صغیر قمر

1 بلاگ 0 تبصرے
صغیر قمر ایک صاحبِ طرز قلم کار اور کالم نگار ہیں،گزشتہ 24 سال سے کالم نگاری کر رہے ہیں ان دنوں و روزنامہ خبریں کے لیے لکھ رہے ہیں

کہاں گئے ایسے حکمران؟ 

یہ درہم ودینار کی دنیا یہ نفسانفسی اور لوٹ مار کی دنیا،ہمیں نہیں چاہیے۔ اپنی زندگی میں صرف ان لمحوں کا انتظار ہے،جو ایک خواب کی...

اہم بلاگز

عِید کی خوشیاں اور اِنسَانی تعلّقات کا بُحران

ہمارے زمانے تک آتے آتے عید بھی طبقاتی محسوس ہونے لگی ہے اور اس کا اثر بچوں کے مزاجوں تک پر پڑا ہے۔ چنانچہ لاکھوں والدین کے لیے عید ایک اندیشہ بن جاتی ہے اسلام اتنا ’’حقیقی‘‘ ہے کہ وہ مسلمانوں کو غم کیا، خوشی میں بھی ’’وقار‘‘ سے محروم نہیں ہونے دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں تہواروں کی بہتات ہے نہ میلوں ٹھیلوں کا کلچر۔ اسلام کے اصل تہوار صرف دو ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی۔ ان تہواروں کی ’’مسرت‘‘ اپنی اصل میں روحانی بھی ہے اور نفسیاتی اور جذباتی بھی۔ ان تہواروں کا ایک مرکز خدا ہے، اور دوسرا مرکز انسان اور ان کے باہمی تعلقات۔ ان تہواروں کا خدا مرکز ہونا شعورِ بندگی کی علامت ہے، اور انسان مرکز ہونا فروغِ انسانیت اور فروغِ محبت کا استعارہ ہے۔ اس لیے کہ ان تہواروں سے مسلمانوں کی وحدت اور شوکت ظاہر ہوتی ہے۔ ان باتوں کو آسان پیرائے میں بیان کرنا ہو تو کہا جائے گا کہ مسلمانوں کی مسرت کا مرکز یا تو خدا ہے، یا اس کے انسانی رشتے اور تعلقات۔ خدا کا شکر ہے کہ مسلمانوں کا شعورِ بندگی تو عیدین پر نماز دوگانہ کے ذریعے آشکار ہوجاتا ہے اور مسلمان اپنی نفسی حالت کے مطابق ان نمازوں کی ادائیگی سے روحانی مسرت کشیدکرلیتے ہیں۔ لیکن انسانی تعلقات سے حاصل ہونے والی خوشی مدتوں سے کمیاب ہے۔ اس کمیابی کا بنیادی سبب انسانی تعلقات کا بحران ہے۔ اس بحران کی ہولناکی کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ خاندان، خاندان نہیں رہے… والدین، والدین نہیں رہے… اولاد، اولاد نہیں رہی… شوہر، شوہر نہیں رہے… بیویاں، بیویاںنہیں رہیں… عزیز، عزیز نہیں رہے… رشتے دار، رشتے دار نہیں رہے… دوست، دوست نہیں رہے… پڑوسی، پڑوسی نہیں رہے… بزرگ، بزرگ نہیں رہے… خورد، خورد نہیں رہے۔ نتیجہ یہ کہ انسان، انسان نہیں رہے… زندگی، زندگی نہیں رہی۔ چنانچہ زندگی سے حقیقی خوشی گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوچکی ہے۔ شاعر نے کہا ہے ؎ اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور اب کوئی کہیں، کوئی کہیں رہتا ہے اسلام کے دائرے میں خاندان کا ادارہ اصولِ توحید کے سماجی مظہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ خاندان پورا معاشرہ بلکہ پوری تہذیب ہے۔ جب معاشرے اور تہذیب میں کوئی بڑا عدم توازن پیدا ہو تو جان لینا چاہیے کہ خاندان کے ادارے میں کوئی بڑی خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ ایک وقت تھا کہ مسلم معاشرت میں خاندان کا ادارہ بڑا مضبوط تھا اور بڑا خوبصورت بھی، مگر ہمارے روحانی، اخلاقی اور علمی زوال نے اس ادارے کو بنیادوں سے ہلا دیا۔ اسلام خاندان کے کسی ایک تصور یا کسی خاص قسم پر اصرار نہیںکرتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک طویل مدت تک مشترکہ خاندانی نظام ہماری تہذیب کا مرکز تھا۔ ہمیں مشترکہ خاندانی نظام میں پروان چڑھنے اور رہنے کا تجربہ ہے۔ بلاشبہ اس نظام میں کچھ خامیاں بھی تھیں، مگر اس کی خوبیاں خامیوں سے زیادہ تھیں۔ ہمیں یاد ہے کہ اس خاندانی نظام میں رمضان اور عید بہت بڑے تجربے یا بہت بڑی روحانی مسرت سے بھری ہوئی واردات کی حیثیت سے وارد ہوتے...

