ٹیگ: نعت رسول مقبول

اہم بلاگز

نئے اراضی قوانین : کشمیر برائے فروخت

نومبر کا مہینہ تھا اور سال ۱۹۴۷، مسلم اکثریتی صوبہ جموں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے ہندوستان کے بٹوارے کے بعد ہی راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (جس کی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی آج بھارت میں سرکار ہے) کی قیادت میں اس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ اور اس کی فوج نے مل کر انٹرنیٹ پر موجود مختلف اعدادو شمار کے مطابق دو لاکھ سے زائد مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ ہارس الکذینڈرکی جانب سے ’دی سیپیکٹیٹر‘ میں شایع مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ: "دو لاکھ کے قریب مسلمان مارے گئے جبکہ ۵ لاکھ کے قریب مسلمانوں کو پاکستان کی جانب دھکیل دیا گیا"۔ تب جموں میں ۶۱ فیصد مسلمانوں کی آبادی اور ہندو ۳۱ فیصد تھے۔ لیکن اس قتل عام کے بعد مسلم آبادی گھٹ کر ۳۵ فیصد کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔ اور اب ۷۳ سال بعد صوبہ کشمیر میں بھی ایسی ہی آبادی کو بدلنے کی ایک خوف کی لہر عوام میں دوڑ گئی ہے جب گزشتہ ماہ بھارتی سرکار کی جانب سے اراضی قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔ ان ترامیم کے مطابق اب بھارت کی کسی بھی ریاست کا باشند ہ جموں و کشمیر کے کسی بھی علاقے میں غیر زرعی زمین خرید سکتا ہے اور وہاں بس بھی سکتا ہے۔ گزشتہ ماہ کے آخری ہفتہ میں بھارت کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق غیر ریاستی شہری اب جموں کشمیر میں زمین خریدنے کے اہل ہو گئے ہیں۔ اسی طرح زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا تاہم قانون کے مطابق زرعی اراضی پر تعلیمی ادارے اور طبی سہولیات کے ڈھانچے تعمیر کئے جا سکتے ہیں۔ دلی کی گدّی پر ۲۰۱۴ ؁ء سے قابض بھارتہ جنتا پارٹی کا لگ بھگ پچھلی تین دہائیوں سے ہی جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنا اپنے انتخابی منشورات میں شامل رہا ہے، اور ہوا بھی وہی۔ ۲۰۱۴ میں اقتدار میں آنے کے بعد بھاجپا نے یہ وعدہ ۵ اگست ۲۰۱۹؁ء کو پورا کر دیا۔ ہند نواز سیاسی جماعتیں جو آج تک دلی میں موجود سرکاروں کے گُن گاتی پھر رہی تھیں وہ بھی آج اسے دھوکے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ محبوبہ مفتی ، فاروق عبداللہ جیسے لیڈران بھی چلا رہے ہیں کہ یہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ ۵ اگست ۲۰۱۹؁ء کے بعد بھاجپا کی جانب سے کشمیریوں کی نوکریوں اور زمین کی حفاظت دینے کے وعدے بھی کیے گئے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے خود کہا "کشمیریوں کی زمین کوئی نہیں چھینے گا"۔ رواں سال اپریل میں کشمیریوں کی دلجوئی کیلئے ڈومیسائل قانون بنایا گیا جس کے تحت ۱۵ سال تک جموں کشمیر میں اپنی زندگی گزارنے والا ہی یہاں کا شہری بن سکتا ہے تو غیر ریاستی باشندے جو یہاں کئی سالوں سے جموں کشمیر میں موجود ہیں ڈومیسائل سرٹیفیکٹ حاصل کرنے لگے۔ لیکن اب قانون کی بھی کوئی وقعت نہیں رہی ہے۔ اور وہی ہوا جس کا کشمیریوں کو ڈر تھا۔ کشمیر میں آبادی کو بدلنے کا منصوبہ...

