ٹیگ: سپرپاور

اہم بلاگز

نیو انرجی گاڑیوں کی سب سے بڑی مارکیٹ

چین نے حالیہ عرصے میں توانائی کی بچت اور کم کاربن ٹرانسپورٹیشن کو فروغ دینے کی کوششوں میں نمایاں تیزی لائی ہے۔انہی کوششوں کے ثمرات ہیں کہ ملک میں رجسٹرڈ نیو انرجی گاڑیوں کی تعداد اگست کے آخر تک 10.99 ملین تک پہنچ چکی ہے، جو کہ دنیا کی مجموعی تعداد کا تقریباً نصف ہے۔چین نیو انرجی گاڑیوں کی پیداوار اور فروخت کے لحاظ سے مسلسل سات سالوں سے دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے اور اس صنعت نے بھرپور طریقے سے ترقی کی ہے۔ چین ویسے بھی دنیا کی سب سے بڑی آٹو مارکیٹ ہے جس میں سال 2021 کے دوران نیو انرجی گاڑیوں کی فروخت سال بہ سال 160 فیصد بڑھ کر 3.52 ملین یونٹ ہو چکی ہے۔ مانگ میں اضافے کے ساتھ ہی چین کے مقامی نیو انرجی گاڑی سازوں کے لیے بے شمار مواقع سامنے آئے ہیں جبکہ رواں سال مقامی آٹو مارکیٹ میں فروخت ریکارڈ 6 ملین یونٹس تک پہنچنے کی پیش گوئی ہے۔ چین 2025 تک نئی گاڑیوں کی فروخت کے تناسب کو 20 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ ہدف 2020 میں مقرر کیا گیا تھا، اور اس وقت مارکیٹ کے اندرونی ذرائع کا خیال ہے کہ ملک مقررہ وقت سے پہلے ہدف حاصل کر لے گا۔ تاحال چین نے نیو انرجی سے چلنے والی گاڑیوں کی ترقی کے لیے ساٹھ سے زائد پالیسیز متعارف کروائی ہیں اور 150 سے زائد معیارات مرتب کرتے ہوئے اُن پرعمل درآمد کیا ہے۔ نیو انرجی سے چلنے والی گاڑیوں کے فروغ اور حمایت کے لیے چین نے پالیسی سازی کے لحاظ سے دنیا میں اپنی نوعیت کا جامع ترین نظام قائم کیا ہے۔یوں چین میں نیو انرجی سے چلنے والی ماحول دوست گاڑیوں کی صنعت وسیع پیمانے پر اعلیٰ معیاری اور تیز رفتار ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔اس وقت چین میں نیو انرجی سے چلنے والی گاڑیوں کی کلیدی ٹیکنالوجی کا معیار بہتر ہوتا جا رہا ہے اور صنعتی چین بھی مکمل اور مستحکم ہو رہی ہے۔ٹیکنالوجی کی اختراعی صلاحیت نیو انرجی سے چلنے والی گاڑیوں کی صنعت کی تیزرفتار ترقی میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔دوسری جانب یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ ملک کی نیو انرجی گاڑیوں کی برآمدات نے رواں سال کے آغاز سے ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا ہے۔ یہاں اس بات کا ادراک بھی لازم ہے کہ چین کی جانب سے 2030 تک تخفیف کاربن کے حوالے سے ''کاربن پیک'' اور 2060 تک ''کاربن نیوٹرل'' کے اہداف کو حاصل کرنے میں نیو انرجی وہیکل انڈسٹری اپنے کندھوں پر ایک اہم تاریخی مشن اٹھائے ہوئے ہے۔ یہ نہ صرف اقتصادی ترقی کے لیے ایک ستون کی مانند اہم صنعت ہے بلکہ چین کی آٹوموبائل مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی تاریخ کو دوبارہ رقم کرنے اور کم کاربن کے حامل مستقبل کی تعمیر کے لیے بھی ایک بڑی طاقت ہے۔معروف گاڑی ساز ادارے ٹیسلا سمیت تقریباً تمام معروف غیر ملکی برانڈز اور اعلیٰ مینوفیکچررز اس حوالے سے چین میں جوائنٹ وینچرز یا منصوبہ جات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے چین کی...

