ذوالفقار خان زلفیؔ

mm
1 بلاگ 0 تبصرے

جوش ملیح آبادی کی نظم رشوت کا تجزیاتی مطالعہ

جوش ملیح آبادی ہمارے اردو ادب کے ایک اہم شاعر تصور کئے جاتے ہیں۔ آپ کو شاعر شباب اور شاعر انقلاب بھی کہا جاتا...

اہم بلاگز

ہوم اسکولنگ – کیوں؟ اور کیسے؟؟؟

"ہوم اسکولنگ" کا لفظ ہمارے ماحول میں تیزی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے۔اسکی افادیت پر مختلف پہلوؤں سے بھت سی معلومات دی جا رہی ہیں۔ میں ایک ماہر نفسیات ہوں اورپچھلے بارہ سال سےتعلیم و تربیت کے شعبہ سے وابستہ ہوں۔ کئ دہائیوں سے جاری تعلیمی نظام سے ہٹ کر ہوم" اسکولنگ" کے جدید طریقہ کار کو میں نے اپنے بچوں کے لئے کیوں منتخب کیا؟ ایک نفسیات داں ہونے کے نقطہ نظر سے اس سوال کا جواب پیش کرتی ہوں۔ ابتدائی عمر کا learning process صرف تعلیم کا ہی نہیں بلکہ تربیت کا بھی learning process ہے۔ جہاں ان کے قدوقامت، ہڈیاں اور دیگر جسمانی نظام نشوونما پارہے ہوتے ہیں وہاں جذبات، رجحانات اور کردار بننے کا بھی یہی وقت ہے ۔ پچھلی صدی کے ابتدائی ادوارکو  دیکھیں تو  تعلیمی نظام کسی حد تک معاشرے کی مذہبی، سماجی اور تہذیبی اقدار کی منتقلی لرننگ پروسس کے ساتھ کر رہا تھا۔ لیکن جدید سائنسی بنیادیں رکھنے والے علوم کا تناسب بڑھ جانے اور تعلیم ایک کاروبار بن جانے کے بعد اخلاقی اور سماجی اقدار کے لئے تعلیمی نصاب میں بھت کم حصہ رہ گیا۔ اقدار کی منتقلی کے لئےاہم ترین دور ابتدائ پانچ سال ہیں۔ اس عمر میں بچہ جو سیکھتا ہے تمام عمر انہی خطوط پر چلتا ہے مثلاً بزرگوں کی عزت، سچ بولنا، بیمار کی تیمارداری، مہمان کی عزت، نرمی سے بات کرنا۔۔۔ یہ سب غیر محسوس طریقے سے منتقل ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ سال والدین کے لئے بہت ذمہ داری کے سال ہیں۔ اس عمر میں جذبات و احساسات بنتے اور نشوونما پاتے ہیں۔ یہ جذبات و احساسات ہی کردار بناتے ہیں جو آگے چل کر پوری زندگی میں جھلکتا ہے۔ ہوم اسکولنگ بنیادی طور پر اس ابتدائ وقت کو کارآمد بنانے کا نام ہے جس پر بچے کے کردار کی تعمیر منحصر ہے۔ عمر کے اس حصے میں بچے کو  جسمانی ضروریات پورا کرنے پر تمام تر زور ہوتا ہے ملبوسات کھلونوں اور غذائ ضروریات کے بہم پہنچانے میں والدین اپنا پورا حصہ ڈالتے ہیں لیکن کم ہی والدین جانتے ہیں کہ اس عمر کی جذباتی ضروریات emotional needs  بھی ہوتی ہیں؟ جنکو سلیقے سے ایک پروگرام کے تحت پورا کیا جائے تو بچہ ایک با صلاحیت اور مثبت کردار کی شخصیت بنے گا۔ بنیادی طور پر بچوں کی چار  emotional needs ہوتی ہیں: unconditional love 1 یعنی غیر مشروط محبت۔ وہ معصوم ہوتے ہیں۔ جو محبت کرے اسی کے ہوجاتے ہیں۔ 2۔ sense of security  یعنی تحفظ کا احساس۔ 3۔exposure to new experiences ان کے لئے تمام گھریلو چیزیں، بجلی کے الات، گھر میں انے والے لوگ ہر چیز پر تجسس ہوتی ہے۔ وہ انہیں سمجھنا چاہتے ہیں۔ 4۔need to be disciplined یعنی انکی چھوٹی سی دنیا میں نظم و ضبط کی پابندی ہو۔ ہوم اسکولنگ کے خواہشمند والدین کو چند امور سمجھ لینا چاہئے۔ نظم وضبط کی پابندی: ماں کو اپنی گھریلو اور باپ اپنی بیرونی زمہ داریوں کے ساتھ ہی ہوم اسکولنگ کرنا ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ وہ خود نظم وضبط کے پابند ہوں۔ اپنے بچے کے کردار کی بہترین بنیاد بنانے کے لئے اپنی غیر معمولی تفریحی...

