تزئین حسن

1 بلاگ 0 تبصرے

اوئیغر بھائیوں کے لئے ایک عام مسلمان کیا کر سکتا ہے؟

ابھی کچن سے فارغ ہو کر وہاٹس ایپ میسج چیک کیے- نارتھ امریکا کی ایک اسلامی تنظیم کی ایک بہت اہم عہدے دار اور...

اہم بلاگز

۔29اکتوبر فالج سے آگاہی کا عالمی دن

ہر سال 29 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں فالج کے مرض سے آگاہی کا دن منانے کا مقصد عوام میں اس مرض سے بچاؤکے لیے شعور بیدار کرنا ہے۔ فالج کی بنیادی وجہ بلڈ پریشر ہے جس کی کمی یا زیادتی کے سبب دماغ کو ملنے والی خون کی فراہمی یا تو معطل ہو جاتی ہے یا دماغی شریان پھٹنے سے خون رسنے لگتاہے، خون کی شریانوں کا بند ہو جانا یا پھٹ جانا فالج کہلاتاہے۔ جب فالج کا حملہ ہوتا ہے تو دماغ کے متاثرہ حصوں میں موجود سیلز آکسیجن اور خون کی فراہمی بند ہونے کی وجہ سے مرنا شروع ہو جاتے ہیں، اس کے نتیجے میں جسم کا پورا،آدھا یا کچھ حصہ مفلوج ہوجاتاہے، سنگین صورتحال میں فالج فوراً موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں معذوریوں میں سب سے زیادہ تعداد فالج سے متاثرہ افراد کی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال ایک کروڑ 80 لاکھ افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں، اس طرح دنیا بھر میں ہر 10 سیکنڈ میں ایک فرد اس مرض کا شکار ہوجاتا ہے، جبکہ ہر 10 میں سے ایک مریض جانبر نہیں رہ پاتا۔ فالج کا شکار ہونے والے 70 فیصد افراد کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے جہاں 20 سے 40 فیصد مریض یہ روگ لگنے کے 3 ماہ کے اندر دنیا چھوڑ جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر اس مرض پر کنٹرول نہ کیا گیا تو سال 2030 ء تک اس مرض کا شکار افراد کی تعداد تین کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ پاکستان میں اس مرض کے حوالے سے صورتحال تکلیف دہ ہے جہاں روزانہ ایک ہزار افراد فالج کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں ہر 6 میں سے ایک مرد کو فالج کا خطرہ لاحق ہوتا ہے، جبکہ خواتین کے معاملے میں یہ صورتحال مزید سنگین ہے کہ ہر5 میں سے ایک خاتون کو فالج کے حملے کا خطرہ در پیش ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں 15 سے 45 برس عمر والے 20 سے 25 فیصد افراد فالج کی زد میں آ رہے ہیں، یہ تناسب دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یورپ اور امریکا میں حفاظتی تدابیر اور اقدامات کے سبب یہ تناسب 10 فیصد رہ گیا ہے۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ بدقسمتی سے 45 برس سے بڑھتی عمر والے ایک تہائی افراد خون کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہیں جبکہ یہ بات اور تکلیف دہ ہے کہ ان میں سے نصف تعداد کو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس خاموش قاتل کا نشانہ بن رہے ہیں۔ پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد بھی فالج کا سبب بن رہی ہے، قیاس ہے کہ 2020ء تک پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ فالج ایک ایسا موذی مرض ہے جس سے صرف پاکستان میں روزانہ سینکڑوں افراد خاموشی سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ جبکہ فالج ایسا مرض نہیں ہے جس سے بچنا نا ممکن ہو، اگر ضروری احتیاطی تدابیر اختیارکی جائیں تو اس مرض...

