ٹیگ: ذہانت

اہم بلاگز

آئیے ! اپنا احتساب کیجئے‎‎

دوہرے رویّے معاشرے میں بڑھتی ہوئی چینی و بے سکونی کی اہم وجہ ہیں، جس کو جتنا نظر انداز کیا جائے گا، خاندانوں کا استحکام اتنا ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔ اگر ہم اپنے دوہرے کردار کو درست سمت دینے کے لئے اپنے ذہن آمادہ نہ کر پائیں گے تو اس کا مطلب ہے ہم نسل در نسل ان رویوں کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں، یہ سوچے بنا کہ ان رویوں کی پرورش و پرداخت جرم ہے بلکہ گناہ ہے۔ اور افسوس کہ یہ وہ گناہ ہے جس کا بار نیک وصالح اولاد کے خواہشمند شعوری اور لا شعوری طور پر اپنی اولادوں میں منتقل کر رہے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ دہرے رویّے کیا ہیں، یہ معاشرے کے لئے کیسے ضرر رساں ہیں اور ان کا تدارک کیسے ممکن ہے، اس کی عام، واضح اور آسانی سے سمجھنے والی مثال عائلی زندگی میں دیکھی جا سکتی ہے، جب شوہر اور سسرال نئی آنے والی بہو سے گھریلو مسائل وکشیدگیوں کو پردہ اخفاء میں رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں، یہ خواہش بجا ہے اس وقت۔ جب آپ بھی بہو کے گرد عرصہ حیات تنگ نہیں کرتے، معمولی باتوں میں مداخلت کر کے پریشان نہیں کرتے، ہر وقت بے جا تنقید نہیں کرتے، اس کی نقل وحرکت پر نگاہ تشنیع رہ کر اس کو زندگی سے بےزار نہیں کرتے، لیکن اگر آپ مندرجہ بالا رویّے کو ہی اپنائے ہوئے ہیں اور اس سے کنارہ کش ہونے ہونے کے لئے بھی تیار نہیں، اور پھر اپنے گھر کے مسائل باہر ڈسکس ہونے کو بھی ہتک عزت کا مسئلہ بناتے ہیں۔ اظہار بے بسی کو بھی جھگڑے کی زد میں لے آتے ہیں تو یہی اصل میں رویوں کا تضاد ہے، اسی کو دوہرا معیار کہتے ہیں۔ سردست! یہ ان گھرانوں کی بات ہو رہی ہے جہاں بہو محبت، ایثار، احسان، درگزر کی صفات پر عمل پیرا ہوتی ہے، جو گھر کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے جان کھپا دیتی ہے، جو فلاح خاندان کے لئے مختلف حربے اختیار کرتی ہے اور استحکام خاندان کے لئے قربانیوں کے بے مثال ریکارڈ قائم کرتی ہے۔ لیکن گھر میں ماحول کو کشیدہ بنائے رکھنے والے کردار جب گھر سے باہر خوش اخلاقی کا لبادہ اوڑھے نکلتے ہیں تو خدا کی قسم ، آپ کی بہو اس وقت شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوتی ہے۔ اور اگر آپ کا ذہنی مرض اس حد تک پہنچا ہوا ہے کہ ایک انسان کو اذیت میں دیکھ کر قلبی سکون محسوس کرتے ہیں تو خدا سے قساوت قلبی سے نجات اور نرم دل عطا کرنے کی دعا آپ کو دوبارہ فلاح کی طرف لے جا سکتی ہے۔ یاد رکھئے! ہر انسان خیر اور شر پر قدرت رکھتا ہے، خدارا خیر کے پتلوں میں برائی کے لئے مت اکساہٹ پیدا کریں، یقین رکھئے! نیکی کو کمزوری خیال کر کے برائی کا سک بٹھانے کی کوشش جھاگ سے زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔ لہذا اپنا اپنا احتساب کیجئے، اپنے پر اتنے گناہوں کا بوجھ نہ لادیں جو روز حشر آپ کو بے بس کر دے، سب سے اہم بات...

