اہم بلاگز

تربیت گاہیں اور ان کی حکمتیں‎

ایک عمومی فرد کی جماعتی گھرانے میں شادی ہوئی، شادی کے کچھ سالوں بعد اس سے ملاقات نے بہت ساری باتیں ہمیں بتائیں اور...

شوہر بیوی کا رشتہ اللّٰه کی نشانی‎

اردو ميں جسے ہم "بيوی"بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں 1- إمرأة 2- زوجة 3- صاحبة إمرأة :امرأة سے مراد...

کیلے کا استعمال اور فوائد‎

کیلے صحت کے ساتھ ذائقے دار ہونے کے ساتھ بے حد مفید اکثر ایسا ہوتا ہے کہ صحت کے لیے فائدہ مند غذا ذائقہ دار...

استغفار کیجیے

استغفار شیطان اور اس کی فوج کے خلاف مومن کا ہتھیار ہے۔اپنی غلطی پر ندامت کے ساتھ استغفار ہماے باپ آدم علیہ السلام کی...

اے ایس آئی (ASI) محمد بخش بڑور!

ملک میں گزشتہ کچھ ماہ سے جنسی زیادتی کے واقعات میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہاہے،جس پرحکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی...

عالمی یومِ ٹیلی ویژن

1996 ء میں باقاعدہ طور پر پہلا عالمی ٹیلی ویژن فورم منعقد ہوا۔ اس فورم کے بعد دسمبر 1996 میں اقوام متحدہ کی جنرل...

سود سے پاک اسلامی معاشرے کی جھلکیاں

ہجرت کے بعد جب ریاست مدینہ بنی اس وقت مدینہ کی معیشت پوری کی پوری یہودیوں کے ہاتھوں میں تھی، وہ سودی قرضے دے...

انوکھا مسافر

رات کی چاندنی پوری آب و تاب سے روشن تھی ۔ٹھنڈی ہواؤں کا بسیرا تھا۔سردیوں کی آمد آمد تھی۔ اس لیے سناٹا اس قدر...

طلبہ کو دباؤ کے طغیان سے بچانے والے بادبان

مشہورچینی مقولہ ہے "کسی کو تعلیم دینے کا مطلب ہے دوبارہ تعلیم حا صل کرنا" اس قول کی روشنی میں اساتذہ کے لئے تدریس...

صبر و برداشت اور اسلامی تعلیمات

برداشت کو عربی میں تحمل کہا جاتا ہے، اس کے لغوی معنی بوجھ اٹھانے کے ہیں۔ یہ وہ صفت ہے جس سے انسان میں...

