ٹیگ: رہنما

اہم بلاگز

رجوع الی اللہ

من حیثیت القوم آج ہم جس نازک دورسے گزر رہے ہیں یہ سب ہمارے اپنے اعمال ہی کی سزا ہیے ہم نے پچھہتر سالوں تک جو کچھ بویا اسی کا پھل مہنگائی، بدامنی، چوری، ڈکیتی، بد عنوانی اور سیاسی، معاشی ومعاشرتی بدحالی کی صورت میں کاٹ رہے ہیں۔ آج بڑوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے بچوں کی بھی نہ جانیں محفوظ ہیں نہ عزتیں سمجھ نہیں آرہا ہم کس معاشرے میں جی رہے ہیں۔ کیا یہ اسلامی معاشرہ ہے؟ نہیں اسلامی تو دور کی بات یہ تو انسانی معاشرہ کہلانے کے لائق بھی نہیں ہے جہاں اخلاقی انحطاط نقطہ عروج کو چھو رہا ہے کاش کہ ہم یہ ادراک کر سکتے کہ کس طرح ہم اغیار کی سازش کا شکار ہوئے ہیں۔ عوام بالخصوص نوجوانوں کو جو کہ کسی بھی ملک کا قیمتی ترین سرمایہ ہوتے ہیں انہیں ان کے مقصد حیات سے بھٹکا دیا گیا ہے ہماری نوجوان نسل بلا شبہ پٹری سے اتر چکی ہے موسیقی سے دیوانگی کی حد تک لگاؤ، تعلیمی اداروں میں منشیات کا کھلے عام استعمال، نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا آزادانہ میل جول اور کنسرٹ کے نام پر بے حیائی اور عریانیت جس طوفان کو دعوت دے رہے ہیں اس کے نمونے ہمیں تعلیمی اداروں، ریسٹورنٹس اور تفریحی مقامات پر آئے روز دیکھنے کو ملتے ہیں خصوصا یونیورسٹیوں کے حالات سے کون واقف نہیں ہے کہ وہاں اخلاقی اقدار کی کس طرح دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں۔ درسگاہیں تو طالب علموں کے اخلاق و کردار کی تربیت کرتی ہیں مگر افسوس کے آج وہاں ایک سوچی سمجھیں اسکیم کے تحت ہمارے نوجوانوں کو آزاد خیالی اور روشن خیالی کے نام پر لادینیت اور بے راہ روی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ جب حکومت کی سرپرستی میں آزادانہ مخلوط محفلوں کا انعقاد ہو جس میں ٹرانس جینڈر کو پروموٹ کیا جا رہا ہو، ادبی میلے کے نام پر پر رقص و سرور کی محفلیں سجائی جا رہی ہوں، ڈرامے جو کہ تہذیب و ثقافت کا آئینہ ہوتے ہیں ان میں میں اخلاقی اور شرعی حدود کو پامال ہوتا ہوا دکھایا جائے، طلاق اور خلع کی ترغیب دی جائے اور نکاح کو جو کہ اللہ کا حکم ہے مذاق بنا دیا جائے تو ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ آئندہ آنے والی نسلیں کس نہج پر چل نکلیں گی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ حکومت خود قومِ لوط کے عمل کو عام کرنے کے لئے ماحول سازگار بنا رہی ہے آج ہمارے ملک میں حکومت کی سرپرستی میں وہ سارے کام ہو رہے ہیں جو اللہ کے غیض وغضب کو دعوت دینے کا سبب بنیں۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا "اس امت میں بھی زمین میں دھنسنے، صورتیں مسخ ہونے اور پتھروں کی بارش کے واقعات ہونگے، اس پر ایک مسلمان مرد نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ یہ کب ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب گانے والی عورتوں اور باجوں کا عام رواج ہوگا اور کثرت سے شرابیں پی جائیں گی۔ (ترمزی شریف) ہماری تمام تر نافرمانیوں کےباوجود ہمارا رب اگر ہم...

