ٹیگ: مشروم

اہم بلاگز

معاشرتی اقدار، قربانیاں اور آزادی کی نعمت

ہم پاکستانی جس سے محبت کرتے ہیں اسے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتے ہیں، ویسے تو ہم نفرت کرنے والے لوگ ہیں نہیں لیکن جس سے کرتے ہیں اسے پاتال کی گہرائیوں میں دفن کردیتے ہیں۔ اب وہ کوئی کھیل بھی ہوسکتا ہے،  چاہے وہ کوئی فرد ہو،  وہ کوئی تفریح یا تفریح گاہ ہو یا پھر وہ کوئی روایت ہو۔عدیم ہاشمی صاحب کایہ شعر پاکستانی مزاج کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے کہ محبت ہو تو بے حد ہو، نفرت ہو تو بے پایاں کوئی بھی کام کم کرنا  مجھے ہر گز نہیں آتا! بد قسمتی سے ہمارا یہ قومی مزاج جوکہ کبھی کبھی جنونیت کی شکل بھی اختیار کرلیتا ہے، بغیر حقیقت جانے بغیر تحقیق کئے کتنی ہی زندگیوں کونگل چکا ہے،ہمیں سب سے پہلے جب بھی رمضان آتا ہے تو سیالکوٹ میں ہجوم کے ڈنڈوں سے قتل ہونے والے دوبھائیوں کا خیال ضرور آتا ہے، پھرعبدالولی خان یونیورسٹی، مردان کے مشال خان کا بھی خیال آجاتا ہے، ابھی تازہ ترین واقع ملازم پر کتے چھوڑنے والا ہے اور معلو م نہیں ایسے کتنے ہی ہیں جنہیں ہم سب کسی نا کسی طرح سے جانتے ہیں اور کتنے ہی ایسے واقعات دوردراز علاقوں میں ہوتے ہیں کہ جن تک ہماری یا کسی بھی قسم کے ابلاغ کی رسائی نہیں ہے۔ مذکورہ واقعات جنونیت کی زد میں آتے ہیں چاہے وہ فرد واحد کی جنونیت ہو یا پھر واحد سے تبدیل ہوکر اجتماعی جنونیت میں منتقل ہوجائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور کمزور کو کھاجانے کی چاہ میں مبتلاء رہا ہے اور مفادات کی خاطر کمزور طاقتور کی غیر مشروط حمایت بھی کرتا دیکھائی دیتا ہے جوکہ آج اکیسویں صدی میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن ایک ایسی قوت ہے جو ہمیشہ سے طاقتور کو کمزور کرنے کیلئے جدو جہد کرتی رہی ہے جسے تحریک آزادی کے نام سے جانا جاتا ہے ،یہ قطعی ضروری نہیں کہ آزادی کی تحریک کسی خطہ زمین کو آزاد کرانے کیلئے چلائی جائے بلکہ یہ تو بنیادی حقوق پر غاصب لوگوں کے خلاف بھی چلائی جاتی رہی ہے۔ دنیا اگر مذہبی تعصب کو بالائے طاق رکھے تو تاریخ میں دو ایسی تحریکیں ہیں کہ جنہوں نے دنیا میں ناصرف سرحدی تبدیلی کی بلکہ معاشرتی تبدیلی کی بھی داغ بیل ڈالی، ان دونوں تحریکوں میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے ہجرت،جب خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ نے سلامتی کی تحریک چلائی تو آپکو اور پیروکاروں کو ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا اور آپ نے ہجرت کی اسی طرح سے تحریک آزادی جو ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے ایک الگ ریاست کے قیام کیلئے چلائی گئی اسکے نتیجے میں بھی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کی گئی، دونوں ہی تحریکوں کا محرک دوقومی نظریہ تھامکہ سے مدینے ہجرت بھی نفاذ اسلام اور اسلام کی مکمل بحالی یا اسلام کی سربلندی کیلئے کی گئی اور پاکستان کیلئے کی جانے والی جدوجہد کا کے پیچھے بھی لاالہ اللہ کا نعرہ کار فرما رہا۔ تحریکوں کی بنیاد بھی جنون ہی ہوتا ہے جسکی ترجمانی شاعر کہ یہ الفاظ کر رہے ہیں کہ    جنون سے اور عشق سے ملتی...

