تبادلہء خیال

زندگی خوبصورت ہے مگر میرے لیے نہیں۔ظہیر احمد خان غوری

پورے جسم سے مفلوج 55سالہ باہمت شخص کی کہانی غم خوشی ....دکھ اور سکھ....شاید زندگی اِسی سے عبارت ہے۔اس زندگی میں خوشیاں بھی ملتی ہیں...

اہم بلاگز

عاصمہ حدید کی قومی اسمبلی میں ہرزہ سرائی

قومی اسمبلی کے فلور پر رکن پی ٹی آئی ’’عاصمہ حدید‘‘ نے یہودیوں سے مفاہمت کے سلسلے میں کئی دلائل دیے ہیں، رکن اسمبلی نے خود اعتراف کیا کہ ان کا علم بہت زیادہ نہیں ہے لیکن پھر بھی انہوں نے اس ہرزہ سرائی کو ضروری سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے حضور ﷺ خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھریہودیوں کو خوش کرنے کے لئے انہوں نے یروشلم کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا شروع کی، جو کہ یہود کا قبلہ تھا اور پھر ان کے درمیان مفاہمت اس طرح کروائی گئی کہ مسجدِ اقصی کا قبلہ بنی اسرائیل کو دے دیا گیا اور خانہ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ بنا دیا گیا۔ تحویلِ قبلہ کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خانہ کعبہ حضرت ابراہیم ؑ کے زمانے سے اہلِ توحید کا قبلہ تھا، حضرت سلیمانؑ کے زمانے میں بیت المقدس کی تعمیر ہوئی اور بنی اسرائیل نے اسے اپنا قبلہ بنالیا، اس لئے جب تک یہ شاخ امامت کے منصب پر رہی اسی کے قبلے کو قائم رکھا گیا۔ مکہ میں نماز پڑھتے ہوئے رسول اللہ ﷺ اس رخ سے نماز پڑھتے تھے جہاں کعبہ اور بیت المقدس دونوں سامنے کے رخ پر ہوتے، کیونکہ اس سے پہلے بنی اسرائیل دنیا کی پیشوائی کے منصب پر تھے، مدینہ ہجرت کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھی اور پھر جب تحویلِ قبلہ کا حکم آیا تو قبلے کی سمت بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی جانب تبدیل کر دی گئی، کیونکہ اب امت محمدیہ کو امامت اور پیشوائی کے منصب فائز کر دیا گیا اور اس حکم کی حکمت خود اللہ تعالی نے یہ بیان کی کہ یہ دیکھنا مقصود تھا کہ ’’من یتبع الرّسول ممّن ینقلب علی عقبیہ‘‘ (البقرۃ)کہ کون رسولؐ کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتا ہے۔ایک جانب اہلِ عرب کے وطنی اور نسلی فخر کے بت کو توڑا گیا اور دوسری جانب بنی اسرائیل کے نسلی غرور میں مبتلا لوگوں کا غرور توڑا گیا جو اپنے آبائی قبلے کے سوا مشکل سے ہی کسی دوسرے قبلے کو برداشت کرتے، اس طرح تحویلِ قبلہ کا حکم ان لوگوں کے لئے کچھ بھی مشکل ثابت نہ ہواجو محض اللہ کے پرستار تھے۔ نبی کریم ﷺ کا بار بار آسمان کی جانب نگاہ اٹھانا تحویلِ قبلہ سے پہلے اس حکم کے انتظار کی کیفیت کو واضح کرتا ہے، آپؐ خود محسوس فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل کی امامت کا دور ختم ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ ہی بیت المقدس کی مرکزیت بھی رخصت ہوئی۔ اب اصل مرکزِ ابراہیمی کی طرف رخ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ (دیکھئے تفہیم القرآن، جلد اوّل، ص۱۲۰۔۲۱) یہ کوئی مصالحت نہیں تھی کہ یہود کو بیت المقدس دے دیا گیا اور مسلمانوں کو خانہ کعبہ، بلکہ بنی اسرائیل کو امامت کے منصب سے معزول کر کے امتِ محمدیہؐ کو یہ منصب عطا کر دیا گیا۔ موصوفہ کی کم علمی کا یہ عالم ہے کہ یہود دوستی اور ٹریٹی کی حمایت...

