ٹیگ: قرض حسن

اہم بلاگز

کامیابی کی راہیں

کامیابی نئی ہونی چاہیے ! کامیابی کس کا خواب نہیں؟ جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی طور کامیاب نہیں ہوسکتے وہ بھی کامیابی کا خواب دیکھنے، بلکہ دیکھتے رہنے سے باز نہیں آتے۔ کامیابی کا معاملہ ہے ہی ایسا۔ ایک لطیفہ یہ بھی ہے کہ لوگ کامیابی کا مفہوم طے کیے بغیر بھرپور کامیاب ہونے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ کامیابی کے خواب دیکھنا حیرت انگیز بات نہیں۔ حیرت میں مبتلا کرنے والی بات یہ ہے کہ لوگوں کو خود بھی اندازہ نہیں کہ وہ کس شعبے میں اور کتنی یا کیسی کامیابی چاہتے ہیں۔ محض کامیابی چاہنا تو کوئی بات نہ ہوئی۔ انسان کو اندازہ و احساس ہونا چاہیے کہ کامیابی کس حوالے سے اور کس شعبے میں ہونی چاہیے۔ کامیابی کے بارے میں سوچنا بھی لازم ہے۔ انسان کو معلوم ہونا چاہیے کہ کامیابی ہوتی کیا ہے اور اس سے حقیقی اطمینان کب حاصل ہوتا ہے۔ بہت سوں کا یہ حال ہے کہ دن رات کامیابی کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور خواب بھی کامیابی ہی کے دیکھتے ہیں مگر انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ کامیابی ہے کس چڑیا کا نام۔ ایسے میں اگر کچھ کامیابی مل جائے، تھوڑا بہت نام بھی ہو جائے، کچھ مال بھی ہاتھ آجائے تو دل کو سکون نہیں آتا، ذہن متوازن و مستحکم نہیں ہو پاتا۔ سوچی سمجھی کامیابی ہی انسان کو حقیقی اطمینان بخشتی ہے۔ کامیابی کا مفہوم ہر انسان کے نزدیک مختلف ہوسکتا ہے اور ہوتا ہی ہے۔ کسی کو دولت کا حصول کامیابی لگتا ہے۔ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ شہرت مل جائے تو سمجھ لیجیے کامیابی نصیب ہوگئی۔ کسی کے لیے بہت بڑا گھر کامیابی کی ضمانت اور علامت ہوتا ہے جبکہ کسی کے خیال میں دنیا گھومنے کا موقع ملے تو سمجھ لیجیے کامیابی نے گلے لگالیا۔ کسی کے نزدیک دنیا کی کچھ وقعت نہیں، وہ صرف دینی حوالے سے زندگی بسر کرنے ہی کو کامیابی سمجھتا ہے۔ کسی کی نظر میں آخرت محض ایک تصور ہے، دنیا کو اپنائیے اور باقی سب کچھ بھول جائیے۔ کامیابی کے مفہوم کا حتمی تعین تو ممکن نہیں مگر ہاں، خوب سوچ بچار کرکے ایک ایسی رائے ضرور قائم کی جاسکتی ہے جس پر بیشتر لوگ متفق ہوں۔ انسان جب اپنی پسند کے شعبے میں اپنی بھرپور صلاحیت و سکت کو بہ رُوئے کار لائے اور کچھ حاصل کرے تو دل کو اچھا خاصا سکون ملتا ہے۔ لاٹری کے ذریعے بھی اچھی خاصی رقم مل سکتی ہے بلکہ اتنی رقم مل سکتی ہے کہ باقی زندگی کچھ کیے بغیر گزرے مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کو زیادہ تسکین اس دولت سے ملتی ہے جو اس نے اپنی صلاحیت اور مہارت کو بہ رُوئے کار لاتے ہوئے اپنی محنت سے حاصل کی ہو۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان بھرپور محنت کرکے اپنا ہدف حاصل کرلیتا ہے، ضرورت اور خواہش کے مطابق دولت بھی پالیتا ہے اور شہرت بھی مل ہی جاتی ہے مگر پھر بھی دل کو زیادہ سکون نہیں ملتا۔ ایسا بالعموم اس وقت ہوت اہے جب کامیابی مکھی پر مکھی مارنے والا معاملہ ہو۔ کسی بھی...

