ٹیگ: اسد طور

اہم بلاگز

ناموس رسالت اور علامہ محمد اقبال

شاعر مشرق، حکیم الامت، دانائے راز علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ (1877ء- 1938ء)  سچے مسلمان، صادق محب الہی اور حقیقی محب رسول تھے۔ ان کی شاعری میں ان کےافکار و خیالات کا پرتو نظر آتا ہے۔ انہوں نے اپنے پختہ اسلامی نظریات کے مطابق بڑی بامقصد اور بامعنی شاعری تخلیق کی ہے۔ گل و بلبل اور عشق و عاشقی کی شاعری کرنے والے عام روایتی شعراء سے ہٹ کر ان کی شاعری الگ، منفرد اور جذبات و احساسات  کی سچی عکاسی کرنے والی ہے۔ اس لیے دنیا ان کی شخصیت کی عظمت تسلیم کرتی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنی شہرہ آفاق شاعری اور نثر میں انبیائے کرام کی عصمت اور ناموس رسالت پر خصوصی توجہ دی ہے، خصوصاََ رسول اللہ ﷺ، خاتم النبیین ﷺ، رحمت عالم ﷺ، دانائے سبلﷺ ، اور تاجدار عالم ﷺ کی ختم نبوت اور، حرمت رسول، عقیدہ ختم نبوت اور آپ ﷺ کی ناموس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ کیونکہ یہ معاملہ کوئی عام معاملہ نہیں بلکہ اس کی نوعیت باقی تمام معاملات اور قوانین سے منفرد اور نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ نبی کریم ﷺ کے پیروکار ہمیشہ ناموس رسالت کا فریضہ مختلف طریقوں سے ادا کرتے رہے ہیں۔ اور تا قیامت ادا کرتے رہیں گے۔ ؎محمد ﷺ کی محبت دین حق کی شرط اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو ایمان نامکمل ہے حکیم الامت نے قرآن مجید کے متعلق فارسی زبان میں شاعری کرتے ہوئے فرمایا ؎ گر تو می خواہی مسلماں زیستن     نیست ممکن جز بہ قرآن زیستن ترجمہ: "اگر تم مسلمان بننا چاہتے ہو تو یہ قرآن پر عمل کیے بغیر ممکن نہیں ۔" نبی مہربانﷺ کے اسوہ حسنہ کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار  کرتے ہوئے کہا کہ ؎ کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں ایک دوسرے مقام پر رحمت عالم ﷺکی مدح کرتے ہوئے کہا کہ ؎ لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں احباب وہ امت مسلمہ کے لیے درد دل ،حاضر دماغی اور بہترین تحریری صلاحیتیں (بشمول کثرت شاعری و قلت نثر نگاری) رکھتے تھے اور ان کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ انہوں نے قلم و قرطاس کا کماحقہ استعمال کیا۔ ان کی شاعری میں یہ پیغامات جابجا نظر آتے ہیں۔ وہ نبی کریم ﷺ کی امت کے اتحاد کے بہت بڑے داعی تھے۔ اور مسلمانوں میں تفرقہ پرستی اور باہمی اختلافات کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ؎ فرقہ بندی ہے کہیں ، اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں وہ مغربی تہذیب اور افکار و نظریات سے متاثر ہونے کے بجائے اسلامی تہذیب سے متاثر تھے اور اس پر عمل پیرا ہونے میں دنیا و آخرت کی کامیابی اور فلاح و نجات سمجھتے تھے۔ علامہ اقبال نے ہمیشہ قران مجید اور نبوی اسوہ حسنہ کو ترجیح دی۔ ان کے دل و دماغ تاحیات قرآن و سنت سے معمور رہے۔ قرآن مجید پڑھتے ہوئے اور تذکرہ مصطفی ﷺکرتے ہوئے ان کا دل بےحد گداز ہوجاتا تھا اور وہ اشک بار ہو جاتے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسوؤں...

قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے کا تاریخ ساز دن

7 ستمبر وہ تاریخ ساز دن ہے جب 1974 ء میں پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے بحث و مباحثہ اور ہر پہلو پر مکمل غور و خوض کے بعد قادیانیوں کی حیثیت کا تعین کیا اور متفقہ طور پر انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ بلاشبہ رحمت للعالمین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی تسلیم کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کے باب کو بند سمجھنااسلام کی اساس اور بنیاد ہے، جس پر دین اسلام کی پوری عمارت کھڑی ہے۔قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ اوررحمت للعالمین محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی تقریبا ً دو سو دس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تاجدار ختم نبوت حضرت محمدصلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرئے وہ کافر مرتد ، زندیق ، دائرہ اسلام سے خارج ، اور واجب القتل ہے ۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’نہیں ہیں محمد (صلی اللہ علیہ و سلم ) کسی کے باپ تمہارے مردوں میں سے بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے ‘‘(سورۃ الاحزاب آیت نمبر40)۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کا نام مبارک لے کر فرمایا کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم خاتم النبیین ہیں۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے ’’میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ‘‘ (مسلم ) ایک اور حدیث مبارکہ ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ’’ میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کرام کی مثال ایسی ہے ، جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہی لوگ اس عمارت کے اردگرد پھرتے اور اس کی خوبصورتی پر حیران ہوتے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی ( آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا وہ اینٹ میں ہوں ) اور میں خاتم النبیین ہوں‘‘ (بخاری و مسلم ، ترمذی )۔ ایک اور حدیث مبارکہ حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے تیس کذاب ہوں گے ، جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ‘‘ (ابو داؤد)۔ دشمنان اسلام کی جانب سے ہر دور میں مسلمانوں کو اسلام سے گمراہ کرنے کی کوششیں جاری رہی ہیں۔ دشمنوں کی ان سازشوں پر نگاہ رکھنے، اور ان کی مسلمانان اسلام کو راہ راست سے بھٹکانے کی گھناؤنی سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لئے ہر سال سات ستمبر کا دن یوم تحفظ ختم نبوت کے طورپر منایا جاتا ہے ۔ کیونکہ بیسویں صدی کے آغاز میں برصغیر پاک و ہند میں جب مرزا غلام احمد قادیانی...

“جمہوریت ” مضبوط خاندانی نظام تباہ کرنے کا نام

پاکستا ن میں یوں تو ہر روز کوئی ایسا  واقعہ ظہور پزیر ہوہی جاتا ہے جس کو دیکھ  اور پڑھ کر دل دہل جاتاہے اور شاید اب یہ   ہمارے  روز مرّہ کا معمول ہو چکا ہے کہ  اس واقعہ کا دکھ اور صدمہ ابھی  ہلکا بھی نہیں ہوتا کہ ٹی وی پر ایک دوسرا واقعے کی خبر نشر ہوجاتی ہے، واقعات کے اس تسلسل نے ہمارے احساس کو مار ڈالا ہے ۔یہاں  عنایت علی خان ٹونکی صاحب کا  شعر یاد آیا کہ حادثے  سے بڑا یہ سانحہ  ہوگیا لوگ ٹہرے نہیں حادثہ دیکھ کے اسلام آباد جیسے شہر میں  جہاں حکومت کی رٹ ملک کے باقی شہروں سے زیادہ  مثالی نظر آنی چاہیئے  کیونکہ یہ ملک کا دارلحکومت ہے  یہاں سے جاری ہونے والے احکامات ملک کے ہر کونے میں ایک آن میں نافذ العمل ہوجاتے ہیں ایسے شہر میں نور مقدم کے بے ہیمانہ قتل کا ہوجانا  کوئی عام بات نہیں ہے مگر واقعات کا تسلسل یہی بتا رہا ہے کہ یہ عام سی بات ہے اور اب اس کے طرح کے واقعات  روز مرہ کے معمول ہونگے۔ یہ جو جمہوری نظام ہے یہ تو رکھوالا ہے   ایسے نظام معیشت کا جو سود کی غلاظت میں لتھڑا ہے ،یہ تو رکھوالا ہے ایسے اقدار کا جو مذہب بیزار ہے ،یہ حقوق نسواں کا ایسا علمبردار ہے جو  عورت کو اتنا خود مختار بنا نا چاہتا ہے جہاں اس کو نہ باپ کی ضرورت ہو ،نہ بھائی کی ضرورت ہو اور نہ ہی شوہر کی ضرورت ہو۔سیکولرزم کیے  یہ چند  نمایاں گوشے ہیں یہ دراصل ایک ایسا طریق زندگی ہے جس کو مغرب نے پوری دنیا  میں بطور دین نافذ کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے، اس کے تحّفظ کے لیے  مغربی جمہوریت کا  نظام حکومت ہے جو کہ اس کی رکھوالی  آج تک کرتا آرہاہے۔ یہ نظام  گذشتہ دوسو سال سے دنیا کے ان تمام قوموں سے نبردآزما ہے جہاں جہاں کسی بھی طرح سے حوا کی بیٹی کا احترام موجود ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ عورت مارچ دوسوسال سے اسی طرح منعقد ہوتا آرہا ہے ۔ سیکولرزم یا لبرل ازم نے دوسوسال پہلے یورپ کی اس تہذیب کو شکست دی جو عورتوں کو احترام دیا کرتاتھا   اس لبرل ازم کی یلغار کے خلاف   جو کہ عورتوں کو مردوں کے مقابلے کا خواب دکھارہا تھا  یورپ میں اس کی راہ کو روکنے کے لیے کئی مزاحمتی تحریکیں سولہویں اور سترہویں صدی عیسوی میں چلی اور سب نے کوشش کی کہ اس یلغار کو روکا جائے اور اپنے معاشرے کو اخلاقی تباہی سے بچایا جا سکے مگر کلیسا کے  آپس کے انتشار  اور مذہبی  نمائندوں کی تعیش پسندی کی وجہ سے یہ تحریکیں  اس فحاشی اور بے حیائی کے سیلاب کو نہ روک سکیں  اور سیکولر ازم اور لبرل ازم نے بنیاد پرستی کی ان تحریکو ں کو بدترین شکست سے دوچار کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے  پورا مغرب  سیکولر ازم اور لبرلازم کے غلیظ اور تعّفن زدہ رنگ میں رنگ گیا ۔سیکو  لرازم نے صرف اتنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ  مذہب کو  اہل مغرب کے کے اجتماعی معاملے سے نکال کر  انفرادی معاملہ...

