ٹیگ: بھارت

اہم بلاگز

منتر میں پڑھوں‎

چلو بھولے تم بھولے تھے یا نہیں مگر کم از کم تمھیں ان لوگوں کے حق میں تو بھولے ہی ثابت ہوئے جن کے ایما پر تم لوگوں کو آگ میں بھون ڈالتے اور گولیوں سے چھلنی کردیتے تھے۔ چریا تم بھی اب سوچتے ہوگے کہ تمام تر شقی القلبی کے باوجود تم نرے ہی چریا رہے دیکھو کچھ نہ کچھ تو بات ہوگی ہی کہیں نہ کہیں تو تمھاری کوئی کمزوری کسی کے ہاتھ میں ہوگی جو تمھیں ان القابات سے نوازا گیا۔ اب تم نے سوچا ہوگا یا پتا نہیں اب بھی سوچا یا نہیں کہ وہ جو 259 افراد تم نے لوہے کی آگ میں پگھلا دیے کیسی کیسی آہیں ان کے دلوں سے نکلی ہوں گی؟ اور 259 افراد کے خاندان جن میں مائیں باپ بیویاں بچے بہنیں بھائی اور کتنے ہی منسلک اور بھی رشتے ہونگے دوست احباب ہوں گے جنھوں نے تمھارے غارت ہوجانے کی دعائیں مانگی ہوں گی۔مگر اس وقت تمھیں کیا دکھتا ہوگا؟اپنی خر مستیوں اور مضبوط ہاتھوں کی چھتری تلے تم خود کو بھولا اور چریا نہیں بلکہ ببر شیر سمجھ کر شیر کی خوب توہین کرتے ہوگے کیوں کہ تم جیسے لوگ تو بھیڑیا کہلانے کے لائق بھی نہیں تم مردار کھانے والے گدھ سے بھی بدتر ہو۔ کہو آج کیسا لگا آج جب 8 سال بعد بدترین فیصلہ آیا تو تمھیں وہ یاد نہ آئے جو تمھیں بھتہ خوری کے عوض معصوم لوگوں کی موت کا پروانہ دیتے رہے ہیں؟ کیا تم شکایت کر سکتے ہو؟ کیا تم شکایت نہیں کرسکتے؟ شاید تم کچھ بھی نہیں کر سکتے پھر تم کیا کروگے؟ کسی کی چوڑیوں کی چھن چھن سے نکلی بدعا تمھیں دیر سے ہی سہی لے اڑی ہے کسی کے گیسوئے ناز کی آہ تمھیں کھا گئ ہے کوئ کلکاری تمھاری سزا کے نوشتے میں درج ہے کسی ماں کی چیخ تمھارا نامہ اعمال بنی ہے کسی دودھیا گلابی رنگ کی جھالر دار فراک کا معصوم روتا چہرہ جو اپنے بابا کو دیکھ کر مسکراتا تھا مگر تم نے اسے رلایا  آج تم سے انتقام بنا ہے۔ مگر تم سوچتے تو ہوگے کہ آخر ہمارے ہی لیے؟ وہ بچ گئے جو بانبی میں ہاتھ تمھارا ڈلواتے تھے اور منتر خود پڑھتے تھے۔ شاید تم سوچو کہ ان کا حساب تو دنیا کیا خدا نے بھی نہیں کیا؟ نہیں تم ایسا نہیں سوچنا دنیا عدل سے خالی ہوسکتی ہے عدالت بک سکتی ہے جج ڈنڈی مار سکتا ہے حکومت سودے بازی کر سکتی ہے تعلقات کی بنیاد پر فیصلے کراوئے جا سکتے ہیں بے شک دنیا میں تم جیسے بھولے اور چریے ہیں کفارہ ادا کرنے کےلیے مگر تم نہیں سوچنا یہ بات کہ خدا چھوڑ دے گا انھیں خدا کی عدالت پورا تولتی ہے وقت لگتا ہے مگر اندھیر نہیں ہوتا تمھیں خود اپنے بارے میں بھی کیا پتا ہوگا؟ مگر جب اس کے ترازو میں تولنے کا وقت آجائے تو کوئ اس کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا وہ بھی نہیں بچیں گے جو فی الحال بچتے نظر آرہے ہیں تم یقین رکھو وہ جس نے 259 افراد کی جانوں کا حساب رکھا ہے تمھارا بھی رکھے گا ان کی موت ان کے بھائ بندوں کے ہاتھ ہوگی جیسے کہ تمھاری پارٹی...

