ٹیگ: انارکی

اہم بلاگز

معصوم آوارہ کتوں کا دیس اور وحشی بچے

میں چائے کی میز پر بیٹھا موبائل کی اسکرین پر اسکرول کررہا تھا کہ اچانک ایک وڈیو نظروں کے سامنے سے گزری اور میں لمحے بھر کے لیے دم ساکن ہوگیا۔ وڈیو میں دیکھا کہ ایک 7سالہ بچی سنسان گلی سے گزررہی تھی کہ درجن بھر کے قریب آوارہ کتوں نے ایک دم حملہ کردیا اور اُس بچی کو بھنبھوڑ کر نوچ کھایا۔ میں نے جب سے یہ ویڈیو دیکھی ہے اس وقت سے اسی شش و پنج میں ہوں کہ کچھ لکھوں یا اندر ہی اندر کڑھتا رہوں؟ اس دیس کی زینبوں کے لئے دو ٹانگوں والے کتے ہی کیا کم تھے کہ اب ان گلیوں میں چار ٹانگوں والے 'معصوم' اسٹرے ڈاگز' بھی ان کے لیے وبال جان بن گئے ہیں۔مگر 'معصوم آوارہ کتے' اور وہ بھی قصور وار؟ نا بابا نا، آپ تو ایسا سوچیئے گا بھی مت۔ بقول میرے وطن کی چند خوش پیراہن خواتین، یہ "اسٹریٹ ڈاگز" تو انتہائی معصوم جانور ہیں، وہ تو انسانوں کے بدتہزیب و خونخوار بچے ہی انہیں اتنا تنگ کرتے ہیں، ایسی سنگ باری کرتے ہیں کہ "بیچارے ڈاگز" سیلف ڈیفنس میں انہیں کاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اب اس سرخ لباس میں ملبوس بچی کو ہی لیجیے، اس کا کیا کام تھا کہ یہ ان "معصوم" آوارہ کتوں کی راجدھانی میں اس طرح دندناتی پھرے؟بھلے سے اس نے ان کو نہیں چھیڑا تو کیا ہوا، اس کے بھائی بند تو اکثر ان کو پتھر مارتے ہی ہونگے، اب اگر آج ان بیچارے آوارہ کتوں نے اپنا حساب برابر کر بھی دیا تو کونسی قیامت ٹوٹ پڑی، ہیں جی؟ لیکن اس صورتحال سے گزرنے والی یہ زینب اکیلی نہیں اور بقول وفاقی وزارت صحت حکام، پاکستان میں ان "معصوم آوارہ کتوں" کی تعداد صرف ڈیڑھ کروڑ ہے، جن میں سے پچیس لاکھ تو صرف صوبہ سندھ کے باسی ہیں۔ میرے وطن کے یہ "انوسینٹ اسٹرے ڈاگز" ہر سال تقریباً دس لاکھ افراد کو 'بحالت مجبوری' کاٹ لیتے ہیں جن میں سے 80 فیصد تو صرف یہ "وحشی" بچے ہوتے ہیں جن کے سر اور چہرے ہی ان بیچارے کتوں کی زد پر آتے ہیں۔ یہاں میرا وجدان کہتا ہے کہ اصل کہانی ان دس لاکھ بد نصیبوں کے زخموں اور تکلیفوں سے ہی جڑی ہوئی ہے۔ بھلا وہ کیسے؟وہ اس لیے کہ ان دس لاکھ سگ گزیدگی کے شکاروں کو اینٹی ریبیز ویکسین کی کم از کم چار ڈوزز اور اس کے ساتھ ساتھ امیون گلوبلن لگنا بہت ضروری ہے تاکہ انہیں ریبیز کی تکلیف دہ موت سے بچایا جا سکے۔ برسبیل تذکرہ پاکستان میں کم از کم پانچ ہزار افراد ریبیز کا شکار ہو کر انتہائی اذیت ناک موت سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔فرض کر لیجئے کہ سگ گزیدگی کے شکار ایک شخص کی ویکسینیشن پر اوسطاً دو ہزار روپے خرچہ آتا ہے تو میرے حساب کتاب کے مطابق یہ رقم دو ارب روپے بنتی ہے۔ جی ہاں دو ارب روپے کی اینٹی ریبیز ویکسین ان دس لاکھ ستم رسیدہ اور سگ گزیدہ افراد کے لیے ہر سال منگوائی جاتی ہے اور وہ بھی ہمارے پرامن ترین ہمسائے ہندوستان سے جہاں کے ادارے بھارت بائیوٹیک اور سیرم...