اہم بلاگز

تربیت گاہیں اور ان کی حکمتیں‎

ایک عمومی فرد کی جماعتی گھرانے میں شادی ہوئی، شادی کے کچھ سالوں بعد اس سے ملاقات نے بہت ساری باتیں ہمیں بتائیں اور ان گنت جماعت کی خصوصیات سے متعارف کرایا۔ کہنے لگی یہ تم لوگوں کی تربیت گاہیں کتنی اچھی ہوتی ہیں نا!!!! ہم نے کہا :ہاں!  ان تربیت گاہوں کے پروگرامات بہت اچھے ہوتے ہیں بہت سوچ سمجھ کر وقت وحالات کے مطابق اور اچھے مقررین کو بلا کر یہ سارے پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں۔ کہنی لگی پروگرامات تو آگے کی بات ہے یہ تم لوگوں میں ٹیم ورک،فرد کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کے لیے اس تربیت گاہ میں ہی مختلف ذمہ داریوں کی ادائیگی ،منظم طریقہ سے کام کرنا ،ان تربیت گاہوں میں فرسٹ ایڈ باکس کا موجود ہونا،تو چپل رکھنے سے لے کر افراد کا قطاروں میں بیٹھنا ،استقبالیہ کا موجود ہونا جن کے افراد آپ کو خوش آمدید بھی کہتے ہیں اور یہ بھی نوٹ کرتے ہیں کہ کتنے افراد آئے ،ان کے فون نمبر نوٹ کرنا کہ بعد میں بھی ان افراد سے بات ہوسکے اور اس استقبالیہ پر اضافی قلم ،کاپی کی سہولت کہ کوئی فرد بھول آئے تو حاصل کر لے اور فرسٹ ایڈ باکس کا بھی موجود ہونا ، اور اسٹیج پر جالی والے دوپٹوں سے پھولوں کا لگا ہونا کہ ہم تو اس دوپٹّے کا کبھی یہ استعمال ہی نہ کر سکے، کہ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ کام تزءین وآراءش کے کارکنوں نے کیا ہے، تمھاری تربیت گاہیں کیا کچھ سکھادیتی ہیں تم لوگوں کو!!!! اور وہ گوشہ اطفال، کہ بچوں کو لے کر  جاؤ تو بے فکر ہو کر پروگرام سُن لو کہ اتنی محبت سے تمھارے افراد کی بچیاں ہمارے بچوں کو سنبھال لیتی ہیں ،انھیں اچھی باتیں کھیل کھیل میں سکھاتی ہیں ،انھیں تحفے تحائف دیتی ہیں،کہ اتنا تو پیار شاید ہم خود بھی اپنے بچوں کو نہیں دے پاتے ، اس بچوں کے کارنر میں اب وہ بولتے وقت اسے یہ الفاظ یاد نہیں آرہے تھے کہ گوشہ اطفال ہم نے یاد دلایا تو اسے یاد آیا ہاں ہاں وہی، اس میں بچوں کے لیے غبارے،کلرز اور بسکٹس وغیرہ، نہ جانے کیا کیاکہ بچوں کی ماؤں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے،بہن کیا پلاننگ سیکھتے ہو تم لوگ ان تربیت گاہوں سے،اور وہ  زر تعاون کے ڈبے کی یاد دہانی اسٹیج سے کئی بار کرائی جاتی ہے لیکن افراد کو پکڑ پکڑ کر نہیں کہا جاتا کہ پیسے ڈال دو،  اس میں یہ طریقہ دوسرے کی عزت نفس کو برقرار رکھنا نہیں سکھاتا تو اور کیا سکھاتا ہے اور بیجز لگائی کارکن چائے اور پانی کے علاوہ  ہمہ وقت خدمت پر معمور ہوتی ہیں۔ ہم تو سمجھتے تھے کہ مختلف کارکنان کا یہ بیجز لگانا اس لیے ہوتا ہے کہ ایک ذمہ داری نبھانے والے افراد دوسرے کو پہچان سکیں کہ اس کی ڈیوٹی اور ہماری یکساں ہےاور بہ وقت ضرورت ایک دوسرے کو پکار سکیں، لیکن کارکنِ طعام، کارکن صفائی،کارکنِ نظم و ضبط یہ سب افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ کا راز سمجھانے کے لیےہوتی ہیں، کارکن نظم و...

شوہر بیوی کا رشتہ اللّٰه کی نشانی‎

اردو ميں جسے ہم "بيوی"بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں 1- إمرأة 2- زوجة 3- صاحبة إمرأة :امرأة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو۔ زوجة :ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں  يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو۔ صاحبة : ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو۔ اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے: 1- امراءة: حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو "امراءة نوح" اور"امراءة لوط"  كہہ كر پكارا ہے۔ اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی "وامراءة فرعون" کہہ كر پكارا هے۔ (سورة التحريم كی آخری آيات ميں) یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا۔ 2- زوجة: جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے ( ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ ) اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا ( يأيها النبي قل لأزواجك ... ) شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا۔ ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا گیا ہے(و امراتي عاقرا... ) اور جب أولاد مل گئی تو بولا گیا ہے (ووهبنا له يحی  و أصلحنا له زوجه... ) اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں۔ اسی طرح ابولهب كو رسوا كيا يہ بول کر(وامرأته حمالة الحطب ) كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا۔ 3- صاحبة: جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو۔ اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا  اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے (ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ) اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا۔(ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ) كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته" بولا۔ اردو ميں: امراءتي , زوجتي , صاحبتي  سب كا ترجمة " بيوی" ہی كرنا پڑے گا۔ يكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت چھپی ہے۔ اور رب تعالى نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا، وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ(سورہ الفرقان: آیت، 74) ترجمہ: "اور وہ لوگ کہ جو کہتے ہیں، اے ہمارے پروردگار ہمیں ہماری بیویوں/شوہروں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما" تفسیر: یعنی جس راستے پر ہم چل رہے ہیں، ہمارے اہل وعیال (شوہر،بیوی بچے) کو بھی اسی راستے پر چلنے والا بنادے تا کہ ان کی طرف سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں، کیونکہ اللّٰہ کے ان نیک بندوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک تو اسی میں ہو گی کہ ان کے گھر والے...