پشاور بم دھماکہ‎

موبائل اٹھایا تو پشاور (دیر کالونی )مدرسہ میں دھماکہ کی خبر دیکھی کہ جس میں 8 افراد شہید اور بہت سوں کے زخمی ہونے کی اطلاع تھی۔ویسے تو کہیں بم دھماکہ کی خبر سننے کو ملے تو ان جیتے جاگتے اانسانوں کا خیال آتا ہے جو لمحوں میں مرحومین بن جاتے ہیں اور ایسے بہت سارے جو زخمی کہلاتے جاتے ہیں اور منٹوں میں بستر پر آجاتے ہیں ان کی طرف دھیان چلا جاتا ہے۔اور ایسے میں دل اداس ہوجاتا ہے۔ لیکن اب آگے کی تصویر کو کھولا تو اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ زخمیوں میں  زیادہ تر تعداد بچوں کی ہے۔اب اس سے مزیدآگے  پڑھنے کی ہمت نہ تھی۔اور اس وقت بس ایک سوال ذہن میں آرہا تھا کہ بچے تو معصوم ہوتے ہیں ۔ اور وہ بھی مدرسہ میں پڑھنے والے۔تو کیا بگاڑا تھا ان معصوم جانوں نے؟؟؟؟؟؟ ابھی تو آرمی پبلک اسکول کے بچوں کا بھی زخم تازہ ہے ۔ابھی تو افغانستان کے مدرسہ میں ہونے والا بچوں کو نہیں بھولے کہ جس میں حفاظ بچوں کی تقریب اسناد میں دھماکہ کر کے انھیں شہید کر دیا گیا تھا۔ابھی تو ڈمہ ڈولہ کے مدرسہ میں شہید ہونے والے بچوں بھی یاد ہیں ۔اور پھر اب یہ پھر مدرسہ پر دھماکہ!!!!!!!!! اس وقت دل کر رہا ہے کہ ان دھماکہ کرنے والوں سے پوچھوں کہ تم لوگوں کے پاس کوئی نرمی،پیار نہیں ہوتا کیا؟؟؟؟؟تمھیں انسانوں سے محبت نہی ہوتی کیا؟؟؟؟؟یہ دھماکہ کرتے وقت ایک لمحہ کے لیے یہ نہیں سوچتے کہ اگر ان میں ہمارا کوئی بچہ ہوتا تو پھر !!!!!اور کیا اس وقت بھی تم حملہ کر دیتے؟؟؟؟؟ان معصوم بچوں نے تمھارا کیا بگاڑا ہوتا ہے جو تم حملے کر دیتے ہو؟؟؟؟؟ اور ساتھ ہی ان شہید ہونے والے تو زخمیوں کی ماؤں ،بہنوں کو تسلی دوں،اُن کے زخموں پر مرہم رکھوں،اُن کے غموں کا مداوا کرنے کی کوشش کروں اور کہوں کہ اس وقت تم مائیں ،بہنیں تکلیف میں ہو تو بحیثیت ایک عورت،ایک ماں اور بہن میں بھی تمھاری تکلیف کو سمجھ رہی ہوں اور صرف میں ہی نہیں  بلکہ ہر پاکستانی اور ہر امت مسلمہ کی عورت تمھارے دکھ کو سمجھ رہی ہے۔اس کا بھی کلیجہ پھٹ پڑتا ہے۔وہ بھی تمھارے غموں کا مداوا کرنا چاہ رہی ہے۔تمھیں گلے لگانا چاہتی ہے۔کہ ہاں بچوں کی تکلیف بھی نہیں دیکھی جاتی اور نہ ہی ان کے جنازے اٹھانے کی ہمت ہوتی ہے ۔ اور پھر اس وقت بس یہی دعا نکلتی ہے کہ یارب تو ان شہید ہو جانے والوں کی ماؤں اور باقی لواحقین کو صبر جمیل عطا کرنا ،زخمیوں کو جلد از جلد  شفائے کاملہ  عطا فرمانا اور ان حملہ کرنے والوں کو یا تو ہدایت دے دے یا اگر ان کے نصیب میں ہدایت نہی تو دنیا و آخرت دونوں میں انھیں عبرت کا نشانہ بنانا۔کہ ہاں کہیں بھی حملے ناقابل برداشت ہیں ۔

سرور کونین(محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)