سرکلر ریلوے کا خواب،خواب نہ بن جائے

ایک زمانہ تھا جب کراچی میں لوکل ٹرینیں چلا کرتی تھیں۔ پہلے پہل ان کا آخری اسٹیشن لانڈھی ہوا کرتا تھا۔ جب پاکستان اسٹیل تعمیر ہونا شروع ہوا تو اس کا دائرہ بن قاسم اسٹیشن تک بڑھا دیا گیا جس کا پرانا نام پپری تھا۔ بعد میں اسے دھابیجی تک وسعت دیدی گئی۔ یہ ٹرینیں وقت کی پابندی کے ساتھ چلا کرتی تھیں اور ان کی کامیابی کا یہ عالم تھا کہ اس میں سفر کرنے والے اکثر مسافر پورے پورے مہنے کا پاس تک بنوالیا کرتے تھے، یوں انھیں روز روز قطاروں میں کھڑے ہوکر ٹکٹ لینے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑ تی تھی۔ یہ مقامی یا لوکل ٹرینیں سٹی اسٹیشن سے ریلوے کے اس ٹریک پر چلا کرتی تھیں جس پر کراچی سے پشاور جانے والے "اپ ڈاؤن" ساری ریل گاڑیاں چلا کرتی ہیں۔ اسی کے ساتھ ریلوے نے ایک اچھا کام یہ کیا کہ سرکلر ریل بھی کراچی میں چلائی گئی۔ یہ ٹرینیں کراچی سٹی اسٹیشن سے وزیر مینشن، بلدیہ، سائٹ مل ایریا، اورنگی، ناظم آباد، گلشنِ اقبال، کراچی یونیورسٹی اور اولڈ ایریا سے گزرتے ہوئے ڈرگ روڈ اسٹیشن سے آکر ملا کرتی تھیں اور پھر دوبارہ سٹی اسٹیشن کی جانب رواں ہو جایا کرتی تھیں اس طرح یہ شہر کے سارے گنجان آباد علاقوں کو کور کر لیا کرتی تھیں۔ لوکل ٹرینیں ہوں یا کراچی سرکلر ریلوے، ان کی کامیابی کا یہ عالم تھا کہ ان میں بیٹھنے کی تو کجا، بعض اوقات کھڑے ہونے تک کی جگہ بصد مشکل ملا کرتی تھی۔ بے حد رش والے یہ اوقات زیادہ تر دفتری یا کار و باری اوقات ہوا کرتے تھے لیکن باقی اوقات میں چلنے والی یہ دونوں ٹرینیں ہمیشہ مسافروں سے بھری ہی چلا کرتی تھیں۔ یہ تو ہے ایک مختصر سے تمہید جو کراچی لوکل ٹرینوں اور سرکلر ریلوے کی متعلق باندھی گئی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو سروسز اتنی کامیابی کے ساتھ ایک طویل عرصے تک فراہم کی جاتی رہیں وہ اچانک کس بنیاد پر بند کردی گئیں۔ خاص طور سے کراچی سرکلر ریلوے کو آخر کیوں بند کیا گیا کیونکہ اس کو بلا تعطل چلائے رکھنے کیلئے شہر میں کئی اوور ہیڈ برج ایسے بنائے گئے تھے جو بہت طویل اور محض کراچی سرکلر ریلوے کی وجہ سے بنانے پڑے تھے جن کی مالیت آج کے دور کے لحاظ سے کھربوں روپے بنتی ہے۔ ان پلوں کی تعمیر سے ٹریفک کی روانی میں تو بہتری آئی لیکن جہاں جہاں بھی ان کو تعمیر کیا گیا وہاں وہاں شہری علاقے روڈ کے دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے۔ لوکل ٹرینیں اورسرکلر ریلوے کے بند ہوجانے سے وہ لاکھوں افراد جو تقریباً 24 گھنٹے اس میں سفر کیا کرتے تھے وہ اس زمانے میں چلنے والی سرکاری اور پرائیویٹ بسوں میں سفر کرنے یا اپنی اپنی حیثیتوں کے مطابق ذاتی گاڑیوں میں سفر کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس طرح ایک جانب مسافر بسوں پر بے تحاشہ دباؤ بڑھا تو دوسری جانب سڑکوں پر ٹریفک کا اضافہ ہونا شروع ہوا۔ اس وقت سڑکوں پر جتنی بھی سرکاری و نجی بسیں...

