شہربانو داؤدپوٹو

2 بلاگ 0 تبصرے

جس کی تربیت نے بنایا مجھے گوہرِ نایاب

اپنی زندگی کی اہم شخصیت کے بارے میں سوچنا شروع کیا تو لفظوں کا بہت بڑا ذخیرہ جمع ہوگیا لیکن سمجھ نہیں آرہا تھا...

آلو میاں

آلو کو پاکستانی قوم نے بڑی عزت سے نوازا ہے ۔ جہاں مائیں ذرا سا پریشان نہیں ہوئی سالن کے لیے ۔اِن کا اسم...

اہم بلاگز

مایوسی نہیں اُمید دلائیے

مایوسی کفر ہے۔رات کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو سویرا ہو کے رہتا ہے۔کبھی خوشی کبھی غم ،کبھی دھوپ کبھی چھاؤں، کبھی صبح کبھی شام۔۔۔زندگی  میں ٹھہراؤ ممکن نہیں۔۔۔۔جو ٹھہر گیا وہ زندہ نہیں۔ گویا اس دنیا کی ہر گھڑی ایک ہی سبق مل رہا ہے۔۔۔۔کبھی مایوس مت ہونا اندھیرا کتنا گہرا ہو ،سویرا ہو کے رہتا ہے۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی ان لوگوں کی جو امید نہیں دلاتے،مایوسی پھیلاتے ہیں۔کوئی کہتا ہے اس ملک میں کچھ نہیں رکھا۔۔۔۔باہر نکلنے کی کرو۔ کوئی کہتا ہے اب اس ملک کے حالات کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ کوئی کہتا ہے اب تو یہ ملک بچتا نظر نہیں آتا۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔حالات جتنے بھی برے ہو جائیں ہمیں مایوس نہیں ہونا۔ یہ سچ ہے کہ اس وقت وطن عزیز ہر طرح کے بحران سے گزر رہا ہے۔۔۔۔لیکن سوچنے کی بات ہے اس کو اس حال تک پہنچانے والا کون ہے؟ کسی سے یہ سوال کریں تو جھٹ آنکھیں بند کر کے دو فیصد سیاستدانوں اور حکمرانوں پر اس کا ملبہ ڈال دیں گے۔۔۔۔حالانکہ اس حالت کے ذمہ دار آپ اور میں ہیں۔۔۔۔جی ہاں ،آپ اور میرے جیسے خاموش تماش بین جو سامنے پڑے زخمی کی آخری سانسوں کا تو انتظار کرتے ہیں مگر آگے بڑھ کر اپنے سانس سے اسے زندگی دینے کی کوشش نہیں کرتے۔ہمیں تو ہیں جو ہر پانچ سال بعد بھولے بن کر خوشی خوشی انہی لٹیروں کو ووٹ ڈال کر آتے ہیں اور پھر باقی پانچ سال مہنگائی اور حالات کا رونا روتے رہتے ہیں۔ جب ووٹ ڈالتے ہیں تو نہ کردار دیکھتے ہیں نہ اخلاق،نہ دین دیکھتے نہ حیا اور پھر باقی پانچ سال یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں بندہ کوئی نہیں اچھا۔۔۔۔سب آزما لیے۔ شتر مرغ کی طرح گردن ریت میں دبا کر ہم حالات سے بچ نہیں سکتے۔ اور نہ ہی راہ فرار اختیار کر کے حالات سدھر سکتے ہیں۔اس وطن کو تباہی کے دہانے پر ہم نے  پہنچایا ہے تو اسے بچانا بھی میرا اور آپ کا فرض ہے۔طوفان جتنے بھی منہ زور ہوں ،موت چاہے منہ کھولے سامنے ہو لیکن ملاح پتوار کبھی نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔وہ آخری لمحے تک ڈوبتی ناؤ بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ صرف دو نسلیں قبل لاکھوں جانوں کی قربانی دیکر،ماؤں ،بہنوں کی عزتیں قربان کر کے ۔کیا یہ وطن اس لیے حاصل کیا تھا کہ ہم اپنی اگلی نسلوں میں مایوسی بانٹیں اور انہیں اپنے ایمانوں کے سودے کے عوض درہم و دینار کاسبو پڑھائیں۔۔۔۔بھوک تو کٹ جاتی ہے۔۔۔۔ایمان بک جائے تو باقی کیا رہتا ہے؟ حالات کتنے بھی خراب ہو جائیں۔۔۔۔تبدیلی آ کے رہے گی۔ خدارا ! اپنی نسلوں میں مایوسی مت پھیلائیے۔انہیں اپنی ذات سے نکل کر بڑے مقصد کے لیے جینا سکھائیے۔ انہیں فرار کی بجائے۔۔۔۔سینہ سپر ہونا سکھائیے۔ پیٹھ موڑنا نہیں ڈٹ جانا سکھائیے۔۔۔۔انہیں وقت کےطاغوت کے سامنے جھکنا نہیں کٹنا سکھائیے۔انہیں حق کہنا اور حق سننا سکھائیے۔۔۔۔پھر دیکھیئے حالات بھی سنوریں گے اور خوشحالی بھی آئے گی۔ پھر دریا نغمے گائیں گے اور کھیت لہلہائیں گے۔ ان شاءاللہ