بچوں کو عزت دیں‎

وہ میرے قریب، میری والی صف میں ہی نماز ادا کر رہے تھے۔ ہماری اگلی صف میں کچھ بچے موجود تھے، نماز کے دوران بھی وہ بچے وہ ساری حرکتیں کرتے رہے جو ہم میں سے ہر شخص اپنے بچپن میں کر چکا ہے، اور یہ حرکتیں ہی ہوتی ہیں جو "بچپن" کا پتا دیتی ہیں۔  سلام پھرتے ہی ان صاحب نے اگلی صف میں اپنے سامنے موجود بچے کا کالر بے دردی سے کھینچا اور حقارت کے ساتھ فرمانے لگے "چلو نکلو، مسجد سے ابھی" بچہ کچھ جھینپ گیا، اور دعا کے لئے اٹھائے ہوئے اپنے ہاتھوں میں شرمندہ ہو کر  اپنا منہ ڈال دیا۔ انہوں  ایک لمحہ تاخیر کئیے بغیر اس بچے کا کالر دوبارہ اس زور سے کھینچا کہ وہ پیچھے آدھی صف تک آ گیا۔ اس کے بعد دوسرے بچے بھی اپنی "عزت نفس" کو سنبھالتے ہوئے اللہ کے گھر سے فرار کے راستے ڈھونڈ لگے۔  انہوں نے کھڑے ہونے کے بعد دوبارہ بچوں کو زور کی ڈانٹ پلائی اور ایک بچے کی گدی پر تھپڑ بھی رسید کر دیا۔ میں نماز کے اختتام کے بعد کچھ دیر تک یہ سارے مناظر بڑی تکلیف کے ساتھ دیکھ رہا تھا، لیکن اب میرے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا تھا۔ میں نے تھوڑی تیز آواز کے ساتھ کہا "انکل! یہ بات آپ آرام سے بھی کہہ سکتے تھے" شاید ان کو اس کی توقع نہیں تھی۔ انہوں نے میری طرف غور سے دیکھا اور مدافعانہ لہجے میں بولے "یہ لوگوں کی نماز خراب کرتے ہیں، شیطان ہے یہ سب"۔  مسجد میں موجود تقریباً تمام ہی نمازیوں کا رخ ہماری طرف ہو چکا تھا۔ "تو ان کو تمیز سے تمیز سے سکھانا بھی آپ ہی کی ذمہ داری ہے"۔ میں کہتے ہوئے باہر نکل گیا لیکن میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا شاید کہیں اپنا بچپن بھی آنکھوں میں گھوم گیا۔  آپ یقین کریں میں نے بچوں کی عزت نفس کو جتنا مجروح مسجد اور اسکول میں ہوتے دیکھا ہے اور کسی تیسری جگہ نہیں دیکھا۔ جس حقارت اور تحقیر کے ساتھ مساجد میں بچوں کو ہمارے بزرگ ذلیل کرتے ہیں اور جس طرح اسکولوں میں "معزز اساتذہ اکرام" بچوں کی عزت نفس کا جنازہ نکال لیتے ہیں دل پاش پاش ہو جاتا ہے۔  یہی تو وہ جو جگہیں تھیں جہاں سے وقت کے امام اور امت کے مستقبل نکلا کرتے تھے، لیکن یقیناً ان مساجد اور مدارس میں استاد امام ابو حنیفہ جیسے اور بزرگ عطا بن رباح جیسے ہوا کرتے تھے۔ پرسوں ہماری مساجد کے امام صاحب نے سختی سے تقریبا ڈانٹتے ہوئے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ "جو بھی نمازی اپنے ساتھ چھوٹے بچوں کو لے کر مسجدآئے گا، اسے مسجد سے بچے سمیت باہر نکال دیا جائے گا پھر وہ ہم سے شکایت نہ کرے"۔ ایک دوسری مسجد میں آج نماز پڑھی تو بغیر حوالے کے بڑا سا بورڈ نصب تھا کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نابالغ بچوں کو مسجد میں لانے سے منع فرمایا ہے"۔  مجھ جیسے ناقص العلم آدمی تک جب یہ احادیث پہنچ گئیں تو میں حیران ہوتا ہوں کہ...

