سفر نامہ

سیر سنگلاخ وادیوں کی، اور ملاقات امید کی شہزادی سے

آغازِ سفر اللہ کے بابرکت نام سے۔ بلوچستان کے ہمارے اس ایڈوینچر کا آغاز خاصے غیر یقینی حالات میں ہوا، کرا چی( جس کے موسم کے...

اہم بلاگز

دور غلامی کی نحوست

جب کسی قوم کی تلوار میدان جنگ میں  شکست کھاجاتی ہے تو اس کی تہذیب ، تمّدن ،ثقافت  حتٰی کہ اس کا قلم بھی ہار جاتاہے ۔ہزار چاہنے کے باوجود بھی انسان اپنے  تہذیب ، تمّد ن ،ثقافت حتیٰ کہ اپنے دین پر مکمل عمل پیرا ہونے سے بھی رہ جاتا ہے ۔اس کی شریعت بھی رعایتوں پر مشتمل ہوجاتی ہے ۔بلکہ یو ں کہیئے کہ   مغلوب قوم کو غالب  قوت کے بنائے گئے قوانین  کے مطابق  فیصلے   قبول کرنے پڑتے ہیں ۔جب دور غلامی کی رات طویل ہوجاتی ہے تو  انسان  اپنی غلامی پر فخر کرنے لگتاہے اس کو اپنی  سابقہ  ہر اس رویئے پر شرمندگی ہونے لگتی ہے جس پر وہ اپنے ماضی میں فخر کیا کرتا تھا ۔جسمانی غلامی آہستہ آہستہ دل اور دماغ کو بھی اپنا اسیر بنالیتی ہے  وہ حاکم قوم کی زبان بولنے میں، ان جیسے کپڑے ،کھانے اور رہن سہن پر فخر محسوس کرنے لگتاہے ۔ اس کی بہت ساری مثالیں ہمارے سیاسی ،معاشرتی ،معاشی زندگی میں بکثرت مل جائیں گی سیاسی زندگی میں اس کی مثال کچھ یوں ہےکہ  خلافت  اور اس کے بعد  بادشاہت   کی جگہ نام نہاد جمہوری نظام نے  جب سے لی  اب  نظام سیاست و حکومت  ساری مسلم دنیا کو  بھی اچھی لگ رہی ہے   اور روشن خیال  مسلمان طبقہ بھی اس کے گن گا رہا ہے اور اس پر فخر محسوس کررہا ہے اور اس کو اپنا شاندار ماضی  معیوب نظر آنے  لگا ہے ۔ سوائے ان لوگوں کے جوکہ بنیاد پرست ہیں ۔اسی  طرح اگر کوئی معاشرے میں ایسا شخص ہوتا  جس کے بارے میں لوگوں کو یہ معلوم ہوتاکہ اس  کا کاروبار سودی ہے تو لوگ اس سے قطعہ تعلق کرتے، حتٰی کہ اس کے گھر کے کھانے پینے کو بھی اپنے لیے حرام سمجھتے۔ ہمارا اپنا   تعلیمی نظام تھا  جس نے دنیا کے بڑے بڑے نامور علمی شخصیات دنیا کو دیں اسی طرح فحاشی اور بے حیائی کو مسلمان کیا غیر مسلم بھی برا سمجھتے اور اس سے نفرت پائی جاتی تھی ۔اپنی زبان بولنے پر   ہم فخر محسوس کرتے تھے ۔ اور دوسروں کی زبان بولنا  ہمارے لئے باعث فخر نہیں تھا ۔ہمارا رہن سہن  ہماری اپنی  تہذیب و ثقافت کے مطابق تھا ۔ ہمیں اسی پر فخر تھا ۔ہماری تحریریں اور تقریریں بھی ہمارے شاندار ماضی کی غماز تھیں ۔غرض یہ کہ ہماری ہر چیز  ہماری اپنی تھی ۔ مگر تھا جو ناخوب، بتدریج وہی خوب ہو ا  کہ غلامی میں بدل جاتاہے قوموں کا ضمیر برسہا برس کی انگریزوں کی غلامی سے آزادی تو حا صل ہوگئی اور اس بات کو ستّر سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے  مگر اس غلامی نے ہماری  ہر چیز کو بدل ڈلا ہے  ۔ آج انگریزی زبان بولنے پر ہم فخر محسوس کرتے ہیں اور جن کو یہ زبان نہیں آتی وہ اپنی زبان بولنے پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں ۔کسی انگریز کی  پینٹ اگر  گھٹنوں سے پھٹ جائے اور وہ اس کو پہن لے تو ہمارے معاشرے میں نوجوان اس طرح کی پھٹی ہوئی پینٹ خرید کرپہن رہے ہوتے ہیں۔ وہ لباس جو کہ ماضی میں...