اللہ عزوجل ، قادر مطلق کی جملہ مخلوقات میں جو کہ نور سے ، نار سے یا مٹی سے پیدا کی گئیں سب میں عظیم ترمخلوق حضرت انسان ہے ۔ اور پھر انسانوں میں انسان کامل، بے مثل بشر، خاتم المرسلین، سیّدالعالمین، صاحب قاب قوسین، جناب طٰہٰ و یٰسین، حامل مقام محمود، رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں۔ سرکاردوعالم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کی عظمت و رفعت کا کیا ٹھکانہ ، جہاں باری تعالیٰ کا نام آتاہے ، وہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا نام مبارک آتاہے ۔ کلمہ طیبہ آپؐ کے شرف کی دلیل ، کلمہ شہادت آپؐ کی صداقت کاثبوت ہے ۔ مساجد کے مینار آپ ؐ کی قدرو منزلت کا نشان ہیں ، اذان آپؐ کی شان وعظمت کااعلان ہے ۔ تکبیر آپؐ کے علو ِمرتبت کی علامت ہے ، نمازآپؐ کی جلالت قدرکی شہادت ہے۔ آپؐ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے ، قرآن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام کا حکم آپؐ کے ارتفاع منزلت کا نقش ہے ۔ اللہ ربّ العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا بنایا کہ نہ اس سے پہلے ایسا کوئی بنایا ہے نہ بعد میں کوئی بنائے گا۔ سب سے اعلیٰ، سب سے اجمل، سب سے افضل، سب سے اکمل، سب سے ارفع، سب سے انور، سب سے احسب، سب سے انسب، تمام کلمات مل کر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو بیان کرنے سے قاصر ہیں،اگر سارے جہاں کے جن و انس ملکر بھی خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس اور سیرت طیبہ کے بارے میں لکھنا شروع کریں تو زندگیاں ختم ہو جائیں مگر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کا کوئی ایک باب بھی مکمل نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے ’’اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیا ہے۔جس ہستی کا ذکر مولائے کائنات بلند کرے،جس ہستی پر اللہ تعالیٰ کی ذات درودوسلام بھیجے، جس ہستی کا ذکر اللہ رحمن و رحیم ساری آسمانی کتابوں میں کرے، جس ہستی کا، چلنا ،پھرنا ،اٹھنا، بیٹھنا،سونا، جاگنا،کروٹ بدلنا، کھانا، پینا۔ مومنین کیلئے باعث نجات، باعث شفاء، باعث رحمت ،باعث ثواب،باعث حکمت، باعث دانائی ہو، اور اللہ ربّ العزت کی ذات نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کبریا کو مومنین کیلئے باعث شفاعت بنا دیا ہو، اس ہستی کا مقام اللہ اور اللہ کا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی جانتے ہیں۔ پھر اس ہستی کے مطلق سب کچھ لکھنا انسانوں اور جنوں کے بس کی بات نہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے شمار خصوصیات عطافرمائی ہیں جن کو لکھنا تو در کنارسارے جہان کے آدمی اور جن ملکر گن بھی نہیں سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس الفاظ اور ان کی تعبیرات سے بہت بلند وبالا تر ہے۔ آپ کا ئنات کا مجموعہ حسن ہیں، آپ کا قد...

کیا مسلمانوں کا دل دکھانا جرم نہیں؟

یورپ اسے آزادئیِ اظہار کا نام دیتا ہے۔ ان کے نزدیک آزادئیِ  اظہار یہ ہے کہ وہ میرے باپ کو گالی دیں اور میں اسے خندہ پیشانی سے برداشت کروں، وہ میری ماں کے لئے نازیبا الفاظ کہیں اور میں بےغیرتی کی حد پھلانگ کر مسکراتا چلا جاؤں، ایسا ممکن ہے یہ ہوسکتا ہے لیکن۔۔۔ سور کے گوشت پر پلے یہ دریدہ دہن میرے سرکار صلی اللہ و علیہ وسلم کی طرف دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارا آئین، دستور اور اخلاقیات اسکی اجازت دیتے ہیں میرا سوال ہے کہ آخر یہ گورے ہولو کاسٹ پر کوئی کارٹون کیوں نہیں بناتے ؟ ان کا قانون وہاں بے بسی کو پونچھا کیوں بن جاتا ہے؟ ان کی زبانیں کیوں گنگ ہو جاتی ہیں؟ آخر دوسری جنگ عظیم کے تناظر میں یہودیوں کے اجتماعی قتل عام کے بارے میں کوئی سوال کیوں نہیں اٹھاتا؟ تنقید کیوں نہیں کرتا ۔۔۔ کوئی چارلی ایبڈو اس پر کارٹون کیوں نہیں چھاپتا؟ ۔۔۔ کوئی ٹیچر بلیک بورڈ پر اس حوالے سے کارٹون کیوں نہیں بناتا ۔۔۔؟  مدر پدر آزادی کو زندگی کا دستور قرار دینے والے گوروں نے یہودیوں کو دل آزاری سے بچانے کے لئے تو قانون بنا دیا یا یہودیوں نے قانون بنوادیا لیکن مسلمانوں کے آن شان جان سرکار دو عالم سمیت مقدس ہستیوں کی توقیر کی حفاظت کے لئے کوئی قانون کیوں نہیں ؟ اس وقت آسٹريا ، بیلجيم ، جمہوريہ چک ، فرانس ، جرمنی ، ليتھوانيا ، پولينڈ ، رومانيہ ، سلواکيہ اور سوئٹزرلینڈ وغیرہ ميں "ہولو کاسٹ کے انکار" یا اسے مبالغہ آرائی قرار دئیے جانے کو جرم سمجھا جاتا ہے اور سوال اٹھانے والے مجرم کو نقد جرمانہ يا قيد کی سزا بھگتنا پڑتی ہے 2006ء ميں برطانوی مؤرخ ڈيوڈ ارونگ اور فرانسيسی محقق راجر گارودی کو "ہولو کاسٹ" پر تنقید کی پاداش میں سزا بھگتنا پڑی تھی عجیب بات ہے کہ دنیا بھر کے محض ایک کروڑ چالیس لاکھ یہودیوں کی دل آزاری تو جرم ہے لیکن نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بکواس کر کے دو ارب مسلمانوں کا دل دکھانا جرم نہیں ؟