رسمِ جہیز نے بیٹیوں کے خواب چھین لئے

جہیز ایک ناسور ہے جو ہمارے معاشرے میں کینسر کی طرح پھیل چکا ہے ، اس لعنت نے لاکھوں بہنوں اور بیٹیوں کی زندگی کو جہنم بنا رکھا ہے ۔ ان کی معصوم آنکھوں میں بسنے والے رنگین خواب چھین لئے ہیں، ان کی آرزؤں، تمناؤں اور حسین زندگی کے سپنوں کا گلا گھونٹ دیا ہے ۔ انہیں ناامیدی، مایوسی اور اندھیروں کی ان گہری وادیوں میں دھکیل دیا ہے جہاں سے اُجالے کا سفر ناممکن ہو چکا ہے ۔ یہ ایک ایسی رسم ہے جس سے صرف غریب والدین زندہ درگور ہو رہے ہیں اور اس آس پر زندہ ہیں کہ کوئی فرشتہ صفت انسان اس لعنت سے پاک دو جوڑے کپڑوں میں ان کے لخت جگر کو قبول کر لے لیکن ہمارے معاشرے میں جو رسمیں رواج پا چکی ہیں اور وہ وقت گزرنے کے ساتھ اپنے قدم مضبوطی سے جما لیتی ہیںاور پھر ان سے چھٹکارا پانا ناممکن ہوجاتاہے ۔ درحقیقت جہیز خالص ہندوستانی رسم ہے اور ہندو معاشرے میں تلک کے نام سے مشہور ہے جسے آج ہمارے مسلم معاشرے نے اپنا لیا ہے ۔ اس لعنت نے موجودہ دور میں ایسے پھن پھیلا لئے ہیں کہ غریب گھروں میں پیدا ہونیوالی لڑکیاں شادی سے محروم اپنی چار دیواری میں بیٹھی رہنے پر مجبور ہیں۔ جہیز ایک غلط اور فطرت کے خلاف رسم ہے ۔ آج اس ر سم نے جو قبیح صورت اختیار کر لی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ درست ہے کہ کچھ سال قبل جن اشیاء کو قیمتی شمار کیا جاتا تھا وہ آج معمولی ضروریات زندگی بن چکی ہیں لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ جہیز کے نام پر لڑکی کے والدین کو قرض کے سمندر میں ڈبو دیا جائے ۔ اگر غور سے مطالعہ کیا جائے تو آج کل انسان ایک سائنسی دور سے گزر رہا ہے بالخصوص ہمارے معاشرے میں غریبوں کی کوئی اہمیت نہیں وہ محض رینگتے کیڑے مکوڑے ہیں جنہیں ہر کوئی مسلتا ہوا آگے نکل جاتا ہے ۔ غریب کے گھر اگر بیٹی پیدا ہو جائے تو ایک طرف خدا کی رحمت اور جب شادی کی عمر کو جائے تو زحمت بن جاتی ہے کیونکہ لڑکے والے جہیز جیسی لعنت کا تقاضا کرتے ہیں۔ جہیز کی اصل حقیقت اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ لڑکی کے والدین جنہوں نے اسے پال پوس کر بڑا کیا اور گھر کی دہلیز سے رخصت ہوتے وقت اگر کچھ تحفے دیتے ہیں تو اسے جہیز نہیں بلکہ اپنی اولاد سے محبت و تعلق کی بناء پر فطری عمل ہے لیکن موجودہ دور میں ان تحائف کی جو حالت بنا دی گئی ہے وہ پہلے کبھی نہ تھی۔ ماں باپ کے ان تحفوں کو لڑکے والوں نے فرمائشی پروگرام بنا دیا ہے اور پورا نہ ہونے پر ظلم و زیادتی کی جاتی ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے یہ سماجی رسم ہوا کرتی تھی آج جہیز بن گیا ہے ۔ اس لعنت کی وجہ سے جو ظلم و ستم بہو بیٹیوں پر کئے جاتے ہیں وہ بیان نہیں کئے جا سکتے ۔ حکومت...