ہم خطا کار ہیں‎‎

انگریزی مہینے کی 25 تاریخ کیلنڈر میں سرخ روشنائی سے لکھی جاتی ہے۔ اسے جلی حروف میں کیوں نہ لکھا جائے اور یہ تاریخ اپنی قسمت پر کیوں نہ ناز کرے جب اس تاریخ کو صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس فتح کر کے یادگار بنا دیا۔ بیت المقدس مسلمانوں کا پہلا قبلہ ٹھہرا تا کہ وضاحت ہو جائے کہ امامت کا منصب بنی اسرائیل سے ضبط کر کے امت محمدیہ کو دیا جا رہا ہے کیونکہ بنی اسرائیل شہادت حق کے فریضے کی انجام دہی میں ناکام ٹھہرے تھے اور امت محمدیہ نے اپنی کارکردگی کی بناء پر اپنے آپ کو دنیا کی رہنمائی کا اہل ثابت کیا تھا لہٰذا دنیائے عالم کی زمام کار مسلمانوں کو تھما دی گئی۔ یہی وہ پس منظر ہے جس نے یہودیوں کو مسلمانوں کا رقیب بنا دیا۔جبرائیل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت اور پرخاش ان کی رگ رگ میں رچی ہوئی ہے اور ان کا بغض ان کے ہر عمل سے جھلکتا ہے۔ لیکن اللہ کا اصول تھا کہ امامت کے منصب پر وہی فائز رہے گا جو اس کا مستحق اپنے آپ کو ثابت کرے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد صلاح الدین نے اپنے آپ کو اس منصب کا مستحق ثابت کیا اور بیت المقدس کو یہودیوں کے چنگل سے چھڑایا۔ مگر مغضوب ٹھہرائی جانے والی قوم جو اپنی سرکشی اور بغاوت کے سبب کہیں چپہ بھر زمین بھی پانے سے محروم کر دی گئی،نے اللہ سے جنگ شروع کر دی اور فتح بیت المقدس 1187ء کے بعد مختلف حربوں سے بیت المقدس پر گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی مگر خلافت عثمانیہ نے بیت المقدس کے حوالے سے کھڑا موقف رکھا نتیجتاً،خلافت کو پارہ پارہ کر دینے کی عالم سازشیں ہوئیں اور پھر بیت المقدس سے مسلمانوں کو ہاتھ دھونا پڑے۔ امامت اور شہادت کے فریضے میں کوتاہی نے ہمیں بیت المقدّس، قبلہ اول سے محروم کر دیا۔ اور آج تک سیادت اور قیادت کی علامت قبلہ اول پر مسلمان دوبارہ قابض نہ ہو سکے مگر فلسطینی تن تنہا بیت القدس کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ ایٹمی اور جدت سے لیس اسلحے کا مقابلہ ایمانی جذبے، اور پتھروں سے کیا جا رہا ہے۔ یہودی امریکی سہارے پر فلسطین میں اسرائیل بنائے بیٹھے ہیں جبکہ سلامتی کونسل اور اسلامی ممالک قبلہ اول کے بارے میں صرف مذمتی بیان جاری کرنے کی حد تک سنجیدہ ہیں۔ کیا خوب ترجمانی کی ہے کسی شاعر نے۔ ہم نے ٹائر جلائے تماشے کیے اپنی جھوٹی انا کے تماشے کیے عیسائی حضرت عیسی کی وجہ سے فلسطین سے وابستگی ظاہر کرتے ہیں تو یہودی ہیکل سلیمانی کی تاریخی حیثیت ثابت کرتے ہیں مگر مسلمان تمام انبیاء کو مانتے ہیں اور محمدص کی بعثت کے بعد جب اسے قبلہ اول مقرر کر دیا گیا تو باوجود یہودیوں کے بغض کے اسے مسلمانوں کی ولایت میں سمجھا گیا۔ تاہم، اب جب کہ محافظ ٹکریوں میں بٹ گئے اور وراثت پر نظریں رکھنے والے اس پر قابض اور 'ضالین' نے 'مغضوبوں' کا یروثیلم پر قبضہ تسلیم کرلیا تو اس سے فلسطین کی تاریخی حیثیت مسخ نہیں...