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

پیارے بچو! ہمارے پیارے نبی ﷺ کے ساتھیوں میں سے ایک نہایت دلیر اور بہادر ساتھی ’’ حضرت عمر فاروق  ؓ بھی تھے۔ آپ کا نام عمر اورکنیت ابو حفص تھی ، جبکہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے آپ ؓ کو فاروق کا لقب عطا کیا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ   ہجرتِ مدینہ سے تقریباً ۴۰ سال قبل مکے میں پیدا ہوئے ۔ آپ ؓ کے والد کا نام خطاب بن نفیل جبکہ والدہ کا نام حنتمہ بن ہاشم تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے انتقال کے بعد مسلمانوں نے انہیں اپنا خلیفہ منتخب کرلیا۔ خلیفہ بننے کے باجود آپ نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے،ہمیشہ بن چھنے آٹے کی روٹی کھاتے و ہ بھی کبھی زیتون کے تیل، کبھی سرکہ اور کبھی کسی سبزی کے سالن کے ساتھ۔ ایک بار مکہ اور مضافات میں سخت قحط پڑا تو اس زمانے میں آپ نے زیتون کے تیل ، گھی اور گوشت کا استعمال بالکل بند کردیا تھا۔ لباس کے معاملے میں بھی بہت سادگی اختیار کرتے تھے۔عام طور سے آپ موٹے کھدر کے کپڑے پہنتے تھے، جب وہ پرانے ہوکر پھٹنے لگتے تو ان میں پیوند لگا لیتے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے حضرت عمرؓ کے کپڑوں میں بائیس پیوند لگے دیکھے۔ آپ ؓ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو عزت اور شان و شوکت عطا کی ہے وہ شاندار کپڑوں اور عالی شان مکانا ت کی وجہ سے نہیں بلکہ اسلام کی وجہ سے ہے۔ ایک دفعہ ملک روم کا سفیر مدینہ آیا اور اس نے لوگوں سے دریافت کیا کہ ’’تمہارے خلیفہ کا محل کہاں ہے؟ ‘‘ لوگوں نے کہاکہ’’ ہمارے خلیفہ محل میں نہیں رہتے بلکہ عام سے مکان میں رہتے ہیں ، اس وقت وہ شہر سے باہر کی جانب گئے ہیں تم ان کو دیکھو گئے تو پہچان لوگے، ان کے ایک ہاتھ میں درہ ہوگا، موٹے کھدر کے کپڑے پہن رکھے ہونگے۔ ‘‘ سفیر شہر کے باہر کی جانب چل دیا، کچھ دور جاکر اس نے دیکھا کہ مسلمانوں کے خلیفہ ایک درخت کے نیچے اینٹ پر سر رکھ کر سورہے ہیں، آس پاس کوئی پہرے دار نہیں ہے۔ یہ دیکھ کر اس کی زبان سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے’’ آپ  اپنے لوگوں کے سچے خیر خواہ ہیں اسی لیے آپ لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیںاور آپ کو کسی سپاہی اور پہرے دار کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ آپ ؓ بہت دیانت دار انسان تھے ، خاص طور سے بیت المال کی چیزوں کے استعمال میں تو بہت زیادہ محتاط رہتے تھے۔ ایک دفعہ آپ ؓ نے دیکھا کہ بازار میں ایک نہایت موٹا اور صحت مند اونٹ بیچا جارہا ہے، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ آپ ؓ کے صاحب زادے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کا ہے، انہوںبتایا کہ ’’ ابا جان یہ اونٹ میں نے اپنی ذاتی رقم سے خریدا تھا ، پھر میں نے اس کو سرکاری چراگاہ میں چھوڑ دیا تھا، اب یہ خوب صحت مند ہوگیا ہے تو اس کو بیچنا چاہتا ہو ں تاکہ اس کے اچھے دام ملیں‘‘ ،...