ہمارا کل اور آج

  آج کے بچوں کو جب ہم اپنے کل کی باتیں سناتے ہیں تو وہ یوں تعجب و حیرانی سے سنتے ہیں اور ہمیں دیکھتے ہیں جیسے بچپن میں ہم پریوں اور دیو کی کہانی سنتے ہوئےہو جاتے تھے گرچہ یہ صدیوں کا نہیں بلکہ چند دہائیوں کا پیچھے سفر ہے؛ جی ہاں چند دہائیاں پیچھے اور آج کے اس جدید ترقی یافتہ دور میں زمین آسمان کا فرق ہے، مثلاً چند دہائیاں پیچھے بچوں کا اسکول چاہیے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر کیوں نہ ہو تا بچے اکیلے پیدل بلا خوف وخطر جآتے اور آتے تھے کبھی کوئی المناک واقعہ سنائی نہیں دیتا تھا، کیا آج ایسا ممکن ہے؛ والدین سوچ بھی نہیں سکتے آج پانچ دس منٹ کے فاصلے کے لیے بھی والدین بچوں کے لیے وین لگواتے ہیں پھر بھی ہر لمحے خوف زدہ رہتے ہیں جب تک بچے گھر واپس نہ آجائیں۔ چند دہائیاں پہلے تعليمی اداروں کی چار دیواری بچوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتی تھیں کوئی غیر اخلاقی واقعہ شاذونادر سنائی دیتا تھا، جبکہ آج کے اس جدید دور میں آئے دن تعلیمی اداروں کے اندر غیر اخلاقی واقعات، لڑائی جھگڑےاور منشیات وغیرہ کے واقعات سن کر والدین کو تشویش درپیش رہتی ہے پچھلے دنوں ایک معروف مفتی صاحب کا بیان نظروں سے گزرا کہ اگر کچھ یونیورسٹیوں کے اندرونی معاملات سے والدین واقف ہوجائیں تو وہ خصوصاً اپنی بیٹیوں کو ان اداروں میں تعلیم کے حصول کے لیے نہ بھیجیں۔ آج عموماً ہم چاردیواریوں کے اندر سوسائیٹیوں میں رہتے ہیں جہاں آہنی گیٹوں پر اسلحہ بردار چوکیدار چوبیس گھنٹے پہرہ دیتے ہیں لیکن اسکے باوجود آئے دن وارداتوں کی خبریں سنائی دیتی ہیں جبکہ چند دہائیاں پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھیں تو نہ آہنی گیٹ تھے نہ اسلحہ سے لیس چوکیدار ہوتے تھے ہم نے اپنا بچپن ایک گنجان آبادی والے رہائشی علاقے میں گزارا جہان ایک گلی میں پچیس تیس دو یا تین منزلہ عمارتیں تھیں عمارتوں میں داخلے کے لیے سیڑھیوں کے پاس کوئی گیٹ نہ تھا آج شاید اندرون شہر ایسی عمارتیں ہیں لیکن وقت کے تقاضے کے مطابق ان عمارتوں میں بڑے بڑے گیٹ یا دروازے لگادیے گیے ہیں تاکہ کوئی اجنبی عمارت میں داخل نہ ہوسکے۔ اسکے باوجود ہر اپارٹمنٹ کے داخلے کے لیے ایک معمولی لکڑی کا دروازہ ہوتا تھا جو ایک زور دارٹھوکر سے ٹوٹ سکتا تھا لیکن الحمد اللہ ہر اپارٹمنٹ والے محفوظ زندگی گزارتے تھے۔ بچپن کے اس دور میں ہم نے اپنے آس پاس کوئی چوری وغیرہ کی واردات کے بارے میں نہیں سنا، جبکہ یہاں اکثریت کاروباری لوگ بستے تھے اور خوشحالی کی زندگی گزارتے تھے۔ آج ہمیں اپنے بچپن کے دن کسی خواب کی طرح محسوس ہوتے ہیں دو یا تین کمروں کے اپارٹمنٹ میں دو یا تین فیملیاں بڑی محبت اور اتفاق سے رہتی تھیں یعنی ماں باپ کے ساتھ دو یا تین شادی شدہ بیٹے اپنے ایک دو نونہالوں کے ساتھ ایک چھت تلے سکون سے رہتے تھے معمولی باتوں پر لڑائی جھگڑے سے پرہیز کیا جاتا تھا کشادہ دلی سے ایک دوسرے کو برداشت کیا جاتا تھا جبکہ آج بڑے...