عالمی طاقتیں اور پاکستان کو لاحق خطرات

پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی عالمی طاقتوں نے پاکستان کے وجود کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر وہ حربہ استعمال کیا جس کی نظیر نہیں ملتی۔ 1971 میں پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا جس کی سازش بڑی عالمی طاقتوں نے اس کے وجود میں آتے ہی شروع کر دی تھی۔ پاکستان کو دولخت کرنے کے لئے علیحدگی پسند قوتوں کو اندرونی و بیرونی دونوں طرح سے مکمل سپورٹ فراہم کی گئی۔ بھارت اور روس نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی پسند ٹولے کو مکمل فوجی تربیت دے کر اس حد تک مضبوط کیا کہ وہ وقت پڑنے پر پاکستانی فوج سے نمرد آزما ہو سکیں اور اندرونی طور پر مقامی لیڈر شپ نے عوامی رائے عامہ ہموار کرنے میں ہر لحاظ سے بیرونی ایجنڈوں پر یکسوئی سے کام کیا نتیجتاً دنیا کی وہ واحد ریاست جو اسلامی نظریہ کے تحت وجود میں آئی تھی وہ دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد سے پاکستان ایک بار پھر غیر مسلم عالمی طاقتوں کو کھٹکنے لگا اور روس نے افغانستان کے راستے پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے سازش تیار کی لیکن اس کو منہ کی کھانی پڑی کیوں کہ پاکستان کی عوام اور افواج نے مل کر بھرپور قوت کے ساتھ اس کا دفاع کیا نتیجتاً روس کی افواج افغانستان کے پہاڑوں میں ہی دفن ہو گئی۔ بھارت نے مختلف سرحدوں پر پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا اور پاکستان کو تسخیر کرنے کے لئے اپنی پوری قوت استعمال کی اس سلسلے میں امریکہ، اسرائیل اور دوسری غیر مسلم طاقتوں نے اسکی بھرپور پذیرائی کی۔ بھارت نے امریکی حمایت سے اس خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے ١١ اور ١٣ مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کیے جس کے بعد پاکستان نے بھی اپنے وجود کی بقا کے لیے 28 مئی 1998 کو اسی نوعیت کے ایٹمی دھماکےکیے۔ پاکستان کے ایٹمی دھماکے کی گونج نے تمام بڑی عالمی قوتوں کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اور یہ بات پوری دنیا پرعیاں ہوگئی کہ پاکستان اب ناقابل تسخیر ہو گیا ہے۔ اس بات کے افشاں ہوتے ہی صیہونی قوتیں اپنی چال ایک بار پھر نئے انداز میں ترتیب دینے میں منہمک ہوگی۔ غیر ملکی عالمی طاقتوں نے پاکستان کو ایک بار پھر نقصان پہنچانے کیلئے اس کو معاشی، معاشرتی، سماجی اور مذہبی طور پر زوال پذیر کرنے کے لیے اپنے پورے وسائل استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ درج ذیل اشارے ہمیں چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ اگر سلامتی مقدم ہے تو حکومت پاکستان اور اس سے ملحقہ ادارے فوری طور پر توجہ دیں کہیں 1971 کی تاریخ ایک بار پھر وقوع پذیر نہ ہو جائے اور ہم ہاتھ ملتے ہی رہ جایئں۔ (١) پاکستانی روپے کی قدر میں بے انتہا کمی۔ (٢) بے روزگاری کی شرح میں ناقابل یقین حد تک کا اضافہ۔ (٣) ملک میں بڑھتی ہوئی عدم تحفظ کی لہر۔ (۴) ملک میں بڑھتی ہوئی ناانصافی کی فضا۔ (۵) علاقائی اور علیحدگی پسند تنظیموں کی مقبولیت میں اضافہ۔ (٦)جرائم میں ہوشربا اضافہ۔ (٧) کرپشن کے نہ تھمنے...