اسلام میں روشن خیالی کا تصور

خطبہ حجۃ الوداع اسلام میں مضبوط ترین بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس خطبے کے بات گویا یہ طے ہو گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کا دین قیامت تک آنے والے مسلمانوں تک پہنچا دیا اور دو چیزیں امت کی رہنمائی کے لئے چھوڑی ایک قرآن مجید و فرقان حمید اور دوسری سنت مبارکہ اور پھر یہ سلسلہ چلا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہا سے۔ آپ حضرات نے جو ٹریننگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باقاعدہ اور باضابطہ طور پر حاصل کی وہ صرف مدینہ تک ہی محدود نہیں ہوئی بلکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بعد تابعین ،تبع تابعین ،اجمعین مع اجمعین اور علماءو بزرگان دین نے پوری دنیا میں پھیلا دیں اور اسلامی تعلیمات پھیلانے کا یہ سلسلہ اب تک جاری و ساری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔  لہذا روز محشر کوئی  یہ جواز پیش نہیں کرسکتا کہ اسے اس کے زمانے میں قرانی تعلیمات دینے والا کوئی نہ تھا ۔ اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر رسالت اور شریعت کو تمام کر کے قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ایک ایسا بہترین سلسلہ جاری کردیا کہ جس کے ذریعے ہدایت کی پیاس بجھانے والے اور نور خدا ڈھونڈنے والے محروم نہیں رہ سکتے۔ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے اٹریکٹو اور سب سے مضبوط خاصیت یہ ہے کہ یہ شریعت اور اسلامی نظام کسی خاص طبقے ، علاقے، ذات یا کسی خاص جماعت سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کیلئے نہیں ہے  بلکہ قرآن مجید اللہ تعالی نے عالمگیر کلام کے طور پر نازل فرمایا لہذا قرآنی تعلیمات دنیا بھر میں رہنے والے مسلمانوں کے لئے اور ان  انسانوں کے لئے جو نور و ہدایت کے متلاشی ہیں،  ان تمام کے لیے مشعل راہ ہے۔ شریعت مطہرہ کے حسن میں چار چاند لگانے والی ایک اور سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ خوبصورت حسین شریعت کسی خاص زمانے کے لئے نہیں تھی بلکہ کہ قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لئے یکساں مفید ہے۔  قرآن مجید کے  راز اس قدر گہرے ہیں کہ آج بھی جہاں سائنس اور لوجک جواب نہیں دے پاتی اور وہاں قرآن مجید اور سنت مبارکہ کی تعلیمات بنی نوع انسان کے راستے روشن کرتی نظر آتی ہیں۔ قرآن مجید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ اور آپ کے تربیت شدہ صحابہ کرام اور ان کے تربیت شدہ تابعین سے نکلنے والا تعلیمی سلسلہ اس قدر وسیع اور جامع ہے کہ اس میں مزید کسی قسم کی کمی اور زیادتی کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔ ان جلیل القدر حضرات نے نہ صرف دینی مسائل بلکہ سائنسی علوم میں بھی وہ جھنڈے گاڑ دیے ہیں کہ جن کی بنیاد پر آج پوری سائنسی دنیا کھڑی ہے اور یہ سب شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی وسیع النظری کی مرہون منت ہے۔دین اسلام سب سے زیادہ روشن خیال اور وسیع النظر مذہب ہے اگر صرف اس ایک جملے کے لیے دلائل پیش کرنے کی بات کی جائے تو وقت...