مہنگائی اور مجبور عوام

ملک کے معاشی حالات روز بہ روز بگڑتے جا رہے ہیں مہنگائی نے طوفان مچایا ہوا ہے، ٹی وی کے ہر چینل پہ سیاسی پارٹیوں کے کارکنان ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے اور خود کو دودھ کا دھلا ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ہر پارٹی اپنی نظر میں بے گناہ ہےجبکہ سارا قصور مخالف پارٹی کاہے، سیاست دانوں کی اس نورا کُشتی میں جو پس رہے ہیں وہ عام لوگ ہیں  ۔جن کی آواز اتنی نہیں ہے کہ حکمرانوں کے ایوانوں کو لرزا سکے، اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو سہتے جا رہے ہیں ان کے بازووں میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ ظالموں کو گریبان سے پکڑ سکیں۔ اپنی نا گفتہ بہ حالت پر چپ رہنے والے اور غاصبوں کو اپنا حکمران بنانے والے "مجبور، بے حیثیت"عوام۔  جن کی حالت دگر گوں ہے۔ مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے، اشیائے خوردونوش دسترس سے باہر ہیں۔ پیٹرول سونے سے بھی مہنگا، ساتھ میں بجلی غائب، گیس میسر نہیں، آٹا اور چاول دسترس سے باہر، چینی ناپید، پھلوں کا نام جان بوجھ کہ نہیں گنوا رہی کیوں کہ وہ اسباب تعیش میں شامل ہو گئے ہیں۔ گاڑیوں کا کرایہ، بجلی گیس اور پانی کا بل دیکھ کر سر چکرا جاتا ہے۔ ایسے میں غریب آدمی خود کشی نہ کرے، قتل میں ملوث نہ ہو ڈکیتی سے گریز کرے، چوری کرنے اور چھینا جھپٹی سے خود کو روکے رکھے تو کیسے؟ جب بنیادی ضروریات سے ہی انسان کو محروم کر دیا جائے، بچوں کو بھوک سے بلکتا ہوا دیکھنا پڑے، اپنے پیاروں کے علاج اور دوائیوں کے پیسے نا ہونے کی وجہ سے انہیں موت کے منہ میں جاتے ہوئے بے بسی سےدیکھنا پڑ ے، تو انسان شرافت کا جامہ اتار پھینکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے قیمتی سامان چوری ہوتے تھے اب کھانے پینے کی اشیاء اور عام ضرورت کی چیزیں چوری ہو رہی ہیں۔ دیہاڑی دار طبقہ اور کم آمدنی والے افراد سب سے زیادہ مشکل میں ہے۔ پیسے کی قدر میں کمی آنے کی وجہ سے دیہاڑی ایک وقت کا چولہا گرم نہیں کر پا رہی، پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر لوگ چوری کرنے لگ گئے ہیں۔ بہت سے والدین نے اپنے بچوں کو اسکولوں سے اٹھا لیا ہے کیونکہ گھر کے اخراجات ہی پورے نہیں ہو رہے تو بچوں کی فیس اور آمد و رفت کا کرایہ کیسے برداشت کریں۔ دوائیں سوفیصد مہنگی ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد علاج سے محروم ہو گئے ہیں۔ عوام پہ کبھی پیٹرول بم گرتا ہے اور کبھی انہیں بجلی کے جھٹکے سہنا پڑتے ہیں اور سیاسی گرو جھوٹی تسلیوں سے انہیں بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ معیشت برباد ہو گئی ہے، بیرونی قرضے بڑھتے جا رہے ہیں ملک کی پوری آبادی سوائے (سیاستدانوں، چند جرنیلوں اور بیوروکریٹس کے)رُل رہی ہے، استطاعت سے زیادہ معاشی بوجھ پڑنے کی وجہ سے خود کشی کےواقعات میں اضافہ ہو گیا ہے"کسی" کو بھی احساس نہیں کہ قرضوں کی شرائط پوری کرنے میں کتنی زندگیاں...