کیلے کا استعمال اور فوائد‎

کیلے صحت کے ساتھ ذائقے دار ہونے کے ساتھ بے حد مفید اکثر ایسا ہوتا ہے کہ صحت کے لیے فائدہ مند غذا ذائقہ دار نہیں ہوتی مگر جب بات کیلوں کی ہو تو ایسا بالکل نہیں،  جو نہ صرف ذائقے دار ہوتے ہیں بلکہ صحت کے لیے بھی متعدد فوائد کے حامل ہوتے ہیں جبکہ روزانہ صرف ایک کیلا کھانا ہی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ طبی ماہرین نے اپنی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہےکہ روزانہ دو کیلے کھانے سے ہائی بلڈ پریشر سے بچا جاسکتا ہے۔ بین الاقوامی سائنس رپورٹس کے مطابق بھارتی میڈیکل کالج میں کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ 5 کیلے کھانے سے بلڈ پریشر میں اُسی طرح نصف حد تک کمی ہو سکتی ہے جس طرح بلڈ پریشر ادویات کھانے سے ہوتی ہے۔ میڈیکل کالج کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق میں کچھ لوگوں کو شامل کیا گیا جن میں سے کچھ کو ایک ہفتے تک روزانہ 2 کیلے کھلائے گئے اور دیگر افراد نے ایسا نہیں کیا گیا جبکہ ایک ہفتے بعد یہ دیکھا گیا کہ روزانہ ایک ہفتہ تک 2 کیلے کھانے والوں کے بلڈ پریشر میں 10 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ تحقیق کے بعد ماہرین کا کہنا ہےکہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض اگر روزنہ ایک یا 2 کیلے کھائیں تو اس سے یہ مرض قابو میں رہتا ہے کیونکہ کیلا غذائی اجزاء اور پوٹاشیم سے بھرپور ہوتا ہے جو ہمارے جسم میں 10 فیصد سے زائد سوڈیم (نمکیات) کے اثر کو کم کرسکتا ہے اور گردوں کی حفاظت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کاکہنا ہےکہ تحقیق سے پہلے ہی یہ بات ثابت ہوچکی ہےکہ پوٹاشیم بلڈ پریشر میں کمی کا باعث بنتا ہے اور کیلے میں پوٹاشیم کثیر مقدار میں پایا جاتاہے  جبکہ تحقیق کرنے والی ٹیم نے بتایا کہ کیلے کی تمام 6 اقسام میں اے سی ای (انجیوٹینسن تبدیل کرنے والا انزائم) کے خلاف مزاحمت کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں اور  اس کے ساتھ روزانہ کالی مرچ، پیاز ، شہد، میتھی دانے، لہسن اور لیموں کے استعمال سے بھی بہت جلد بلڈ پریشر میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ واضح رہے یہ تمام وہ چیزیں ہیں جو ہر وقت ہر کچن میں موجود ہوتی ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ان چیزوں کو استعمال میں لاتے ہوئے ہائی بلڈپریشر کو کنٹرول میں لایا جائے اور  جو افراد مسلسل ادویات کا استعمال کرتے ہیں اُن میں دیگر دوسرے خطرناک امراض ہوجانے کا بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔ خیال رہے آپ کو علم نہ ہو مگر روزانہ صرف ایک کیلا کھانا ہی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اور  جن میں سے کچھ فوائد درج ذیل ہیں ۔:۔ پوٹاشیم سے بھرپور پھل ہے:  ایک کیلے میں 422 ملی گرام پوٹاشیم ہوتی ہے جو کہ دن بھر کے لیے جسم کو درکار مقدار کا 12 فیصد ہے۔ جسم کو اپنے افعال کے لیے پوٹاشیم کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے، یہ منرل مسلز، اعصابی نظام، کھانے میں موجود غذائیت کو خلیات تک پہنچانے، دل کی دھڑکن کو ریگولیٹ...