کراچی میں بڑھتےجرائم کاذمہ دارکون؟

روزنامہ جسارت میں شائع ہونے والی خبر کےمطابق گزشتہ 10 ماہ کے دوران قتل و غارت گری اور لوٹ مار کی وارداتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جو بہت ہی تشویشناک بات ہے۔ 10 ماہ کے دوران 322 افراد کا قتل ہوجانا اور 18000 لوٹ مار کی واداتیں ہونا کوئی ایسی بات نہیں جس کو کسی بھی لحاظ سے نظر انداز کیا جا سکے۔ یہ تو وہ واقعات ہیں جو کہ رپورٹ ہوئے جبکہ بیشمار واقعات ایسے ہیں جن کی رپورٹ درج کرائی ہی نہیں جاتی۔ تفصیل کے مطابق قتل کی 322 واداتوں کے علاوہ 18 ہزار موبائل فون کا چھینا جانا، 1300 گاڑیوں کا چوری ہونا یا چھینا جانا اور شہریوں کا 30 ہزار سے زائد موٹر سائیکلوں سے محروم ہوجانا مذکورہ واداتوں کے علاوہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے ہر ملک میں شہروں اور شہریوں کی حفاظت کا اصل ذمہ دار پولیس کا محکمہ ہی ہوا کرتا ہے اس لحاظ سے کراچی میں تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی واداتوں کی اصل ذمے داری کراچی کی پولیس پر ہی آتی ہے لیکن یہ بات بھی ہر شخص کے علم میں ہے کہ کراچی پاکستان کا وہ واحد شہر ہے جس میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ایک طویل عرصے سے ہزاروں کی تعداد میں رینجرز بھی تعینات ہے۔ کراچی کو ہر قسم کے جرائم سے پاک صاف رکھنے کیلئے کئی قسم کے فوجی آپریشنوں کا سامنا بھی رہا ہے اور جنرل راحیل شریف کے دور میں قانون سازی کرکے پورے ملک اور خصوصاً کراچی کیلئے رینجرز کو وسیع تر اختیارات بھی سونپے گئے ہیں۔ گو کہ یہ قوانین ایک محدود مدت کیلئے بنائے گئے تھے لیکن اس میں مسلسل 90 دن کی توسیع کرتے کرتے آج تک ان خصوصی اختیارات کو ہی استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر 90 دن کے اختتام پر مزید 90 دن کی توسیع دینے یا نہ دینے کا اختیار صوبائی حکومت کا ہی ہے اور قانونی طور پر صوبہ سندھ کو کلی اختیار ہے کہ وہ چاہے تو ان اختیارات کو استعمال کرنے کی مزید اجازت دے اور چاہے نہ تو نہ دے۔ اختیارات کے مزید استعمال کی اجازت دینا یا نہیں دینا اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ بالآخر امن و امان کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت ہی کی بنتی ہے ناکہ ان فورسز کی جو صوبائی حکومت کی معاونت کیلئے ہمہ وقت موجود ہیں۔ جیسا کہ پوری دنیا میں معمول کے حالات میں شہر اور شہریوں کی حفاظت پولیس ہی کا کام ہوا کرتا ہے۔ ہر ایسا معاملہ جس میں امن و امان، شہریوں کی جان اور مال کو کوئی خطرہ لاحق ہو یا کہیں ہنگامے پھوٹنے کا خدشہ ہو تو پولیس بر وقت کارروائی کر کے حالات کو اپنے معمول پر لیکر آجاتی ہے البتہ صورت حال کے غیر معمولی ہوجانے پر دیگر فورسز کی مدد بھی طلب کر لی جاتی ہے۔ جب صورت حال معمول پر آجائے تو دیگر فورسز واپس اپنے اپنے فرائض پر لوٹ جایا کرتی ہیں اور پولیس دوبارہ شہر کو سنبھال لیتی...

