ٹیگ: وزارت خارجہ

اہم بلاگز

ملالہ یوسفزئی کا بیان سراسر زنا کی ترغیب

مملکت خداداد پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے۔ جس کا سرکاری مذہب بھی اسلام ہے۔ اس ملک میں جہاں مسلمان اکثریت میں بستے ہیں وہیں ہندو، عیسائی، پارسی اور دیگر مذاہب کے لوگ قلیل تعداد میں موجود ہیں۔ پاکستان میں عظیم خاندانی نظام موجود ہے جس کی اسلام تلقین کرتا ہے۔  بچے والدین کے ساتھ رہتے ہیں اور بڑھاپے میں ان کا سہارا بنتے ہیں جبکہ یورپ اور دیگر مغربی ممالک اس خاندانی نظام سے محروم ہو چکے ہیں۔ گرل فرینڈ بوائے فرینڈ اور خواتین میں زچگی قبل از شادی کا رواج عام ہے۔ جس کی وجہ سے لاکھوں لاوارث بچے پیدا ہوتے ہیں جن کو سڑک کنارے پھینک دیا جاتا ہے تا چائلڈ کئیر سنٹرز میں جمع کروا دیا جاتا ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جنس مخالف کی کشش فطری عمل ہے جسے اسلام نے نکاح کے ذریعے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے اور ازدواجی تعلقات قائم کرنے سے مشروط کیا ہے۔ نکاح کی وجہ سے انسان جنسی بے راہ روی کا شکار نہیں ہوتا اور نکاح کی مدد سے اپنی نسل آگے بڑھاتا ہے۔ نکاح کرنا سنت ہے اور رسول اللہ کے فرمان کا مفہوم یہ ہےکہ "میں کل بروز قیامت اپنی امت کے زیادہ ہونے پر فخر کروں گا"۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دنیا میں کوئی نبی نہیں آئے گا لہذا آپ قیامت تک کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ نکاح اور زنا دونوں مخالف چیزیں ہیں۔ اگر جنسی تعلمات شرعی اصولوں کے تحت استوار کئے جائیں تو وہ باعث ثواب ہوگا اور اگر بغیر نکاح جنسی عمل کیا جائے تو وہ زنا کہلاتا ہے جس کے متعلق سخت وعیدیں قرآن و سنت میں موجود ہیں۔   مغربی ممالک میں زنا عام ہے۔ خواتین شادی سے قبل ہی جنسی تعلقات استوار کر کے بچے پیدا کرتی ہیں۔ حال ہی میں برطانوی وزیر اعظم کی خبر نظر سے گزری کہ کچھ عرصہ قبل انہوں نے ایک دوشیزہ سے منگنی کی تھی اب وہ باپ بننے والے ہیں لہذا بچے کی پیدائش کی وجہ سے وہ اب شادی کریں گے۔  جس کا مطلب یوں ہوا کہ انہوں نے اس لڑکی کو شادی کے بغیر ہی بطور زوجہ رکھا ہوا تھا۔  بچہ بھی پیدا ہوگا اور شادی اس کے بعد کریں گے۔ اہل یورپ میں جنسی درندگی اور ہراساں کرنے کے کیس اسی لئے زیادہ ہیں کہ وہ لوگ جنسی بے راہ روی کا  شکار ہیں جبکہ اسلام نے عورت کو پردہ کرنے اور مرد نگاہیں نیچی رکھنے جیسے کئی سنہری اصول عطا کیے ہیں۔ کچھ نام نہاد مسلمان بھی یورپی ماحول کو دیکھ کر اپنا دین و  ایمان اور اسلامی اقدار بھول چکے ہیں جس میں ایک نمایاں نام ملالہ یوسفزئی کا بھی ہے۔ گزشتہ روز انہوں نے برٹس میگزین vogue کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ " مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں۔ اگر آپ اپنی زندگی میں کسی فرد کو چاہتے ہیں تو آپ کو شادی (نکاح) کے کاغذات پر دستخط کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ صرف پارٹنرشپ کیوں نہیں ہو...

چین کی”تھرڈ چائلڈ پالیسی”

چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جہاں ایک ارب چالیس کروڑ افراد بستے ہیں۔حال ہی چین کی جانب سے بہبود آبادی کے حوالے سے اہم اقدامات متعارف کروائے گئے ہیں جن میں عمر رسیدہ آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ بچوں کی شرح پیدائش میں اضافے کے لیے جوڑوں کو تین بچوں کی اجازت بھی شامل ہے۔چینی قیادت کی جانب سے فرٹیلیٹی کی پالیسیوں کو بہتر بناتے ہوئے آبادی کی طویل المدتی متوازن ترقی کے حوالے سے اہم فیصلے سامنے آئے ہیں۔ عمر رسیدہ آبادی کے مسئلے سے فعال طور پر نمٹنے کو ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔یہ بات قابل زکر ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران چین بھر میں سوشل سیکیورٹی سسٹم اورعمر رسیدہ آبادی کے لیے خدماتی سسٹم کے قیام میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔چین کی کوشش ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر میں بتدریج تاخیر کی پالیسی اپنائی جائے ، پینشن کے نظام کو بہتر بنایا جائے اورعمر رسیدہ افراد کو خدمات کی بہتر فراہمی سمیت مختلف نئے اقدامات اپنائے جائیں۔ بہبود آبادی کے لیے نئے اقدامات کے تحت ایک جوڑے کو تین بچوں کی اجازت بھی دی گئی ہے ۔ یہ ملک میں آبادی کے ڈھانچے کو بہتر بنانے اور انسانی وسائل کے ثمرات کو برقرار رکھنے کے لئے موزوں ہے۔چین میں آبادی کے تیزی سے پھیلاو کو روکنے کی خاطر 1982میں ایک بچے کی پالیسی اپنائی گئی تھی اور آنے والے وقت میں اس پالیسی کے نمایاں ثمرات بھی برآمد ہوئے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہبود آبادی کی مزید بہتر پالیسیاں اپنائی گئیں اور حالیہ تھرڈ چائلڈ پالیسی سے قبل چین نے 2011 میں ایسے جوڑوں کو دوسرے بچے کی اجازت دی تھی جو اپنے والدین کے اکلوتے بچے تھے جبکہ 2016 میں پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے تمام شادی شدہ جوڑوں کو دو بچوں کی اجازت دے دی گئی تھی۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ 2020میں ملک میں ایک سال سے چودہ سال تک کی عمر کے بچوں کا تناسب تقریباً 18 فیصد ہو چکا ہے۔ چین کی کوشش رہے گی کہ ''تھرڈ چائلڈ پالیسی'' کو معاشی اور سماجی پالیسیوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے اورشادی کی عمر کو پہنچنے والے نوجوانوں میں شادی اور خاندانی اقدار کو فروغ دینے کے لئے تعلیم اور رہنمائی فراہم کی جائے۔چین میں ویسے بھی بچوں کی دیکھ بھال کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور مزید کوشش کی جا رہی ہے کہ بہتر نگہداشت کے لیے جامع نظام وضع کیا جائے، منصفانہ نظام تعلیم کو یقینی بنایا جائے، بچوں کے معیاری تعلیمی وسائل تک رسائی کے ساتھ ساتھ اُن کے تعلیمی اخراجات میں کمی کے لیے کوشش کی جائے۔ بچوں کی پیدائش کے بعد حکومت کی جانب سے ویکسی نیشن کی مفت سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ تاکہ بچوں کو عام متعدی امراض سے بچایا جاسکے۔صحت کے علاوہ بچوں کی تعلیم و تربیت کو بھی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ چین میں چاہے شہر ہوں یا دیہی علاقے، پرائمری اسکول سے مڈل اسکول تک نو سالہ لازمی...

شاہانہ قصیدوں کے بے ربط قوافی

اختلاف برائے اصلاح اور اختلاف برائے اختلاف میں واضح فرق یہ ہے کہ اول الذکر سے تجسس وتحقیق،غوروفکر،دلائل احسن کے ساتھ علمی اضافہ کے ساتھ ساتھ تہذیب ومعاشرت اور باہمی تحسین واوصاف کے در بھی وا کرتا ہے۔جبکہ ثانی الذکر کی دنیا میں ایسی کبھی کوئی گنجائش نہیں رہی وہ اس لئے کہ ایسے خیالات کے حامل افراد کے پاس نہ کوئی واضح دلیل ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی مستند حوالہ ہوتا ہے۔ دلیل تھی نہ کوئی حوالہ تھا ان کے پاس عجب لوگ تھے بس اختلاف رکھتے تھے ہاں اختلاف برائے اختلاف سے انتشار،فتور،تکرارباہم دست وگریبان کو سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔وہ اس لئے کہ جن کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی ان کی آواز بہت اونچی ہوتی ہے۔اسی لئے شائد مولانا روم فرماتے ہیں کہ اپنی آواز کو پست اور دلیل کو اونچا رکھیںکیونکہ جو بادل گرجتے ہیں وہ برستے نہیں ہیں۔ اختلاف برائے اختلاف کے متحمل دانش و حکمت سے خالی الذہن طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان کا کوئی مقصدِ زیست نہیں ہوتا۔انہیں تو بس اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں۔ان کی دانست میں مفادات کا حصول ہی دراصل حاصل زیست ہوتا ہے۔اسی لئے ایسے افراد اپنی خواہشات کا محل کمزور لوگوں کے خیالات کی نسل کشی پر تعمیر کرتے ہیں۔انہیں صرف اپنی مفادات عزیز ہوتے ہیں۔اس لئے یہ لوگ اپنی جھونپڑی بچانے کے لئے کسی کے محل کو بھی آگ میں جھونک سکتے ہیں۔اللہ ایسے افراد سے ہم سب کو خاص کر ملک عزیز کو پناہ میں رکھے۔ مفاد پرست افراد کسی نظریہ کی تشہیر کے لئے نہیں بلکہ چند طاقتور مفاد پرست عناصر کی کاسہ لیسی بطور نیبو نچوڑ کرتے ہیں۔تاکہ مستقبل قریب وبعید میں یا جب کبھی موقع دستیاب ہو اپنے مفادات کے ھصول کے لئے انہیں ذریعہ بنا لیا جائے۔مجھے بڑے افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ اس سماجی برائی میں پاکستان کا ہر طبقہ فکر اور ادارہ ملوث ہوتا جا رہا ہے۔خصوصا ہمارا میڈیا اور اس سے وابستہ کچھ مفاد پرست عناصر۔وگرنہ تو ہمیشہ جابر سلطاب کے سامنے کلمہ حق کی صدائیں بلند کرنے والے،حیدو وٹیپواور مجدد الف ثانی جیسے کردار ہماری تاریخ کے ماتھے کا جھومر رہے ہیں۔جبکہ دشمنوں سے وفاداریوں کا اظہار اور ساتھ غداروں کے ماتھے کا کلنک ثابت ہوئے ہیں،افسوس کے وہ بھی ہماری تاریخ کے کردار رہے ہیں۔یاد رکھئے تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے ،آپ کے آج کو مستقبل کا کل بنا کر ایسے پیش کرے گی جیسے آپ آج ہو۔اب آپ پر انحصار ہے کہ آپ تاریخ کے صفحات پر کس طرح سے پیش ہونا چاہتے ہیں۔ اس ساری تمہید کا مقصد یہ تھا کہ جو ایک فضول سی بحث طلعت حسین اور نجم سیٹھی کے درمیان چل نکلی ہے کہ کس نے کیا کیا؟اور کس طرح سے کس نے کرپشن کا بازار گرم کئے رکھا ۔کس کس نے اپنے قلم کی حرمت کو چند سکوں ،پلاٹ یا مفادات کے لئے پامال کیا۔دونوں طرف سے دلائل وتنقید سے کیا ثابت کیا جا رہا ہے کہ ہمارے عزائم و کرتوت کیا ہیں؟میڈیا پر ایسی بحث و تمحیص کے بعد تو میرا...

