ٹیگ: صفائی ستھرائی

اہم بلاگز

زندگی کی حقیقتیں

اپارٹمنٹ کے لائونج میں اس نے قدم رکھا، طائرانہ نگاہیں چاروں طرف دوڑائیں… فرنیچر، ڈیکوریشن پیس، دیواروں پر آویزاں قرآنی تغرے سب ویسے ہی تھے، صرف نہ تھی ان کے درمیان وہ ہستی جو اس کی ’’ماں‘‘ تھی۔ گھر میں قدم رکھتے ہی جس کی آواز کانوں میں گونجتی تھی ’’آگئیں میری بیٹی؟‘‘ ماں کی آنکھوں میں اپنی اکلوتی اولاد کے لیے محبتوں کے دیپ جل اٹھتے تھے، حالانکہ وہ صرف چار پانچ گھنٹوں کے لیے یونیورسٹی جاتی… ماں کی یاد سے اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ اس سے پہلے کہ وہ بے قابو ہوجاتی، پیچھے سے بابا کی آواز کانوں میں پڑی ’’لو بیٹا اپنا سامان چیک کرلو‘‘… اس نے فوراً اپنے آنسو پونچھ لیے، مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے باپ کی طرف پلٹی…’’بابا… یہ دونوں بیگ… آپ کیوں لے کر آئے، چوکیدار کو کہتے، وہ لے آتا۔‘‘ ’’تم تو یوں کہہ رہی ہو جیسے میں انہیں اٹھاکر لے کر آیا ہوں۔ لفٹ میں تو لانے تھے، میں نے سوچا چوکیدار کو کیوں تکلیف دوں! اس نے بابا سے سامان لے کر ایک طرف رکھ دیا اور دونوں باپ بیٹی ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے لگے۔ حالانکہ وہ ہر روز دن میں دو مرتبہ لندن سے بابا سے بات ضرور کرتی، لیکن دونوں ایک دوسرے کو آمنے سامنے دیکھ کر نہال تھے اور دونوں کی کوشش تھی کہ وہ مرحومہ کا ذکر نہ کریں۔ یوں لگ رہا تھا وہ جان بوجھ کر مرحومہ کے ذکر سے گریز کررہے تھے کہ سامنے والا دکھی نہ ہوجائے۔’’بیٹا تم لمبے سفر سے آرہی ہو، میرے خیال میں باقی باتیں صبح ہوں گی، اب تم آرام کرو۔‘‘ بابا کے چہرے پر بھی تھکن کے آثار تھے… نہ جانے وہ کتنی دیر ائرپورٹ پر انتظار کرتے رہے تھے۔ لہٰذا وہ بابا کو خدا حافظ کہہ کر اپنے کمرے میں آگئی… وہی سامان، وہی کمرہ… سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا وہ دو سال پہلے چھوڑکر گئی تھی، لیکن ایک ویرانی اور اداسی تھی جو گھر کے کونوں کھدروں میں بھی بکھری ہوئی تھی۔ اس کی آنکھیں پھر سے چھلک پڑیں، وہ سسک پڑی ’’مما… آپ مجھے کیوں اتنی جلدی چھوڑ گئیں‘‘… اسے بابا کا خیال آگیا۔ وہ کمرے سے باہر آئی۔ بابا سوگئے تھے، اُن کے خراٹوں کی آوازیں کمرے کے باہر سے سنائی دے رہی تھیں۔ وہ پلٹ کر اپنے کمرے میں آئی، آہستہ سے دروازہ بند کیا، پلنگ کے سائیڈ ٹیبل پر مما اور اس کی تصویر، دونوں کی مسکراہٹ دل آویز… اس نے اماں کی تصویر کو آنکھوں سے لگایا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اسے لگا جیسے اس کے پیچھے مما کھڑی ہیں۔ ’’اوہو رکھ دو… گرا دو گی۔ بہت پھوہڑ ہو، میرے بعد کیا کرو گی! سارا دن صرف پڑھائی میں لگی رہتی ہو، نہ اپنا خیال نہ…‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا… ’’مما، آتے ہی شروع ہوجاتی ہیں۔ سب ٹھیک ہوجائے گا، سدھر جائوں گی وقت آنے پر‘‘… وہ پیچھے پلٹی، لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ اس کے لیے اپنی سسکیوں پر قابو پانا بہت مشکل تھا۔ مما… جنہوں نے اپنی بیماری کو چھپا کر درد...