زہے مقدر۔۔۔

مسجدِ نبوی میں کچھ گھڑیاں کئی ہفتوں سے بننے والے پروگرام میں ہر بار ہی کوئی مشکل آڑے آجاتی، اور ہم مدینہ کی پر نور فضاؤں سے محروم رہ جاتے، ہم نے افسردگی سے ذکر کیا ، تو کسی نے جواب دیا کہ اس کا بلاوہ تو وہاں سے آتا ہے، جب بلاوہ آگیا تو ایک لمحہ بھی نہیں لگے گا۔ ہماری حالت یہ تھی کہ دل کا درد بار بار آنکھوں سے بہنے کی کوشش کرتا، بس اپنے ہی جزبوں کی کمی کا احساس غالب تھا، جمعرات کی رات نصف شب اچانک شوہر صاحب نے کہا کہ بچوں سے پوچھ لیں اگر وہ تیار ہوں تو صبح سویرے مدینہ کے لئے نکل جاتے ہیں، ہفتے کو واپس آجائیں گے، بیٹے کی آمادگی کے بعد ہم نے بیٹی کو جگانا بھی مناسب نہ سمجھا اور ساری تیاری کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیا، (جو صنفِ نازک کے کندھے تو ہیں، مگر رب نے انہیں مضبوطی دی ہے، الحمد للہ)۔ سب کے کپڑے استری کر کے بیگ تیار کیا، پانی کی بوتلیں فریزر میں لگائیں، اور باقی کے انتظامات کر کے ایک گھنٹہ سونے کا موقع بھی مل گیا۔ فجر سے کافی پہلے ہماری گاڑی عنیزہ شہر سے نکل چکی تھی، عین فجر کے وقت ہمیں پٹرول اور باجماعت نماز دونوں مل گئے، اور تیار شدہ ناشتا بھی! بلاتاخیر سفر دوبارہ شروع ہو گیا۔ یہ جمعہ کی خوبصورت سہانی صبح تھی، گاڑی میں اجتماعی دعاؤں کے بعد اب سورۃ الکہف سنی جا رہی تھی، اسی دوران پاکستان میں بچوں سے رابطہ ہوا، اور دعاؤں کی ایک پوٹلی بھی مل گئی۔ القصیم سے مدینہ کا سفر بہت خوبصورت ہے، راستے میں زمین کے مختلف خطوں کے اتنے مختلف رنگ دکھائی دیتے ہیں کہ دل مسرور ہو جاتا ہے، کئی وادیوں میں اونٹ یہاں وہاں پھیلے تھے، کہیں سفید اونٹ، جسن وجمال کے شاہکار، کہیں بھورے بالوں والے اونٹ اور کہیں سیاہ مشکی گھوڑے کے رنگ کے۔ اللہ کی بہترین صناعی: ’’افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت، والی السماء کیف رفعت، والی الجبال کیف نصبت، والی الارض کیف سطحت‘‘، (کیا یہ اونٹوں کی جانب نہیں دیکھتے کہ کیسے تخلیق کئے گئے؟ آسمان کو نہیں دیکھتے، کیسے اٹھایا گیا؟ پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے؟ اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی؟)۔ زمین پر کہیں کھجور کے درخت، کہیں سبزہ زار، کہیں کھجور کے درختوں سے گھرا قطعہ اراضی، اور بیچ میں سبز کھیت، اور کہیں صحرا میں جھاڑی نما درخت اور وہیں پر اونٹوں اور بکریوں کے گلے بھی!! میں جب بھی یہاں سے گزرتی ہوں عجب تازگی کا احساس ہوتا ہے، ان علاقوں کی تاریخ اور جغرافیہ پڑھنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ سڑک کے ایک جانب پہاڑ پر ’’قصرِ عقیل‘‘ دیکھ کر ہمیشہ ہی اسے جاننے کا دل چاہتا ہے، پہاڑ کی چوٹی پر بنا قلعہ کسی اہم حفاظت اور حصار کی نشانی لگتا ہے۔ مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے بلکہ کافی پہلے پہاڑیوں کے اوپر بھر بھرے سے پتھر ہیں، ایسے لگتا ہے جیسے زمانہ قدیم میں کسی آتش فشاں کے پھٹنے سے پھیل جانے والی...