ٹیلہ جوگیاں: دھرتی پنجاب دی عظیم نشانی ( دوسرا اور آخری حصہ )

برطانوی ماہر بشریات آر سی ٹیمپل کی 1886 میں شائع ہونے والی کتاب ’پنجاب کی لوک کہانیاں‘ میں سیالکوٹ کے ایک راجا سلواہن کی کہانی بیان کی گئی ہے جس کی دو رانیاں تھیں۔ایک اچھراں اور دوسری لوناں۔ رانی اچھراں کا ایک ہی بیٹا تھا پورن، جو چندے آفتاب و چندے ماہتاب تھا۔اس کی سوتیلی ماں لوناں پورن پر فریفتہ ہو گئی اور جب وہ اس کے بہکاوے میں نہ آیا تو اس نے راجا سے پورن کی جھوٹی شکایت کی۔راجا رانی لوناں کی باتوں میں آ گیا اور اپنے بیٹے کے ہاتھ پیر کاٹ کر اسے کنوئیں میں پھنکوا دیا، جو آج بھی سیالکوٹ سے کلوال جانے والی سڑک پر موجود ہے۔پورن کئی برس تک اسی کنوئیں میں پڑا رہا۔ ایک روز گرو گورکھ ناتھ ادھر سے گزرے۔ انھوں نے اتفاق سے اپنا ڈیرا اسی کنوئیں پر لگایا اور اس کے بعد پورن کو کنوئیں سے نکلوایا اور اپنی روحانی طاقت سے پورن کا حال جانا۔جب انھیں معلوم ہوا کہ پورن بے گناہ ہے تو خدا سے دعا کی یوں پورن کے ہاتھ پاؤں سالم ہو گئے۔گرو نے اس کے کان چھِدوا کر اپنا چیلا بنا لیا۔ گرو گورکھ ناتھ کے ہی حکم پر پورن واپس گھر گیا تو اس کی سوتیلی ماں نے اس سے معافی مانگی اور اولاد کے لیے دعا کروائی۔پورن نے سوتیلی ماں کو معاف کر دیا اور اس کی دعا سے اس کی سوتیلی ماں کی گود بھی بھر گئی۔آج بھی بے اولاد لوگ اولاد کی خواہش میں پورن بھگت سے منسوب اس کنوئیں پر آتے ہیں اور اس کے پانی میں پھولوں کی پتیاں پھینکتے ہیں،اولاد کی خواہش مند خواتین اس کنوئیں کے پانی سے غسل کرتی ہیں، نئے کپڑے پہنتی ہیں، پھر پرانے کپڑے جوتے روایت کے مطابق سب کچھ وہیں جلا دیے جاتے ہیں۔ ٹلّے کے حوالے سے جوگی راجا بھی بہت مشہور داستان ہے۔ جب راجا بھرت ہری اجین کا حکمران بنا تو وہ 375 اور380 قبل مسیح کا درمیانی دور تھا۔ان کی بھی دو رانیاں تھیں۔ سیتا دیوی اور پنگلا دیوی اور دونوں ہی حسن و جمال میں یکتا تھیں مگر بھرت ہری سیتا کے حسن کا دیوانہ تھا۔یہ بھی ایک طویل داستان ہے جس کو اگر مختصراً بیان کیا تو ہوا یوں کہ راجہ بھرت ہری کی محبوبہ بیوی سیتا اپنے شوہر سے بے وفائی کی مرتکب ہوتی ہے اور پھر راز کھلنے پرخود کشی کر لیتی ہے۔راجا بھرت ہری دودھ کا جلا تھا لہذا دوسری بیوی کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایک موقع پر اس کی وفا کا امتحان لینے کے لیے اپنی موت کی جھوٹی اطلاع اس تک پہنچاتا ہے تاکہ وہ اس کا ردعمل جان سکے۔وفا کی ماری پنگلا دیوی شوہر کی موت کی خبر سنتے ہی گر کر جان دے دیتی ہے۔ان دونوں واقعات کا راجا بھرت ہری پر اتنا اثر ہوتا ہے کہ وہ تخت و تاج اپنے بھائی بکرماجیت کو سونپ کر نروان کی تلاش میں نکل پڑتا ہے،اس کی تلاش اسے کوسوں دور نمک کے بلند و بالا پہاڑ اور جوگیوں کے مشہور استھان ٹلہ جوگیاں تک...