ذمہ دار ہم نہیں، پھر کون؟

سورج کی گرم کرنیں فاروق حسن کے آفس میں قبضہ کیے ہوئے تھیں۔ یہ معروف سائیکالوجسٹ تھے۔ ان کے کلینک پر ہی نہیں بلکہ ان کے آفس میں بھی بہت لوگوں کا رش ہوتا تھا۔ عموماً یہ آفس میں کسی سے ملاقات نہیں کرتے تھے۔ لیکن آج وہ اپنے آفس میں مسٹر تیمور علی اور مسز تیمور کے ساتھ بات چیت میں مشغول تھے۔ "تو تیمور صاحب آپ کیا کہہ رہے تھے؟ آپکے بیٹے کا رویہ گھر میں ٹھیک نہیں ہے۔ کیا آپ مجھے اس کی وجوہات بتا سکتے ہیں؟" فاروق حسن نے آنکھوں پر لگی عینک کے پیچھے سے تیمور کو گھورا تھا۔ "میں بتا تو چکا ہوں، کہ میں اور میری بیوی نہیں جانتے کہ کیا مسئلہ ہے۔ وہ اتنی بدتمیزی کرتا ہے، اٹھارہ سال کا ہوگیا ہے، بالکل ہاتھ سے نکلتا ہی جارہا ہے۔ جھوٹ تو اُس کی زبان پر رکھا رہتا ہے۔ اور اگر ہمیں مسئلہ پتا ہوتا تو آپکے پاس کیوں آتے؟۔" تیمور کچھ خفا ہوا تھا۔ "مسئلے کو حل، صرف مسئلہ جان کر نہیں کیا جاسکتا ہے، اُس کی وجہ، اُس کی جڑ کا پتا ہونا ضروری ہے۔ یہ تو پتا ہو پہلے کہ ایسے رویے کے پیچھے کیا وجہ ہے۔" فاروق حسن نے نہایت دھیمے لہجے میں کہا تھا۔ "دیکھیں تیمور صاحب! میں آپ سے کچھ سوالات کروں گا، آپ مجھے ان کے جوابات دیں گے، کیونکہ آپ اپنا ذاتی مسئلہ لے کر یہاں آئیں ہیں تو آپ سے کچھ سوال بھی ذاتی ہوں گے۔ اور یہ کیے بغیر میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا۔ جو سوال آپ سے کیا جائے آپ اُسی کا جواب دیں، اور جو مسز تیمور، آپ سے کیا جائے آپ اُس کا دیں گی" ماحول بوجھل ہوتا جا رہا تھا۔ "کیا آپ دونوں کے تعلقات گھر میں ٹھیک ہیں؟ بہت لڑائی جھگڑا ہوتا ہے؟" "لڑائی جھگڑا تو ہر گھر میں ہوتا ہے سر، یہ کوئی نئی بات تو نہیں" "آپ میری بات کاٹ رہے ہیں تیمور۔ لڑائی جھگڑا بالکل ہوتا ہے، لیکن یہ بچے کی نفسیات پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ بہت سے میری مراد یہ ہے کہ گھر میں کس طرح کا رویہ ہوتا ہے آپکا؟ میں نے دو سیشنز لیے ہیں آپکے بیٹے کے ساتھ اس کے بعد ہی میں آپ سے اس طرح کے سوالات پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔" "ہم نے اپنے بیٹے کی بہت اچھی تربیت کی ہے۔ آپ چاہیں تو میری بیوی سے پوچھ لیں، آپ یوں بات کا پورا رخ والدین کی طرف نہیں موڑ سکتے" "جی آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں، غلطی صرف والدین کی نہیں ہوتی۔ لیکن اُس غلطی کا بیج بونے میں والدین کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔ تیمور صاحب بچپن میں بچے نا بہت لچک دار ہوتے ہیں، آپ انھیں جس سانچے میں ڈھالتے ہیں وہ بالکل ویسی ہی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ میں آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں" ایک سات سالہ بچہ ہے تابش، اس کا باپ خبار پڑھتے ہوئے اُسے آواز دیتا ہے ”کہ بیٹا ایک گلاس پانی پلاؤ“ ”جی بابا لایا“ تابش فرش پر لگے ٹائلز پر کھیلتے ہوئے گیا۔ آج کل نا اس بچے نے نیا کھیل سیکھ لیا تھا، کہ...