آزادی آ رہی ہے

 میرےچشم تصور میں 74 سال پہلے کا منظر جھلملا رہا ہے ۔ ایک خیال، ایک سوچ، ایک خواب، ایک نظریہ۔جس کی خاطر کھیت کھلیان جلے،کتنے گھر لٹے، کتنے بیٹے خاک ہوئے، بستیاں جلا دی گئیں، خون کی ہولی کھیلی گئی راہ طلب بھت دشوار تھی مگر دل میں عزم جاگ اٹھا تھا"لے کے رہیں گے آزادی" "مل کے رہے گی آزادی"۔ جب 23 مارچ 1940 کو قرار داد پاکستان پیش کی گئی تھی یہ وہی وقت تھا جب اس کے حامیوں کے دل اطمینان سے لبریز تھے کہ غلامی کا سورج ڈوبنے کو ہے۔ ظلم کی زنجیر ٹوٹنے کو ہے ۔ ظلم کی رات جا رہی ہے ۔"بس آزادی آرہی ہے "جب ہندو سامراج کے مظالم سے تنگ بوڑھی آنکھیں اپنے جوانوں کی طرف اٹھتی تھی تو وہ کہتے تھے ۔ماں آزادی آ رہی ہے۔  جب بھوک سے بلکتے بچے ماؤں کی جانب تکتے تھے تو مائیں لوری سناتی تھی۔آزادی آرہی ہے۔ جب بہنیں اپنے تار تار آنچل کو دیکھ کر نظر یں جھکاتی تھیں تو بھائی ان کے سروں پر ہاتھ رکھ کر کہتے تھے ۔ بس آزادی آرہی ہے۔  یقین جانئے قرارداد پاکستان سے قیام پاکستان کا سفر گویا بہت کٹھن تھا مگر عزم ،ہمت ،حوصلہ، دعائیں، یقین ،جذبہ سبھی کچھ تو تھا ان بے سروسامان لوگوں کے دلوں میں اور اس یقین نے انہیں منزل تک پہنچا دیا۔ جی ہاں آج ہم آزاد ہیں۔ آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں مگر کیا یہ وہ آزادی ہے جس کا خواب اقبال نے دیکھا ؟آج اقبال کے اس خواب کی تعبیر مجھے دھندلی ہوتی نظر آتی ہے۔  آج آزادی کے رکھوالے سفید لباس زیب تن کرکے سیلفی لیتے، چہرے پر دل دل پاکستان پینٹ کروا کر سبز ہلالی پرچم کو لہراتے ہوئے سڑکوں پر غیر ملکی گانوں پر رقص کرتے نظر آتے ہیں ۔کیا یہی ہیں اس آزادی کے امین جن کے ذہن مغربی ثقافت کے غلام بن چکے ہیں ،جن کے دل لبرلزم کی زنجیروں میں اٹک گئے ہیں۔  جن کی سوچ اس آزادی کی طلبگار ہے جو دراصل بربادی ہے، کیا اس بار بھی یہ نسل اس بات سے غافل رہے گی کہ آزادی کی اصل روح کیا ہے؟ یقین جانئے اگر یہی حال رہا تو 74 سال پہلے" آزادی آرہی ہے"کاجو نعرہ لگایا گیا تھا ایک سوالیہ نشان بن جائے گا "کیا آزادی آرہی ہے؟" اب یہ آپ کی سوچ پر منحصر ہے. یقین یا سوالیہ نشان؟

