(دین کی شیدائی (غزالہ عزیز

319

مسکراہٹ ایک ایسا فعل ہے جو چہرے کو دائمی بشاشت بخشتا ہے، غصے کو کافور کردیتا ہے۔ شک کے جذبات اور بے یقینی کی کیفیت دور کرنے میں مسکراہٹ ایسی تاثیر رکھتی ہے جو کسی شے میں نہیں۔۔۔ ایسی ہی مسکراہٹ تھی اُن کی جو دلوں کو اطمینان سے بھر دیتی تھی، کمزوری کو طاقت اور شک کو یقین میں بدل دیتی تھی۔۔۔ ہاں یقیناًایسی ہی پُر تاثیر مسکراہٹ رکھنے والی تھیں ہم سب کی ہر دل عزیز صبیحہ باجی، جن کو کراچی میں ’’صبیحہ شاہد‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔۔۔ بلکہ غلط کہا، کراچی میں نہیں پورے ملک میں اور شاید ہر اُس جگہ جہاں جہاں اُن سے ملنے، ان کا خطاب سننے والے لوگ گئے، ان کی محبتیں دل میں سمیٹ کر لے گئے، اور صبیحہ باجی کی محبت، اُن کی مسکراہٹ ہمیشہ ان کے حافظہ کا حصہ رہی۔
آہ۔۔۔ ان کو مرحوم کہتے ہوئے دِل اور آنکھوں کی کیفیت بدل سی جاتی ہے، لیکن موت تو زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔۔۔ ایسی حقیقت جس کا یقین کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ جانے والے جا رہے ہیں، پیچھے رہ جانے والے بھی اسی راہ کے راہی ہیں۔۔۔ بس ذرا پیچھے ہیں۔
صبیحہ باجی سے میری بچپن کی شناسائی تھی۔ وہ میری بڑی بہن مشعل پروین کے ساتھ کالج میں سینئر تھیں۔ دونوں ایک ہی کالج میں پڑھتی تھیں۔۔۔ اور دونوں زبردست ٹیبل ٹینس کھیلتی تھیں۔ اپوا کالج کی طرف سے دونوں نے علیحدہ اور انفرادی طور پر کئی مقابلوں میں حصہ لیا تھا اور کپ جیتے تھے۔
چمکتے دمکتے کپ جو انفرادی مقابلوں میں مشعل آپی نے جیتے تھے، ہمارے ہاں الماری کے اوپر سجے ہوتے تھے اور ہم اپنی سہیلیوں کو بڑے فخر سے دکھایا کرتے تھے۔ مشعل آپی بتاتی تھیں کہ ایک دفعہ دونوں نے مل کر ٹرافی بھی جیتی تھی جسے کالج کی الماری میں سجا دیا گیا تھا۔
اُس زمانے میں صبیحہ باجی کو ہم منہ کھول کر دیکھتے تھے۔ ان کے لباس، ان کے انداز اُس زمانے کی ایک مکمل ماڈرن لڑکی کے ہوتے تھے۔ ہمیں ان کا ہر انداز اور ادا بہت اچھی لگتی تھی۔ آج بھی ان کے نام کے ساتھ ان کا تصور آتا ہے تو گلابی فرل سے سجی ان کی قمیص، خاص طور پر گلے میں گلابی فرل اور سنہری زنجیر کے ساتھ چھوٹا سا لاکٹ اور جگ مگ کرتی ناک کی کیل کے ساتھ ان کی مسکراہٹ والا چہرہ ذہن میں فوری طور پر آجاتا ہے۔
تبدیلی کیا ہوتی ہے اور کس قدر جلد ہوتی ہے، انہیں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا تو سمجھ میں آیا۔ ان کو جماعت اسلامی سے متعارف کرانے میں کچھ حصہ ہماری والدہ روشن نسرین کا بھی تھا۔ اس زمانے میں بہن عطیہ نثار کی والدہ مومنہ خالہ اور شمیم احمد صاحب کی بیوی جن کو ہم عقیلہ خالہ کہتے تھے، پھر حامدہ عقیل آپا اور ام اکبر خالہ جان۔۔۔ یہ سب لوگ لیاقت آباد میں رہتے تھے اور ہماری امی وہاں درس دینے جایا کرتی تھیں۔