ہم کب بدلیں گے؟

کہتے ہیں کہ کسی ملک میں ایک بادشاہ کی طرف یہ حکم جاری کیا گیا کہ صبح جب لوگ اپنے گھروں سے نکلیں گے تو ان کے سر پر جوتے مارے جائیں گے۔ رعایا ایسی تابعدار تھی کہ لائن لگا کر کھڑی ہوجاتی اور باری آنے پر جوتے کھاتی اور اپنے کاموں پر نکل جاتی لیکن اس کے ساتھ مسئلہ یہ ہوگیا کہ انہیں مختلف کاموں میں تاخیر ہونے لگی۔ جس کے بعد انہوں نے بادشاہ سلامت سے درخواست کی کہ جناب ! آپ سے گزارش ہے کہ جوتے مارنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ ہم جلدی جلدی جوتے کھاکر اپنا قیمتی وقت بچاسکیں۔ اس وقت پاکستانی قوم کی حالت بھی بالکل ایسی ہی ہے۔ انہیں جوتے کھانے سے مسئلہ نہیں ہے بلکہ ان کی مشکل یہ ہے کہ جوتے جلد از جلد ماردیئے جائیں۔ اگرآپ کو میری بات کا یقین نہیں ہے تو خود مشاہدہ کرلیں۔ یہاں جیسے ہی پٹرول کی قیمتوں میں آضافہ ہوتا ہے لوگ بجائے احتجاج کرنے کے پٹرول پمپس پر لائن لگا کر کھڑے ہوجاتے ہیں کہ جلدی سے پٹرول بھروالیا جائے کہیں پٹرول پمپس بند ہی نہ ہوجائیں۔ حکمران انہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ کےکتنے ہی جھٹکے دے دیں یہ اف نہیں کرتے بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق جنریٹرز، یو پی ایس اور سولر سسٹم کا انتظام کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ علاقے میں ڈکیتی کی وارداتیں بڑھ جائیں تو خود ہی گارڈز کا انتظام کرلیا جاتا ہے اب بھلا پولیس کو کون تکلیف دے۔ یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہم اس قوم کو مظلوم کیوں کہتے ہیں؟ درحقیقت ہم مظلوم نہیں بے حس قوم ہیں۔ ہم ایک ایسے پرندے کی مانند ہیں جس کو پنجرے سے تو نکال دیا گیا ہے لیکن پنجرا اس کے دل سے نہیں نکل رہا ہے۔ ہم نے بحیثیت مجموعی ہر خرابی کو اپنی تقدیر سمجھ لیا ہے اور یہ سوچنے کی کوشش ہی نہیں کررہے ہیں کہ یہ سب قدرت کی طرف سے نہیں بلکہ ہماری غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے ہورہا ہے۔ ہم گزشتہ 74 سال سے طبقہ اشرافیہ کے غلام بنے ہوئے ہیں اور اس غلامی کو اپنا مقدر سمجھتے ہیں۔ ہم تویہ شعر بھی سمجھنے سے قاصر ہیں یا سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ ! خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کب تک اپنا بوجھ خود اٹھاتے رہیں گے۔ ریاست کب ہماری ذمہ داری اٹھائے گی ؟ ہم کسی بادشاہ کی رعایا نہیں بلکہ ایک جمہوری ملک کے باشندےہیں جس کا ایک آئین بھی ہے اور اس آئین میں ایک شہری کے تمام بنیادی حقوق درج ہیں۔ ہمیں کب احساس ہوگا کہ ایک عام شہری اور ملک کا وزیر اعظم مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ ہم کیوں حکمرانوں کے لاٶ لشکر سے ڈرجاتے ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کا ادراک کب ہوگا کہ ان حکمرانوں کی یہ شان و شوکت ہمارے ہی دم ہے۔ یہ ریاست ہمارے لیے ماں کے جیسی کب بنے گی ؟ اور کب ایک عام شہری حکمران وقت کے سامبے...