قومیں اپنی خودداری کی حفاظت کس طرح کرتی ہیں

’’مجھے یاد ہے، ایک مرتبہ مرحوم راجہ غضنفر علی خان مجھ سے ملنے کے لیے منیلا تشریف لائے (جب میں وہاں پاکستان کا سفیر تھا)۔ انہوں نے بتایا کہ جب ان کو سفیر بنا کر بعض مسلمان ملکوں میں بھیجا جا رہا تھا تو ان کو قائدین کی طرف سے ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ پاکستان کی مالی ضروریات کا ذکر کرکے، غیروں کی نظروں میں پاکستانی قوم کی خودداری اور عزت کو خراب نہ کریں۔ راجہ صاحب اس موقع پر چین کا دورہ کرکے منیلا پہنچے تھے۔ وہ چین کی انقلابی قیادت سے اس بات پر سخت متاثر تھے کہ وہ اپنی ہی قوتِ بازو اور ملی وسائل سے اپنا ملک بنا رہی تھی، کسی مالدار ملک کے سامنے اپنا دامن نہیں پھیلا رہی تھی۔ امریکی جنرل مارشل شروع ہی میں امداد کی آفر لے کر وہاں پہنچا تھا مگر اس کو یہ جواب دے کر واپس کر دیا گیا کہ ’’نیا چین غریب ہی سہی ۔۔۔۔ خانہ جنگی اور جاپانی قبضہ کی وجہ سے فی الحال تباہ حال ہی سہی، مگر وہ اپنی قوت سے پھر اٹھ کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا۔ دوسروں کے سہارے نہیں۔‘‘ قدرتِ خدا، دو سال بعد میں خود سفیر بن کر چین گیا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے بھی چین میں وہی صورتحال دیکھی جس کا ذکر غضنفر علی خان مجھ سے کر گئے تھے بلکہ اس وقت تک تو چینیوں نے اپنے ہم خیال (و ہم نظریہ) روسی کمیونسٹ صلاحکاروں کو بھی اپنے یہاں سے محض اسی بناء پر راتوں رات بھگا دیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو چین کا محسن سمجھنے لگے تھے۔ یہ بات چین نے اپنی آزادی اور قومی وقار کے منافی سمجھ کر روس سے دشمنی مول لے لی مگر روسیوں میں اس احساس کا پیدا ہونا کہ وہ چین کے محسن ہیں، گوارا نہیں کیا۔ انہی دنوں ایک مرتبہ مجھے چین کا ایک لیڈر بغرضِ سیر و تفریح، پیکنگ کے قریب سمر پیلس لے کر گیا، وہاں ہم کشتیوں میں گھوم رہے تھے۔ آپس کی گفتگو بے تکلفی کے انداز میں ہونے لگی۔ چین کے اس وقت کے حالات کا ذکر چھڑا، میں نے رازدارانہ اور مخلصانہ انداز میں کہا کہ: ’’چین میں ہنوز کئی چیزوں کی کمی نظر آ رہی ہے، مثلاََ ریل گاڑی میں کپلنگ کی جگہ رسیاں باندھی جاتی ہیں، فوٹو کھینچنے کے لیے لکڑی کے بکسوں میں لینز لگا کر ان سے کیمرہ کا کام لیا جاتا ہے، ہسپتالوں میں پچاس سال کی پرانی ایکسرے مشینیں استعمال کی جا رہی ہیں۔ کیوں نہ بعض دوسرے ملکوں کی طرح چین بھی امریکی مزاج سے فائدہ اٹھاتا جب کہ امریکہ ساری دنیا میں بے تحاشہ پیسے پھینک رہا ہے اور ہر حاجت مند ملک اس کو جھانسے دے کر اپنی ضرورتیں پوری کر رہا ہے؟‘‘ میرے میزبان نے یہ جواب دیا:’’جو چین امریکہ یا کسی دوسرے ملک کی مدد کے سوا اپنی تعمیر نہیں کرسکتا، ہم اس چین کو اپنے ہاتھوں سے دفن کرنا پسند کریں گے، بہ نسبت اس کے کہ اس کو دوسروں کے سہارے اُٹھتا دیکھیں۔‘‘ یہی عزم اور یہی احساسِ...