یہ سب لوگ وہ تھے جنہوں نے اُس زمانے میں کراچی میں جماعت اسلامی کے لیے دن رات محنت کی۔ ایک ایک گھر کو کھٹکھٹا کر پیغام پہنچایا۔ ام اکبر خالہ جان سے پہلے صبیحہ باجی جماعت سے متعارف ہوئیں۔ اگر میں بھول نہں رہی۔۔۔ وہ جلد بڑے بڑے پروگراموں میں بطور اسپیکر شامل ہونے لگیں۔ اُس زمانے میں ان کے ساتھ تہمینہ تاجی بھی ہوتی تھیں۔ ہم اُس زمانے میں زیادہ سنجیدگی سے تقریریں نہیں سنتے تھے کیونکہ زیادہ دھیان تو اپنی ہم عمر سہیلیوں کے ساتھ کھیلنے کودنے کی طرف ہوتا تھا۔ عموماً یہ ہوتا تھا کہ زیادہ بھاگ دوڑ کرنے پر ہمیں ذرا دیر کے لیے باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا۔۔۔ اجتماع گاہ کے گھر کے صحن یا لان میں ہم مشغول رہتے، لیکن جب صبیحہ باجی کی پُرجوش آواز آتی تو بے اختیار اندر کی طرف کھنچے چلے جاتے۔
آج تک اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ صبیحہ باجی کیسے اتنی جلدی جماعت میں کھنچی چلی آئیں۔۔۔؟ دین کا فہم، قرآن کی گہرائی کے ساتھ تشریح، زمانے اور حالات کے مطابق مسائل کا قرآن سے حل کچھ اس طرح نکالتی تھیں کہ دلوں کو تسخیر کرتی چلی جاتیں۔ لوگ خودبخود اپنا تجزیہ کرتے، اپنی کمزوریوں کو محسوس کرتے، اپنے مقام کا تعین کرتے کہ وہ کہاں ہیں اور انہیں کہاں ہونا چاہیے۔۔۔ پھر خود ہی فیصلہ کرتے کہ انہیں آئندہ کیسے اور کیا کرنا ہے۔ میرے خیال میں ان کے کسی بھی پروگرام میں شرکت کرنے والا فرد میدانِ عمل میں کچھ نہ کچھ آگے بڑھ جاتا تھا خواہ گھریلو معاملات میں اسے کیسے ہی مسائل کا سامنا کیوں نہ ہو۔۔۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ خود عزیمت اور ایثار کی انتہائی بلند مثال پیش کرتی تھیں۔۔۔ اتنی بلند کہ سب کی زبانیں گنگ رہ جاتی تھیں۔
حامدہ آپا سے بات ہوئی تو ان کے بارے میں بتاتے ہوئے کہنے لگیں کہ ’’یہ شاید 1990ء کی دہائی کا زمانہ تھا (سال انہیں یاد نہیں تھا) جب الیکشن تھا، ایک دن قبل ان کی بیٹی عنیزہ پیدا ہوئی اور دوسری صبح وہ اسپتال کے بستر سے اٹھ کر الیکشن آفس کے شامیانے میں پرچی بنانے والے کارکنوں کے ساتھ موجود تھیں۔۔۔ زبانیں گنگ سی ہوجاتی تھیں۔۔۔ کہہ نہ پاتی تھیں کہ صبیحہ تم رخصت پر ہو اور ابھی تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے۔۔۔ اُس کا جذبہ کچھ ایسا ہوتا تھا کہ وقت گزر نہ جائے اور کل کی تیاری کے لیے ایک ایک لمحہ اہم ہے۔‘‘
صبیحہ باجی کو دین کے کام میں کوئی رکاوٹ‘ رکاوٹ نہیں لگتی تھی۔ آگے سے آگے بڑھنا۔۔۔ راستہ نکالنا۔۔۔ راستہ سمجھانا، طریقہ بتانا اور خود عزیمت کے ساتھ کرکے دکھانا انہیں خوب آتا تھا۔
وہ نیکی کے ہر کام میں حصہ ڈالنا چاہتی تھیں، جماعت کے کسی بھی کام میں کسی کو کہیں بھی انکار نہیں کرتی تھیں، ہر ایک کے کام آنا چاہے وہ کارکن ہو یا ڈرائیور ہو، کبھی کسی کارکن کے ہاں انتقال پر کھانا پکوا کر بھیج رہی ہیں اور کبھی اگر خود نہیں پکا سکتیں تو پیسے دے کر کسی کے ذمے لگا دیتیں۔۔۔ کوئی ساتھی بہن بیمار ہے تو دو سالن بنوا کر بھجوا دیتیں کہ دو، تین دن کی آسانی ہوجائے۔ کسی کے بچوں کے لیے چھوٹا موٹا تحفہ دے رہی ہیں، کسی کو چشمہ بنوا کر دے رہی ہیں، کسی کے گھر راشن ڈلوا رہی ہیں، کسی کے ساتھ بازار جاکر شادی کی خریداری میں بچت کا راستہ دکھا رہی ہیں، کسی کے پاؤں میں ٹوٹا جوتا دیکھا تو دکان سے ناپ کا جوتا دلا دیا۔ جمعیت اور جماعت کے لیے وہ فنا فی اللہ تھیں، نہ وقت کی قید تھی، نہ زبان پر انکار ہوتا تھا۔ کہتی تھیں کہ چاہتی ہوں میرا حصہ ہر جگہ ہو۔۔۔