مسئلہ کشمیر‎‎

26 اکتوبر 1947: مہاراجہ نے بھارت سے مدد چاہتے ہوئے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیئے تاہم یہ الحاق مشروط تھا کہ جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے کشمیر میں رائے شماری ہو گی ۔ 27 اکتوبر 1947: بھارت نے اپنی فوجیں ہوائی جہازوں کے ذریعے سری نگر میں اتار دیں۔ اکتوبر 1947: کشمیر میں جاری داخلی خانہ جنگی میں پاکستان سے قبائلی لشکر بھی شامل ہو گئے۔ 26 اکتوبر 1947: مہاراجہ نے بھارت سے مدد چاہتے ہوئے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیئے تاہم یہ الحاق مشروط تھا کہ جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے کشمیر میں رائے شماری ہو گی ۔ 27 اکتوبر 1947: بھارت نے اپنی فوجیں ہوائی جہازوں کے ذریعے سری نگر میں اتار دیں تاکہ کشمیر میں ہونے والی بغاوت کو کچلا جا سکے جس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ چھڑ گئی ۔ یکم جنوری 1948: بھارت نے مسئلہ کشمیر پر اقوام ِ متحدہ سے مدد مانگ لی 5 فروری 1948: اقوام متحدہ نے ایک قرار داد کے ذریعے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تاکہ وہاں رائے شماری کرائی جا سکے ۔ یکم جنوری 1949: اقوامِ متحدہ نے جنگ بندی کراتے ہوئے دونوں ممالک کی فوجوں کو جنگ بندی لائن کا احترام کرنے کا پابند کیا اور وہاں رائے شماری کرانے کا اعلان کیا۔ یہ اعدادوشمار ہیں پاکستان اور بھارت، خطے کے دو اہم ممالک کے متعلق۔ وہ خطہ جو جدوجہد آزادی کے لئے نمونہ بھی ہے اور سامراجیت کے خلاف جہد مسلسل کی علامت بھی۔  سنہ47ء میں اپنے حقوق کی جنگ جیت کر ،تاہم بہت سے نقصان کے عوض الگ ریاست کا قیام "پاکستان" تو تخلیق کر دیتا ہے لیکن اس کے قیام کے ساتھ ہی ایک عظیم قرض اس ملک کے باشندوں پر عائد ہو جاتا ہے۔ وہ قرض کیا ہے، کیوں ہے! اور کیا اس کی ادائیگی ہم پاکستانیوں کے لئے مشکل امر ہے! یہ قرض ایک خوبصورت، نعمتوں سے بھر پور، خطے کی آزادی سے متعلق ہے، قیام پاکستان کے وقت بہت سے علاقوں کو نا انصافی بلکہ دھوکے سے، انگریز اور بھارتی رہنماؤں کی ملی بھگت سے بھارت میں شامل کر دیا گیا۔ ظاہر ہے کفر مختلف فرقوں میں ہونے کے باوجود اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہی گٹھ جوڑ کرتا ہے۔  بہرحال اور بہت سی ریاستوں مثلاً حیدرآباد دکن، جونا گڑھ کی طرح ریاست کشمیر بھی خود مختار ریاست تھی،تقسیم کے متفقہ فارمولے کے مطابق حیدرآباد دکن کو ہندو اکثریت کی وجہ سے بھارت میں ضم کر دیا گیا،حالانکہ یہاں کا راجا مسلمان تھا، یوں ہی جونا گڑھ کا فیصلہ بھی ہو گیا،لیکن کشمیر کا یوں بھارت کی گود میں جانا مسلمانوں کو کسی طور منظور نہ ہوا۔ اکثریت کے فارمولے کے تحت بھی یہ پاکستان کا حصہ تھا،اور ریفرنڈم کا نتیجہ بھی یہی تھا، جغرافیائی خدو خال بھی اسے پاکستان کا حصہ ثابت کرتے ہیں اور تجارتی لحاظ سے بھی یہ پاکستان کا ہی دست وبازو بنتا تھا، عالمی قوانین کے مطابق دریائی نظام بھی اسے پاکستان کی شہ رگ ثابت کرتا ہے لیکن ہندو راجے...

