ٹیگ: احکامات

اہم بلاگز

ایٹمی طاقت پاکستان

ہماری زندگی میں کچھ واقعات ایسے ہیں جن کو ہم ہمیشہ یاد رکھتے ہیں اور ان واقعات کے رونما ہونے کے دن کو ہم یادگار کے طور پر مناتے ہیں مثلاً یوم آزادی،یوم دفاع وغیرہ انہی میں سے ایک دن یوم تکبیر کا بھی ہے، جی یوم تکبیر،جب پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بنا۔ یہ ایٹمی تجربہ بھارت کے ان ایٹمی دھماکوں کامنہ توڑ جواب تھا جو کہ بھارت نے 18 مئی1974 میں اندرا گاندھی کی قیادت میں اور11مئی 1998 میں ایک ساتھ تین ایٹمی تجربات،واجپائی کی قیادت میں کیے۔جس کےبعدبھارت کی طرف سے پےدرپےدھمکیوں کا آغاز ہوگیا اور بھارت نے پاکستان کو ایک کمزور ملک سمجھنا شروع کر دیا جبکہ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ پاکستان کیا کرسکتا ہے۔ بھارت کے ساتھ باقی غیر مسلم ممالک کی بھی یہی کوشش تھی کہ اسلامی ریاست ایٹمی طاقت نہ بن سکے لیکن جب انڈیا نے ایٹمی تجربہ کرکے پاکستان کو للکارا تو پاکستان نے بھی میاں نواز شریف کے دور حکومت میں ایک ساتھ 5 کامیاب ایٹمی تجربات کرکے دشمن کے ہوش اڑا دیے۔اور بھارت کو خاموشی اختیار کرنا پڑی۔ جو دھمکیوں کا سلسلہ چل نکلا تھا وہ بند ہوگیا۔ اس تجربے کا سہرا ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کے سرجاتا ہے۔ آپ ہندوستان کے شہر بھوپال میں 27 اپریل 1936 میں ایک اردو بولنے والے پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام عبد الغفور اوروالدہ کا نام زلیخہ تھا۔1947میں پاکستان وجود میں آیا تو آپ ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آگئے۔ آپ کراچی میں رہائش پذیر ہوئے۔ کراچی یونیورسٹی سے فزکس کی ڈگری حاصل کی پھر یورپ میں 15 سال مختلف یونیورسٹیز سے تعلیم حاصل کی۔پاکستانی ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا خیال ذوالفقار علی بھٹو ہی کا تھا۔ بلآخرڈاکٹراے کیو خان کی کئی سالوں کی محنت رنگ لائی اور 28مئی 1998میں نعرہ تکبیر کی گونج میں چاغی بلوچستان کے پہاڑوں پر یہ کامیاب تجربہ ہوا۔ پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت اور پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بنا اور اسی وجہ سے ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کو محسن پاکستان کے لقب سے نوازا گیاپاکستان اپنے اوپر آنے والے ہر خطرے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ جب یہ تجربات کیے گئے تو نعرہ تکبیر اللہ اکبر سے چاغی کے پہاڑ گونج اٹھے اور ایک جوش و ولولہ وہاں موجود تمام لوگوں میں دکھائی دیا۔ قوم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں ڈاکٹر اے کیو خان جیسے ہیروسے نوازا اور خود ڈاکٹر صاحب کی احسان مند اور مشکور ہےکہ انہوں نے قوم کو کامیاب ایٹمی طاقت بنایا۔ اللہ پاک پاکستان کو ہر خطرے سے محفوظ رکھے۔آمین ثم آمین
nuclear power