میرے جگنو میرے تارے

حاجرہ بیگم کھانے کی میز پر اپنے بیٹے،بہو،انکے بچوں کے ساتھ موجود تھیں۔انکے پوتا ،پوتی بہت  شرارتی،اور ذہین تھے۔وہ اپنے عزیز پوتے کو اپنے برابر میں بٹھائے کھانے کے ساتھ خبریں بھی دیکھ رہی تھیں۔ وہ ملکی حالات سے باخبر رہنے کے لیے،خبر نامہ ضرور دیکھتیں۔اور آج کل کرونا کی وجہ سے کھانے کے وقت بھی ٹی وی  چلتا رہتا۔ ٹی وی پر کرونا الرٹس کے درمیان،اشتہارات آنے شروع ہوگئے۔۔پہلے صابن کا، پھر شیمپو، پھر کولا کولڈرنک، انکا پوتا کھانا چھوڑ کر نہایت انہماک سے کمرشلز دیکھ رہا تھا۔۔ اسکی چھوٹی بہن عیشاء نے کہا۔۔۔ بھائ۔۔امی کہتی ہیں کہ جب ایسے کمرشلز آئیں۔تو فورا آنکھیں بند، یا  جھکا لیں ۔اور فورا چینل بدل دیں۔ورنہ شیطان سر پر سوار ہوجاتا ہے۔ عیشاء 8سال کی تھی۔اپنی امی سے بہت قریب تھی۔ اسکے برابر میں اسکے بڑے بھائ عمر نے فورا شرارت سے کہا۔۔۔ اور اگر دوسرے چینل پر بھی یہی کمرشل آرہے ہوں تو۔۔۔؟؟ اسکی بات پردادی کے برابر بیٹھے عکاشہ کو ہنسی ائ۔۔ساتھ اچھو لگ گیا ۔کھانسی روکنے کی کوشش میں،وہ جو کولا کولڈرنک پی رہا تھا۔ آواز کے ساتھ اسکے منہ سے فوارہ بلند ہوا۔عکاشہ کے منہ میں موجود کولڈرنک بمعہ کھانے کے تمام لوازمات کے ساتھ ،کھانے کی میز پر بکھرے ہوئے تھے۔ اس صورتحال پر تینوں بہن بھائ لمحہ بھر حیران ہوئے ۔ اب عیشاء،عمر دونوں ہنس رہے تھے۔عکاشہ مسلسل کھانس رہا تھا۔اسکی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔ اسکی امی نے اسے پانی پلایا ۔اسکی کمر سہلائ۔۔ بند کرو یہ ٹی وی۔ دادی کی گرجدار آواز گونجی ۔۔ یہ کمرشلز نہی بے حیائی،تباہی کا طوفان ہے۔غضب خداکا،مساجد اسکول سب بند کردیے۔مگر ان اشتہارات پر پابندی نہی لگائی جاتی۔نہ کوئ تہذیب، نہ شرم،نہ حیا ، نہ خدا کا خوف ۔انکھیں بند کر رکھی ہیں۔سب نے۔۔ حاجرہ بیگم سخت غصہ میں تھیں۔ ٹی وی بند،عیشاء،عمر کی ہنسی کو بریک لگ چکا تھا۔ اب عکاشہ کی حالت ٹھیک تھی۔مگر دادی کی خراب تھی۔کیونکہ ۔۔وہ اسکے برابر میں بیٹھی تھیں۔عکاشہ کے منہ سے نکلنے والے لوازمات سے وہی سب سے ذیادہ متاثر ہوئیں تھیں۔۔اور کرونا کا خوف۔۔ وہ اپنے کمرے میں چلی گئیں۔انکی بہو،شبانہ ٹیبل صاف کرنے لگیں۔ دادی کمرے سے باہر ائیں۔لباس تبدیل،چہرے پر ماسک،ہاتھ میں دستانے۔کھانے کی میز سے کولا کولڈرنک کی بوتل اٹھائی۔ اب یہ کولا کل سے گھرنہی آنی چاہئے۔۔۔!اور کھانے کے وقت ٹی وی بند رہے گا۔ انھوں نے اپنے بیٹے تیمور کو سخت نظروں سے دیکھا۔ جی امی ۔۔انھوں نے فرمانبرداری سے سر جھکایا ۔ انکی بیگم زبانی مسکرائیں۔یہی وہ کہتی تھیں۔لیکن تیمور صاحب کولا کولڈرنک پینے کے اتنے شوقین تھے کہ بچوں کو بھی عادت ڈال دی۔جبکہ یہ مضر صحت ہے۔ دادی نکولڈرنک کی بوتل اٹھائے ،کچن کی طرف بڑھیں۔۔۔ دادی امی پلیز آج دے دیں۔کل سے نہی لائیں گے۔عکاشہ انکے چہیتے پوتے نے پکارا۔ دادی نے رک کر سخت کڑی نظروں سے اسے دیکھا۔۔ بیٹا تم نہی جانتے یہ لذیذ ذائقہ دار زہر ہے،نقصان دہ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے  انہوں نے کچن کے سنک میں کولڈرنک انڈیل دی۔ بچے منہ بسور کر بیٹھے تھے۔تیمور صاحب اور شبانہ مسکرا رہے تھے۔ حاجرہ بیگم اپنے کمرے میں بند تھیں۔گویا وہ ناراض تھیں۔جیسے جیسے اگست کا مہینہ قریب آتا انکی طبیعت خراب ہونے لگتی۔ پاکستان ہجرت کرکے آئیں تھیں۔انھیں وہ واقعات یاد آنے لگتے۔۔طبیعت اداس،روتی رہتیں ۔ آج بھی انکی...

