ٹیگ: ساس، بہو کا رشتہ

اہم بلاگز

’’رمضان المبارک اور اس کی برکتیں ‘‘

ایمان والوں کو ہر سال ایک سیزن کا انتظار رہتا ہے اور وہ سیزن ہے نیکیوں کے موسم بہار کا، جسے ہم رمضان المبارک کے نام سے جانتے ہیں، اس موسم کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ شرپھیلانے والی بڑی قوت شیطان کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے ، خیر کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، قلب ونظر اور ذہن ودماغ پر اس سیزن کے اثرات خوش کن ہوتے ہیں، خیر کے کاموں کی طرف رجحان بڑھتا ہے اور برائیوں سے فطری طور پر دل میں نفور پیدا ہوجاتا ہے ، مسجدیں نماز یوں سے بھر جاتی ہیں، تلاوت قرآن کریم کی آواز ہر گھر سے آنے لگتی ہے ، خیرات وزکوٰۃدینے والے، ادارے، تنظیمیں اور افراد کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے آگے آتے ہیں، انسان غریبوں، مسکینوں ہی کے لئے نہیں محلہ میں اہل ثروت روزہ داروں کے لیے بھی دستر خوان سجاتا ہے کیوں کہ اسے معلوم ہے کہ افطار کا ثواب روزے کے ثواب کے برابر ہے ، دستر خوان پر جتنی چیزیں رمضان میں جمع ہوجاتی ہیں اس کا چوتھا حصہ بھی عام دنوں میں دسترخوان پر دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ روزے کو حدیث میں ڈھال کہا گیا ہے اور اس ڈھال کے ذریعہ ایمان والا خیر کو اپنا تا اور شر کو چھوڑ تا ہے ، دھوپ کی تمازت ، پیاس کی شدت اور غضب کی بھوک میں بھی اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ عمل رضائے الٰہی کا سبب ہے اور جو ثواب ملے گا اس کا پیمانہ مقرر نہیں ہے ، حدیث قدسی ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میںہی اس کا بدلہ دوں گا ۔جبکہ روزہ کے اجر و ثواب کا فارمولہ الگ ذکر کیا گیا کہ وہ اللہ کے لئے ہے اور اللہ ہی اس کے روزے کے اعتبار سے بدلہ عطا فرمائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ میں ہی اس کا بدلہ ہوں، ظاہر ہے اللہ جس کو مل جائے اسے کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہے گی، اس لیے ایمان والوں کو اس موسم بہار سے اس طرح فائدہ اٹھانا چاہیے کہ دل کی دنیا بدل جائے اور زندگی اس راستے پر چل پڑے جو اللہ اور اس کے رسول کو مطلوب ہے ، اس کے لئے روزہ کے ساتھ تراویح وتہجد اور تلاوت قرآن کا اہتمام بھی کرنا چاہیے اور خود کو منکرات سے بچانا بھی چاہیے، اس حد تک کہ کوئی جھگڑے پر اْترے تو آپ کہہ دیجئے، میرا روزہ ہے ، ایسا روزہ انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جمادی الثانی کے گزرنے اور رجب کا چاند طلوع ہوتے ہی رمضان المبارک کی تیاری شروع فرماتے ۔رجب ہی سے روزانہ کے معمولات میںا ضافہ ہوجاتا ، شعبان آتا تو کثرت سے روزے رکھتے ، اورایسی کثرت ہوتی کہ حضر ت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ گمان ہوتاکہ رمضان المبارک کے روزوں سے ملا دیں گے، اسی پس منظر میں یہ بھی فرمایا کرتے کہ شعبان میرا مہینہ ہے ، یعنی روزے اللہ نے اس مہینہ میں فرض نہیں کئے؛ لیکن مجھے وہ عمل...