جب احساس ہوا

ٹھٹھرتا ہوا موسم سرما آہستہ آہستہ رخصت ہو رہا تھا۔ جس کی وجہ سے سورج کی شرماہٹ میں کمی آ رہی تھی اور اس کا اعتماد بحال ہو رہا تھا ۔ لہذا اب وہ گھر میں آنکھ مچولی کھیلنے کی بجائے اپنی تمازت کے ساتھ ہنستا مسکراتا سر عام تھا۔ تبسّم آفتاب نے ہر چیز کو جلا بخش کر ماحول کو خوب صورت بنا دیا۔ درختوں میں جان پڑنے لگی ڈالیاں لہرانے لگیں۔ ان پر لگے رنگ رنگ کے پھول مسکرانے لگے۔ پرندوں کے گیتوں نے فضا میں ترنم باندھ دیا۔  مکین جو دو ماہ سے گھروں میں سخت سردی کی وجہ سے دبکے بیٹھے تھے، وہ اس طلسماتی ماحول سے لطف اندوز ہونے کے لیے گھروں سے نکلنے لگے۔ تنویلہ اور سمیر، دونوں بہن بھائی اپنے اپنے بچوں کو لے کر پارک آئے تھے۔ تنویلہ کے میاں کی کاروباری مصروفیت، اس لیے وہ ان کے ساتھ نہ آسکا اور سمیر کی بیوی کو اپنی کسی سہیلی کے ہاں جانا پڑ گیا۔  ماموں پھوپھو کے بچے ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش ہو گئے اور کھیلنا شروع کر دیا۔  پارک دونوں کے گھروں کے درمیانی فاصلے پر واقع تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ گھر قریب قریب تھے بلکہ ان کے درمیان 40 کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔لہذا دونوں تقریباً بیس بیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اس پارک تک آئے تھے۔ وہ دونوں بہن بھائی بچوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ باتیں بھی کر رہے تھے۔ ایک دوسرے کا حال احوال دریافت کیا۔ حقیقی خوشی دونوں کے چہروں پر عیاں تھی۔ سمیر محبت و شفقت بھرے لہجے میں کہنے لگا۔ تنویلہ !بہن ایک سال بھی چھوٹی ہو تو وہ بیٹی کی طرح ہوتی ہے۔ اس طرح تم بھی میری چھوٹی بہن ہی نہیں بیٹی بھی ہو ۔ کبھی ہماری طرف بھی آ جایا کرو ایک شہر میں رہتے ہوئے بھی مہینوں کو کراس کر کے سالوں پر آ گئی ہو۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ آخری بار میرے گھر میں تقریباً سوا سال پہلے آئی تھی۔  بھائی کیا کروں؟ بچوں میں وقت ہی نہیں ملتا آنے کا ان کے منتھلی ٹیسٹ ختم نہیں ہوتے کہ گرینڈ ٹیسٹ شروع ہو جاتے ہیں اور پھر فوراً فائنل امتحان بس ایسے ہی , کوشش بھی کروں تو گھر سے نکلا نہیں جاتا۔  لیکن بھائی آپ بچوں کے ساتھ جلدی چکر لگا لیا کریں میں آپ سے بہت اداس ہو جاتی ہوں۔ تنویلہ نے بڑی مہارت سے حلق میں اٹکے آنسو نگل لیے لیکن آواز کی گلو گیری بھائی سے چھپانے میں ناکام ہو گئی۔ سمیر متفکر نظروں سے بہن کو دیکھنے لگا اور بڑی محبت سے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔ تنویلہ! ہمارے گھروں میں نہ آنے کی وجہ تمہاری مصروفیات نہیں۔ چل شاباش گڑیا,سچ سچ بتا کیوں نہیں آتی اپنے میکہ گھر میں۔ بھائی کوئی وجہ نہیں! بس ادھر جانے سے امی کی یاد زیادہ آتی ہے، صرف یہی وجہ ہے۔  تنویلہ نے بھائی کو ٹال کر اپنے چہرے پر زبردستی والی مسکراہٹ سجا لی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  تنویلہ کا مختصر سا کنبہ والدین، دو بھائیوں اور ایک بہن پر مشتمل تھا۔ تنویلہ دونوں بھائیوں سے چھوٹی تھی لیکن والدین نے بڑے...