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

ماسک اور خول

ابن سینا نے اپنی مشہور کتاب’’القانون فی الطب‘‘میں 1025 میں ہر قسم کی وبائی امراض کے بارے میں ’’قرنطینہ‘‘کا تصور پیش کیا۔اس عمل کے لئے انہوں نے لفظ ’’اربعینہ‘‘یعنی چالیس روز استعمال کیا۔بارھویں صدی میں جب اس کتاب کا اطالوی زبان میں ترجمہ ہوا اس چالیس دن کا نام قرنطینہ Quarantenaپڑا،جس کے معنی اطالوی زبان میں چالیس روز ہی ہوتے ہیں۔تاریخ طب میں اب سینا اور البیرونی کی ملاقات کا احوال بہت جگہ بیان کیا گیا ہے۔اور اس ملاقات کی وجہ شہرت دراصل اس دور میں پھیلی ہوئی وباطاعون اور احتیاطی تدابیر ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جب البیرونی مصافحہ کرنے اور گلے لگانے کے لئے آگے بڑھے تو ابن سینا نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔نہ صرف انکار کیابلکہ سرکہ کے پانی کے ساتھ صاف کپڑے لانے کو بھی کہا تاکہ البیرونی اپنے ہاتھ اور چہرہ وغیرہ کو مکمل طور پر صاف کر لیں۔البیرونی حیران ہوئے اور وجہ پوچھی ۔جواب ملا کہ جہاں کالی موت(طاعون)پھیلی ہوئی ہو وہاں گلے لگنے اور ہاتھ ملانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ابن سینا نے اس وبا کو روکنے کے لئے چند اور احتیاطی تدابیر بھی پیش کیں جو آج بھی من و عن صحیح ثابت ہو رہی ہیں۔ لوگوں میں خوف وہراس نہ پھیلایا جائے۔ ہاتھ نہ ملایا جائے۔ میل جول کو محدود کر دیا جائے۔ بازاروں اور مساجد کو بند رکھیں۔ ہجوم نہ کریں، کرنسی کو بھی سرکہ سے دھوکر یا صاف کر کے استعمال کیا جائے۔ مسواک کو بھی سرکہ سے دھو کر استعمال کریں اور مریض کو چالیس روز تک الگ رکھا جائے۔ ان دو دانائوں کی ملاقات کے نتیجہ کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ وبائی امراض کے دنوں میں ہمیں خاص احتیاط کی ضرورت رہتی ہے،خاص کر ہاتھوں کو دھونا اور چہرے کو ڈھانپ کر رکھنا۔موجودہ سائنسی دور میں سائنس نے یہ سہولت فراہم کر دی ہے کہ ہمیں اب کپڑے سے منہ ڈھاپنے کی بجائے فلٹریشن والا ایک ماسک فراہم کر دیا ہے۔جس کے بے شمار فوائد ہیں۔کپڑے کا یہ وہ ماسک ہے جو ہر کوئی دیکھ پاتا ہے۔لوگ دیکھتے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ اس شخص نے بیماری سے بچائو کی احتیاطی تدابیر کر رکھی ہے،یا پھر اس کا مقصد ارد گرد موجود اپنے پیاروں کو محفوظ رکھنا ہے۔لیکن ایسے لوگوں کی پہچان کیسے ہو جنہوں نے اپنے چہروں پر منافقت وبے حسی کے خول در خول سے ڈھانپ رکھا ہے۔مگر مخاطب ہوں تو لہجہ ایسا شیریں کہ کانوں میں شہد گھل گھل جائے۔وہ تو عرصہ دراز بعد پتہ چلتا ہے کہ ۔۔۔۔بغل میں چھری اور منہ میں رام رام۔ لوکی مینوں چہرے اتے خول چڑھا کے ملدے نیں منہ دے کنے مٹھے پر دل دے کنے کوڑے نیں۔ ایسے ابن الوقت لوگوں کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ موقع کی مناسبت سے ماسک اتار لیتے ہیں۔وہ شخص جو چند دن قبل آپ کے وارے وارے جا رہا تھا اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کسی وقت بھی حزب مخالف کے پلڑے میں بیٹھا دکھائی دے گا۔دراصل اسے آپ سے نہیں اپنے مفاد سے پیار تھا۔ماسک اس نے پہلے سے ہی چڑھا رکھا تھا تاہم آپ کا اعتماد تھا جو...

معاشرہ بدلے ہم کیوں؟

فیصل آبادانٹر نیشل ایئر پورٹ جہاز لینڈ کرتے ہی جو سب سے پہلا خیال دل میں سمٹ کر آیاوہ تھا احساس تفاخر کہ ہم اپنے وطن میں قدم رنجہ فرما ہو چکے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ ہمارے اندر کی پاکستانی روح بھی بیدار ہو چکی تھی جس کا اندازہ ہم نے اس بات سے لگا یا کہ ابھی ٹھیک سے جہاز رکنے بھی نہ پایا تھا کہ ہر کوئی اپنی سیٹ چھوڑ،سیٹ کے اوپر کیبنٹ سے سامان نکالنے کے لئے بے تاب ہوگیا۔ہر کوئی اس کوشش میں تھا کہ جہاز کا دروازہ کھلنے سے بیشتر ہی وہ چلتے جہاز سے چھلانگ لگا کر باہرچلا جائےاور تو اور وہ مسافر جو دوحہ سے میرے ساتھ والی نشست پر براجمان انتہائی وضع قطع اور نفیس گفتگو کرنے والا شخص بھی ایک پولیس مین کے کہنے پر جب لائن توڑے غیراخلاقی طور پر سب کو لائن میں چھوڑ کر جانے لگا تو نہ جانے کیوں میں نے اس کا بازو تھام کر ہمت جتا کر اسے مخاطب کیا،کہ حضور کیا ہم نے دوحہ ایئر پورٹ پر ایسا کیا؟وہاں تو ایک شرطہ جب ’’جھلا‘‘کہتا ہے تو سب کے سب شریف زادوں کی طرح ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر محمود وایاز کی یاد تازہ کر دیتے ہیں تو پھر آپ یہاں اپنے ملک میں کیوں ایسا کر رہے ہیں کہ لائن میں کھڑے تمام لوگوں کو چھوڑ کر آپ غیر قانونی و غیر اخلاقیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔شخص کی سمجھ میں میری بات آگئی اور اپنی جگہ واپس چلا آیا،تاہم وہ پولیس مین مجھے گھورتے ہوئے پھر سے اسے بلانے لگا کہ جب میں کہہ رہا ہوں تو آپ کیوں نہیں آتے؟گویا وہ پولیس مین نہ ہوا کسی ملک کا وزیراعظم ہو۔ میری طرح آپ میں سے بھی بہت سے لوگوں کو ایسے بے شمار حالات و واقعات کا سامنا رہا ہوگا۔ایک اور واقعہ یاد آگیا کہ ایک بار میرے ساتھ انگلینڈ کی فلائٹ سے ایک شخص سفر فرما رہا تھا،بات بات پہ وہ ایک جملہ ضرور کہتا کہ انگلینڈ میں تو ایسا نہیں ہوتا۔لیکن یونہی ہم ائیر پورٹ سے باہر نکلے اس نے سب سے پہلا جو کام کیا وہ ہاتھ میں پکڑی پانی کی خالی بوتل ایسے پھینکی جیسے کوئی ناجائز بچہ کچرے کے ڈھیر پر پھینکتا ہے۔مجھ سے رہا نہ گیا تو میں مسکراتے چہرے سے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ــ’’کیا انگلینڈ میں ایسے ہوتا ہے؟‘‘۔ذرا شرمندہ سا ہوا اور بوتل اٹھا کر مناسب جگہ پر رکھ دی۔ میں نے جو بات پاکستان سے باہر رہتے ہوئے محسوس کی وہ یہ ہے کہ ہر پاکستانی چاہتا ہے کہ اس کے ملک کی تقدیر بدلے،پاکستان کا سیاسی و معاشی نظام مستحکم ہو،پاکستانی معاشرہ ایک مثالی معاشرہ ہو،ہم تقلید ِ دنیا اور تمثیلِ عالم ہوں۔لیکن بقول اقبال خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق میں جس ملک میں رہائش پذیر ہوں وہاں پر بھی قانون کی اس قدر حکمرانی ہے کہ رات کے پچھلے پہر بھی جب کہ ٹریفک سگنل پر کوئی پولیس والا اپنے فرائض منصبی پر نہ بھی معمور ہو،وہاں بھی لوگ سرخ سگنل...