جہاں آرا آپا (میری مربی۔میری رہنماء)۔

قیم ضلع کورنگی اجمل وحید صاحب کی والدہ تنظیم اساتذہ پاکستان کے سابق سر براہ حافظ وحید اللہ خان  صاحب مرحوم کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا ہے ۔سوشل میڈیا پر ملنے ولی خبر نے حادثے کی اطلاع دی اورمیں حیران تھی کہ آج بدھ ہے اور کل (گذشتہ روز یعنی منگل)  کوتو ہم ان سے ملاقات کے لے نکلے تھے مگر راستے میں معلوم ہوا کہ ان کا MRI ہو رہا ہے ۔ اس لئے ملاقات دو تین دن بعد رکھی۔ مگر ملاقات نصیب  میں نہ تھی۔ اور  اب میں ان کو آخری سلام کرنے کے لئے جارہی ہوں۔ میری ہمت نہیں پڑ رہی کہ وہ آن بان والی آپا کو  کبھی میں اس طرح لیٹا ہوا دیکھ پاؤں گی۔ تصور میں ان کا پر نور چہرہ آرہا ہے جو روشنی سے جگمارہا ہوگا۔ آپا جی سے  میری پہلی ملاقات (غالباً) 1985 ء میں حیدرآباد میں ارکان کی تربیت  گاہ میں ہوئی ۔میں بہت متاثر ہوئی بلکہ مرعوب ہوئی کیونکہ وہ بڑی پر وقار ی کے ساتھ ہاتھ  میں پرس لئے کسی بیگم صاحبہ کی یاد دلارہی تھی۔ اور اب تک جن ذمہ داران  سے واسطہ پڑا  تھا  وہ ان سے مختلف لگ رہی تھیں۔ مگر جب وہ مائک پر آکر گفتگو کرنے گئیں تو وہاں پر ایک پیاری سی  شفیق سی خالہ جان ہی محسوس ہوئیں اور نہ صرف خود ساختہ  بنایاہوا میرا خول ٹوٹا بلکہ میں اس شفیق ہستی کی گرویدہ ہو گئی کیونکہ ہم چھوٹے بچوں والیوں کے مسائل ہر تھوڑی دیر بعد بدل جاتے  (ہم چھوٹے بچوں والیوں کو ایک الگ کمرہ رہائش کے لئے دیا گیا تھا۔ اب اگر ایک ماں اپنے بچے کے لئے  کوئی چیز نکالتی تو باقی بچے اپنی تھیلے میں بھرے ہوئے دنیا جہاں کی نعمتوں کو چھوڑ کر اس  چیز کا مطالبہ کرتے جب ہم بچے چپ کرا کرا کر تھک جاتے  تو ناظمہ صوبہ جہاں آرا آپا کے  پاس مسئلہ  لے کر پہنچ جاتے وہ مسئلہ حل کرتیں ۔ یاد رہے  کہ گاڑیوں ،پیڈسٹل فین اور ڈرائیوروں کی اس  درجہ سہولت نہ تھی جو آج ہے (پٹرول نہیں تھا) جب پنکھا ایک بچے کی طرف ہوتا تھا دوسرے رونے لگتے پہلے ہم خود حل کرنے کی کوشش کرتے پھر بھاگے بھاگے ناظمہ صوبہ کے پاس پہنچ جاتے۔ اور ایک کا بچہ روتا تو باقی بھی سوتے سے اٹھ کر بیٹھ جاتے اور کچھ تو اپنے روتے ہوئے  دوست کے ساتھ اظہار  یکجہتی بھی کرنے لگتے۔ اور ہماری تو اس ہر درد کی دوا  ناظمہ صوبہ  ہی تھیں۔ اور میں حیران ہوتی کہ شخصیت کا جاہ و جلال ان کی نرمی اور سمجھ داری  میں کوئی خلل ڈالنے کی ہمت  نہیں کرتا۔ جب بھی مختلف ذمہ داریوں کے حوالے سے سکھر جانا ہوا۔ ان سے ملاقات رہی اور ان کی شفقت اور محبت کا لطف اٹھایا۔ ان کی زندگی حوادث سے آراستہ رہی مگر ان کی  استقا مت چٹانوں کو مات دینے والی تھی۔ ایسے ہی ایک حادثہ کی خبر جب ہمیں ملی  اور طلعت باجی (طلعت ظہیر) حامدہ آپا ان کی دل گیری کے لئے جانے لگیں  تو میں  بھی ساتھ...