دور غلامی کی نحوست

جب کسی قوم کی تلوار میدان جنگ میں  شکست کھاجاتی ہے تو اس کی تہذیب ، تمّدن ،ثقافت  حتٰی کہ اس کا قلم بھی ہار جاتاہے ۔ہزار چاہنے کے باوجود بھی انسان اپنے  تہذیب ، تمّد ن ،ثقافت حتیٰ کہ اپنے دین پر مکمل عمل پیرا ہونے سے بھی رہ جاتا ہے ۔اس کی شریعت بھی رعایتوں پر مشتمل ہوجاتی ہے ۔بلکہ یو ں کہیئے کہ   مغلوب قوم کو غالب  قوت کے بنائے گئے قوانین  کے مطابق  فیصلے   قبول کرنے پڑتے ہیں ۔جب دور غلامی کی رات طویل ہوجاتی ہے تو  انسان  اپنی غلامی پر فخر کرنے لگتاہے اس کو اپنی  سابقہ  ہر اس رویئے پر شرمندگی ہونے لگتی ہے جس پر وہ اپنے ماضی میں فخر کیا کرتا تھا ۔جسمانی غلامی آہستہ آہستہ دل اور دماغ کو بھی اپنا اسیر بنالیتی ہے  وہ حاکم قوم کی زبان بولنے میں، ان جیسے کپڑے ،کھانے اور رہن سہن پر فخر محسوس کرنے لگتاہے ۔ اس کی بہت ساری مثالیں ہمارے سیاسی ،معاشرتی ،معاشی زندگی میں بکثرت مل جائیں گی سیاسی زندگی میں اس کی مثال کچھ یوں ہےکہ  خلافت  اور اس کے بعد  بادشاہت   کی جگہ نام نہاد جمہوری نظام نے  جب سے لی  اب  نظام سیاست و حکومت  ساری مسلم دنیا کو  بھی اچھی لگ رہی ہے   اور روشن خیال  مسلمان طبقہ بھی اس کے گن گا رہا ہے اور اس پر فخر محسوس کررہا ہے اور اس کو اپنا شاندار ماضی  معیوب نظر آنے  لگا ہے ۔ سوائے ان لوگوں کے جوکہ بنیاد پرست ہیں ۔اسی  طرح اگر کوئی معاشرے میں ایسا شخص ہوتا  جس کے بارے میں لوگوں کو یہ معلوم ہوتاکہ اس  کا کاروبار سودی ہے تو لوگ اس سے قطعہ تعلق کرتے، حتٰی کہ اس کے گھر کے کھانے پینے کو بھی اپنے لیے حرام سمجھتے۔ ہمارا اپنا   تعلیمی نظام تھا  جس نے دنیا کے بڑے بڑے نامور علمی شخصیات دنیا کو دیں اسی طرح فحاشی اور بے حیائی کو مسلمان کیا غیر مسلم بھی برا سمجھتے اور اس سے نفرت پائی جاتی تھی ۔اپنی زبان بولنے پر   ہم فخر محسوس کرتے تھے ۔ اور دوسروں کی زبان بولنا  ہمارے لئے باعث فخر نہیں تھا ۔ہمارا رہن سہن  ہماری اپنی  تہذیب و ثقافت کے مطابق تھا ۔ ہمیں اسی پر فخر تھا ۔ہماری تحریریں اور تقریریں بھی ہمارے شاندار ماضی کی غماز تھیں ۔غرض یہ کہ ہماری ہر چیز  ہماری اپنی تھی ۔ مگر تھا جو ناخوب، بتدریج وہی خوب ہو ا  کہ غلامی میں بدل جاتاہے قوموں کا ضمیر برسہا برس کی انگریزوں کی غلامی سے آزادی تو حا صل ہوگئی اور اس بات کو ستّر سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے  مگر اس غلامی نے ہماری  ہر چیز کو بدل ڈلا ہے  ۔ آج انگریزی زبان بولنے پر ہم فخر محسوس کرتے ہیں اور جن کو یہ زبان نہیں آتی وہ اپنی زبان بولنے پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں ۔کسی انگریز کی  پینٹ اگر  گھٹنوں سے پھٹ جائے اور وہ اس کو پہن لے تو ہمارے معاشرے میں نوجوان اس طرح کی پھٹی ہوئی پینٹ خرید کرپہن رہے ہوتے ہیں۔ وہ لباس جو کہ ماضی میں...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