کیاہمیں واپس لوٹناہوگا؟

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ملکی حالات کو دیکھ کر یہ سوال آپ کے اذہان میں بھی گونجتا ہوگا کہ کیا ہمیں واپس لوٹنا ہو گا ؟ اگر ہم اپنے ماضی کی طرف نظریں دوڑائیں تو دیکھیں گے کہ ہماری کچھ روایات تھیں اور ایک مخصوص طرز زندگی تھا۔ بزرگ اشخاص اکثر یہ بیان کرتے ہیں کہ صبح کے وقت ہمیں لسی ملتی تھی۔ لسی ایک بہترین اور صحت افزاء مشروب ہے۔ اس کی وجہ سے اس دور کے لوگوں کے اندر طاقت تھی۔ ذرائع آمد و رفت کے لیے اونٹ اور گھوڑے استعمال ہوتے تھے اور لاہور جیسے بڑوں شہروں میں ٹانگے بہترین سواری تھے۔ پھر وقت بدلا انڈسٹریل ڈیولپمنٹ ہوئی لسی کے مشروب کی جگہ چائے اور کافی نے لے لی اور اونٹ، گھوڑوں کی جگہ بسوں اور کاروں نے لے لی۔ ہر چیز اچھی چل رہی تھی اور ملک پاکستان کے حالات 76 سال ہوگئے ہیں کبھی بھی مکمل طور ٹھیک نہیں ہوسکے ہمیشہ سیاسی عدم استحکام رہا ہے جس کے اثرات عوام آج بھی برداشت کر رہی ہے۔ مہنگائی اس سے قبل بھی ہوتی تھی لیکن جس شرح سے موجودہ دور میں ہوئی ہے اس نے جو رفتار پکڑی ہے اس پرعوام حیران و پریشان ہے۔ اب شاید ہمیں اپنی روایات کی طرف واپس لوٹنا ہوگا۔ ہمیں وہی لسی کا مشروب اطمینان دے گا اور وہی اونٹ، گھوڑے کام آئیں گے۔ یہ بھی حقیقت ہے جب انسان کے پاس معاشی آسودگی ہوتو وہ اپنی طرززندگی کو بہتر بناتا ہے لیکن جب اس طرح کی مہنگائی ہو تو بندہ روایات کا پاسبان بن جائے یہ بہترین عمل ہے۔ ویسے بھی دیکھا جائے تو واپس تو ہمیں لوٹنا پڑے گا۔ موت بھی حقیقت ہے اور ہماری روح نے ایک دن پرواز کر جانا ہے۔ ہمیں واپس اپنے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور جواب دینا ہے لیکن شاید ظالم طبقہ اس بات سے بے خبر ہے کہ صرف اس مہنگائی میں غریب لوگ روایات کی طرف لوٹیں گے لیکن ظالم طبقہ کو بھی واپس لوٹ کر جانا ہے اور جوابدہ ہونا ہے۔ اگر آج بھی پاکستانی قوم صرف اللہ کی راہ پر واپس آجائے اور احکام دین پر عمل کرے تو اللہ اپنی مدد فرمائے گا۔ آج پورے ملک کی معیشت سود پر چل رہی ہے ہر بینک میں سودی سسٹم ہے اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک بھی سود پر امداد مہیاء کرتے ہیں۔ ہماری پوری قوم سود کھا رہی ہے اور اسی سود کے متعلق حکم ہے کہ سود والوں کی اللہ اور اس کے رسول سے کھلی جنگ ہے۔ ایک طرف ہم اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نعوذ باللہ جنگ کا حصہ ہیں اور دوسری طرف دعائیں کر رہے ہیں اور پریشان ہو رہے ہیں۔ کیا ہم نے پاکستان سود قائم کرنے کے لیے حاصل کیا تھا؟ نہیں ہمیں اللہ کی راہ میں واپس لوٹنا تھا اس وجہ سے پاکستان حاصل کیا تھا۔ آج ہم جیسی عوام تمام کفار ممالک کو گالیاں دیتے تھکتے نہیں ہیں اور پھر ہمیں کہیں ڈالر نظر آجائیں تو منہ میں پانی آجاتا ہے۔ آج پورے سوشل میڈیا پر...