مس 96.7 ڈگری ہے۔

ڈرائیور نے ابھی پوری طرح بریک بھی نہیں لگائی تھی کہ وہ تیزی سے دروازہ کھول کر تقریبا چلتی ہوئی گاڑی سے کودنے کے بعد اسکول کی طرف بھاگی،موبائل فون سے ٹائم دیکھا اسکول لگنے میں پانچ منٹ باقی تھے، تیزی سے قدم اٹھاتے ہوئے سکول گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہیں اس نے سکھ کا سانس لیا کہ بروقت پہنچ گئی، "دائرہ دائرہ دائرہ۔۔ "کی چیختی ہوئی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی جو سٹپٹا کر سامنے دیکھا تو ٹیچر مریم انہیں ہاتھ کے اشارے سے دائرہ کے اندر کھڑا ہونے کا کہہ رہی تھیں،،، "اوہ اچھا۔۔ وہ چھلانگ لگا کر دائرے کے اندر کھڑی ہوگئی۔۔آگے چار پانچ دائروں میں بچے کھڑے تھے اور اپنا ٹمپریچر چیک کروا رہے تھے۔دائرے میں کھڑے کھڑے اس کا اونگھنے کو دل کیا کیونکہ یہی سکون کے چند لمحے اس کو ریسٹ کرنے کو ملے تھے،اس کا جی چاہا کہ ٹمپریچر چیکنگ اور سینیٹائزیشن کا عمل طویل ہوجائے یا وہ پچھلے کسی دائرے میں جا کر کھڑی ہو جائے،مگر اس کے ایسا سوچنے کے دوران ان اس کی باری آگئی،ٹیچر مریم نے ٹمپریچر چیک کیا۔ "مس 96.7 ڈگری ہے۔ " اگلے دائرے میں ٹیچر اسماء نے مسکراتے ہوئے سینیٹائزر کی بوتل سے اس کے ہاتھوں پر سپرے کیا۔ اس نے ہاتھوں کو ایک دوسرے کے اوپر ملتے ہوئے جوابی مسکراتا ہوا سلام کیا اور اسٹاف روم کی طرف دوڑ گئی,وہاں کھڑے ہو کر گفتگو کرنا خطرے سے خالی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ انار کے پودے کے پاس کھڑی میم کی نگاہیں اس کو گھور رہی تھیں۔ اسٹاف روم میں پہنچ کر گاؤن تبدیل کرکے دوپٹہ لیا ہی تھا کہ سامنے ٹیبل پر اپنی نامکمل فائل نظر آئی اور ساتھ ہی میم کی کل والی جھاڑ کا کڑوا ذائقہ گلے میں محسوس ہوا۔ "پورا ہفتہ گزر گیا ابھی تک آپ سے بچوں کے فون نمبر اور گھر کے ایڈریس کی لسٹ مکمل نہیں ہوئی،اب آپ کے پاس صرف آج کا دن ہے،کل صبح یہ لسٹ مکمل ہو کر میری ٹیبل پر پڑی ہونی چاہیے" اس نے میم کے الفاظ یاد کر کے ایک جھرجھری لی اور فائل کھول کر بیٹھ گئی،پہلے پیریڈ میں کلاس کے بچوں سے ایڈریس اور فون نمبر مانگا،جوابا بچوں نے کورے چہروں کیساتھ مس کی طرف دیکھا جیسے ان کی بات نہ سمجھے ہوں۔ "میں نے کہا اپنے اپنے ایڈریسز اور فون نمبرزلکھوادیں۔" اس نے ذرا گھور کر بچوں کی طرف دیکھا "مس آپ نے ہمیں ایڈریسز اور فون نمبرز لے کر آنے کا نہیں کہا "،ہم گروپ اے ہیں، آپ نے گروپ بی سے کہا ہوگا مانیٹر نے اٹھ کر کہا۔ "اوہ۔۔۔۔۔وہ تو واقعی میں نے گروپ بی سے کہا تھا۔" اس نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا بچوں کو اپنے اپنے ایڈریسز اور فون نمبرز لے کر آنے کی تاکید کی، سبق پڑھایا اور اگلے پیریڈ کی بیل لگ گئی۔ دوسرے پیریڈ میں کلاس نہم کے وائٹ بورڈ پر موٹے حروف میں ٹیسٹ لکھا ہی تھا کہ پیچھے سے بچوں کی آواز آئی "مس آج ٹیسٹ نہیں ہے" "ارے کیوں نہیں ہے. کل ہی تو میں نے آپ کو انگلش کی تین سمریز ٹیسٹ کے لئے دی تھیں۔" اس کے...