مساجد کا تقدس اور ہمارا عمومی رویہ

مسجد وزیرخان میں اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کے گانے کی شوٹنگ کی تصاویر/ ٹیزر سامنے آنے کے بعد عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ انتہائی قبیح عمل ہے کہ خانہ خدا کو رقص گاہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ یہ انتظامیہ کی غفلت بلکہ نالائقی ہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے اس قسم کے مناظر فلمائے گئے اور ان کی غیرت ایمانی سوئی پڑی رہی۔ اسی غم و غصے میں عوام کی طرف سے صبا قمر کے گھر پر بھی حملہ ہو چکا ہے۔ دونوں عوام سے معافی مانگ چکے ہیں اور حکومت نے بھی اس واقعے کا گزشتہ کئی واقعات کی طرح نوٹس بھی لے لیا ہے۔ پھر بھی عوام و خواص کے جذبات کو جو ٹھیس پہنچی ہے تو ان کا غصہ کم ہونے میں نہیں آ رہا۔ پنجاب حکومت نے بھی ذمہ داران کی طلبی کی ہے۔ بحیثیت مسلمان مجھے اس بات کا بہت دکھ اور غصہ ہے مساجد کا تقدس ہمارے مذہب کی اساس میں شامل ہے۔ناصرف مساجد بلکہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کا بھی ہم احترام کرتے ہیں۔ اسلامی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جنگوں کے بعد بھی کسی کلیسا کسی گرجے کی بے حرمتی نہیں کی گئی۔ جہاں تک تعلق اس واقعے کا ہے تو میں کچھ کڑوے سچ بیان کرنا چاہتی ہوں۔ بات سچ ہے مگر بات بہت شدید رسوائی کی ہے۔گزشتہ کئی سال سے ہم مختلف مساجد میں نو بیاہتا جوڑوں کے سیر سپاٹے(ہنی مون) دیکھتے آئے ہیں۔ ہم میں سے کون ہے جو کسی مشہور مسجد نہ گیا ہو اور وہاں کم از کم ایک جوڑا اس کو ایسا نہ دکھا ہو؟ فیصل مسجد اور بادشاہی مسجد تو خاص طور پر اس میں آتی ہے۔ یہ نظارہ عام دیکھنے کو ملتا ہے کہ جوڑے باہوں میں بانہیں ڈالے مسجد کے احاطے میں اٹھکھیلیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ مسجد میں نماز ہو رہی ہوتی ہے ، نمازیوں کی ایک دو صفیں ہوتی ہیں جبکہ باہر سینکڑوں مرد و زن بے نیازی سے تصویریں کھنچوا رہے ہوتے ہیں۔ اب تو مساجد میں نکاح اور شادی کے بعد باقاعدہ فوٹو شوٹ کرایا جاتا ہے جن کے لیے ہزاروں لاکھوں کی بکنگ کی جاتی ہے۔ خدا لگتی کہوں تو جن پوز پر پورا پاکستان مساجد کے تقدس کی پامالی پر رو رہا ہے تقریبا ایسے ہی پوز بنوائے جاتے ہیں۔ گھومتے پھرتے افراد سے نماز کی طرف آنے کا کہا جائے تو علم ہوتا ہے کہ اکثر وضو کے بغیر ہی مسجد میں پائے جا رہے بلکہ دھندنا رہے ہیں۔ خواتین کے پاس دوپٹہ مناسب نہیں ہوتا نماز کے لئے دوسرا جتنا تیار ہو کر وہ آئی ہوتی ہیں اب ظاہر ہے اتنا مہنگا میک اپ دھو کر نماز تو نہیں پڑھ سکتیں اور فورا ہی عورتوں کی بہترین نماز گھر میں ہے والی حدیث بھی کورٹ کر دی جاتی ہے۔ کوئی پوچھے کہ آپ مسجد کے آداب سے ناواقف ہیں؟ ؟ لباس کے معاملے میں ذرا بھی احتیاط نہیں کی جاتی۔ جہاں وہ برطانوی شہزادی بادشاہی مسجد میں مکمل بازو اور دوپٹے میں ادب احترام...

استاد محترم…. سلام الوداع

یہ سال 2013 تھا۔اسلامک ریسرچ اکیڈمی میں "مفت قلیل مدتی صحافتی کورس" کروایا جارہا تھا۔ اس میں، میں بھی بحیثیت طالبہ علم شامل تھی۔انھی دنوں میں ایک دن ایک صاحب اردو زبان کے حوالے سے ہماری کلاس لینے آتے ہیں۔آتے ہی گویا ہوتے ہیں بھئ میں کوئ لیکچر ویکچر دینے نہیں آیا، لیکچر مجھے دینا بھی نہیں آتااور نہ ہی میں کوئ زبان کا ماہر ہوں لغت دیکھتا ہوں آپ بھی دیکھ لیجیے، میں بھی اسی سے آپ کو بتاتا ہوں۔یہ جملے بڑے ہی شگفتہ انداز میں ان کی زبان سے ادا ہوئے تھے اور ہمیں یقین ہوگیا تھا کہ ہمارے استاد محترم بڑے ہی منکسرالمزاج ہیں۔ گفتگو ذرا آگے بڑھی،کہنے لگے دیکھیے آپ اتنی ساری ہیں مگر پھر بھی خواتین ہیں۔سب مسکرا دیے۔جو بھی ان کے سوال کا درست جواب دیتا۔بڑی ہی محبت سے کہتے کہ یہ بچی ہوشیار لگتی ہے۔ زبان کی اصلاح کے حوالے سے بات ہونے لگی تو ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ بھئ ویسے جب ہم گھر میں بچوں کی اصلاح کرتے ہیں تو بیگم کہتی ہیں کیا آپ زبان کے داروغہ لگے ہیں۔اسی طرح جب جب بھی استاد محترم کو سننے کا موقع ملا وہی عاجزی وہی انکساری اور شگفتگی دیکھنے کو ملی جو پہلی بار دیکھی تھی۔ ہم نے شروع میں گفتگو کا لفظ اسی لیے استعمال کیا کہ وہ کہتے تھے یہ لیکچر نہیں ہے بس گفتگو ہے اور جو کچھ بھی ان سے سیکھا تو بس یہ ہی جانا کہ وہ کسر نفسی سے کام لیتے ہیں۔ انھوں نے بلاوجہ کہیں بھی پندونصائح کا استعمال نہیں کیا،نہ ہی گفتگو کا آغاز کرنے سے پہلے کوئ مقفی ومسجع تمہید باندھی حالانکہ وہ زبان اردو کے درست استعمال اور برتنے کے ماہر تھے۔ اتفاق ہے کہ میں آج کل ان دنوں کو بہت یاد کررہی ہوں اور میں دل ہی دل میں وہاں پڑھانے والے اساتذہ کرام کا شکریہ بھی ادا کرتی ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ استاد محترم اطہر علی ہاشمی صاحب اپنے وقت کی نابغہ روزگار شخصیت تھے۔ اور ایک بہت بڑا خلا ان کے جانے سے ہماری زندگیوں میں واقع ہوگیا ہے۔ چلا گیاوہ جو ہمیں ہوشیار کرتا تھا"کہ خبر لیجیے زبان بگڑی" آہ... چلا گیا ہمارا محسن جو ہمیں اردو زبان کو صحیح طور پر برتنے کی خبریں دیتا تھا۔ استاد محترم آپ کی عظمت کو سلام..... ؎   ہر ایک لفظ کو لہجے کو غور سے سن لو ہمارے  بعد  زباں  کی  سند  نہیں  ہوگی