اسلام میں یتیموں کے حقوق

اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ،جس میں ہر انسان کے الگ الگ حقوق بیان کئے گئے ہیں۔حتی کہ یتیم جن کا پرسان حال کسی تہذیب میں کوئی نہ تھا، اسلام نے انہیں بھی جا بجا حقوق سے نوازا۔ اللہ تبارک و تعالی نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بارے میں صراحت سے ارشاد فرمایا ہے مثلاً:سورۃ البقرہ میں بنی اسرائیل سے جن آٹھ چیزوں کا پختہ عہد لیا گیا تھا ان میں سے ایک یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کرنا بھی ہے۔ سورۃ النساء کی ابتدائی چند آیات میں یتیموں کے ساتھ معاشرت کے بہترین اصول اور احکام بیان کئے گئے ہیں کہ یتیموں کو ان کا مال دو، ان کے مال کو تبدیل نہ کرو، ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر مت کھاؤ اگر اپنے مال کے ساتھ ملاؤ گے تو یہ بہت بڑا گناہ ہوگا، اگر یتیم لڑکیوں کے حق میں انصاف نہ کرنے کا ڈر ہو تو ان سے نکاح کرلو، یتیموں کو آزماتے رہو جب ان میں صلاحیت پاؤتو ان کا مال ان کے حوالے کر دو، یتیم کے بالغ ہونے سے پہلے ان کے مال کو ضرورت سے زیادہ استعمال مت کرو، مالدار کو چاہیے یتیم کے مال کو استعمال میں لانے سے بچتا رہے، جب یتیم کا مال ان کے حوالے کردو تو اس وقت گواہ بنالو، مال کی تقسیم کے وقت اگر یہ یتیم حاضر ہوجائے تو ان سے اچھے سلوک سے پیش آتے ہوئے انہیں بھی مال دے دو۔ جو لوگ یتیم کا مال ناحق ظلم کرتے ہوئے استعمال کرتے ہیں تو وہ حقیقت میں اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ کے انگارے جمع کر رہے ہیں اور ایسے شخص کو جہنم میں ڈالے جانے کی وعید سنائی گئی۔ سورۃ النساء کی آیت 36 میں اللہ تعالی کی عبادت کے حکم کے ساتھ جن چیزوں کا حکم دیا گیا، ان میں سے ایک یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا بھی ہے۔ سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 34 میں بھی ہے ’’اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ (تصرف نہ کرو )مگر اس طریقے سے جو سب سے بہتر ہو یہاں تک کہ یتیم اپنی جوانی کو پہنچ جائے۔ سورۃالکہف میں حضرت موسی اور حضرت خضر علیہما السلام کے سفر کے دوران حضرت خضر علیہ السلام نے ٹیڑھی دیوار کو سیدھا کرنے کی حکمت بھی یہی بیان کی تھی اس کے نیچے یتیموں کے لیے مال دفن کیا گیا تھا کہ وہ جب جوانی کو پہنچیں گے تو اللہ کی رحمت سے اسے نکالیں گے اور اپنے استعمال میں لے آئیں گے۔ سورۃالفجر میں انسان پر رب تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور روزی کی تنگی کی وجہ بیان کی کہ:’’ وہ لوگ یتیم کی عزت نہیں کرتے اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ترغیب نہیں دیتے‘‘۔ سورۃ الماعون میں اس شخص کی نشانی بتلائی گئی جو قیامت کے دن کو جھٹلاتا ہے :’’یہی ہے وہ تو یتیم کو دھکے دیتا ہے‘‘۔ سورۃالضحی میں یتیم کو ڈانٹنے سے منع کیا گیا ہے۔یہ تو تھیں آیات قرآنی، اب ذرا احادیث مبارکہ پر بھی نظر ڈال لیتے ہیں:...