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔۔۔

اس دنیا کی سب سے بڑی اور جامع حقیقت انسان کا اس دنیائے فانی سے کوچ کر جانا ہے۔جو آیا ہے اس نے واپس جانا ہے۔ میرا رب جس کے لئے رخصتی کا فرمان جاری کر دیتا ہے، موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرتے ہوئے کوئی عذر قبول نہیں کرتا، کہ وہ امیر ہے یا غریب، چھوٹا ہے یا بڑا، نیک ہے یا بد، ہر دلعزیز ہے یا دل بیزار ۔ جانے والے کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس جانے والے کو جو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت عمل ملی تھی، کیا اس نے اس سے فائیدہ اٹھایا ؟ جس امتحان کی نگری میں بھیجا گیا تھا کیا اس میں کامیاب ہوا ؟  کیا اس نے اپنی زندگی فانی میں آخرت کے لیے کوئی ایسا سامان تیار کیا جس سے اس کا رب راضی ہو جائے۔جس نے اپنے لیے نوشتہ آخرت تیار کر لیا۔ اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کر کے، اپنے جسم و جان کو مشقتوں میں ڈال کر اسے راضی کر لیا، وہ کامیاب زندگی گزار گیا۔ ایسا شخص اپنے رب کے انعام و اکرام کو اپنے لیے لازم کر لیتا ۔ اور مالک کی طرف سے اسے نفس مطمئنہ کا لقب مل جاتا ہے۔رب کے بھیجے فرستادے آ کر اسے رب کا پیغام سناتے ہیں جو قرآن کریم کی سورۃ فجر میں فرمایا گیا ہے۔  اے اطمینان والی روح تو اپنے پروردگار کی طرف چل خوش ہوتی ہوئی اور خوش کرتی ہوئی۔ تو میرے خاص بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔ ایک ایسی ہی کامیاب زندگی گزارنے والی ہستی جس کے بارے میں لوگوں نے نفس مطمئنہ ہونے کی گواہی بھی دی۔ جو دنیا میں ہر دلعزیز بھی تھی۔ جس کا نصب العین اللّہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی تھا، پھر اسی مقصد کے حصول میں اپنی عمر کھپا دی۔  جو جاتے ہوئے ہر آنکھ کو اشکبار کر گیا۔  یہ ہستی جماعت اسلامی پاکستان کے ترجمان،  ڈائریکٹر امور خارجہ،اور نائب امیر ، عبدالغفار عزیز کی ہے۔  عبد الغفار عزیز نے پانچ اکتوبر کی رات وفات پائی۔ یہ خبر ہی بے یقینی والی تھی۔  میں تو اسی خیال میں تھی کہ اتنے زیادہ لوگ ان کی صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔  یہ ضرور صحت یاب ہو کر اپنے مشن پر واپس آئیں گے۔ صدمہ تو بہت تھا لیکن میرے رب کی حکمتیں میرا رب ہی جانے۔ چند ماہ پہلے کی بات ہے۔ رات سونے سے پہلے، بے خیالی میں ہی فیس بک دیکھنی شروع کر دی۔ اچانک نظر عبد اللہ بن عباس کی شیئر کی گئی پوسٹ پر پڑی۔ کہ ماموں جان کل سے ہسپتال میں بہوشی کی حالت میں ہیں۔ ساتھ دعا کی بھی اپیل کی گئی۔یہ خبر ایک دھماکہ خیز تھی۔  حیرت وبے یقینی کی کیفیت تھی۔ کیونکہ بھائی کی طبیعت خراب یا بیماری کے بارے میں کبھی کچھ نہیں سنا تھا۔یہ اچانک کیسے اتنی زیادہ طبیعت خراب ہو گئی۔ یہ تو معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ مرد مجاہد باطل کے خلاف جہاد کے ساتھ ساتھ خاموشی سے بغیر کسی پر ظاہر کئے اندر ہی اندر اپنی بیماری سے بھی لڑ...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر…۔

کل بہت سے لوگوں نے ہماری شادی کی سالگرہ پر پوچھا کہ ہنستے بستے رشتے کا رازکیا ہوتا ہے؟ اس موضوع پر ذرا کھل کر لکھنے کا ارادہ ہے، لگتا یہ ہے کہ رشتوں کا بحران ہماری زندگیوں کا سب سے بڑا کرائسس بن چکا ہے. ہمارے خاندانی نظام کا بلبلہ پھٹنے کو ہے اور اسے بچانے کے لیے ہم سب کو کلاس روم میں داخل ہونا پڑے گا. لیکن ابھی مختصر سی گدڑ سنگھی حاضر ہے، وہی جس کی طرف بڑی بی اشارہ کر رہی ہیں. جی ہاں، بہرا پن، یا ڈورا پن بھی ایک ایسا ہی سیکرٹ ہے. ضروری نہیں ہر بات سنی جائے، یا ہر بات کا جواب دیا جائے، کچھ باتیں سنی ان سنی کردی جائیں تو رشتوں کے باؤلے پن سے بچا جا سکتا ہے. اس کا مطلب سٹون والنگ نہیں ہے. اس پر بھی بات ہوگی. آنکھوں میں بے شک ڈراپ ڈال کر رکھیں اور دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر کچھ کچھ، سنا، ان سنا کردیں۔