اسلامی معاشرے میں عورت کا مقام

تعارف: قائد اعظم کی مادر علمی جامعہ سندھ مدرستہ الاسلام میں شعبہ کمپیوٹر سائنس کے طالبعلم ہیں۔ موجودہ وقت میں اسلامی معاشرے میں عورت کی حیثیت کو اجا گر کرنا نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ معا شرہ کی ترقی اور خو شحالی کا رازبھی اس میں پوشیدہ ہے۔اسلام وہ مذہب ہے جو بنی نوع انسان کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس وقت مغربی دنیا کا نظریہ اسلام کی اصل بنیا دوں کو ہلا رہا ہے۔ مغرب کی رائے میں اسلام ایک تنگ نظر اور پستی کا شکار مذہب ہےجو خواتین کو انکے بنیادی حقوق سے دور کرتا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے بلکل برعکس ہے۔ اسلام کے دو بنیادی ذرائع قرآن و حدیث میں عورتوں کی حیثیت واضح طور پر بیان کر دی گئ ہے۔ ڈاکٹر طاہر حمید تنولی کہتے ہیں کہ روزِاول سے اسلام نے عورت کے مذہبی،سماجی، معاشرتی،قانونی،آئینی، سیاسی اور انتظامی کردار کا نہ صرف اعتراف کیا ہےبلکہ اس کے جملہ حقوق کی ضمانت بھی فراہم کی۔ تاہم یہ ایک المیہ ہے کہ آج مغربی اہل علم جب بھی عورت کے حقوق کی تاریخ مرتب کرتے ہیں تو اس باب میں اسلام کی تاریخی خدمات اور بے مثال کردار سےیکسر صرف نظر کرتے ہوئےاسے نظر اندازکردیتے ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں عورت بھی اسی طرح معاشرے کا اہم فرد قرار دی گئی ہے جس طرح معاشرے میں مرد اہمیت کا حامل ہے۔ کسی طرح سے بھی عورت کو کمتر جنس قرار نہیں دیا گیااور نہ ہی اسے مرد سے کم درجہ دیا گیا ہےیہ کہنا غلط نہیں ہو گاکہ اسلام عورت کو ہر لحاظ سے معاشرے میں مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔اسلام سے قبل عورت کو اپنے خاندان کے لیے شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا تھا۔ انہیں نہ صرف اپنے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا بلکہ انہیں اپنے بنیادی حقوق کی آگاہی سے بھی دوررکھا جاتا تھا۔ بعض قبائل میں بچیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ گاڑ دینے کا سلسلہ عام تھااور بالغ لڑکیوں کی حیثیت نہ ہونے کے برابر تھی۔

حضرت محمد ﷺ

انسان اخلاقی لحاظ میں کسی نہ کسی جزو میں کمزور پڑ جاتا ہے یا تو جذبات کی رو میں بہہ کر ایسا کر بیٹھتا ہے جس کی شرمندگی اسے زندگی کے کسی نہ کسی حصہ میں اٹھانی پڑتی ہے یہ انسان کی زندگی کا کمزور ترین پہلو ہے کچھ لوگ جذبات کو کنٹرول کر کے زندگی بھر کی شرمندگی سے بچ جاتے ہیں دنیا میں بہترین اخلاق کے بہت سے لوگ آۓلیکن انکی زندگیوں میں ایسی کمزوریاں بھی نظر آتی ہے جو انکے اخلاق کے عکس کو دھندلا کر جاتی ہے۔ لیکن ہمارے نبی ﷺ اخلاق کے بلند ترین مقام پر موجود ہے جہاں جذبات کی ضرورت پڑی وہاں جذبات بھی نظر آتے ہیں انکے بیٹے قاسم کا انتقال ہوا تو آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں تو صحابہ نے پوچھا کہ آپﷺ رو رہے ہیں ؟ تو آپﷺ نے جواب دیا کہ رونا فطری چیز ہے اسلیے میرے بھی آنسو رواں ہوئے۔ نماز پڑھتے ہوئے حضرت حسن و حسین پیٹھ پر چڑھ جاتے اور آپ تب تک سجدے میں رہتے جب تک وہ اتر نہیں جاتے غرض یہ کہ آپ ﷺ بچوں کے احترام کو بھی ملحوظ خاطر رکھتے حضرت زید بن حارث فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے کبھی ان کو ڈانٹا یا جھڑکا نہیں۔ زندگی میں اتنی مشکلات تکلیف کے باوجود ہر رشتے کو آپ صلی اللہ وسلم اعتدال سے لے کر چلے اتنی آزمائشوں کے باوجود بھی آپ ﷺ صحابہ کے درمیان بیٹھ کر مزاح بھی کیا کرتے تھے ایک دفعہ تمام صحابہ کرام دسترخوان میں بیٹھ کر کھجور تناول فرما رہے تھے اور گٹھلیاں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھتے جا رہے تھے توآپﷺ نے کہا کہ علی نے اتنی کھجور تناول فرما لیں۔ اور جب آپ صلی اللہ وسلم کو غصہ آتا تو اس پر قابو پانے کی کوشش کرتے ایک دفعہ ایک بدوی نے مسجد نبوی میں پیشاب کردیا صحابہ کرام نے اسے ڈانٹا چاہا تو آپ نے صحابہ کو منع کردیا اور خود وہاں پر پانی بہایا زندگی کے تمام معاملات میں احساسات و جذبات متوازن رکھنا آپﷺ کی زندگی کا نچوڑ ہے ۔ایک کافر عورت آپ پر کچرا پھینکتی ہے لیکن ایک دن نہ پھینکنے کی صورت میں اس کی عیادت کرنے پہنچ گئے وہ آپ کے خلاف سے متاثر ہو کر ایمان لے آئی۔ انتقام نہ لینا معاف کر دینا آپﷺ کی صفت ہے اسی خصوصیات کی وجہ سے آپ کے دشمن آپ کے دوست بن گئے آپ ہر معاملے میں عدل و انصاف سے کام لیتے تھے آپ کا رویہ آقا غلام امیر فقیر سب سے ایک سا ہوتا تھا کسی کو اس کے رتبے کی بنا پر اہمیت نہیں دیتے بلکہ اس کے تقوی کی بنا پر اہمیت دیتے قبیلے کی ایک امیر خاتون نے چوری کر لی آپ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو چند لوگوں نے سفارش کرنے کی کوشش کی تو آپ نے جواب دیا کہ اگر اس کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کو سزا دیتا آپ صل وسلم نے اللہ کے حکم کو اپنی زندگی کے...