توہینِ رسالت پرآسیہ مسیح کی رہائی؟ 

ہم اہل پاکستان، اپنے بنی ﷺسے اتنی محبت کرتے ہیں کہ اپنے ماں باپ بہن بھائی غرض یہ کہ اپنی سب سے قیمتی متاع اپنے پیغمبر ﷺپر قربان کرنے سے بھی نہیں دریغ نہیں کرتے ہیں۔ ان کا یقین ہے کہ ’’باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا‘‘ نبیِ محترم ﷺ کے شیدائیوں کا کوئی امتحان لینے کی کوشش نہ کرے،ناموسِ رسالتؐ پر ہم اپنا سب کچھ قربان کر دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ایک بھنگن نے بیسویں صدی کے آخری عشرے میں میرے بنیﷺ کی شان میں گستاخی کی تودوعدالتوں نے اس کو گردن زدنی قرار دیدیا تھا ۔مگر مغرب کے دباؤں میں ہمارے حکمرانوں نے اس لعینہ کوبچائے رکھا ۔جس پر سلمان تاثیر جیسا ملامتی ایک مجاہد قادری کے ہاتھوں اسی لعینہ کی وجہ سے جہنم رسید ہوا اور مغرب کے اشاروں پر محترم نواز شریف نے اس فدائی کو تختہِ دار پر چڑھاکر اورشہید کر کے اپنا حشر بھی دیکھ لیا۔ چیف جسٹس کی جانب سے واضح الفاظ میں کہا گیا کہ شک کا فائدہ ملزم کو ملنا چاہئے ۔ملزم بھی وہ ٹھیری جو میرے نبی محترم ﷺ کی توہین کے جرم میں دو عدالتوں سے پھانسی کی مجرم دلائل وبراہین کی بنیاد پر ٹھیرائی جا چکی تھی۔جس پر ہر لحاظ سے پھانسی کا جرم ثابت ہو چکا تھا۔جب عدالتِ عظمیٰ سے آسیہ مسیح کی رہائی کا حکم جاری ہوا تو ناموسِ رسالتؐ کے پروانوں کے تو جیسے جسم سے روح ہی پرواز کیا چاہتی تھی۔مگر چونکہ اس عدالت کا احترام ہر پاکستانی کرتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ لوگوں نے فیصلے پربے حد تحمل کا مظاہرہ کیا۔مگر ناموسِ رسالتؐ ایسا عنوان ہے جس پر مسلمان تو کمپرومائز کر ہی نہیں سکتا ہے۔ لہٰذا پاکستان کے ہر حصے سے فیصلے پر تاسف کا اظہار کیا جانے لگا۔ مگر حکمران عوام کو اداروں سے لڑانے پر آمادہ دکھائی دیئے۔ایسی بات جس پر ہر جانب سے خاموشی تھی پاکستان کا وزیرِ اعظم میڈیا پر آکر نہایت جذباتی انداز میں کر گیا تاکہ عوام اداروں سے ٹکرانے میں دیر نہ کریں اور وہ روم کوجلا کر کسی ٹیلے پر چین کی بانسری بجاتے رہیں۔ ہمارامیڈیا جس میں سیکولر مغرب زدہ افراد کا اکثریت میں قبضہ ہے وہ تواس فیصلے پربغلیں بجا رہا تھا مگرپاکستانی مسلمان ذہنی کرب و اذیت میں مبتلا تھا۔ عمراں نیازی وہی ہیں جنہوں نے 126 دن ریاست کے قانون کو چیلنج کئے رکھااور پاکستان کی معیشت کو کنٹینر پر چڑھ کرتباہ کیااورمسلسل قانون کی حکمرانی کو چیلنج کیا ہوا تھا۔جس پر خوف زدہ حکمران خاموش تھے، ہرجانب سے سناٹاچھایا ہواتھا۔جرم کی حفاظت و حمایت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔پھر کنٹینر پر چڑھ کر یہی شخص وہی باتیں کرنے پر لوگوں کو اکستارہا تھا جن کے خلاف آسیہ مسیح عدالتی فیصلے کے بعد عمران نیازی دھاڑیں مار مار کر کہہ رہے تھے دھمکیاں دینے اوراُکسانے والوں کے خلاف ریاست ذمہ داری پوری کرے گی۔ریاستی اداروں اور سر براہان کے خلاف بیانات ناقابلِ قبول اور افسوس ناک ہیں۔ہم پوچھتے ہیں کہ جب کنٹینر پر کھڑے ہو کر عمران نیازی اور ان کے...

“بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے”‎

پچھلے کچھ دن سے پورا ملک جس بحرانی صورتحال کا شکار ہے، اس پہ دل عجیب پریشانی وکشمکش میں مبتلا ہے،عجیب بے سکونی و بے مزگی بے چارگی کی کیفیت۔۔۔ اسی کیفیت میں آج علامہ کا ایک شعر یادآیا جس نے رلا دیا۔۔۔۔     بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے      مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے یہ اسی راکھ کے ڈھیر کو ہی تو ہر بار ٹٹولتے ہیں کہ اس میں جو ایک چنگاری ،ایک شرر عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں موجود ہےوہ بجھ گیا یا ابھی باقی ہے، دین کے دشمنوں، رب کے دشمنوں کومعلوم ہے جب تک یہ باقی ہے تومسلماں باقی ہے ،یہ جو نہیں تو مسلماں بھی نہیں۔۔۔ نگاہ عشق و مستی میں سمایاکیسا یہ عشق ہے کہ چٹا ان پڑھ (غازی علم دین) ہو، جرمن یونیورسٹی میں پڑھنے والا نوجوان (عامر چیمہ) ہو،کسی گورنر کی سکیورٹی پر مامور گارڈ(ممتاز قادری)ہو، یا ننکانہ صاحب میں فالسے توڑنے والی معمولی مسلمان  عورت اسی عشق محمدی صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں رنگے نظر آتے ہیں۔۔۔ جہاں تک بندہ مومن کی اپنی ذات کا تعلق ہے،بھلے بے عمل کہہ لو،بد عمل کہہ لو، بے دین کہہ لو۔۔۔ لیکن جب بات نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات کی ہو ان کی شان میں کوئی کمی ہو کوئی گستاخی ہو یہ قابل قبول نہیں۔۔۔  یہی تو ایک سہارا ایک آسرا ہے ہمارا یہ چھن گیا تو سب چھن گیا ۔۔۔ خدایا! اس آگ کو جلائے رکھنا۔ اس چنگاری کو کبھی بجھنے نہ دینا ہم سے ہمارا یہ آخری سہارا نہ چھیننا،تیرے محبوب کے امتیوں کے پاس سوائے اس آسرے کے کوئی آسرا نہیں،ہمارا یہ آسرا مرتے دم تک سلامت رکھنا۔۔۔

جیت گیا شیطان

پاکستان کی تاریخ کا ایک المناک پہلو یہ ہے کہ آپ پاکستان کے حکمرانوں سے، پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے، پاکستان کی سیاسی اشرافیہ سے، پاکستان کے عدالتی نظام سے، پاکستان کے ابلاغی اداروں سے ایک دل دہلا دینے والا اندیشہ وابستہ کرتے ہیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اندیشہ حقیقت بن کر سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ یہ تقریباً ایک ماہ پہلے کی بات ہے کہ ہم نے فرائیڈے اسپیشل میں ’’بھارت کا جنسی ایٹمی دھماکہ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھے گئے اپنے کالم میں عرض کیا تھا کہ مغرب نے بھارت میں ہم جنس پرستی کو ’’قانونی‘‘ قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ کو استعمال کیا ہے۔ بنگلہ دیش کے آئین میں موجود بعض اسلامی دفعات مغرب، بھارت اور خود بنگلہ دیش کے سیکولر اور لبرل لوگوں کے لیے قابلِ قبول نہ تھیں، چنانچہ بنگلہ دیش میں بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے آئین کو اسلامی دفعات سے ’’پاک‘‘ کردیا گیا۔ اس کے بعد ہم نے لکھا تھا: ’’اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی بھی مسلم معاشرے میں کسی بھی ادارے کا ایک حد سے زیادہ مضبوط ہونا اسلام، اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ کے لیے خطرناک ہے۔  کیا کوئی ان باتوں کو سن رہا ہے اور سمجھ رہا ہے؟‘‘ (فرائیڈے اسپیشل۔ 5 تا 11 اکتوبر 2018ء۔ صفحہ24) بدقسمتی سے ہمارا کہا صرف ایک ماہ میں درست ثابت ہوکر سامنے آکھڑا ہوا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے توہینِ رسالتؐ کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والی ملعونہ آسیہ بی بی کی سزائے موت ختم کرکے اسے رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور سپریم کورٹ کی تاریخ کے تاریک دنوں میں سے ایک دن ہے۔ اس لیے کہ ملعونہ آسیہ کو ماتحت عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ ملعونہ نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی، مگر لاہور ہائی کورٹ نے اس کی اپیل کو مسترد کرکے اس کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔ان فیصلوں کی اہم بات یہ تھی کہ ملعونہ آسیہ نے اعترافِ جرم کرلیا تھا اور وہ معافی کی خواستگار تھی۔تاہم چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے 8 اکتوبر 2018ء کے روز ملعونہ آسیہ کی اپیل کی صرف تین گھنٹے تک سماعت کی اور فیصلہ محفوظ کرلیا۔ محفوظ فیصلہ 31 اکتوبر 2018ء کے روز جاری کردیا گیا ہے۔ انصاف کے پانچ تقاضے ہیں۔ ایک یہ کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے، نظر بھی آنا چاہیے۔ مگر ملعونہ آسیہ کے مقدمے میں انصاف ہوا تو ہے مگر کہیں نظر نہیں آرہا۔ انصاف کا ایک تقاضا یہ ہے کہ اسے ’’تکنیکی‘‘ ہونا چاہیے، مگر آسیہ کے کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تکنیکی نہیں ’’سیاسی‘‘ دکھائی دے رہا ہے۔ ایسا کیوں نظر آرہا ہے، اس کا ذکر اور تجزیہ آگے آرہا ہے۔ انصاف کا ایک تقاضا یہ ہے کہ انصاف کے عمل کو درکار وقت یا Due Time ملنا چاہیے، مگر سپریم کورٹ نے توہینِ رسالت کے اہم ترین اور حساس ترین مقدمے کی سماعت صرف تین گھنٹے کی اور 9سال پرانے مقدمے کا...