ہالووین اورویلنٹائن ڈے مسلمانوں کا کلچر نہیں

اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی سال کے اکثر ایام کو مختلف واقعات سے جوڑ کر عالمی سطح پر منایا جاتا ہے ۔جن میں زیادہ تر تہوار ایسے ہیں جو معاشرے کو بڑی تیزی سے تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔تباہی کی طرف دھکیلتے ہوئے ان تہواروں میں یہ دو تہوار ہالووین اور ویلنٹائن ڈے بھی شامل ہیں ۔ہر گزرتے سال کے بعد ان تہواروں کو منانے کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے ۔مغرب کی دیکھا دیکھی مشرقی اور اسلامی ممالک میں بھی ان تہواروں کی حقیقت جانے بغیر ان کوزور و شور سے منایا جا رہا ہے۔ہالووین اور ویلنٹائن ڈے یہ دو تہوار ہر سال اکتوبر اور فروری میں منائے جاتے ہیں۔ ہالووین کی حقیقت:                ہالووین (Halloween)امریکہ میں منایا جانے والا ایک تہوار ہے ۔اس تہوار کے بارے میں تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ ہالووین کا سراغ قبل از مسیح دور میں برطانیہ کے علاقے آئرلینڈ اور شمالی فرانس میں ملتا ہے، جہاں سیلٹک قبائل ہر سال 31 اکتوبر کو یہ تہوار مناتے تھے۔ ان کے رواج کے مطابق نئے سال کا آغاز یکم نومبر سے ہوتا تھا۔ موسمی حالات کے باعث ان علاقوں میں فصلوں کی کٹائی اکتوبر کے آخر میں ختم ہوجاتی تھی اور نومبر سے سرد اور تاریک دنوں کا آغاز ہو جاتا تھا۔ سیلٹک قبائل کا عقیدہ تھا کہ نئے سال کے شروع ہونے سے پہلے کی رات یعنی 31 اکتوبر کی رات کو دنیا میں انسانوں اور بری ارواح کے درمیان ایک پردہ موجود ہوتا ہے، جو انسانوں کو ان بری ارواح سے محفوظ رکھتا ہے، ان کے خیال میں موسم ِ گرما کے اختتام پر یہ پردہ بہت باریک ہو جاتا ہے، اس پردے کے نازک ہونے کے سبب اس بات کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے کہ یہ بری اروح دنیا میں آکر انسانوں، مال، مویشیوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان بد روحوں کو خوش کرنے کے لیے سیلٹک قبائل 31 اکتوبر کی رات آگ کے بڑے بڑے الاؤ روشن کرتے تھے، اناج بانٹتے تھے اور مویشیوں کی قربانی دیتے تھے۔ اس موقع پر وہ جانوروں کی کھالیں پہنتے اور اپنے سروں کو جانوروں کے سینگوں سے سجاتے تھے۔تاکہ ان کو ایسے دیکھ کر بدروحیں خوش ہو جائیں اور وہ ان پر حملہ آور نہ ہو سکیں۔31 اکتوبر کو جب تاریکی پھیلنے لگتی ہے اور سائے گہرے ہونا شروع ہوجاتے ہیں تو ڈراؤنے کاسٹیوم میں ملبوس بچوں اور بڑوں کی ٹولیاں گھر گھر جاکر دستک دیتی ہیں اور trick or treat کی صدائیں بلند کرتی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یا تو ہمیں مٹھائی دو، ورنہ ہماری طرف سے کسی چالاکی کے لیے تیار ہو جاؤ۔ گھر کے مکین انہیں ٹافیاں اورچاکلیٹیس دے کر رخصت کر دیتے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے کی حقیقت:                اس دن کے ساتھ بہت ساری کہانیاں اور روایات منسوب کی جاتی ہیں ۔لیکن جو زیادہ معروف اور مستند مانی جاتی ہے وہ یہ ہے: تیسری صدی عیسوی میں ’’ویلنٹائن ‘‘ نام کا ایک پادری تھا ۔جو ایک راہبہ(نن) کی محبت میں...

نوکری یا کاروبار؟

دنیامیں فی زمانہ اگر کسی کے معیارزندگی کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی تعلیمی قابلیت کم،بینک بیلنس اور اس کے پاس مادی اشیا سے لگایا جاتا ہے۔یہ بھی ایک سچ ہے کہ جیہندے گھر دانے اونہدے کملے وی سیانے۔لیکن اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں کہ پیسہ ہر کسی پر عاشق نہیں ہوتا اور جس پر عاشق ہو جائے پھر وہ مٹی کو بھی ہاتھ میں پکڑے تو وہ بھی سونا بن جاتی ہے وگرنی سونا بھی مٹی۔سوال یہ ہے کہ پیسہ کیسے کمایا جائے؟اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ کام کیا جائے جس میں منافع ہو نا کہ اجرت،یعنی بزنس کیا جائے نوکری نہیں۔اگر کاروبار میں اتنا منافع نہ ہوتا تو کبھی بھی آپ ﷺ یہ نہ فرماتے کہ کاروبار میں منافع کے نو حصے ہیں۔جب آپ کاروبار کر لیتے ہیں تو پیسے کو کیسے دوگنا کرنا ہے اس کا فارمولہ بھی ہمارے پیارے آقا ﷺ نے بیان فرما دیا کہ کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ کر کے اللہ سے کاروبار کرلو۔یہی وجہ ہے اللہ دنیا میں دس گنا اور آخرت میں ستر گنا لوٹا کر دیتا ہے۔اس سے بھی زیادہ اگر آپ کو چاہئے تو اس کا بھی حل پیارے رسول ﷺ نے ہم پر واضح فرما دیا کہ صدقہ کرو مسلمان کا صدقہ اس کی عمر میں اضافہ کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے اور اللہ کے ذریعے تکبر اور فخر(کی بیماریوں)کو زائل کرتا ہے۔ لیکن ہم کاروبار کرنے سے قبل ہی اس کے نقصانات سے ڈرنا شروع کر دیتے ہیں اسی لئے پاکستان میں کاروبار کی بجائے نوکری کو ترجیح دی جاتی ہے کہ کچھ بھی نہ ہو کم سے کم اس سے ہر ماہ تنخواہ تو مل جایا کرے گی۔اس کا سب سے بڑا نقصان جو ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ ہم ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ وصول کرنے کے بعد دوسرے ماہ کی تنخواہ کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔جس کا سب سے بڑا نقصان ہمیں اور کمپنی کو یہ ہوتا ہے کہ ہم اس جوش وجذبہ سے کام نہیں کرتے جس ولولہ سے ذاتی کاروبار میں کر سکتے ہیں۔اسی لئے دنیا کے کامیاب بزنس مین خیال کرتے ہیں کہ منافع،اجرت سے بہتر ہوتا ہے۔کیونکہ اجرت آپ کا پیٹ پالتا ہے لیکن منافع آپ کی قسمت بدل دیتا ہے۔لہذا ہمیں یہ سوچے بغیر کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے کام کو ترجیح دیتے ہوئے چھوٹے سے کام سے ہی بھلے ہو اپنا کام کرنا چاہئے،ایک بار ایک صحابی پیارے رسول ﷺ کے پاس آئے اور مدد چاہی۔آپ ﷺ نے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ ہے تو صحابی نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میرے پاس اس کلہاڑی کے اور کچھ بھی نہیں،آپ ﷺ نے وہ کلہاڑی لی اور اپنے دست ِ مبارک سے لکڑی کا دستہ اس میں ڈال کر کہا کہ جاؤ اور جنگل سے لکڑیا ں کاٹ کر لاؤ اور اسے بازار میں فروخت کر کے اپنی گزر بسر کرو۔وہ آدمی چلا گیا اور پھر چند ماہ بعد دربار رسالتﷺ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ اپنا کاروبار...