استغفار کیجیے

استغفار شیطان اور اس کی فوج کے خلاف مومن کا ہتھیار ہے۔اپنی غلطی پر ندامت کے ساتھ استغفار ہماے باپ آدم علیہ السلام کی سنت ہے اور اپنے عمل پر ضد اور اصرار کے ساتھ جم جانا ابلیس اور اس کے ساتھیوں کا طریقہ ہے۔ہر زمانے میں انبیاء ؑ و صالحین اور متقین نے اپنے باپ آدمؑ کی سنت کو اختیار کیا ہے، جبکہ اللہ کے باغی اور نافرمانوں نے شیطان کے طریقے کو اپنایا ہے۔ استغفار ایک بڑی عبادت ہے جس کا شرف اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے بندوں کو عطا کیا ہے۔اللہ تعالی کے نبی مکرم حضرت محمد ﷺ نے خود اپنے اوپر استغفار کو لازم کر رکھا تھا تو پھر دیگر مسلمانوں کا کیا حال ہوگا۔استغفار کرنے والوں کو اللہ کی محبت ملتی ہے، اور اللہ مغفرت مانگنے والوں اور استغفار کرنے والوں پر بڑا ہی کرم فرمانے والا ہے۔ استغفار کے معنی مغفرت کی طلب کے ہیں، اور مغفرت کے معنی گناہوں کی پردہ پوشی اور ان کے شر سے بچاؤ ہے۔بندہ اللہ سے استغفار کرتا ہے کہ اللہ دنیا میں اس کے گناہ پر پردہ ڈال دے، اور اس کا گناہ اس کی فضیحت کا سبب نہ بنے اور آخرت میں بھی اس کو ظاہر نہ کرے اور اپنی رحمت اور عفو سے اس کا گناہ معاف فرما دے۔ استغفار کی فضیلت یہ ہے کہ قرآن کریم میں استغفار کرنے کی ترغیب کثرت سے دی گئی ہے، ایک مقام پر فرمایا: "اللہ سے استغفار کرتے رہو، بے شک اللہ بڑا غفور ورحیم ہے"۔ (المزمل، ۲۰) اللہ تعالی استغفار کرنے والوں کی مدح بیان کرتا ہے: "رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں"۔ (آل عمران، ۱۷) ابن کشیرؒ فرماتے ہیں کہ رات کی آخری گھڑیاں یعنی تہجد کا وقت استغفار کا بہترین وقت ہے۔ حضرت یعقوبؑ کو ان کے بیٹوں نے جب معافی کی درخواست کرنے کو کہا تو انہوں نے سحر کے وقت کا انتظار کیا اور سحر میں اللہ سے ان کے لئے معافی کی درخواست کی۔(تفسیر ابن کثیر، ج۱، ص۴۳۴) اور اللہ تعالی بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ اس کے حضور استغفار کرتے ہیں ہیں وہ ان سے کیا معاملہ کرتا ہے: "اگر کوئی شخص برا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے درگزر کی درخواست کرے، تو اللہ کو درگزر کرنے والا اور رحیم پائے گا"۔ (النساء، ۱۱۰) اس آیت میں وہ کلیہ بیان کیا گیا ہے جس کے مطابق اللہ اپنے بندوں کے ساتھ سلوک و انصاف کرے گا۔ اس آیت میں معافی کا دروازہ چوپٹ کھلا رکھا گیا ہے۔ اگر لوگ توبہ کریں تو اللہ کے دروازے کو کھلا پائیں گے۔ اس طرح ہر گناہگار تائب کو معافی کی امید دلائی گئی ہے۔ پس اللہ تعالی موجود ہے، اور اس کی رحمت اور مغفرت موجود ہے بشرطیکہ کوئی معافی مانگنے والا اور استغفار کرنے والا موجود ہو۔ بندہ کسی غیر پر ظلم کرے یا خود اپنے نفس پر، بہر حال ظالموں کے لئے معافی کا دروازہ کھلا ہے، اگر وہ استغفار کرلیں۔ اور اگر وہ توبہ کر کے واپس آئیں تو وہ انہیں...

اے ایس آئی (ASI) محمد بخش بڑور!