“کے الیکٹرک سے نجات دو”

کے الیکٹرک یوں تو ایک طویل عرصے سے کراچی کے عوام کے لیے بالعموم جان کے وبال کی سی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ شہری اس ادارے سے نالاں لیکن اسکے خلاف کسی شکایت کی شنوائی کہیں نہ ہونا ایک اور المیہ ہے،کے الیکٹرک کے خلاف متعدد شکایات میں ایک یہ بھی ہے کہ یہ ادارہ استعمال شدہ بجلی سے زیادہ یونٹس ظاہر کرتے ہوئے ہر مہینے اپنے صارفین سے زیادہ رقم بٹورتا ہے جس کا مجموعی تخمینہ اربوں میں بنتا ہے۔ اس کے علاوہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ، طویل بلیک آوٹس، وولٹیج کی کمی، شکایات کا ازالہ نہ کیا جانا، ہر سال بارشوں میں کرنٹ کی وجہ سے ہلاکتیں، ارتھنگ کے انتظام کا نہ ہونا اور دیگر متعدد ایسی شکایات ہیں جو اہالیان کراچی پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کراچی میں اداروں کی ساکھ کے بارے میں کوئی غیر جانبدار سروے کروایا جائے تو کے الیکٹرک کا نام بدنام ترین ادارے کے طور پر سامنے آئے گا۔ کے الیکٹرک کے خلاف عوامی غم و غصہ راتوں رات فروغ نہیں پایا بلکہ 2005 میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری کے بعد سے ہی کسی نہ کسی شکل میں عوامی مزاحمت دیکھنے میں آئی ہے۔ شروع دن سے ہی اس نجکاری کی شفافیت پر ایک سوال اٹھتا رہا ہے بعد ازاں نئی منیجمنٹ کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملازمین کی برطرفی اور ان کے واجبات کی عدم ادائیگی پر بھی احتجاجات ہوتے رہے، شہر کراچی میں موجود تانبے کے بیش قیمت تاروں کو جب ایلومینم سے تبدیل کیا جانے لگا تب بھی عوامی مزاحمت پیدا ہوئی اور 'کے الیکٹرک، تانبہ چور جیسے نعرے زبان زد عام رہے۔ لیکن عوام میں پریشانی اور تشویش کی شدید لہر کے باوجود طویل عرصے تک صوبائی اور مرکزی حکومت اور متعدد سیاسی جماعتوں کی خاموشی نے پراسراریت کی فضا کو جنم دیا ۔شواہد نہ ہوتے ہوئے بھی عوام کی اکثریت یہ سمجھنے لگی کہ کے الیکٹرک ان سے بٹورنے والے پیسوں سے مختلف پارٹیز کے سر کردہ افراد کو بھی نوازتی ہے، جس کی وجہ ان کے احتجاجات مؤثر ثابت نہیں ہوتے ، اس طرح کے الیکٹرک کارپوریشن سے زیادہ ایک مافیا کے طور پر متعارف ہونے لگی ، اس مافیا کے بارے میں ایک عمومی رائے یہ بھی رہی کہ یہ میڈیا گروپس کو اشتہارات اور ان کی مد میں ادائیگیوں کو اس سے مشروط کر چکا ہے کہ ان کے خلاف ہونے والی کسی سرگرمی کو مناسب کوریج نہیں دی جائے گی۔ بہر حال کے الیکٹرک کے ستائے کراچی والوں کو اس وقت ایک شدید جھٹکا لگا جب حال ہی میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابط کمیٹی کا اجلاس ہوا اور اس میں کے الیکٹرک کے صارفین کے لیے بجلی 2 روپے 89 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دی گئی۔ عوام کی منشا کے خلاف تحریک انصاف کی حکومت کی مرکزی حکومت کی جانب سے کے الیکٹرک کو نوازا جا رہا ہے تو اسی جماعت کی صوبہ سندھ کی قیادت عین اسی وقت کے الیکٹرک کے خلاف سپریم...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