بورڈم

"Mama I m getting  bored" "ما ما میں بور ہو گیا ہوں" اسطرح کے الفاظ ہم مائیں اور دیگر لوگ اکثر ہی سنتے ہیں اور ان ہی عوامل کی وجہ سے آج نت نئی اصطلاحات وجود میں آئیں جیسے آج سے پندرہ بیس سال پہلے اسکرین ایڈکشن اور اسکرین  ٹائم کی اصطلاحات ناپید تھیں۔۔بورڈم کا لفظ  شازونادر سننے  کو ملتا۔۔۔بچے فارغ اوقات  کو صرف کرنا جانتے تھے۔۔بے شمار ان ڈور اور آؤٹ  ڈور ایکٹیویٹیز ۔۔مشاغل ۔۔کتاب دوستی..... کبھی  والدین  کے لئے بورڈم پریشان کن مسئلہ نہیں رہا آج کی مائیں اکثر  و بیشتر اپنے بچوں سے بورڈم  اور اس سے ملتے جلتے جملے ضرور  سنتی ہیں۔۔۔اور بچوں  کے مستقل  مسئلوں  میں  شامل ایک یہ مسئلہ بھی ہے۔۔۔اسکرین ٹائم اٹریکشن  اور جدید  گیجٹس پر ہر ایک کی زندگی اتنا  انحصار  کرنے  لگی ہے کہ اس کے بغیر  زندگی  کا تصور  نا مکمل ہے۔۔ میں موجودہ دور میں ٹیکنالوجی  کے استعمال  کے بالکل مخالف نہیں بلکہ ان گیجٹس کے استعمال کو بھی ہم مؤثر بنا سکتے ہیں لیکن میں  توجہ اس طرف دلانا چاہتی ہوں  کہ اس "بورڈم "کے عوامل  اور اثرات  کیا ہیں۔۔۔ آج کی مائیں  جہاں  بورڈم سے پریشان ہیں وہیں بچے کو بورڈم سے بچاؤ کو اپنی اولین  ذمہ داری بھی سمجھتی ہیں اور  ہمہ وقت ایسی ایکٹیویٹیز مہیا  کرنے میں  کوشاں  ہیں کہ بچہ بورڈم کا شکار نہ ہو۔۔ دوسری طرف مائیں  ایسی بھی ہیں جو سمجھتی ہیں  کہ بورڈم  کسی حد تک بچے کو تخلیقی صلاحتیوں  کی طرف راغب کرتی ہے۔۔۔بچوں  کی نفسیات کے ماہرین  کہتے ہیں  کہ بچے اس وقت بورڈم کا شکار ہوتے ہیں  جب ان کا اپنے ارد گرد ماحول۔انسانوں، رویوں اور مزاجوں  سے انٹرایکشن کم سے کم ہو جاتا ہے۔۔جس کے نتیجے میں  لاشعور میں ان تمام ضروری عناصر  جو تربیت  کے عمل کے لئے کسی حد تک ضروری ہیں وابستگی کم ہو جاتی ہے۔۔جو بورڈم اور لا تعلقی  کے طور پہ ظاہر ہوتی ہے۔۔۔دوسری ریسرچ کے مطابق یہ ثابت  ہوا کہ بورڈم  اصل میں  بچوں  کی تخلیقی اور غورو تدبر  کرنے  کی صلاحیت  کو ابھارتا  ہے۔۔ نہ صرف  مائیں  بلکہ والدین کے لئے ضروری ہے کہ بچوں  کے لئے بورڈم سے نجات کے لئے گیجٹس  کی صورت میں متبادل مہیا کرنے کے بجائے بچوں کے لئے فطری صحت افزاء مواقع فراہم کریں  جس سے خود اپنی ذات  کے ساتھ۔۔رب تعالی کے ساتھ۔۔رشتوں کے ساتھ ۔۔ماحول  کے ساتھ کنیکشن  مضبوط  ہو  ۔۔۔اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ  صحت افزاء کمیونیکیشن اور  مطالعہ کتب جو ان کی سوچنے سمجھنے ۔۔اور تدبر کی صلاحیت  کو ابھارے۔۔۔ اور اگر مان لیجئے کہ بچے اسکرین اڈکٹ ہو ہی گئے ہیں تو اس صورت میں بھی ہم اس سے نہ صرف فائدہ اٹھا سکتے ہیں بلکہ بچوں کو اسکرین کے ذریعے ہی نارمل زندگی میں لاسکتے ہے لیکن اس کے لئے تھوڑی سی محنت، کنسنٹریشن اور کنسسٹنسی کی ضرورت ہے ہم ماؤں کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو اسکرین پر بے تکے بے سروپا عریانی اور لادینیت سے بھرپور کارٹونز اور پروگرامات کی بجائے دین سے متعلق انبیاء علیہ السلام صحابہ اکرام کے واقعات پر مبنی 3D سیریز دکھانے کی تلقین کریں اور اس...