ترکی کی شام میں مداخلت ۔ پس منظر و پیش منظر

اس قضیے کو سمجھنے کی ابتدا ترکی کے شام پر حالیہ حملے سے کی جائے تو گتھی سلجھنے کے بجائے مزید الجھے گی ۔ اس لیے ہم اس معاملے کو بنیاد سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کردستان  ترکی کا جنوب مشرقی علاقہ  ایران کا شمال مغربی علاقہ  عراق کا شمالی علاقہ اور شام کا  شمال مشرقی علاقہ  یہ کردوں کا مسکن ہے ۔ اسے کردستان کہا جاتا ہے ۔ یہ سارا خطہ تین لاکھ بانوے ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے ۔ کردستان کے اس منقسم خطے میں سے  ترکی کے پاس ایک لاکھ نوے ہزار، ایران کے پاس ایک لاکھ پچیس ہزار، عراق کے پاس 65 ہزار اور شام کے پاس بارہ ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ ہے ۔ کرد قوم اس خطے میں تین سو سال قبل مسیح سے آباد ہیں ۔ساتویں صدی میں یہ مسلمان ہوئے ۔ اس وقت نوے فیصد سے زائد کرد سنی مسلمان ہیں ۔ حالیہ وقتوں میں ان کی کل آبادی ساڑھے  تین کروڑ  کے لگ بھگ ہے ۔ سب سے زیادہ تعداد ترکی میں آباد ہے ۔ یہ تعداد تقریبا ًڈیڑھ سے پونے دو کروڑ کے آس پاس ہے ۔ ایران میں قریب قریب نوے لاکھ ، عراق میں اسی لاکھ اور شام میں تیس لاکھ کے عدد کو چھوتے ہیں ۔ جنگ عظیم اول سے قبل یہ سارا خطہ خلافت عثمانیہ کے زیر نگیں تھا ۔ جنگ خلافت عثمانیہ کی شکست پر منتج ہوئی ۔ شکست کا سب سے نمایاں نتیجہ یہ سامنے آیا کہ چھوٹی چھوٹی قومی سلطنتیں تشکیل پاگئیں ۔ یہ صورتحال مسلمانوں کے حریفوں کے لیے بےحد حوصلہ افزا تھی ۔ یہیں سے مسلمانوں کا حقیقی زوال شروع ہوا ۔ معاہدہ سیورے  ۔10اگست 1920 کو اتحادیوں اور سلطنت عثمانیہ کے مابین ایک معاہدہ طے پایا، جو " معاہدہ سیورے " کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس معاہدے کے رو سے حجاز مقدس ترکی سے الگ ہوا۔ نیز یہ بھی طے پایا کہ کردوں کی الگ ریاست بنے گی ۔ معاہدہ لوزان   مصطفی کمال اتاترک نے اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔ خلافت کی بساط لپیٹی اور ترکی کی آزادی کا اعلان کر دیا ۔ اس دوران ترکی میں یونانی فوج بڑی تیزی سے پیش قدمی کر رہی تھی ۔ کمال اتاترک نے 1921 کو روس سے دوستی کا معاہدہ کرلیا ۔ اس عمل سے تقویت پاکر 1922 کو یونانی افواج کو شکست سے دوچار کیا اور انہیں ترکی سے نکال باہر کیا  ۔ کمال اتاترک کی اس شاندار فتح کی وجہ سے جنگ عظیم کے اتحادی مذاکرات کی میز پہ آنے پر مجبور ہوگئے اور 24 جولائی 1923 کو سوئیٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں " معاہدہ لوزان " عمل میں آیا ۔ اس معاہدے کی رو سے سابقہ معاہدہ " معاہدہ سیورے " کو منسوخ قرار دیا گیا ۔ جس کی رو سے ایک آزاد کرد ریاست نے جنم لینا تھا ۔ معاہدہ لوزان کی اہمیت یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ترکی ،شام اور عراق کی سرحدیں متعین کر دی گئیں ۔ دوسرے لفظوں میں کردوں کے ارمانوں پر نہ صرف پانی پھیر دیا گیا، بلکہ انہیں عملاً ترکی ،شام...