پیچھے پھر!!!!۔

یہ ایک غیر معمولی بحران تھا، جو ٹل گیا مگر کچھ عرصہ تک اس کا دھواں اٹھتا رہے گا.                                       سندھ میں آئی جی پولیس کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کچھ سامنے آچکا ہے، مزید آجائے گا. یہ طے ہے کہ آئی جی کی تذلیل کی گئی اور کیپٹن صفدر کو سبق سکھانے کے لئے کچھ سرخ لکیریں عبور کی گئیں. کیپٹن صفدر نے مزار قائد پر جو کچھ کیا، وہ غلط تھا، لیکن اس کی ناک رگڑنے کے لیے جو کچھ کیا گیا، وہ اس سے زیادہ غلط تھا. آئی جی سندھ مہر مشتاق مرنجاں مرنج آدمی ہیں. ویسے بھی ایسے عہدوں پر پہنچنے والے مرنجاں مرنج ہی ہوتے ہیں. انہیں رات کے چار بجے اپنی خاندانی رہائش سے اٹھا کر ڈالے کا سفر کرانا اور سایوں سے ملاقات کی ضرورت نہیں تھی. جس نے بھی کیپٹن صفدر کے سمری ٹرائل اور فوری پھانسی کا حکم جاری کیا، اسے شربت بزوری معتدل پینے کی ضرورت ہے. یہ زیادہ سے زیادہ ایک ایس ایچ او یا ڈی ایس پی لیول کی اسائنمنٹ تھی جس میں ایک آئی جی کو گھسیٹا گیا. اب، آئی جی، پولیس کا جنرل لیول کے برابر کا افسر ہے. آئی جی، نوکری پیشہ آدمی ہیں اور ہرگز چی گویرا نہیں ہیں، ان کے اندر سے چی گویرا نکال لیا گیا ہے. سایوں کی ساٹھ سالہ حکومت میں پہلے بھی یہ سب کچھ چلتا رہتا ہے. بازو بھی مروڑے جاتے ہیں، لیکن بہت کم. زیادہ تر لہجے کے زور پر یا گالم گلوچ سے کام چل جاتا ہے. پرسنل فائلیں بھی کافی کام آتی ہیں. تاہم سارے افسران پنجاب پولیس جیسے نہیں ہوتے جن کی کمر سے ریڑھ کی ہڈی پہلے شہباز شریف اور بعد میں تحریک انصاف کی حکومت نے نکال لی ہے. گھوم پھر کر یہ کرائسس آف گورنینس ہے. اصل سوال وہی ہے کہ پاکستان کا مالک کون ہے؟ خاکی اور خفیہ ادارے بجا طور پر اپنے آپ کو مالک سمجھتے ہیں. عدلیہ سمجھتی ہے کہ تشریح کا اختیار اس کے پاس ہے کہ الاٹی کون ہے اور مالک کون ہے. بیورو کریسی کا سارا زور نوکری کرنے، مرضی کی پوسٹنگ لینے اور جو جیتے اس کے ساتھ بستر میں جانے پر صرف ہوتا ہے. کبھی ایک آنکھ، اور کبھی دوسری آنکھ بند کر لی جاتی ہے. اب یہ نہ پوچھئے گا کہ اس فارمولے میں عوام کیوں شامل نہیں ہیں. جو کراچی میں ہوا، وہ پہلے بھی ہوتا رہتا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا. اسی طرح کے مقدمات بھی بنتے رہے ہیں، وزیراعظم برطرف ہوتے اور پھانسی لگتے رہے ہیں. بس لگتا یہ ہے کہ جن کے ذمےیہ کام لگایا گیا انہوں نے چول ماری اور کچھ سرخ لکیریں پار کر لیں. اس وقت سندھ میں انتظامی بحران عروج پر ہے. لیکن یہ سیاسی بحران نہیں. بلاول بھٹو یا مراد شاہ کے کہنے ہر ایک سپاہی نوکری کو لات نہیں مارے گا. ایک ایسا ملک جس میں نوکری لینے کے لیے جان پر کھیلنے کی روایت ہو،...