خالی فیڈر

کئی دنوں سے بھوکی پیاسی کشمیری ماں نڈھال اپنے شیر خوار کو گود میں لئے بہلانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ بچہ بلک رہا ہے ماں کی آنکھوں میں تکتا جاتا ہے۔ شاید کچھ تلاش کر رہا ہے نہیں بلکہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔ طفل تسلی دیتی ہے کیا سینے سے اپنے لپٹاتی ہے کیا خود تو روتی تڑپتی سسکتی اور مجھ کو بہلاتی ہے کیا خالی فیڈر کو یوں بار بار ہلاتی ہے کیا چند قطرے جو تھے سوکھ گئے دودھ اب بچا ہے کیا یہ قصہ مجھ سے چھپاتی ہے کیا میری پیاری ماں۔۔۔! تیرے نیناں کی جھیل میری بقاء کی دلیل یاں سندر سپنے رہتے تھے یادوں کی تتلیاں اڑتی تھیں اور۔۔۔ اب۔۔۔ آہ۔۔۔ میری پیاری ماں۔۔۔!! سپنے میرے بکھر گئے تتلیاں مجھ سے روٹھ گئیں جبر کی ہوا چلی کیا جھیل کو صحرا کر دیا تو ہی بتا۔۔۔! جیوں تو کیا مر جاؤں تو کیا او میری پیاری ماں۔۔۔! یہ اُسامہ ہے کیا۔۔۔؟ کھسر پھسر ہے کیا۔۔۔؟ چچا زاد میرا کہتا ہے کیا۔۔۔؟ جموں سے پیغام لایا ہے کیا۔۔۔؟ روتا ہے کیا رلاتا ہے کیا ک۔۔۔کیا؟؟؟ گھر پر ہندوؤں نے اس کے قبضہ کیا؟ سیبوں کا باغ اجاڑ دیا؟ آہ۔۔۔ تو ہی بتا۔۔۔ جموں کیسے جاؤں گا؟ چچا کو کہاں پاؤں گا؟ سن ری ماں۔۔۔! پیاری ماں۔۔۔! سوچتی ہے کیا۔۔۔؟ روتی تڑپتی سسکتی ہے کیا؟ میری بات مان لے۔۔۔ میرا فیڈر تُو توڑ دے بھالو میرا یوں مروڑ دے یہ گھوڑا۔۔۔ یہ ہاتھی۔۔۔ دور کہیں ان کو بھگا دے۔۔۔! اور۔۔۔ یہ قبر ہے نا بیچ صحن میں گھر کے اندر شہید ابا جس میں سوتے ہیں اس کے برابر ایک ننھی قبر اور کھود دے۔۔۔! سوچتی ہے کیا روتی تڑپتی سسکتی ہے کیا اک قبر اور کھود دے۔۔۔! اک قبر۔۔۔۔اور کھود۔۔۔۔دے۔۔۔! اک قبر۔۔۔۔

کربلا کا حُسین کون؟

کربلا کا حسین کون ! آپ فوراً جواب دیں گے۔ وہ جو نواسہ رسول تھا۔ وہ جو ابن علی تھا۔ گوشہِ رسول کا گوشہ تھا۔ وہ جو وقت کا ابراہیم تھا جس نے آتش یزید میں کودنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ جو سیرت و کردار اور معاملہ فہمی کی بنیاد پر وقت کا امام بننے کا حقدار تھا۔ وہ، جس کے بھائی حسن نے اُمت کو اختلاف و انتشار سے بچانے کے لئے خلافت سے دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا۔ حسین نے مگر شورائی نظام کی بے حرمتی گوارا نہ کی، وراثتی خلافت کا قائل نہ ہوا وہ۔ ایک غلط رواج اور ملوکیت جو نظام خلافت کی دھجیاں بکھیر کر اپنے پیر مضبوط کر چکی تھی، امام حسین رض نے اس نظام غلط کو ماننے سے یکسر انکار کر دیا۔ یاد رہے، امام کی بغاوت خلیفہ وقت کے خلاف نہ تھی اور نہ ہی خلافت کے حصول کے لئے آپ میدان میں اترے۔ آپ نے خلافت یزید کو ماننے سے اس لئے انکار کیا کہ آغاز میں ہی اس قبیح رسم اور ذہنیت کا خاتمہ کر دیا جائے کہ نا خلف بھی جانشین بن سکتا ہے، یا مسلمانوں کے مشورے کے بغیر بھی خلافت کا نظام چل سکتا ہے۔ گویا امام کا بیعت سے انکار نظام خلافت کے تحفظ کی خاطر تھا، شورائیت کے بچاؤ کے لئے تھا، ملوکیت کے خلاف جہاد تھا آپ کا قدم اور سب سے بڑھ کر ظالم وجابر حکمران کی اطاعت سے انکار تھا۔ امام کی معاملہ فہم اور دور اندیش نگاہوں نے ان خرابیوں کا نہ صرف ادراک کر لیا تھا بلکہ یہ بھی سمجھ لیا تھا کہ اگر اس وقت اس نظام باطل اور موروثی حکمران کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی اور اس کی بیعت کر لی گئی تو ملوکیت سے جنم لینے والی خرابیوں کا سدباب آئندہ نسل کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ لہٰذا امام نے ظالم حکمران کے خلاف میدان میں آنے کا فیصلہ کر لیا جسے تاریخ کربلا کے نام سے جانتی ہے۔ کربلا ایک ریتلا میدان تھا جہاں امام کو روک لیا گیا اور شہید کر دیا گیا۔ شہادت کے بعد آپ کی بہن زینب نے دربار یزید میں بھی کلمہ حق کہا اور یزیدیت سے چنداں خوفزدہ نہ ہوئیں۔ آج پھر جب کے صالح قیادت کا فقدان ہو چکا، اقتدار کے بھوکے، اقتدار کی جنگ میں بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے پر حملہ آور ہیں اور صالح لوگوں کو تبرک کے طور سیاست کے میدان میں قبول کر لیا گیا ہے اور ان کے رفاہی خدمات کو جی بھر کر سراہا جاتا ہے مگر امامت کے منصب کے لئے انہیں نہیں چنا جاتا۔ بے شک حالات واقعات کے تفاوت سے۔ بحثیت قوم، امانت کی منتقلی کے معاملے میں ہم اسی بددیانتی کے مرتکب ہیں جس کا ارتکاب کوفہ والوں نے کیا۔ ہم کوفہ والوں ہی کی طرح صالح لیڈر کی مظلومیت پر رونے کی کمال اداکاری بھی کرتے ہیں،ہم سودی نظام کو بھی برا کہتے ہیں، حدوداللہ کے نفاذ کے بھی خواہشمند ہیں، عدلیہ کی آزادی اور انتظامیہ کی چستی بھی ہم چاہتے ہیں لیکن یزید...

