ٹیگ: حکمت

اہم بلاگز

ڈپریشن اور اس سے بڑھتے مسائل

ڈپریشن کیا ہے ؟ یہ ہر فرد کے قلب و ذہن میں ابھرتا ہوا ایک سوال ہے۔ ڈپریشن ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مزید براں ڈپریشن ایک ایسی بیماری ہے جو نارمل سے نارمل انسان کو بھی ذہنی کمزوری میں مبتلا کر دیتی ہے۔ آج کل لوگ زیادہ تر ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں یہ کس وجہ سے ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں، ایسی بے شمار پریشانیاں ہیں جو انسان کو ڈیپریشن میں دھکیل رہی ہیں۔ میرے نزدیک آج کل زیادہ تر لوگ ڈپریشن کا شکار اس لیے بھی ہو رہے ہیں کہ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں اور مسائل بڑھتے جا رہے ہیں. نوجوان نسل پڑھ لکھ کر ڈگریاں ہاتھوں میں تھامے بے روزگاری کا شکار جگہ دھکے کھاتے رہنا بھی نوجوان نسل کی ڈپریشن کی ایک وجہ ہے۔ آج اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں غریب خاندان پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ایک غریب ماں باپ اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلوانے سے عاری ہیں۔ مہنگائی انھیں اس بات پر مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھانے کی بجائے مزدوری کے لیے بھیج دیتے ہیں اور ماں باپ اور بچے ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج کل ڈپریشن کی ایک اور بڑی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی ہے۔ ڈپریشن ایک ایسی موذی بیماری ہے جو بچے،نوجوان ،بوڑھے سب کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ جو بے شمار مسائل کا موجب بنتی ہے۔ ڈپریشن کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ آئے روز بڑھتی ہوئی مہنگائی پر کنڑول کیا جائے تاکہ ایک نارمل خاندان اپنی زندگی ہنسی خوشی بسر کر سکے۔ اس طرح کافی حد تک ڈپریشن کو روکا جا سکتا ہے۔ میری والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ڈپریشن کا شکار مت بنائیں۔ آج کل والدین کے ہاں جو زیادہ رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ فلاں کی اولاد زیادہ پڑھ لکھ گئی۔ میری نہیں پڑھی۔ وہ انجنئیر، ڈاکٹر وغیرہ بن گیا۔ میرا نہیں بنا۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو بچوں کو ڈپریشن میں مبتلا کر دیتی ہیں اور بچے خودکشی جیسے حرام موت کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔ اپنے آپ کو ہارا ہوا انسان سمجھتے ہیں۔ والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیں تاکہ وہ زندگی میں کامیاب و کامران ہو سکیں۔ ڈپریشن ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے ہزاروں مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ہنستے بستے گھر اجڑ جاتے ہیں۔ ڈپریشن کو کم کرنے کے لیے میری سب سے گزارش ہے کہ خاندانی مسائل کو کم کیا جائے۔ ہنسی خوشی زندگی بسر کی جائے۔ رشتوں کے تقدس کو برقرار رکھا جائے۔ ایک دوسرے کی بات کو برداشت کیاجائےتاکہ اس بیماری سے نجات حاصل کی جاسکے۔