اور ہم ایٹمی طاقت بن گئے

پاکستان نے 28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکہ کر کے دنیا میں اپنے آپ کو ایٹمی طاقت کی حیثیت سے منوایا اور دشمن قوتوں کے ناپاک عزائم کو ڈاکٹر عبدالقدیر کی کوششوں سے نا کام بنادیا،اللہ اکبر کے نعرے سے پہلا دھماکہ کیا فضائیں بھی اس نعرے سے جھوم اٹھیں اور دشمنوں پر ایک اسلامی ملک کی دھاک بیٹھ گئی۔ لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ حکمران اپنی اس طاقت کے بل بوتے پر کشمیرکی آزادی کی کوششیں بھی کرتے، کلبھوشن جوکہ انڈیا کا جاسوس نکلا ،پکڑے جانے پر بھی اسکی سزا نہیں دی گئی،ہمارے حکمرانوں نے نرمی دکھائی جب کہ بھارتی حکومت کشمیریوں کے معاملے میں کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں بلکہ کشمیریوں پر زندگی مزیدتنگ کر دی گئی ہے۔ ابھی حال ہی میں کشمیری لیڈر یٰسین ملک کو سزاسنائی گئی، انکا صرف یہ قصور کہ وہ کشمیریوں کے حق کی بات کرتے ہیں ۔ ہمارے حکمرانوں کو چاہیۓ تھا کہ کلبھوشن کے عوض کشمیر کی آزادی کی بات کرتے یا یٰسین ملک کی رہائی کے لئے آواز اٹھاتے۔حکمرانوں کو آپس کی لڑائیوں کے بجائے ملک کے استحکام کےلیے سوچنا چاہئے۔ جیسا کہ 28مئی 1998میں معاشی طور پر اتنا پسماندہ ہونے کے باوجود ملک کے استحکام کے لئے سوچا اور کوشش کی تب ہی ہم ایٹمی طاقت والے ممالک کی صف میں شامل ہو گئے۔ اس لئے ہم اب بھی ویسی کوشش اوراسی جذبے سے اپنے آپ کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکال سکتے ہیں، اسکے لئے حکمت عملی اور ٹھوس اقدامات اور ملک کے ساتھ مخلص ہونے کی ضرورت ہے ۔

ابتدا سے انتہا تک

دور حاضرہ سے تو ہم سب واقف ہی ہیں فصلیں اور نسلیں دونوں ہی تباہی کی طرف جا رہی ہیں حالات اور خیالات دن بہ دن بدلتے اور بگڑتے جارہے ہیں دوا کے نام پر زہر اور آزادی کے نام پر قید، ہماری نئی نسل کو زندہ لاشیں بنا رہی ہیں۔ جس طرح پانی نہ دینے سے فصلیں تباہ ہورہی ہیں اسی طرح تربیت نہ کرنے سے نسلیں تباہ ہورہی ہیں۔ تربیت، تربیت ہر جگہ تربیت کیوں آجاتی ہے گھوم پھر کے، وہ اس لیۓ کیوں کہ کوئی بھی شے جب فطرت سے ہٹتی ہے تو برباد ہی ہوتی ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے کچھ ایسے واقعات نظر سے گزرے ہیں، ایک ایسی سوچ نے گھیر لیا ہے کہ اگر اس قطرہ قطرہ زہر کو نہ روکا گیا تو نہ جانے ہم کس تباہی کی طرف چلے جائیں گے دوکمروں کے مکان میں رہنے والے پانچ سے چھ افراد روز ساتھ کھاتے ہیں پیتے ہیں مگر کسی کو کسی کی زندگی کے بارے میں کچھ علم ہی نہیں والد اگر بیمار ہے تو اولاد کو نہیں معلوم اور اولاد اگر کسی عیب میں مبتلا ہے تو والدین کو نہیں معلوم حد ہوگئی نہ ہم گونگے ہیں نہ بہرے پھر بھی چپ بیٹھے ہیں پھر بھی کچھ نہیں سنتے۔ آئے دن ایک نئی خبر سننے کوملتی ہے۔ چودہ سالہ لڑکی گھر سے فرار اٹھارہ سالہ لڑکی گھر سے فرار ان میں سے کچھ معصوم اغوا ہوجاتی ہیں اور کچھ اپنے ساتھی کے ساتھ نکاح کرلیتی ہیں سارے جہان کو تنگ کرنے اور گھر والوں کو رسوائی کی دلدل میں دھکیلنے کے بعد ویڈیو کلپ آتا ہے کے جی ہم نے نکاح کرلیا ہے چلو بھئی ولی کے بغير نکاح بھی کر لیا جو کہ ہوا ہی نہیں۔ آٹھ سے تیرہ سال تک کے بچے بچیاں اب وہ بھی کسی سے کم نہیں اس عمر میں ہمیں مرغا بنا دیا جاتا تھا یہ بچے ریسٹورینٹ میں بیٹھے کھانے کے آرڈر دے رہے ہوتے ہیں ارے جناب اکیلے نہیں اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جس عمر میں ہم شیر اور ہاتھی کی کہانیاں سنتے تھے یہ بچے شعرو شاعری کرتے ہیں۔ اب آگے کیا بتاؤں ایک دس سالہ بچے کو اس کی والدہ میرے پاس لے آئیں ماں بیچاری منہ پرچادر رکھ کر شرمندہ سی ہنس رہی تھی اور بچے کی جیب سے ایک کاغذ کا ٹکڑا نکال کر میری طرف کیا۔ اللہ رحم میرے مالک وہ تو پورا خط تھا ایک سات سالہ بچی کے نام مجھے تو چکر آنے لگے۔ جرنل اسٹور پر کھڑی دوبچیاں خوب میک اپ کیا ہوا ہیل بھی پہنی ہوئی تھیں مگر جب وہ بچیاں چلنے لگیں ہیں کسی ماڈل سے کم نہیں تھی بہترین کیٹ واک کر رہی تھی میری ایڑیاں تو بغیر ہیل کے ڈگمگا گئی۔ چھ سالہ بچی کیا خوب ڈانس کر رہی تھی صرف ڈانس ہی نہیں بلکہ چہرے اور جسم کے حصوں سے بھی ڈانس کے اسٹیپس ادا کر رہی تھی وہیں ان کے والد صاحب کہ رہے تھے بس کرو گڑیا نظر لگ جائے گی۔ بھئی آپ نظر نہیں رکھیں گے تو نظر لے...