ملک میں گزشتہ کچھ ماہ سے جنسی زیادتی کے واقعات میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہاہے،جس پرحکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی سنجیدگی دیکھانے سے تاحال قاصر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے عادی مجرمان اور انکی پشت پناہی کرنے والوں کی کاروائیوں میں کمی نہیں آرہی ہے۔جیسا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب اس درندگی کے کاروبار کی تہہ تک آگاہی فراہم کر چکے ہیں اور اسکے نتیجے میں انہیں ہتھکڑیاں لگا کر عدالتوں میں پیش کیا جاتا رہا اور انہیں یہ کہہ کر سزا وار ٹہرایا گیا کہ انہوں نے عدالت کا وقت ضائع کیا ہے۔اب زیادہ وقت بھی نہیں گزرا تو ڈارک ویب کا پاکستان میں روح رواں کی گرفتاری کی خبر اخبار میں دیکھی، ڈارک ویب کی حقیت سے نظریں چرانے والے یا نظریں ہٹانے والے کیا ڈاکٹر شاہد مسعود سے اعلانیہ معافی مانگنے کی جسارت کرسکتے ہیں اور ان کی تحقیق کو خراجِ تحسین پیش کرسکتے ہیں، یقین ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ ہم جس نظام یا نظرئیے کے ماتحت ہیں وہاں اپنی غلطی ماننے سے زیادہ خودکشی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔جدت نے وقت اور حالات کی چکی میں ایسا پیسا ہے کہ ہم روحانیت پر یقین رکھنے والوں نے طبعی صورت پر یقین کرنا شروع کردیا ہے، ہم شائد یہ بھی بھولے بیٹھے ہیں کہ ہم نے اپنے خالق کو دیکھا نہیں ہے لیکن ہر شے میں اسکے ہونے کا یقین ہے۔بات شروع ہوئی تھی ملک میں بڑھتی ہوئی جنسی زیادتیوں کی صورت حال پر۔ قوم کی اکثریت بشمول حکومتی اراکین جن میں وزیر اعظم صاحب بذات خود شامل ہیں اس بات پر متفق ہیں کہ مجرم کو سر عام پھانسی دی جائے اور نشان عبرت بنایا جائے، لیکن حالات کی نزاکت ایک بار پھر مصلحت کی چادر اوڑھ کر کسی سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ جس دن کوئی جنسی درندہ عوام کے ہاتھ آگیا تو وہ تمام خدشات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے علاقے کے چوک پر اسے پھانسی پر لٹکاہی دینگے اور یہ بھی یقین ہے کہ اس دن بھی پولیس (جان بوجھ کر) کاروائی مکمل ہونے کیبعد جائے وقوع پر پہنچے گی۔ معاملہ قومی سالمیت کا ہو تو پاکستانی قوم ایسے جنون میں آجاتی ہے کہ مضبوط سے مضبوط پہاڑ سے ٹکرا جاتی ہے اور اسے پاش پاش کر کے ذرہ ذرہ میں تبدیل کردیتی ہے، بدقسمتی سے پاکستان کو کوئی ایسا سیاست دان ملا ہی نہیں جو اس جوش اور ولولے کو صحیح سمت میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ آج تک اس پر عزم قوم کو اپنے ذاتی نجی بلکہ انا کی تسکین کے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ قدرت ہمیشہ بہادروں کا ساتھ دیتی ہے چاہے وہ کرکٹ کے میدان میں کھڑا ہوابلے باز ہو جسے ایک گیند پر ۴ دوڑیں کرنی ہوں تو وہ ۶ کیلئے جاتا ہے اور کرکٹ کی تاریخ میں جاوید میانداد ایک تابناک سورج کی طرح طلوع ہوتا ہے، جنگ کے میدان میں ہو، سائنس کے میدان میں ہو غرض یہ کہ بہادر انسان جہاں کہیں بھی...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

چکنی مٹی کے لوگ‎

آج کل جگہ جگہ ایک مذہبی وسیاسی  جماعت کے بینرز لگے ہوئے ہیں،  ایک بینر پر لکھا  تھا"قوم کو لاہور اورنج ٹرین،پنڈی میٹرو بس،ملتان میٹرو بس اور پیشاور میڑو سروس مبارک،کراچی والوں ٹیکس دیتے رہو اور دھکے کھاتے رہو" اطلاعا  عرض ہے کہ کراچی کے عوام کو دھکے کھانےمیں بہت مہارت حاصل ہے، چاہے وہ رکشے کے ہوں یا بس کے، گدھا گاڑی کے ہوں یا کھلی سوزوکی کے،سڑکیں اتنی لہراتی اور بل کھاتی کے کمر کا درد بلکل ٹھیک ہوجائے،دس نمبر لیاقت آباد کی سڑک(بکرا منڈی کے سامنے والی)میں جو دھکے کھاتے جھولا جھولنے کا مزہ عوام کو دس سال تک آیا وہ بیان سے باہر ہے،  کئی بار خواہش ہوئی کہ سابق مئیر اور وزیراعلی صاحب کو بھی یہاں کے دھکوں کی سیر کرائی جائے، پھر خیال آیا نجانے کراچی میں ایسی کتنی ہی سڑکیں ہونگی وہ بچارے کہاں کہاں کے دھکوں کا مزہ لینگے۔ اب آتے ہیں کراچی والوں  کی طرف۔ یہاں مختلف رنگ، نسل، مذہب اور فرقوں  کے لوگ آباد ہیں جن کو اپنے حقوق کی سمجھ ہی نہیں ہے،مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے اور سرکارکو کوئی سروکار ہی نہیں روڈ صاف ستھرے اور خوب صورت ہو یا  ٹرانسپورٹ کا نظا م اچھا ہواشرافیہ  کو صرف اپنے پیٹ کی فکر ہے ، حالیہ بارشیں ہوئیں  توسوچا اس قوم کو اب تو اپنے حقوق کی سمجھ آ گئی ہوگی اور غصے میں بھرے گورنر ہاؤس یا وزیر اعلی ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے،  لیکن ان کا حال تو ویسا ہی ہوا جیسا ایک بادشاہ کی رعایا کا تھا ۔ "ایک بادشاہ نے اپنی رعایا کو آزمانے کے لیے پہلےان کا کھانا بند کیا،  پھر پانی و دیگر مراعات لیکن عوام کچھ نہ بولی،  پھربادشاہ نے حکم دیا کہ کام پر آنے جانے والے راستوں پر ہر آدمی کو چانٹا مارا جائے،  کچھ عرصے یہ چیز چلتی رہی آخر کار ایک دن رعایا محل کے باہر میدان میں جمع ہوگئی،  بادشاہ خوش ہوا کہ چلو اب ان کو اپنے حقوق کا خیال تو آیا-عوام نے کہا بادشاہ سلامت ہمیں کام پر جاتے ہوئےدیر ہو جاتی ہےآپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی  آپ چانٹا مارنے والوں کی تعداد بڑھا دیں تاکہ ہم وقت پر اپنے کام پر پہنچ سکے-یہی حال ہمارے کراچی کی قوم کاہے- خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