اصلاح معاشرہ اور ہمارا کردار

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس کی اصلاح کا دائرہ ہماری ساری زندگی پر محیط ہے انسانی زندگی جس قدر وسیع ہےاس کا دائرہ اصلاح بھی اپنے اندر وسعت سمیٹے ہوئے ہے یا یوں سمجھيے کہ زندگی کے وسیع وعریض بیاباں میں جہاں جہاں خودروجھاریاں اور کانٹے زندگی کو آلودہ آلام کر رہے ہیں وہاں وہاں سے انہیں اکھاڑکر ان کی جگہ پھولوں کی فضا پیداکرنا ہے۔ ایک ضابطہ حیات کے ذریعے ہم معاشرے کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ انسان اس کائنات میں اشرف وافضل مخلوق ہے۔ اس کا سر خداکے سوا کسی غیر کے اگے نہیں جھکنا چاہیے اور خدائے واحد کے آگے سر جھکانے کا مطلب یہ ہے کہ رب کائنات نے ہمارے لیے جو قوانین بنائے ہیں ان پر ہم پوری طرح کاربند ہو جائیں کیونکہ ان قوانین کی پابندی میں ہی معاشرے کی اصلاح کا راز مضمر ہے۔ اگر معاشرے کے اخلاق اچھے ہو جائیں تو ظلمت کے یہ مہیب سائے جو ہمیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں آن واحد میں کافور ہو جائیں گے اور دنیا جو آج جہنم کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ بہشت بريں کا نمونہ بن جائے گی۔ اسلام انسان کو ہمدردی کا سبق سیکھتا ہے۔ وہ بتاتا ھے کہ بنی آدم کی اصل ایک ہے اس لیے کسی عربی کو عجمی پر کسی عجمی کو عربی پر کسی گورے کو کالے پر کسی کالے کو گورے پر کوئی فضلیت نہیں، فضلیت اس کو حاصل ھے جو تقوی سے مالا مال ہے،اسلام تمام اعلیٰ اقدار کے پھولوں کا ایک چمن آراستہ کرتا ہے اور بداخلاقی کے تمام کانٹوں کو پھونک کر راکھ بنا دیتا ہے،اصلاح معاشرے میں سب سے اہم چیز حکومت کی اصلاح ہے۔ اگر حکمران بداخلاق ہوں، لیٹرے اور غاصب ہوں اور برائی کی نشرواشاعت کرنے والے ہوں تو کبھی معاشرے کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ ہمارا فرض ہے کہ نیک لوگوں کی شہر شہر اور قریہ قریہ ایک جماعت بنائیں جس کا پروگرام ہی اصلاح معاشرہ ہو۔ وہ ایک ایک محلے بدی کی تمام گندگیاں اور اخلاقی خیانتیں دور کرنے کا فریضہ انجام دے۔ وہ جوے، شراب، چرس اور ہیروئن کا قلع قمع کرے۔ وہ حکام کے ساتھ مل کر بدمعاشی کا خاتمہ کرے۔ علمائے دین کو اُبھارے کہ وہ برائی کے خلاف لوگوں کو اُبھاريں۔ وہ یتموں، بیواؤں اور محتاجوں کی دستگیری کریں وہ اپنے بیت المال سے پسے ہوئے لوگوں کو اوپر اٹھائے اور دبے ہوئے لوگوں کے بوجھ کو اتار کر انہیں معاشرے میں اونچا مقام دلائے وہ ایک مشینری جذبے سے کام کرے اور لگاتار اور مسلسل محنت سے اخلاق عالیہ کی فصل اگانے اور برائی کے کانٹے چننے میں اپنا سب کچھ نثار کر دے۔

دنیا میں بڑھتے تنازعات، جنگیں اورمہاجرین کا المیہ

اقوام متحدہ کے مطابق روس یوکرین تنازعے سے دنیا میں گھروں سے بے دخل کیے جانے والے افراد کی تعداد پہلی بار 10 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق یہ تعداد  تشویشناک  ہے جس سے دنیا کو ان تنازعات کے خاتمے کے لیے کام کرنا چاہیے جن کے باعث لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر جانے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ برس کے اختتام پر ایتھوپیا، برکینا فاسو، میانمار، نائجیریا، افغانستان اور کانگو میں تشدد کے واقعات کے باعث بے گھر افراد کی تعداد نو کروڑ تھی۔ روس یوکرین پر حملے کے باعث 80 لاکھ یوکرینی شہری بے گھر ہوئے جبکہ 60 لاکھ افراد نے پناہ کی تلاش میں سرحد پار کی۔ دس کروڑ کی تعداد دنیا کی کل آبادی کے ایک فیصد سے زیادہ بنتی ہے جبکہ دنیا میں اس وقت صرف 13 ملک ایسے ہیں جن کی آبادی دس کروڑ سے زائد ہے۔ اس تعداد میں مہاجرین، پناہ گزین، اور پانچ کروڑ ایسے افراد شامل ہیں جو اپنے ہی ملکوں میں بے گھر ہوئے۔ دنیا کے بہت سارے ممالک میں بڑھتے جنگی حالات، دہشت گردی، کشیدگی، سیاسی بحران، نسلی امتیاز نیز قدتی آفات کے باعث روز بروز بڑھتی مہاجروں اور پناہ گزینوں کی تعدا د کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ ہر سال 20 جون کو مہاجرین کے عالمی دن کے طور پر مناتاہے۔ جس کا مقصد اس دن دنیا بھر میں ان لاکھوں، کروڑوں پناہ گزینوں کی بے پناہی کی جانب توجہ مبذول دلانا ہے، جو اپنا ملک بحالت مجبوری چھوڑنے اور در در بھٹکنے پر مجبور ہوئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنگ اور ظلم و ستم کی وجہ سے ہر ایک منٹ میں 24 افراد گھر سے بے گھر ہو رہے رہیں۔ دنیا کے دو کروڑ دس لاکھ پناہ گزینوں کا تعلق تین ممالک شام، افغانستان اور صومالیہ سے ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے باعث فلسطینی مسلمان بھی بڑی تعداد میں بے پناہی کے شکار ہیں۔ ان اعداد و شمار سے پناہ گزینوں کی دشواریوں، ان کی بے بسی اور بے پناہی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہر شخص کوخواہ وہ کسی بھی ملک کا باشندہ ہو، اسے اپنے وطن سے فطری طور پرمحبت، وابستگی، والہانہ لگاو اور جذباتی رشتہ ہوتا ہے۔ وطن کی اہمیت اور اس سے انسیت کا اندازہ وطن سے دور جانے یا ہو جانے کے بعد ہوتا ہے۔ اپنی خوشی سے کوئی بھی فرد اپنا وطن نہیں چھوڑتا۔ کچھ تو مجبوریاں ہوتی ہونگی، یوں ہی کوئی اپنے وطن سے بے وفا نہیں ہوتا۔ ایسے نا گزیر اورگفتہ بہ حالات بن جاتے ہیں کہ لوگ آنکھوں میں آنسو اور دل پر پتھر رکھ کر ہجرت کرنے پرخود کو مجبور پاتا ہے۔ عالمی سطح پر نقل مکانی پر مجبور ان بے گھر انسانوں کی تعداد کا یہ ایک نیا لیکن برا عالمی ریکارڈ ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے کہ انسانوں کو انسانوں ہی کے پیدا کردہ بحرانوں کے باعث کس کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی طرف سے گلوبل ٹرینڈز یا عالمی رجحانات کے عنوان سے...