کورونا وائرس اور گھر میں احتیاطی تدابیر‎

کورونا وائرس کے باعث ملک کے تمام شہروں میں لاک ڈاؤن جاری ہے جس کے باعث احتیاطی تدابیر کے طور پر سب ہی کو گھروں میں محدود رہنے کو کہا گیا ہے اور ایسے میں اس موقع کو ضائع ہونے نہ دیں اور اس دوران اپنی خوبصورتی پر بھی توجہ دے سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عام روٹین میں ہم سب کو ہی دفتر ، مارکیٹ اور گھر کے ایسے بہت سے کام ہوتے ہیں جن کے باعث ہم اپنی جلد کا خیال رکھنے میں لاپرواہی برتتے ہیں جبکہ روزانہ کی بنیاد پر گھر سے اسکول، کالج، دفتر یا کسی بھی سرگرمی کے لیے باہر جانا پڑتا ہے تو آلودہ ہوا اور دھول مٹی چہرے،ہاتھوں اور پیروں کی جلدکو متاثر کرتی ہے۔ تحقیق کے مطابق کورونا کے باعث گھروں میں رہنے کے دوران آپ اپنی جِلد پر بھی توجہ دے سکتے ہیں، کیسے چہرے پر ماسک لگائیں ، مینیکیور کریں اور گھر ہی میں پیڈیکیور کریں۔ چہرے پر ماسک لگائیں ۔:۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر لوگوں کو کیل مہاسے کی بھی شکایت ہوجاتی ہے اور ایسی صورت میں اگر آپ ابھی گھر پر ہیں تو ملتانی مٹی یا ایلو ویرا کا ماسک لگائیں یا پھر کوئی ایسی چیز جو آپ کی جلد کے لیے بہتر ہو اور جو آپ اسے روزانہ کی بنیاد پر لگاسکتے ہیں جبکہ روزانہ کلینزنگ اور اسکرب کرکے اپنے چہرے کی جلد کو مزید دلکش بناسکتے ہیں۔ مینیکیور کریں۔:۔ خواتین چہرے کی خوبصورتی کے معاملے میں حساس ہوتی ہیں مگر وہ اس چکر میں اکثر ہاتھوں کی خوبصورتی کو نظر انداز کر دیتی ہیں، مگر مکمل خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہےکہ ہاتھوں کا بھی خاص خیال رکھا جائے اور کورونا کے جراثیم سے بھی بچنے کے لیے بار بار ہاتھ دھونے کی ہدایت کی جارہی ہے جبکہ ہاتھوں کی صفائی اور ان کو نرم و ملائم بنانے کے لیے روزانہ ہاتھ دھوکر لوشن لگائیں اور گھر کے کام گلوز پہن کر کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔  دوسری جانب ہاتھوں کی حفاظت اور ان پر پڑنے والی لائنوں، داغ، جھریوں اور اسکن کو کینسر سے بچانے کے لیے ایسی ہینڈ کریم کا استعمال کریں جس میں ایس پی ایف 25 موجود ہو یا پھر کوئی معیاری ہینڈ اسکرب ہاتھوں کی پشت پر اپلائی کریں جبکہ یہ عمل صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مرد حضرات بھی اپنے ہاتھوں کی خشکی دور کرنے کے لیے کرسکتے ہیں۔ پیڈیکیور کریں۔:۔ پاؤں کی جلد کی مناسب صفائی اور مردہ خلیات کو صاف کرنے کی بات ہو تو یہ تھوڑا وقت طلبی کا کام ہے اور اسی لیے اس وقت کو اپنی غیر معمولی سرگرمیوں میں وقف کریں اور جسمانی صفائی و خوبصورتی کا خاص خیال رکھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے پاؤں کی صفائی کے لیے ضروری ہے کہ ایک ٹب میں گرم پانی لیں اس میں 2 چمچ مساج آئل، باتھ واش اور لیموں کا رس شامل کریں اور ناخن صاف کرنے والا برش لیں اور ناخنوں کی اچھی طرح صفائی کریں۔ اگر ہوسکے تو ایک آتشفشانی پتھر لے کر اسے نرمی کے ساتھ پاؤں کی ایڑیوں پر رگڑیں تا کہ وہ نرم ہو جائیں اور مردہ خلیات...