کون لوگ ہو تم؟

صبح سے سر جھکائے شرمندہ اور دُکھی سابیٹھا ہوں۔۔! دل کہتا ہے اس مملکت خداداد کو ہی خیر آباد کہہ جائوں کیسی جگہ ہے یارو یہ؟ دل بہت دُکھی ہے۔۔۔! کہتے تھے کہ یہ دیس اسلام کے لئے ،اسلام والوں کے لئے، اسلام کی چلنے کے لئے بنا تھا مگر یہاں تو ستر برس بعد بھی قرآن نہیں انگریزی قانون کی دلیل دو۔ یہاں تو عیسائی و قادیانی مشنریز ایڈووکیسی کے ذریعہ ہمارے بہت اندر تک نقب لگا چکی ہیں۔ یہاں وزیراعظم سے عیسائیوں کا وفد ملتا ہے اور آسیہ کی ڈیل ہو جاتی ہے ۔یہاں عدالتیں متنازع ہیں اور عوام یرغمال یہاں اسلام پر حملہ ہو تو میڈیا آزاداور آسیہ رہا کر دی جائے تو میڈیا پر پابندی لگ جاتی ہے۔ جج بکتے ہیں اور سستے بکتے ہیں۔ جرنیل دشمن کی اکیڈمیوں سے تربیت پا کر انہیں کی بھاشا بولتے ہیں۔ یونی ورسٹیز میں ہود بائے جیسے کھلے چھوڑ دئیے گئے ہیں اور ایسے میں جب سارے راستے بند پا کر کوئی ممتاز قادری بنتا ہے تو اسے قانون کے نام پر لٹکا دیا جاتا ہے۔۔۔! یہاں اگلی نسل ہم سے نبی محترم ﷺ کے عشق میں کچھ بھی کر گزرنے کی لاجک مانگتی ہے اور خود لڑکی سے محبت کے لئے کہتی ہے کہ یہ کی نہیں جاتی بس ہو جاتی ہے۔۔۔ یہاں ہر کچھ عرصہ بعد اسٹیبلشمنٹ نیا ٹشو پیپر لاتی ہے اس سے سارا گند صاف کرواتی ہے اور پھر اسے اقتدار کی میوزیکل چئیر کا ایک کھلاڑی بنا کر یا پھر تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال کر بھول جاتی ہے۔۔۔ اے با اختیار لوگو! کون لوگ ہو تم یارو؟ کوئی کمٹمنٹ ؟ کوئی وفاداری؟ کسی سے کوئی عہد کی پاس داری؟ تم لوگوں سے تو وہ بہت اچھے جو شیطان ہی سے وفا دار ہوجاتے ہیں کسی کھونٹے سے تو بندھ جاتے ہیں انہیں دلیل دے کر درست تو کیا جا سکتا ہے مگر تم۔۔۔! نہ لیپنے کے نہ پوتنے کے۔۔ تم کرو آسیہ کو رہا بھیجو اسے باہر بس یہ یاد رکھو کہ بات آسیہ کی نہیں بات دو تہذیبوں کی لڑائی کی ہے اور اس جنگ میں تم دشمن کے ساتھ ہو گے وقت ایک سا نہیں رہے گا تم جلد شکست کھاجائو گے اور پھر انہیں کے ساتھ اُٹھائے جائو گےجن کے کیمپ میں تم کھڑے رہے جن کے حق میں فیصلے دئیے۔۔۔! اور تم قادری کے جانشینو! صبح صادق کے طلبگارو اس رات سے مت ڈرنا بس ہم پر ہمارے رنگ کے مگر دشمنوں کے ایجنٹوں کو مسلط کرنے والے نظام کی جڑوں پر ضربیں لگانے کے گہرے سوچے سمجھے منصوبے بنائو اور پھر برف کے دماغ کے ساتھ ان پر عمل کے لئے ڈٹ جائوشاباش رکو نہیں تھمو نہیں کہ معرکے ہیں تیز تر۔۔۔!