جیل بھرو یا مساجد؟

ملک دیوالیہ ہوا یا نہیں لیکن عوام الناس کے دماغوں کو چلانے والوں کا ذہنی و فکری دیوالیہ پن واضح ہو گیا ہے اسے بھی نہ سمجھا تو بہت دیر ہو جائے گی اور ان سب عیارانہ چالوں کو سمجھنے کے لیے آپ کا صاحب علم و فہم ہونا بہت ضروری ہے علم و فہم کوئی فٹ پاتھ پر بکنے والا برگر نہیں کہ جھٹ پٹ اور وافر مقدار میں فوری تیار ہو جائے عمریں گزر جاتی ہیں تب جاکرچمن میں دیدہ ور پیدا ہوا کرتے ہیں ہم آج کل ہر اک شے کے شاٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں بابا فوڈ یو ٹیوبر کک سے بھی افراد شاٹ ریسپیز کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ پانچ سے دس منٹ میں اپنی زندگی بھر کی ریاضتوں کے حاصل طریقے بیان کر دیا کرتے ہیں اسی طرح کے مختصر ،مستند مگر انتہائی جامع علم و فہم کے بیانات جاننا چاہتے ہیں تو جمعوں کے خطبوں سے پہلے کے دروس نہ چھوڑا کریں ملکی سیاست پر ہفتے کے ساتوں دنوں کے چوبیس گھنٹوں میں الیکٹرانک میڈیا میں معاوضہ لیکر لڑوانے والا گھمسان کا رن پڑا دیکھتے ہی ہیں بلکہ بغیر اکتائے دیکھتے چلے جاتے ہیں تو ہفتے میں ایک بار ان بے لوث علم و فہم کے حامل افراد کے خطبات بھی سن لیں تو شاید ان مایوسیوں کے اندھیروں سے نکل آئیں ابھی کل ہی جامعہ کراچی میں نماز جمعہ سے پہلے امام صاحب کے خطبے سے پہلے کے درس میں ایک جملے نے چونکا دیا تم جیل بھرو تحریک کے بجائے مساجد بھرو تحریک کیوں نہیں چلاتے؟ واقعی یہ تو ہم نے بھی نہیں سوچا تھا کہ رحمٰن کے خالص بندے تو آزمائش میں مزید اسی سے جڑ جاتے ہیں چمٹ جاتے ہیں اس بچے کی طرح کہ جسے ماں مارتی ہے تو اسی کے آنچل میں چھپ کر اپنے آنسوؤں کو بہاتے ہیں اور اس محبت بھری ڈانٹ اور بعض اوقات مارکٹائی کے بعد معافی تلافی کا دور ہوتا ہے اور بس زندگی میں طربیہ کہانیوں جیسا جملہ نمو پاتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر وہ ہنسی خوشی رہنے لگے۔ اس ہنسی خوشی سے پہلے آزمائش و ابتلاء کا وہ امتحان وہ ٹریننگ کورس کہ جس کے بعد خالق اور خلق کے درمیان طالب و مطلوب کے درمیان محب اور محبوب کے درمیان روابط بڑھتے ہیں ،محبتیں بڑھتی ہیں ،تعلقات پروان چڑھتے ہیں اور پھر خوشیاں اور مسرتیں ضرب پا کر تقسیم ہوجاتی ہیں۔ ملک کے ڈیفالٹ ہونے کے نوحے ،یہ ملک نہیں کھپے گا، بس دس سال کی مزید کہانی ہے ،بن گیا تو زیادہ نہیں چلے گا یہ جملے اس ملک کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کو بطور گھٹی دئیے گئے تھے اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ 48 کا محاذ ،65 اور 71 کا محاذ کارگل و ضربِ عضب لال مسجد و وزیرستان ،لہورنگ کراچی اور گلگت بلتستان سے بلوچستان تک جی ایم سید سے باچا خان،بھٹو سے شیخ مجیب الرحمٰن اور الطاف حسین سے منظور پشین تک کی داستانیں گزر گئیں اس وطن کو قائم رہنا تھا سو قائم رہا دور ایوبی کی" مہنگائی" پر تختہ حکومت پلٹی تو...