انصاف کا قتل اور عافیہ صدیقی

وطن عزیزپاکستان میں کتنی ہی سیاسی اور مذہبی جماعتیں موجود ہیںکہ جوکسی بھی کام کے لیے اگر بھرپور کوشش کریں تو کچھ بعید نہیں کہ وہ اپنی جدوجہد کے مطابق کچھ حاصل نہ کر سکیں۔بہت سی ذمہ داریوں میں سے ایک ہماری برسر اقتدار حکومت اور سیاسی و مذہبی جماعتوں پر ایک ذمہ داری عائدہے وہ ہے دختر پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ۔ جب سے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی بے بنیاد الزام کی بنا پر پابند سلاسل ہیں،اس وقت سے وطن عزیز میںکئی حکومتیں آئیں اوراپنے اقتدار کے دن گزار کر چلی گئیں، لیکن قوم کی بیٹی عافیہ کے لیے سوائے بیانات کے کوئی کچھ نہ کرسکا ،جوکہ ہمارے اقتدار میں بیٹھے افراد کے لیے لمحہ فکریہ ہے… ۔ آخرکیا وجہ ہے کہ ملک پاکستان کے ایوانوں میں بیٹھے حکومتی افراد اور ہمارے حکومتی ادارے اتنے ہی بے بس اور لاچار ہو چکے ہیں کہ جو اپنے ہم وطنوں کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے اقدامات نہیں کرتے؟۔ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی غیرملکی جیل کی قید میں ہے اور ہمارے حکمران اور اپوزیشن جماعتیں اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لے رہے اور بے گناہ قید میں دن گزرتے جارہے ہیں ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حالات زندگی کا اگر مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ قوم کی بیٹی کوئی عام خاتون نہیں بلکہ وطن عزیز’’ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان‘‘ کاایک بہترین اثاثہ تھی۔وہ اعلی تعلیم یافتہ اور بہترین تحریری و تقریری صلاحیتوں کی مالک تھی۔انھوں نے امریکی یونیورسٹیوں سے آئی ٹی ٹیکنالوجی کے مختلف علوم میں گریجویشن اور پی ایچ ڈی بھی کیاہوا ہے۔ دین اسلام سے محبت اور عقیدت اتنی کہ علم کی پیاس بجھانے کے لیے وہ خاص طور پر امریکہ سے پاکستان آئیں۔ شوق سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی، قرآن مجید اور علوم اسلامیہ سے دلچسپی اس قدر کہ ان پر اچھی طرح عبورحاصل کیا اوریہ ان کی اضافی قابلیت تھی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قابلیت کا اس بات سے بھی اندازا لگایا جا سکتا ہے کہ گلستان شاہ لطیف اسکول سے لے کر ایم آئی ٹی برینڈیز جیسی امریکہ کی بہترین جامعات سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول تک، ان کا تعلیمی ریکارڈ بہترین اور قابل تعریف رہا۔ معاشرے کو مثالی بنانے اور اسلام کی نشرو اشاعت کے لیے اسلامی نظامِ تعلیم سے انقلاب لانے کی جستجو رکھتی تھیں۔ سادہ الفاظ میں اگر یہ کہہ لیا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ وہ تعلیم کے ذریعے دنیا میں مثبت تبدیلی ان کا خواب تھا۔بہت زیادہ خوبیوں کی مالک تھی (اللہ تعالیٰ جلد از جلد رہائی عطافرمائے)۔ اس قوم کی بیٹی پرامریکہ نے نے الزامات لگا کر2003 میں گرفتار کر لیااور بقاعدہ طور پر 23 ستمبر2010ء کو دختر پاکستان عافیہ صدیقی کو امریکاکی ایک عدالت کے متعصب جج نے بغیر ثبوت اور گواہوں کے دنیا کے عدالتی نظام پر سیاہ دھبہ لگاکر 86 سال کی قید سنا دی۔اس امریکی عدالت کے فیصلے کو اگر’’انصاف کا قتل ‘‘ کہہ دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔جب سے قوم کی بیٹی پابند سلاسل...

توکل علی اللہ

توکل علی اللہ، صادقین کی عبادت اور مخلصین کا راستہ ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے انبیاء المرسلین اور اولیاء المؤمنین کو اس کا حکم دیا۔ توکل علی اللہ ، اہل ِ ایمان کی وہ صفت ہے جس کی بنا پر وہ پوری انسانیت کی قیادت کرتے ہیں۔ مومن کا ایمانی تقاضا ہے کہ وہ صرف اللہ پر توکل کرے۔ قرآن ِ کریم ’’توکل علی اللہ‘‘ کو ایک مستقل عنوان دیتا ہے، اور کہتا ہے: ’’وعلی ربّھم یتوکلون‘‘ (۴۲:۳۶)(اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں)۔مومن یہ سمجھتا ہے کہ اس کائنات میں کوئی شخص اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتا، اور یہاں اللہ کے اذن کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں حرکت کر سکتا، لہذا وہ اللہ پر توکل کرتا ہے۔ یہی اس کا یقین بھی ہے اور بھروسہ بھی! وہ نہ کسی اور سے امید رکھتا ہے نہ کسی کے خوف کا شکار ہوتا ہے۔ مشکلات اس کے راستے میں آجائیں تو بڑی پامردی سے ان کا مقابلہ کرتا ہے، نہ اس کا سر کسی کے آگے جھکتا ہے نہ وہ اکڑ کر چلتا ہے، وہ ایک مطمئن نفس کی سی زندگی گزارتا ہے، نہ خوشحالی اس کے انداز کو تبدیل کرتی ہے نہ بدحالی۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اللہ پر بھروسا رکھو اگر تم مومن ہو‘‘۔ (المائدہ، ۲۳) اللہ تعالی پر بھروسے کی قدرو قیمت یہ ہے کہ یہ صفت بندے کو جرأت مند بنا دیتی ہے، اور وہ بڑے سے بڑے جبار کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں سات (۷) مرتبہ فرمایا: ’’اور مومنوں کو اللہ پر ہی بھروسا کرنا چاہیے‘‘۔ توکل کے لغوی معنی توکل کے معنی اپنے آپ کو عاجز سمجھنا اور کسی دوسرے پر بھروسہ کرناہے۔اور’’ توکل علی اللہ‘‘ کے معنی ہیں، اپنی عاجزی کو محسوس کرنا اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دینا۔جرجانی کا قول ہے ’’توکل کے معنی ہیں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس کا مکمل یقین اور اس پر کامل بھروسہ ہو، اور جو لوگوں کے ہاتھ میں ہے اس سے مایوسی ہو‘‘۔ (تعریفات، ۷۴) پس توکل کے معنی ہیں: اولاً آدمی کو اللہ کی رہنمائی پر کامل اعتماد ہو اور وہ سمجھے کہ حقیقت کا جو علم، اخلاق کے جو اصول، حلال و حرام کے جو حدود، اور دنیا میں زندگی بسر کرنے کے جو قواعد و ضوابط اللہ نے دیے ہیں، وہی برحق ہیں، اور انہیں کی پیروی میں انسان کی خیر ہے۔ثانیاً، آدمی کا بھروسا اپنی قابلیت ، اپنے ذرائع و وسائل ، اپنی تدابیر، اور اللہ کے سوا دوسروں کی امداد اعانت پر نہ ہو، بلکہ وہ پوری طرح یہ بات ذہن نشین رکھے کہ دنیا اور آخرت کے ہر معاملے میں اس کی کامیابی کا اصل انحصار اللہ کی توفیق و تائید پر ہے۔ثالثاً، آدمی کو ان وعدوں پر پورا بھروسہ ہوجو اللہ تعالی نے ایمان و عملِ صالح اختیار کرنے والے اور باطل کے بجائے حق کے لئے کام کرنے والے بندوں سے کئے ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج۴، ص۵۰۷) قرآن کریم میں ہے: ’’تم ان کی پرواہ نہ کرو اور اللہ پر بھروسا رکھو، وہی بھروسے کے لئے کافی...

