہر جمعرات بیس سے پچیس ہزار لوگ مزار میں حاضری دیتے ہیں، ہر سال ایک بڑا عرس ہوتا ہے جہاں لاکھوں لوگ شریک ہوتے ہیں۔ لیکن المیہ دیکھیے کہ پھر بھی وہاں کوئی ہسپتال نہیں۔ زخمیوں کو 150 کلو میٹر اور دو گھنٹے دور لے جایا جائے گا۔ صورتحال اس قدر خراب ہے کہ زخمیوں کو اٹھانے کے لیے ایمبولینسیں تک نہیں یعنی دو گھنٹے دور جامشورو سے ایمبولینس پہلے آئیں گی اور پھر اتنا ہی سفر طے کرکے زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا جائے گا۔بات تلخ نہیں بہت تلخ ہے لیکن اس اذیت سے بچ کر ابدی نیند سونے والے شاید زیادہ بہتر ہیں کیونکہ جو کچھ وہاں زخمیوں کے ساتھ ہورہا ہے وہ تکلیف قابل بیان نہیں تو قابل برداشت کیسے ہوسکتی ہے!‘‘۔ مقامی نیوز چینل کے اینکر مرید عباس نے بلاول بھٹو زرداری کو متوجہ کر کے ٹوئیٹ کیا ہے کہ
@BBhuttoZardari is so quick to blame federal gov on the other hand his provincial can’t even provide treatment to blast injured.
اسی طرح ابصار احمد ہمت بڑھاتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ’’میرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں مگر
موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں گھر توآخر اپنا ہے
وطنِ عزیز دہشت گردی کا شکار ہے جس پہ دل تو کیا روح بھی مغموم لیکن رحمنٰ ملک نے امن کی بھیک امریکا سے مانگ کر قومی سلامتی کے اداروں پہ ضرب لگائی ہے ، امریکا ، افغانستان کا بہانہ بنا کر پھر یہاں نہتے شہریوں کا نشانہ بنائے گا اور سلالہ پوسٹ جیسے حملے پھربڑھیں گیاورلفظ ” سوری ” ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہماری قربانیوں کے باوجود امریکا اس وقت بھارت کا یار ہے اور “را” ہی ان حملوں میں ملوث ہے کہ کشمیر سے پاکستانیوں کی توجہ ہٹائی جا سکے ۔قومی ادارے رحمن ملک سے شدید باز پرس کریں جوایک بار بھر اپنے بیان سے پاکستان کو امریکا کے چنگل میں پھنسانے کے مترادف ہے ! ‘‘
معروف صحافی اور افغانستان کی جیل میں ایک سال گزارنے والے فیض اللہ خان جو اس معاملے پر خصوصی نظر رکھتے ہیں اپنی فیس بک وال پر مولانا عصمت اللہ کی پوسٹ اس بنیاد پر نقل کرتے ہیں کہ
’’اس شخص کی سننے میں قطعی حرج نہیں جو دو ہزار چودہ تک ان سے معاملات کا حصہ رہا‘‘۔
’’2013 کی بات ہے ایک دن جیو کے معروف اینکر سلیم صافی سے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ان دنوں میں شمالی وزیرستان کے ھیڈ کواٹر میرانشاہ میں تھا۔سلیم صافی صاحب مجھ سے کہہ رہے تھے کہ فوج نے 2014 تک شمالی وزیرستان میں بڑا آپریشن لانچ کردینا ہے اور مجھے یقین ہے کہ چند ہفتوں میں وزیرستان کلئیر ہوجائے گا۔ میں نے صافی صاحب کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ اس کے نقصانات زیادہ اور فوائد کم ہوں گے۔شمالی میں روکھی سوکھی کہا کر لڑنے والے پاکستان مخالف گروپ کابل جلال آباد میں آئس کریم کھاکر لڑنا شروع کریں گے۔تب پاکستان کے ہاتھ سے بہت کچھ نکل چکاہوگا۔اب کے حالات بتا رہے ہیں جن خدشات کا ذکر 2013 میں کیا تھا آج وہ سچ دکھائی دے رہے ہیں ۔اب پاکستان مخالف قوت کا بیش تر حصہ شمالی وزیرستان میں جمع ہے تب یہ 2300 کلومیٹر ڈیورنڈ لائن پر پھیل جائے گا۔
لہذا حکمران اور افواج آپریشن سے پہلے ممکنہ طور پر جن جن سے مذاکرات ممکن ہیں ان سے بات چیت سے مسائل حل کریں جن سے بات چیت ممکن نہ رہے۔وہ جنگ پر ہی بضد ہوں تو پھر دونوں فریق جو چاہیں کریں۔آپریشن سے پہلے صرف تین چار گروپ افغان حکومت کے رابطے میں تھے۔۔۔اب شاید تین چار کے علاوہ سب افغانستان حکومت سے رابطے میں ہیں۔سخت ترین آپریشن سے دو چار سال امن ممکن ھوسکتا تھا۔جوہو چکا۔جنگ میں صرف طاقت کا استعمال ہی بہترین نہیں ہوتا۔بلکہ جنگ میں طاقت کے علاوہ بھی تمام آپشن کھلے رکھنے چاہیے۔ریاست کو انتقام اور ردعمل کی پالیسیاں ترتیب دینے کی بجائے پوری فہم سے اس جنگ سے باہر نکلنے پر سوچنا چاہیے۔ اب بھی جن لوگوں کی واپسی ممکن ہے جو بات چیت پر تیار ھوسکتے ہیں انھیں کھلے دل سے گلے لگانا چاہیے۔آپ کے اپنے شہری جب تک کسی کی بندوق کی گولی نہ بنیں تب تک بڑے نقصان کا اندیشہ نہیں ھوتا۔پاکستان مخالفین کے پاس کھونے کو اب کچھ نہیں رہا۔دوسری طرف مکمل ریاست اور اور اسکی بیس کروڑ مسلمان آبادی خطرات میں گھری دکھائی دے رہی ہے۔ریاست پاکستان انتقام میں پالیسی ترتیب دینے کی بجائے پوری حکمت عملی۔سوچ و بچار کے ساتھ جنگ سے باھر آنے اور مسلمانوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کی حکمت عملی ترتیب دے۔۔اور وہ بھی جلد سے جلدتاکہ انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جاسکے۔

حصہ