حیا اور ادیانِ عالم

دنیا کے باسی پردہ، حجاب، نقاب، حیا، صرف مسلمان عورت کے ساتھ منسلک کر کے اسے متشدد ہونے کا رنگ کیوں دیتے ہیں۔ حالانکہ حیا کی صفت اپنانے کی تعلیم تو دنیا کے تمام ادیان دے رہے ہیں۔ مصنف Han Licht کے مطابق قبل از اسلام بھی اقوام قدیمہ میں جس قوم کی تہذیب سب سے زیادہ شاندار نظر آتی ہے وہ اہلِ یونان ہیں۔ ان کا ایک دور ایسا بھی تھا جب ان میں خواتین کے پردہ کا رواج تھا اور گھریلو شریف عورت کی معاشرے میں عزت تھی۔ ایتھنز میں بھی شادی شدہ عورتوں کو ان کے کمروں تک ہی محدود رکھا جاتا تاکہ یہ دوسرے مردوں کی نظروں سے محفوظ رہیں اور صرف اپنے شوہروں کے لیے مخصوص رہیں۔ اسی طرح رومیوں کی پرانی تہذیب میں بھی عورت کی حیثیت ایک باوقار اور عفت و حیا کے پیکر کی تھی۔ روم میں جو عورتیں دایہ گیری کا کام کرتی تھیں۔ وہ بھی اپنے گھروں سے نکلتے وقت بھاری نقاب میں اپنا چہرہ چھپا لیتیں تھیں۔ بڑی چادر اوڑھ کر بھی اس کے اوپر ایک قبا اوڑھی جاتی تھی جس کے سبب نا شکل نظر آتی تھی اور نہ ہی جسم کی بناوٹ ظاہر ہوتی تھی۔ جسٹس سید امیر علی عورتوں کے بارے میں عیسائیت کے نکتہ نظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ابتدائی زمانے کے راسخ العقیدہ کلیسا نے خواتین کے لئے ضروری کر رکھا تھا کہ اگر وہ کبھی گھر سے باہر جائیں تو وہ اپنے آپ کو سر سے پاؤں تک لپیٹ لیں۔بائبل کے عہدنامہ قدیم میں بھی "برقع" کا لفظ کئی جگہ ملتا ہے اور بے پردگی پر سخت مذمت کی گئی ہے۔ عہد نامہ جدید میں عورت کا اپنا سر ڈھانپنا ضروری قرار دیا گیا۔ ایران میں بھی پردہ کا رواج تھا۔ بلکہ ایرانی حرم میں تو اس قدر شدت رائج تھی کہ نرگس کے پھول بھی محل کے اندر نہیں جا سکتے تھے کیونکہ نرگس کی آنکھ مشہور ہے۔ عرب کے بارے میں مولانا شبلی نعمانی لکھتے ہیں۔" چہرہ اور تمام اعضاء کا پردہ عرب میں اسلام سے پہلے موجود تھا۔ مندرجہ بالا چند حوالوں سے واضح ہوتا ہے کہ حجاب کی ضرورت و اہمیت اور افادیت مختلف تہذیبوں اور علاقوں میں مسلم رہی ہے اور قرآن مجید میں احکام حجاب کے نازل ہونے سے پہلے بھی حجاب کا رواج تھا۔ موجودہ دور میں بھی کئی غیر مسلم خواتین اسلامی طرز لباس اپنا کر اپنے تجربات بیان کر رہی ہیں اور وہ خود کو اس حقیقت کے اعتراف پر مجبور پارہی ہیں کہ واقعی حجاب و پردہ دراصل عورت کی عزت کا محافظ ہے۔ مغرب و مشرق میں کئی خواتین حجاب کی طرف مائل ہو رہی ہیں اور اپنی حیا و پردگی والی زندگی پر مسرور و مطمئن نظر آرہی ہیں۔ "ناومی والف" امریکہ کی ایک عیسائی خاتون ہیں جو "خواتین کی آزادی اور سوسائٹی میں ان کی عزت و احترام" کے قیام کے لیے کام کرتی ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے دو کتابیں بھی لکھی ہیں۔ مسلم لباس اور حجاب کے حوالے سے انہوں نے اپنے آپ پر تجربہ کیا کہ اس لباس...