ہمارا فرسودہ تعلیمی نظام اور نصاب کی پیچیدگیاں

ہمارا تعلیمی نظام اس قدر فرسودہ اور پرانا ہو چکا ہے کہ اب یہ وقت کی انتہائی اہم ضرورت بن گیا ہے کہ اس میں غیر معمولی تبدیلیاں لے کر آئی جائیں۔ نہ صرف نصاب کو بدلا جائے اور پورے نظام کر بہتر بنایا جائے بلکہ اسے اپ گریڈ کیا جائے ـ آج ٹیکنالوجی نے اس قدر ترقی کر لی ہے وقت و حالات بدل گئے ہیں۔ دنیا ترقی کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے مزید یہ کہ کرونا وائرس نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ لیکن نہیں بدلا تو ہمارا صدیوں پرانا نصاب۔ ہم آج بھی اپنے بچوں کو حساب میں تھیورمز کے رٹے لگوا رہے ہیں ـ آج جب ہر طرف ہنر یا مہارت کی بات ہو رہی ہے اور جو وقت کی اہم ضرورت بھی ہے وہاں ہم اپنے بچوں کو رٹا لگانے کی طرف مائل کر رہے ہیں۔ کیونکہ جتنا اچھا رٹا ہو گا جتنا لمبا لکھا ہو گا اتنے ہی اچھے نمبر بھی آئیں گے۔ اس نمبر کی دوڑ میں جو سب سے آگے ہو گا اسی کو اچھے کالج یا یونیورسٹی والے داخلہ دیں گے ورنہ مستقبل تباہ ہو جائے گا۔ یعنی بچوں کی ذہنی قابلیت و اہلیت کو نمبروں پر جانچا جاتا ہے اور مستقبل صرف حاصل کردہ نمبروں پر منحصر ہے ـ یہی وجہ ہے کہ میرٹ میں پوزیشن نہ بننے پر ہماری نوجوان نسل خودکشی کی طرف مائل ہوتی ہے کیونکہ ان کے اور ان کے گھر والوں کے خواب کم نمبر آنے پر چکنا چور ہو جاتے ہیں ـ ہمارے آج کے نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں اُٹھائے بے روزگار ہیں۔ خاک چھانتے اور جگہ جگہ مارے پھرتے ہیں لیکن اچھی نوکری نہیں ملتی۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ہمیں وہ پڑھایا ہی نہیں جاتا جو وقت اور مارکیٹ کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ہماری سوچ کا بھی کافی عمل دخل ہےاور ہمارے دماغوں میں بھی ڈالا جاتا ہے کہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد ہم پر بڑی کمپنیاں اپنے دروازے کھول دیں گی نوکریاں دینے کے لئے ہمارے آگے پیچھے گھومیں گی نہ جانے کونسا قارون کا خزانہ ہمارا منتظر ہو گا۔ جبکہ حقیقت بہت بھیانک ہوتی ہے ہماری سوچ اور خواب بہت اوپر چلے جاتے ہیں جو ہمیں چھوٹے چھوٹے کام کرنے سے منع کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ڈپریشن اور اس جیسے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ـ آخر میں جس کو نوکری نہیں ملتی وہ مایوس ہو کر تھک ہار کر پڑھانے کا پیشہ اختیار کر لیتا ہے۔ طاب جو شخص مجبوری کی حالت میں اس پیشے کو اپناتا ہے وہ کیسے اس قوم کو علم کی روشنی سے منور کر سکتا ہے۔ انگریزی کے اساتزہ وہ ہوتے ہیں جن کو انگریزی تک بولنی نہیں آتی۔ اسلامیات اردو تو کوئی بھی پڑھا سکتا ہے۔ جب مہارت نہیں اس ایک مضمون میں کوئی ڈگری نہیں تو کیسے وہ بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا سکتے ہیں ؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے جسکا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ـ پھر آتا ہے ہمارا تعلیمی نظام جس میں کوئی قوانین...

صرف بڈھے ہی تو مر رہے ہیں

خواہ مخواہ ڈرا کر رکھا ہوا ہے پوری قوم کو، صرف بڈھے تو مر رہے ہیں کورونا سے پاکستان میں۔ یہ تھا استدلال اس "دانشور" کا جس سے میں نے غلطی سے ایک چھوٹے کمرے میں ڈیڑھ سو سے زائد لوگوں کو اکٹھے دیکھ کر 'کورونا ایس او پیز' کی خلاف ورزی کا ذکر کر ڈالا۔ جی بالکل، بڈھے ہی تو مر رہے ہیں، ان کی موت سے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے، آج نہیں تو کل تو انہوں نے مر ہی جانا تھا، اچھا ہوا جلدی جان چھوٹ رہی ہے ان سے۔ ہر وقت کی کھانسی، جوڑوں میں درد، کمر میں تکلیف، بیمار اور مریل بڈھے اور بڈھیاں، کام کے نا کاج کے، دشمن اناج اور چین و آرام کے۔ لو جی اماں اسی سال سے اوپر کی ہو گئیں اور جیے جا رہی ہیں، ابا 75 سے اوپر کے ہیں اور ہر سال "آئی سی یو" پہنچ جاتے ہیں پھر بھی لوٹ آتے ہیں، ہیں جی؟ ہاں بس فرق پڑتا ہے جمال کو، جب بھی اکیلا ہوتا ہے ماں یاد آتی ہے اور آنکھیں چھلک جاتی ہیں، کہتا ہے کورونا نہ ہوتا تو کئں برس اور جی لیتیں اماں۔ اس کی والدہ کے جسم کا ہر سسٹم خراب ہو چکا تھا، پھیپھڑے تو گزشتہ کئی برسوں سے خراب تھے ہی، شوگر کی وجہ سے یہ انہیں روز انسولین لگاتا تھا، بلڈ پریشر اور دل کی مریضہ بھی تھیں اور آخری دنوں میں گردے فیل ہو جانے کی وجہ سے ڈائلیسس پر آچکی تھیں۔ "بھائی آخری دنوں میں، میں روزانہ انہیں اپنے ہاتھوں سے بستر سے اٹھاتا، گاڑی میں بٹھاتا، ایس آئی یو ٹی سے ڈائیلائسس کرواتا اور گھر لے آتا تھا، آخری دو ہفتے تو شاید میں چند منٹ سے زیادہ سویا بھی نہیں، وہ اسپتال میں ہوتی تھیں اور میں سول اسپتال کے آس پاس کی گلیاں ناپا کرتا تھا" جمال بتانے لگا، بقول اس کے اماں کئی برس اور جی لیتی اگر کم بخت کورونا نہ ہوتا۔ 55 سالہ ڈاکٹر سلطان خود کورونا میں مبتلا ہیں، روزانہ تیز بخار ہوتا ہے سانس لینے میں تکلیف ہے لیکن جان میرپور خاص میں اپنے گھر میں موجود 84 سالہ اللہ اماں میں اٹکی ہوئی ہے، اماں کو کورونا کی وجہ سے "ایکیوٹ ریسپائریٹری ڈسٹریس" تشخیص کیا گیا ہے، بقول ڈاکٹر سلطان کے اتنا بد نصیب ہوں کے اپنی ماں کے قریب بھی نہیں جا سکتا، اپنے لئے کم اور ماں کے لیے زیادہ دعائیں کرتا ہوں اللہ ان کو میری بھی عمر لگا دے۔ اور مجھے وہ سات سالہ بچہ نہیں بھولتا، بقر عید کی رات مجھے اپنے بچوں کے ساتھ قربانی کے جانوروں کے قریب کھڑا دیکھا تو قریب آگیا، باتوں ہی باتوں میں کہنے لگا "ابو نے بکرا دلوایا تھا لیکن اسے ٹہلانے میرے ساتھ نہ جا سکے, کورونا نے ابو اور دادی کو ایک ساتھ ہم سے چھین لیا، اب اس بکرے کا کیا کروں میں؟" وہ رونے لگا اور مجھے بھی آبدیدہ کرگیا۔ ہاں لیکن کورونا سے بڈھے ہی تو مر رہےہیں، خوامخواہ ڈرا کر رکھا ہوا ہے پوری قوم کو، کسی کو کیا فرق پڑتا ہے اگر کسی کا بڈھا باپ یا...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