تصوف کا مفہوم ( دوسرا اور آخری حصہ)

تصوف کی اصطلاح کب رائج ہوئی؟عہد صحابہ میں تصوف کی روح اور حقیقت، یعنی زہد وتقویٰ انابت الی اللہ، عاجزی وانکساری وغیرہ روحانی اور باطنی صفات تو پائے جاتے تھے، لیکن اس لفظ کا استعمال عہد صحابہ تک نہیں تھا، حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری نے ابو الحسن بوشنجہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ تصوف موجودہ زمانے میں صرف ایک نام ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں اور گذشتہ زمانے میں ایک حقیقت تھی جس کا کوئی (مخصوص) نام نہ تھا، یعنی صحابہ کرام اور سلف صالحین کے وقت میں لفظ صوفی تو بے شک نہیں تھا لیکن اس کی حقیقی صفات ان میں سے ہر ایک میں موجود تھیں اور آج کل یہ نام تو موجود ہے لیکن اس کے معنی موجود نہیں، اْس زمانے میں معاملات تصوف سے آگاہی کے باوجود لوگ اس کے مدعی نہ ہوتے تھے؛لیکن اب دعوی ہے، مگر معاملات تصوف سے آگاہی مفقود ہے۔ مزید پڑھیے : تصوف کا مفہوم ( پہلا حصہ ) (گنج مطلوب ترجمہ کشف المحجوب )شیخ ہجویری کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں تصوف کی حقیقت موجود تھی، لوگوں میں زہد وتقوی، خشوع وخضوع ، فکر آخرت اور خوف خدا جیسی صفات تھیں اور ان صفات کے متصف حضرات عابد اور زاہد کہلاتے تھے، لیکن تصوف کا لفظ اس وقت رائج نہیں ہوا تھا۔ بقول امام ربانی مجدد الف ثانی ’’تصوف کا تعلق احوال سے ہے‘ زبان سے بیان کرنے والی چیز نہیں‘‘ مگر جہاں تک تصوف کے عملی پہلو کا تعلق ہے‘ صحیح اسلام ی تصوف کے خدوخال کا تعین اور اس کی حیثیت سے علمی حلقوں کو روشناس کرانا بہت ضروری ہے کیونکہ آج کل جس چیز کو تصوف کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے اور پیش کیا جاتا ہے اس کا اسلامی تصوف سے دور کا تعلق بھی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ صحیح اسلامی تصوف کو بھی شک و شبہ کی نظر دے دیکھا جاتا ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ عام المسلمین کو صحیح اسلامی تصوف سے روشناس کرایا جائے۔ جس کی اساس کتاب و سنت پر ہے تاکہ اس کی روشنی میں اپنی فکری اور عملی اصلاح کر کے ابدی فلاح حاصل کر سکیں۔تصوف وہ علم ہے جس کے متعلق حضرت علامہ اقبال نے نظم و نثر میں اپنے ناقدانہ خیالات کا مفصل اظہار کیا اور وہ فرماتے تھے ’’میرا فطری اور آبائی رجحان تصوف کی طرف ہے۔ ‘‘ تصوف کی اصلاح اور ملت کے احیا کی خاطر اس پر بے دریغ تنقید کی۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے فرمایا ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ تیسرا فن مقاصد شرعیہ کے ماخذ کے لحاظ سے بہت باریک اور گہرا ہے اور تمام شریعت کے لئے اس فن کی وہی حیثیت ہے جو جسم کے لئے روح کی ہے اور لفظ کے لئے معنی کی ہے۔‘‘ مطلب یہ کہ تصوف کے بغیر نہ شریعت زندہ رہ سکتی اور نہ دین سلامت رہ سکتا ہے۔ لتصوف کے باب میں امام غزالی فرماتے ہیں ’’جیسی باقی علوم فرض ہیں اسی طرح علم سلوک بھی فرض ہے...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