پیرنٹس،ٹیچرزمیٹنگ ایسی بھی ہونی چاہیے

وہ صاحب روز اسکول آتے اور سارے اسکول کو سر پر اٹھا لیتے۔پرنسپل، وائس پرنسپل، کورڈینیٹر اور اردو کے ٹیچر بھی روز بیٹھ کر ان کی چیخیں سنتے رہتے۔ وہ استاد سمیت پرنسپل صاحب کو بھی صیح سے "رگڑے" دیتے، تمام مینجمنٹ انھیں سمجھانے کی ناکام کوشش کرتی اور پھر وہ چلے جاتے۔ تقریبا 3 دن بعد اسکول انتظامیہ کو ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ مجھے نہیں معلوم یہ قانون کہاں سے آیا ہے لیکن ہم نے اپنے بچپن سے اور ہمارے بڑوں نے اپنے بچپن سے یہی سنا ہے کہ لینگویج کے مضمون میں پورے نمبر نہیں دئیے جاتے ہیں اور اسی "غیبی قانون" کے تحتاردو کے ٹیچر نے بھی اس بچے کا آدھا نمبر پورا پیپر ٹھیک ہونے کے باوجود کاٹ لیا تھا اور وہ صاحب ہاتھ پاؤں دھو کر اس بات پر "لہو" ہوگئے کہ جب میرے بچے نے پیپر ٹھیک کیا ہے، اس کی خوشخطی بھی خوبصورت ہے تو یہ آدھا نمبر کس "خوشی" میں کاٹا گیا ہے؟ اور سب مل کر انھیں لینگویج والا "غیبی قانون" سمجھا رہے تھے۔  میرا خیال ہے کہ ان نمبروں کے جتنے بد اثرات بچوں پر مرتب ہوتے ہیں اساتذہ بھی ان کی زد میں آئے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں اور اسی کو "مکافات عمل" کہتے ہیں۔میرا ماننا یہ ہے کہ اب پی – ٹی – ایم کے رائج الوقت طریقے کو بھی ختم ہونا چاہئیے۔  پی –ٹی –ایم کا مطلب یہ ہے کہ والدین یا تو بچوں کی شکایتیں سننے آئینگے یا پھر اساتذہ کی شکایتیں لگانے آئینگے۔پی- ٹی – ایم سے جتنے کوفزدہ بچے ہوتے ہیں میرا تجربہ ہے کہ اساتذہ بھی اس سے کم خوفزدہ نہیں ہوتے ہیں کیونکہ اگر کسی استاد کے بارے میں والدین نے کوئی منفی تبصرہ کردیا تو پھر اس "استاد" کی شامت آکر رہتی ہے۔ مجھے تو بعض دفعہ یہ لگنے لگتا ہے کہ بچوں کے والدین اور اساتذہ کے درمیان دوکاندار اور گاہک والا تعلق ہے اور بچے وہ پروڈکٹ ہیں جن کی خریدو فروخت کے لئیے پی – ٹی –ایم کے نام پر بولی سجائی گئی ہے۔ ملائشیاء کے ایک اسکول نے پی – ٹی – ایم والے دن تمام بچوں کی ماؤں کو بلایا اور ایک بڑے سے لان میں انھیں کرسیوں پر بٹھا دیا گیا۔ سب کے سامنے پانی کے تب رکھ دئیے گئے اور ان کے بچوں کو حکم دیا گیا کہ اپنی ماؤں کے پاؤں دھلائیں یعنی پیڈیکیور کریں۔ خواتین کی خوش قسمتی تھی کہ انھیں پیڈیکیور کی سہولت مفت میسر آگئی اور بچوں کو یہ احساس بھی منتقل کردیا گیا کہ "ماں کے قدموں تلے جنت ہے"۔ کوئی پی –ٹی – ایم ایسی بھی ہونی چاہئیے کہ جس میں اساتذہ خاموش ہوں اور سہہ ماہی، ششماہی یا سالانہ بنیاد پر کئیے گئے کاموں کو بچے اپنے والدین کے سامنے خود پیش کریں۔ بچے اپنے والدین کو خود بتائیں کہ انھوں نے سال بھر کیا سیکھا؟ انھوں نے ایک سال میں کتنی نئی کتابیں پڑھیں، روزانہ کتنے صفحوں کا ہدف انھوں نے طے کر رکھا ہے جس کا وہ مطالعہ کرتے ہیں، انگریزی کے کتنے الفاظ نھوں نے...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