فلسطینی صحافی کا قتل صہیونی بربریت کا بھیانک چہرہ

اسرائیل کی سیاہ تاریخ حیوانیت و بربریت سے بھری پڑی ہے۔ پہلے صہیونی فوج اپنے فرض کی ادائیگی میں مصروف ایک نہتی خاتون صحافی شیرین ابو عاقلہ کا گولی مار کر قتل کردیتی ہے اور اس کے بعد مرحومہ کے جنازے میں شامل سوگواروں کو بھی ظلم و ستم کا نشانہ بناتی ہے اور ان کی میت کی بے حرمتی بھی کی جاتی ہے۔ بے شک اپنی موت کے بعد شیرین ابو عاقلہ فلسطینی قوم پرستی کی ایک نئی علامت بن کر ابھری ہیں۔ اسرائیلی فوج کی تمام زیادتیوں اور پابندیوں کے باوجود ہر دلعزیز فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے جنازے سے بھی زیادہ لوگ شیرین ابو عاقلہ کے جنازے میں شامل تھے۔ وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی خاطر ابو عاقلہ کے قتل کی ذمہ داری پہلے جینن کے ان فلسطینی حریت پسندو ں پر ڈال دی جن کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے دوران اس ہولناک جرم کا ارتکاب کیا گیا۔لیکن جب چشم دید گواہوں اور خود اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ویڈیو اور تصاویری شواہد سے یہ ثابت کردیا کہ جس جگہ ابو عاقلہ کو گولی ماری گئی وہاں دور دور تک کوئی فلسطینی موجود نہیں تھا اور نہ ہی وہاں کوئی جھڑپ ہوئی تھی تو اسرائیل نے پینترا بدل ڈالا۔ واشنگٹن پوسٹ کے انکشاف کے مطابق اسرائیلی حکومت اندرونی طور پر یہ تحقیقات کررہی ہے کہ ابو عاقلہ کی موت کس فوجی کے رائفل کی گولی سے ہوئی۔ لیکن اسرائیل کے ہی مقبول روزنامہ  ہارٹیز  نے اپنے ایک اداریہ میں یہ سوال اٹھایا ہے کیا یہ ممکن ہے کہ اسرائیل ڈیفنس فورسز خود اپنے جرم کی ایمانداری سے تحقیقات کرے گی۔ فلسطینی صحافی شیرین ابوعاقلہ کی موت پر امریکی کانگریس کے اراکین نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل پر شدید تنقید کی۔کانگریس اراکین آندرے کارسن اور الہان عمر نے امریکی حکومت پر زور دیا کہ وہ صحافی شیرین ابو عاقلہ کے مجرمانہ قتل پر اسرائیلی حکومت کو جوابدہ قرار دے کر اس واقعے کی عالمی سطح پر تحقیقات کرائے۔ در یں اثناءامریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر نے اسرائیلی فوج پر الجزیرہ کی رپورٹرکے دانستہ قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ 3 ارب 8کروڑ ڈالر کی امریکی فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ امداد ایسے وقت میں جاری ہے جب اسرائیل فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرتے ہوئے انہیں بے گھر کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہزار کو مغربی کنارے سے نکالنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جو1947ءکے بعد سے سب سے بڑی اجتماعی بے دخلی ہے۔ انہوں نے سوال قائم کیا کہ کیا اس کے بعد بھی اسرائیلی ریاست کا انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر مواخذہ نہیں ہوگا۔ امریکی ایوان نمائندگان کی ڈیموکریٹک اسپیکر نینسی پیلوسی نے اس قتل کو ایک  خوفناک سانحہ  قرار دیتے ہوئے، مکمل، بامقصد اور فوری تحقیقات  کا مطالبہ کیا۔پیلوسی نے کہا کہ کانگریس دنیا بھر میں پریس کی آزادی کے دفاع کے لئے پرعزم ہے اور ہر صحافی، خاص طور پر جنگ زدہ علاقوں میں پیشہ وارانہ...