کے الیکٹرک کی کراچی دشمنی

کے الیکٹرک نے فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں نیپرا سے 6روپے 31پیسے بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ اس درخواست میں کے الیکٹر ک نے موقف اختیار کیا ہے کہ ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 5روپے 95پیسے، سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے لیے 36پیسے بجلی فی یونٹ مہنگی کی جائے، جس پر نیپرا نے کے الیکٹرک کی درخواست پر 15جون کو سماعت کا کہا ہے ۔ اس سے قبل بھی کے الیکٹرک ہزاروں مرتبہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کراچی کی عوام سے کھربوں روپے نکلوا کر ہڑپ کرچکا ہے۔ کراچی کو تباہ کرنے میں کے الیکٹرک نے جتنی محنت اور لگن سے دن رات کام کیا ہے اس کی مثال پورے ملک میں نہیں ملتی۔ یہ پاکستان کا واحد پرائیوٹ ادارہ ہے جو دن دگنی اور رات چگنی ترقی کرنے کے بعد بھی مزید بجلی کے بم کراچی پر گرانے کے لیے ہموقت تیار رہتا ہے۔ کے الیکٹرک کی جانب سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ کا سلسلہ اول روز سے جاری ہے جس پر آج تک ادارے نے دھیان نہیں دیا اور توجہ دے بھی کیوں ؟ اس سے تو وہ ماہانہ اربوں روپے کما رہا ہے۔ مگر افسوس ہمیں سرکاری اداروں پر ہوتا ہے جنہوںنے اس بدمعاش ادارے کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ یہ ہر ناجائز طریقے سے شہریوں کو لوٹ رہا ہے پھر ڈھٹائی سے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی پیسے بٹور رہا ہے۔ تاہم اس کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو یہ ادارہ صفر سے شروع ہوکر صفر پر ہی کھڑا نظرآئے گا۔ نہ اس کے پاس اضافی بجلی جمع کرنے کوئی ذریعہ ہے او ر نہ ہی ڈسٹریبیوشن کے معاملے میں اس نے کوئی کام کیا ہے۔ کے الیکٹرک کی تمام تر توجہ صرف بلنگ پر ہے ۔ کوئی شہری اگر ایک مہینہ بل نہ بھرے تو تاریخ گزرنے کے بعد ہر روز ایک گاڑی اس کے دروازے کے باہر آکر کھڑی ہوجاتی ہے اور یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ بل بھرلیں ورنہ آپ کی بجلی منقطع کردی جائے گی۔ اور اگر بجلی منقطع کردی گئی تو پھر سے اس کا جرمانہ بھی الگ سے بھرنا ہوگا۔ کے الیکٹرک کی پوری تاریخ جرمانوں سے بھری ہوئی ہے ، ہر چیز پراس نے جرمانہ عائد کر رکھا ہے، میٹرگھر کے باہر لگا ہے جو عوام کی ملکیت ہے ، مگر کے الیکٹرک اس کا بھی ماہانہ کرایہ عوام سے ہی بطور جرمانہ لیتا ہے ، اگر میٹر میںکوئی خرابی آجائے تو اوراسے تبدیل کرانا ہوتو اس کے لیے کئی دنوں تک متعلقہ ادارے کے فرعون افسران کے تلوے چاٹنے پڑتے ہیں اور ایک بھاری فیس کے ساتھ چند ہزار رشوت کے دیکر آپ کا میٹر تبدیل کرکے احسان عظیم کیاجاتا ہے ۔ اگر آپ کا بل اضافی ہے تو آپ کو اس کی کمپلین کرنے کے لیے بھی کئی روز تک متعلقہ دفاتر کے شیطان افسران کے سامنے گڑ گڑانا پڑے گا، اس کے بعد بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ وہ آپ کا مسئلہ حل کردیں گے یا پھر سے آپ کو یہ کہہ ٹال دیاجائے گا کہ اب بلنگ ہوچکی ہے آپ کو...