دنیا کی سب سے بڑی امتحانی سرگرمی

چین میں رواں ماہ سات سے آٹھ جون تک قومی کالج داخلہ امتحان ''گاؤ کاؤ'' کا انعقاد کیا جا رہا ہے جسے طلباء کی زندگی میں اہم ترین امتحان کا درجہ حاصل ہے۔رواں برس ملک بھر میں 12.91 ملین امیدوار امتحان میں حصہ لے رہے ہیں جو عددی اعتبار سے ایک نیا ریکارڈ ہے، یہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں 09 لاکھ 80 ہزار زیادہ ہے۔یہ امتحان چینی طالب علموں کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ امتحان میں حاصل کردہ اسکور بڑے پیمانے پر اس بات کا تعین کریں گے کہ وہ کس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ مستقبل میں اپنے کیریئر کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ چین کی وزارت تعلیم کی جانب سے امتحان کے خوش گوار اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے گئے ہیں۔اس ضمن میں نقل اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور کریک ڈاؤن کے لئے وزارت تعلیم عوامی سلامتی اور صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، اور جو بھی لوگ نقل جیسی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تو ان سے سنجیدگی سے نمٹا جائے گا۔اسی طرح کووڈ 19 وبائی صورتحال کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے اہدافی اور سائنسی اقدامات کیے گئے ہیں اور اضافی ٹیسٹ سینٹرز اور مانیٹرز کا انتظام کیا گیا ہے۔ چین کے سرکاری نظام تعلیم سے متعلق بات کی جائے تو بچوں کے لیے نو سالہ لازمی تعلیم، پہلا مرحلہ ہے۔ہر بچے کو پرائمری اسکول میں چھ سال اور مڈل اسکول میں تین سال تک تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہے، مطلب ہر چینی بچے کے لیے نو سالہ تعلیم کا حصول لازم ہے اور یہ نو سالہ لازمی تعلیم مفت بھی ہے۔ مڈل سکول سے فراغت کے بعد بھی ایک امتحان ہوتا ہے۔اس امتحان میں طلباء کے حاصل کردہ نمبر اور پھر طلباء کی دلچسپی کی روشنی میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ یہ طالب علم ہائی سکول جائے گا یا پیشہ ورانہ یا تکنیکی اسکول جائیگا۔ اگر ایک طالب علم ہائی اسکول میں داخلہ لیتا ہے تو اسے یہاں مزید تین سال تک تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہے۔جس طرح پاکستان میں دسویں جماعت کے بعد طلباء دو سال تک کالج جاتے ہیں اور پھر یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ چینی طلباء ہائی اسکول میں تین سالہ تعلیم کے بعد اس گاؤ کاؤ امتحان میں شریک ہو سکتے ہیں تاکہ انہیں کسی کالج یا یونیورسٹی میں مزید تعلیم کے لیے داخلہ مل سکے۔ اگر طالب علم فنی یا پیشہ ورانہ اسکول میں داخلہ لیتا ہے تو پھر یہاں سے فراغت کے بعد ملازمت کریں گے۔ گاؤ کاؤ امتحان کی سب سے بڑی اہمیت یہی ہے کہ اس امتحان سے گزرنے کے بعد طلباء یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور مستقبل میں اچھی ملازمت تلاش کر سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اسے چین کی اہم ترین تعلیمی سرگرمیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ امتحان طلباء کے تعلیمی کیرئر میں اہم ترین امتحانوں میں سے ایک ہے اور...