روحانیت کی تلاش میں

برصغیر پاک وہند میں جب بھی روحانیت کی بات ہوتی ہے ہم اسے محض مسلم معاشرہ سے منسوب کر دیتے ہیں۔حالانکہ ایسا اس لئے نہیں کہ ہمارے علاوہ برصغیر میں ہند و ازم اور بدھ ازم دونوں ایسے مذاہب ہیں جن کے ہاں تپسیا ،انہماک مراقبہ کو تلاش ِ خدامیں ممد ومعاون سمجھا جاتا ہے۔ہندوؤں کا خیال ہے کہ جب تک تپسیا اختیار نہ کی جائے اس وقت تک زمانے کے راز اخفا نہیں کئے جا سکتے اور نہ ہی ان تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔کچھ ایسا ہی خیال بدھ کے ماننے والوں کا بھی ہے بلکہ بدھ تو کسی ایک شہر میں اپنے بھگشووں کو استراحت ومساکن کی اجازت بھی نہیں دیتا۔بدھ کے سنہری اقوام میں ہے کہ ان کا ماننے والا بھگشو نہ دولت جمع کرے گا اور نہ ہی اپنا کھانا پکا کر کھائے گا بلکہ وہ مانگ کر کھائے گا تاکہ اس کے اندر ذائقہ کی لالچ پیدا نہ ہو سکے اسی طرح وہ ثروت جمع نہیں کرے گا تاکہ دنیا وی حسد ان کی عبادت میں رکاوٹ نہ بن سکے لیکن ایسا عملی طور پر نہیں ہو سکا ۔کیونکہ تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ بدھ کے ماننے والوں کی عبادت گاہوں یعنی سٹوپا کے کھنڈرات میں سے جہاں اور بہت سی اشیا ملی ہیں ان میں سے چاندی کے سکے بھی ملے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہیں جمع کیا جاتا رہا ہے۔اسی طرح اگر ہم عیسائیت کی بات کریں تو ان میں رہبانیت کو خدا کی تلاش کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔جس میں ایسے لوگ جو روحانیت کی تلاش میں ہوتے ہیں یا تزکیہ نفس کے خواہاں ہوتے ہیں وہ انسانی معاشرہ سے دُور جنگل،بیابانوں یا صحراؤں کا رخ اختیار کر لیتے ہیں تاکہ مراقبہ یا انہماک میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ لیکن جب ہم اسلام میں روحانیت،تلاش خدا یا مراقبہ کی بات کرتے ہیں اس سے مراد نہ تو رہبانیت،معاشرتی فرار یا اپنے آپ کو دوسروں سے قطع تعلق سمجھتے ہیں اور نہ ہی مردم بیزاری مراد لیتے ہیں ،بلکہ برصغیر میں تو جتنے بھی صوفیا اکرام تشریف لائے ان کا تو مقصد ہی عوام کی خدمت اور احترام آدمیت تھا۔اس لئے کہ وہ سمجھتے تھے کہ خدا کو تلاش کرنے کا مختصر راستہ دراصل انسانیت کی خدمت میں مضمر ہے۔اسی لئے انہوں نے ہمیشہ جنگلوں کی نسبت شہروں کو ترجیح دی اگر شہر کے وسط مین نہیں تو شہروں کے بالکل نزدیک ترین ایسا ویران خطہ جہاں لوگوں کی دسترس آسانی سے ممکن ہو۔صوفی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’’ولائت،ولی یا صوفی کثرت عبادات کا نام نہیں بلکہ کثرت معرفت کا نام ہے جس کو اللہ کی معرفت زیادہ ہے وہی ولی ہے‘‘ اب اللہ کی معرفت کس کو حاصل ہوتی ہے یعنی دربار ِ الہیٰ میں کون معتبر ہوتا ہے اس کے بارے میں پروفیسر رفیق اختر فرماتے ہیں کہ یہ وہ انسان ہوتا ہے جو ہر کام میں اللہ کو ترجیح دیتا ہے۔اسے بات کی طرف بابا فرید مٹھن کوٹی کہتے ہیں کہ ’’میں نہیں سب توں‘‘کیونکہ ’’میں‘‘میں ہی تکبر،غرور،انا،کبریائی...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