پانچ روپے کا ماسک اور 200 کی بریانی

میرے آج کے کالم کا موضوع کچھ عجیب سا لگ رہا ہوگا کہ یہ ماسک اور بریانی کی پلیٹ کا آپس میں کیا تعلق،تو جناب کبھی کبھار تعلق یونہی بنا لینا چاہئے جیسا کہ ایک مزارع ایک زمیندار کے کھیت میں ہل چلا رہا تھا کہ ایسے میں زمیندار کا ادھر سے گزر ہوا۔زمیندار نے دیکھا کہ مزارع ہل ٹھیک سے نہیں چلا رہا ہے تو اس نے ڈانٹتے ہوئے اس مزارع سے کہا کہ غلامیاں! تم ’’سڑیوں کے ساتھ سڑی‘‘یعنی لائن کی ترتیب کے ساتھ ہل نہیں چلا رہے ہو،جس پر غلاماں بولا کہ چوہدری صاحب جب آپ نے اپنی دھی کا پیسہ کھایا تھا تو کیا میں بولا تھا؟چوہدری نے ذرا گھبراتے ہوئے پوچھا کہ بھلا اس جواب کا میرے سوال کے ساتھ کیا تعلق ہے تو مزارع نے کہا چوہدری صاحب ’’گلاں چوں گل ایویں ای نکلدی اے‘‘یعنی باتوں میں سے باتیں ایسے ہی نکلتی ہیں۔ لیکن میرے موضوع یعنی ماسک اور بریانی کا تعلق اس لئے ہے کہ آجکل حکومتی اور اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے جلسوں کا سلسلہ جو چلا ہوا ہے اس میں میری طرح آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ حکومتی ایوانوں سے ان کے مشیران جب بھی ٹی وی ٹاک شوز میں تشریف فرما ہوتے ہیں ان کی ایک ہی آواز ہوتی ہے کہ کرونا کا مرض ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے اس لئے عوام کو ایس او پیز کا خاص خیال رکھنا پڑے گا۔ بات بالکل درست ہے لیکن جب حافظ آباد کا جلسہ ہوتا ہے اور اس میں مہمان خصوصی خود ملک کے وزیر اعظم عمران خان صاحب خود تشریف لاتے ہیں تو کیا انہوں نے اپنے سامنے عوام کے ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کو بنا ماسک کے نہیں دیکھا ہوگا؟اگر دیکھا تھا تو پھر کیوں اپنی انتظامیہ کو خبردار نہیں کیا کہ اتنی ساری عوام بنا ماسک کے کیوں ایک جگہ جمع ہوئی ہے۔اور انتظامیہ کا حال دیکھ لو کہ تماشائیوں کی تعداد پر ہر ٹی وی ٹاک شو میں بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے نمبرز اپوزیشن کے مقابلہ میں کہیں زیادہ تھے لیکن کوئی یہ نہیں کہیے گا کہ ہمارے جلسے میں آنے والی عوام کا شعوری لیول آپ کی عوام سے اس لئے بہتر تھا کہ انہوں نے حکومتی ہدایات کے مطابق کرونا کے خلاف ایس او پیز کا زیادہ خیال رکھا ہوا تھا۔ یہی حال اپوزیشن کے جلسوں میں بھی دیکھا گیا ہے اگر صرف گوجرانوالہ،کراچی کے جلسہ کو ہی لے لیں تو ہر میڈیا چینل نے دکھایا تھا کہ لوگوں کا جم غفیر جمع ہونا شروع ہو گیا ہے۔لوگ صبح سے ہی جوق در جوق جلسہ گاہ کی طرف آرہے ہیں ہر طرف بریانی اور کھانے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔بہت اچھی بات ہے کہ لوگوں کو کھانا کھلا یا جارہا ہے۔کیونکہ بھوکے پیٹ تو سارا دن جلسہ گاہ میں عوام اپنے لیڈران کا انتظار نہیں کر سکتی۔اور ظاہر ہے بریانی کا انتظام بھی اپوزیشن کے ایم پی ایز اور ایم این ایز نے کیا ہوگا ،عوام تو اپنے ساتھ دو وقت کی روٹی ٹفن میں پیک کر کے اپنے ساتھ لانے سے رہی۔اگر...