موضوعِ دل

دل کے بگاڑ سے ہی بگڑتا ہے آدمی جس نے اسے سنبھال لیا وہ سنبھل گیا حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تمھارے جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہے تو سارا جسم درست ہے اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا سنو وہ دل ہے۔ ایک رشتے دار کے دل کے آپریشن کا سن کر بہت دکھ ہوا دعا ہے اللّٰہ پاک تمام مریضوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے آمین یہ بات بھی قابل غور ہے  کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ دل کے عارضے میں مبتلا کیوں ہو رہے ہیں۔صرف راولپندی کارڈیالوجی میں روانہ 250 افراد انتہائی تشویش کی حالت میں لاے جاتے ہیں ماہرین کے مطابق کے امراضِ قلب کی بڑی وجوہات موٹاپا شوگر نشہ ورزش کی کمی سب سے بڑ کر ڈپریشن ہے جو کہ ام الامراض ہے آپ کا دل ایک منٹ میں 20 لیڑ خون جسم میں پہنچاتا ہے اس کو اپنا کام کرنے کے لیے خون۔آکسیجن۔ اور قوت بخش غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ دل ایک دن میں ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے۔دل کے امراض کا عالمی دن 29 ستمبر ہے طب نبوی میں دل کے لیے اہم غذائیں جو کا دلیہ،شہد،کھجور،زیتون کا تیل ہے ماہرینِ قلب کی احتیاطیں بھی اپنی جگہ اہم ہے مگر اس کی اہم وجہ ہمارا خود کو وقت نہ دینا ,اندھی مغربی رواج کی تقلید، بلا وجہ کا دکھاوا، مہنگائی اور معاشی دباؤشامل ہے   ۔ ایک آپریشن  تھیٹر کہ باہر لکھا تھا جو کھول لیتے دل یاروں کے ساتھ تو نہ کھولنا پڑتا اوزاروں کے ساتھ۔  عام مشاہدہ میں بھی ہے کہ جو لوگ ہشاش بشاش رہتے ہیں ۔بے مقصد الجھنوں میں خود کو الجھاتے نہیں ہیں  وہ کم ہی بیمار ہوتے ہیں۔نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ آپ نے فرمایا کہ جو اب آے گا وہ جنتی ہوگا اور مسلسل تین ایسا ہی ہوا ایک ہی دیہاتی آیا  صحابی رسول  نے اس شخص کے ساتھ رہ کے مشاہدہ کیا تو ایسی کوئی خاص بات نہیں  ملی ، تو اس سے ہی استفسار کیا تو جواب ملا کہ میں روانہ سب کو معاف کر کے سوتا ہوں ۔ قارئین یہی نسخہ ہم نے بھی اپنانا ہے ۔ جو عمل دوسرا کر گیا وہ اس کا ظرف تھا ردعمل ہمارے ھاتھ میں ہوتا ہے ہمیشہ دوسروں کو معاف کیجئے ۔ امید انسانوں کے خالق سے رکھیے ان شاءاللہ  نہ ہی ڈپریشن ہو گا نہ بلڈ پریشر بڑھے گا نہ دل کی یا کوئی اور تکلیف ہوگی۔اور ایک بہت ہی آزمایا ہوا نسخہ کہ رشتے داریاں جوڑیں اور پھر اپنی جان مال اور اولاد میں برکت دیں۔ تجربہ شرط ہے

دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر…۔

کل بہت سے لوگوں نے ہماری شادی کی سالگرہ پر پوچھا کہ ہنستے بستے رشتے کا رازکیا ہوتا ہے؟ اس موضوع پر ذرا کھل کر لکھنے کا ارادہ ہے، لگتا یہ ہے کہ رشتوں کا بحران ہماری زندگیوں کا سب سے بڑا کرائسس بن چکا ہے. ہمارے خاندانی نظام کا بلبلہ پھٹنے کو ہے اور اسے بچانے کے لیے ہم سب کو کلاس روم میں داخل ہونا پڑے گا. لیکن ابھی مختصر سی گدڑ سنگھی حاضر ہے، وہی جس کی طرف بڑی بی اشارہ کر رہی ہیں. جی ہاں، بہرا پن، یا ڈورا پن بھی ایک ایسا ہی سیکرٹ ہے. ضروری نہیں ہر بات سنی جائے، یا ہر بات کا جواب دیا جائے، کچھ باتیں سنی ان سنی کردی جائیں تو رشتوں کے باؤلے پن سے بچا جا سکتا ہے. اس کا مطلب سٹون والنگ نہیں ہے. اس پر بھی بات ہوگی. آنکھوں میں بے شک ڈراپ ڈال کر رکھیں اور دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر کچھ کچھ، سنا، ان سنا کردیں۔

پیچھے پھر!!!!۔

یہ ایک غیر معمولی بحران تھا، جو ٹل گیا مگر کچھ عرصہ تک اس کا دھواں اٹھتا رہے گا.                                       سندھ میں آئی جی پولیس کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کچھ سامنے آچکا ہے، مزید آجائے گا. یہ طے ہے کہ آئی جی کی تذلیل کی گئی اور کیپٹن صفدر کو سبق سکھانے کے لئے کچھ سرخ لکیریں عبور کی گئیں. کیپٹن صفدر نے مزار قائد پر جو کچھ کیا، وہ غلط تھا، لیکن اس کی ناک رگڑنے کے لیے جو کچھ کیا گیا، وہ اس سے زیادہ غلط تھا. آئی جی سندھ مہر مشتاق مرنجاں مرنج آدمی ہیں. ویسے بھی ایسے عہدوں پر پہنچنے والے مرنجاں مرنج ہی ہوتے ہیں. انہیں رات کے چار بجے اپنی خاندانی رہائش سے اٹھا کر ڈالے کا سفر کرانا اور سایوں سے ملاقات کی ضرورت نہیں تھی. جس نے بھی کیپٹن صفدر کے سمری ٹرائل اور فوری پھانسی کا حکم جاری کیا، اسے شربت بزوری معتدل پینے کی ضرورت ہے. یہ زیادہ سے زیادہ ایک ایس ایچ او یا ڈی ایس پی لیول کی اسائنمنٹ تھی جس میں ایک آئی جی کو گھسیٹا گیا. اب، آئی جی، پولیس کا جنرل لیول کے برابر کا افسر ہے. آئی جی، نوکری پیشہ آدمی ہیں اور ہرگز چی گویرا نہیں ہیں، ان کے اندر سے چی گویرا نکال لیا گیا ہے. سایوں کی ساٹھ سالہ حکومت میں پہلے بھی یہ سب کچھ چلتا رہتا ہے. بازو بھی مروڑے جاتے ہیں، لیکن بہت کم. زیادہ تر لہجے کے زور پر یا گالم گلوچ سے کام چل جاتا ہے. پرسنل فائلیں بھی کافی کام آتی ہیں. تاہم سارے افسران پنجاب پولیس جیسے نہیں ہوتے جن کی کمر سے ریڑھ کی ہڈی پہلے شہباز شریف اور بعد میں تحریک انصاف کی حکومت نے نکال لی ہے. گھوم پھر کر یہ کرائسس آف گورنینس ہے. اصل سوال وہی ہے کہ پاکستان کا مالک کون ہے؟ خاکی اور خفیہ ادارے بجا طور پر اپنے آپ کو مالک سمجھتے ہیں. عدلیہ سمجھتی ہے کہ تشریح کا اختیار اس کے پاس ہے کہ الاٹی کون ہے اور مالک کون ہے. بیورو کریسی کا سارا زور نوکری کرنے، مرضی کی پوسٹنگ لینے اور جو جیتے اس کے ساتھ بستر میں جانے پر صرف ہوتا ہے. کبھی ایک آنکھ، اور کبھی دوسری آنکھ بند کر لی جاتی ہے. اب یہ نہ پوچھئے گا کہ اس فارمولے میں عوام کیوں شامل نہیں ہیں. جو کراچی میں ہوا، وہ پہلے بھی ہوتا رہتا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا. اسی طرح کے مقدمات بھی بنتے رہے ہیں، وزیراعظم برطرف ہوتے اور پھانسی لگتے رہے ہیں. بس لگتا یہ ہے کہ جن کے ذمےیہ کام لگایا گیا انہوں نے چول ماری اور کچھ سرخ لکیریں پار کر لیں. اس وقت سندھ میں انتظامی بحران عروج پر ہے. لیکن یہ سیاسی بحران نہیں. بلاول بھٹو یا مراد شاہ کے کہنے ہر ایک سپاہی نوکری کو لات نہیں مارے گا. ایک ایسا ملک جس میں نوکری لینے کے لیے جان پر کھیلنے کی روایت ہو،...