بیس سال بعد

میں نے اپنے بچپن میں ایک ڈراؤنی مووی دیکھی تھی جس کا نام تھا " بیس سال بعد"۔ کل سے ایک خبر دل کو چیر رہی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی اپنی بہن فوزیہ صدیقی سے بیس سال بعد جیل میں ملاقات ہوئی ہے۔ فلم تو فلم ہوتی ہے اس میں ہر چیز کی شوٹنگ کی جاتی ہے مگر پھر بھی ہم اس کے کسی جذباتی سین میں اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ پاتے ذرا سوچئے ! کہ کل اس بہن کی کیا کیفیت ہوئی ہوگی جو بیس سال سے کسی اپنے کی شکل دیکھنے کی منتظر تھی اور ملاقات کے وقت نہ اسے بہن کے گلے لگنے کی اجازت ملی اور نہ ہی اپنے اہل خانہ کی تصاویر دیکھنے کی رعایت۔ ایک موٹے شیشے کی دیوار کے پار ان دونوں بہنوں کی کی کیفیت کیا ہوگی یہ ہم مشتاق صاحب کی اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں جو ملاقات کے بعد انہوں نے بتائی وہ کہتے ہیں میں کل سے ٹراما میں ہوں اس کیفیت سے باہر آؤں تو قوم کو جگاؤں گا۔ کاش ! کہ یہ قوم جاگ رہی ہوتی تو آج عافیہ صدیقی جیل کی صعوبتیں کاٹ ہی کیوں رہی ہوتی، اس قوم کے ضمیرکو تو پتا نہیں کون سا نشہ دے کر سلا دیاگیا ہےجو جاگنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ ارض پاک کے دو ٹکڑے ہوئے ہم سوتے رہے، ملک کے دو وزائے اعظم کو جلسہ گاہ میں قتل کر دیا گیا ہم سوتے رہے، سانحہ کارساز ہوا ہم سوتے رہے، بلدیہ کی فیکٹری میں زندہ ورکر جل کر خاک ہوئے ہم سوتے رہے، عمران خان کی ریلی کی کوریج کرتے ہوئے لیڈی رپورٹر فرائض کی انجام دہی کے دوران مبینہ حادثے میں اپنی جان گنوا بیٹھی ہم سوتے رہے۔ 12 مئی کو شہر کراچی میں قتل عام ہوا ہم سوتے رہے اور ابھی موجودہ مئی کے مہینے میں ہی ملک میں جو جو ہنگامہ خیزیاں مچیں اس سے کون واقف نہیں مگر ہم اب بھی سو ہی رہے ہیں۔ آخر یہ کون سی خواب غفلت کی کیفیت ہے جس سے ہم جاگنے کی کوشش تک نہیں کرتے ؟ ڈاکٹر عافیہ نے ملاقات کے پہلے گھنٹے میں اپنے اوپر کی جانے والی بہیمانہ تشدد کی داستان سنائی کیا گز رہی ہوگی قوم کی اس بیٹی پر سوئی ہوئی قوم کیسے سمجھے گی؟ اللہ سے دعا ہے کہ اس قوم کی بیٹی کی آزمائش ختم ہوجائے اور وہ اپنی زندگی میں اپنے وطن واپس آکر اپنے بچوں اور اپنے اہل خانہ سے مل سکے۔ خدارا اس وقت میں ایک آواز ہو کر اپنی اس بہن کی رہائی کے لئے آواز اٹھائیں یہ آزمائش ڈاکٹر عافیہ کی نہیں ہم سب کی ہے اور ہمیں اس آزمائش میں پورا اتر کر اپنے اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہونا ہے۔

پانی کا تحفظ

محدود آبی وسائل کے ساتھ، پانی کا تحفظ چین کے ایجنڈے میں ہمیشہ سرفہرست رہا ہے اور اس حوالے سے کئی محاذوں پر کوششیں کی گئی ہیں، جن میں زراعت، صنعت، شہری علاقوں اور دیگر اہم شعبوں میں پانی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سائنسی تکنیکی اختراعات شامل ہیں۔ چین کی جانب سے پانی کے مزید معقول استعمال اور اس قیمتی نعمت کے زیاں کو روکنے کے ساتھ ساتھ، گزشتہ دہائی میں ماحولیاتی تحفظ کے ذریعے پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھی نمایاں کوششیں کی گئی ہیں۔ ملک نے عالمی سطح پر میٹھے پانی کے مجموعی وسائل کے صرف 6 فیصد میں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد آبادی کی ضروریات کو احسن طور پر پورا کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں بارہ لاکھ سے زائد افراد کو دریاؤں اور جھیلوں کے سربراہوں کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، تاکہ ملک میں پانی کے ذخائر کے ماحولیاتی تحفظ سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور مقامی حالات کے مطابق آبی آلودگی سے نمٹنے اور آبی ماحولیات کو بہتر بنانے کے لیے درست اقدامات کیے جا سکیں۔ علاوہ ازیں، چین نے کچھ علاقوں میں مٹی کے کٹاؤ اور زمینی پانی کے بے تحاشہ استعمال جیسے مسائل کو حل کرنے میں بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس سے زیادہ سے زیادہ آبی زخائر کو بحال کیا گیا ہے۔ انہی کوششوں کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے چین کی جانب سے حالیہ دنوں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہ پانی کے قومی نیٹ ورک کی تعمیر میں سرمایہ کاری میں مزید اضافہ کرے گا۔اس حوالے سے مرکزی بجٹ میں پانی کے نیٹ ورک کی تعمیر کے منصوبوں کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی جو مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کا ایک مقصد سیلاب کی روک تھام اور اناج کی پیداوار کے حوالے سے ملک کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا بھی ہے۔اس ضمن میں مقامی حکومتوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ تعمیری منصوبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں اور متعلقہ منصوبوں کے ٹھوس نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔ چینی حکام نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ مارکیٹ پر مبنی اور قانون پر مبنی اصول کی پیروی کرتے ہوئے، ہر قسم کے سرمایہ کاروں بالخصوص نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ تعمیراتی منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوں۔چین نے اس حوالے سے ابھی حال ہی میں 2021تا2035 کی مدت کے دوران پانی کے قومی نیٹ ورک کی تعمیر کے لئے ایک رہنما اصول جاری کیا ہے، جس پر عمل درآمد کے دوران آبی سلامتی کے تحفظ کی صلاحیت کو بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔گائیڈ لائن میں متعدد طویل مدتی اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جن میں پانی کے قومی نیٹ ورک کی عملی تشکیل، صوبائی، میونسپل اور کاؤنٹی کی سطح پر پانی کے نیٹ ورک بنانا، اور قومی آبی تحفظ کے نظام کو فروغ دینا شامل ہے جو سوشلسٹ جدیدکاری کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ وسیع تناظر میں گزشتہ ایک دہائی میں چین میں آبی وسائل کی بقا اور تحفظ...