مچھر

دو سال پہلے کی تحریر کہنے کو اڑتا ہوا کاٹنے والا کیڑا یا اڑ کر کاٹنے والا کیڑا ۔ اڑتے تیر کی طرح ہی سمجھ لیں ہماری اپنی وجہ سے ہی کاٹتا ہے ۔ یہ گندی جگہ پیدا ہوکر صاف جگہ پر کاٹتا ہے ، یاد رہے صاف جگہ پر ، مگر اب اس کو شکایت ہے کہ صاف جسم مل نہیں رہا ۔ یہ سوتے ہوئے لوگوں کو کاٹتا ہے اور جاگتے ہوؤں کو سونے نہیں دیتا ۔ یعنی مچھر زیادہ ہوں تو قوم جاگ جائے گی ، ویسے اب قوم جو جاگی ہے مچھروں کی بھن بھن سے جاگی ہے ۔ مچھر کی خوبی یہ ہے کہ اگر نر ہو تو بیمار نہیں کرتا اگر مادہ ہو تو بیمار کر دیتی ہے مگر تیمارداری اور بیماری کے بعد خدمت نہیں کرتی ۔ ہماری مادائیں یا مادامائیں بیمار کرکے خدمت بھی کرتی ہیں ۔ اگر دیکھا جائے (یعنی خوردبین سے) تو مچھر میں حسن بھی ہے اس کے جسم پر ہلکی ہلکی نرم ریشمی زلفیں بھی ہوتی ہیں ، کبھی ریشمی زلفوں میں انگلیاں ڈال کر سنواریں بہت مزہ آتا ہے ۔ ہم جب کنوارے تھے تو زلفیں بکھیر کر سنوارا کرتے تھے ۔ (اپنی زلفیں) مچھر کی زلفوں میں انگلیاں نہیں پھیری جاسکتی ہیں وہ مر جائے گا ۔ ریشمی زلفوں میں انگلیاں پھیرنے سے آپ بھی مارے جاسکتے ہیں ، اگر کسی کے بھائی زیادہ ہوں ، مچھر کافی کمزور کیڑا ہے تالی سے مر جاتا ہے ۔ آپ بھی تالی کے بیچ میں منہ ڈال کر دیکھیں کافی سیلز مر جاتے ہیں ۔ ہمیں اس بات پر اختلاف ہے کہ "ایک مچھر انسان کو ہیجڑا بنا دیتا ہے" اگر ایسا ہوتا تو آفریدی کے چھکوں پر تالیاں بجانے والے کروڑوں لوگ ہیجڑے ہوتے ، شادی کے گیتوں پر تالیاں بجانے والے بھی ہیجڑے ہوتے ، ہاں کسی کے نقصان پر تالیاں بجانے والے ہیجڑے ہوتے ہیں ۔ اور ویسے بھی مچھر انسانی جان کا دشمن ہے ، جنگ اور محبت میں سب جائز ہے ، دشمن کو تالی سے مارا جائے یا محبت کو تالی بجا کر حاصل کیا جائے جائز ہے ۔ اس میں ہیجڑا کہنا صحیح نہیں ۔ مچھر پالتو کیڑا نہیں ہے ، مگر گھر میں بنا اجازت پل جاتا ہے آپ کے ہمارے خون پر ۔ مچھر خون پیتا ہے چاہے کسی انسان کا خون سفید ہوگیا ہو ، چاہے کالا ہو ۔ مچھر کسی کو کاٹنے میں تعصب نہیں برتتا ہے ، یہ رنگ و نسل دیکھے بغیر خون پیتا ہے ۔ اس میں امریکہ والی کوالٹی ہیں ، امریکہ بھی جب کاٹتا ہے تو نہیں دیکھتا کہ چپٹا ، کالا ، گورا کون ہے سامنے ۔ مچھر کی عمر ایک سے ڈیڑھ دن کی ہوتی ہے اس تھوڑے سے عرصے میں وہ بغیر قرضے اور امداد کے اپنی زندگی گذار لیتا ہے ۔ مچھر سے بچنے کے لیے لوگ اسپرے کرتے ہیں بلدیہ والے بھی اسپرے کرتے ہیں اس اسپرے کے بعد اور مچھر بڑھ جاتے ہیں ۔ ہمارے پاس دستیاب اسپرے کے مچھر عادی ہوچکے ہیں ان کو اسپرے کے بعد نشہ چڑھ جاتا ہے اور وہ مزید کاٹتے ہیں ، کہا جاتا ہے ، نشے کے بعد زیادہ بھوک لگتی ہے...