عجیب پاکستانی ہوں

پاکستانی اتنے غریب نہیں ہونگے جتنے عجیب ہیں۔ ہر مرد عورت اپنے آپ میں ایک وکھرا نمونہ ہے۔ پاکستانیوں میں ایک عادت بڑی '' عام '' ہے۔ جو ہر پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان میں بدرجہ اتم موجود ہوگی۔ اتنے چسکورے ہیں کہ ہر بات کا پتہ ہونے کے باوجود منہ کراراے کیے جاتے ہیں۔ جیسے کوئی '' چائے '' پی رہا ہو تو دوسرا باہر سے آنے والا بصارت جیسی نعمت سے مستفید ہونے کے باوجود بھی حیرت سے پوچھے گا '' چائے پی رہے ہو ''۔ اب ظاہر ہے چائے کے کپ میں خون پینے سے تو بندہ رہا۔ ہمارے رشتہ داروں میں میں کسی کے آنے پر اسے آواز نہ کرنا پرلے درجے کی گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ آواز کرنے سے مراد یہ کہنا ہوتا ہے '' آئے ہو '' اگر کوئی بزرگ ہو تو بس لفظ کو ذرا کھینچ کر لمبا کر کے '' راااااااااااااالے '' کہنا ضروری ہے اور ایسا نہ کرنے والے کی مٹی ایسی پلید کردی جاتی ہے کہ دنیا کے نکھٹو، منحوس، اور بے ادب بھگوڑا انسان کی مہر اس پر لگا دی جاتی ہے۔ جب بھی ہری پور جانا ہوا جس رشتہ دار کی طرف بھی جاؤ پہلا سوال یہی ہوگا '' آئی ہو '' جس پر میں آرام سے بس یہی کہہ دیتی ہوں۔ '' نہیں! ابھی راستے میں ہوں۔'' اب بندہ پوچھے راستے میں ہوتا تو گھر کیسے تشریف لاتا ظاہر ہے گھر تک پہنچا ہے تو آیا ہی ناں۔ اچھا __ اگر آپ بازار چلے جاؤ اور بدقسمتی سے کوئی واقف مل جائے تو چھوٹتے ہی یہی سوال پوچھے گا '' بازار آئے ہو ''۔ اس بے تکے سوال پر بندہ ہونق بنا بٹر بٹر دیکھنے لگتا ہے کہ شاید غلطی سے پہلوانوں کے اکھاڑے یا کسی فیکٹری میں تو نہیں گھس گیا۔ چلو پہلے جوتا خریدتے ہیں اس سوچ کے آتے بندہ اچھی طرح تسلی کرنے کے بعد جیسے ہی شوز ہاؤس میں داخل ہوتا ہے دکاندار کا پہلا سوال حواس باختہ کردیتا ہے۔ '' ہاں جی! میڈم جوتا لینے آئے ہیں '' '' نہیں بھائی! گرم مصالحہ، برتن دھونے والا صابن اور ہاں ساتھ ایک سرف کا پیکٹ بھی دے دو '' کوفت سے سوچتے چپ چاپ جوتا پسند کرنے میں ہی بندہ بہتری جانتا ہے۔ کچھ دن پہلے افطار کے لیے کچھ مہمان آئے۔ جیسے ہی مہمان خاتون نے واش روم کی طرف قدم بڑھائے میں نے مروتاً، جبراً، کنایتاً، اشارتاً غرض ہر طرح سے دانتوں کی نمائش کرتے حق میزبانی کے ساتھ حق پاکستانی ادا کیا۔ '' آنٹی جی! واش روم جارہی ہیں '' '' نہیں بیٹا! ایک میٹنگ ہے وہی اٹینڈ کرنے جارہی ہوں '' سادگی سے دیے گئے جواب نے بھرپور شرمندہ کروا دیا۔ خجالت سے مسکرا دی کہ چلو وطن کی بیٹی اور محب الوطن پاکستانی ہونے کا حق تو ادا کردیا۔ اب انسان کیا شرمندہ ہو! ہماری یہی ڈھٹائی تو ایک دوسرے کے لیے ہنسی کا باعث بنتی ہے ورنہ تو آج کا انسان معاشی بوجھ میں اس قدر دب چکا ہے کہ بتیسی کو ہی ٹھنڈ لگوا بیٹھا ہے۔ '' میں بھی '' عجیب پاکستانی ہوں '' سے اقتباس