سرزمین پاکستان

سرزمین پاکستان پر پہلے دن سے ہی دشمنوں نے اپنے ناپاک عزائم کے پنجے گاڑنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے جسکا منہ بولتا ثبوت پاکستان کا دولخت ہونا ہے بات یہاں پہنچ کر بھی بس نہیں ہوجاتی یہ سلسلہ چلتا ہی چلا جا رہا ہے اور پاکستان کے وجود کو زخموں سے چور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ دہشت گردی کی آڑ میں پاکستان نے جانی و مالی اور ہرطرح کے نقصان کا سامنا کیا ہے۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہماری ماءوں نے ایک سے بڑھ کر ایک محب وطن پیدا کیا ہے جو اپنی دانست میں ملک و قوم کا سرفخر سے بلند کرنے کیلئے کوشاں رہتا ہے اور کوئی ایسا موقع نہیں جانے دیتا کہ جہاں اسکی کارگردگی پاکستان کا سبز ہلالی پرچم سب سے بلند لہرائے۔ جنرل ضیاء الحق شہید ایک غیر ملکی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی بہت ذہین ہیں (ساتھ یہ بھی کہا کہ میں اپنی تعریف نہیں کر رہا)۔ یوں تو انکی اس بات کا حوالہ ان کی اپنی ذاتی دانشمندیوں سے مل جائے گا لیکن یہ ہمارا عمومی تاثر ہے ۔ بد قسمتی سے ہم وہ قوم ہیں جس سے ساری دنیا گھبراتی ہے اور ہم ساری دنیا سے گھبراتے ہیں۔ یوں تو پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والوں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن اس فہرست میں ایک نام ایسا بھی ہے کہ جس کی مرہون منت آج پاکستان ساری دنیا کے ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے جو ایٹمی طاقت کے حامل ہیں، جن کی بدولت ہمیں اپنی بقاء کیلئے کسی سے بھیک نہیں مانگنی پڑتی ، جن کی وجہ سے ہمارے دشمن ہم سے شدید نفرت کے باوجود ہم سے مسکراتے ہوئے ہاتھ ملاتے ہیں ، یہ وہ فرد ہیں کہ جنہوں نے ملک کا نا صرف دفاع کو مضبوط ترین بنایا بلکہ بوقت ضرورت اپنی خود مختاری کو بھی پاکستان پر نچھاور کردیا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پہچان ایٹم بم نہیں بلکہ محسن ِ پاکستان کے طورسے ہوئی ۔ آپ نے قوم پر ایسے احسان کئے ہیں جو ہم عوام تو کیا ادارے بھی اسکا بدلہ نہیں چکا سکیں گے۔ محترم افتخار عارف صاحب کا یہ شعر جو شائد ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی خدمات کے اعتراف میں ہی لکھا گیا مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے کچھ عرصہ قبل تک بہت ساری ایسی باتیں ہواکرتی تھیں جو ملکی سالمیت کی خاطر منظر ِ عام پر نہیں لائی جاتیں تھیں (اور یقینا جن کی بقاء کی خاطر کیسی کیسی قربانیاں دی گئی ہونگیں )اورجن میں سے اکثر ایسے راز ہیں کہ جوپیوند خاک ہونے والوں کیساتھ ہی دفن ہوچکے ہونگے اور ہوتے چلے جائینگے ۔ دورِ حاضر میں تو جیسے کوئی رازنامی لفظ کو لغت سے نکال ہی دیا گیا ہے، ہر بات کی تو کیا ہر ہر عمل کی تشہیر ہورہی ہے اور چند لمحوں میں دنیا کیا کچھ دیکھ لیتی ہے، اس وجہ سے اہم صرف چند لمحوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ، کسی خوب کہہ رکھا ہے کہ آنکھ...