شمشیر حیا

تحصیل علم کے بعد درس و تدریس کے لیے ایک ایسے ادارے سے وابستہ ہوئی کہ جہاں نہم، دہم، گیارہویں اور بارہویں جماعت کی طالبات کوٹ اسکارف لیا کرتیں تھیں۔اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ شہر بھر میں پردے کے رجحان میں اضافہ ہوا۔چونکہ یہ بڑا اور معروف ادارہ تھا۔اس لیے دوسرے اسکولوںنے بھی اس کی تقلید کی۔والدین خوش تھےکہ بچیاں عصری علوم سے بھی آشنا ہو رہیں تھیں،پردے اور دینی ماحول سے بھی بہرہ مند ہورہیں تھیں،لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ سیرو تفریح فئیرویل پارٹی پر مرد وخواتین اساتذہ اور طلبہ طالبات اکھٹے ہوکر ایک مخلوط ماحول کی صورت اختیار کر لیتے اور پردے کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ گروپ اسٹڈی کے سلسلے میں جب طالبات کا واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا گیا تو ننھی معصوم کونپلوں کی افسوسناک ڈی پیز دیکھنے کو ملیں بچیاں پردے سے بے نیاز سیلفیاں بنا رہی تھیں۔ ساتھ منہ کے پاؤچ بنائے اپنی سیلفیوں کے فحش ہونے سے قطعاً ناواقف تھیں۔میرا تعلیمی دور کوئی زیادہ پرانا تو نہیں تھا۔لیکن سوشل میڈیا کے تیز برے استعمال نے بہت آفت پھیلائی تھی۔ہمارا سب سے بڑا مسئلہ نقالی بن گیا ہے۔ماڈرنیسٹ (جدیدیت پسند) کہلانے کے شوق سے نکلنے کو تیار ہی نہیں اور اس خام خیالی میں رہتے ہیں کہ منفرد لگیں۔یہ سوچنا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں۔آپ مقابلہ کرتے ہوئے کہاں تک جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ دیا ہے۔ اس کا اظہار مغربی طرز اپنائے بغیر کیا جاسکتا ہے۔کھائیں، پئیں اچھے گھر میں رہیں اچھی سواری کریں اور اچھا لباس پہنے لیکن اس سب میں انگریز یا دوسری اقوام کے انداز اپنانا دم کٹے بندر بننا کے مترادف ہے۔انسان اپنی اقدار و روایات کے ساتھ زندہ رہتا ہے تو باوقار رہتا ہے۔مغرب کا سروے کیجئے ان کے اخلاق و کردار سب گراوٹ کا شکار ہیں۔ سیرتﷺکے پروگرام میں اک طالبہ کو جینز شرٹ پر ٹوکا کہ بیٹا کم ازکم آج کے دن ساتر لباس پہنتیں۔کولیگ جو بچی کی خالہ تھیں ناراض ہوگئیں۔اور کہنے لگیں کہ یہ "آپ کا ایشو نہیں"لفظوں کا پتھر پڑا بقول شاعر: ہم نے سیکھا ہے اذان سحر سے یہ اصول لوگ خوابیدہ ہی سہی ہم نے صدا دینی ہے تبلیغی حکمتوں پر غوروخوض ضرور کرتی ہوں لیکن لیکن امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے حکم سے دستبرداری کو تیار نہیں۔ایسے میں مجھےایک انڈین کالج کی طالبہ مسکان کا واقعہ ذہن میں آیا۔پچھلے سال یہی فروری کا مہینہ تھا جب اسکوٹر پر سوار پر اعتماد چال اور اسکارف میں مسکان نے بدمعاشوں کے جتھے میں "نعرہء تکبیر اللہ اکبر" بلند کیا۔بظاہر کمزور دکھائی دیتی لڑکی نے دلیری اورجرات سے ایسے للکارا جیسے فرعون کے دربار میں موسیٰ اور نجاشی کے دربار میں جعفر بن طیار نے للکارا تھا۔لمحہ فکریہ ہے کہ مسکان دارالکفر میں اپنے پردے کا دفاع کرتی ہے۔اور ہم دار الایمان میں اپنے اسکارف کی ناقدری کرتے ہیں۔دار الکفر کی مسکان صحابیات رضی اللہ عنہا کو آئیڈیل بناتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ ہماری کالج کی طالبات لتا منگیشکر کو بلبل ہند کہتی ہیں۔غیر کی روایات پروموٹ کرتیں ہیں۔ان کے تہوار مناتیں ہیں۔ اُمت مسلمہ کی بچیوں!آپ علم کی...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