اے قائد تم سا کوئی نہیں

قائدِ اعظم ایک دیانتدار اور اصول پسند لیڈر تھے جیسا وہ پاکستان چاہتے تھے ان کی رحلت کے بعد ویسا نہ بن سکا ،ہندووں اور انگریزوں سے تو آزادی حاصل کر لی پر یہاں  کے جاگیرداروں اور چوہدریوں سے یہ ملک چھٹکارہ حاصل نہ کر سکا، انہوں اس ملک کا وہ حال کردیا کہ اللہ معافی اور بچا کچا برا حال ملک کے ایک بڑے ادارے نے کر دیا حرام حلال کی تمیز ہی ختم ،انصاف کا بول بالا ہی نہیں۔ قائد کا تصور پاکستان محض نصابی باتیں اور علمی مباحث ہیں نہ قوم بانئی پاکستان کے تصور کو عملی جامہ پہنانے میں سنجیدہ ہے اور نہ ہی وہ ایسی جماعتوں یا گروہوں کی حمایت کرتی ہے جو قائد اعظم کے پاکستان کو ان کے خواب کے مطابق اسلامی،فلاحی اور جمہوری ریاست بنانے میں مخلص ہیں۔ اے قائد ہم آپ کو کیا جواب دیں گے کیونکہ آپ نے پاکستان وڈیروں اور جاگیر داروں کے لیے نہیں بنایا تھا یہ ملک غریب عوام کے لیے بنا تھا۔ آپ چاہتے تھے کہ پاکستان میں انسانی مساوات،جمہوریت، اسلامی عدل،قانون کی حکمرانی اور معاشی انصاف ہو مگر اے قائد پاکستان میں تو انسانی زندگی سب سے ارزاں شے ہے،یہاں انسان کیڑے مکوڑوں کی مانند مرتے ہیں،کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا نہ انسانی حقوق کی انجمنیں سڑکوں پر آتی ہیں اور نہ منتخب اراکین اسمبلی دکھ درد کا اظہار کرتے حکومت نام کی شے صرف حکمرانوں،سیاستدانوں اور بالائی طبقوں کی خدمت اور حفاظت کے لیے بنائی گئی ہے۔  میرٹ کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں ہر شعبے اور اداروں میں کڑوروں روپے کی رشوت دے کر جاب ملتی اور پڑھے لکھے نوجوانوں کے بجائے جاہل جٹ کو عمدہ عہدوں سے نوازہ جاتا اور ہمارے اچھے پڑھے لکھے نوجوان بیرون ملک سدھار جاتے اور جو یہاں رہتے وہ پرائیویٹ جاب کرتے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا خان سفارش خان ہے جس کی ضرورت سرکاری ہسپتال سے لے کر قانونی سہولت حاصل رہتی ہے،اپ نے قائد پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب ہونے کے بعد جو مشہور زمانہ تقریر کی تھی اس میں پاکستان سے سفارش کلچر،دھونس،کنبہ پروری اور ذخیرہ اندوزی کو ختم کرنے کے عہد کا اعلان کیا تھا لیکن افسوس کہ ہر آنے والا حکمران باتیں تو تبدیلی کی کرتا ہے مگر ان پر عمل نہیں کرتا،اگر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو اس نظام میں بنیادی تبدیلیاں کر کے ہر قدم پر قانون و آئین کی حکمرانی کو سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔عوام بھی اپنا کردار ادا کریں ،ان کو یہ بات سوچنا چاہیے کہ ان کے آباؤ اجداد نے جس طرح قائد کی قیادت میں انگریز جیسے جابر حکمرانوں کو اپنے مطالبات کے سامنے جھکا دیا تھا اور ہندوؤں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا تو آج بھی یہ اپنی طاقت استعمال کر سکتے ہیں،مگر یہ تو بے حسی کی چادر اوڑھے سو رہے۔ "عوام یہ سمجھ لیں کہ فرشتوں ان کی مدد کو نہیں اترے گے"قائد اعظم کی رحلت کے بعد سے  لیکر اب تک کوئی بھی...