میرا عظیم شہر کراچی ہے توجہ کا طالب

میرا شہر کراچی جسے کولاچی بھی کہا جاتا ہے،شہر قائد بھی ہے کراچی،  پاکستان کا سب سے بڑا شہرہے اسے اگر چھوٹا پاکستان بھی کہیں تو بھی غلط نہ ہوگا۔کراچی پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی، تجارتی، تعلیمی اور اقتصادی مرکز، صوبہ سندھ کا دارلخلافہ بھی ہے۔بحیرہ عرب کے شمالی ساحل پہ واقع کراچی کی اپنی ہی شان و شوکت ہے۔پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ اور  اور ائیر پورٹ بھی کراچی کا ہی ہے۔ 1947 سے 1960 تک پاکستان کا دارلحکومت بھی کراچی رہا ہے۔پھر دارلحکومت اسلام آباد منتقل ہوگیا مگر کراچی کی اہمیت پھر بھی کم نہ ہوئی۔ پورے پاکستان سے لوگ کراچی روزگار کے لئے آتے ہیں اگر کہا جائے کہ یہ پاکستان کا دوبئی ہے تو بھی غلط نہ ہوگا۔ کراچی میں ہر رنگ ونسل کے اور ہر صوبے کے لوگ ہیں بلکہ کچھ قومیںصرف کراچی میں ہی ہیں اور باقی پاکستان میں نہیں ہیں۔ جن میں خاص طور پہ میمن، بوہری، پارسی اور آغا خانی قابل ذکر ہیں۔کراچی میں ثقافتوں کی فراوانی ہے ۔ اتنی قومیتوں اور آبادی والے شہر کو اگر ایک غریب پرور شہر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔کراچی کے راستے اور دل پورے پاکستان کے لئے کشادہ ہیں۔کراچی کی مثال اس دئیے کی مانند ہے جو خود جل کے دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔کراچی کو'' روشنیوں کا شہر'' بھی کہتے تھے مگر آج کل روشنی کا نام و نشاں نہیں۔خیر اچھے دنوں کی امید ہے اور امید پہ دنیا قائم ہے۔ کراچی کو'' عروس البلاد'' بھی کہتے ہیں یہاں بہت سے تاریخی اور خوبصورت مقامات بھی ہیں جیسے قائد اعظم کا مقبرہ، کراچی پورٹ، نیشنل اسٹیڈیم، ساحل سمندر، عبداللہ شاہ غازی کا مزار، مہوٹہ پیلس، پاکستان ائیر فورس میوزیم، میری ٹائم میوزیم، ایکسپو سینٹر، فرئیر ہال، سندھ کلب، منوڑہ، بھٹ شاہ، سفاری پارک، عجائب گھر۔۔حبیب پلازہ جو پورے کراچی میں نظر آتا ہے۔کراچی کے مشہور پارکس بن قاسم پارک، سفاری پارک، الہ دین پارک، سند باد، چڑیا گھر، سی ویو پارک، عزیز بھٹی پارک، ہل پارک اور بھی بہت سے پارکس ہیں شہریوں کے لئے۔کراچی ایک فلاحی و رفاہی شہر ہے۔کراچی میں سب سے زیادہ چیریٹی ہوتی ہے دردمند اور حساس دل لوگ ہیں یہاں پہ جو قوم،مذہب، ذات پات سے بالا تر ہو کراللہ کے بندوں کی خدمت کرتے ہیں۔۔ایدھی، چھیپا، سیلانی، صارم برنی بہت قابل ذکر نام ہیں جو خدمت خلق کے کاموں میں پیش پیش ہیں۔ کراچی کے کھانے بہت مشہور ہیں جن میں بریانی اور مچھلی سر فہرست ہے، اسکے علاوہ ساحل سمندر، دو دریا، برنس روڈ، بوٹ بیسن، حسین آباد،  پورٹ گرینڈ اور مختلف ہوٹلز اور فوڈ کورٹس آپ کے لذت طعام و دہن کا مکمل تسلی بخش انتظام رکھتے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی کی اپنی شان ہے، کراچی کی مختلف یونیورسٹیز تعلیم کے شعبے میں بہت عمدہ کام کر رہی ہیں، اور ملک کے بہتریں تعلیمی اداروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ کراچی پاکستان کی شہہ رگ ہے، کراچی شہر اتنا وسیع و عریض ہے کہ شاید ہی کوئی یہ دعویٰ کرے کہ وہ کراچی کے چپے چپے سے واقف ہے۔ کراچی کے مشہور علاقے...

تیرے وعدے پر جیے ہم

ویسے تو جتنے بھی سول حکمران قوم پر براجمان ہوتے رہے ان میں سے ہر ایک نے ایک دوسرے سے بڑھ کر پریشان حال عوام کی آنکھوں میں ایسے ایسے سنہرے خواب سجائے کہ مارے خوشی وہ ہمیشہ مر جانے کے قریب پہنچتے رہے۔ موجودہ حکومت سے قبل جتنی بھی حکومتیں پاکستان میں آتی رہیں وہ بے شک لوگوں کی آنکھوں میں ایک سے ایک خواب سجاتی رہیں لیکن موجودہ حکومت نے تو گزشتہ ساری حکومتوں کے جتنے بھی جھوٹے خواب، وعدے اور دعوے تھے ان سب کو یک جا کرنے اور ان کو کئی سو سے ضرب دینے کے بعد قوم کے سامنے کچھ اس یقین کے ساتھ رکھا جیسے حکومت کی پوری ٹیم جادوگروں کا ایسا گروہ ہو جس کے پاس ایسی چھڑیاں ہوں جن کی معمولی جنبش بھی ایسے کمالات دکھا جائیں گی کہ پاکستانی عوام تو عوام، دنیا اپنی آنکھوں پر اس لئے ہاتھ رکھ کر ڈھانپ لیگی کہ دکھائی دینے والی کرامات و معجزات یقین کر لینے میں مانع ہوں۔ نہ جانے کن شیطانی طاقتوں نے موجودہ حکمرانوں کے لب و لہجے میں وہ اثر پیدا کر دیا تھا کہ کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں بچا جو دام فریب سے اپنے آپ کو بچا سکا ہو۔ حد یہ ہے کہ تین سال سے ہر دکھائے جانے والے خواب، دعوں اور وعدوں کے بالکل بر خلاف ہوتے دیکھنے کے باوجود بھی فریب خورداؤں کا یہ عالم ہے کہ وہ ہر آنے والے دن کے ساتھ اپنی آس و امید کا دامن چھوڑنے کیلئے تیار نہیں اور اسی امید پر زندہ ہیں کہ عالم حکومت سے کوئی نہ کوئی ایسا ظہور ضرور ہو کر رہے گا جو زیر کو زبر کرکے چھوڑے گا۔ کہتے تو یہی ہیں کہ پاکستان میں عام لوگوں کی رائے سے وجود میں آنے والی یہ واحد حکومت ہے جو عوام کی تقدیر بدل دینے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔ بات کچھ یوں ہے کہ کیا یہ بہت ضروری ہے کہ ہر قسم کی تبدیلی کو ہمیشہ مثبت ہی تصور کیا جائے۔ دنیا میں کوئی ایک تصویر بھی ایسی نہیں جس کا ایک ہی رخ ہوا کرتا ہو۔ آسمان سے برسنے والی گھٹائیں ہمیشہ رحمت ہی کی تو نہیں ہوا کرتیں کہ ان کے برس کر گزرجانے کے بعد زمین سونا اگلنے لگتی ہو، اکثر کھیتیاں کی کھیتیاں بھی تو اجڑ کر رہ جاتی ہیں۔ جہاں بنجر زمین پر ہری بھری کھیتیاں لہلہانہ تبدیلی شمار کی جاتی ہو وہاں آباد کھیتوں کھلیانوں کا اجڑ جانا بھی تو ایک تبدیلی ہی ہوا کرتی ہے۔ جس طرح اٹھتی اور چڑھتی چلی آنے والی گھٹاؤں کو دیکھ کر پیاسی زمینیں خوشی کے شادیانیں اس امید و آس پر بجانے لگتی ہیں کہ برکھا اب ان کی پیاس بجھا کر ہی رہے گی وہیں اس کے بر عکس مناظر بھی تو دیکھنے میں آ جایا کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت بھی عوام کے ساتھ چڑھتی اور امڈتی ایسی گھٹا ثابت ہوئی جس کو آسمان کی وسعتوں پر چھاتے دیکھ کر عوام نے اپنے سارے گھڑے ہی پھوڑ دیئے لیکن ان کو اس بات کی کیا خبر تھی کہ جن...