Give Respect To December

دسمبر کو عزت دو

آپ سب بھی واقف ہی ہوں گے کہ دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی ہر طرف رونے دھونے والے اور دسمبر کو اپنی اداسیوں اور دکھوں کا ذمہ دار ٹھرانے والوں کی بھیڑ لگ جاتی ہے۔ چونکہ ہم واٹس اپ، فیس بک ، انسٹا گرام کے دور میں سانسیں لے رہے ہیں تو ہر صارف نے حد سے بڑھ کر دکھی دسمبر کی شاعری لگائی ہوتی ہے۔ جس سے ملاقات کرو  دسمبر کا نام لیتا اور آہیں بھرتا ہے ساتھ ہی دسمبر کی شاموں کی طوالت اور بے نام سی اداسی کا ذکر چھڑ جاتا ہے۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے ہر دسمبر یہی دیکھا یہی سنا ہے "دیکھ دسمبر پھر نہ آنا " اب زمینی گردش کا معاملہ ہے ورنہ دسمبر اتنی ناقدری کے بعد نا ہی آئے ۔ دسمبر میں برفیلی ہوائیں تو چلتی ہی ہیں مگر آپ کو ٹھنڈی ٹھار آہیں واہیں بھی جمانے کے لئے موجود ہوتی ہیں۔ اس بار سوچا کہ پتا تو چلایا جائے یہ نا معلوم سی اداسی آخر کیوں گھیر لیتی ہے۔؟کیا واقعی دسمبر بہت ظالم ہے؟ کیا دسمبر کا نام لیتے ہی دل کی دھڑکن آہستہ ہو جاتی ہے؟ کیا دسمبر واقعی اداسی لئے آتا ہے؟بہت سی دوستوں سے پوچھا کہ بتائیں تو بھلا دسمبر کا واویلا حقیقت ہے یا افسانہ ؟ زیادہ تر افراد کے جواب سے مطمئن نہ ہو سکے۔ ان کو وجہ ہی معلوم نہیں کہ دسمبر کیوں افسردہ کرتا ہے۔ جب پوچھا کہ آپ کے ساتھ کچھ ذاتی سانحہ ہوا تو جواب یہی تھا کہ ارے نہیں ہمیں تو "دسمبر بہت خاص لگتا" ہمیں کوئی دکھ نہیں دیا دسمبر نے۔ اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ ہم لوگ سنی سنائی باتوں پر تو کان دھرتے تھے ہی، ہم نے سنے سنائے دکھ بھی سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ جب اردگرد دسمبر کا واویلا دیکھا تو ہم بھی شامل ہو گئے۔ اس میں ایک بڑا حصہ ہماری شاعری کا ہے۔ گانوں نے بھی خاطر خواہ حصہ ڈالا ہے۔بہت کم ہی لوگوں کو اس مہینے کی کوئی شام سہانی لگتی ہے۔ دسمبر پر آپ کو بہت شدید شاعری ملے گی۔(یہ میری ذاتی تحقیق ہے اس سے آپ اختلاف کرنے کا حق رکھتے ہیں)۔جس قدر اشعار بلکہ نوہے آپ کو دسمبر پر ملیں گے کسی اور مہینے پر نہیں ملتے۔اسی حوالے سے کچھ دسمبر کے دکھ حاضر ہیں آپ ہی فیصلہ کریں کہ کیا حقیقت ہے کیا افسانہ ہے۔ بعض دفعہ ہمیں دسمبر نے کوئی دکھ نہیں دیا ہوتا بلکہ مئی جون یا ستمبر اکتوبر کا کوئی غم ہمیں پریشان کر رہا ہوتا ہے مگر ہم دسمبر کو کوسنے دیتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے بہت غم دسمبر میں دسمبر کے نہیں ہوتے اسے بھی جون کا غم تھا مگر رویا دسمبر میں دسمبر سال کا اختتام ہے تو اس پر بھی اسے مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کے بعد اچھے حسین مہینے کا سوچ کر ہی خوش ہوا جاتا ہے۔۔ سفر میں آخری پتھر کے بعد آئے گا مزا تو یار دسمبر کے بعد آئے گا حالانکہ نئے سال کی ایک نظم میں اس کو بھی خام خیالی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا گیا...
https://www.jasarat.com/blog/2020/12/08/humaira-haider-29/