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

اسلام خدمت انسانیت کا دین ہے۔اس کی بنیاد اخلاقیات،محبت،اخوت اور بھائی چارے پر رکھی گئی ہے۔ اس میں تمام انسانیت کی خدمت کو لازمی قرار دیتے ہوئے عبادت کادرجہ دیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں تمام انسانیت کی خدمت ایک مقدس فریضہ ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج کے بعد سب سے افضل اور فرض حقوق العباد کی ادائیگی ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں خدمت انسانیت پر اس قدر زور دیا ہے کہ ہمارے جائز اور حلال مال میں محتاجوں اور مساکین کا مخصوص حصہ مقرر فرمایا:’’اور ان کے اموال میں سائل اور محروم (سب حاجت مندوں)کا حق مقررہوتاتھا‘‘(الذاریات 19:51)اسلام خدمت خلق میں رنگ ونسل اور مذہب کا امتیاز نہیں رکھتا ۔پڑوسی کے حقوق ہویا مریض کی عیادت ،مسافر کے حقوق ہوں یا ادائیگی زکوۃ ،کسی قسم کے حقوق العباد میں مسلمان اور غیر مسلم کا فرق نہیں رکھا گیا۔ اسلام میں کسی ایک شخص کی جان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے برابر ہے۔ آج نفسانفسی کا یہ عالم ہے کہ انسان ہی انسان کو کاٹ کھا رہا ہے ۔آج کہیں کوئی حادثہ ہوجائے تو لوگ متاثرین کو بچانے کی بجائے اس کو لوٹ لیتے ہیں اخبارات ایسے بے شمار واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر ایسی ویڈیوز دیکھ کر جس میں حادثہ کا شکار افرادہجوم کی طرف امید کی نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں مگر انسانیت سے عاری لوگ انکی مدد کرنے کی بجائے یا تو انکی جیبوں کی تلاشی لے رہے ہوتے ہیں یا پھر ویڈیوز بنا رہے ہوتے ہیں۔ بے شک حقوق اللہ کی معافی ممکن ہے مگر حقوق العباد کی معافی نہیں۔ آج بہت کم ایسے لوگ اور ایسی جماعتیں ہیں کہ جن کی زندگیوں کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے، اس کے بندوں کی خدمت کرکے اوروہ بلاامیتاز انسانیت کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔جماعت اسلامی سے بعض مقامات پر شدید نظریاتی اختلاف ہوسکتا ہے مگر اس حقیقت سے کسی صورت انکار ممکن نہیں کہ جماعت اسلامی نے خدمت خلق میں بہت سی نام نہاد’’ خدمت خلق‘‘ کی دعویدار جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔جماعت اسلامی کاذیلی ادارہ ’’الخدمت فائونڈیشن‘‘کی خدمت سے کسی صورت انکار ممکن نہیں۔ جماعت اسلامی نے جہاں زندگی کے دوسرے شعبوں میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیںوہاں صحت کے شعبے میں مثالی کام کیا ہے ۔لاہور کے دل چوبرجی میں واقع جماعت اسلامی کا ہسپتال ’’ثریا عظیم ‘‘اس کی روشن مثال ہے کہ جہاں پر غریبوں، لاچاروں، محتاجوں کو مفت یا معمولی فیس پر اعلیٰ معیار کے علاج ومعالجہ کی سہولیات میسر ہیں ۔ ڈاکٹر فواد نور( ایم ایس ثریا عظیم)، افتخار احمد چوہدری(سیکرٹری گورننگ باڈی ) خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ وہ اتنی محنت ،لگن اور پوری ایمانداری سے انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جن جماعتوں، اداروں کے سربراہان ایمان دار ،دیانت دار ہوں وہ جماعتیں وہ ادارے کبھی زوال کا شکار نہیں ہوتے ۔یہ ڈاکٹر فواد نور، افتخار چوہدری کی محنت، لگن، ایمان داری اور دیانت داری کی زندہ مثال ہے کہ وہ بے لگام مہنگائی اور شدید بحرانوں کے اس دور میں غریب ،مستحق افراد کو...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