اطاعت و استغفار کے ذریعے آفات سے نجات

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔”جب مال غنیمت کو دولت قراردیاجانے لگے،اورجب زکوٰۃ کوتاوان سمجھا جانے لگے، اور جب علم کو دین کے علاوہ کسی اور غرض سے سکھایا جانے لگے، اورجب مرد بیوی کی اطاعت کرنے لگے اورجب ماں کی نافرمانی کی جانے لگے،اورجب دوستوں کو قریب اورباپ کودور کیاجانے لگے، اورجب مسجد میں شوروغل مچایا جانے لگے اور جب قوم وجماعت کی سرداری،اس قوم وجماعت کے فاسق شخص کرنے لگیں اورجب قوم وجماعت کے زعیم وسربراہ اس قوم وجماعت کے کمینہ اور رذیل شخص ہونے لگیں،اورجب آدمی کی تعظیم اس کے شراورفتنہ کے ڈرسے کی جانے لگے، اورجب لوگوں میں گانے والیوں اور سازو باجوں کادوردورہ ہوجائے، اور جب شرابیں پی جانی لگیں اورجب اس امت کے پچھلے لوگ اگلے لوگوں کو براکہنے لگیں، اور ان پر لعنت بھیجنے لگیں تواس وقت تم ان چیزوں کے جلدی ظاہر ہونے کا انتظار کرو، سرخ یعنی تیزوتنداور شدید ترین طوفانی آندھی کا، زلزلے کا،زمین میں دھنس جانے کا، صورتوں کے مسخ وتبدیل ہوجانے کا،اور پتھروں کے برسنے کا،نیزان چیزوں کے علاوہ قیامت اور تمام نشانیوں اور علامتوں کا انتظارکرو،جو اس طرح پے درپے وقوع پذیر ہوں گی جیسے (موتیوں کی) لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جائے اور اس کے دانے پے درپے گرنے لگیں“۔ مذکورہ بالا حدیث میں کچھ ان برائیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو اگرچہ دنیا میں ہمیشہ موجودرہی ہیں اور کوئی بھی زمانہ ان برائیوں سے خالی نہیں رہاہے،لیکن جب معاشرہ میں یہ برائیاں کثرت سے پھیل جائیں اور غیر معمولی طورپر ان کادوردورہ ہوجائے توسمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت ترین عذاب خواہ وہ کسی شکل وصورت میں ہوا، اس معاشرہ پر نازل ہونے والاہے اوردنیا کے خاتمے کا وقت قریب ترہوگیا ہے۔ مال غنیمت کو دولت قراردئیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اگرسلطنت کے اہل طاقت وثروت اور اونچے عہدے دار مال غنیمت کو شرعی حکم کے مطابق تمام حقداروں کو تقسیم کرنے کی بجائے خود اپنے درمیان تقسیم کرکے بیٹھ جائیں اور محتاج وضرورت مند اور چھوٹے لوگوں کو اس مال سے محروم رکھ کر اس کو صرف اپنے مصرف میں خرچ کرنے لگیں تواس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ اس مال غنیمت کے تمام حقداروں کا مشترکہ حق نہیں سمجھتے بلکہ اپنی ذاتی دولت سمجھتے ہیں۔ امانت کو مال غنیمت شمارکرنے سے مرادیہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس امانتیں محفوظ کرائی جائیں وہ ان امانتوں میں خیانت کرنے لگیں اور امانت کے مال غنیمت کی طرح اپنا ذاتی حق سمجھنے لگیں جو دشمنوں سے حاصل ہوتاہے۔ زکوٰۃکوتاوان سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ کا ادا کرنا لوگوں پر اس طرح شاق اور بھاری گزرنے لگے کہ گویاان سے ان کا مال زبردستی چھینا جارہاہے اورجیسے کوئی شخص تاوان اورجرمانہ کرتے وقت سخت تنگی اوربوجھ محسوس کرتاہے۔ علم کو دین کے علاوہ کسی اورغرض سے سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ علم سکھانے اور علم پھیلانے کا اصل مقصد دین وشریعت کی عمل اور اخلاق وکردار کی اصلاح وتہذیب انسانیت اور سماجی کی فلاح وبہوداور خداورسول...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