تُم اپنی کرنی کر گُزرو

جب آپکی طبعیت لکھنے پر مائل نہ ہو تو آپ کچھ بھی نہیں لکھ سکتے کیونکہ لکھنے کیلئے صرف کاغذ قلم نہیں چاہئیے ہوتا ہے بلکہ وہ احساس جذبات اور کفیت بھی چاہئیے ہوتی ہے جس موضوع پر آپ لکھنا چاہتے ہوں,الفاظ کا بھی ایک تقدس ہوتا ہے یوں ہی تو نہیں ہوتا ناں وہ کہ بس قلم اٹھایا اور صفحات کا پیٹ بھر دیا۔  میری طبعیت بھی عمران خان کے بیانات کی طرح دن میں کئی دفعہ یو ٹرن لیتی ہے کبھی خوشی کبھی غم جیسی کفیت ہوتی ہے جب آپ زمانے کی کارستانیوں میں پھنسے ہوئے ہوں تب پھر اگر آپکو فرصت کے لمحات میسر آ بھی جائیں تو تب الفاظ یوں دور بھاگتے جیسے پولیس کو دیکھ کر چور۔ خیر میں لکھنے کیلئے کبھی مصنوعی سہاروں کا سہارا نہیں لیتا (مطلب طبیعت پر زبردستی نہیں کرتا) اور میرا ماننا ہے کہ انسان کو اپنی ذات کیلئے وہ کام ضرور کرنا چاہئیے جس میں وہ اپنی ذات کا ذہنی سکون اور راحت محسوس کرتا ہو تو "میں" لکھنے میں بھی راحت محسوس کرتا ہوں دوسرا میرے والد صاحب مجھے ہمیشہ نصیحت کیا کرتے تھے بیٹا دنیا مُشکلات کی دلدل ہے اپنی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو قانونی اور قلم کی نوک سے عبور کرنا اس بات کا مطلب آج بابا کے جانے کے بعد یقیناً احساس دلاتا  ہے کہ بابا نے ایسا کیوں کہا تھا۔ آج ڈپریشن ہو چاہے وہ نجی زندگی کے معاملات ہوں یا کاروباری معاملات کی جھنجٹ اُس سے چھُٹکارہ پانے کے لئے میرا قلم ہی بہترین ہتھیار ہے۔ بابا کے جانے ک بعد بہت ساری دنیاوی مشکلات کے سمندر میں غوطہ زن ہوں یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کشتی کنارے پر کب پہنچے گی لیکن میرا قلم مُجھے میرے قارئین سے جوڑے رکھتا ہے, یہ قلم ہی ہے جو مُجھے بدترین ذہنی دباؤ سے نکلنے میں میری مدد کرتا ہے اور مجھے راحت کا احساس دلاتا ہے۔ انہی درج بالا نکات کیوجہ سے لکھتے لکھتے دوستوں کی نظر میں ہم لکھاری بنتے گئے حالانکہ میں لکھاری آج بھی خود کو نہیں مانتا دو چار لائینز سے کورے کاغذ کو کالی سیاہی سے بھر دینے کو رائیٹر نہیں کہتے خیر آج بھی جب اپنے پسندیدہ موضوع پر لکھنے کا سوچتا ہوں تو منیر نیازی نے صرف دیر کی تھی مگر میں بہت دیر کر دیتا ہوں بہرحال دیر آید درست آید پر مصداق آ جاتے ہیں جب سر خلیل احمد صاحب(کالمسٹ, آر جے) جیسے  غلطیاں نکالنے والے استاد ملیں تو شاگردوں کی تو گویق چاندی ہی ہو جاتی ہے اور سر نے میری مختلف تحاریر پڑھنے کے بعد نیوز پیپر میں لکھنے کا مشورہ دیا تھا (جو ابتک جاری و ساری ہے) ۔ محترمہ بہن تہمینہ رانا صاحبہ Tahmina Rana (سینئیر جرنلسٹ نیوز اینکر کالم نگار نوائے وقت )جیسی استاد کی راہنمائی اور پذیرائی ملے تو حوصلے زمین سے آسمان کو چھونے لگتے ہیں۔  الحمداللہ جب بھی آج تک جو بھی آرٹیکل کسی پروفشنل اخبار یا بلاگ میں بھیجا تو اشاعت کی سند پا گیا جو میرے لئیے اعزاز کی بات ہے۔  میں تعمیری تنقید کو...

اُف! یہ آن لائن پڑھائی

مس کیا میں پانی پی لوں؟؟؟؟ پہلی جماعت کے طالب علم نے استانی صاحبہ سے پوچھا ۔تو استانی کہنے لگیں ۔کہ جی پی لیں۔اب بچہ نے کہا کہ مس کون سے بٹن کو دبانا ہے کہ پانی آئے؟؟؟  اب لمحہ بھر کے لیے تواستانی صاحبہ کو بھی نہ سمجھ آسکا کہ یہ بچہ کیا کہ رہا ہے!!!!! پھر وہ گویا ہوئیں اور کہنے لگیں۔کہ آپ جائیں اور پانی پی لیں۔اب بچے کا وہی سوال تھا۔اور کہنے لگا کہ لیپ ٹاپ کے کونسے بٹن کو دبانا ہے پانی پینے کے لیے؟؟؟؟؟ استانی نے یہ جملہ کہنے سے اپنے آپ کو روکا یہ کہنے سے “کہ بیٹا یہ ٹیکنالوجی کی اس حد تک ہم ابھی نہیں پہنچے ہیں “۔اور پیار سے سمجھاتے ہوئے کہنے لگیں کہ آپ اٹھ کر جائیں اور پانی پی لیں کہ لیپ ٹاپ میں ایسا کوئی بٹن نہیں کہ جہاں سے پانی آسکے۔ دراصل بچہ یہ سمجھ رہا تھا کہ جب کلاس آن لائن ہورہی ہے تو سارے ہی کام آن لائن کرنے ہوں گے۔ تھوڑی دیر بعد استانی نے کہا کہ بیٹا ہاتھ کھڑا کریں ۔سارے بچہ ہاتھ کھڑا کرنے لگے کہ انھوں نے کہا کہ بیٹا یہ جو اسکرین پر ہاتھ بنا آرہا ہے ۔اسے کھڑا کرنا ہے۔بچے اپنا ہاتھ اسکرین کے قریب لا کر کھڑا کرنے لگے ۔اب استانی نے پھر بڑے پیار سے انھیں سمجھاتے ہوئے کہا  کہ جو پیلے رنگ کا ہاتھ اسکرین پر نظر آرہا ہے اسے کلک کریں۔ اب کچھ بچوں کو تو سمجھ میں آیا اور کچھ کو نہیں۔ اور اس کے بعد اب باری تھی کہ استانی کچھ پڑھا رہی تھیں اور سلائیڈ دکھا رہی تھیں کہ استانی کی تصویر نظر آنا بند ہوگئ ۔اب تو بچوں نے بھیں بھیں کرنا شروع کر دیا اور ساتھ کہ دیا کہ ہمیں نہیں پڑھنا۔ ساتھ بیٹھی بچوں کی امی کو تو غصہ آیا کہ تم لوگوں کو ایک تو میں ساتھ بیٹھ کر پڑھا رہی ہوں اور تمھارے نخرے ختم نہیں ہورہے ۔سامنے اسکرین پر دیکھو۔ لیکن وہ بچہ ہی کیا جو ماں کی ایک سُن لے۔اسکرین کو دیکھنے سے صاف منع کر دیا کہ نہیں دیکھنا اسکرین پر جب تک استانی نظر نہ آئیں۔ ماں نے بھی اپنے آپ کو کنٹرول کیا اور ابھی وہ کچھ سمجھاتیں کہ استانی کی شکل اسکرین پر نظر آگئ ۔اب کچھ لمحات ہی گزرے ہوں گے کہ انٹر نیٹ کے کنکشن میں مسئلہ ہوا اور اب اسکرین پر نہ تو تصویر آرہی تھی اور نہ ہی کوئی سلائیڈ۔ اور بچہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ یہ تو اب کھیلنے کا وقت ہے۔ ماں نے پھر کوششیں کرنا شروع کیں اور بالآخر نیٹ بحال ہوا تو ماں باورچی خانہ سے آتی تیز جلنے کی بو پر وہاں سے بھاگی ۔مگر اس وقت تک وہ بڑی محنت ومشقّت سے پکائے  گئےسالن سے ہاتھ دھو بیٹھی تھیں۔ دو آنسو آنکھوں سے نکلے اور اس نے دوبارہ سے پیاز چھیلی و کاٹی۔اب یہ پیاز چھیلنے و کاٹنے کے بعد وہ بچہ کو دیکھنے گئیں تو وہ بچہ یو ٹیوب کھولے بیٹھا تھا۔ اور یہ دیکھ کر ماں کی یہ حالت کہ شاید وہ کچھ اٹھا کر ہی بچہ...