ملمع کاری سے بچ کے

مجھے کریانے سے متعلق تمام سودا سلف چچا جان اسلم سے ہی لینا پسند ہے، میں نے ہمیشہ انہیں ایماندار تاجر ہی پایا جو ناپ تول میں کمی بیشی نہیں کرتا اور پیمانہ بھر کے دیتا ہے۔ ابیہہ ہمیشہ ڈاکٹر محمود سے دوا لیا کرتی ہے اسے ڈاکٹر کا پوری توجہ اور یکسوئی سے مسئلہ سننا اور مشورہ دینا بہت پسند ہے۔ ایسا آپ کے ارد گرد بھی ہوتا ہے نا ! آپ ایک بار کے تجربے یا بعض اوقات صرف مشاہدے اور کبھی محض دوسروں کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ٹھگ دکاندار سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ اب آپ خیر خواہی کا حق یوں ادا کرتے ہیں کہ اپنے قریبی لوگوں سے اپنے مشاہدے و تجربے کا تذکرہ کرتے ہیں انھیں ٹھگ بازوں سے مطلع کرتے ہیں اور نبض شناس طبیب کی جانب رہنمائی کرتے ہیں۔ گویا دو فطری خصوصیات اچھائی کے پرچار میں معاون ہوتی ہے۔ 1: ذاتی اصلاح 2: خیر خواہی یہی دو خصوصیات اصلاح ملت اور قومی ایشوز میں بھی ہمیں مطلوب ہیں ۔ سوچنے کی بات ہے کہ حکمران کا چناؤ بھیڑ چال کا شکار کیوں ہو جاتا ہے۔ ہم سمجھ بوجھ رکھنے والے با شعور لوگ آخر ملی معاملے میں اتنی سطحی سوچ کیوں رکھتے ہیں۔ ہم جو ملمع کاری کے مزاج شناس ہیں۔ ناخالص دودھ یا ملاوٹ شدہ اشیاء کو خالص کے نام پر بیچنے والے ملمع کاروں کی بدولت، اور کبھی اپنے عزیزوں، دوستوں کے ملمع کار رویوں کی بدولت جو اپنے اندر کے غلط جذبات کو بھلائی چنا کر پیش کرتے ہیں۔ اپنے معاشرے کے ان ملمع کاروں سے اکثرو بیشتر ہم بناء کچھ کہے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں، کبھی محض نظر انداز کر دیتے ہیں ہم ان کی ملمع کاری کا شعور رکھنے کی بدولت ان کے ظاہری حلیے اور مصنوعی چہروں سے دھوکا نہیں کھاتے۔ لیکن قومی معاملات میں ہم اچھے برے کی پہچان ہی کھو دیتے ہیں، ہم ملمع کاری اور بغیر ملمع کاری۔ صاف اور سیدھے نظریے کو سپورٹ ہی نہیں کرتے۔ یہ کیسے ممکن ہے اپنے ذاتی معاملات تو نک سک سے چلانے کی خاطر ہم ہر ہر ملمع کار سے بچ کر رہتے ہیں لیکن قومی ملی معاملات میں ہمارے قلب ایسی تڑپ سے نا آشنا ہی دکھائی دیتے ہیں۔ یقینا ان معاملات کی بھی ہم سمجھ رکھتے ہیں، یقینا ہم اچھے سیاست دان اور برے سیاستدان کی صفات سے بھی آگاہ ہیں۔ ہم جانتے ہیں ان میں سے جو ملمع کار ہیں اور جو ملت کے حقیقی خیر خواہ ہیں۔ حیرت ہے نا کہ زکوٰۃ صدقات جمع کروانے کے لئے ہم ایماندار اور کرپٹ میں بخوبی تمیز کر لیتے ہیں۔ ہم اصلاح ملت کی خاطر کیے جانے والے اجتماع کی رونق کا باعث بھی بنتے ہیں لیکن انہی مصلح لوگوں کی راہ کی دیوار بھی ہم ہی بنتے ہیں۔ ہمارا حال ان نا سمجھ اور نادان بچوں سے کچھ مختلف نہیں جو اصلی اور جعلی شے کی پہچان رکھتے ہوئے بھی جعلی شے خرید کر کبھی تو چند روپے بچانے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی ہلکی شے کی زیادہ مقدار ان کی توجہ کھینچ...

سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کا چلن

پاکستان کی تعمیر وترقی کے نئے راستے کھولنے کے دعوے کرنے والے ملک کے حالات تو نہ سنوار سکے البتہ چڑھتے سورج کے پجاری بننے کی مشق جاری رکھی گئی، یعنی وفاداریاں تبدیل کرنے کا چلن زندہ رکھا گیا، یہ کوئی آج رواج پانے والی سرگرمی نہیں، یہ قیام پاکستان سے پہلے بھی رواج تھا سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنا معمول کی بات رہی، کچھ فیصلے تو بہت خوب تھے جیسے واقعہ کربلا میں "حر" کے کردار کو امر کرنے والا چلن نئی تاریخ رقم کرگیا، اس حوالے سے پھر حق کے لئے اقتدار کو ٹھوکر مارنے والوں کی تعظیم تاریخ بھی سنہری حروف سے کرتی رہی، یہ واقعہ اچھائی اور برائی کے درمیان فرق کو واضح کرگیا، اس حوالے سے آج کالم نگار اور شاعر حسن نثاراپنے اس شعر میں تاحال خود کو یزیدی پیروکار تسلیم کرتے ہوئے امام عالی مقام کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ میراحسین ابھی کربلا نہیں پہنچا، میں حر ہوں اور ابھی لشکریزید میں ہوں جبکہ اس عہد میں وفاداریاں بدلنے کا معیار یکسر مختلف ہے، اس عہد میں حکومت ملنے کی امید پر  فیورٹ  پارٹی کو جوائن کرنے کا رواج عام ہے، یہ طریقہ کار پاکستان میں شروع سے اب تک مروج ہے۔ حالانکہ ماضی میں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کی اس روایت کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی مگر اب ایسا تو ہرگزنہیں، بہرحال الیکشن جیتنے والے ارکان حکومت سازی کے عمل کے دوران بھی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کی روایت عام کررہے ہیں، یہ کام ماضی میں تو عظیم مقصد کے لئے تھا مگر اب محض اپنے ذاتی فائدے کی خاطر وفاداریاں تبدیل کرنے کی روایت کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ قیام پاکستان سے قبل بھی سیاسی وفاداریاں بدلنے کا رواج تھا، 1946 کے انتخابات میں یونینسٹ پارٹی 175 کے ایوان میں صرف 18 نشستوں پر کامیابی حاصل کر پائی۔صرف نو برس کی مختصر مدت میں وہ سب کچھ ہو گیا جس کا 1937 میں خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ انتخابات کے بعد ان 18 نشستوں پر کامیاب ہونے والے نصف سے زیادہ ارکان آل انڈیا مسلم لیگ سے آ ملے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی سیاسی وابستگیاں تبدیل کرنے کی یہ روایت قائم رہی۔ 1957 میں جب صدر اسکندر مرزا نے پارلیمنٹ میں اپنی سیاسی جماعت ری پبلکن پارٹی بنانے کا اعلان کیا تو مسلم لیگ میں شامل متعدد ارکان فوری طور پر اس نومولود پارٹی کا حصہ بن گئے،سیاسی وابستگیاں تبدیل کرنے کا یہ سلسلہ ایوب خان کے دور میں بھی جاری رہا۔ کچھ افراد کو دولت کے ذریعے، کچھ کو وزارتی ترغیبات کے ذریعے اور کچھ کوحکومتی دباؤ کے ذریعے اپنا ہمنوا بنایا گیا۔ ہر عہد میں ایسے کردار بکثرت پائے گئے جو قومی مفاد کے نام پر پاکستان کے عوام کی مشکلات کو بڑھانے والوں سے جاملے ،مسلسل وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کی کہانی لکھنے بیٹھ جائوں تو پھر ایک وسیع میدان میں بولی کیلئے سج کر آنے والے ارکان کی خریدوفروخت کی طویل فہرست اور انکے کردار موجود ہیں جو اپنے ہر غلط یوٹرن کو بڑی ڈھٹائی سے قومی مفاد کا نام دیتے رہے۔ ہر دور میں سیاسی وفاداری تبدیل کرنے...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