موضوعِ دل

دل کے بگاڑ سے ہی بگڑتا ہے آدمی جس نے اسے سنبھال لیا وہ سنبھل گیا حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تمھارے جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہے تو سارا جسم درست ہے اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا سنو وہ دل ہے۔ ایک رشتے دار کے دل کے آپریشن کا سن کر بہت دکھ ہوا دعا ہے اللّٰہ پاک تمام مریضوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے آمین یہ بات بھی قابل غور ہے  کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ دل کے عارضے میں مبتلا کیوں ہو رہے ہیں۔صرف راولپندی کارڈیالوجی میں روانہ 250 افراد انتہائی تشویش کی حالت میں لاے جاتے ہیں ماہرین کے مطابق کے امراضِ قلب کی بڑی وجوہات موٹاپا شوگر نشہ ورزش کی کمی سب سے بڑ کر ڈپریشن ہے جو کہ ام الامراض ہے آپ کا دل ایک منٹ میں 20 لیڑ خون جسم میں پہنچاتا ہے اس کو اپنا کام کرنے کے لیے خون۔آکسیجن۔ اور قوت بخش غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ دل ایک دن میں ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے۔دل کے امراض کا عالمی دن 29 ستمبر ہے طب نبوی میں دل کے لیے اہم غذائیں جو کا دلیہ،شہد،کھجور،زیتون کا تیل ہے ماہرینِ قلب کی احتیاطیں بھی اپنی جگہ اہم ہے مگر اس کی اہم وجہ ہمارا خود کو وقت نہ دینا ,اندھی مغربی رواج کی تقلید، بلا وجہ کا دکھاوا، مہنگائی اور معاشی دباؤشامل ہے   ۔ ایک آپریشن  تھیٹر کہ باہر لکھا تھا جو کھول لیتے دل یاروں کے ساتھ تو نہ کھولنا پڑتا اوزاروں کے ساتھ۔  عام مشاہدہ میں بھی ہے کہ جو لوگ ہشاش بشاش رہتے ہیں ۔بے مقصد الجھنوں میں خود کو الجھاتے نہیں ہیں  وہ کم ہی بیمار ہوتے ہیں۔نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ آپ نے فرمایا کہ جو اب آے گا وہ جنتی ہوگا اور مسلسل تین ایسا ہی ہوا ایک ہی دیہاتی آیا  صحابی رسول  نے اس شخص کے ساتھ رہ کے مشاہدہ کیا تو ایسی کوئی خاص بات نہیں  ملی ، تو اس سے ہی استفسار کیا تو جواب ملا کہ میں روانہ سب کو معاف کر کے سوتا ہوں ۔ قارئین یہی نسخہ ہم نے بھی اپنانا ہے ۔ جو عمل دوسرا کر گیا وہ اس کا ظرف تھا ردعمل ہمارے ھاتھ میں ہوتا ہے ہمیشہ دوسروں کو معاف کیجئے ۔ امید انسانوں کے خالق سے رکھیے ان شاءاللہ  نہ ہی ڈپریشن ہو گا نہ بلڈ پریشر بڑھے گا نہ دل کی یا کوئی اور تکلیف ہوگی۔اور ایک بہت ہی آزمایا ہوا نسخہ کہ رشتے داریاں جوڑیں اور پھر اپنی جان مال اور اولاد میں برکت دیں۔ تجربہ شرط ہے

دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر…۔

کل بہت سے لوگوں نے ہماری شادی کی سالگرہ پر پوچھا کہ ہنستے بستے رشتے کا رازکیا ہوتا ہے؟ اس موضوع پر ذرا کھل کر لکھنے کا ارادہ ہے، لگتا یہ ہے کہ رشتوں کا بحران ہماری زندگیوں کا سب سے بڑا کرائسس بن چکا ہے. ہمارے خاندانی نظام کا بلبلہ پھٹنے کو ہے اور اسے بچانے کے لیے ہم سب کو کلاس روم میں داخل ہونا پڑے گا. لیکن ابھی مختصر سی گدڑ سنگھی حاضر ہے، وہی جس کی طرف بڑی بی اشارہ کر رہی ہیں. جی ہاں، بہرا پن، یا ڈورا پن بھی ایک ایسا ہی سیکرٹ ہے. ضروری نہیں ہر بات سنی جائے، یا ہر بات کا جواب دیا جائے، کچھ باتیں سنی ان سنی کردی جائیں تو رشتوں کے باؤلے پن سے بچا جا سکتا ہے. اس کا مطلب سٹون والنگ نہیں ہے. اس پر بھی بات ہوگی. آنکھوں میں بے شک ڈراپ ڈال کر رکھیں اور دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر کچھ کچھ، سنا، ان سنا کردیں۔