افطاری

پاکستانیوں میں کوئی اور خوبی ہو نہ ہو ایک خصوصیت ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ جب بھی ان سے پوچھا جائے کہ کہاں جا رہے ہو تو360 دائرے نما پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گویا ہوں گے”کھانا کھانے“اور کہیں سے آرہے ہوں تو بھی برابر جواب وہی ملے گا کہ ”کھانا کھا کے“۔گویا کھانا ہی زندگی ہے،حکما کا خیال ہے کہ انسان کو زندہ رہنے کے لئے کھانا کھانا چاہئے جبکہ ہم پاکستانیوں کا خیال ہے کہ کھانے کے لئے زندہ رہا جائے اور وہ بھی کسی کے کھاتے سے۔اس مرض میں ان پڑھ اور پڑھے لکھے سبھی شامل ہیں اپنے ایک پڑھے لکھے ادبی دوست سے ایک باراس کی بسیار خوری کی وجہ پوچھی تو جناب پٹ سے اردو ادب سے ایک حوالہ نکال لائے کہ جناب کیا آپ کے علم میں نہیں کہ ایک بار چچا غالب سے پوچھا کہ آپ کو کھانے میں کیا مرغوب ہے تو انہوں نے کیا کہا تھا کہ”آم ہوں اوربہت ہوں“۔ارے بھائی وہ تو موسمی پھل کاتذکرہ تھا سار ا سال کھانے کی تھوڑی بات ہو ری تھی تمہاری طرح۔ویسے ہمیں دو مواقع پر خوب کھانے کا موقع میسر آتا ہے،ایک کسی احباب کی دعوتِ ولیمہ اور دوسرا رمضان المبارک میں کسی کے ہاں افطاری۔افطاری کیا کھانے کی رفتار سے ہم اسے افتاری ہی بنا ڈالتے ہیں۔کیونکہ روزہ کشا ہوتے ہی جس رفتار سے روزہ دار کھانے پر یلغار یا دھاوا بولتے ہیں لگتا ہے یہ ان کی زندگی کا آّخری کھانا ہی ہوگا یا پھر کل عید ہوگی۔کہتے ہیں کہ کسی فقیر کو اہل محلہ نے زبردستی روزہ رکھوا دیا تو جب بوقت افطاری اس سے پوچھا گیا کہ تم سب سے پہلی دعا کون سی کرو گے تو کہنے لگا کہ ”کل عید ہوجائے“۔ایسے ہی ایک روائت ہے کہ کسی گاؤں میں نمبردار نے اعلان کر دیا کہ گاؤں میں کسی بھی شخص کو روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے جو بھی روزہ نہیں رکھے گا اسے کڑی سزا دی جائے گی۔اب گاؤں کے میراثی کوبھی بادل نخواستہ روزہ رکھنا پڑا،اب یونہی سورج سر پر آیا تو میر عالم صاحب اپنے بوریا بستر سمیٹ نمبردار کی حویلی کے سامنے سے بار بار گزر رہے ہوں،تجسس پر نمبردار نے بلا کر پوچھا کہ میر عالم کیا ہوا،یہ بستر اٹھا کر کہاں کا ارادہ ہے،تو میر عالم کہنے لگا کہ سرکار آپ تو مجھے زبردستی روزہ رکھوا رہے ہیں جبکہ ساتھ کے گاؤں کا نمبردار کہہ رہا ہے کہ تم کلمہ بھی نہ پڑھنا اور میرے گاؤں چلے آؤں۔ دوران رمضان مشاہدہ کیجئے گا کہ روزہ دار کی آنکھیں روزہ کشائی سے پہلے بمشکل کھل رہی ہوتی ہیں اور روزہ کشائی کے بعد آنکھوں اور منہ کا کھلنا ناممکن سادکھائی دیتا ہے۔افطاری کو رفتاری خیال کر بے تحاشا کھانے سے پیٹ کا اس قدر برا حشر ہوتا ہے کہ پیٹ بھی بندوں کے نادیدہ پن کو کوس رہا ہوتا ہے کہ یہ اونٹ کا نہیں انسانوں کا معدہ ہے یار۔افطاری کے بعد پیٹ کسی طور بھی پیٹ نہیں لگ رہا ہوتا پورے کا پورا ڈھول دکھائی دے رہا ہوتا...

رن مرید

رن مرید،زن مرید،جورو کا تابع یا جورو کا غلام جسے پنجابی میں ”تھلے“لگا بھی کہا جاتا ہے،ایک ایسا عنوان ہے جسے مردکے چہرے سے ہی پہچان لیا جاتا ہے کہ یہ مرد اپنی یا کسی اور کی جورو کا غلام ہے،دنیامیں زیادہ تر لوگ رن مرید ہی ہیں بس کوئی مان لیتا ہے تو کسی کی رن اسے تھلے لگانے میں کامیاب ہو جاتی ہے گویا کان دائیں ہاتھ سے پکڑو یا بائیں سے بات ایک ہی ہے،تو عافیت اسی میں ہے کہ اس فعل کا برملا اظہار کر دیا جائے۔جیسے کہ ایک روائت ہے کہ ایک گاؤں سے تین لوگ گزرتے ہوئے مشکوک پائے گئے تو گاؤں والوں نے انہیں پکڑ کر نمبردار کے سامنے پیش کر دیا،پہلے شخص سے پوچھا کہ تم کہاں اور کس سے ملنے جا رہے تھے اس نے ڈرتے ہوئے کہا کہ میں فلاں پیر کا مرید ہوں ان کی زیارت کے لئے جا رہا ہوں،نمبردار کو غصہ آیا اور کہا کہ اسے الٹا لٹا کر جوتو ں سے خاطر تواضع کی جائے،یہی حال دوسرے آدمی کا بھی کیا گیا،جب یہ سارا ماجرا تیسرے بندے نے دیکھا جو قدرے چالاک تھا وہ چالاکی دکھاتے ہوئے کہنے لگا کہ سر میں کسی پیر کا مرید نہیں ہوں میں تو بس ”رن مرید“ ہوں اب آپ کی مرضی جو چاہیں سزا تجویز کر دیجئے،نمبردار نے یونہی یہ بات سنی اپنوں بیٹوں کو بآواز بلند پکارنے لگا کہ بچوں جلدی آؤ تمہارا ”پیر بھائی“آیا ہوں اور اس کی کھانے پینے سے خوب خاطر تواضع کرو اور دیکھو مجھے کوئی شکائت نہیں آنی چاہئے۔ اتفاق رائے سے دنیا نے اب اس بات پہ مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ اقسام خاوند میں سب سے اعلیٰ پائے کا خاوند رن مرید ہی ہوتا ہے۔رن مرید ایسا خاوند ہوتا ہے جو بیوی کے کہنے پر تو کہیں بھی بیٹھ جاتا ہے اور اگر سسرال سے کوئی کہہ دے تو مزید بیٹھ جاتا ہے۔قبول ثلاثہ کے بعد ساری زندگی جی حضوری میں ہی گزار دیتا ہے اس پہ شرمندہ نہیں ہوتا کہتا ہے بیوی کی جی حضوری نہیں کرتا بس ویسے ہی وہ مجھے بولنے نہیں دیتی۔رن مرید چپ رہنے پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ مزید چپ میں ہی عافیت خیال کرتا ہے،دوستوں میں سے ایک بار کسی نے اسکی غیرت جگانے کے لئے فقرہ چست کردیا کہ یار تمہاری کیا زندگی ہے تمھاری تو بیوی تمہیں گھاس بھی نہیں ڈالتی،کمال دلیری سے بولا”شیر گھاس نہیں کھاتا اور گوشت وہ مجھے کھانے نہیں دیتی“کہتا ہے کامیاب ازدواجی زندگی کے دو ہی فلسفے ہیں کہ بیوی کے سامنے کبھی نہ بولو اور دوسرا ہمیشہ بیوی کی ہی سنو۔رن مرید بیوی کے سامنے کبھی کوئی سوال نہیں اٹھاتا بس دست سوال دراز ہی ہوتا ہے۔رن مرید ہمیشہ اپنے خاندان والوں سے بیوی کی زبان میں بات کرتا ہے اور بیوی کبھی سیدھے منہ بات نہیں کرتی کیونکہ بیوی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بات بیان کرنے کے لئے خاوند کے منہ میں زبان دے رکھی ہے اور یہ بات وہ اپنی سہیلیوں میں برملاکہتی ہے کہ میں نے اپنی ساس...