اللہ کی نازل کردہ تعلیم

صحیح رہنمائی صرف اللہ کی نازل کردہ تعلیم میں مل سکتی ہے لطیف النساء انسان دنیا میں کتنی بھی ترقی کرلے، کوئی بھی عہدہ حاصل کرلے، کتنا ہی کمالے، ہزاروں نوکر چاکر رکھ لے، بلڈنگیں بنا لے۔ مگر پھر بھی اکثر و بیشتر اسے دل کا اطمینان نصیب نہیں ہوتا، کوئی نہ کوئی فکر، ٹینشن، بیماری یا پسندیدہ خوراک یا مشاغل سے پرہیز کرنا پڑتا ہے۔ دل کا سکون ہی تلاش کرتا رہتا ہے۔ بسا اوقات نیند لانے والی گولیاں بھی بے اثر ہو جاتی ہیں۔ عموماً بڑی عمر کے لوگ زیادہ اس کیفیت سے گزرتے ہیں جبکہ جوان اپنی مصروفیات میں مست ہوتے ہیں۔ مگر سکون اور اطمینان صرف وہی لوگ پاتے ہیں جو صحیح رہنمائی کیلئے شروع سے ہی اللہ کی نازل کردہ کتاب "قرآن"سے جڑے ہوتے ہیں ۔ احکام الٰہی کی پابندی کرتے ہیں ۔ شریعت پر چلنے کی اپنی سی پوری کوشش کرتے ہیں اور عموماً داعی کی حیثیت سے لوگوں کو بھی یہی راہنمائی دیتے ہیں صحیح راہنمائی قر آن کی تعلیم سے ہی مل سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ انتہائی پریشانی یا مصیبت میں جب بندہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے دعا مانگتا ہے ۔ قرآن پڑھتا ہے ترجمہ اور تفسیر سمجھنے کی اپنی سی کوشش ہی کرتا ہے کہ اس کو قلبی سکون ملنے لگتا ہے۔ زندگی کے اتنے بکھیروں میں انسان کہیں گم ہو کر رہ جاتا ہے ۔ مگر اچانک کو ئی واقعہ ، کسی کی موت، کوئی حادثہ ، اسے ہلا کر رکھ دیتا ہے ۔ پھر وہ سوچتا ہے کہ یہ زندگی بھی کیا عجیب چیز ہے ۔ایک پل میں ختم ! گویا سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں ۔ کل شام تیسر ی منزل سے ایک محترمہ ہمارے گھر آئیں دوبیٹوں کی ماں ہیں جو سترہ سال سے کم کے ہیں ۔ میرے شوہر کی طبیعت معلوم کرنے ۔ انتہائی اداس لگ رہی تھیں میں نے پوچھا خیریت ہے آپ کیسی ہیں؟ کہنے لگیں والدہ کا اچانک انتقال ہو گیا تھا ، سوا مہینے بعد آئی ہوں ۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی اور انتہائی افسوس بھی کہ مجھے خبر تک نہ ہوئی ۔ ہرکوئی یہی سمجھتا رہا کہ فلاں نے انہیں بتا دیا ہوگا ۔ وہ کہنے لگیں انتہائی غیر متوقع موت تھی میں اکلوتی بیٹی ہوں اور دو بھائی ہیں ۔ میرے لئے امی ہی سب کچھ تھیں میں بہت ڈر رہی ہوں اور یہ صدمہ برداشت نہیں کر پارہی ہوں ۔موت یوں اچانک جدائی ڈال دے گی میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا ۔ میں نے کہا انتہائی غم اور انتہائی خوشی میں بھی ہمیں صبر کرنے اللہ کی حمد کرنے اور اسکی تسبیح کرتے رہنے کا حکم ہے کہ اس کے فضل سے ہی سارے کام انجام پاتے ہیں اور ہمیں نہ صرف آگاہی دیتے ہیں بلکہ آخرت کی تیاری کے ڈھنگ سکھانے اور اللہ کی نازل کردہ کتاب سے راہنمائی لینے پر آمادہ کرتے ہیں کہ کتابِ الٰہی کی تعلیم ہی ہمیں صحیح راہنمائی عطا کرتی ہے ۔ ایک ایسی ایمانی قوت جس سے دل سکون پاتے ہیں، روح مطمئن...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