حلوے کھانے کے دن آئے‎

سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گرما گرم پکوان، خاص طور پر حلوے کا خیال آتا ہے۔ حلوے کے جملہ حقوق اگرچہ مولوی کے ساتھ منسوب ہو چکے ہیں تاہم موسم سرما میں سب ہی مولوی بن جاتے ہیں۔ میرے والد صاحب ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ ایک شحض بخار میں مبتلا ہو گیا (اس زمانے میں بخار خطرناک امراض میں شمار ہوتا تھا)۔ بہت سے لوگ اس کی تیمارداری کے لئے آئے ہوئے تھے ہر کوئی نیم حکیم بنا ایک سے بڑھ کر ایک بد مزہ ٹوٹکا بتا رہا تھا۔ کچھ کونین چبانے کا تو کوئی کریلے کی افادیت کوئی کسی کڑوی کسیلی دوا کا بتا رہا تھا۔ مریض صاحب نالاں اور پشیماں دکھائی دیتے تھے۔ ایسے میں دروازے کے قریب بیٹھے شحض نے آہستہ آواز میں کہا "اسے حلوہ بنا کر کھلاو ممکن ہے تندرست ہو جائے گا"۔۔ یہ سننا تھا کہ مریض نے سب کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ اصل دوائی کی طرف توجہ ہی نہیں دے رہے وہ دروازے والے بندے نے زبردست دوا بتائی ہے۔ بعینہ پار سال کی بات ہے موسم سرما یعنی کہ حلوے کا موسم تھا۔ڈاکٹر کے پاس جانے کا اتفاق ہوا، خون کا ٹیسٹ کیا تو ہیموگلوبن ریکارڈ حد تک اچھا تھا۔ نند صاحبہ کے استفسار پر ان کو راز بتایا کہ میرا ایچ بی تو حلوے سے ٹھیک رہتا ہے۔ وہ ذہنی امراض کی ڈاکٹر ہیں اس لئے تاحال ہمارے حلوے کی چاہ اور ایچ بی کی بہتری کا آپس میں کوئی سراغ نہیں پا سکیں ممکن ہے ذہنی خلل تصور کر کے خاموشی اختیار کی ہو۔ حلوے سے محبت کا یہ عالم ہے کہ بڑی دیورانی صاحبہ کا ماننا ہے کہ ہم ہر حلال چیز کا حلوہ بنانے اور کھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چھوٹی دیورانی کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی تو ان کے لئے جس قدر حلوہ بنا اس میں ہمارا بھی حصہ ہوتا تھا۔ وہ تو حلوہ کھانے سے اکتا گئیں مگر یہاں سیری نہ ہوئی۔ حلوے کی ہزاروں اقسام ہیں۔ ادب کی دنیا بھی حلوے کی معترف نکلی۔دو قدیم کتب نظر سے گزریں جن کے نام حلوے سے موسوم ہیں۔ نام ملاحظہ ہوں، حلوہ دانش و سرمہ بینش حکیم بھگت(اردو) اور مثنوی نان و حلوا از شیخ بہائی(فارسی) اب چونکہ حلوے کا موسم پھر سے آ گیا ہے۔ سطوت رسول کی ایک نظم کا شعر ہے ۔ حلوے کھانے کے دن آئے صحت بنانے آئے دھوپ تو موسم سرما میں صحت بنائیں اور کچھ نادر و نایاب مگر آسان حلووں کی تراکیب ملاحظہ ہوں۔ چقندر: جی ہاں درست پڑھا آپ نے۔ چقندر کا استعمال برصغیر میں بہت عام ہے، سلاد سے لے کر اس کا جوس کافی پسند کیا جاتا ہے۔ اس ایک جز بیتھین سے بھرپور ہوتا ہے جو سوجن پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ چقندر بلڈ پریشر میں مفید ہے، خون بناتا ہے، جسمانی اور دماغی توانائی سے بھرپور ہے، قبض کا علاج ہے۔ اس کا ذائقہ اکثر لوگوں کو زیادہ مرغوب نہیں ہوتا تو ان کے لئے پیش خدمت ہے چقندر کا حلوہ۔ ترکیب:- چقندر کو چھیل کر کدو کش کر...