اصلاح تلفظ اور محترم فرہاد احمد فگارؔ

اکتوبر۲۰۱۶ء کا مہینا تھا جب مجھے جامعہ آزاد جموں و کشمیر شعبۂ اُردو میں داخلہ ملا۔اکتوبر کے وسط میں ہماری کلاسز کا آغاز ہوا،مختلف نا آشنا ہم جماعت دوستوں سے ملاقات ہوئی۔گپ شپ میں وقت صرف کیا،کلاسز میں چلے گئے باقاعدہ کلاسز کا آغاز ہوا۔پہلی کلاس محمدیوسف میر صاحب (تاریخ ادبِ اردو)نے لی،دوسری کلاس صداقت حسین شاہ صاحب نے (اسالیب نثر)کی لی۔ تیسری کلاس کا جیسے ہی وقت ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کے کہ ایک خوش پوش ،کلین شیو، تروتازہ چہرہ اور پُرجوش نوجوان ہماری کلاس میں داخل ہوئے۔ لبوں پہ مسکراہٹ لیے سبھی کو سلام کیاجواب میں وعلیکم السلام کی صدا بلند ہوئی۔تب ہی خوش مزاج،لبوں پہ مسکراہٹ بھرے لہجے میں نوجوان استاد محترم نے کہا کہ کیسے مزاج ہیں آپ کے؟ جواب ملا کہ اللہ کا ’’شُکَر ـ‘‘ہے کہ ہم خیر و عافیت سے ہیں۔جواب ملا کہ یہ’’ شُکَر‘‘ نہیں بل کہ’’ شُکًر‘‘ ہےش مضموم جب کہ ک ساکن ہے۔اسے اردو ادب میں سہ حرفی بولا جاتا ہے(سہ حرفی سے مراد وہ الفاظ ہوتے ہیں کہ جن میں دوسرے حرف کو ساکن پڑھا جائے۔) ۔آنے والے استاد نے بتایا کہ میں کلاسکی شاعری پڑھانے آیا ہوں اور یاد رکھیں شاعری میں تلفظ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔یقینا میرے ذہین میں خیال وادر ہوا کہ یہ کون سی جدید اردو ہمیں استاد محترم سکھلانے لگے ہیں۔ اتفاقاً میرے منھ سے ایک لفظ’’ عقل‘‘ نکلا تو جواب ملا کہ’’ عقل‘‘ میں ق ساکن ہے نہ کہ مفتوح۔یہ سن کہ مجھے حیرانی ہو ئی کہ ہم اور ہماری قومی زبان اردو۔۔۔۔۔۔۔۔کہ ہم تو آئے روز ایسے ایسے الفاظ اپنے زبان سے ادا کرتے ہیں کہ جنھیں ادا کرتے ہی ان کے معانی و مطالب تبدیل ہو جاتے ہیں۔یہیں سے میرے دل میں اردو زبان کے ساتھ دلی انس پیدا ہوا۔کیوں کہ اردو زبان کے الفاظ کو جب تلک تلفظ کے ساتھ ادا نہ کیا جائے تو وہ لذت اور چاشنی باقی نھیں رہتی۔چناں چہ وقت گزرتا گیا آئے روز کچھ نہ کچھ نئے الفاظ کی ادائی سیکھنے کا موقع ملتا رہا۔یہاں ایک بات کا اضافہ کرتا چلوں کہ پانچویں جماعت سے لے کر گریجویشن تک ہم نے اردو زبان کے ساتھ ناانصافی کی،ہم میں سے ہر خاص و عام اس ’’مَرَض‘‘ میں مبتلا ہے۔میرے وہم و گماں میں نھیں تھا کہ اردو الفاظ کی ادائی بھی اہم ہوا کرتی ہے ۔اردو زبان و اصلاح کے حوالے سے میرے دل کے اندر انسیت اگر کسی نے پیدا کی تو وہ میرے استاد محترم فرہاد احمد فگار ؔہیں۔اصلاح زبان و ادب میں شاید ان جیسا کوئی اور کمال دسترس رکھا ہو لیکن میری نظر میں ان جیسی کوئی با کمال شخصیت نہیں ہو سکتی۔اصلاح زبان کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہمیں یہ بھی سکھلایا کہ آئے روز ہم اشعار مختلف تقاریب،مجالس اور تقاریر میں پڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان اشعار کے ساتھ حوالہ جات بھی غلط دیتے ہیں کہ علامہ اقبال ؔفرماتے ہیں:۔ قسمتِ نوعِ بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں اک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں یقیناً میں بھی اس شعر کو شاعر مشرق کی طرف منسوب کیا کرتا تھا بلاآخر استادِ...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

چکنی مٹی کے لوگ‎

آج کل جگہ جگہ ایک مذہبی وسیاسی  جماعت کے بینرز لگے ہوئے ہیں،  ایک بینر پر لکھا  تھا"قوم کو لاہور اورنج ٹرین،پنڈی میٹرو بس،ملتان میٹرو بس اور پیشاور میڑو سروس مبارک،کراچی والوں ٹیکس دیتے رہو اور دھکے کھاتے رہو" اطلاعا  عرض ہے کہ کراچی کے عوام کو دھکے کھانےمیں بہت مہارت حاصل ہے، چاہے وہ رکشے کے ہوں یا بس کے، گدھا گاڑی کے ہوں یا کھلی سوزوکی کے،سڑکیں اتنی لہراتی اور بل کھاتی کے کمر کا درد بلکل ٹھیک ہوجائے،دس نمبر لیاقت آباد کی سڑک(بکرا منڈی کے سامنے والی)میں جو دھکے کھاتے جھولا جھولنے کا مزہ عوام کو دس سال تک آیا وہ بیان سے باہر ہے،  کئی بار خواہش ہوئی کہ سابق مئیر اور وزیراعلی صاحب کو بھی یہاں کے دھکوں کی سیر کرائی جائے، پھر خیال آیا نجانے کراچی میں ایسی کتنی ہی سڑکیں ہونگی وہ بچارے کہاں کہاں کے دھکوں کا مزہ لینگے۔ اب آتے ہیں کراچی والوں  کی طرف۔ یہاں مختلف رنگ، نسل، مذہب اور فرقوں  کے لوگ آباد ہیں جن کو اپنے حقوق کی سمجھ ہی نہیں ہے،مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے اور سرکارکو کوئی سروکار ہی نہیں روڈ صاف ستھرے اور خوب صورت ہو یا  ٹرانسپورٹ کا نظا م اچھا ہواشرافیہ  کو صرف اپنے پیٹ کی فکر ہے ، حالیہ بارشیں ہوئیں  توسوچا اس قوم کو اب تو اپنے حقوق کی سمجھ آ گئی ہوگی اور غصے میں بھرے گورنر ہاؤس یا وزیر اعلی ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے،  لیکن ان کا حال تو ویسا ہی ہوا جیسا ایک بادشاہ کی رعایا کا تھا ۔ "ایک بادشاہ نے اپنی رعایا کو آزمانے کے لیے پہلےان کا کھانا بند کیا،  پھر پانی و دیگر مراعات لیکن عوام کچھ نہ بولی،  پھربادشاہ نے حکم دیا کہ کام پر آنے جانے والے راستوں پر ہر آدمی کو چانٹا مارا جائے،  کچھ عرصے یہ چیز چلتی رہی آخر کار ایک دن رعایا محل کے باہر میدان میں جمع ہوگئی،  بادشاہ خوش ہوا کہ چلو اب ان کو اپنے حقوق کا خیال تو آیا-عوام نے کہا بادشاہ سلامت ہمیں کام پر جاتے ہوئےدیر ہو جاتی ہےآپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی  آپ چانٹا مارنے والوں کی تعداد بڑھا دیں تاکہ ہم وقت پر اپنے کام پر پہنچ سکے-یہی حال ہمارے کراچی کی قوم کاہے- خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