ان شاء اللہ، اللہ نے ان کی اس خواہش کا بھرم رکھا ہوگا۔ عزیمت کے جس راستے کی وہ مسافر تھیں، اس کا اصل قدردان تو رب ہی ہے، ہر کمی اور زیادتی کو پورا کرنے والا بھی وہی ہے۔
ان کی لگن کا معاملہ بھی انوکھا ہی تھا، دوسروں کے لیے خود اُن سے زیادہ مستعد رہتی تھیں۔ ان کی کراچی کی نظامت کے دوران حامدہ عقیل آپا ایک عرصہ ان کی نائب رہیں، وہ بتا رہی تھیں کہ ان کی بیٹی عنیزہ کی شادی تھی، میں نے بتایا کہ بارات فلاں وقت ٹرین سے جا رہی ہے۔۔۔ فون آرہا ہے کہ وہ اسٹیشن پر ہیں اور اُدھر ہم ابھی گھر پر ہی تھے۔
کتابیں پڑھنا اور تحفے میں دینا بہت پسند تھا۔ ڈاکٹر حمیداللہ کی کتاب میری بڑی بہن اسماء شاہین کو تحفے میں دی۔ اسماء شاہین مشعل پروین سے چھوٹی بہن ہیں، وہ بتاتی ہیں کہ ایک دفعہ کسی نے ان سے ذکر کیا کہ نماز میں بعض دفعہ یاد نہیں رہتا کہ کیا پڑھا تھا اور کیا نہیں، تو بڑے مزے سے حل بتاتے ہوئے کہنے لگیں ’’یاد نہیں رہتا تو کوئی بات نہیں، دوسری دفعہ پڑھ لیا کرو۔‘‘
کہا کرتی تھیں کہ ’’دنیا والے تو جہازوں میں سفر کریں، ہر طرح کی ٹیکنالوجی استعمال کریں، اَپ ڈیٹ اور اَپ ٹو ڈیٹ رہیں اور دین والوں سے توقع ہوتی ہے کہ وہ پھٹے حالوں میں نظر آئیں۔۔۔ یہ ہرگز تقویٰ کا معیار نہیں ۔۔۔ ہاں اپنے اوپر خرچ کے معاملے میں خود ہی ایک حد بنانی چاہیے۔کیونکہ اسراف کرنے والے تو شیطان کے بھائی بہن ہوتے ہیں۔‘‘
کتنی دفعہ کشمیر کا سفر کیا، اندرون سندھ بھی جاتی رہتی تھیں۔ اونچے نیچے راستے، ٹوٹی پھوٹی پگڈنڈیاں اور گندی نالیاں پھلانگ پھلانگ کر گاؤں دیہات تک پہنچتیں، محبت اور اخلاص کی مٹھاس کے ساتھ وہاں ان کے ساتھ آسان زبان میں گفتگو رکھتیں، منصوبے بنا کر دیتیں۔۔۔ کم پر راضی نہیں ہوتی تھیں۔ حامدہ عقیل آپا ان کے ساتھ ہوتی تھیں وہ کہتی ہیں کہ کبھی کبھی جھنجھلاہٹ ہوتی کہ یہاں گھر سے نکلنا مشکل ہے اور وہ ایک بڑا منصوبہ سامنے رکھ کر بات کررہی ہیں۔ لیکن واقعی بڑے منصوبے کا ایک حصہ بھی وہ لوگ یعنی گاؤں دیہات کے لوگ کرلیتے تو اچھا خاصا کام ہوجاتا اور بنیاد پڑجاتی۔روزِ قیامت ان کی راہ گزر کی ایک ایک اینٹ، ایک ایک پتھر بھی ان کا گواہ ہوگا۔ آخر میں بہت بیمار ہوگئیں، بہت تکلیف میں تھیں، لیکن ساری بیماری میں بھی قرآن اور نماز نہ چھُوٹی۔۔۔ آخری وقت کی نماز بھی ادا کی اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے جان، جانِ آفریں کے سپرد کردی۔ اب محبت کی مٹھاس میں بھیگے الفاظ ’’چندا، چاند اور جان‘‘ سے کون مخاطب کرے گا۔ ان کی محبت کا یہ انداز رب کی محبت میں اس کی بندیوں کے لیے تھا۔
یقیناًآسمانِ دنیا پر رب نے ان کا استقبال خاص محبت کے انداز سے کیا ہوگا۔ اللہ ان سے راضی ہو اور وہ اللہ کے سلوک پر مطمئن ہوں، آمین۔

حصہ