اللہ تعالیٰ کے قہر کو دعوت نہ دو

ترجمہ: قائم ہو جاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے ۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی،یہی بالکل راست اور درست دین ہے، مگر الثر لوگ جانتے نہیں ہیں ۔(سورۃالروم۔آیت30) ٹرانس جینڈر پاکستان میں قانون کے تحت قوم لوط کے عمل کو عام کرنے کی سازش ہے اکتوبر میں پارلیمانی کمیٹی اس بل کا فیصلہ کرنے جا رہی ہے ہمیں چاہیے کہ جو تھوڑا سا وقت ہمارے پاس رہ گیاہے ہم اس وقت میں اپنی عوام کو اس بل کے بارے میں بتا کر زیادہ سے زیادہ آگاہی دیں تاکہ ایک عام شہری بھی اس بل کے بارے میں اچھی طرح سے جان سکے جب ہم اس بل سے آگاہ ہوں گے تو اپنے اہل و عیال کو بھی بتا سکتے ہیں کہ یہ بل ہماری زندگیوں کو کس طرح برباد کر دے گا ۔یہ فتنہ قوم لوط کا فتنہ ہے اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو عین ممکن ہے کہ ہمارا حال بھی قوم لوط سے کچھ الگ نہ ہو گا۔ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کی پکڑ نہیں کرتا جو گناہ کے مرتکب ہوں بلکہ یہ عذاب ان افراد پر بھی نازل ہوتا ہے جو گناہ ہوتا ہوا دیکھ کر بھی اسے روکنے کی کوشش نہ کریں (چاہے ہاتھ سے، زبان سے یا ہاتھ و زبان دونوں سے)یہی وجہ ہے کہ آج میں نے اپنے قلم کو اس گناہ کبیرہ کو روکنے کے لیے زبان دی ہے اور میں چاہوں گی کہ آپیرا یہ پیغام ہر اس شخص تک پہنچائیں جو اس سے ناواقف ہے۔ اب ہم آتے ہیں اس طرف کہ آخر ٹرانس جینڈر ہے کیا بلا؟۔۔یہ ایک مغربی تہذیبی یلغار ہےاس میں تین طرح کے لوگوں کو ٹرانس جینڈر کا نام دیا گیا ہے۔ 1: خواجہ سرا جن کی جسمانی ساخت یا جسمانی اعضاء نامکمل ہوں یہ اصل میں اس کے حقدار ہیں۔ 2: وہ پورا مرد جو کسی بیماری ، حادثہ یا کیمکل کی وجہ سے جنسی صلاحیت کھو بیٹھا ہویا اس کی جنسی صلاحیت ضائع ہو گئی ہو۔ 3: وہ پورا مرد یا پوری عورت جن کے خیالات ،عادات و اطوار ان کی جنس کے مخالف ہوں ان کی شناخت کا اپنی مرضی کے مطابق اختیار کرنا جس کے لئے وہ کسی بھی ادارے مثلاً نادرا کے دفتر جا کر اپنی مرضی کے مطابق صنفی شناخت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس میں نمبر 2اور 3 اس کے ہرگز حقدار قرار نہیں دیے جا سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے ہم جنس پرستی عام ہو جائے گی یعنی مرد کا مرد سے رشتہ اور عورت کا عورت سے، استغفر اللہ العظیم۔ یہاں ایک بات واضح کرتی چلوں کہ خواجہ سراؤں کے لئیے انٹرسیکس کا لفظ استعمال ہوتا ہے جبکہ ٹرانس جینڈر نام سے ہی اپنے معنی واضح کر رہا ہے کہ اس میں آپ اپنی مرضی سے اپنی جنس تبدیل کروا سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو آپ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ آگے چل کر اس کے کیا نتائج برآمد...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