پیزا، کتا اور مہمان

خاتون خانہ پریشان تھیں۔ رات کو گھر میں دعوت تھی۔ پیزا بنانا چاہ رہی تھیں۔ سارا سامان لے آئی تھیں لیکن مشرومز لانا بھول گئیں تھیں۔ رہتی بھی شہر سے دور تھیں۔ قریب کی مارکیٹ میں مشرومز دستیاب بھی نہ تھے۔ صاحب کو مسئلہ بیان کیا تو ٹی وی سے نظریں ہٹائے بغیر بولے۔ " میں شہر نہیں جارہا۔ اگر مشرومز نہیں ڈالے تو پیزا بن جائے گا۔ اور اگر ضروری ہیں تو پچھلی طرف جھاڑیوں میں اُگے ہوئے ہیں جنگلی مشرومز۔ توڑ لو"۔ خاتون خانہ نے فرمایا کہ میں نے سنا ہے جنگلی مشرومز زہریلے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو فوڈ پوائزننگ ہو گئی تو؟؟؟" صاحب بولے؛ دعوت میں سارے شادی شدہ آرہے ہیں۔ زہریلی باتیں سننے کے عادی ہیں۔ زہریلے مشرومز بھی ان پہ اثر نہیں کریں گے۔ خاتون گئیں اور جنگلی مشرومز توڑ لائیں۔ مگر چونکہ خاتون تھیں اس لئے دماغ استعمال کیا اور کچھ مشرومز پہلے اپنے کتے موتی کو ڈال دیئے۔ موتی نے مشرومز کھائے اور مزے سے مست کھیلتا رہا۔ چار پانچ گھنٹے بعد خاتون نے پیزا بنانا شروع کیا اور اچھی طرح سے دھو کر مشرومز پیزا اور سلاد میں ڈال دئیے۔ دعوت شاندار رہی۔ مہمانوں کو کھانا بے حد پسند آیا۔ خاتون خانہ کچن میں برتن سمیٹنے کے بعد مہمانوں کے لیے کافی بنا رہی تھیں تو اچانک ان کی بیٹی کچن میں داخل ہوئی اور کہا امی ہمارا موتی مر گیا"۔ خاتون کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی۔ مگر چونکہ خاتون سمجھدار تھیں اس لئے پریشان نہیں ہوئیں۔ جلدی سےاسپتال فون کیا اور ڈاکٹر سے بات کی۔ ڈاکٹر نے کہا چونکہ کھانا ابھی ہی کھایا گیا ہے اس لئے بچت ہوجائے گی۔ تمام لوگ جنہوں نے مشرومز کھائے ہیں ان کو انیمیا دینا پڑے گا اور معدہ صاف کرنا پڑے گا۔ تھوڑی ہی دیر میں میڈیکل اسٹاف پہنچ گیا۔ سب لوگوں کا معدہ صاف کیا گیا۔ رات تین بجے جب میڈیکل اسٹاف رخصت ہوا تو سارے مہمان لیونگ روم میں آڑے ترچھے بیدم پڑے ہوئے تھے۔ اتنے میں خاتون کی بیٹی جس نے مشرومز نہیں کھائے تھے اور اس ساری اذیت سے بچی ہوئی تھی سوجی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ماں کے پاس بیٹھ گئی۔ ماں کے کاندھے پہ سر رکھ کر بولی امی لوگ کتنے ظالم ہوتے ہیں؟ جس ڈرائیور نے اپنی گاڑی کے نیچے موتی کو کچل کر مار ڈالا وہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں رُکا۔ اف کتنا پتھر دل آدمی تھا۔ ہائے میرا موتی"۔ تو میری بہنوں آپ خود کو کتنا بھی ذہین، سمجھدار، معاملہ فہم اور ہوشیار سمجھیں، پوری بات سن لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔

بادشاہ دربار ہی سجائے گا یا عوام کو سہولیات بھی دے گا؟

دورحاضرسے ملتے جلتے وقتوں کی بات ہے کہ کسی ریاست کابادشاہ بہت ظالم تھا۔عوام سے بہت زیادہ ٹیکس وصول کرتا۔بادشاہ کے دوست احباب عوام کے گھر، کھیت کاروبارچھین لیتے۔اشیاء خوردونوش ذخیرہ کرکے مہنگے داموں فروخت کرتے۔جب مظلوم لوگ بادشاہ کے دربارمیں مقدمہ پیش کرتے توانصاف فراہم کرنے کی بجائے مزید ظلم کرتا۔مظلوموں کوتشددکانشانہ بنواتا۔بادشاہ کی موت کاوقت قریب آیاتواسے محسوس ہواکہ اس کے مرنے کے بعدلوگ اسے برے الفاظ میں یادکریں گے، لہٰذااس نے سوچاکہ کچھ ایساکیاجائے کہ مرنے کے بعد لوگ اچھے لفظوں سے پکاریں۔اس نے اپنے بیٹے کوبلاکرکہامیرے مرنے کے بعد تم بادشاہ بنوگے۔میری نصیحت یادرکھنا۔ایسی حکومت کرناکہ کوئی مجھے برانہ کہے۔بیٹابھی باپ کے مرنے کامنتظرتھا، اس نے فوری کہابادشاہ سلامت فکرنہ کریں ایساہی ہوگا۔چندروزبعدبادشاہ فوت ہوگیا۔ تدفین کے بعد بیٹے جوبادشاہ بن چکاتھانے ریاست کے ملازمین کواکٹھاکرکے فرمان جاری کیاکہ آئندہ کسی مقدمہ کافیصلہ اس کی غیرموجودگی میں ہوگانہ کسی کوسزادی جائے گی۔جب کوئی مقدمہ پیش ہوتاتوبادشاہ اپنے باپ کے دورکے وزاء سے پوچھتاکہ اسے کیاسزادی جائے ؟ وہ بتاتے کہ بادشاہ کے والدکے دور حکومت میںایسے مجرموںکے کان پکڑوائے جاتے تھے۔بادشاہ فیصلہ کرتاکہ اس مجرم کودھوپ میں کان پکڑوائے جائیں اور دس اینٹیں بھی اس کے اوپررکھی جائیں۔وزراء کہتے کہ اس قسم کے کیس میں مجرم کواس قدرگھسیٹاجاتاتھاکہ اس کا جسم چھل جاتا۔بادشاہ حکم دیتاکہ اس مجرم کوگھسیٹاجائے اورپھرجسم پرنمک چھڑک دیاجائے اورمزید اسی قسم کی سزائیں دینے لگاچنددن کے اندرہی یہ بات دور دورتک پھیل گئی کہ نیابادشاہ اپنے باپ سے بھی ظالم ہے، اس سے تواس کا باپ ہی بہتر تھا۔ بادشاہ جب ایسی باتیں سنتاتوخوش ہوکرباپ کی قبرپرجاتااورفاتحانہ اندازمیں کہتادیکھااباجان لوگ آپ کواچھے لفظوں میں یاد کررہے ہیں۔ بادشاہ سلامت میرے پاکستانی کہہ رہے ہیں کہ لگان لینے اورجوتے مارنے کیلئے بندے بڑھانے والی بات پرانی ہوگئی آپ یوں کریں کہ عوام کی چیخیں پہلے سے اس قدر زیادہ نکلوائیں کہ گزشتہ حکمرانوں کی کرپشن بھلی لگنے لگے۔مہنگائی اس قدرکردوکہ عوام گزشتہ حکومتوں کی بدعنوانیاں دوبارہ قبول کرنے کی جستجوکریں۔بادشاہ سلامت کے منظورنظردرباری بادشاہ سلامت کوبتاتے ہیں کہ مہنگائی کاکوئی مسئلہ نہیں ملک میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آج بھی دیگرترقی یافتہ ممالک کے مقابلے بہت کم ہیں۔ گندم چینی،چاول،گھی،تیل وغیرہ فلاں فلاں ملک میں دوگناسے بھی زیادہ مہنگے ہیں، لہٰذابادشاہ سلامت کی خیرہوعوام تویونہی چیخوپکارکرتے رہیں گے۔ بادشاہ سلامت بے فکررہیں ابھی تومہنگائی مزید بڑے گی۔بادشاہ سلامت غریبوں کے خیرخواہ ہیں لہٰذاانہوں نے غریبوں کی غریبی مرجانے کے بعدنوٹس لیاکہ مہنگائی کے ستائے عوام کواشیاء خوردونوش سستے داموں ملنی چاہئے اورپھرفرمان جاری ہواکہ یوٹیلٹی اسٹورز پر سستی اشیاء فراہم کرنے کیلئے 15 ارب کا پیکج دیاجائے گا۔ چینی کی درآمد پر پابندی ختم۔2ہزار یوتھ اسٹور قائم ہونگے۔رمضان المبارک سے قبل غریبوں کو راشن کارڈدیاجائے گا۔ شاہی فرمان کے مطابق یوٹیلٹی اسٹورزپرآٹے کا تھیلا 800، چینی 70،گھی 175روپے کلو،چاول،دالوں کی قیمتوں میں 15سے 20روپے تک کمی،50ہزار تندوروں ،ڈھابوں کو رعایتی نرخوں پر اشیا فراہم کی جائینگی۔بادشاہ سلامت کے نوٹس اورریلیف پیکج کے اعلان سے قبل یوٹیلٹی اسٹورز پرچینی کی قیمت فی کلو68روپے تھی، جسے بعد میں 70روپے فی کلوکردیاگیااسی طرح گھی کی قیمت میں بھی 5روپے فی کلوتک اضافہ کردیاگیا۔بادشاہ سلامت کوایک نیک...