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

ایام جوانی میں جب ہم نے یہ شعر پڑھا تو تادیر یہی خیال کرتے رہے کہ اسے دو شاعروں غالب اور آتش نے مل کر لکھا ہے،بعد از عقد، یہ عقدہ کھلا کہ نہیںیہ دو نہیں بلکہ ایک ہی شاعر کی کارروائی ہے۔کیونکہ آتش لگانے کے لئے دو شاعر نہیں بلکہ ایک بیوی ہی کافی ہوتی ہے۔شاعر دو ہی کام کرتے ہیں خوبصورت گل اندام سے واسطہ ہو تو خود کو جلاتے ہیں اور ہم عصر شاعروں کا سامنا ہو تو انہیں جلاتے ہیں۔بقول جالب’’ؔ مجھے اتنا ٹارچر پولیس والوں نے نہیں کیا جتنا کہ شاعروں نے کیا‘‘ان شاعروں کے نام تو منظر عام پہ نہیں آ سکے البتہ جالبؔ کی شاعری سے جلنے والوں کی تعداد سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ حسد کی بوُ کتنی بد بو دار ہوتی ہے۔ایک بار میرا تحقیق کرنے کو دل چاہا کہ پتہ کیا جائے کہ غالبؔ اور آتشؔ میں سے کون قد آور شاعر ہے لیکن دونوں کی ایک ساتھ تصویر کی عدم دستیابی سے یہ تحقیق پایہ تکمیل نہ ہو سکی۔ویسے غالبؔ کی شخصیت کے حوالے سے جو بھی تحقیق کی جائے حاصل جمع کسمپرسی،افلاس اور لاچارگی ہی نکلتا ہے۔کیونکہ غالبؔ نے ساری زندگی نہ کچھ جمع کیا اور نہ حاصل۔آج کل کسی بھی اچھے شاعر کو اگر غالبؔ سے تشبیہ دی جائے تو وہ فوراً اپنا ظاہری حلیہ دیکھنا شروع کر دیتا ہے کہ شائد میں بھی غالبؔ کی طرح مفلس و لاچار نظر آتا ہوں۔غالبؔ کے ساتھ اصل میں گھر والوں نے کچھ ایسا ہاتھ کیا کہ اسے کسی حال کا نہ رہنے دیا یعنی نو عمری میں ہی ان کو شادی کی عمر قید سنا دی گئی جس کا تذکرہ وہ ہمیشہ اپنے خطوط میں کرتے رہے۔یعنی اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ پر کاٹ دیے غالبؔ کو اس بات کا افسوس ہمیشہ رہا کہ نوعمری میں ہی انہیں رشتہ ازدواج میں باندھ دیا گیا اور جب شادی کی عمر کو پہنچے تو شادی میں کوئی مزہ باقی نہ رہا۔اسی لئے انہوں نے اپنی شاعری سے یا تو دوسروں کو مزے دیے ہیں یا ہنستے بستے گھروں کو شاعری کی آتش میں ایسے جلایا کہ نہ’’ جنوں‘‘ رہا نہ’’ پری‘‘ رہی غالبؔ نے ساری زندگی مشاعرہ پڑھا ،کرایہ کے مکان میں مقیم رہے اور ایک ہی بیوی پہ قناعت و توکل رکھا،مزے کی بات یہ ہے کہ ساری زندگی نہ گھر کا کرایہ دیا اور نہ بیوی کو طلاق دی۔کہتے ہیں غالبؔ سے باوجود چاہنے کہ نہ بادہ خوری چھوٹی ،نہ بیوی۔خود پسندی غالبؔ کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی،اتنا ہم عصر شعرا انہیں پسند نہیں کرتے تھے جتنا وہ اپنے آپ کو خود پسند کرتے تھے۔اپنے آپ کو نواب آف لوہارو خاندان کا چشم و چراغ بتاتے تھے۔صرف بتاتے ہی نہیں تھے عادات و شوق بھی نوابوں جیسے ہی تھے اسی لئے ساری زندگی کوئی کام نہیں کیا،ادھار پہ گزارہ کیا،جس سے لیا اسے واپس نہیں کیا،ہوئی نا ،نوابوں والی خصلت۔ شادی کے بعدمرد کو پتہ چلتا ہے کہ حقیقی خوشی کیا ہوتی ہے ؟اور عورت کو اس وقت پتہ چلتا ہے جب اسے سہاگ رات کو...