پانچ روپے کا ماسک اور 200 کی بریانی

میرے آج کے کالم کا موضوع کچھ عجیب سا لگ رہا ہوگا کہ یہ ماسک اور بریانی کی پلیٹ کا آپس میں کیا تعلق،تو جناب کبھی کبھار تعلق یونہی بنا لینا چاہئے جیسا کہ ایک مزارع ایک زمیندار کے کھیت میں ہل چلا رہا تھا کہ ایسے میں زمیندار کا ادھر سے گزر ہوا۔زمیندار نے دیکھا کہ مزارع ہل ٹھیک سے نہیں چلا رہا ہے تو اس نے ڈانٹتے ہوئے اس مزارع سے کہا کہ غلامیاں! تم ’’سڑیوں کے ساتھ سڑی‘‘یعنی لائن کی ترتیب کے ساتھ ہل نہیں چلا رہے ہو،جس پر غلاماں بولا کہ چوہدری صاحب جب آپ نے اپنی دھی کا پیسہ کھایا تھا تو کیا میں بولا تھا؟چوہدری نے ذرا گھبراتے ہوئے پوچھا کہ بھلا اس جواب کا میرے سوال کے ساتھ کیا تعلق ہے تو مزارع نے کہا چوہدری صاحب ’’گلاں چوں گل ایویں ای نکلدی اے‘‘یعنی باتوں میں سے باتیں ایسے ہی نکلتی ہیں۔ لیکن میرے موضوع یعنی ماسک اور بریانی کا تعلق اس لئے ہے کہ آجکل حکومتی اور اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے جلسوں کا سلسلہ جو چلا ہوا ہے اس میں میری طرح آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ حکومتی ایوانوں سے ان کے مشیران جب بھی ٹی وی ٹاک شوز میں تشریف فرما ہوتے ہیں ان کی ایک ہی آواز ہوتی ہے کہ کرونا کا مرض ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے اس لئے عوام کو ایس او پیز کا خاص خیال رکھنا پڑے گا۔ بات بالکل درست ہے لیکن جب حافظ آباد کا جلسہ ہوتا ہے اور اس میں مہمان خصوصی خود ملک کے وزیر اعظم عمران خان صاحب خود تشریف لاتے ہیں تو کیا انہوں نے اپنے سامنے عوام کے ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کو بنا ماسک کے نہیں دیکھا ہوگا؟اگر دیکھا تھا تو پھر کیوں اپنی انتظامیہ کو خبردار نہیں کیا کہ اتنی ساری عوام بنا ماسک کے کیوں ایک جگہ جمع ہوئی ہے۔اور انتظامیہ کا حال دیکھ لو کہ تماشائیوں کی تعداد پر ہر ٹی وی ٹاک شو میں بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے نمبرز اپوزیشن کے مقابلہ میں کہیں زیادہ تھے لیکن کوئی یہ نہیں کہیے گا کہ ہمارے جلسے میں آنے والی عوام کا شعوری لیول آپ کی عوام سے اس لئے بہتر تھا کہ انہوں نے حکومتی ہدایات کے مطابق کرونا کے خلاف ایس او پیز کا زیادہ خیال رکھا ہوا تھا۔ یہی حال اپوزیشن کے جلسوں میں بھی دیکھا گیا ہے اگر صرف گوجرانوالہ،کراچی کے جلسہ کو ہی لے لیں تو ہر میڈیا چینل نے دکھایا تھا کہ لوگوں کا جم غفیر جمع ہونا شروع ہو گیا ہے۔لوگ صبح سے ہی جوق در جوق جلسہ گاہ کی طرف آرہے ہیں ہر طرف بریانی اور کھانے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔بہت اچھی بات ہے کہ لوگوں کو کھانا کھلا یا جارہا ہے۔کیونکہ بھوکے پیٹ تو سارا دن جلسہ گاہ میں عوام اپنے لیڈران کا انتظار نہیں کر سکتی۔اور ظاہر ہے بریانی کا انتظام بھی اپوزیشن کے ایم پی ایز اور ایم این ایز نے کیا ہوگا ،عوام تو اپنے ساتھ دو وقت کی روٹی ٹفن میں پیک کر کے اپنے ساتھ لانے سے رہی۔اگر...