زمانہ بدل رہا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔

ملکی سیاسی حالات و اقعات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔ملکی معاشی حالات ،خاص کر قیمتوں کی گرانی کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ اتنا جلدی تو گرگٹ رنگ نہیں بدلتا جس قدر عصر حاضر میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔دور حاضر میں جس سرعت کے ساتھ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات میں تغیر وتبدل رونما ہو رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے مجھے تو نہرو کے اس بیان کی صداقت برحق ہونے کا یقین ہوچلا کہ ’’میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان وزیراعظم بدلتا ہے‘‘۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج تک ہم نہ وزیراعظم بدلنے سے باز آئے اور نہ ہی ہندو بنئے دھوتیاں بدلنے۔ہم تو وہ قوم ہیں جو اپنے وزیر اعظم کے غبارے سے ہوا میں ہی ہوا نکال دیتے ہیں(میاں صاحب والا واقعہ)،پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ ہم وفادار نہیں۔ہوا میں معلق ہونے کی بنا پر تاریخ میں دو شخصیات کو شہرت نصیب ہوئی،میاں صاحب اور سومنا ت کا مجسمہ۔ایک کو محمود غزنوی اور دوسرے کو مشرف نے شرف بخشتے ہوئے ہوا سے نیچے اتارا۔یہ الگ بات کہ دونوں نے ہوا سے اتارنے کے لئے انداز ایک سا ہی اپنایا۔ سب بدل رہا ہے،اور یہ تبدیلی اس قدر تیزی سے رونما ہو رہی ہے کہ حضرت انسان بھی اب تو ’’حضرت‘‘ہوتا چلا جا رہا ہے،حضرت یہاں پر اردو والا نہیں بلکہ پنجابی والا ہے۔کیونکہ معاملات میں یا تو پنجابی حضرت ہوتے ہیں یا پھر مولانا حضرتِ فضل الرحمٰن۔مولانا صاحب تو اتنے حضرت ہیں کہ اپنے ’’پیٹ اور ویٹ‘‘ کو بھی اللہ کا فضل ہی سمجھتے ہیں۔ویسے ان کے پیٹ اور ویٹ کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی بھی اتنا ہی خیال رکھتے ہیں جتنا کہ اپنے پیٹ اور ویٹ کا۔اسی لئے دونوں ان کے کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ حضرت انسان تو بدل رہا ہے یقین جانئے کہانیوں کے کردار بھی اب پہلے سے نہیں رہے۔وہ بھی حضرت انسان کی طرح چالاک و چوبند ہوتے جا رہے ہیں۔اب کوے ارو لومڑی کی کہانی کو ہی لے لیجئے جس میں کوے کے منہ میں گوشت کا ٹکڑا دیکھ کر لومڑی کوے کے خوش گلو ہونے پر عرض کرتی ہے کہ اے کوے میاں کوئی گانا تو سنائو۔جس پر کوا کائیں کائیں کرتا ہے ، اس کے منہ سے گوشت کا ٹکڑا گرتا ہے،لومڑی اسے اٹھاتی ہے اور اپنی راہ لیتی ہے۔وہی کہانی اب بدل کر ایسے ہو گئی ہے کہ یونہی لومڑی کوے کی خوش الحانی کی تعریف و توصیف میں عرض کرتی ہے کہ کوے میاں اپنی پیاری سی آواز میں کوئی ملکہ ترنم نورجہاں کا پر ترنم گانا تو سنائو۔اب کہانی کے مطابق کوے کو بھی ’’میاں صاحبان‘‘کی طرح فورا گانا شروع کر دینا چاہئے مگر نہیں اب ایسا نہیں ،میں نے کہا نا کہ زمانہ بدل گیا تو کہانیوں کے کرداروں میں بھی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔اب کوے لومڑی کے منہ سے اپنی تعریف سنتے ہی ،اپنے منہ والا گوشت کا ٹکڑا کھاتا ہے،زبان سے اپنی چونچ صاف کرتے...

ہمارے بلاگرز