صلائے’’آم‘‘ہے یارانِ۔۔۔۔۔۔

مسئلہ فیثا غورث کی طرح میرے لئے یہ مسئلہ بھی ابھی تک مشکل اور حل طلب ہے بلکہ ایک معمہ ہے کہ آم کھایا جاتا ہے یا چوسا کم چوپا جاتاہے۔ایک دانشور دوست سے دست بستہ ہوا تو بڑے ہی فلسفیانہ انداز میں اس طرح گویا ہوئے کہ آم کھائو گٹھلیاں نہ گنو۔جواب تسلی بخش نہ پا کر تشفی قلب کے لئے محلہ کے پرانے بزرگ شیخ صاحب سے معمہ کے حل کے لئے عرض کیا تو انہوں نے بڑے ہی سیدھے سادھے انداز میں شیخانہ حل بتایا کہ دیکھو بیٹا اگر تو اپنے ’’پلے‘‘ سے خریدا جائے تو کھایا جاتا ہے وگرنہ ’’چوپا جاتا ہے۔مجھے حیران و ششدر دیکھتے ہوئے خود ہی تفصیل بتانے لگے کہ دیکھو بچے جب آپ اپنے گھر سے کھاتے ہو تو بڑی احتیاط سے اور کم کم کھاتے ہو لیکن جب کسی دوست کی شادی پر کھاتے ہو تو کیا حساب رکھتے ہو؟بلکہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ دوست تو اس وقت تک کھاتے رہتے ہیں جب تک معدہ اور آنکھیں بند نہ ہو جائیں۔اسی لئے آم خریدیں ہوں تو کھائے جائیں گے وگرنہ ’’چوپے‘‘جائیں گے۔آئی بات سمجھ میں۔اگر دوستو!آپ کی سمجھ میں بھی بات آجائے تو نکل پڑو ایسے سفر پر جس کا اختتام ملتان میں کسی دوست کے ہاں ہوتا ہو۔کیونکہ میں نے تو اس دن سے یہ فلسفہ پلے باندھ لیا ہے اور جب کبھی بھی مینگو پارٹی ہو تو آم کھاتا نہیں چوپتا ہوں،گھٹلیوں کا حساب دوست احباب لگا لیتے ہیں۔ کہتے ہیں آم اور سیب کے کھانے میں فرق صرف تہذیب کا ہوتا ہے۔آم واحد پھل ہے جسے جس قدر بدتمیز ہو کر کھایا جائے اتنا ہی مزہ آتا ہے۔آم کھانے کے انداز نے تو بڑے بڑوں کے پول کھول دئے ہیں اب آپ چچا غالب کی شائستگی کا ہی اندازہ لگا لیں کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ کا مرغوب پھل کون سا ہے؟تو کہنے لگے کہ آم ،مگر دو شرطوں پہ۔وہ کون سے سرکار، تو کہنے لگے کہ میٹھا ہو اور ڈھیر سارا ہو۔جب کبھی بھی دوستوں کی طرف سے آم کا ’’چڑھاوا‘‘آتا تو آستین اوپر چڑھا لیتے اور خوب جی بھر کر کھاتے۔اسی لئے غالب آموں کے موسم میں اکثر بدتمیز ہی دکھتے ۔شکر ہے غالب میاں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ملتان میں ہوتے تو صاحبِ دیوان ہونے کی بجائے ’’صاحبِ گلشن آم‘‘ہوتے اور بہت ہی ’’عام‘‘ ہوتے۔حیات غالب کا ایک اور واقعہ یاد آگیا کہ ایک بار میاں غالب اپنے دوستوں کے ساتھ گھر کے باہر چبوترے پر تشریف فرما تھے کہ ایک گدھا آم کے چھلکوں کے ڈھیر تک گیا،اسے سونگھا اور چلتا بنا۔دوستوں نے ازراہِ تفنن غالب پہ جملہ کسا کہ دیکھو غالب میاں’’گدھے بھی آم نہیں کھاتے‘‘۔غالب برجستہ بولے کہ ’’جی ہاں واقعی گدھے ہی آم نہیں کھاتے‘‘۔ لو جی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ،غالب تک تو بات ٹھیک تھی میں نے تو ایک کتاب میں یہ بھی پڑھ رکھا ہے کہ علامہ اقبال کو بھی اس افضل الاثمار یعنی آم سے رغبتِ خاص تھی۔ایک سال حکیم صاحب نے علامہ صاحب کو ہدائت فرمائی کہ آموں سے...

پیزا، کتا اور مہمان

خاتون خانہ پریشان تھیں۔ رات کو گھر میں دعوت تھی۔ پیزا بنانا چاہ رہی تھیں۔ سارا سامان لے آئی تھیں لیکن مشرومز لانا بھول گئیں تھیں۔ رہتی بھی شہر سے دور تھیں۔ قریب کی مارکیٹ میں مشرومز دستیاب بھی نہ تھے۔ صاحب کو مسئلہ بیان کیا تو ٹی وی سے نظریں ہٹائے بغیر بولے۔ " میں شہر نہیں جارہا۔ اگر مشرومز نہیں ڈالے تو پیزا بن جائے گا۔ اور اگر ضروری ہیں تو پچھلی طرف جھاڑیوں میں اُگے ہوئے ہیں جنگلی مشرومز۔ توڑ لو"۔ خاتون خانہ نے فرمایا کہ میں نے سنا ہے جنگلی مشرومز زہریلے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو فوڈ پوائزننگ ہو گئی تو؟؟؟" صاحب بولے؛ دعوت میں سارے شادی شدہ آرہے ہیں۔ زہریلی باتیں سننے کے عادی ہیں۔ زہریلے مشرومز بھی ان پہ اثر نہیں کریں گے۔ خاتون گئیں اور جنگلی مشرومز توڑ لائیں۔ مگر چونکہ خاتون تھیں اس لئے دماغ استعمال کیا اور کچھ مشرومز پہلے اپنے کتے موتی کو ڈال دیئے۔ موتی نے مشرومز کھائے اور مزے سے مست کھیلتا رہا۔ چار پانچ گھنٹے بعد خاتون نے پیزا بنانا شروع کیا اور اچھی طرح سے دھو کر مشرومز پیزا اور سلاد میں ڈال دئیے۔ دعوت شاندار رہی۔ مہمانوں کو کھانا بے حد پسند آیا۔ خاتون خانہ کچن میں برتن سمیٹنے کے بعد مہمانوں کے لیے کافی بنا رہی تھیں تو اچانک ان کی بیٹی کچن میں داخل ہوئی اور کہا امی ہمارا موتی مر گیا"۔ خاتون کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی۔ مگر چونکہ خاتون سمجھدار تھیں اس لئے پریشان نہیں ہوئیں۔ جلدی سےاسپتال فون کیا اور ڈاکٹر سے بات کی۔ ڈاکٹر نے کہا چونکہ کھانا ابھی ہی کھایا گیا ہے اس لئے بچت ہوجائے گی۔ تمام لوگ جنہوں نے مشرومز کھائے ہیں ان کو انیمیا دینا پڑے گا اور معدہ صاف کرنا پڑے گا۔ تھوڑی ہی دیر میں میڈیکل اسٹاف پہنچ گیا۔ سب لوگوں کا معدہ صاف کیا گیا۔ رات تین بجے جب میڈیکل اسٹاف رخصت ہوا تو سارے مہمان لیونگ روم میں آڑے ترچھے بیدم پڑے ہوئے تھے۔ اتنے میں خاتون کی بیٹی جس نے مشرومز نہیں کھائے تھے اور اس ساری اذیت سے بچی ہوئی تھی سوجی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ماں کے پاس بیٹھ گئی۔ ماں کے کاندھے پہ سر رکھ کر بولی امی لوگ کتنے ظالم ہوتے ہیں؟ جس ڈرائیور نے اپنی گاڑی کے نیچے موتی کو کچل کر مار ڈالا وہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں رُکا۔ اف کتنا پتھر دل آدمی تھا۔ ہائے میرا موتی"۔ تو میری بہنوں آپ خود کو کتنا بھی ذہین، سمجھدار، معاملہ فہم اور ہوشیار سمجھیں، پوری بات سن لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔

بادشاہ دربار ہی سجائے گا یا عوام کو سہولیات بھی دے گا؟

دورحاضرسے ملتے جلتے وقتوں کی بات ہے کہ کسی ریاست کابادشاہ بہت ظالم تھا۔عوام سے بہت زیادہ ٹیکس وصول کرتا۔بادشاہ کے دوست احباب عوام کے گھر، کھیت کاروبارچھین لیتے۔اشیاء خوردونوش ذخیرہ کرکے مہنگے داموں فروخت کرتے۔جب مظلوم لوگ بادشاہ کے دربارمیں مقدمہ پیش کرتے توانصاف فراہم کرنے کی بجائے مزید ظلم کرتا۔مظلوموں کوتشددکانشانہ بنواتا۔بادشاہ کی موت کاوقت قریب آیاتواسے محسوس ہواکہ اس کے مرنے کے بعدلوگ اسے برے الفاظ میں یادکریں گے، لہٰذااس نے سوچاکہ کچھ ایساکیاجائے کہ مرنے کے بعد لوگ اچھے لفظوں سے پکاریں۔اس نے اپنے بیٹے کوبلاکرکہامیرے مرنے کے بعد تم بادشاہ بنوگے۔میری نصیحت یادرکھنا۔ایسی حکومت کرناکہ کوئی مجھے برانہ کہے۔بیٹابھی باپ کے مرنے کامنتظرتھا، اس نے فوری کہابادشاہ سلامت فکرنہ کریں ایساہی ہوگا۔چندروزبعدبادشاہ فوت ہوگیا۔ تدفین کے بعد بیٹے جوبادشاہ بن چکاتھانے ریاست کے ملازمین کواکٹھاکرکے فرمان جاری کیاکہ آئندہ کسی مقدمہ کافیصلہ اس کی غیرموجودگی میں ہوگانہ کسی کوسزادی جائے گی۔جب کوئی مقدمہ پیش ہوتاتوبادشاہ اپنے باپ کے دورکے وزاء سے پوچھتاکہ اسے کیاسزادی جائے ؟ وہ بتاتے کہ بادشاہ کے والدکے دور حکومت میںایسے مجرموںکے کان پکڑوائے جاتے تھے۔بادشاہ فیصلہ کرتاکہ اس مجرم کودھوپ میں کان پکڑوائے جائیں اور دس اینٹیں بھی اس کے اوپررکھی جائیں۔وزراء کہتے کہ اس قسم کے کیس میں مجرم کواس قدرگھسیٹاجاتاتھاکہ اس کا جسم چھل جاتا۔بادشاہ حکم دیتاکہ اس مجرم کوگھسیٹاجائے اورپھرجسم پرنمک چھڑک دیاجائے اورمزید اسی قسم کی سزائیں دینے لگاچنددن کے اندرہی یہ بات دور دورتک پھیل گئی کہ نیابادشاہ اپنے باپ سے بھی ظالم ہے، اس سے تواس کا باپ ہی بہتر تھا۔ بادشاہ جب ایسی باتیں سنتاتوخوش ہوکرباپ کی قبرپرجاتااورفاتحانہ اندازمیں کہتادیکھااباجان لوگ آپ کواچھے لفظوں میں یاد کررہے ہیں۔ بادشاہ سلامت میرے پاکستانی کہہ رہے ہیں کہ لگان لینے اورجوتے مارنے کیلئے بندے بڑھانے والی بات پرانی ہوگئی آپ یوں کریں کہ عوام کی چیخیں پہلے سے اس قدر زیادہ نکلوائیں کہ گزشتہ حکمرانوں کی کرپشن بھلی لگنے لگے۔مہنگائی اس قدرکردوکہ عوام گزشتہ حکومتوں کی بدعنوانیاں دوبارہ قبول کرنے کی جستجوکریں۔بادشاہ سلامت کے منظورنظردرباری بادشاہ سلامت کوبتاتے ہیں کہ مہنگائی کاکوئی مسئلہ نہیں ملک میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آج بھی دیگرترقی یافتہ ممالک کے مقابلے بہت کم ہیں۔ گندم چینی،چاول،گھی،تیل وغیرہ فلاں فلاں ملک میں دوگناسے بھی زیادہ مہنگے ہیں، لہٰذابادشاہ سلامت کی خیرہوعوام تویونہی چیخوپکارکرتے رہیں گے۔ بادشاہ سلامت بے فکررہیں ابھی تومہنگائی مزید بڑے گی۔بادشاہ سلامت غریبوں کے خیرخواہ ہیں لہٰذاانہوں نے غریبوں کی غریبی مرجانے کے بعدنوٹس لیاکہ مہنگائی کے ستائے عوام کواشیاء خوردونوش سستے داموں ملنی چاہئے اورپھرفرمان جاری ہواکہ یوٹیلٹی اسٹورز پر سستی اشیاء فراہم کرنے کیلئے 15 ارب کا پیکج دیاجائے گا۔ چینی کی درآمد پر پابندی ختم۔2ہزار یوتھ اسٹور قائم ہونگے۔رمضان المبارک سے قبل غریبوں کو راشن کارڈدیاجائے گا۔ شاہی فرمان کے مطابق یوٹیلٹی اسٹورزپرآٹے کا تھیلا 800، چینی 70،گھی 175روپے کلو،چاول،دالوں کی قیمتوں میں 15سے 20روپے تک کمی،50ہزار تندوروں ،ڈھابوں کو رعایتی نرخوں پر اشیا فراہم کی جائینگی۔بادشاہ سلامت کے نوٹس اورریلیف پیکج کے اعلان سے قبل یوٹیلٹی اسٹورز پرچینی کی قیمت فی کلو68روپے تھی، جسے بعد میں 70روپے فی کلوکردیاگیااسی طرح گھی کی قیمت میں بھی 5روپے فی کلوتک اضافہ کردیاگیا۔بادشاہ سلامت کوایک نیک...