مس 96.7 ڈگری ہے۔

ڈرائیور نے ابھی پوری طرح بریک بھی نہیں لگائی تھی کہ وہ تیزی سے دروازہ کھول کر تقریبا چلتی ہوئی گاڑی سے کودنے کے بعد اسکول کی طرف بھاگی،موبائل فون سے ٹائم دیکھا اسکول لگنے میں پانچ منٹ باقی تھے، تیزی سے قدم اٹھاتے ہوئے سکول گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہیں اس نے سکھ کا سانس لیا کہ بروقت پہنچ گئی، "دائرہ دائرہ دائرہ۔۔ "کی چیختی ہوئی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی جو سٹپٹا کر سامنے دیکھا تو ٹیچر مریم انہیں ہاتھ کے اشارے سے دائرہ کے اندر کھڑا ہونے کا کہہ رہی تھیں،،، "اوہ اچھا۔۔ وہ چھلانگ لگا کر دائرے کے اندر کھڑی ہوگئی۔۔آگے چار پانچ دائروں میں بچے کھڑے تھے اور اپنا ٹمپریچر چیک کروا رہے تھے۔دائرے میں کھڑے کھڑے اس کا اونگھنے کو دل کیا کیونکہ یہی سکون کے چند لمحے اس کو ریسٹ کرنے کو ملے تھے،اس کا جی چاہا کہ ٹمپریچر چیکنگ اور سینیٹائزیشن کا عمل طویل ہوجائے یا وہ پچھلے کسی دائرے میں جا کر کھڑی ہو جائے،مگر اس کے ایسا سوچنے کے دوران ان اس کی باری آگئی،ٹیچر مریم نے ٹمپریچر چیک کیا۔ "مس 96.7 ڈگری ہے۔ " اگلے دائرے میں ٹیچر اسماء نے مسکراتے ہوئے سینیٹائزر کی بوتل سے اس کے ہاتھوں پر سپرے کیا۔ اس نے ہاتھوں کو ایک دوسرے کے اوپر ملتے ہوئے جوابی مسکراتا ہوا سلام کیا اور اسٹاف روم کی طرف دوڑ گئی,وہاں کھڑے ہو کر گفتگو کرنا خطرے سے خالی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ انار کے پودے کے پاس کھڑی میم کی نگاہیں اس کو گھور رہی تھیں۔ اسٹاف روم میں پہنچ کر گاؤن تبدیل کرکے دوپٹہ لیا ہی تھا کہ سامنے ٹیبل پر اپنی نامکمل فائل نظر آئی اور ساتھ ہی میم کی کل والی جھاڑ کا کڑوا ذائقہ گلے میں محسوس ہوا۔ "پورا ہفتہ گزر گیا ابھی تک آپ سے بچوں کے فون نمبر اور گھر کے ایڈریس کی لسٹ مکمل نہیں ہوئی،اب آپ کے پاس صرف آج کا دن ہے،کل صبح یہ لسٹ مکمل ہو کر میری ٹیبل پر پڑی ہونی چاہیے" اس نے میم کے الفاظ یاد کر کے ایک جھرجھری لی اور فائل کھول کر بیٹھ گئی،پہلے پیریڈ میں کلاس کے بچوں سے ایڈریس اور فون نمبر مانگا،جوابا بچوں نے کورے چہروں کیساتھ مس کی طرف دیکھا جیسے ان کی بات نہ سمجھے ہوں۔ "میں نے کہا اپنے اپنے ایڈریسز اور فون نمبرزلکھوادیں۔" اس نے ذرا گھور کر بچوں کی طرف دیکھا "مس آپ نے ہمیں ایڈریسز اور فون نمبرز لے کر آنے کا نہیں کہا "،ہم گروپ اے ہیں، آپ نے گروپ بی سے کہا ہوگا مانیٹر نے اٹھ کر کہا۔ "اوہ۔۔۔۔۔وہ تو واقعی میں نے گروپ بی سے کہا تھا۔" اس نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا بچوں کو اپنے اپنے ایڈریسز اور فون نمبرز لے کر آنے کی تاکید کی، سبق پڑھایا اور اگلے پیریڈ کی بیل لگ گئی۔ دوسرے پیریڈ میں کلاس نہم کے وائٹ بورڈ پر موٹے حروف میں ٹیسٹ لکھا ہی تھا کہ پیچھے سے بچوں کی آواز آئی "مس آج ٹیسٹ نہیں ہے" "ارے کیوں نہیں ہے. کل ہی تو میں نے آپ کو انگلش کی تین سمریز ٹیسٹ کے لئے دی تھیں۔" اس کے...