نیو ورلڈ آ رڈر ‘‘مشرق کاعروج او رمغرب کا نقطہ زوال

صرف ایک سال پہلے کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ دنیا بڑی اور وسیع تبدیلیوں سے گزرے گی۔ کو وڈ 19 اس وسیع پیما نے پر پھیل جائے گا اور اتنے گہرے اثرات مر تب کرے گااور اس وائر س کے با عث ساری صنعتیں راتوں رات بند ہو جائیں گی اور تیل پر انحصار کر نے والی معیشتو ں کو نا قابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم دنیا کی تاریخ میں تیز رفتار تبدیلی کی دور سے گزر رہے ہیں ،تاریخ اس تجر با تی حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ عالمی طاقت کے ڈھانچے میں رد و بدل لازمی طور پر حکمرانی کے نظم کو متاثر کرتا ہے۔بیسو یں صدی کے آغاز پر دنیا ایک نا قابل شناخت جگہ تھی۔یو رپ اور مشرق وسطی بنیادی طور پر آسٹرو ہنگیرین سلطنت ،برطانوی آمپا ئر خلافت عثمانیہ اور اقتدار کے فرانسیسی مرا کز میں منقسم تھے۔روس چین اور جاپان کی اپنی سلطنتیں تھیں۔ ہندوستان جس پر صدیوں سے مغل سلطنت کی حکومت رہی ،تب انگریز وں کے تسلط میں تھا اور حکمران طاقتوں کا امپا ئرا سڑ کچر ہی یہ طے کرتا تھا کہ مقامی طور پر حکومتوں کو کس انداز میں چلا یا جانا چاہئے۔لیکن پہلی جنگ عظیم نے پرانے عالمی نظام کو مکمّل طور پر تبدیل کر دیا۔تمام بڑی سلطنتیں منہدم ہو گئیں۔سلطنت عثمانیہ کا مکمّل خاتمہ ہو گیا۔آسٹر و ہینگر ین سلطنت ٹکڑوںمیں بٹ گئیں اور جرمنی ،آسٹر یا ،جمہوریہ ہنگر ی ،جمہوریہ چیکو سلو ا کیہ،کرو شیا،سر بیا اور رومانیہ جیسے ممالک وجود میں آئے۔امریکہ تب نیا نیا بین الاقوامی منظر عام پر ابھر ا تھا ۔اس کے بعد دوسری جنگ عظیم شرو ع ہوئی جس کا خاتمہ اتحاد ی افواج کی فیصلہ کن فتح پر ہوا۔اس فتح نے ‘‘سلطنت ‘‘کے پرانے ڈھانچے کو ختم کر دیا ،یوں امریکا جیسے جمہوریت کے نئے دور کا آغاز ہوا۔جاپان نے مغربی طرز حکومت اپنا لیا ،حتیٰ کہ برطانوی سلطنت جو دوسری جنگ عظیم کے فا تحین میں شامل تھی لیکن زیادہ دیر تک اپنی سلطنت کی حیثیت برقرار نہ رکھ سکی اور اس نے بھی جمہوریت کا انتخاب کر لیا۔ اہم بات یہ ہے کہ جب سلطنتوں کا خاتمہ ہو گیا اور حکمران طاقتوں نے دنیا کا ایک نیا نقشہ تیار کیا تو اس میں سے سے اسرائیل بھی برآمد ہوا۔مشرق وسطیٰ عملی طور پر ملکہ کی خواہش کے مطابق تقسیم ہو گیا۔بر صغیر کو بہت سی جگہوں پر مقامی لوگوں کی مرضی کے خلاف وائسرائے کی کھینچی گئی سر حد کے تحت تقسیم کیا گیا۔افریقہ کے کچھ حصّوں کو چھوٹی چھوٹی قومی ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔اہم بات یہ ہے کہ مغربی عالمی طاقتوں،جنہوں نے اپنی خواہش کے مطابق زیادہ تر عالمی نقشے کو موڑ لیا۔نئی نئی سرحدوں کے پاسداری کی ضمانت بھی دی گئی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کم و بیش چار دہا ئوں تک مغربی تسلط کو واحد چیلنج سو و یت یو نین کی طرف سے تھا۔مشرقی یو رپ سے کیو با تک پھیلے ان علاقوں میں سو و یت یو نین کے اشتر...

گستاخیوں پر حکومتی ہٹ دھرمی کیوں؟

اللہ تعالی کی ذات بابرکت تمام جہانوں کا خالق و مالک ہے، اسی رب کے دیے ہوئے رزق پر انسان اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں، خُدا نے انسانوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا مگر اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان میں کبھی اسی ذات باری تعالی کی شان گستاخی کی جاتی ہے تو کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نازیبہ کلمات بکے جاتے ہیں۔ اگر اسی پر اکتفا نہ ہو تو آسمان کے ستاروں کی مانند روشن کردار والے صحابہ اکرام کے بارے نام نہاد پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد مغلظات بکتے نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں امر جلیل نامی شخص جو کہ  تقریباً سندھی اور اردو کے معروف چینلز کا مہمان ہوتا ہے ،سندھی اور اردو زبان کا مشہور کہانی نویس، نثرنگار، کالم نگار اور ڈراما نویس ہے۔ مزید پڑھیے : بیوی کے پاؤن تلے زمین نکل گئیں آواز ہرگز شناسا نہ تھی البتہ پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل ٹیکنالوجی کا بانی ڈائریکٹر اور سابقہ وائس چانسلر ہے جو سندھی ٹی وی کے ایک پروگرام میں بڑی جرات کے ساتھ رب العالمین کی شان الوہیت میں گستاخی کرتا ہے۔ جسکا اردو ترجمہ نقل کفر ، کفر نہ باشد کے تحت محض اس لئے یہاں بیان کیا جا رہا ہے تاکہ ہر چھوٹی بڑی حرکت سے باخبر رہنے والے ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور توہین عدالت پر خود سے نوٹس لینے والی عدالتوں کے علم میں آسکے،  اور پیمرا کی حقیقت کا پتا بھی چل سکے جو کسی مذہبی عالم کے دلائل پر مبنی مگر جوشیلی تقریر تک چلانے پر ایکشن لیتا ہے مگر الیکٹرونک میڈیا پر سرے عام رب العالمین کی گستاخیوں، صحابہ اکرام کے بارے مغلظات پر خواب خرگوش کے خراٹے لے رہا ہے۔ امر جلیل سندھی زبان میں  ٹی وی پروگرام میں کہتا ہے کہ "ایک دفعہ میں نے خدا کو یہ کہہ کر لا جواب کردیا کہ تو نے ایک لاکھ چوبیس ہزار سارے مرد نبی بھیجے۔ ایک بھی عورت کیوں نہیں بھیجی ؟ جواب دینے کے بجائے خدا ادھر اُدھر دیکھنے لگا تو میں نے کہا کہ تجھے ماں اور مامتا کے بارے میں کیا پتا ؟ اس پر خدا نے کہا کہ میرے ساتھ رہ رہ کر تو بھی خدا بننا چاہتا ہے؟ میں نے کہا میں تو بڑا خوش نصیب ہوں کہ خدا نہیں،  مجھے تو ماں نے جنا ہے جس کےسبب مجھے عورت کا احساس ہے ، آپ بغیر مامتا کے ہو تو عورت کا احساس کیسا"۔ پھر چار شادیوں پر طنز کرتا ہے اور آئین پاکستان کے ردی و فرسودہ ہونے کی بات کرتا ہے ۔ پھر اس سے بڑھ کر غلیظ الفاظ کہتا ہے کہ ، "دنیا میں جب ہر چیز کا جوڑا ہے تو خدا (چھڑا) غیر شادی شدہ کیوں؟ ایسے کو تو ہم شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں" کہتا ہے ۔ " خدا بار بار کہتا ہے مانگ مانگ،  میں نے کہا خاموش ہوکے بیٹھ اور چیف منسٹر ہونے کی کوشش مت کر،  میں نے تجھ سے کوئی ٹھیکہ نہیں لینا...

شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن

آج کی دنیا میں لوگ "سیل"  کے لفظ سے اچھی طرح واقف ہیں، جہاں دکاندار مال کی قیمتیں کم کردیتے ہیں۔ یہ کون سا موقع ہے کہ جنت کے سارے دروازے کھول دئیے گئے ہیں اور فرشتے آواز لگا رہے ہیں: " اے خیر کے طالب آگے بڑھ اور بُرائی کے طالب رُک جا". (ترمذی، ابنِ ماجہ) یہ کون سے دن ہیں کہ رحمت، مغفرت اور جنت کی سیل لگی ہے، آوازیں دے دے کر بلایا جا رہا ہے کہ آؤ اپنے گناہ معاف کرالو، آؤ کہ شیاطین باندھ دئیے گئے ہیں۔ ارے ہاں! یہ تو رمضان المبارک کے دن ہیں، یہ تو برکت اور رحمت کی راتیں ہیں۔ چلو کہ رمضان المبارک کی ساعتیں قریب آنے لگی ہیں۔ کامیاب وہ ہیں جو ان ساعتوں سے زیادہ سے زیادہ وقت اجر سمیٹنے میں صرف کردیں۔ اچھا آپ کے ذہن میں رمضان کا نام سنتے ہی کیا آتا ہے؟ یہی ناں کہ سحر کے وقت ایک ساتھ سحری کرنا، صبح سے شام تک بھوک پیاس کو ترک کر دینا اور پھر افطاری، پکوڑے، سموسے اور فروٹ چاٹ وغیرہ ہیں ناں؟ سب سے پہلے ذہن میں یہی آتا ہے ناں؟ مجھے بھی کچھ ایسے ہی خیالات آتے ہیں۔  لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن میں رمضان کے حوالے سے  فرمایا ہے: ترجمہ: "رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا جو شخص اس مہینے کو پائے اسکو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔"(سورۃ البقرہ) اس آیت سے تو پتہ چلتا ہے کہ رمضان المبارک قرآن پاک کی سالگرہ کا مہینہ ہے۔ اس مہینے قرآن پاک پڑھا بھی جاتا ہے اور سُنا بھی جاتا ہے۔ لیکن کیا ہم جو پڑھتے ہیں اس پر عمل بھی کرتے ہیں؟ رمضان المبارک کا مہینہ مشقت اور محنت سیکھنے کا مہینہ ہے، صبرو ضبط جیسی اخلاقی صفات پیدا کرنے کا مہینہ ہے۔ اس رمضان کم از کم اس خوابِ غفلت سے خود بھی جاگیں اور دوسروں کو بھی جگائیں، اُمت کو اس کا فریضہ یاد دلائیں۔ روزے کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں  فرمایا: ترجمہ: " اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔"(سورۃ البقرہ) روزہ تربیت کا ذریعہ ہے۔ "آپ جب کسی شخص کے پاس امانت رکھواتے ہیں تو گویا اس کی ایمانداری کی آزمائش کرتے ہیں۔ اگر وہ اس آزمائش میں پورا اُترے اور امانت میں خیانت نہ کرے تو اس کے اندر امانتوں کا بوجھ سنبھالنے کی اور زیادہ طاقت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ زیادہ امین بنتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی مسلسل ایک مہینہ تک روزانہ بارہ بارہ چودہ چودہ گھنٹے تک آپ کے ایمان کو کڑی آزمائش میں ڈالتا ہے اور جب آپ اس آزمائش میں پورا اترتے ہیں تو آپ کے اندر اس بات کی مزید قابلیت پیدا ہونے لگتی ہے کہ اللہ سے ڈر کر دوسرے...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