ٹیکنالوجی اور ہم

تحریر: گل اندام خٹک ہماری والدہ ماجدہ جب بھی ہمارے ہاتھ میں موبائل فون دیکھتی ہیں انہیں وہ دن یاد آجاتے ہیں جب لوگ ہاتھ میں بٹیرے لئے گھوم رہے ہوتے تھے۔ یہ بٹیرے آپ کو آج کل ہر ایک کے ہاتھ میں نظر آئیں گے۔ کسی کے لیے دوسرے سے رابطے کا ذریعہ، کسی کے لئے مشغلہ، کسی کے لیے چلتا پھرتا کاروبار، تو کسی کے لیے ٹشن دکھانے کا سامان۔ دوسروں کے لیے اس کا کوئی بھی مطلب ہو، والدین کے لیے یہی بچوں کی بربادی کا ذمہ دار ہے۔ یہ اور بات ہے کے آج کل کے والدین خود اس مرض کے شکار ہیں۔ ایک دہائی کے اندر اندر ٹیکنالوجی کی دنیا میں آنے والی ڈرامائی تبدیلوں نے معاشرے کی سوچ اور طرز زندگی کی صورت پلٹ کے رکھ دی ہے۔ اس کے مثبت اثرات میں گھر بیٹھے کارونار کرنا، دور دراز کے علاقوں سے رابطہ اور خبردار رہنا، کام کی رفتار میں تیزی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے عوض ٹیکنالوجی کی ترقی نے ہمیں ان گنت نقصانات سے دوچار کیا ہے۔ ان میں سے ایک نقصان کا سامنا چند روز پہلے میرے بھائی کو ہوا۔ موصوف کو والدہ نے دن کے تقریباً 10 بجے سودا لانے کو کہا حضرت ’’ابھی جاتا ہوں‘‘ کہہ کر 2 گھنٹے تک موبائل کی اسکرین پہ نظریں جمائیں، کے پیڈ کو طبلے کی مانند پیٹتے رہے۔ جب اماں جان نے طیش میں آکے جوتے سے ڈرون حملہ کیا تب بھائی صاحب کو ہوش آیا، سودا لائے اور گھر میں کھانا بنا۔ رات کو ہاسٹل کا منظر کچھ یوں ہوتا ہے کہ کوئی فرش پہ بیٹھی دیوار سے ٹیک لگائے لائیو ڈرامہ دیکھ رہی ہے تو کوئی کونے میں بیٹھی سوشل میڈیا سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ کوئی سیڑھیوں پر بیٹھی واٹس ایپ پہ بات کررہی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ قابل رحم وہ لڑکیاں ہیں جو موبائل ہاتھ میں لیے سگنلز کی تلاش میں در در بھٹک رہی ہوتی ہیں تاکہ وہ ٹھیک سے بات کر سکیں پھر بھی وہ اکثر کہتی سنائی دیتی ہیں تو ’’کیا اب بھی آواز نہیں آرہی، اب کیا تمہارے لیے ٹاور پر چڑھ جاؤں‘‘۔ کسی روایتی پھپھو کے اندازے کے مطابق یہ بے چاریاں جیسے ہی ’’کیمرے سے پیا گھر‘‘ پہنچتی ہیں ان کے ساتھ’’آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل‘‘ والا معاملہ ہو جاتا ہے۔ ایک بار ہم 3 دوست گول گپے کھانے گئیں۔ آڈر دیتے ہوئے غلطی سے منہ سے نکل گیا ’’کاکا! ہم 3 گول گپے ہیں‘‘۔ اس وقت تو بے چاری کا جو مذاق اڑا سو اڑا۔ ہاسٹل پہنچ کے واٹس ایپ دیکھا تو تیسری دوست نے اس بات کا اسٹیٹس بنا کر لگایا ہوا تھا۔ اب حالات ایسے ہیں کے لوگوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے بھی خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں اسٹیٹس کے نام پر بریکنگ نیوز نہ بن جائیں۔ تیزی سے بدلتے اس دور میں اگر نہیں بدلے تو وہ والدین ہیں۔ انہیں آج بھی اپنے بچوں سے شکایات ہیں حالانکہ آج کل کے بچے انتہائی امن پسند ہوگئے ہیں۔ شرافت سے اپنے لیپ ٹاپ اور فون لیے بیٹھے رہتے ہیں جب...

“دنیا کا آٹھواں سیاسی عجوبہ”