فاصلہ رکھیئے ورنہ محبت ہو جائیگی

عموماً ہم جب کہیں محو سفر ہوتے ہیں تو گاڑیوں کے پیچھے طرح طرح کے قیمتی جُملے یا اشعار ہماری نظر سے گزرتے رہتے ہیں۔ مُجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں کالج میں پڑھتا تھا تو سردیوں کی یخ بستہ ہواؤں سے ٹکر لینے کی بجائے ڈر کے مارے ٹرکوں کے پیچھے چُھپنے کو ہم ترجیح دیتے تھے , اک تو ٹھنڈی ہواؤں سے محفوظ رہتے دوسرا ٹرکوں کے عقب میں لکھے اشعار سے محظوظ ہوتے رہتے تھے۔ کبھی کبھی یہ فضول شاعری (جسے ہم سمجھتے ہیں) بہت کام آ جاتی ہے، درج ذیل شعر میں نے تازہ تازہ ٹرک کے پیچھے سے پڑھا تھا۔آگے کلاس میں جا کر ہماری اُردو کی میم محترمہ شازیہ سجاد صاحبہ نے گاڑی پر سفر کی آب بیتی لکھنے کو کہا تو درج ذیل شعر میں نے لکھ ڈالا تھا اوپر سے خوشخطی کے الگ نمبر مجھے میم کی طرف سے پورے دس کے دس نمبر ملے تھے۔ آج پھر میری گاڑی کے سامنے میرا یار آیا خوشی تو بہت  ہوئی  رونا بھی  بار بار آیا پاکستان میں‌کسی بھی شاہراہ پر چلے جائے وہاں آپ کوبہت سی ایسی گاڑیاں ملیں گی جن کے پیچھے بے حد مزاحیہ اور عشقیہ اور عجیب و غریب فقرے لکھے ہوئے ملیں گے اور کچھ تو بہت پتے کی باتیں‌بھی لکھی ہوئی ملتی ہیں آج ہم آپ کو پاکستان میں موجود رکشوں اور بڑی گاڑیوں پر لکھی گئی شاعری کے کچھ نمونے دکھانے جارہے ہیں امید ہے آپ کو پسند آئیں گے اگر کوئی دلچسپ جملہ آپکی نظر سے بھی گزرا ہو تو ضرور لکھیں ....... " رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے"........ گلوکار ملکو نے یقیناً اپنے اس گانے کا مکھڑا کسی ٹرک کے پیچھے سے ہی لیا تھا۔ کیونکہ یہ جملہ ٹرکوں اور رکشوں پر محفوظ ادب کا ہی ایک شاہکار ہے۔ دوران سفر ہمیں سڑکوں پر چلتے ہوئے ٹرکوں اور رکشوں کے پیچھے ایسے ہی دلچسپ اشعار اور جملے پڑھنے کو ملتے ہیں ۔ ذرائع آمد ورفت اور خاص کر ٹرک کے پیچھے لکھی دلچسپ عبارتیں ۔۔ جسے ڈرائیور استاد اوران کا 'چھوٹا یعنی کلینر 'شاعری کہتے ہیں۔۔ بہت دفعہ آپ کی نظر وں سے گزری ہوگی۔ دراصل یہ عبارتیں ٹرک کے اندر بیٹھے لوگوں کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرتی ہیں ۔ جبکہ ڈرائیورز کا اپنا کہنا یہ ہے کہ ان کی لائف گھر میں کم اور سڑکوں پر زیادہ گزرتی ہے۔ بس سفر ہی سفر۔۔ اور تھکن ہی تھکن۔۔ ایسے میں اگر ایک ڈرائیور دوسرے ڈرائیور کو اپنے جذبات سے آگاہ کرے بھی تو کیسے۔۔۔ پھر چلتے چلتے دوسروں کو ہنسنے اور خود کو ہنسانے کے لئے یہ عبارتیں مفت کا ٹانک ہیں۔ نواں آیاں ایں سوہنیا؟،۔۔۔ “فاصلہ رکھیے ورنہ محبت ہو جائے گی”،” شرارتی لوگوں کے لیئے سزا کا خاص انتظام ہے”،”ساڈے پچھے آویں ذرا سوچ کے”،”دیکھ مگر پیار سے”،”پیار کرنا صحت کے لیئے مضر ہے”،” صدقے جاؤں پر کام نہ آؤں”،” باجی انتظار کا شکریہ”۔۔۔! دانشوری کے ان اعلیٰ نمونوں کو پڑھ کر ایک بارتو بندا مُسکرا ہی اٹھتا ہے...... ؎ہماری 'سڑک سے دوستی ہے سفر سے یاری ہے، دیکھ تو اے دوست...