عہد حاضر کا نوجوان

    نوجوان طبقہ کسی بھی قوم کا ایک قیمتی سرمایہ ہوتا ہے جو خیر و بھلائی کے کاموں، عزت و عظمت کے تحفظ اور تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ملک کی ترقی اور خوش حال معاشرے کا قیام تعلیم یافتہ نوجوانوں سے ہی ممکن ہے۔ اگر یہی نوجوان درست سمت پر نہ چلیں تو معاشرہ اور قوم شر و فساد کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔       نوجوان نسل امت کی امید، معاشرے کا سرمایہ، مستقبل کا سہارا اور قومی کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں، تاریخ کا مطالعہ کریں تو جہاں بھی انقلاب آیا وہاں اس قوم کے نوجوانوں کا اہم کردار رہا . مگر عہد حاضر کا نوجوان اپنے وجود سے اپنی ذمہ داری سے ناآشنا ہے۔    عہد حاضر کا نوجوان تعلیم کی بجائے منشیات کی لعنت کا شکار ہے ، عورتوں کا محافظ نوجوان جنسی تسکین کے لیے ان کی عزتیں دبوچ رہا ہے ، جائیدار کے لیے ماں باپ ، بہن بھائی کو قتل کرنے پر آمادہ ہو جاتا ، مسکراہٹیں بکھیرنے کی بجائے موت کا سامان یعنی منشیات کو فروخت کر رہا ، بیوی کی رضامندی کے لیے ماں باپ سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ، غریبوں و مسکینوں پر رقم خرچ کرنے کی بجائے فحش زدہ پروگرامات اور سیاسی لیڈروں پر خرچ کر رہا ، محکوم  کی آواز بننے کی بجائے ان کی آواز کو دبوچ رہا ، اپنی زبان و ثقافت کو ترجیح دینے کی بجائے مغربی فحش زدہ تہذیب و ثقافت ک فروغ دے رہا ۔    عہد حاضر کا نوجوان اپنے اندر تعصب اور فرقہ پرستی لیے گھوم رہا اس کے خون میں تعصب اور فرقہ پرستی تیزی سے بہہ رہی آہ ! یہ نوجوان نسل جس سے قوم کی امیدیں وابستہ ہیں آج وہ فحش و عریانی کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔ نوجوان طبقہ تعلیم حاصل کر کے بھی اخلاقیات سے محروم ہیں . آخر یہ زوال پذیری کب تک رہے گی ؟      جب ہم اسلامی اقداروں کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی تہذیب و ثقافت کو اپنائیں گے تو نتائج یہی ہوں گے۔  اسلام ایک مکمل اور کامل دین ہے مگر آج ہماری نوجوان نسل اس سے دور ہے وہ تعلیم کو روزگار کے لیے حاصل کر رہی ، کسی غریب کی مدد لوگوں کی نظر میں شان شوکت بنانے کے لیے کر رہا، نماز دھکاوے کے لیے پڑھ رہا ، پڑوسی کو ووٹ کے لیے استعمال کر رہا غرض یہ کہ ہر جانب اپنا مفاد دیکھ رہا ۔    نوجوان نسل سے گزارش کروں گا اپنے وجود کو سمجھیں اس دنیا میں آپ کو بےمقصد نہیں بھیجا گیا ایک خاص مقصد تھا جس سے ہم ناآشنا ہیں .امت مسلمہ کو دوبارہ عروج کی جانب نوجوان نسل ہی لے جا سکتے ہیں یہ سب تب ہی ہو گا جب ہم اپنے مفاد کو ترک کریں کسی دوسرے کے حققوق کو غضب نہ کریں سوشل میڈیا کا استعمال مثبت کریں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔  ورنہ یہ زوال ہمیں ختم کر دے گا۔  اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔

آئیں رشتوں کو محفوظ کریں

رشتوں کی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں اہمیت دینا چھوڑ دیا ہے۔ اس میں صرف عورت ہی قصوروار نہیں ہے بلکہ مرد بھی برابر کا شریک ہے۔  کیونکہ جب اللہ نے مرد کوکفیل بنایا ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ  کفالت کے ساتھ ساتھ اپنے ان حقوق وفرائض کا بھی خیال رکھے جو اس پر اسی اللہ نے عائد کئے ہیں  جس نے اسے عورت کا محافظ بنایا ہے۔ ہر مرد کو یہ بات تو اچھی طرح یاد رہتی ہے کہ وہ عورت کا قوام ہے لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ اسے یہ برتری کس وجہ سے دی گئی ہے۔ اگر فیملی میں کسی سے کوئی اختلاف ہوجاتا ہے تو زیادہ تر باپ ،شوہر ، بھائی یا بیٹا گھر کی عورتوں پر پابندی  عائد کردیتا ہے کہ وہ بھی اس سے کوئی تعلق نہ رکھے ۔ جس کی وجہ سے وہ رشتہ اور کمزور ہوجاتا ہے اور غلط فہمیاں بڑھ جاتی ہیں۔   اسی طرح اگر عورت کو کسی پر غصہ آجائے تو یہ چاہتی ہے کہ اس کا شوہر بھی اس سے نہ ملے  چاہے وہ اس کی ماں ہی کیوں نہ ہو  اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو میاں بیوی کے آپس کے تعلقات میں تلخیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ یہی وہ بنیادی خرابی ہے جو  نہ صرف ایک خاندان کا توازن بگاڑنے کا سبب بنا بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بدنظمی پھیلانے اور برائیوں کو پھلنے پھولنے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے ۔ کیونکہ ہم برائی کرنے والے کو تو نشانہ بنالیتے ہیں مگر برائی کرنے کی وجہ جاننے یا اسے ختم کرنے کی نہ تو کوشش کرتے ہیں اور نہ اس کار خیر کو کرنے والے کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہی وہ سچ ہے جس کو قبول کرنے سے ہم ڈرتے ہیں اوراس   حقیقت سے آنکھیں چرانا ایسا ہی ہے جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر یہ سوچ کر اپنی آنکھیں بند کرلےکہ وہ بلی سے بچ جائے گا یا شطر مرغ کسی خطرے کو دیکھ کر ریت میں منہ چھپاکر یہ سمجھ لے کہ خطرہ ٹل جائے گا اور وہ بچ جائے گا تو یہ عقلمندی یا ہوشیاری نہیں ہے بلکہ بیوقوفی اور حماقت ہے۔ ہمارے معاشرے کے افراد بھی ایسے ہی طرز عمل کو اختیار کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں پھیلتی ہوئی برائیوں کے نہ تو ہم ذمہ دار ہیں اور نہ ان کو ختم کرنا ہمارے اختیار میں ہے ۔ اگر دنیا کا نظام اسی تصور کے ساتھ چلتا تو آج نہ تو اسلام کی روشنی ہم تک پہنچتی اور نہ اللہ کی وحدانیت کا تصور ہمیں ایک اللہ کی عبادت کرنے والا بناتا۔رشتوں کو جوڑنا مرد اور عورت  دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔  رشتوں  اور محبتوں کو قائم رکھنے کےلئے ضروری ہےکہ چند باتوں لپیٹ کاخیال رکھیں۔ جب کوئی ایک شخص غصہ میں ہو تو دوسرے کو تحمل کے ساتھ معاملے کو سنبھالنا چائیے تاکہ رشتوں میں کوئی تلخی پیدا نہ ہو۔ کیونکہ بعض اوقات بہت چھوٹی سی غلط فہمی بہت بڑے فساد  کا سبب بن جاتی...

عنوان: 2021 نفاذ اردو کا سال

پاکستان کو اللہ نے جہاں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے وہیں ایک نعمت قومی زبان اردو بھی ہے. اردو میں فارسی عربی ترکی کے الفاظ موجود ہیں اور اسے لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ یہ دنیا پھر میں بولی جاتی ہے اور  1999ء  کی مردم شماری کے مطابق دس کروڑ ساٹھ لاکھ افراد اردو بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کہ نویں بڑی زبان ہونے کا درجہ رکھتی ہے۔  اردو زبان میں فارسی کا کافی رنگ نظر آتا ہے جس کہ وجہ یہ ہے کہ محمود غزنوی کے دور سے لے کر مغل بادشاہوں کے دور تک اسے دفتری زبان کا درجہ حاصل رہا. برصغیر پر برطانوی تسلط کے بعد انگریزی کو دفتری زبان بنا دیا گیا۔ 1947 میں آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہم ابھی تک غلامی کا طوق گلے میں ڈالے انگریزی کو ہی پوجتے آ رہے ہیں جو کہ غلام زدہ قوم کی نشانی ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں اپنی زبان بولی جاتی ہے اور اسی زبان کو تعلیم و تعلم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے مگر مملکت خداداد پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور ہم سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں قومی زبان کی بجائے فرنگی زبان کو تریح دیتے ہوئے اسے تعلیم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ بیوی کے پاؤں تلے زمین نکل گئی. . ..  مزید پڑھیے : رانگ نمبر  اسی قومی زبان اردو کے بارے پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ " پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان اردو ہے اور یہ آئین کے نفاذ کے پندرہ سال کے اندر ملک میں رائج ہو جانی چاہئیے". پاکستان کا آئین 1973 میں رائج ہوگیا لہذا اصولً 1988 تک اردو کو مکمل طور پر پاکستان میں ہر شعبہ میں رائج ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر اتنے لمبے عرصے میں ہمارے حکمران اردو کو مکمل طور پر رائج کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں. ایک بڑی وجہ پاکستان میں ایک خاص طبقے کی حکمرانی ہے جو اپنی اولادوں کو بیرون ملک تعلیم کے لئے روانہ کرتے ہیں اور وطن واپسی پر پاکستانی عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کا کام ان کے سپرد کر دیا جاتا ہے. یوں یہ انگریزی زبان میں بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والے بابو جن کو اردو ٹھیک طرح سے بولنا نہیں آتی اور الفاظ کا حلیہ بگاڑ کر بولتے ہیں وہ ان افراد پر حکمرانی کرتے ہیں جو ان سے ہزار گنا زیادہ قابلیت رکھتے ہیں۔  ہمارے ہاں انگریزی کو اعلی معیارِ زندگی کے نشان کے طور سمجھا جاتا یے. حالانکہ تمام ترقی یافتہ اقوام بشمول چائنہ کوریا وغیرہ نے اپنی زبان میں ترقی کی ہے.ہم کم انگریزی جاننے اور بولنے والے افراد کو جاہل قرار دیتے ہیں. لاہور ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ قاصد علی رحمن جو کہ صرف پانچ جماعتیں پڑھے ہیں اور ایک کتاب کہ مصنف ہیں وہ خود کو ان پڑھ کہتے ہیں. جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں انگریزی نہیں جانتا اسی لئے دوسروں کی نظر میں ان...