مس 96.7 ڈگری ہے۔

ڈرائیور نے ابھی پوری طرح بریک بھی نہیں لگائی تھی کہ وہ تیزی سے دروازہ کھول کر تقریبا چلتی ہوئی گاڑی سے کودنے کے بعد اسکول کی طرف بھاگی،موبائل فون سے ٹائم دیکھا اسکول لگنے میں پانچ منٹ باقی تھے، تیزی سے قدم اٹھاتے ہوئے سکول گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہیں اس نے سکھ کا سانس لیا کہ بروقت پہنچ گئی، "دائرہ دائرہ دائرہ۔۔ "کی چیختی ہوئی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی جو سٹپٹا کر سامنے دیکھا تو ٹیچر مریم انہیں ہاتھ کے اشارے سے دائرہ کے اندر کھڑا ہونے کا کہہ رہی تھیں،،، "اوہ اچھا۔۔ وہ چھلانگ لگا کر دائرے کے اندر کھڑی ہوگئی۔۔آگے چار پانچ دائروں میں بچے کھڑے تھے اور اپنا ٹمپریچر چیک کروا رہے تھے۔دائرے میں کھڑے کھڑے اس کا اونگھنے کو دل کیا کیونکہ یہی سکون کے چند لمحے اس کو ریسٹ کرنے کو ملے تھے،اس کا جی چاہا کہ ٹمپریچر چیکنگ اور سینیٹائزیشن کا عمل طویل ہوجائے یا وہ پچھلے کسی دائرے میں جا کر کھڑی ہو جائے،مگر اس کے ایسا سوچنے کے دوران ان اس کی باری آگئی،ٹیچر مریم نے ٹمپریچر چیک کیا۔ "مس 96.7 ڈگری ہے۔ " اگلے دائرے میں ٹیچر اسماء نے مسکراتے ہوئے سینیٹائزر کی بوتل سے اس کے ہاتھوں پر سپرے کیا۔ اس نے ہاتھوں کو ایک دوسرے کے اوپر ملتے ہوئے جوابی مسکراتا ہوا سلام کیا اور اسٹاف روم کی طرف دوڑ گئی,وہاں کھڑے ہو کر گفتگو کرنا خطرے سے خالی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ انار کے پودے کے پاس کھڑی میم کی نگاہیں اس کو گھور رہی تھیں۔ اسٹاف روم میں پہنچ کر گاؤن تبدیل کرکے دوپٹہ لیا ہی تھا کہ سامنے ٹیبل پر اپنی نامکمل فائل نظر آئی اور ساتھ ہی میم کی کل والی جھاڑ کا کڑوا ذائقہ گلے میں محسوس ہوا۔ "پورا ہفتہ گزر گیا ابھی تک آپ سے بچوں کے فون نمبر اور گھر کے ایڈریس کی لسٹ مکمل نہیں ہوئی،اب آپ کے پاس صرف آج کا دن ہے،کل صبح یہ لسٹ مکمل ہو کر میری ٹیبل پر پڑی ہونی چاہیے" اس نے میم کے الفاظ یاد کر کے ایک جھرجھری لی اور فائل کھول کر بیٹھ گئی،پہلے پیریڈ میں کلاس کے بچوں سے ایڈریس اور فون نمبر مانگا،جوابا بچوں نے کورے چہروں کیساتھ مس کی طرف دیکھا جیسے ان کی بات نہ سمجھے ہوں۔ "میں نے کہا اپنے اپنے ایڈریسز اور فون نمبرزلکھوادیں۔" اس نے ذرا گھور کر بچوں کی طرف دیکھا "مس آپ نے ہمیں ایڈریسز اور فون نمبرز لے کر آنے کا نہیں کہا "،ہم گروپ اے ہیں، آپ نے گروپ بی سے کہا ہوگا مانیٹر نے اٹھ کر کہا۔ "اوہ۔۔۔۔۔وہ تو واقعی میں نے گروپ بی سے کہا تھا۔" اس نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا بچوں کو اپنے اپنے ایڈریسز اور فون نمبرز لے کر آنے کی تاکید کی، سبق پڑھایا اور اگلے پیریڈ کی بیل لگ گئی۔ دوسرے پیریڈ میں کلاس نہم کے وائٹ بورڈ پر موٹے حروف میں ٹیسٹ لکھا ہی تھا کہ پیچھے سے بچوں کی آواز آئی "مس آج ٹیسٹ نہیں ہے" "ارے کیوں نہیں ہے. کل ہی تو میں نے آپ کو انگلش کی تین سمریز ٹیسٹ کے لئے دی تھیں۔" اس کے...