جب دشمن کا غرورخاکستر ہوا

اٹھائیس مئی یوم تکبیر وہ تاریخ ساز دن ہے جب اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم سے پاکستان کی سول و عسکری قیادت نے اپنے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں، اقوام عالم کے تمام تر تحفظات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنا کر ثا بت کر دکھایا کہ پاکستان نہ تو وہ کسی سے کم ہے اور نہ ہی کسی میدان میں پیچھے۔ حالانکہ اس وقت کے امریکی صدربل کلنٹن نے پاکستان کے حکمرانوں کو ٹیلی فون کرکےاقتصادی دھمکیوں سے ڈرایا تو کہیں پانچ ارب ڈالر کے امدادی پیکج کالالچ دیا۔ یہ وہ ایام تھے جب 11 اور 13 مئی کو بھارت راجستھان میں پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان میں خطرے کی گھنٹی بجا چکا تھا، بھارت نے یکے بعد دیگرے 5 دھماکے کر کے اس خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کی مذموم سازش کی تھی جسکا ہر صورت جواب دینا لازمی تھا۔ اس واقعہ کے بعد ملک کے سب ہی حلقوں میں یکساں تشویش پائی جاتی تھی، اس وقت اہل پاکستان پر صرف ایک جنون طاری تھاکہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب دینا ضروری ہے۔ ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو ڈرانے کی ناکام کوشش کرنے والوں کو بتانا ہے کہ ہم ان کے شرلی جیسے ہتھیاروں سے ڈرنے والے نہیں ہم جوش و جذبات میں بھی ان سے زیادہ ہیں اور قوت و طاقت میں بھی کسی سے کم نہیں۔ ہم ایک امن پسند قوم ہیں مگر جارحیت برداشت ہر گز نہیں کریں گے، ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں۔ آخر کار 28مئی 1998ء کی سہ پہر تین بج کر 16 منٹ پر امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور آسٹریلیا کی رسد گاہوں میں الارم کا شور بلند ہوا۔ سیسمو گرافک آلات یکدم حرکت میں آئے، کوئی رسد گاہ اس کو 40 کلو ٹن کا دھماکہ دکھا رہی تھی تو کوئی 25 سے 30 کلو ٹن، کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ سب کچھ زیر زمین کہاں پر ہوا ہے۔ عالمی میڈیا پر ایک شور برپا ہوا اور پاکستان نے وہ کر دکھایا جس کی برسوں پہلے سے توقع کی جا رہی تھی اور یوں ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک بن گیا اور اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ یہ پہلا اسلامی ملک تھا جس نے ایٹمی شعبے میں یہ کمال حاصل کیا تھا۔ پاکستان کے ایٹمی سائنسدان اور حکمرانوں نے وطن عزیزکو ناقابل تسخیر بنانے کا یہ دلیرانہ قدم اٹھا کر مسلم امہ کو بھی روشن راہ دکھائی کہ وہ بھی اس تاریخ ساز قدم کو دیکھ کر دنیا میں فخر سے جینا سیکھیں۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب اس کے خاتمے کے لیے پوری دنیا کی طاقتیں برسر پیکار تھیں مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نظر کرم نے اس کی تکمیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ایٹمی تجربے سے قبل سیاست دانوں اور عوام کی فکر مندی تو اپنی جگہ پر مگر افواج پاکستان جس کے ہاتھوں میں ملک کی...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