محکمہ پولیس میں اخلاقی فقدان

گردش ایام ،تلخی وقت،بے روزگاری ،بے لگام مہنگائی اور ناقص غذائوں نے چھوٹی عمراں وچ کی کی روگ لادتے نے آپ زیادہ نہیں آج سے دس پندرہ سال پیچھے چلے جائیں تو یقین کریں بلڈ پریشر ،شوگر، ہارٹ اٹیک جیسی مہلک اور موذی امراض اس قدر نہ تھیں جس برق رفتاری سے یہ امراض آج بڑھ رہی ہیں پہلے یہ امراض زیادہ تر بڑھتی عمر کے لوگوں میں پائی جاتی تھیں مگر اب نوجوان ان کا زیادہ شکار ہورہے ہیں۔ نبی رحمت سرکار دوعالم ؐکی حدیث کے مطابق قرب قیامت وبائوں کا پھوٹنا اور اچانک اموات کا ہونا لازم ہے ۔ویسے تو الحمدللہ ،اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ اس نے ہر بیماری سے محفوظ رکھا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طر ح کی روحانی جسمانی بیماریوں ،عذابوں،وبائوں، آفتوں اور آزمائشوں سے ہمیشہ ہمیشہ محفوظ رکھے آمین ۔ چند عرصہ سے امراض معدہ اور ذہنی تنائو کا شکار ہوچکا ہوں۔ایک بات کو مسلسل سوچتے رہنا اور پھر خود سے خوفزدہ رہنا عجیب سی الجھنیں ہیں کہ سلجھنے کا نام ہی نہیں لیتی اور انکی وجہ اللہ تعالیٰ سے دوری ہے کیونکہ ایک مسلمان جس کے پاس قرآن کریم کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا پیغام ہدایت اور کامیاب زندگی کے لیے نبی رحمت ؐ کے فرامین موجود ہوں وہ مسلمان کبھی بھی ان الجھنوں کا شکار نہیں ہوسکتا جب تک کہ ان سے روگردانی نہ کرلے ،منہ نہ موڑ لے۔اور یقینا ایسا ہی ہے کہ فکر معاش نے فکر الٰہی سے غافل کردیا ہے۔ چندروز قبل ہفتہ کے دن شام سات بجے کے قریب لوہاری سے BP Operatorلینے کے لیے گیا تو واپسی پر فرمان بیگم پر عملدرآمد کرتے ہوئے شاہ عالمی سے پلاسٹک کے ڈبے لینے کے لیے داخل ہی ہوا تھا کہ سامنے پولیس کی گاڑی کھڑی تھی ایک ملازم نے ہاتھ کے اشارے سے رکنے کا کہا فوراً سے پہلے بائیک روکی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ایک ملازم نے آئی ڈی کارڈ مانگا فوراً پیش کیا موبائل نمبر پوچھا فوراً بتایا ایک Profarmaپر سب کچھ لکھ لیا۔ادھر کیا لینے آئے ہو؟ عرض کی کہ پلاسٹک کے ڈبے۔تمہیں نہیں پتا کہ ہفتہ اتوار چھٹی ہوتی ہے عرض کہ اکثر شام کے وقت چند لوگ زمین پر سستی چیزوں کی سیل لگاکربیٹھے ہوتے ہیں یہی سوچ کر ادھر کارخ کرلیا ۔اتنے میں ڈرائیونگ سیٹ کی دوسری جانے بیٹھے صاحب بولے توں کی کردا اے؟عرض کی کہ قلم کا مزدور ہوں ۔سیدھی طرح دس عرض کی کالم نگار (صحافی )یہ بات سننی تھی کہ اعلیٰ حضرت ایک موٹی گالی کے ساتھ بولے یہ صحافی تو ہوتے ہی (یہاں وہ گالی لکھنا مناسب نہیں کیونکہ میری زبان اور قلم مجھے زیب نہیں دیتا)ایسے ہیں ۔انتہائی ادب سے عرض کی کہ جناب کہ میرے پیشے کوگالی نہ دیں قلم کی حرمت پامال مت کریں کیونکہ صحافت پیغمبری پیشہ ہے ۔آپ نے جو مانگا حضور کو پیش کردیا پھر گالی دینا اچھی بات نہیں بس یہ بات سننی تھی کہ جناب کسی فلمی ہیرو کی طرح ایک دم گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلے اور کہا دساں تینوں ایتھے...