موضوعِ دل

دل کے بگاڑ سے ہی بگڑتا ہے آدمی جس نے اسے سنبھال لیا وہ سنبھل گیا حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تمھارے جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہے تو سارا جسم درست ہے اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا سنو وہ دل ہے۔ ایک رشتے دار کے دل کے آپریشن کا سن کر بہت دکھ ہوا دعا ہے اللّٰہ پاک تمام مریضوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے آمین یہ بات بھی قابل غور ہے  کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ دل کے عارضے میں مبتلا کیوں ہو رہے ہیں۔صرف راولپندی کارڈیالوجی میں روانہ 250 افراد انتہائی تشویش کی حالت میں لاے جاتے ہیں ماہرین کے مطابق کے امراضِ قلب کی بڑی وجوہات موٹاپا شوگر نشہ ورزش کی کمی سب سے بڑ کر ڈپریشن ہے جو کہ ام الامراض ہے آپ کا دل ایک منٹ میں 20 لیڑ خون جسم میں پہنچاتا ہے اس کو اپنا کام کرنے کے لیے خون۔آکسیجن۔ اور قوت بخش غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ دل ایک دن میں ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے۔دل کے امراض کا عالمی دن 29 ستمبر ہے طب نبوی میں دل کے لیے اہم غذائیں جو کا دلیہ،شہد،کھجور،زیتون کا تیل ہے ماہرینِ قلب کی احتیاطیں بھی اپنی جگہ اہم ہے مگر اس کی اہم وجہ ہمارا خود کو وقت نہ دینا ,اندھی مغربی رواج کی تقلید، بلا وجہ کا دکھاوا، مہنگائی اور معاشی دباؤشامل ہے   ۔ ایک آپریشن  تھیٹر کہ باہر لکھا تھا جو کھول لیتے دل یاروں کے ساتھ تو نہ کھولنا پڑتا اوزاروں کے ساتھ۔  عام مشاہدہ میں بھی ہے کہ جو لوگ ہشاش بشاش رہتے ہیں ۔بے مقصد الجھنوں میں خود کو الجھاتے نہیں ہیں  وہ کم ہی بیمار ہوتے ہیں۔نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ آپ نے فرمایا کہ جو اب آے گا وہ جنتی ہوگا اور مسلسل تین ایسا ہی ہوا ایک ہی دیہاتی آیا  صحابی رسول  نے اس شخص کے ساتھ رہ کے مشاہدہ کیا تو ایسی کوئی خاص بات نہیں  ملی ، تو اس سے ہی استفسار کیا تو جواب ملا کہ میں روانہ سب کو معاف کر کے سوتا ہوں ۔ قارئین یہی نسخہ ہم نے بھی اپنانا ہے ۔ جو عمل دوسرا کر گیا وہ اس کا ظرف تھا ردعمل ہمارے ھاتھ میں ہوتا ہے ہمیشہ دوسروں کو معاف کیجئے ۔ امید انسانوں کے خالق سے رکھیے ان شاءاللہ  نہ ہی ڈپریشن ہو گا نہ بلڈ پریشر بڑھے گا نہ دل کی یا کوئی اور تکلیف ہوگی۔اور ایک بہت ہی آزمایا ہوا نسخہ کہ رشتے داریاں جوڑیں اور پھر اپنی جان مال اور اولاد میں برکت دیں۔ تجربہ شرط ہے

دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر…۔

کل بہت سے لوگوں نے ہماری شادی کی سالگرہ پر پوچھا کہ ہنستے بستے رشتے کا رازکیا ہوتا ہے؟ اس موضوع پر ذرا کھل کر لکھنے کا ارادہ ہے، لگتا یہ ہے کہ رشتوں کا بحران ہماری زندگیوں کا سب سے بڑا کرائسس بن چکا ہے. ہمارے خاندانی نظام کا بلبلہ پھٹنے کو ہے اور اسے بچانے کے لیے ہم سب کو کلاس روم میں داخل ہونا پڑے گا. لیکن ابھی مختصر سی گدڑ سنگھی حاضر ہے، وہی جس کی طرف بڑی بی اشارہ کر رہی ہیں. جی ہاں، بہرا پن، یا ڈورا پن بھی ایک ایسا ہی سیکرٹ ہے. ضروری نہیں ہر بات سنی جائے، یا ہر بات کا جواب دیا جائے، کچھ باتیں سنی ان سنی کردی جائیں تو رشتوں کے باؤلے پن سے بچا جا سکتا ہے. اس کا مطلب سٹون والنگ نہیں ہے. اس پر بھی بات ہوگی. آنکھوں میں بے شک ڈراپ ڈال کر رکھیں اور دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر کچھ کچھ، سنا، ان سنا کردیں۔