ماسک اور خول

ابن سینا نے اپنی مشہور کتاب’’القانون فی الطب‘‘میں 1025 میں ہر قسم کی وبائی امراض کے بارے میں ’’قرنطینہ‘‘کا تصور پیش کیا۔اس عمل کے لئے انہوں نے لفظ ’’اربعینہ‘‘یعنی چالیس روز استعمال کیا۔بارھویں صدی میں جب اس کتاب کا اطالوی زبان میں ترجمہ ہوا اس چالیس دن کا نام قرنطینہ Quarantenaپڑا،جس کے معنی اطالوی زبان میں چالیس روز ہی ہوتے ہیں۔تاریخ طب میں اب سینا اور البیرونی کی ملاقات کا احوال بہت جگہ بیان کیا گیا ہے۔اور اس ملاقات کی وجہ شہرت دراصل اس دور میں پھیلی ہوئی وباطاعون اور احتیاطی تدابیر ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جب البیرونی مصافحہ کرنے اور گلے لگانے کے لئے آگے بڑھے تو ابن سینا نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔نہ صرف انکار کیابلکہ سرکہ کے پانی کے ساتھ صاف کپڑے لانے کو بھی کہا تاکہ البیرونی اپنے ہاتھ اور چہرہ وغیرہ کو مکمل طور پر صاف کر لیں۔البیرونی حیران ہوئے اور وجہ پوچھی ۔جواب ملا کہ جہاں کالی موت(طاعون)پھیلی ہوئی ہو وہاں گلے لگنے اور ہاتھ ملانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ابن سینا نے اس وبا کو روکنے کے لئے چند اور احتیاطی تدابیر بھی پیش کیں جو آج بھی من و عن صحیح ثابت ہو رہی ہیں۔ لوگوں میں خوف وہراس نہ پھیلایا جائے۔ ہاتھ نہ ملایا جائے۔ میل جول کو محدود کر دیا جائے۔ بازاروں اور مساجد کو بند رکھیں۔ ہجوم نہ کریں، کرنسی کو بھی سرکہ سے دھوکر یا صاف کر کے استعمال کیا جائے۔ مسواک کو بھی سرکہ سے دھو کر استعمال کریں اور مریض کو چالیس روز تک الگ رکھا جائے۔ ان دو دانائوں کی ملاقات کے نتیجہ کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ وبائی امراض کے دنوں میں ہمیں خاص احتیاط کی ضرورت رہتی ہے،خاص کر ہاتھوں کو دھونا اور چہرے کو ڈھانپ کر رکھنا۔موجودہ سائنسی دور میں سائنس نے یہ سہولت فراہم کر دی ہے کہ ہمیں اب کپڑے سے منہ ڈھاپنے کی بجائے فلٹریشن والا ایک ماسک فراہم کر دیا ہے۔جس کے بے شمار فوائد ہیں۔کپڑے کا یہ وہ ماسک ہے جو ہر کوئی دیکھ پاتا ہے۔لوگ دیکھتے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ اس شخص نے بیماری سے بچائو کی احتیاطی تدابیر کر رکھی ہے،یا پھر اس کا مقصد ارد گرد موجود اپنے پیاروں کو محفوظ رکھنا ہے۔لیکن ایسے لوگوں کی پہچان کیسے ہو جنہوں نے اپنے چہروں پر منافقت وبے حسی کے خول در خول سے ڈھانپ رکھا ہے۔مگر مخاطب ہوں تو لہجہ ایسا شیریں کہ کانوں میں شہد گھل گھل جائے۔وہ تو عرصہ دراز بعد پتہ چلتا ہے کہ ۔۔۔۔بغل میں چھری اور منہ میں رام رام۔ لوکی مینوں چہرے اتے خول چڑھا کے ملدے نیں منہ دے کنے مٹھے پر دل دے کنے کوڑے نیں۔ ایسے ابن الوقت لوگوں کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ موقع کی مناسبت سے ماسک اتار لیتے ہیں۔وہ شخص جو چند دن قبل آپ کے وارے وارے جا رہا تھا اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کسی وقت بھی حزب مخالف کے پلڑے میں بیٹھا دکھائی دے گا۔دراصل اسے آپ سے نہیں اپنے مفاد سے پیار تھا۔ماسک اس نے پہلے سے ہی چڑھا رکھا تھا تاہم آپ کا اعتماد تھا جو...