چکنی مٹی کے لوگ‎

آج کل جگہ جگہ ایک مذہبی وسیاسی  جماعت کے بینرز لگے ہوئے ہیں،  ایک بینر پر لکھا  تھا"قوم کو لاہور اورنج ٹرین،پنڈی میٹرو بس،ملتان میٹرو بس اور پیشاور میڑو سروس مبارک،کراچی والوں ٹیکس دیتے رہو اور دھکے کھاتے رہو" اطلاعا  عرض ہے کہ کراچی کے عوام کو دھکے کھانےمیں بہت مہارت حاصل ہے، چاہے وہ رکشے کے ہوں یا بس کے، گدھا گاڑی کے ہوں یا کھلی سوزوکی کے،سڑکیں اتنی لہراتی اور بل کھاتی کے کمر کا درد بلکل ٹھیک ہوجائے،دس نمبر لیاقت آباد کی سڑک(بکرا منڈی کے سامنے والی)میں جو دھکے کھاتے جھولا جھولنے کا مزہ عوام کو دس سال تک آیا وہ بیان سے باہر ہے،  کئی بار خواہش ہوئی کہ سابق مئیر اور وزیراعلی صاحب کو بھی یہاں کے دھکوں کی سیر کرائی جائے، پھر خیال آیا نجانے کراچی میں ایسی کتنی ہی سڑکیں ہونگی وہ بچارے کہاں کہاں کے دھکوں کا مزہ لینگے۔ اب آتے ہیں کراچی والوں  کی طرف۔ یہاں مختلف رنگ، نسل، مذہب اور فرقوں  کے لوگ آباد ہیں جن کو اپنے حقوق کی سمجھ ہی نہیں ہے،مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے اور سرکارکو کوئی سروکار ہی نہیں روڈ صاف ستھرے اور خوب صورت ہو یا  ٹرانسپورٹ کا نظا م اچھا ہواشرافیہ  کو صرف اپنے پیٹ کی فکر ہے ، حالیہ بارشیں ہوئیں  توسوچا اس قوم کو اب تو اپنے حقوق کی سمجھ آ گئی ہوگی اور غصے میں بھرے گورنر ہاؤس یا وزیر اعلی ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے،  لیکن ان کا حال تو ویسا ہی ہوا جیسا ایک بادشاہ کی رعایا کا تھا ۔ "ایک بادشاہ نے اپنی رعایا کو آزمانے کے لیے پہلےان کا کھانا بند کیا،  پھر پانی و دیگر مراعات لیکن عوام کچھ نہ بولی،  پھربادشاہ نے حکم دیا کہ کام پر آنے جانے والے راستوں پر ہر آدمی کو چانٹا مارا جائے،  کچھ عرصے یہ چیز چلتی رہی آخر کار ایک دن رعایا محل کے باہر میدان میں جمع ہوگئی،  بادشاہ خوش ہوا کہ چلو اب ان کو اپنے حقوق کا خیال تو آیا-عوام نے کہا بادشاہ سلامت ہمیں کام پر جاتے ہوئےدیر ہو جاتی ہےآپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی  آپ چانٹا مارنے والوں کی تعداد بڑھا دیں تاکہ ہم وقت پر اپنے کام پر پہنچ سکے-یہی حال ہمارے کراچی کی قوم کاہے- خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

پانچ روپے کا ماسک اور 200 کی بریانی

میرے آج کے کالم کا موضوع کچھ عجیب سا لگ رہا ہوگا کہ یہ ماسک اور بریانی کی پلیٹ کا آپس میں کیا تعلق،تو جناب کبھی کبھار تعلق یونہی بنا لینا چاہئے جیسا کہ ایک مزارع ایک زمیندار کے کھیت میں ہل چلا رہا تھا کہ ایسے میں زمیندار کا ادھر سے گزر ہوا۔زمیندار نے دیکھا کہ مزارع ہل ٹھیک سے نہیں چلا رہا ہے تو اس نے ڈانٹتے ہوئے اس مزارع سے کہا کہ غلامیاں! تم ’’سڑیوں کے ساتھ سڑی‘‘یعنی لائن کی ترتیب کے ساتھ ہل نہیں چلا رہے ہو،جس پر غلاماں بولا کہ چوہدری صاحب جب آپ نے اپنی دھی کا پیسہ کھایا تھا تو کیا میں بولا تھا؟چوہدری نے ذرا گھبراتے ہوئے پوچھا کہ بھلا اس جواب کا میرے سوال کے ساتھ کیا تعلق ہے تو مزارع نے کہا چوہدری صاحب ’’گلاں چوں گل ایویں ای نکلدی اے‘‘یعنی باتوں میں سے باتیں ایسے ہی نکلتی ہیں۔ لیکن میرے موضوع یعنی ماسک اور بریانی کا تعلق اس لئے ہے کہ آجکل حکومتی اور اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے جلسوں کا سلسلہ جو چلا ہوا ہے اس میں میری طرح آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ حکومتی ایوانوں سے ان کے مشیران جب بھی ٹی وی ٹاک شوز میں تشریف فرما ہوتے ہیں ان کی ایک ہی آواز ہوتی ہے کہ کرونا کا مرض ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے اس لئے عوام کو ایس او پیز کا خاص خیال رکھنا پڑے گا۔ بات بالکل درست ہے لیکن جب حافظ آباد کا جلسہ ہوتا ہے اور اس میں مہمان خصوصی خود ملک کے وزیر اعظم عمران خان صاحب خود تشریف لاتے ہیں تو کیا انہوں نے اپنے سامنے عوام کے ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کو بنا ماسک کے نہیں دیکھا ہوگا؟اگر دیکھا تھا تو پھر کیوں اپنی انتظامیہ کو خبردار نہیں کیا کہ اتنی ساری عوام بنا ماسک کے کیوں ایک جگہ جمع ہوئی ہے۔اور انتظامیہ کا حال دیکھ لو کہ تماشائیوں کی تعداد پر ہر ٹی وی ٹاک شو میں بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے نمبرز اپوزیشن کے مقابلہ میں کہیں زیادہ تھے لیکن کوئی یہ نہیں کہیے گا کہ ہمارے جلسے میں آنے والی عوام کا شعوری لیول آپ کی عوام سے اس لئے بہتر تھا کہ انہوں نے حکومتی ہدایات کے مطابق کرونا کے خلاف ایس او پیز کا زیادہ خیال رکھا ہوا تھا۔ یہی حال اپوزیشن کے جلسوں میں بھی دیکھا گیا ہے اگر صرف گوجرانوالہ،کراچی کے جلسہ کو ہی لے لیں تو ہر میڈیا چینل نے دکھایا تھا کہ لوگوں کا جم غفیر جمع ہونا شروع ہو گیا ہے۔لوگ صبح سے ہی جوق در جوق جلسہ گاہ کی طرف آرہے ہیں ہر طرف بریانی اور کھانے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔بہت اچھی بات ہے کہ لوگوں کو کھانا کھلا یا جارہا ہے۔کیونکہ بھوکے پیٹ تو سارا دن جلسہ گاہ میں عوام اپنے لیڈران کا انتظار نہیں کر سکتی۔اور ظاہر ہے بریانی کا انتظام بھی اپوزیشن کے ایم پی ایز اور ایم این ایز نے کیا ہوگا ،عوام تو اپنے ساتھ دو وقت کی روٹی ٹفن میں پیک کر کے اپنے ساتھ لانے سے رہی۔اگر...