پیچھے پھر!!!!۔

یہ ایک غیر معمولی بحران تھا، جو ٹل گیا مگر کچھ عرصہ تک اس کا دھواں اٹھتا رہے گا.                                       سندھ میں آئی جی پولیس کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کچھ سامنے آچکا ہے، مزید آجائے گا. یہ طے ہے کہ آئی جی کی تذلیل کی گئی اور کیپٹن صفدر کو سبق سکھانے کے لئے کچھ سرخ لکیریں عبور کی گئیں. کیپٹن صفدر نے مزار قائد پر جو کچھ کیا، وہ غلط تھا، لیکن اس کی ناک رگڑنے کے لیے جو کچھ کیا گیا، وہ اس سے زیادہ غلط تھا. آئی جی سندھ مہر مشتاق مرنجاں مرنج آدمی ہیں. ویسے بھی ایسے عہدوں پر پہنچنے والے مرنجاں مرنج ہی ہوتے ہیں. انہیں رات کے چار بجے اپنی خاندانی رہائش سے اٹھا کر ڈالے کا سفر کرانا اور سایوں سے ملاقات کی ضرورت نہیں تھی. جس نے بھی کیپٹن صفدر کے سمری ٹرائل اور فوری پھانسی کا حکم جاری کیا، اسے شربت بزوری معتدل پینے کی ضرورت ہے. یہ زیادہ سے زیادہ ایک ایس ایچ او یا ڈی ایس پی لیول کی اسائنمنٹ تھی جس میں ایک آئی جی کو گھسیٹا گیا. اب، آئی جی، پولیس کا جنرل لیول کے برابر کا افسر ہے. آئی جی، نوکری پیشہ آدمی ہیں اور ہرگز چی گویرا نہیں ہیں، ان کے اندر سے چی گویرا نکال لیا گیا ہے. سایوں کی ساٹھ سالہ حکومت میں پہلے بھی یہ سب کچھ چلتا رہتا ہے. بازو بھی مروڑے جاتے ہیں، لیکن بہت کم. زیادہ تر لہجے کے زور پر یا گالم گلوچ سے کام چل جاتا ہے. پرسنل فائلیں بھی کافی کام آتی ہیں. تاہم سارے افسران پنجاب پولیس جیسے نہیں ہوتے جن کی کمر سے ریڑھ کی ہڈی پہلے شہباز شریف اور بعد میں تحریک انصاف کی حکومت نے نکال لی ہے. گھوم پھر کر یہ کرائسس آف گورنینس ہے. اصل سوال وہی ہے کہ پاکستان کا مالک کون ہے؟ خاکی اور خفیہ ادارے بجا طور پر اپنے آپ کو مالک سمجھتے ہیں. عدلیہ سمجھتی ہے کہ تشریح کا اختیار اس کے پاس ہے کہ الاٹی کون ہے اور مالک کون ہے. بیورو کریسی کا سارا زور نوکری کرنے، مرضی کی پوسٹنگ لینے اور جو جیتے اس کے ساتھ بستر میں جانے پر صرف ہوتا ہے. کبھی ایک آنکھ، اور کبھی دوسری آنکھ بند کر لی جاتی ہے. اب یہ نہ پوچھئے گا کہ اس فارمولے میں عوام کیوں شامل نہیں ہیں. جو کراچی میں ہوا، وہ پہلے بھی ہوتا رہتا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا. اسی طرح کے مقدمات بھی بنتے رہے ہیں، وزیراعظم برطرف ہوتے اور پھانسی لگتے رہے ہیں. بس لگتا یہ ہے کہ جن کے ذمےیہ کام لگایا گیا انہوں نے چول ماری اور کچھ سرخ لکیریں پار کر لیں. اس وقت سندھ میں انتظامی بحران عروج پر ہے. لیکن یہ سیاسی بحران نہیں. بلاول بھٹو یا مراد شاہ کے کہنے ہر ایک سپاہی نوکری کو لات نہیں مارے گا. ایک ایسا ملک جس میں نوکری لینے کے لیے جان پر کھیلنے کی روایت ہو،...

ہمارے بلاگرز