معاشرہ بدلے ہم کیوں؟

فیصل آبادانٹر نیشل ایئر پورٹ جہاز لینڈ کرتے ہی جو سب سے پہلا خیال دل میں سمٹ کر آیاوہ تھا احساس تفاخر کہ ہم اپنے وطن میں قدم رنجہ فرما ہو چکے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ ہمارے اندر کی پاکستانی روح بھی بیدار ہو چکی تھی جس کا اندازہ ہم نے اس بات سے لگا یا کہ ابھی ٹھیک سے جہاز رکنے بھی نہ پایا تھا کہ ہر کوئی اپنی سیٹ چھوڑ،سیٹ کے اوپر کیبنٹ سے سامان نکالنے کے لئے بے تاب ہوگیا۔ہر کوئی اس کوشش میں تھا کہ جہاز کا دروازہ کھلنے سے بیشتر ہی وہ چلتے جہاز سے چھلانگ لگا کر باہرچلا جائےاور تو اور وہ مسافر جو دوحہ سے میرے ساتھ والی نشست پر براجمان انتہائی وضع قطع اور نفیس گفتگو کرنے والا شخص بھی ایک پولیس مین کے کہنے پر جب لائن توڑے غیراخلاقی طور پر سب کو لائن میں چھوڑ کر جانے لگا تو نہ جانے کیوں میں نے اس کا بازو تھام کر ہمت جتا کر اسے مخاطب کیا،کہ حضور کیا ہم نے دوحہ ایئر پورٹ پر ایسا کیا؟وہاں تو ایک شرطہ جب ’’جھلا‘‘کہتا ہے تو سب کے سب شریف زادوں کی طرح ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر محمود وایاز کی یاد تازہ کر دیتے ہیں تو پھر آپ یہاں اپنے ملک میں کیوں ایسا کر رہے ہیں کہ لائن میں کھڑے تمام لوگوں کو چھوڑ کر آپ غیر قانونی و غیر اخلاقیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔شخص کی سمجھ میں میری بات آگئی اور اپنی جگہ واپس چلا آیا،تاہم وہ پولیس مین مجھے گھورتے ہوئے پھر سے اسے بلانے لگا کہ جب میں کہہ رہا ہوں تو آپ کیوں نہیں آتے؟گویا وہ پولیس مین نہ ہوا کسی ملک کا وزیراعظم ہو۔ میری طرح آپ میں سے بھی بہت سے لوگوں کو ایسے بے شمار حالات و واقعات کا سامنا رہا ہوگا۔ایک اور واقعہ یاد آگیا کہ ایک بار میرے ساتھ انگلینڈ کی فلائٹ سے ایک شخص سفر فرما رہا تھا،بات بات پہ وہ ایک جملہ ضرور کہتا کہ انگلینڈ میں تو ایسا نہیں ہوتا۔لیکن یونہی ہم ائیر پورٹ سے باہر نکلے اس نے سب سے پہلا جو کام کیا وہ ہاتھ میں پکڑی پانی کی خالی بوتل ایسے پھینکی جیسے کوئی ناجائز بچہ کچرے کے ڈھیر پر پھینکتا ہے۔مجھ سے رہا نہ گیا تو میں مسکراتے چہرے سے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ــ’’کیا انگلینڈ میں ایسے ہوتا ہے؟‘‘۔ذرا شرمندہ سا ہوا اور بوتل اٹھا کر مناسب جگہ پر رکھ دی۔ میں نے جو بات پاکستان سے باہر رہتے ہوئے محسوس کی وہ یہ ہے کہ ہر پاکستانی چاہتا ہے کہ اس کے ملک کی تقدیر بدلے،پاکستان کا سیاسی و معاشی نظام مستحکم ہو،پاکستانی معاشرہ ایک مثالی معاشرہ ہو،ہم تقلید ِ دنیا اور تمثیلِ عالم ہوں۔لیکن بقول اقبال خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق میں جس ملک میں رہائش پذیر ہوں وہاں پر بھی قانون کی اس قدر حکمرانی ہے کہ رات کے پچھلے پہر بھی جب کہ ٹریفک سگنل پر کوئی پولیس والا اپنے فرائض منصبی پر نہ بھی معمور ہو،وہاں بھی لوگ سرخ سگنل...

اے قائد تم سا کوئی نہیں

قائدِ اعظم ایک دیانتدار اور اصول پسند لیڈر تھے جیسا وہ پاکستان چاہتے تھے ان کی رحلت کے بعد ویسا نہ بن سکا ،ہندووں اور انگریزوں سے تو آزادی حاصل کر لی پر یہاں  کے جاگیرداروں اور چوہدریوں سے یہ ملک چھٹکارہ حاصل نہ کر سکا، انہوں اس ملک کا وہ حال کردیا کہ اللہ معافی اور بچا کچا برا حال ملک کے ایک بڑے ادارے نے کر دیا حرام حلال کی تمیز ہی ختم ،انصاف کا بول بالا ہی نہیں۔ قائد کا تصور پاکستان محض نصابی باتیں اور علمی مباحث ہیں نہ قوم بانئی پاکستان کے تصور کو عملی جامہ پہنانے میں سنجیدہ ہے اور نہ ہی وہ ایسی جماعتوں یا گروہوں کی حمایت کرتی ہے جو قائد اعظم کے پاکستان کو ان کے خواب کے مطابق اسلامی،فلاحی اور جمہوری ریاست بنانے میں مخلص ہیں۔ اے قائد ہم آپ کو کیا جواب دیں گے کیونکہ آپ نے پاکستان وڈیروں اور جاگیر داروں کے لیے نہیں بنایا تھا یہ ملک غریب عوام کے لیے بنا تھا۔ آپ چاہتے تھے کہ پاکستان میں انسانی مساوات،جمہوریت، اسلامی عدل،قانون کی حکمرانی اور معاشی انصاف ہو مگر اے قائد پاکستان میں تو انسانی زندگی سب سے ارزاں شے ہے،یہاں انسان کیڑے مکوڑوں کی مانند مرتے ہیں،کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا نہ انسانی حقوق کی انجمنیں سڑکوں پر آتی ہیں اور نہ منتخب اراکین اسمبلی دکھ درد کا اظہار کرتے حکومت نام کی شے صرف حکمرانوں،سیاستدانوں اور بالائی طبقوں کی خدمت اور حفاظت کے لیے بنائی گئی ہے۔  میرٹ کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں ہر شعبے اور اداروں میں کڑوروں روپے کی رشوت دے کر جاب ملتی اور پڑھے لکھے نوجوانوں کے بجائے جاہل جٹ کو عمدہ عہدوں سے نوازہ جاتا اور ہمارے اچھے پڑھے لکھے نوجوان بیرون ملک سدھار جاتے اور جو یہاں رہتے وہ پرائیویٹ جاب کرتے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا خان سفارش خان ہے جس کی ضرورت سرکاری ہسپتال سے لے کر قانونی سہولت حاصل رہتی ہے،اپ نے قائد پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب ہونے کے بعد جو مشہور زمانہ تقریر کی تھی اس میں پاکستان سے سفارش کلچر،دھونس،کنبہ پروری اور ذخیرہ اندوزی کو ختم کرنے کے عہد کا اعلان کیا تھا لیکن افسوس کہ ہر آنے والا حکمران باتیں تو تبدیلی کی کرتا ہے مگر ان پر عمل نہیں کرتا،اگر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو اس نظام میں بنیادی تبدیلیاں کر کے ہر قدم پر قانون و آئین کی حکمرانی کو سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔عوام بھی اپنا کردار ادا کریں ،ان کو یہ بات سوچنا چاہیے کہ ان کے آباؤ اجداد نے جس طرح قائد کی قیادت میں انگریز جیسے جابر حکمرانوں کو اپنے مطالبات کے سامنے جھکا دیا تھا اور ہندوؤں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا تو آج بھی یہ اپنی طاقت استعمال کر سکتے ہیں،مگر یہ تو بے حسی کی چادر اوڑھے سو رہے۔ "عوام یہ سمجھ لیں کہ فرشتوں ان کی مدد کو نہیں اترے گے"قائد اعظم کی رحلت کے بعد سے  لیکر اب تک کوئی بھی...