پکوڑوں کا مہینہ

رمضان کی آمد آمد ہے۔ہر طرف زور و شور سے رمضان کی تیاریاں جاری و ساری ہیں۔ ایسے میں دو طرح کے مزاج ہیں ایک تو وہ جو رمضان کو حقیقتا روزے اور عبادات  کے لئے خالص کر رہے ہیں۔ اور دوسرا اکثریتی گروپ جو افطاری کے تصورات سے ابھی سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ جن کا موٹو ہے *ہمیں افطاری سے پیار ہے*۔ رمضان کے سحری و افطار کے کیا ہی کہنے۔ اسی سلسلے میں  خواتین رمضان سے پہلے ہی بہت سی چیزیں بنا کر فریز کر رہی ہیں جن میں کئی قسم  رول، سموسے، بڑے ، شامی کباب،  پراٹھے، پائے وغیرہ شامل ہیں تاکہ رمضان میں وقت اور محنت بچائی جا سکے اور دھیان روزے پر ہی رہے۔  رمضان میں ایک جوڑا ایسا ہے جس کے بغیر افطاری سونی سونی لگتی ہے۔ جی ہاں لال شربت اور پکوڑے۔ ان کے بغیر افطار کا تصور کم از کم ہمارے ہاں مفقود ہے۔ لال شربت میں اختلاف ہے کچھ افراد روح افزاء کے حق میں ہیں اور کچھ جام شیریں کے حق میں دلائل دیتے ہیں۔  مگر ایک چیز جس پر تمام قوم کا اجماع ہے وہ ہیں پکوڑے ان کو رمضان کا برانڈایمبسیڈر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ پکوڑے کا وجہ تسمیہ کے بارے  میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں ۔ کچھ افراد کہتے کہ کسی مکرانی شخص نے گھی میں بیسن کی ٹکیاں ڈالیں ۔ بھوک کی شدت تھی اور پکنے میں دیر ہو رہی تھی تو اس نے جھنجلا کر کہا پکو رےے۔ جو کثرت استعمال سے پکوڑے ہو گیا مگر اندر کی بات ہے کہ اس شخص کے گھر آٹا ختم ہو گیا تھا، بیوی بہت سخت مزاج تھی اس نے محلے کی "خبرگیری" کے لئے جانے سے پہلے ، واپسی پر کھانا تیار ہونے کا حکم دیا تھا۔ بازار جانے کا وقت نہ تھا چنے کی دال نظر آئی وہی پیس کر آٹا بنایا۔ بیوی کے آنے کا وقت ہو چلا تھا گھبراہٹ میں اس نے گوندھنے کی کوشش کی تو پانی زیادہ ڈال دیا  اب وہ لئی بن چکی تھی۔ اس نے جلدی سے اس میں نمک اور دستیاب مصالحے ڈال دیئے اور گھی میں پکنے کو ڈالا ۔ باہر بیوی کی پڑوسن سے لڑنے اور بچوں کو پیٹنے کی آواز آنے لگی۔ تو اس نے کڑاہی میں پڑے مرکب کو دیکھا  اسی دوران بیوی گھر میں داخل ہوئی اور کڑک کر بولی کیا پکایا ہے میاں گھبرا کر بولا پکو ڑےےےے۔ بس اسی سے اسے پکوڑے کا نام ملا۔ آگے کی کہانی میں بیوی کو پکوڑے  بہت پسند آئے اور وہ بہت خوش بھی ہوئی۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ یہ آدمی کوئی بلوچ تھا۔مگر ہمیں یہ شبہ ہے کہ ان صاحب کا تعلق لاہور سے تھا کہ کیونکہ وہاں"ڑ" کا بکثرت استعمال پایا جاتاہے۔ کچھ مورخین  کا کہنا ہے کہ ”پکوڑا“ سنسکرت زبان کے لفظ ”پکواتا“ سے ماخوذ ہے، پکواتا معنی ”پکا ہوا“ اور واتا کا معنی ”سوجن“۔ ’پکوڑا‘ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔  ادبی حیثیت  سے  اس  1780 ء کو "کلیاتِ سودا ”میں پہلی بار استعمال ہوتے ہوئے سنا گیا۔ کسی محاورے یا...

ہمارے بلاگرز