کہاں کی بات کہاں نکل گئی

قارئین کا صاحبِ مضمون سے متفق ہونا لازم ہے کیونکہ یہ تحریر اسی مقصد کے لیے لکھی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کو نصحیت کرنے کا جان لیوا مرض لاحق ہوتا ہے۔ جہاں کچھ غلط سلط ہوتا دیکھتے ہیں زبان میں کھجلی اور پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگتا ہے ایسا ہم نہیں کہتے ان لوگوں کے پند و نصائح وارشادات سننے والے متاثرین کہتے ہیں۔ اللہ معاف کرے اکثر نوجوانوں کو نصحیت کرنے کے جرم کی پاداش میں ہماری ان گنہگار آنکھوں نے ان بزرگوں کو کئی مرتبہ منہ کی کھاتے دیکھا ہے۔ مگر نہ وہ اپنی روش سے باز آتے ہیں اور نہ ہی کتے کی ٹیڑھی دم سیدھی ہوتی ہے۔ اب قریشی صاحب کی بیوہ کو ہی لے لیجیے عمر دراز کی ستر بہاریں دیکھ چکی ہیں، بیوگی کے پچاس سال گزارنے والی اپنی زندگی سے سخت بیزار ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی موصوفہ نے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دئیے تھے۔ دن رات صبح شام وہی گھسا پٹا راگ الاپتی رہتی تھیں تمہارے ماں باپ کی خدمت میں کیوں کروں؟ تمہارے سارے کام میں کیوں کروں؟ میں غلام نہیں ہوں۔ جو تمہاری ہر بات مانوں وغیرہ وغیرہ۔ قریشی صاحب بھلے مانس آدمی تھے شرافت اور منکسر المزاجی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ کان دبائے، نظریں جھکائے بیوی صاحبہ کے فرمودات سنتے اور سر دھنتے رہتے۔ ان کا یہ معصومانہ انداز بیوی صاحبہ کے تن بدن میں آگ لگا دیتا پھر جو گھمسان کی جنگ چھڑتی جس میں بیوی صاحبہ فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد قریشی صاحب سے اپنے تلوے چٹوا کر انہیں مورد الزام ٹھہراتے ہوئے فرد جرم عائد کر کے سزا سنا دیتیں۔ قید بامشقت کے تیسرے سال ہی قریشی صاحب کے کُل پرزے جواب دے گئے۔ گھر کی مسند صدارت و وزارت پر بیوی صاحبہ براجمان تھیں بیچارے قریشی صاحب کی حیثیت کا قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ گنے چنے چند سالوں کی رفاقت کے بعد ایک شام قریشی صاحب داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ لواحقین میں ایک بیوہ اور پانچ بیٹیاں چھوڑیں۔ ماں کے طور اطوار، رنگ ڈھنگ، چال ڈھال اور انداز کا مہلک زہر اولاد کی نسوں میں اتر چکا تھا۔ اور خربوزے کو دیکھ کر خربوزیاں رنگ پکڑتی چلی گئیں۔ موصوفہ کی کل کائنات بس یہ پانچ بیٹیاں ہیں۔ پانچوں کنورای جو شادی کے نام پر ایسے اچھلتی ہیں جیسے بچھو نے ڈنک مارا ہو۔ قبر میں پیر لٹکائی قریشی صاحب کی بیوہ صبح شام خود کو کوستے رہتی ہیں کہ اس جیسے چاہو جیو کے سلوگن نے ان کی دنیا و آخرت ملیامیٹ کر کے رکھ دی۔ مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ ہم اگر اپنی روزمرہ زندگی پر نظر دوڑائیں تو کتنی چیزیں ہیں جو کہ ہم غلط سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی کرتے ہیں نہ جاننا اتنا سنگین نہیں ہوتا جتنا کہ جان کر حقیقت سے نگاہیں چرانا ہوتا ہے۔ چچ چچ ہم آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کے عادی بنا دیے گئے ہیں۔ 2021ء میں گھریلو تشدد کا بل اسمبلی سے منظور کروا کر ہماری نوجوان نسل کو یہ پیغامِ تقویت...

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

ہمارے بلاگرز