خضاب ایک عذاب

خضاب لگانا ذاتی کاموں میں سے ایک مشکل ترین فن ہے۔کہتے ہیں خضاب اور بیوی ایک بار شروع ہو جائے تو پھر تازیست جان نہیں چھوڑتے۔مرد ہمیشہ مونچھیں اپنی ذات اور خضاب دوسروں کی بیوی کے لئے لگاتا ہے۔خضاب لگانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا چونا لگانا،کبھی کبھار تو چونا لگاناآسان دکھائی دیتا ہے خضاب لگانا مشکل۔خضاب لگا کر ننگِ جسم ،عذابِ جان مرد حضرات دھوپ میں ایسے بیٹھے ہوتے ہیں جیسے شیر خوار circumcisionکروا کے بیٹھا ہو، بس فرق صرف اتنا سا ہوتا ہے کہ بچہ رو رہا ہوتاہے۔ خضاب لگانا اس لئے بھی فن ہے کہ اسے لگاتے ہوئے انتہائی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اگر خضاب لگاتے لگاتے تھوڑا سا بھی چہرہ کو لگ جائے تو بندہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا ، ایسی صورت حال میں احباب سے منہ ایسے چھپا رہا ہوتا ہے جیسے واقعی منہ دکھانے کے قابل نہ رہا ہو۔ سفید بالوں پر خضاب لگانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن عہدِ حاضر کی نسل نو خیز کا بالوں کو رنگ لگانا چہ معنی،دلیل ہے نہ کوئی حوالہ ہے بس لڑکیوں کی اقتدا میں مرے جاتے ہیں۔ خواتین و حضرات کو خضاب لگانے کا کوئی اور فائدہ ہو نا ہو ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ بال جوئووں کی نرسری بننے سے قاصر رہتے ہیں، یعنی خضاب سے قبل کنگھی کرنے اور خضاب لگاتے ہوئے خضاب کی بُو سے ہی جوئوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ مرد حضرات کے لئے میرا مشورہ ہے کہ کنگھی کبھی بھی بیوی کے سامنے نہ کیجئے ،اس لئے کہ ایک شادی شدہ شخص کے سر میں جوئیں پڑ گئیں تو اس نے خضاب لگانے سے قبل بیگم سے اس بات کا تذکرہ کردیا ،بیوی نے شوہر کے سر میں کنگھی ’’ماری‘‘ تو درجن بھر کے قریب جوئیں ’’برآمد‘‘ہوئیں، لیکن اصل کھیل اس کے بعد شروع ہوا جب بیگم نے اپنے سر میں کنگھی کی تو ایک بھی جوں ندارد،اب بیگم کنگھی کو بطور ’’خر خرہ‘‘استعمال کرتے ہوئے تفتیش کر رہی ہے کہ میرے سر میں تو جوئیں ہیں نہیں تو تم کس ’’ماں‘‘سے جوئیں ’’درآمد‘‘ کر کے لائے ہو؟ خضاب لگانے کو کچھ نیم بزرگ قسم کے لوگ’’جوانی‘‘لگانا بھی کہتے ہیں،میرا کہنا یہ ہے کہ انسان جوانی میں ایسے کام ہی کیوں کرتا ہے کہ جس سے نیم بزرگی میں سر کالا کرنا پڑے۔ جو لوگ بال سفید نہیں کرتے وہ یا تو غیر شادی شدہ ہیں یا دوسری کی ہوس نہیں۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ کاہل اور آلکس بھی سفید بالوں کو رنگ نہیں لگاتے کہ کہیں کسی کے رنگ میں رنگے ہی نہ جائیں۔ کچھ کا خیال یہ بھی ہے کہ سفید کو کالا کرنے سے کون سا گھر کے ’’سیاہ وسفید‘‘ کا مالک بن جانا ہے سیاہ وسفیدکی مالک تو بیوی ہی نے رہنا ہے تو کیوں اپنی جان کو عذاب میں ڈالا جائے؟ بیوی کم عمر کی ہو تو مرد خود کو insecure سمجھتے ہوئے خضاب لگاتا ہے اور اگربیوی عمر رسیدہ ہو تو بیوی کو secure کرنے کے لئے یہ حرکت کرتا ہے۔بال رنگنا اور بچے پالنا دونوں...