اچھا استاد شاگردوں کے لیے تحفہ (پہلا حصہ)

ایک زمانہ تھا کہ شاگرد استاد کو بڑی رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور دل میں خواہش رکھتے تھے کہ وہ بھی بڑے ہوکر اپنے استاد کی طرح قابل ہوکرباعزت زندگی گزاریں گےاور تاریخ اس بات کی گواہ ہے جس نے سچائی اور لگن کے ساتھ اپنے اس جذبہ کو قائم رکھا وقت نے انہیں ایسی ہی قابل احترام زندگی عطا کی ۔  لیکن جب اس معاشرے کے جاہل ٹھیکیداروں نے اپنی فرعونیت کی حکمرانی کو خطرے میں دیکھا کہ پڑھ لکھ کر ایک معمولی انسان بھی نہ صرف معاشی طور پر مضبوط ہوجاتا ہے بلکہ ہر چھوٹا بڑا اس کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ نہ صرف اپنے بنیادی حقوق وفرائض کی ذمہ داریاں  بخوبی نبھاتا ہے بلکہ دوسروں کی بھی رہنمائی کرکے ایک بہتر زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھادیتا ہے  اوریہ وہ خطرے کی گھنٹی تھی جس کی گونج نے اس بات کو واضح طور پر  روز روشن کی طرح  عیاں کردیا کہ وہ دن دور نہیں جب فرعونوں کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے اور جہالت  کی بنیاد پر غلامی کرنے والے  علم کی روشنی  حاصل کرکے ان کا تختہ الٹ دیں۔ لہذا انہوں نے ایسی سازش کا جال بچھایا کہ کسی کو احساس بھی نہ ہوا کہ ایک معزز قوم کیسے آہستہ آہستہ جہالت کی کھائی میں گرتی چلی گئی یہاں تک کہ وہ اپنی شناخت ہی کھو بیٹھی ۔ آج کا  وہ استاد جو انسانوں  کو جہالت کے اندھیرے سے نکال علم کی روشنی میں زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا تھا اب اپنی زندگی کی ناؤ کو بچانے کی کوشش میں مصروف ہے کیونکہ  آج  بھی چودہ سو سال پہلے والی قوم علم کے  مدمقابل وہ ہی ہٹ دہرم اور صدی  بنی اسرائیل کی قوم ہے جو علم رکھتے ہوئے بھی دنیا کو اپنا دین وایمان بنائے  ہوئے تھی اور اللہ اور اس کے رسول کی کھلی نافرمانی کرکے دعوہ کرتی تھی کہ وہ ہی جنت کے حق دار ہیں۔ آج کی قوم بھی جہالت کے اسی اندھیرے میں بھٹک رہی ہے اس دنیا کو زندگی کا حاصل سمجھ کر ایسے راستے پر گامزن ہے جس کی کوئی منزل نظر نہیں آ تی۔ پہلے ماں باپ  بچوں کو تعلیم دیتے تھے کہ بیٹا استاد کی عزت کرنا اللہ تمہیں عزت دے گا آج کے ماں باپ کو اپنے بچوں کوتو کیا عزت کرنا سکھائیں گے بلکہ ان کے سامنے استادوں سے اس انداز میں بات کرتے ہیں جیسے فیس دے کر انہوں نے ٹیچر کو خرید لیا ہے تو پھر بچے کیسے اس استاد کی عزت کریں گے۔  ایمانداری سے اللہ کو حاضر وناظر جان کر اپنا محاسبہ کیجئے کہ ایک باپ، بھائی کی حیثیت سے آپ کو یاد ہے کہ آپ نے  کبھی  اپنے بیٹے یا بیٹی کو، اپنی بہن یا بھائی کو ایک مرتبہ بھی یہ کہا ہو کہ استاد کی عزت واحترام آپ پر اسی طرح فرض ہے جیسا کہ ماں باپ کا؟ نہیں کہا کیونکہ ہم استاد کو وہ مقام واہمیت  ہی نہیں  دیتے جس کے وہ حق دار ہیں۔ ہم دولت مند کے قدموں میں بیٹھنا پسند کرلیں گے مگرایک...