خضاب ایک عذاب

خضاب لگانا ذاتی کاموں میں سے ایک مشکل ترین فن ہے۔کہتے ہیں خضاب اور بیوی ایک بار شروع ہو جائے تو پھر تازیست جان نہیں چھوڑتے۔مرد ہمیشہ مونچھیں اپنی ذات اور خضاب دوسروں کی بیوی کے لئے لگاتا ہے۔خضاب لگانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا چونا لگانا،کبھی کبھار تو چونا لگاناآسان دکھائی دیتا ہے خضاب لگانا مشکل۔خضاب لگا کر ننگِ جسم ،عذابِ جان مرد حضرات دھوپ میں ایسے بیٹھے ہوتے ہیں جیسے شیر خوار circumcisionکروا کے بیٹھا ہو، بس فرق صرف اتنا سا ہوتا ہے کہ بچہ رو رہا ہوتاہے۔ خضاب لگانا اس لئے بھی فن ہے کہ اسے لگاتے ہوئے انتہائی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اگر خضاب لگاتے لگاتے تھوڑا سا بھی چہرہ کو لگ جائے تو بندہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا ، ایسی صورت حال میں احباب سے منہ ایسے چھپا رہا ہوتا ہے جیسے واقعی منہ دکھانے کے قابل نہ رہا ہو۔ سفید بالوں پر خضاب لگانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن عہدِ حاضر کی نسل نو خیز کا بالوں کو رنگ لگانا چہ معنی،دلیل ہے نہ کوئی حوالہ ہے بس لڑکیوں کی اقتدا میں مرے جاتے ہیں۔ خواتین و حضرات کو خضاب لگانے کا کوئی اور فائدہ ہو نا ہو ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ بال جوئووں کی نرسری بننے سے قاصر رہتے ہیں، یعنی خضاب سے قبل کنگھی کرنے اور خضاب لگاتے ہوئے خضاب کی بُو سے ہی جوئوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ مرد حضرات کے لئے میرا مشورہ ہے کہ کنگھی کبھی بھی بیوی کے سامنے نہ کیجئے ،اس لئے کہ ایک شادی شدہ شخص کے سر میں جوئیں پڑ گئیں تو اس نے خضاب لگانے سے قبل بیگم سے اس بات کا تذکرہ کردیا ،بیوی نے شوہر کے سر میں کنگھی ’’ماری‘‘ تو درجن بھر کے قریب جوئیں ’’برآمد‘‘ہوئیں، لیکن اصل کھیل اس کے بعد شروع ہوا جب بیگم نے اپنے سر میں کنگھی کی تو ایک بھی جوں ندارد،اب بیگم کنگھی کو بطور ’’خر خرہ‘‘استعمال کرتے ہوئے تفتیش کر رہی ہے کہ میرے سر میں تو جوئیں ہیں نہیں تو تم کس ’’ماں‘‘سے جوئیں ’’درآمد‘‘ کر کے لائے ہو؟ خضاب لگانے کو کچھ نیم بزرگ قسم کے لوگ’’جوانی‘‘لگانا بھی کہتے ہیں،میرا کہنا یہ ہے کہ انسان جوانی میں ایسے کام ہی کیوں کرتا ہے کہ جس سے نیم بزرگی میں سر کالا کرنا پڑے۔ جو لوگ بال سفید نہیں کرتے وہ یا تو غیر شادی شدہ ہیں یا دوسری کی ہوس نہیں۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ کاہل اور آلکس بھی سفید بالوں کو رنگ نہیں لگاتے کہ کہیں کسی کے رنگ میں رنگے ہی نہ جائیں۔ کچھ کا خیال یہ بھی ہے کہ سفید کو کالا کرنے سے کون سا گھر کے ’’سیاہ وسفید‘‘ کا مالک بن جانا ہے سیاہ وسفیدکی مالک تو بیوی ہی نے رہنا ہے تو کیوں اپنی جان کو عذاب میں ڈالا جائے؟ بیوی کم عمر کی ہو تو مرد خود کو insecure سمجھتے ہوئے خضاب لگاتا ہے اور اگربیوی عمر رسیدہ ہو تو بیوی کو secure کرنے کے لئے یہ حرکت کرتا ہے۔بال رنگنا اور بچے پالنا دونوں...