محکمہ آثارِ قدیمہ نے پاکستان میں ایک ایسی عجیب و غریب سیاسی جماعت کا ڈھانچہ دریافت کیا ہے جسے دنیا کا آٹھواں سیاسی عجوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس سیاسی جماعت کے معدہ میں پائے گئے خوراک کے حنوط شدہ ذرات کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جماعت اپنے وقت کے فوجی بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے کھایا کرتی تھی اور اسی خوراک سے پل کر جوان ہوئی تھی۔ سیاسی جماعت کے ڈی این اے میں مکاری، عیاری، لوٹ مار، تکبر، انسانوں کی خرید و فروخت اور ذاتی خاندان تک محدود اقربا پروری کے جینز کثیر مقدار میں پائے گئے ہیں۔ سیاسی جماعت کی کھوپڑی کا لیبارٹری میں تفصیلی جائزہ لینے پر انتہا درجے کی منافقت کے واضح ثبوت دکھائی دیے جن سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ جماعت ماضی میں ایک طرف تو فوجی بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے اپنا وزن بڑھاتی رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ فوجی بوٹوں کا وزن کم کرنے کے لیے خوب زور لگاتی رہی جس اسے چنداں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ جب یورپ کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے اس حوالے سے رائے لی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ایسا کرنے کے لے اُس دور کی سیاسی جماعتیں کچھ لوگوں کو بوٹ چاٹنے پر مامور کر دیتی تھیں اور اسی جماعت کے کچھ لوگوں پر دور کھڑے ہو کے بوٹوں والوں پر بھونکنے کی زمہ داری لگا دیتی تھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر بھاگا جا سکے۔ محکمہ سیاسی حیاتیات کے ماہرین نے بھی ڈھانچے کا معائنہ کیا اور اپنی مشترکہ رائے دیتے ہوئے رپورٹ میں لکھا کہ اقتدار میں آنے کے امکانات اس جماعت کی روح کا کام کرتے رہے ہیں اور جیسے ہی یہ روح غائب ہوئی، اس جماعت کا نام و نشان سیاسی روئے زمین سے مٹ گیا تھا۔ تقریباً دس سال تک یہ جماعت مینڈک کی طرح زیر زمین رہی لیکن پھر یہاں کی سیاسی وائلڈ لائف کی از سر نو حیات کاری کے لیے یورپ کے ایک مشہور ملک میں میثاق جمہوریت نامی معاہدہ طے پایا جس کے لیے بدبودار فوجی جرابیں خاص طور پر وہاں پہنچائی گئیں تاکہ میثاق جمہوریت کو توثیقِ بْوٹیت مل سکے اور سیاسی وائلڈ لائف کو پنپنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی کے ڈین نے ہمارے پوچھنے پر بتایا کہ سیاسی جماعتوں کے ڈھانچے ہم دیکھتے رہتے ہیں لیکن جس درجے کی انا پرستی اور بیوقوفی ہمیں اس ڈھانچے سے ملی ہے، وہ آج تک کسی اور سیاسی ڈھانچے سے نہیں ملی۔ ہم نے دلچسپی سے پوچھا کہ یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ تو وہ کہنے لگے :’’انا پرستی کے آثار ہمیں اس سے نظر آئے ہیں کہ یہ جن بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے کھاتے رہے ہیں، اسی چمڑے کے بوٹ خود پہننے کی کوشش کرتے رہے ہیں جو کسی بھی بوٹوں والوں کو کبھی گوارا نہیں ہو سکتا‘‘۔ ایک طالب علم جو اس پراجیکٹ میں خصوصی دلچسپی لے رہاہے، یوں گویا ہوا کہ سیاسی آرکیالوجی ایک نیا فیلڈ ہے جس میں تحقیق کی کافی گنجائش موجود ہے،اس لیے ایسے ڈھانچوں کا دریافت ہونا ہمارے لیے علمی...

مرچیں کھائیے، لگائیے نہیں

مرچ (Chili Pepper) دیگر نام سبز مرچ، سرخ مرچ،لال مرچ، کالی مرچ ،مرچی پودوں کی جنس شملہ مرچ سے تعلق رکھنے والا ایک پھل ہے۔ مرچ کی ابتدا امریکہ سے ہوئی۔ مرچ کم از کم 7500 قبل مسیح سے لے کر امریکہ میں انسانی غذا کا ایک حصہ رہا ہے۔ دنیا میں مختلف اقسام کی مرچیں پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے شملہ مرچ خاصی مقبول ہے۔ جو مختلف رنگ میں بازار میں دستیاب ہوتی ہے۔ لال، پیلی، ہری، جامنی، اس کے علاوہ باریک مرچیں اور جنگلی مرچیں روز مرہ کے کھانوں میں عمومًا استعمال کی جاتی ہیں۔ کھانے میں مرچیں نہ ہوں تو کھانے میں لطف نہیں آتا اور باتوں میں مرچیں ہوں تو سامنے والے کا بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ان کے بولتے ہی مرچیں لگ جاتی ہیں۔ بعض لوگوں میں ایسی بیماری ہوتی ہے جو دو افراد کے درمیان ایسی بات کرتے ہیں جس وہ لوگ آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ ان کو لڑوا کر تماشہ دیکھتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں ایسی باتوں سے ہرہیز کرنا چاہے جو لوگوں کے درمیان دوری پیدا کر دیتی ہیں۔ شیریں الفاظ کا استعمال کریں تاکہ ایک دوسرے کے درمیان محبت پیدا ہو وہ دور جانے کے بجاۓ قریب ہوجائیں۔ جس طرح کھانوں میں مرچوں کی مقدار کو بیلنس رکھنا ایک فن ہے۔ اسی طرح عملی زندگی میں بھی باتوں میں مرچوں کا استعمال متوازن طریقے سے کیا جاۓ تو سننے والے کو لطف آتا ہے۔ اور بات چٹ پٹی ہوجاتی ہے۔یہ نصیحت خصوصاً خواتین کے لیے ہے۔ جو اکثر اپنی باتوں سے مرچ لگا دیتی ہیں۔ اگر وہ بھی شیریں الفاظ کا استعمال کریں تو مرد حضرات ان کے گرد لٹو کی طرح گھومیں گے۔ بعض اوقات مرچیں کچھ کیے بغیر بھی لگ جاتی ہیں۔ جیسے بہو بڑی اچھی ہو شوہر کا خیال رکھے تو ساس کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی سج سنور کے شوہر کے سامنے جاۓ ، شوہر موبائل میں مصروف ہوں اور تعریف نہ کرے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی لذیذ کھانا پکاۓ اگر شوہر اس میں کوئی خامی نکالے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ لہذا تمام شوہروں سے گذارش ہے کہ وہ اپنی بیویوں کا خاص خیال رکھیں اور مرچیں نہ لگائیں۔ کیونکہ مرچیں بغیر کسی موسم کے سردی گرمی دنوں میں با آسانی لگائی جا سکتی ہیں۔ غنیمت جانے کے آپکی شادی ہوچکی ہے۔ ورنہ تو کہیں ایسا نہ ہو مرچوں کی زیادتی کی وجہ سے آپ کے رشتے میں دراڑ نہ پڑجاۓ۔  