رمضان المبارک اور بدنام شیطان

شیطان نے زنا تو نہیں کیا تھا،شراب تو نہیں پی تھی ڈاکہ تو نہیں ڈالا تھا چوری تو نہیں کی تھی ،ایک مسیحابن کر ڈاکٹر کے روپ میں انسانوں کے اعضاء تو فروخت تو نہیں کیے تھے ،سیاست دان بن کر عوام کی خدمت کا نعرہ لگا کر عوام کا خون تو نہیں پیا تھا ،ناپ تول میں کمی تو نہیں کی تھی ،اشیاء خودرنوش میں ملاوٹ تو نہیں کی تھی ،مولوی بن کر شریعت کا کاروبار تو نہیں کیا تھا ، خاوند کو باندھ کر اسکے سامنے اسکی بیوی کی ساتھ گینگ ریپ تو نہیں کیا تھا ،سگا باپ ،بھائی ہوکر اپنی ہی سگی بیٹی ،بہن کو جنسی حیوانیت کا نشانہ تو نہیں بنایا تھا ،ہم جنس پرستی تو نہیں کی تھی ،لوگوں کو کتے ،گدھوں ،چوہوں اور پتا نہیں کون کون سے حرام جانوروں کا گوشت تو نہیں کھلایا تھا ،قاضی بن کر پیسوں کی ہوس میں مجرموں کا ساتھ تو نہیں دیا تھا ،اللہ تعالیٰ کی شان میں کوئی گستاخی تو نہیں کی تھی ،بس صرف ایک کام کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے انکار کرتے ہوئے حضرت آدم ؑ کو سجدہ نہیں کیا تھااور اس کی پاداش میں ذلیل ورسوا ہوکر عرش بریں سے اسے نکلنا پڑا ۔ پہلی قوموں کی تباہی کسی ایک گناہ کی وجہ سے ہوئی اور اس ساری قوموں کے گناہ ہم میں پائے جاتے ہیں اس کے باوجود بھی ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بے قصور اور بے گناہ لوگ ہیں ۔یقین کیجئے وہ تو رب تعالیٰ کا اپنے محبوب سے کیا ہوا وعدہ ہے کہ وہ حضرت محمدؐ کی امت پر مجموعی عذاب نازل نہیں کرے گا ورنہ آج ہماری داستان تک نہ ہوتی داستانوں میں ۔ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ گزر چکا ہے یقین کیجئے کہ ساٹھ روپے کلو بکنے والا خربوزہ سو روپے کلو ساٹھ روپے درجن والا کیلا ایک سو بیس درجن اور اسی روپے کلو والا سیب ایک سو پچاس روپے کلو آٹا ،چینی نایاب ۔یہودی،نصرانی ،ہندو ،سکھ اپنے مذہبی تہواروں پر اشیا سستی کردیتے ہیں اور ہم مسلمان بیس روپے کلو والا ٹماٹر ساٹھ روپے کلو کرکے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب پتا نہیں کیوں آتے ہیں؟ ایک حضرت نے ذخیرہ اندوزی کرکے لاکھوں روپے کمایا پھر انہی پیسوں سے عمرہ وحج کیا ،حاجی صاحب بنے ایک عالی شان گھر بنوایا اور گھر کے باہر موٹے حروف میں لکھوایا ’’ہذامن فضل ربی‘‘چند عالی شان افطار پارٹیاںدیں بلیک منی کو وائٹ کیا اور بن گئے ایک معزز بزنس مین ۔یقین کریں شیطان بھی کبھی کبھی یہ سوچتا ہوگا کہ اتنے گناہ تو اس نے بھی نہیں کیے ہیں جس قدر آج اس پر تھوپے جارہے ہیں ۔ سچ تو یہ ہیں کہ شیطان تو ویسے ہی بدنام ہو رہا ہے وہ کونسا گناہ ہے جو ہم نہیں کرتے ،شیطان نے تو صرف ایک کام سے انکار کیا تھا ہم تو آج اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہی منکر ہوچکے ہیں اس نے ایک سجدہ نہیں کیا تھا تو قیامت تک رسواء ہوگیا اور ہم سالوں سے سجدہ نہیں کررہے ہیں اور اکڑتے ہیں کہ رب ہمارا...

ہمارے بلاگرز