گھبرانانہیں

اچھوماتھے میں گولی لگنے سے جان بحق ہوگیا،تعزیت کیلئے آنے والوں میں سے ایک نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ افسوس ناک لہجے میں اچھوکی میت کوغورسے دیکھتے ہوئے تعزیتی الفاظ میں کہاشکرہے آنکھ توبچ گئی ورنہ گولی آنکھ میں بھی لگ سکتی تھی، ظالموں نے آنکھ کے بالکل قریب کوئی آدھے انچ کے فاصلے پرگولی ماری ہے،تعزیت کرنے والے نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ سچ بولاتھا، لہٰذااہل خانہ شدیدتکلیف کے باوجودنمک پاشی کرنے والے الفاظ کوبرداشت کرنے پرمجبوررہے۔ ٹھیک اسی طرح کل خبرملی کہ پشاورانتظامیہ نے نان بائی اتحادکے مطالبے پرروٹی کی قیمت بڑھائے بغیر ہڑتال ختم کروادی بس اب عوام کوروٹی 170گرام کی بجائے115گرام کی ملے گی، پرانی قیمت 10روپے میںیعنی عوام شکرکریں کہ روٹی کی قیمت میں اضافہ تونہیں ہوا،پہلے جب دوست احباب ایک دوسرے سے حال پوچھتے تواکثر جواب ملتاکہ اللہ کاشکرہے، نظام چل رہا ہے، اب کسی سے حال پوچھنے سے قبل سوچناپڑتاہے کہ سخت الفاظ تومعمول ہیں، کہیں جواب غلیظ گالیوں پرمبنی نہ ہو،دورحاضرمیں حال بتانے کے مناسب ترین الفاظ کاانتخاب کریں توکچھ اس طرح ہوسکتے ہیں آٹا،گھی،دالیں،سبزیاں،پھل،بہت مہنگے ہیں،کاروباربندہیں،کہیں سے وسائل میںاضافہ نہیں ہورہا، والدین کاکیا حال ہے؟ادویات بہت مہنگی ہوگئی ہیں، والدین کی صحت اکثرخراب رہتی ہے،بیوی بچوں کا کیا حال ہے؟بچوں کی تعلیم سارابجٹ کھانے کے بعدمزیداخراجات کی طلب گاررہتی ہے،اسکول،کالج،اکیڈمی کی انتظامیہ ہماری حالت دیکھے بغیرٹیکے لگائے جاتی ہے،تین سال سے بیوی کوشاپنگ نہیں کروائی،باقی شادی شدہ افراد سمجھ سکتے ہیں،اکثرلوگ سوال کرتے ہیں کہ آپ حکومت کی کارکردگی سے خوش ہیں؟ مطمئن ہیں؟آپکی نظرمیں حکومت کی کارکردگی کیسی ہے؟اکثرلوگوں کاایک ہی جواب ہوتاہے کہ حکومت عوام کی ہے نہ عوام کیلئے ہے،حکومت کی کوئی پالیسی عوام کی خیرخواہی کیلئے ہے نہ کوئی اقدام عوام کیلئے ہے۔ حکومت کی کارکردگی کاپیمانہ تب ناپتے جب حکومت ہوتی، عوام کیلئے کبھی کسی حکومت کو سنجیدہ ہونے کی ضرورت پیش نہیں آئی،حکومت سرمایہ داروں کی ہے ،عام عوام توہرحکومت کی بہترین کارکردگی سے شدیدمتاثرہوتے ہوتے مشکلات کی گہری دلدل میں دھنس چکے ہیں، ایک جاننے والے نے بتایاکہ ہمارے محلے کے حاجی صاحب بہت اچھے ہیں، ہمیشہ غریبوں کاخیال رکھتے ہیں،دو چارہزار تک مددکردیتے ہیں،آٹے کے تھیلے،گھی، چینی وغیرہ بھی تقسیم کرتے رہتے ہیں،ان حاجی صاحب کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ ماشاء اللہ ان کی اپنی فیکٹریاں ہیں جہاں وہ بجلی گیس اورٹیکس چوری کرتے ہیں،یہ کیسی اندھیرنگری چوپٹ راج ہے؟ کہ ملک کے صادق وامین حاکم انتہائی کم تنخواہ لیتے اورٹیکس بروقت اداکرکے قومی فریضہ اداکرتے ہیں اورحاجی صاحب بجلی،گیس کے ساتھ ٹیکس بھی چوری کرتے ہیں؟یہ کیسے ممکن ہے کہ اس قدرچورعوام کے حاکم صادق وامین ہوں؟یہ کیسے ممکن ہے کہ صادق وامین کی حکمرانی میں بجلی،گیس اورٹیکس چوری ہوجائیں؟ ایک خبرکے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزراء سے بھی کم تنخواہ لے رہے ہیں، وزیر اعظم کی سیلری سلپ کے مطابق ان کی بنیادی تنخواہ 107280 روپے ہے،مہمانداری الائونس 50 ہزار روپے،ایڈہاک ریلیف الائونس21456 روپے،ایڈ ہاک الائونس12110روپے ،جبکہ ایک اور ایڈہاک ریلیف الائونس 10728 روپے ملتا ہے،4595 روپے ٹیکس کٹوتی کے بعد وزیراعظم ایک لاکھ 96ہزار 979روپے تنخواہ وصول کرتے ہیں،راقم اپنے گزشتہ کالم میں یہ لکھ چکاہے کہ...