دبی شخصیت کے ساتھ ایک صبح

تحریر؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر ادبی شخصیات کے ساتھ آپ نے سنا ہوگا کہ اکثر شام یا رات منائی جاتی ہے۔کیونکہ سارا دن وہ ادبی کاموں،رسائل،میگزین و دیگر کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔اس لئے شام سے رات گئے تک وہ فارغ ہوتے ہیں۔مشاعرہ ہو یا ادبی نششت محفل رات کو ہی جمتی ہے۔یقین مانئے اکثر شعرا کرام کے گھر اُتنی دہی نہیں جمتی جتنی محفلیں جمتی ہیں۔رات تاخیر سے بسترِ استراحت پر جانے کی وجہ سے صبح صادق آنکھ کا نہ کھلنا قدرتی اور محفل کا ’’خمار‘‘ بھی ہو تا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ کوئل و بلبل کو اپنی شاعری میں استعمال کرنے والے شعرا نے کبھی ان پرندوں کی شکل علی الصبح باہر نکل کردیکھی ہو یا ان کی آواز سے لطف اندوز بھی ہوئے ہوں۔دوحہ سے واپسی اسلام آباد کوئی پانچ گھنٹے کا قیام تھا علی الصبح اسلام آباد ائر پورٹ سے ٹیکسی پکڑی اور سیدھا اپنے ایک دیرینہ ادبی دوست کے گھر کا راستہ لیا۔ملاقات چونکہ دوحہ سے روانگی پر ہی فون پہ طے ہو چکی تھی اس لئے صبح سویرے انہیں فون بھی نہ کیا سوچا ہمدم دیرینہ ہے میرے پہنچتے ہی بیڈ روم سے گیٹ تک دیر نہیں لگائے گا۔مقررہ وقت پر اس کے ہاں پہنچے،ڈور بیل دی۔اور ذرا گیٹ کی سائیڈ پہ کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگے،جواب و شکل دونوں ہی ندارد پا کر ایک بار دو بار،سہ بار مسلسل بیل پہ ہاتھ دھرے رکھا،تھوڑا توقف کیا اور سوچ میں پڑ گئے خدایا کسی اور کے گھر تو دھاوا نہیں بول دیا۔چند قدم پیچھے ہٹے،گھر کے باہری حصہ کو غور سے دیکھا،ماسوا اس کے کوئی فرق نہ پایا کہ جب پچھلی بار تشریف آوری ہوئی تھی تو منڈیر پر کالا کوّا بیٹھا کائیں کائیں کر رہا تھا،جس کی کہانی بھی الگ سے ہے۔کہ پچھلی بار میں نے یونہی بیل بجائی تو بیل کے ساتھ ہی کوّے کی کائیں کائیں شروع ہو گئی تو موصوف اپنا پسٹل لے کر نمودار ہوئے کہ آج یا کوا نہیں یا مہمان نہیں۔کیونکہ مجھ سے قبل کوئی چار بار کوّے نے کائیں کائیں کی اور چاروں مرتبہ مہمان آ وارد ہوئے اور میں پانچواں مہمان تھا۔صد شکر کہ اس بار کوّے کی جگہ ایک فاختہ تشریف فرما تھی ۔ایک بار پھر ہمت مجتمع کی اور ڈور بیل کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ آنکھیں ملتے ہوئے چوکیدار کی شکل دکھائی دی،بھاری بھر کم آواز میں اس استقبالیہ کے ساتھ خوش آمدید کیا کہ اتنی صبح آن دھمکا ہے ،چین سے سونے بھی نہیں دیتے۔لو جی موصوف کیا یہاں تو چوکیدار تک سویا ہوا ہے۔نیم بند آنکھوں سے ہی ہمیں پہچانتے ہوئے دور سے ہی سلام کیا اور اسی ہاتھ سے اندر آنے کا بھی اشارہ فرما دیا۔ڈرائنگ روم کھول کے بٹھا دیا گیا اور اس کے بعد ان چراغوں میں روشنی نہ رہی،نہ چوکیدار،نہ دوست اور نہ کوئی چائے پانی،سب ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ،حالانکہ گدھے کے سر پر سینگ ہوتے نہیں ۔کوئی گھنٹہ بعد کام والی ماسی ڈرائنگ روم کی صفائی کرنے آئی تو ایسے ہی اسے پوچھ لیا کہ یہ چوکیدار کدھر...

ہمارے بلاگرز