ایک روٹی کے عوض

ابھی کچھ دن پہلے لودھراں میں ایک شخص نے ایک عورت اور ایک مرد کو قابل اعتراض حالت میں دیکھا اس شخص نے پولیس کو مطلع کیا، پولیس نے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ دونوں کو تھانے لایا گیا توعورت اپنے پاس موجود تھیلے کی تلاشی دینے سے انکار کرنے لگی۔ پولیس نے اپنے روایتی انداز میں جب پوچھنا شروع کیا پھر بھی خاتون نے تھیلے کی تلاشی دینے سے صاف انکار کر دیا تو ظاہر جو پولیس سوچ رہی تھی کہ کہیں اس میں منشیات تو نہیں  یا دوسرا کوئی غیر قانونی سامان تو موجود نہیں، تفتیشی افسر نے زبردستی تھیلے کی تلاشی لی تو اس میں سے جو کچھ برآمد ہوا، اس نے تھانے میں موجود ہر آدمی کو ہلا کر رکھ دیا۔ منشیات کا شبہ ہونے پر ایس ایچ او نے سخت ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے زبردستی تھیلے کی تلاشی لی تو اس میں سے جو کچھ برآمد ہوا، اس نے تھانے میں موجود ہر آدمی کے رونگٹے کھڑے کر دیئے۔ تفتیشی افسر جو اس خاتون سے بڑے سخت اور غصیلے لہجے میں پیش آ رہا تھا اب وہ اتنا نرم ہو چکا تھا اس خاتون سے مزید استفسار کرتے ہوئے اسکی زبان لڑکھڑا رہی تھی رپورٹ لکھتے ہوئے ہاتھوں میں لزرا طاری ہوگیا تھا لہجے میں مٹھاس، احترام اور آنکھیں شدت غم سے نم ہو چکی تھی۔ آخر اس تھیلے میں ایسا کیا تھا؟ جو دیکھنے والی ہر آنکھ کو ہلا کر رکھ دیا تھا ہر پولیس والے کی آنکھ اب کیوں نظریں چرا رہی تھی۔ جی ہاں اس تھیلے میں سے دو سوکھی روٹیاں نکلی تھیں خاتون سے جب مزید پوچھا گیا یہ کیا ہے، کیوں ہے تو خاتون زار و قطار روئے جا رہی تھی آنکھوں سے گرنے والے آنسوؤں نے اس کے میلے کچیلے چہرے کو مزید صاف کر دیا ایک نہایت خوبصورت خاتون آخر اپنی عزت نیلام کرنے پر کیوں مجبور ہوئی ۔ اس نے بتایا میں بیوہ ہوں میرا خاوند کسی بیماری میں چند سال پہلے مر چکا ہے گھروں میں کام کرتی ہوں کسی گھر میں مستقل کام نہ ملنے کیوجہ سے روانہ مختلف گھروں میں کام کرتی ہوں دو دن سے کام نہیں مل رہا تھا تو بچیاں گھر میں بھوکی تھیں تو مختلف ہوٹلوں کے باہر سے زندگی میں پہلی بار بھیک مانگنا شروع کی دو چار ہوٹلوں سے مانگنے پر صرف دو روٹیاں مل سکی، ابھی تین چار روٹیوں کی اور مزید سالن کی ضرورت تھی مایوس ہو کر گھر لوٹ رہی تھی سڑک پر چلتے ہوئے ایک شخص نے نازیبا اشارہ کیا تو بچیوں کی بھوک کے آگے میں نے شکست تسلیم کی چند روٹیوں کے عوض میں نے اپنی عزت نیلام کر دی۔ ہاں ہاں میں نے دو روٹیوں اور سالن کی خاطر اپنی عزت، اپنا وقار، سب کچھ بیچ دیا بیٹیوں کی بھوک کے آگے مجھے اپنی عزت سستی لگ رہی تھی، جب ایس ایچ او نے یہ سارا واقعہ اپنے متعلقہ ڈی پی او کے گوش گزار کیا ڈی پی او نے فی الفور ایف آئی آر خارج کر کے مالی مدد کرنے کا حکم صادر فرمایا...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