خود شناس بنیں!

خود شناسی ایک صفت ہے، وہ صفت جو ہر فرد میں ہونی چاہیئے، خود شناس انسان کو ناگوار ماحول میں جینا پڑ جائے تو اس کی شخصیت بکھرنے سے بچ جاتی ہے۔ اس کی تحقیر کی جائے تو وہ اسے نظر انداز کر دیتا ہے اسے نیچا دکھانے کے جتن کرنے والا عموما مایوس ہی ہوتا ہے کیونکہ خود شناس انسان فطری طور پر بدلے میں نیچا دکھانے کی کوشش نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ چاند کا تھوکا منہ پر پی آتا ہے۔ کئی بار آپ اپنے کو تنہا محسوس کرتے ہیں، آپ کی ڈھارس بندھانے والا کوئی نہیں ہوتا، اپ کے احساسات پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں ہوتا، آپ کے جذبات کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ایسے میں خود کی پہچان ہی ہے جو آپ کو مایوس ہونے سے بچا لیتی ہے۔ لہٰذا اپنے آپ کو پہچانئے، غلط رویوں پر کڑھنا چھوڑئیے۔ جب آپ اپنے آپ کو پہچان لیتے ہیں نا ! اپنی صلاحیتوں کو، اپنی مہارتوں کو، اپنے سلیقے، اپنے سگھڑاپے کو ۔ تو یقین مانیے، آپ کسی بھی اب ج کی باتوں پر کڑھنا چھوڑ دیتے ہیں، بار بار ٹوٹنے سے بچ جاتے ہیں۔ لہذا دیر مت کیجئے۔ خود شناسی کا سفر طے کیجئے، اپنی کوئی صلاحیت یا مہارت کھوجیے، جو خیر کے فروغ میں معاون ہو ، جو معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لئے کارآمد ہو۔ معاشرہ دن بدن اخلاقی تنزلی کا شکار ہے، اس سے قبل یہ اخلاقی زوال ، خیر کا خاتمہ ہی کر دے۔ متحرک ہو جائیے۔ اپنی خیر خواہانہ سوچ کو عام کر کے۔ تو کبھی لکھنے کی صلاحیت کو بروئے کار لائیے۔ اچھا بول سکتے ہیں تو اس صلاحیت کو اصلاح معاشرہ کے لئے وقف کر دیں۔ سوشل میڈیا میں آپ کی دلچسپی ہے تو سوشل میڈیا کے مجاہد ثابت ہوں۔ پروفیشنل ہیں تو اپنے شعبے میں اپنے مثبت عمل سے انقلاب کی چلتی پھرتی دعوت بن جائیں۔ محدود تعلقات رکھتے ہیں مگر خود شناس بھی ہیں تو گردو پیش والوں کو بھی خود شناسی کے فن سے بہرہ ور کر دیں کہ یہ بھی ضدقہ جاریہ ہی ہے۔ خیر و بھلائی کو پنپنا دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی ذات سے باہر نکلنا ہو گا، انفرادی بھلائی پر مطمئن ہونا اجتماعی تبدیلی لانے میی رکاوٹ ہے، لہٰذا کوئی بھی بھلائی جس پر آپ انفرادی لحاظ سے عمل پیرا ہیں اسے ڈھونڈیں اور پھیلانے کی کوشش کریں۔ خود شناسی ایک فن ہے جس پر عبور حاصل کر لیا جائے تو افراد اپنی تقدیر آپ بناتے ہیں، اگر قومیں اس فن سے شناسائی پیدا کر لیں تو احساس کمتری سے نکل کر اقوام عالم میں اپنا مقام آپ طے کر سکتی ہیں، خود شناسی ہی ہے جو آپ کو اپنے اہداف کے حصول میں کسی سے خوفزدہ نہیں ہونے دیتی اور آپ آتش نمرود کو بھی ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔۔۔ قیصروکسری کے ایوانوں پر بھی لرزا طاری کر سکتے ہیں۔ آئیے اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو کھوجیں، نکھاریں اور تبدیلی کے امام بنیں۔