صلائے’’آم‘‘ہے یارانِ۔۔۔۔۔۔

مسئلہ فیثا غورث کی طرح میرے لئے یہ مسئلہ بھی ابھی تک مشکل اور حل طلب ہے بلکہ ایک معمہ ہے کہ آم کھایا جاتا ہے یا چوسا کم چوپا جاتاہے۔ایک دانشور دوست سے دست بستہ ہوا تو بڑے ہی فلسفیانہ انداز میں اس طرح گویا ہوئے کہ آم کھائو گٹھلیاں نہ گنو۔جواب تسلی بخش نہ پا کر تشفی قلب کے لئے محلہ کے پرانے بزرگ شیخ صاحب سے معمہ کے حل کے لئے عرض کیا تو انہوں نے بڑے ہی سیدھے سادھے انداز میں شیخانہ حل بتایا کہ دیکھو بیٹا اگر تو اپنے ’’پلے‘‘ سے خریدا جائے تو کھایا جاتا ہے وگرنہ ’’چوپا جاتا ہے۔مجھے حیران و ششدر دیکھتے ہوئے خود ہی تفصیل بتانے لگے کہ دیکھو بچے جب آپ اپنے گھر سے کھاتے ہو تو بڑی احتیاط سے اور کم کم کھاتے ہو لیکن جب کسی دوست کی شادی پر کھاتے ہو تو کیا حساب رکھتے ہو؟بلکہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ دوست تو اس وقت تک کھاتے رہتے ہیں جب تک معدہ اور آنکھیں بند نہ ہو جائیں۔اسی لئے آم خریدیں ہوں تو کھائے جائیں گے وگرنہ ’’چوپے‘‘جائیں گے۔آئی بات سمجھ میں۔اگر دوستو!آپ کی سمجھ میں بھی بات آجائے تو نکل پڑو ایسے سفر پر جس کا اختتام ملتان میں کسی دوست کے ہاں ہوتا ہو۔کیونکہ میں نے تو اس دن سے یہ فلسفہ پلے باندھ لیا ہے اور جب کبھی بھی مینگو پارٹی ہو تو آم کھاتا نہیں چوپتا ہوں،گھٹلیوں کا حساب دوست احباب لگا لیتے ہیں۔ کہتے ہیں آم اور سیب کے کھانے میں فرق صرف تہذیب کا ہوتا ہے۔آم واحد پھل ہے جسے جس قدر بدتمیز ہو کر کھایا جائے اتنا ہی مزہ آتا ہے۔آم کھانے کے انداز نے تو بڑے بڑوں کے پول کھول دئے ہیں اب آپ چچا غالب کی شائستگی کا ہی اندازہ لگا لیں کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ کا مرغوب پھل کون سا ہے؟تو کہنے لگے کہ آم ،مگر دو شرطوں پہ۔وہ کون سے سرکار، تو کہنے لگے کہ میٹھا ہو اور ڈھیر سارا ہو۔جب کبھی بھی دوستوں کی طرف سے آم کا ’’چڑھاوا‘‘آتا تو آستین اوپر چڑھا لیتے اور خوب جی بھر کر کھاتے۔اسی لئے غالب آموں کے موسم میں اکثر بدتمیز ہی دکھتے ۔شکر ہے غالب میاں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ملتان میں ہوتے تو صاحبِ دیوان ہونے کی بجائے ’’صاحبِ گلشن آم‘‘ہوتے اور بہت ہی ’’عام‘‘ ہوتے۔حیات غالب کا ایک اور واقعہ یاد آگیا کہ ایک بار میاں غالب اپنے دوستوں کے ساتھ گھر کے باہر چبوترے پر تشریف فرما تھے کہ ایک گدھا آم کے چھلکوں کے ڈھیر تک گیا،اسے سونگھا اور چلتا بنا۔دوستوں نے ازراہِ تفنن غالب پہ جملہ کسا کہ دیکھو غالب میاں’’گدھے بھی آم نہیں کھاتے‘‘۔غالب برجستہ بولے کہ ’’جی ہاں واقعی گدھے ہی آم نہیں کھاتے‘‘۔ لو جی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ،غالب تک تو بات ٹھیک تھی میں نے تو ایک کتاب میں یہ بھی پڑھ رکھا ہے کہ علامہ اقبال کو بھی اس افضل الاثمار یعنی آم سے رغبتِ خاص تھی۔ایک سال حکیم صاحب نے علامہ صاحب کو ہدائت فرمائی کہ آموں سے...

ہمارے بلاگرز