اسلامی تہذیب میں ہی عافیت ہے

پہلے یہ تھا کہ انہونے واقعات کبھی کبھی رونما ہوتےاور طبیعت و سماعت پر گراں گزرتے تھے ان کا اثر فرد سے لے کر خاندان اور پھر معاشرے پر پڑتا اور پھر کئی ہاتھ بھی اصلاح کے لئے موجود رہتے جس سے معاشرہ کسی حد تک سدھار کی شکل اختیار کیے ہوئے تھا۔ مگر اب زمانہ اس نہج پر ہے کہ ایسے واقعات انہونے نہیں رہے بلکہ سچ پوچھیئے تو یہ واقعات اب ہمارے لئے تھرل اور مزے کے سوا کچھ نہیں ابھی حال ہی میں نور مقدم اور مینار پاکستان کا واقعہ اس کی گواہی ہیں۔  کچھ ایماندار اور حساس دل  حضرات ضرور ان کا اثر دل پر لے کر افسردہ ہوتے ہیں اور ان کے تدارک کی فکر میں خود کو گھلا رہے ہیں مگر اکثریت پر بے حسی طاری ہے۔یقین نہیں تو سوشل میڈیا پر جا کر دیکھ لیں ادھر واقعہ رونما ہوا نہیں ادھر سب اپنے چینلز کی دکان کھول کر بیٹھ گئے اور لگے بارہ مسالوں کے ساتھ اپنی چاٹ بیچنے!کسی کی بے عزتی دکھ اور نقصان سے کسی کو سروکار نہیں ۔ اگر کوئی صاحب شعور عقل سے حالات اور واقعات کا جائزہ لے تو یہ ایک اندھے کو بھی نظر آجائے گا کہ یہ تو پری پلان کام ہو رہا ہے ایک واقعہ رونما ہوتا ہے اور چینلز مالکان واقعے کےمندرجات کے پیچھے ایسے بھاگتے ہیں جیسے ٹرین جب اسٹیشن پر رکتی ہے اور قلی مسافروں کا سامان ڈھونے کے لیے ٹرین کے پیچھے بھاگتے ہیں کچھ دیر میں رش چھٹ جاتا ہے اور یہ حضرات دوسری ٹرین کا انتظار کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل ہماری عوام جو پہلے ایسے بے حیائی کے واقعات سن کر دہل جایا کرتی تھی اب ایسی بےحس کیوں کر ہو گئ۔ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایک ہی بات کی گردان مسلسل کی جائے تو اس کی افادیت ختم ہوجاتی ہے اور کان اسے سننے کے اور آنکھ اسے دیکھنے کی عادی ہوجاتی ہے اور ہمارے ہاں تو معاملہ یہ بن گیا ہے کہ ایک واقعہ پوری طرح ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہوا چاہتا ہے اور پھر کرید کرید کر اگلے پچھلے جھوٹے سچے تمام معاملات کا ٹوکرا الٹ دیا جاتا ہے اور ریٹنگ کے چکر میں نا ملک کی عزت زیر نظر ہوتی ہے نہ فرد کی۔ چلیے ہم غور کرتے ہیں کہ ہمارے ماضی کے رویے اور حالیہ رویوں میں اتنا بدلاؤ کیوں پیدا ہو چکا ہے ۔اس بگاڑ میں اندرونی اور بیرونی دونوں عوامل کار فرما ہیں گزشتہ دہائی میں جس تیزی سے میڈیا نے ترقی کی ہے وہ قابل دید ہے اور لوگوں نے جس تیزی سے اس کا اثر قبول کیا وہ بھی حیران کن ہے۔ ایک قول ہے کہ خالی ذہن شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے نت نئے چینل اور فکری تربیت سے خالی پروگرامات نے ان ذہنوں پر ایسا قبضہ جمایا کے الامان الحفیظ۔ڈراموں اور کمرشلز میں جس قسم کا ماحول دکھایا جارہا ہے کیا یہ ہماری تہذیب ہے ؟کچھ کو چھوڑ کر ہر ڈرامہ رشتوں کا تقدس پامال کرتا دکھائی دے رہا ہے رہی سہی کسر ان ڈراموں میں...

نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

تہذیب دراصل کسی قوم کے ان اعلیٰ ارفع طور و اطوار کا نام ہے جو اسے دوسری قوموں میں ممتاز کرتے ہیں مگر یہی تہذیب جب دوسری تہذیب کے اثرات قبول کرتی ہے تو اپنا آپ کہیں کھو دیتی ہے ایسا ہی ہمارے ساتھ ہوا ۔ مسلمان قوم کے عزائم اور ہمت اور حوصلہ سے تو ابلیس بھی گھبراتا ہے مگر اس نے بھی مہلت لی ہوئی ہے گمراہی کے اندھیروں کو پھیلانے کی ۔اگر سیدھے سادے انداز میں برائی سامنے آتی ہے تو یقینا مسلمان قوم اسے قبول نہیں کرتی یہیں ابلیس نے اپنی چال چلی اور" سوئٹ ریپر " میں لپیٹ کر ہماری رگوں میں زہر گھولنا شروع کیا۔  اسکی ابتدا روشن خیالی کے نام سے ہوئی جس نے مرد اور عورت دونوں پر یکساں اثرات مرتب کیے۔ اس روشن خیالی نے قوم کو ایسے سانچے میں ڈھالا جہاں چند کتابیں پڑھ کر بیٹھے صحیح غلط کی راہ دکھانے والے باپ کو خبطی سمجھنے لگے ،خاندانی روایت مجروح ہوئیں، حقوق نسواں کی آڑ میں عورت کو آزادی کی چاہت ہوئی تو اپنی روایات اور اقدار کو بھلا کر "شوہر پرست بیوی سے پبلک پسند لیڈی" اور" چراغ خانہ سے شمع محفل" بننے کا سفر شروع ہوا اور " آ نر اور تنخواہ "کے حصول کے لیے کوشاں معاش کی چکی میں پستے مردوں کی وہ حالت ہوئی کہ "بی اے کیا، نوکر ہوئے، پنشن ملی اور مر گئے"۔  برابری مرد و زَن کے نعرے نے ترقی تو خیر کیا دکھائی؟ ہونٹوں پہ لا لی، کانوں میں بالی اور چال متوالی لئے ٹک ٹاک بناتے لڑکے اور خود کو سبھا کی پریاں سمجھتی مغربی وضع و قطع میں حجاب تودرکنار دوپٹے سے بھی بے نیاز لڑکیاں نظر آئیں جو بسکٹ بھی ناچ کر اور گاکر بیچتی ہیں۔  ان آزادی افکار، لادینیت ،نئی روایات ،خود غرضی ،بے حسی ،مادیت پرستی اور بے حیائی کا نتیجہ" میری مرضی" کی صورت میں نکلا برابری مردوزن کا نتیجہ" اپنا کام خود کرو" کی صورت میں نکلا۔ ابلیس نے کارندے مانگے اور ہم اس کے ہاتھوں میں کھلونا بن گئے، وہ تہذیب جو چودہ سال پہلے دین اسلام نے ہمیں سکھلائی  وہ زوال پذیر ہوئی اور وہ پردہ جو مومن عورت کی پہچان تھا کے اس کے سبب وہ دور جہالت میں بھی پہچان لی جاتی تھی کہیں کھو گیا بلکہ فرنگیانہ سحر میں ڈوب کر بے حسی کی نظر ہوگیا اور دل یہ کہنے پر مجبور ہوگیا۔ "نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے،" یقین جانیے جو نتائج سامنے آئے ہیں ان سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آزادی افکار ابلیس کی ایجاد ہے۔ تہذیب حاضر کی صناعی جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے اور آزادی نسواں دراصل باطن کی گرفتاری ہے۔ ہم جس تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں وہ اس دین کی مرہون منت ہے جو چودہ سو سال پہلے مکمل کر دی گئی تھی۔ حجاب یا نقاب کو مذاق سمجھنے والے یا اولڈ فیشن کہنے والے افراد کے لئے یہ جاننا بے حد ضروری ہے "نئی،" بعد میں آنے والی چیز ہوتی ہے پرانی چیز اگر اپنی حالت بدل کر واپس آجائےپھر بھی اس میں نیا پن کچھ...

ہمارے بلاگرز