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

زمانہ بدل رہا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔

ملکی سیاسی حالات و اقعات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔ملکی معاشی حالات ،خاص کر قیمتوں کی گرانی کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ اتنا جلدی تو گرگٹ رنگ نہیں بدلتا جس قدر عصر حاضر میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔دور حاضر میں جس سرعت کے ساتھ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات میں تغیر وتبدل رونما ہو رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے مجھے تو نہرو کے اس بیان کی صداقت برحق ہونے کا یقین ہوچلا کہ ’’میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان وزیراعظم بدلتا ہے‘‘۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج تک ہم نہ وزیراعظم بدلنے سے باز آئے اور نہ ہی ہندو بنئے دھوتیاں بدلنے۔ہم تو وہ قوم ہیں جو اپنے وزیر اعظم کے غبارے سے ہوا میں ہی ہوا نکال دیتے ہیں(میاں صاحب والا واقعہ)،پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ ہم وفادار نہیں۔ہوا میں معلق ہونے کی بنا پر تاریخ میں دو شخصیات کو شہرت نصیب ہوئی،میاں صاحب اور سومنا ت کا مجسمہ۔ایک کو محمود غزنوی اور دوسرے کو مشرف نے شرف بخشتے ہوئے ہوا سے نیچے اتارا۔یہ الگ بات کہ دونوں نے ہوا سے اتارنے کے لئے انداز ایک سا ہی اپنایا۔ سب بدل رہا ہے،اور یہ تبدیلی اس قدر تیزی سے رونما ہو رہی ہے کہ حضرت انسان بھی اب تو ’’حضرت‘‘ہوتا چلا جا رہا ہے،حضرت یہاں پر اردو والا نہیں بلکہ پنجابی والا ہے۔کیونکہ معاملات میں یا تو پنجابی حضرت ہوتے ہیں یا پھر مولانا حضرتِ فضل الرحمٰن۔مولانا صاحب تو اتنے حضرت ہیں کہ اپنے ’’پیٹ اور ویٹ‘‘ کو بھی اللہ کا فضل ہی سمجھتے ہیں۔ویسے ان کے پیٹ اور ویٹ کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی بھی اتنا ہی خیال رکھتے ہیں جتنا کہ اپنے پیٹ اور ویٹ کا۔اسی لئے دونوں ان کے کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ حضرت انسان تو بدل رہا ہے یقین جانئے کہانیوں کے کردار بھی اب پہلے سے نہیں رہے۔وہ بھی حضرت انسان کی طرح چالاک و چوبند ہوتے جا رہے ہیں۔اب کوے ارو لومڑی کی کہانی کو ہی لے لیجئے جس میں کوے کے منہ میں گوشت کا ٹکڑا دیکھ کر لومڑی کوے کے خوش گلو ہونے پر عرض کرتی ہے کہ اے کوے میاں کوئی گانا تو سنائو۔جس پر کوا کائیں کائیں کرتا ہے ، اس کے منہ سے گوشت کا ٹکڑا گرتا ہے،لومڑی اسے اٹھاتی ہے اور اپنی راہ لیتی ہے۔وہی کہانی اب بدل کر ایسے ہو گئی ہے کہ یونہی لومڑی کوے کی خوش الحانی کی تعریف و توصیف میں عرض کرتی ہے کہ کوے میاں اپنی پیاری سی آواز میں کوئی ملکہ ترنم نورجہاں کا پر ترنم گانا تو سنائو۔اب کہانی کے مطابق کوے کو بھی ’’میاں صاحبان‘‘کی طرح فورا گانا شروع کر دینا چاہئے مگر نہیں اب ایسا نہیں ،میں نے کہا نا کہ زمانہ بدل گیا تو کہانیوں کے کرداروں میں بھی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔اب کوے لومڑی کے منہ سے اپنی تعریف سنتے ہی ،اپنے منہ والا گوشت کا ٹکڑا کھاتا ہے،زبان سے اپنی چونچ صاف کرتے...

ہمارے بلاگرز