اسلامی تہذیب میں ہی عافیت ہے

پہلے یہ تھا کہ انہونے واقعات کبھی کبھی رونما ہوتےاور طبیعت و سماعت پر گراں گزرتے تھے ان کا اثر فرد سے لے کر خاندان اور پھر معاشرے پر پڑتا اور پھر کئی ہاتھ بھی اصلاح کے لئے موجود رہتے جس سے معاشرہ کسی حد تک سدھار کی شکل اختیار کیے ہوئے تھا۔ مگر اب زمانہ اس نہج پر ہے کہ ایسے واقعات انہونے نہیں رہے بلکہ سچ پوچھیئے تو یہ واقعات اب ہمارے لئے تھرل اور مزے کے سوا کچھ نہیں ابھی حال ہی میں نور مقدم اور مینار پاکستان کا واقعہ اس کی گواہی ہیں۔  کچھ ایماندار اور حساس دل  حضرات ضرور ان کا اثر دل پر لے کر افسردہ ہوتے ہیں اور ان کے تدارک کی فکر میں خود کو گھلا رہے ہیں مگر اکثریت پر بے حسی طاری ہے۔یقین نہیں تو سوشل میڈیا پر جا کر دیکھ لیں ادھر واقعہ رونما ہوا نہیں ادھر سب اپنے چینلز کی دکان کھول کر بیٹھ گئے اور لگے بارہ مسالوں کے ساتھ اپنی چاٹ بیچنے!کسی کی بے عزتی دکھ اور نقصان سے کسی کو سروکار نہیں ۔ اگر کوئی صاحب شعور عقل سے حالات اور واقعات کا جائزہ لے تو یہ ایک اندھے کو بھی نظر آجائے گا کہ یہ تو پری پلان کام ہو رہا ہے ایک واقعہ رونما ہوتا ہے اور چینلز مالکان واقعے کےمندرجات کے پیچھے ایسے بھاگتے ہیں جیسے ٹرین جب اسٹیشن پر رکتی ہے اور قلی مسافروں کا سامان ڈھونے کے لیے ٹرین کے پیچھے بھاگتے ہیں کچھ دیر میں رش چھٹ جاتا ہے اور یہ حضرات دوسری ٹرین کا انتظار کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل ہماری عوام جو پہلے ایسے بے حیائی کے واقعات سن کر دہل جایا کرتی تھی اب ایسی بےحس کیوں کر ہو گئ۔ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایک ہی بات کی گردان مسلسل کی جائے تو اس کی افادیت ختم ہوجاتی ہے اور کان اسے سننے کے اور آنکھ اسے دیکھنے کی عادی ہوجاتی ہے اور ہمارے ہاں تو معاملہ یہ بن گیا ہے کہ ایک واقعہ پوری طرح ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہوا چاہتا ہے اور پھر کرید کرید کر اگلے پچھلے جھوٹے سچے تمام معاملات کا ٹوکرا الٹ دیا جاتا ہے اور ریٹنگ کے چکر میں نا ملک کی عزت زیر نظر ہوتی ہے نہ فرد کی۔ چلیے ہم غور کرتے ہیں کہ ہمارے ماضی کے رویے اور حالیہ رویوں میں اتنا بدلاؤ کیوں پیدا ہو چکا ہے ۔اس بگاڑ میں اندرونی اور بیرونی دونوں عوامل کار فرما ہیں گزشتہ دہائی میں جس تیزی سے میڈیا نے ترقی کی ہے وہ قابل دید ہے اور لوگوں نے جس تیزی سے اس کا اثر قبول کیا وہ بھی حیران کن ہے۔ ایک قول ہے کہ خالی ذہن شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے نت نئے چینل اور فکری تربیت سے خالی پروگرامات نے ان ذہنوں پر ایسا قبضہ جمایا کے الامان الحفیظ۔ڈراموں اور کمرشلز میں جس قسم کا ماحول دکھایا جارہا ہے کیا یہ ہماری تہذیب ہے ؟کچھ کو چھوڑ کر ہر ڈرامہ رشتوں کا تقدس پامال کرتا دکھائی دے رہا ہے رہی سہی کسر ان ڈراموں میں...

نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

تہذیب دراصل کسی قوم کے ان اعلیٰ ارفع طور و اطوار کا نام ہے جو اسے دوسری قوموں میں ممتاز کرتے ہیں مگر یہی تہذیب جب دوسری تہذیب کے اثرات قبول کرتی ہے تو اپنا آپ کہیں کھو دیتی ہے ایسا ہی ہمارے ساتھ ہوا ۔ مسلمان قوم کے عزائم اور ہمت اور حوصلہ سے تو ابلیس بھی گھبراتا ہے مگر اس نے بھی مہلت لی ہوئی ہے گمراہی کے اندھیروں کو پھیلانے کی ۔اگر سیدھے سادے انداز میں برائی سامنے آتی ہے تو یقینا مسلمان قوم اسے قبول نہیں کرتی یہیں ابلیس نے اپنی چال چلی اور" سوئٹ ریپر " میں لپیٹ کر ہماری رگوں میں زہر گھولنا شروع کیا۔  اسکی ابتدا روشن خیالی کے نام سے ہوئی جس نے مرد اور عورت دونوں پر یکساں اثرات مرتب کیے۔ اس روشن خیالی نے قوم کو ایسے سانچے میں ڈھالا جہاں چند کتابیں پڑھ کر بیٹھے صحیح غلط کی راہ دکھانے والے باپ کو خبطی سمجھنے لگے ،خاندانی روایت مجروح ہوئیں، حقوق نسواں کی آڑ میں عورت کو آزادی کی چاہت ہوئی تو اپنی روایات اور اقدار کو بھلا کر "شوہر پرست بیوی سے پبلک پسند لیڈی" اور" چراغ خانہ سے شمع محفل" بننے کا سفر شروع ہوا اور " آ نر اور تنخواہ "کے حصول کے لیے کوشاں معاش کی چکی میں پستے مردوں کی وہ حالت ہوئی کہ "بی اے کیا، نوکر ہوئے، پنشن ملی اور مر گئے"۔  برابری مرد و زَن کے نعرے نے ترقی تو خیر کیا دکھائی؟ ہونٹوں پہ لا لی، کانوں میں بالی اور چال متوالی لئے ٹک ٹاک بناتے لڑکے اور خود کو سبھا کی پریاں سمجھتی مغربی وضع و قطع میں حجاب تودرکنار دوپٹے سے بھی بے نیاز لڑکیاں نظر آئیں جو بسکٹ بھی ناچ کر اور گاکر بیچتی ہیں۔  ان آزادی افکار، لادینیت ،نئی روایات ،خود غرضی ،بے حسی ،مادیت پرستی اور بے حیائی کا نتیجہ" میری مرضی" کی صورت میں نکلا برابری مردوزن کا نتیجہ" اپنا کام خود کرو" کی صورت میں نکلا۔ ابلیس نے کارندے مانگے اور ہم اس کے ہاتھوں میں کھلونا بن گئے، وہ تہذیب جو چودہ سال پہلے دین اسلام نے ہمیں سکھلائی  وہ زوال پذیر ہوئی اور وہ پردہ جو مومن عورت کی پہچان تھا کے اس کے سبب وہ دور جہالت میں بھی پہچان لی جاتی تھی کہیں کھو گیا بلکہ فرنگیانہ سحر میں ڈوب کر بے حسی کی نظر ہوگیا اور دل یہ کہنے پر مجبور ہوگیا۔ "نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے،" یقین جانیے جو نتائج سامنے آئے ہیں ان سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آزادی افکار ابلیس کی ایجاد ہے۔ تہذیب حاضر کی صناعی جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے اور آزادی نسواں دراصل باطن کی گرفتاری ہے۔ ہم جس تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں وہ اس دین کی مرہون منت ہے جو چودہ سو سال پہلے مکمل کر دی گئی تھی۔ حجاب یا نقاب کو مذاق سمجھنے والے یا اولڈ فیشن کہنے والے افراد کے لئے یہ جاننا بے حد ضروری ہے "نئی،" بعد میں آنے والی چیز ہوتی ہے پرانی چیز اگر اپنی حالت بدل کر واپس آجائےپھر بھی اس میں نیا پن کچھ...

ہمارے بلاگرز