ہم ہیں پاکستانی

ہم ایک ایسی قوم ہیں جو دیوار پر ہی لکھ دیتے ہیں کہ دیوار پر لکھنا منع ہے پاکستان بڑا ہی دلچسپ ملک ہے بلکہ اتنا تو پاکستان دلچسپ نہیں جتنا اس کی عوام اور عوام بھی وہ جنہوں نے رائی کا پہاڑ بنانے میں ایم-ایس-سی، بے جا خوف پھیلانے میں ایم-فل، اور ہوائی خبریں اڑانے میں پی-ایچ-ڈی کر رکھی ہے۔ یہ کچھ پچھلے دنوں کی ہی بات ہے کہ اپنی گلی میں سے گزر ہوا تو محلے کی ایک آنٹی عمر تقریباً پچاس کے لگ بھگ میرے پاس آئیں دوپٹہ ایک طرف سے کان کے پیچھے اڑس رکھا تھا پہلے ایک نظر دائیں جانب کی گلی میں ڈالی پھر دوسری نظر بائیں جانب کی گلی میں ڈالی اور انداز ایسا تھا کہ جیسے انڈرورلڈ ڈون کے بارے میں معلومات دینے آئی ہوں، نہایت رازداری سے میرے قریب ہوئیں ''بیٹا میں نے جو سنا ہے کہ تیل گروپ آیا ہوا ہے کیا یہ بات سچ ہے'' اب ادھر اپنا تو یہ حال تھا کہ یوں سمجھا کوئی گروپ آیا ہوا ہے جو تیل بیچتا پھرتا ہے یا پھر شاید کوئی غربیوں کا گروپ آیا ہے پاکستان میں تیل کا کارخانہ لگانے  پھر خیال آیا کہ کل خبروں میں ذکر چل رہا تھا ''حکومت گئی تیل لینے'' تو کہیں یہ وہی تیل تو نہیں جو حکومت ہمارے لیے لینے گئی تھی ایک لمحے کے لیے تو تشکر سے آنکھیں بھر گئیں اور دل حکومت کے گیت گانے لگا خیر دو دن کے بعد ہی جو تیل گروپ کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹی تو پتہ چلا کہ بھئی ان تلوں میں تیل نہیں، تیل گروپ کی کہانی کچھ یوں ہے کہ شہر میں چوروں کا کوئی گروہ آیا ہوا تھا جو چوریاں کرنے کی وجہ سے تو اتنا مشہور نہیں ہوا جتنا تیل کے استعمال سے، کمبخت لگتا تھا کہ تیل کے کنویں میں نہا کر باہر نکلے ہوں اور جب تیل لگانے کی وجہ معلوم ہوئی تو عش عش کر اٹھے بے ساختہ پاکستانی قوم کے لیے دل سے نکلا ''دنیا گول اے۔۔۔۔تے تیرا علاج چھترول اے'' تو مطلب یہ ہوا کہ عوام بے چاری رو رو کر سوکھ گئی کہ تیل نہیں ہے ملک میں اور حکومت بیچاری بھی نکل پڑی تیل کی کھوج میں تو آخر یہ تیل گیا کہاں؟، اب بھانڈا پھوٹا کہ کمبخت تیل تو جسم پر لگا کر چوریاں کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے چوروں نے بھی سوچا بھئی ہم تو نہ پکڑے جائیں گے لو تمہارے ہاتھوں سے ایسے پھسلیں گے جیسے کوئی آنٹی بارش میں، جیسے کوئی انکل کیچڑ میں، جیسے کوئی بچہ کیلے کے چھلکے پر، کون کہتا ہے کہ پاکستانیوں کے پاس عقل نہیں ہے لو دیکھ لو عقل اور عقل کا استعمال۔ پھر میں دوسری طرف دیکھتی ہوں کہ ترکیوں کا ایک ڈرامہ ''دیریلیش ارتغرل'' پاکستان میں آیا اور کیا خوب چھایا، اتنا تو بنانے والوں نے نہ دیکھا ہو گا جتنا کہ پاکستانیوں نے،  گھر میں دیکھا تو منظر کچھ یوں نظر آیا کہ بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ، یہ قطار لگی پڑی ہے سب کی...

کالی مرچیں

پُرتگال کے دارالحکومت لزبن میں کچھ پولش مزدور اور ایک انڈین شخص فلیٹ میں ساتھ رہتے تھے، پولش باہم مل کر ساتھ پکاتے اورساتھ  کھاتے جب کہ انڈین الگ سے اپنا پکاتا اور کھاتا۔ ایک دن انڈین شخص چھٹی پر انڈیا گیا ادھر پولش مزدوروں کو سالن میں ڈالنے والے مصالحہ جات کی ضرورت پڑی، پولش مزدوروں  نے انڈین شخص کے مصالحہ جات سے ہاتھ صاف کرنا بازار جانے کی نسبت آسان سمجھا۔ چند ماہ بعد انڈین واپس آیا، پولش دوستوں سے ملا اور اپنے کمرے میں داخل ہوا، کچھ دیر بعد وہ گھبرایا ہوا بڑبڑاتے ہوئے اپنے کمرے سے نکلا پولش دوستوں نے پوچھا کیا ہوا؟ انڈین کہنے لگا میں کمرے میں داخل ہوا تو میرا ابا کمرے سے غائب تھے؟ پولش حیرانگی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور بیک زبان پوچھا کہ تم تو کہتے تھے تیرا ابا کئی سال پہلے فوت ہوگیا ہے؟ بھارتی کہنے لگا جی والد تو کئی سال پہلے فوت ہوئے تھے ہم نے اس کی ارتھی بھی جلائی تھی ابا کے شریر کی راکھ سے تھوڑی سی میں ایک برتن میں اپنے ساتھ لے آیا تھا اور مصالحہ جات والے ڈبوں کے ساتھ رکھی تھی وہ راکھ غائب ہے، پولش پھٹی آنکھوں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھ رہے تھے کہ مطلب وہ کالی مرچیں نہیں تھیں؟

ہمارے بلاگرز