موضوعِ دل

دل کے بگاڑ سے ہی بگڑتا ہے آدمی جس نے اسے سنبھال لیا وہ سنبھل گیا حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تمھارے جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہے تو سارا جسم درست ہے اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا سنو وہ دل ہے۔ ایک رشتے دار کے دل کے آپریشن کا سن کر بہت دکھ ہوا دعا ہے اللّٰہ پاک تمام مریضوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے آمین یہ بات بھی قابل غور ہے  کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ دل کے عارضے میں مبتلا کیوں ہو رہے ہیں۔صرف راولپندی کارڈیالوجی میں روانہ 250 افراد انتہائی تشویش کی حالت میں لاے جاتے ہیں ماہرین کے مطابق کے امراضِ قلب کی بڑی وجوہات موٹاپا شوگر نشہ ورزش کی کمی سب سے بڑ کر ڈپریشن ہے جو کہ ام الامراض ہے آپ کا دل ایک منٹ میں 20 لیڑ خون جسم میں پہنچاتا ہے اس کو اپنا کام کرنے کے لیے خون۔آکسیجن۔ اور قوت بخش غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ دل ایک دن میں ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے۔دل کے امراض کا عالمی دن 29 ستمبر ہے طب نبوی میں دل کے لیے اہم غذائیں جو کا دلیہ،شہد،کھجور،زیتون کا تیل ہے ماہرینِ قلب کی احتیاطیں بھی اپنی جگہ اہم ہے مگر اس کی اہم وجہ ہمارا خود کو وقت نہ دینا ,اندھی مغربی رواج کی تقلید، بلا وجہ کا دکھاوا، مہنگائی اور معاشی دباؤشامل ہے   ۔ ایک آپریشن  تھیٹر کہ باہر لکھا تھا جو کھول لیتے دل یاروں کے ساتھ تو نہ کھولنا پڑتا اوزاروں کے ساتھ۔  عام مشاہدہ میں بھی ہے کہ جو لوگ ہشاش بشاش رہتے ہیں ۔بے مقصد الجھنوں میں خود کو الجھاتے نہیں ہیں  وہ کم ہی بیمار ہوتے ہیں۔نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ آپ نے فرمایا کہ جو اب آے گا وہ جنتی ہوگا اور مسلسل تین ایسا ہی ہوا ایک ہی دیہاتی آیا  صحابی رسول  نے اس شخص کے ساتھ رہ کے مشاہدہ کیا تو ایسی کوئی خاص بات نہیں  ملی ، تو اس سے ہی استفسار کیا تو جواب ملا کہ میں روانہ سب کو معاف کر کے سوتا ہوں ۔ قارئین یہی نسخہ ہم نے بھی اپنانا ہے ۔ جو عمل دوسرا کر گیا وہ اس کا ظرف تھا ردعمل ہمارے ھاتھ میں ہوتا ہے ہمیشہ دوسروں کو معاف کیجئے ۔ امید انسانوں کے خالق سے رکھیے ان شاءاللہ  نہ ہی ڈپریشن ہو گا نہ بلڈ پریشر بڑھے گا نہ دل کی یا کوئی اور تکلیف ہوگی۔اور ایک بہت ہی آزمایا ہوا نسخہ کہ رشتے داریاں جوڑیں اور پھر اپنی جان مال اور اولاد میں برکت دیں۔ تجربہ شرط ہے

ہمارے بلاگرز