کہاں کی بات کہاں نکل گئی

قارئین کا صاحبِ مضمون سے متفق ہونا لازم ہے کیونکہ یہ تحریر اسی مقصد کے لیے لکھی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کو نصحیت کرنے کا جان لیوا مرض لاحق ہوتا ہے۔ جہاں کچھ غلط سلط ہوتا دیکھتے ہیں زبان میں کھجلی اور پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگتا ہے ایسا ہم نہیں کہتے ان لوگوں کے پند و نصائح وارشادات سننے والے متاثرین کہتے ہیں۔ اللہ معاف کرے اکثر نوجوانوں کو نصحیت کرنے کے جرم کی پاداش میں ہماری ان گنہگار آنکھوں نے ان بزرگوں کو کئی مرتبہ منہ کی کھاتے دیکھا ہے۔ مگر نہ وہ اپنی روش سے باز آتے ہیں اور نہ ہی کتے کی ٹیڑھی دم سیدھی ہوتی ہے۔ اب قریشی صاحب کی بیوہ کو ہی لے لیجیے عمر دراز کی ستر بہاریں دیکھ چکی ہیں، بیوگی کے پچاس سال گزارنے والی اپنی زندگی سے سخت بیزار ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی موصوفہ نے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دئیے تھے۔ دن رات صبح شام وہی گھسا پٹا راگ الاپتی رہتی تھیں تمہارے ماں باپ کی خدمت میں کیوں کروں؟ تمہارے سارے کام میں کیوں کروں؟ میں غلام نہیں ہوں۔ جو تمہاری ہر بات مانوں وغیرہ وغیرہ۔ قریشی صاحب بھلے مانس آدمی تھے شرافت اور منکسر المزاجی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ کان دبائے، نظریں جھکائے بیوی صاحبہ کے فرمودات سنتے اور سر دھنتے رہتے۔ ان کا یہ معصومانہ انداز بیوی صاحبہ کے تن بدن میں آگ لگا دیتا پھر جو گھمسان کی جنگ چھڑتی جس میں بیوی صاحبہ فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد قریشی صاحب سے اپنے تلوے چٹوا کر انہیں مورد الزام ٹھہراتے ہوئے فرد جرم عائد کر کے سزا سنا دیتیں۔ قید بامشقت کے تیسرے سال ہی قریشی صاحب کے کُل پرزے جواب دے گئے۔ گھر کی مسند صدارت و وزارت پر بیوی صاحبہ براجمان تھیں بیچارے قریشی صاحب کی حیثیت کا قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ گنے چنے چند سالوں کی رفاقت کے بعد ایک شام قریشی صاحب داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ لواحقین میں ایک بیوہ اور پانچ بیٹیاں چھوڑیں۔ ماں کے طور اطوار، رنگ ڈھنگ، چال ڈھال اور انداز کا مہلک زہر اولاد کی نسوں میں اتر چکا تھا۔ اور خربوزے کو دیکھ کر خربوزیاں رنگ پکڑتی چلی گئیں۔ موصوفہ کی کل کائنات بس یہ پانچ بیٹیاں ہیں۔ پانچوں کنورای جو شادی کے نام پر ایسے اچھلتی ہیں جیسے بچھو نے ڈنک مارا ہو۔ قبر میں پیر لٹکائی قریشی صاحب کی بیوہ صبح شام خود کو کوستے رہتی ہیں کہ اس جیسے چاہو جیو کے سلوگن نے ان کی دنیا و آخرت ملیامیٹ کر کے رکھ دی۔ مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ ہم اگر اپنی روزمرہ زندگی پر نظر دوڑائیں تو کتنی چیزیں ہیں جو کہ ہم غلط سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی کرتے ہیں نہ جاننا اتنا سنگین نہیں ہوتا جتنا کہ جان کر حقیقت سے نگاہیں چرانا ہوتا ہے۔ چچ چچ ہم آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کے عادی بنا دیے گئے ہیں۔ 2021ء میں گھریلو تشدد کا بل اسمبلی سے منظور کروا کر ہماری نوجوان نسل کو یہ پیغامِ تقویت...

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

ہمارے بلاگرز