زمانہ بدل رہا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔

ملکی سیاسی حالات و اقعات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔ملکی معاشی حالات ،خاص کر قیمتوں کی گرانی کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ اتنا جلدی تو گرگٹ رنگ نہیں بدلتا جس قدر عصر حاضر میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔دور حاضر میں جس سرعت کے ساتھ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات میں تغیر وتبدل رونما ہو رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے مجھے تو نہرو کے اس بیان کی صداقت برحق ہونے کا یقین ہوچلا کہ ’’میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان وزیراعظم بدلتا ہے‘‘۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج تک ہم نہ وزیراعظم بدلنے سے باز آئے اور نہ ہی ہندو بنئے دھوتیاں بدلنے۔ہم تو وہ قوم ہیں جو اپنے وزیر اعظم کے غبارے سے ہوا میں ہی ہوا نکال دیتے ہیں(میاں صاحب والا واقعہ)،پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ ہم وفادار نہیں۔ہوا میں معلق ہونے کی بنا پر تاریخ میں دو شخصیات کو شہرت نصیب ہوئی،میاں صاحب اور سومنا ت کا مجسمہ۔ایک کو محمود غزنوی اور دوسرے کو مشرف نے شرف بخشتے ہوئے ہوا سے نیچے اتارا۔یہ الگ بات کہ دونوں نے ہوا سے اتارنے کے لئے انداز ایک سا ہی اپنایا۔ سب بدل رہا ہے،اور یہ تبدیلی اس قدر تیزی سے رونما ہو رہی ہے کہ حضرت انسان بھی اب تو ’’حضرت‘‘ہوتا چلا جا رہا ہے،حضرت یہاں پر اردو والا نہیں بلکہ پنجابی والا ہے۔کیونکہ معاملات میں یا تو پنجابی حضرت ہوتے ہیں یا پھر مولانا حضرتِ فضل الرحمٰن۔مولانا صاحب تو اتنے حضرت ہیں کہ اپنے ’’پیٹ اور ویٹ‘‘ کو بھی اللہ کا فضل ہی سمجھتے ہیں۔ویسے ان کے پیٹ اور ویٹ کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی بھی اتنا ہی خیال رکھتے ہیں جتنا کہ اپنے پیٹ اور ویٹ کا۔اسی لئے دونوں ان کے کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ حضرت انسان تو بدل رہا ہے یقین جانئے کہانیوں کے کردار بھی اب پہلے سے نہیں رہے۔وہ بھی حضرت انسان کی طرح چالاک و چوبند ہوتے جا رہے ہیں۔اب کوے ارو لومڑی کی کہانی کو ہی لے لیجئے جس میں کوے کے منہ میں گوشت کا ٹکڑا دیکھ کر لومڑی کوے کے خوش گلو ہونے پر عرض کرتی ہے کہ اے کوے میاں کوئی گانا تو سنائو۔جس پر کوا کائیں کائیں کرتا ہے ، اس کے منہ سے گوشت کا ٹکڑا گرتا ہے،لومڑی اسے اٹھاتی ہے اور اپنی راہ لیتی ہے۔وہی کہانی اب بدل کر ایسے ہو گئی ہے کہ یونہی لومڑی کوے کی خوش الحانی کی تعریف و توصیف میں عرض کرتی ہے کہ کوے میاں اپنی پیاری سی آواز میں کوئی ملکہ ترنم نورجہاں کا پر ترنم گانا تو سنائو۔اب کہانی کے مطابق کوے کو بھی ’’میاں صاحبان‘‘کی طرح فورا گانا شروع کر دینا چاہئے مگر نہیں اب ایسا نہیں ،میں نے کہا نا کہ زمانہ بدل گیا تو کہانیوں کے کرداروں میں بھی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔اب کوے لومڑی کے منہ سے اپنی تعریف سنتے ہی ،اپنے منہ والا گوشت کا ٹکڑا کھاتا ہے،زبان سے اپنی چونچ صاف کرتے...

ہمارے بلاگرز