گھبرانانہیں

اچھوماتھے میں گولی لگنے سے جان بحق ہوگیا،تعزیت کیلئے آنے والوں میں سے ایک نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ افسوس ناک لہجے میں اچھوکی میت کوغورسے دیکھتے ہوئے تعزیتی الفاظ میں کہاشکرہے آنکھ توبچ گئی ورنہ گولی آنکھ میں بھی لگ سکتی تھی، ظالموں نے آنکھ کے بالکل قریب کوئی آدھے انچ کے فاصلے پرگولی ماری ہے،تعزیت کرنے والے نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ سچ بولاتھا، لہٰذااہل خانہ شدیدتکلیف کے باوجودنمک پاشی کرنے والے الفاظ کوبرداشت کرنے پرمجبوررہے۔ ٹھیک اسی طرح کل خبرملی کہ پشاورانتظامیہ نے نان بائی اتحادکے مطالبے پرروٹی کی قیمت بڑھائے بغیر ہڑتال ختم کروادی بس اب عوام کوروٹی 170گرام کی بجائے115گرام کی ملے گی، پرانی قیمت 10روپے میںیعنی عوام شکرکریں کہ روٹی کی قیمت میں اضافہ تونہیں ہوا،پہلے جب دوست احباب ایک دوسرے سے حال پوچھتے تواکثر جواب ملتاکہ اللہ کاشکرہے، نظام چل رہا ہے، اب کسی سے حال پوچھنے سے قبل سوچناپڑتاہے کہ سخت الفاظ تومعمول ہیں، کہیں جواب غلیظ گالیوں پرمبنی نہ ہو،دورحاضرمیں حال بتانے کے مناسب ترین الفاظ کاانتخاب کریں توکچھ اس طرح ہوسکتے ہیں آٹا،گھی،دالیں،سبزیاں،پھل،بہت مہنگے ہیں،کاروباربندہیں،کہیں سے وسائل میںاضافہ نہیں ہورہا، والدین کاکیا حال ہے؟ادویات بہت مہنگی ہوگئی ہیں، والدین کی صحت اکثرخراب رہتی ہے،بیوی بچوں کا کیا حال ہے؟بچوں کی تعلیم سارابجٹ کھانے کے بعدمزیداخراجات کی طلب گاررہتی ہے،اسکول،کالج،اکیڈمی کی انتظامیہ ہماری حالت دیکھے بغیرٹیکے لگائے جاتی ہے،تین سال سے بیوی کوشاپنگ نہیں کروائی،باقی شادی شدہ افراد سمجھ سکتے ہیں،اکثرلوگ سوال کرتے ہیں کہ آپ حکومت کی کارکردگی سے خوش ہیں؟ مطمئن ہیں؟آپکی نظرمیں حکومت کی کارکردگی کیسی ہے؟اکثرلوگوں کاایک ہی جواب ہوتاہے کہ حکومت عوام کی ہے نہ عوام کیلئے ہے،حکومت کی کوئی پالیسی عوام کی خیرخواہی کیلئے ہے نہ کوئی اقدام عوام کیلئے ہے۔ حکومت کی کارکردگی کاپیمانہ تب ناپتے جب حکومت ہوتی، عوام کیلئے کبھی کسی حکومت کو سنجیدہ ہونے کی ضرورت پیش نہیں آئی،حکومت سرمایہ داروں کی ہے ،عام عوام توہرحکومت کی بہترین کارکردگی سے شدیدمتاثرہوتے ہوتے مشکلات کی گہری دلدل میں دھنس چکے ہیں، ایک جاننے والے نے بتایاکہ ہمارے محلے کے حاجی صاحب بہت اچھے ہیں، ہمیشہ غریبوں کاخیال رکھتے ہیں،دو چارہزار تک مددکردیتے ہیں،آٹے کے تھیلے،گھی، چینی وغیرہ بھی تقسیم کرتے رہتے ہیں،ان حاجی صاحب کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ ماشاء اللہ ان کی اپنی فیکٹریاں ہیں جہاں وہ بجلی گیس اورٹیکس چوری کرتے ہیں،یہ کیسی اندھیرنگری چوپٹ راج ہے؟ کہ ملک کے صادق وامین حاکم انتہائی کم تنخواہ لیتے اورٹیکس بروقت اداکرکے قومی فریضہ اداکرتے ہیں اورحاجی صاحب بجلی،گیس کے ساتھ ٹیکس بھی چوری کرتے ہیں؟یہ کیسے ممکن ہے کہ اس قدرچورعوام کے حاکم صادق وامین ہوں؟یہ کیسے ممکن ہے کہ صادق وامین کی حکمرانی میں بجلی،گیس اورٹیکس چوری ہوجائیں؟ ایک خبرکے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزراء سے بھی کم تنخواہ لے رہے ہیں، وزیر اعظم کی سیلری سلپ کے مطابق ان کی بنیادی تنخواہ 107280 روپے ہے،مہمانداری الائونس 50 ہزار روپے،ایڈہاک ریلیف الائونس21456 روپے،ایڈ ہاک الائونس12110روپے ،جبکہ ایک اور ایڈہاک ریلیف الائونس 10728 روپے ملتا ہے،4595 روپے ٹیکس کٹوتی کے بعد وزیراعظم ایک لاکھ 96ہزار 979روپے تنخواہ وصول کرتے ہیں،راقم اپنے گزشتہ کالم میں یہ لکھ چکاہے کہ...

ہمارے بلاگرز