کہاں کی بات کہاں نکل گئی

قارئین کا صاحبِ مضمون سے متفق ہونا لازم ہے کیونکہ یہ تحریر اسی مقصد کے لیے لکھی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کو نصحیت کرنے کا جان لیوا مرض لاحق ہوتا ہے۔ جہاں کچھ غلط سلط ہوتا دیکھتے ہیں زبان میں کھجلی اور پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگتا ہے ایسا ہم نہیں کہتے ان لوگوں کے پند و نصائح وارشادات سننے والے متاثرین کہتے ہیں۔ اللہ معاف کرے اکثر نوجوانوں کو نصحیت کرنے کے جرم کی پاداش میں ہماری ان گنہگار آنکھوں نے ان بزرگوں کو کئی مرتبہ منہ کی کھاتے دیکھا ہے۔ مگر نہ وہ اپنی روش سے باز آتے ہیں اور نہ ہی کتے کی ٹیڑھی دم سیدھی ہوتی ہے۔ اب قریشی صاحب کی بیوہ کو ہی لے لیجیے عمر دراز کی ستر بہاریں دیکھ چکی ہیں، بیوگی کے پچاس سال گزارنے والی اپنی زندگی سے سخت بیزار ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی موصوفہ نے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دئیے تھے۔ دن رات صبح شام وہی گھسا پٹا راگ الاپتی رہتی تھیں تمہارے ماں باپ کی خدمت میں کیوں کروں؟ تمہارے سارے کام میں کیوں کروں؟ میں غلام نہیں ہوں۔ جو تمہاری ہر بات مانوں وغیرہ وغیرہ۔ قریشی صاحب بھلے مانس آدمی تھے شرافت اور منکسر المزاجی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ کان دبائے، نظریں جھکائے بیوی صاحبہ کے فرمودات سنتے اور سر دھنتے رہتے۔ ان کا یہ معصومانہ انداز بیوی صاحبہ کے تن بدن میں آگ لگا دیتا پھر جو گھمسان کی جنگ چھڑتی جس میں بیوی صاحبہ فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد قریشی صاحب سے اپنے تلوے چٹوا کر انہیں مورد الزام ٹھہراتے ہوئے فرد جرم عائد کر کے سزا سنا دیتیں۔ قید بامشقت کے تیسرے سال ہی قریشی صاحب کے کُل پرزے جواب دے گئے۔ گھر کی مسند صدارت و وزارت پر بیوی صاحبہ براجمان تھیں بیچارے قریشی صاحب کی حیثیت کا قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ گنے چنے چند سالوں کی رفاقت کے بعد ایک شام قریشی صاحب داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ لواحقین میں ایک بیوہ اور پانچ بیٹیاں چھوڑیں۔ ماں کے طور اطوار، رنگ ڈھنگ، چال ڈھال اور انداز کا مہلک زہر اولاد کی نسوں میں اتر چکا تھا۔ اور خربوزے کو دیکھ کر خربوزیاں رنگ پکڑتی چلی گئیں۔ موصوفہ کی کل کائنات بس یہ پانچ بیٹیاں ہیں۔ پانچوں کنورای جو شادی کے نام پر ایسے اچھلتی ہیں جیسے بچھو نے ڈنک مارا ہو۔ قبر میں پیر لٹکائی قریشی صاحب کی بیوہ صبح شام خود کو کوستے رہتی ہیں کہ اس جیسے چاہو جیو کے سلوگن نے ان کی دنیا و آخرت ملیامیٹ کر کے رکھ دی۔ مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ ہم اگر اپنی روزمرہ زندگی پر نظر دوڑائیں تو کتنی چیزیں ہیں جو کہ ہم غلط سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی کرتے ہیں نہ جاننا اتنا سنگین نہیں ہوتا جتنا کہ جان کر حقیقت سے نگاہیں چرانا ہوتا ہے۔ چچ چچ ہم آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کے عادی بنا دیے گئے ہیں۔ 2021ء میں گھریلو تشدد کا بل اسمبلی سے منظور کروا کر ہماری نوجوان نسل کو یہ پیغامِ تقویت...

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

ہمارے بلاگرز