زمانہ بدل رہا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔

ملکی سیاسی حالات و اقعات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔ملکی معاشی حالات ،خاص کر قیمتوں کی گرانی کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ اتنا جلدی تو گرگٹ رنگ نہیں بدلتا جس قدر عصر حاضر میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔دور حاضر میں جس سرعت کے ساتھ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات میں تغیر وتبدل رونما ہو رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے مجھے تو نہرو کے اس بیان کی صداقت برحق ہونے کا یقین ہوچلا کہ ’’میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان وزیراعظم بدلتا ہے‘‘۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج تک ہم نہ وزیراعظم بدلنے سے باز آئے اور نہ ہی ہندو بنئے دھوتیاں بدلنے۔ہم تو وہ قوم ہیں جو اپنے وزیر اعظم کے غبارے سے ہوا میں ہی ہوا نکال دیتے ہیں(میاں صاحب والا واقعہ)،پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ ہم وفادار نہیں۔ہوا میں معلق ہونے کی بنا پر تاریخ میں دو شخصیات کو شہرت نصیب ہوئی،میاں صاحب اور سومنا ت کا مجسمہ۔ایک کو محمود غزنوی اور دوسرے کو مشرف نے شرف بخشتے ہوئے ہوا سے نیچے اتارا۔یہ الگ بات کہ دونوں نے ہوا سے اتارنے کے لئے انداز ایک سا ہی اپنایا۔ سب بدل رہا ہے،اور یہ تبدیلی اس قدر تیزی سے رونما ہو رہی ہے کہ حضرت انسان بھی اب تو ’’حضرت‘‘ہوتا چلا جا رہا ہے،حضرت یہاں پر اردو والا نہیں بلکہ پنجابی والا ہے۔کیونکہ معاملات میں یا تو پنجابی حضرت ہوتے ہیں یا پھر مولانا حضرتِ فضل الرحمٰن۔مولانا صاحب تو اتنے حضرت ہیں کہ اپنے ’’پیٹ اور ویٹ‘‘ کو بھی اللہ کا فضل ہی سمجھتے ہیں۔ویسے ان کے پیٹ اور ویٹ کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی بھی اتنا ہی خیال رکھتے ہیں جتنا کہ اپنے پیٹ اور ویٹ کا۔اسی لئے دونوں ان کے کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ حضرت انسان تو بدل رہا ہے یقین جانئے کہانیوں کے کردار بھی اب پہلے سے نہیں رہے۔وہ بھی حضرت انسان کی طرح چالاک و چوبند ہوتے جا رہے ہیں۔اب کوے ارو لومڑی کی کہانی کو ہی لے لیجئے جس میں کوے کے منہ میں گوشت کا ٹکڑا دیکھ کر لومڑی کوے کے خوش گلو ہونے پر عرض کرتی ہے کہ اے کوے میاں کوئی گانا تو سنائو۔جس پر کوا کائیں کائیں کرتا ہے ، اس کے منہ سے گوشت کا ٹکڑا گرتا ہے،لومڑی اسے اٹھاتی ہے اور اپنی راہ لیتی ہے۔وہی کہانی اب بدل کر ایسے ہو گئی ہے کہ یونہی لومڑی کوے کی خوش الحانی کی تعریف و توصیف میں عرض کرتی ہے کہ کوے میاں اپنی پیاری سی آواز میں کوئی ملکہ ترنم نورجہاں کا پر ترنم گانا تو سنائو۔اب کہانی کے مطابق کوے کو بھی ’’میاں صاحبان‘‘کی طرح فورا گانا شروع کر دینا چاہئے مگر نہیں اب ایسا نہیں ،میں نے کہا نا کہ زمانہ بدل گیا تو کہانیوں کے کرداروں میں بھی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔اب کوے لومڑی کے منہ سے اپنی تعریف سنتے ہی ،اپنے منہ والا گوشت کا ٹکڑا کھاتا ہے،زبان سے اپنی چونچ صاف کرتے...

ہمارے بلاگرز