ہم ہیں پاکستانی

ہم ایک ایسی قوم ہیں جو دیوار پر ہی لکھ دیتے ہیں کہ دیوار پر لکھنا منع ہے پاکستان بڑا ہی دلچسپ ملک ہے بلکہ اتنا تو پاکستان دلچسپ نہیں جتنا اس کی عوام اور عوام بھی وہ جنہوں نے رائی کا پہاڑ بنانے میں ایم-ایس-سی، بے جا خوف پھیلانے میں ایم-فل، اور ہوائی خبریں اڑانے میں پی-ایچ-ڈی کر رکھی ہے۔ یہ کچھ پچھلے دنوں کی ہی بات ہے کہ اپنی گلی میں سے گزر ہوا تو محلے کی ایک آنٹی عمر تقریباً پچاس کے لگ بھگ میرے پاس آئیں دوپٹہ ایک طرف سے کان کے پیچھے اڑس رکھا تھا پہلے ایک نظر دائیں جانب کی گلی میں ڈالی پھر دوسری نظر بائیں جانب کی گلی میں ڈالی اور انداز ایسا تھا کہ جیسے انڈرورلڈ ڈون کے بارے میں معلومات دینے آئی ہوں، نہایت رازداری سے میرے قریب ہوئیں ''بیٹا میں نے جو سنا ہے کہ تیل گروپ آیا ہوا ہے کیا یہ بات سچ ہے'' اب ادھر اپنا تو یہ حال تھا کہ یوں سمجھا کوئی گروپ آیا ہوا ہے جو تیل بیچتا پھرتا ہے یا پھر شاید کوئی غربیوں کا گروپ آیا ہے پاکستان میں تیل کا کارخانہ لگانے  پھر خیال آیا کہ کل خبروں میں ذکر چل رہا تھا ''حکومت گئی تیل لینے'' تو کہیں یہ وہی تیل تو نہیں جو حکومت ہمارے لیے لینے گئی تھی ایک لمحے کے لیے تو تشکر سے آنکھیں بھر گئیں اور دل حکومت کے گیت گانے لگا خیر دو دن کے بعد ہی جو تیل گروپ کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹی تو پتہ چلا کہ بھئی ان تلوں میں تیل نہیں، تیل گروپ کی کہانی کچھ یوں ہے کہ شہر میں چوروں کا کوئی گروہ آیا ہوا تھا جو چوریاں کرنے کی وجہ سے تو اتنا مشہور نہیں ہوا جتنا تیل کے استعمال سے، کمبخت لگتا تھا کہ تیل کے کنویں میں نہا کر باہر نکلے ہوں اور جب تیل لگانے کی وجہ معلوم ہوئی تو عش عش کر اٹھے بے ساختہ پاکستانی قوم کے لیے دل سے نکلا ''دنیا گول اے۔۔۔۔تے تیرا علاج چھترول اے'' تو مطلب یہ ہوا کہ عوام بے چاری رو رو کر سوکھ گئی کہ تیل نہیں ہے ملک میں اور حکومت بیچاری بھی نکل پڑی تیل کی کھوج میں تو آخر یہ تیل گیا کہاں؟، اب بھانڈا پھوٹا کہ کمبخت تیل تو جسم پر لگا کر چوریاں کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے چوروں نے بھی سوچا بھئی ہم تو نہ پکڑے جائیں گے لو تمہارے ہاتھوں سے ایسے پھسلیں گے جیسے کوئی آنٹی بارش میں، جیسے کوئی انکل کیچڑ میں، جیسے کوئی بچہ کیلے کے چھلکے پر، کون کہتا ہے کہ پاکستانیوں کے پاس عقل نہیں ہے لو دیکھ لو عقل اور عقل کا استعمال۔ پھر میں دوسری طرف دیکھتی ہوں کہ ترکیوں کا ایک ڈرامہ ''دیریلیش ارتغرل'' پاکستان میں آیا اور کیا خوب چھایا، اتنا تو بنانے والوں نے نہ دیکھا ہو گا جتنا کہ پاکستانیوں نے،  گھر میں دیکھا تو منظر کچھ یوں نظر آیا کہ بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ، یہ قطار لگی پڑی ہے سب کی...

ہمارے بلاگرز