پیچھے پھر!!!!۔

یہ ایک غیر معمولی بحران تھا، جو ٹل گیا مگر کچھ عرصہ تک اس کا دھواں اٹھتا رہے گا.                                       سندھ میں آئی جی پولیس کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کچھ سامنے آچکا ہے، مزید آجائے گا. یہ طے ہے کہ آئی جی کی تذلیل کی گئی اور کیپٹن صفدر کو سبق سکھانے کے لئے کچھ سرخ لکیریں عبور کی گئیں. کیپٹن صفدر نے مزار قائد پر جو کچھ کیا، وہ غلط تھا، لیکن اس کی ناک رگڑنے کے لیے جو کچھ کیا گیا، وہ اس سے زیادہ غلط تھا. آئی جی سندھ مہر مشتاق مرنجاں مرنج آدمی ہیں. ویسے بھی ایسے عہدوں پر پہنچنے والے مرنجاں مرنج ہی ہوتے ہیں. انہیں رات کے چار بجے اپنی خاندانی رہائش سے اٹھا کر ڈالے کا سفر کرانا اور سایوں سے ملاقات کی ضرورت نہیں تھی. جس نے بھی کیپٹن صفدر کے سمری ٹرائل اور فوری پھانسی کا حکم جاری کیا، اسے شربت بزوری معتدل پینے کی ضرورت ہے. یہ زیادہ سے زیادہ ایک ایس ایچ او یا ڈی ایس پی لیول کی اسائنمنٹ تھی جس میں ایک آئی جی کو گھسیٹا گیا. اب، آئی جی، پولیس کا جنرل لیول کے برابر کا افسر ہے. آئی جی، نوکری پیشہ آدمی ہیں اور ہرگز چی گویرا نہیں ہیں، ان کے اندر سے چی گویرا نکال لیا گیا ہے. سایوں کی ساٹھ سالہ حکومت میں پہلے بھی یہ سب کچھ چلتا رہتا ہے. بازو بھی مروڑے جاتے ہیں، لیکن بہت کم. زیادہ تر لہجے کے زور پر یا گالم گلوچ سے کام چل جاتا ہے. پرسنل فائلیں بھی کافی کام آتی ہیں. تاہم سارے افسران پنجاب پولیس جیسے نہیں ہوتے جن کی کمر سے ریڑھ کی ہڈی پہلے شہباز شریف اور بعد میں تحریک انصاف کی حکومت نے نکال لی ہے. گھوم پھر کر یہ کرائسس آف گورنینس ہے. اصل سوال وہی ہے کہ پاکستان کا مالک کون ہے؟ خاکی اور خفیہ ادارے بجا طور پر اپنے آپ کو مالک سمجھتے ہیں. عدلیہ سمجھتی ہے کہ تشریح کا اختیار اس کے پاس ہے کہ الاٹی کون ہے اور مالک کون ہے. بیورو کریسی کا سارا زور نوکری کرنے، مرضی کی پوسٹنگ لینے اور جو جیتے اس کے ساتھ بستر میں جانے پر صرف ہوتا ہے. کبھی ایک آنکھ، اور کبھی دوسری آنکھ بند کر لی جاتی ہے. اب یہ نہ پوچھئے گا کہ اس فارمولے میں عوام کیوں شامل نہیں ہیں. جو کراچی میں ہوا، وہ پہلے بھی ہوتا رہتا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا. اسی طرح کے مقدمات بھی بنتے رہے ہیں، وزیراعظم برطرف ہوتے اور پھانسی لگتے رہے ہیں. بس لگتا یہ ہے کہ جن کے ذمےیہ کام لگایا گیا انہوں نے چول ماری اور کچھ سرخ لکیریں پار کر لیں. اس وقت سندھ میں انتظامی بحران عروج پر ہے. لیکن یہ سیاسی بحران نہیں. بلاول بھٹو یا مراد شاہ کے کہنے ہر ایک سپاہی نوکری کو لات نہیں مارے گا. ایک ایسا ملک جس میں نوکری لینے کے لیے جان پر کھیلنے کی روایت ہو،...

ہمارے بلاگرز