مرادشاہ اور خان صاحب کی ملاقات، فائدہ کس کو ہوگا؟

پاکستان کی موجودہ سیاست میں کوئی بات بھی حرف آخر قرار نہیں دی جاسکتی۔ دوست دشمن اور دشمن دوست بنتے دیر نہیں لگا کرتی۔ امریکا برے سے اچھا اور چین اچھے سے برا ہو سکتا ہے۔ دہشت گرد نفیس قرار دیئے جاسکتے ہیں اور لانے والے سازشی۔ این آر او نہیں دیتے دیتے سب کچھ این آر او کے حوالے کیا جاسکتا ہے اور اپنے ہی وزراء کو دودھ کی مکھی کی طرح نکال باہر بھی کیا جاسکتا ہے۔ مختصر یہ کہ سیاست میں سب کچھ ممکن ہے کیونکہ جب بھی کسی کو اقتدار مل جاتا ہے، تو اس کے نزدیک سب کچھ اس کی کرسی بن جایا کرتی ہے اور وہ اس کو بچانے کی خاطر کچھ بھی کر سکتا ہے۔ مشہور ہے کہ حبیب بینک پلازہ پر کوئی شخص چڑھ گیا اور اس نے شور مچایا کہ اگر اس کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا تو وہ اس کی چھت سے کود کر خود کو ہلاک کر لے گا۔ پوری دنیا جمع ہو گئی اور اسے یقین دلایا کہ وہ نیچے اتر آئے، اس کے مطالبے پر غور کیا جائے گا لیکن اس کا اسرار یہی تھا کہ جب تک بات نہیں مانی جائے گی ، وہ نہ صرف یہ کہ نیچے نہیں اترے گا بلکہ تاخیر ہوئی تو وہ اپنے آپ کو لازماً ہلاک کر لےگا۔ مجمع میں ایک عقل مند شخص کو نہ جانے کیا خیال آیا وہ ایک ایسے شخص کو لیکر آگیا جو پورے شہر میں پاگل مشہور تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک معمولی سا بلیڈ تھا۔ اس نے نیچے سے میگا فون پر کہا کہ نیچے اترتا ہے یا میں اس بلیڈ سے بلڈنگ کو کاٹ کر پوری عمارت ہی گرادوں۔ اوپر چڑھا ہوا شخص بڑی بد حواسی میں نیچے اترا تو اسے میڈیا والوں نے پکڑ لیا اور کہا کہ سیکڑوں لوگ تجھ سے نیچے اتر نے کیلئے کہہ رہے تھے اور تو ایک پاگل کی دھمکی پر نیچے اتر گیا۔ کیا ایک معمولی بلیڈ سے اتنی بلند اور مضبوط عمارت کاٹی جا سکتی ہے؟۔ اس نے کہا کہ بھائی پاگل کا کوئی بھروسہ نہیں وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اقتدار انسان کو پاگل بنا کر رکھ دیا کرتا ہے اور پھر جو کچھ بھی اسے سمجھ میں آرہا ہوتا ہے اسے ایسا کرنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ پاگل پن کی وجہ سے اسے بد صورت، خوبصورت، دوست، دشمن اور دہشتگرد، نفیس دکھائی دے سکتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی صورت حال کا سامنا خان صاحب کو در پیش ہے، اس لئے وہ ہر ایسی بات کر گزرتے دکھائی دے رہے ہیں، جس کے متعلق ان کے حامی و مخالف گمان بھی نہیں کر سکتے تھے۔ تازہ ترین خبر کے مطابق "وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے مابین طویل ملاقات کے بعد وفاق اورسندھ حکومت کے مابین اختلافی امور کے حل میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، گورنرہاؤس میں ہونے والی وزیراعظم اوروزیراعلیٰ کی ملاقات میں صوبے میں نیا آئی جی سندھ لگانے سمیت دیگر کئی اہم امور پر اتفاق کرلیا گیا ہے، امکان ہے کہ وفاقی حکومت...

ہمارے بلاگرز