لاچا بمقابلہ ٹائٹ(چست پاجامہ) 

لباس کا پہننا جسے انگریزی میں Dress up ہونا کہا جاتا ہے،میرے نزدیک انسان کے dress کاup ہونا اس لئے بھی ضروری ہے کہ پتہ چل سکے کہ لباس بھی پہنا ہوا ہے۔لباس کے بارے میں میری رائے بالکل واضح اور شفاف(transparent )لباس جیسی ہی شفاف ہے،کہ انسان کو لباس ضرور پہننا چاہئے چا ہے اس میں’’شفافیت‘‘جھلکتی،چھلکتی ہوئی نظر ہی کیوں نہ آرہی ہو۔اچھا لگنااور دکھنا ہربنی نوع انسان کی فطرت میں شامل ہے اوریہ لباس ہی ہے جس نے انسان کو جنگل سے شہر میں آ کر آباد ہونے کی ترغیب دی وگرنہ آج بھی انسان ’’قدرتی حالت‘‘ میں جنگل میں ہی مسکن پذیر ہوتا۔شہر میں بسنے سے ہی انسان کی حسِ جمالیات پروان چڑھی جس نے انسان کو سکھایا کہ میرج پارٹی،ایوننگ پارٹی،ڈنر پارٹی،نائٹ پارٹی میں کس طرح کا سوٹ پہن کر جاناچاہیے،ہاں اگربرتھ ڈے پارٹی ہو تومیری نظر میں ایسی پارٹی میں نہیں جانا چاہیے کہ برتھ کے وقت انسان کسی سوٹ میں ملبوس نہیں ہوتا ۔ لاچا کرتہ صوبہ پنجاب کا مقبول لباس ہے،کرتہ پر پھر کبھی قلم چلایا جائے گا ۔ابھی لاچے کے ’’مصائب و محاسن‘‘کا تذکرہ ہی مناسب رہے گا،اگرچہ لاچا پہننے والا خود کو مناسب خیال کرتا ہے تاہم دیکھنے والا کسی طور خود کو ‘‘مناسب‘‘محسوس نہیں کرتا۔لاچا وہ واحد لباس ہے کہ اسے پہننے کے لئے کسی اوزار بند یا بیلٹ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی بس دو کناروں کو تھاما اور آپس میں گھتم گھتا کر دیا یعنی باندھ دیا ،میرے ایک دوست کا پوچھنا ہوتاہے کہ یار یہ لاچا باندھا جاتا ہے کہ پہنا جاتا ہے تو میرا اس کو جواب ہوتا ہے کہ یہ واحد لباس ہے جسے باندھ کر بھی پہنا جا سکتا ہے اور پہن کر بھی باندھاجا سکتا ہے۔ہاں باندھ کر بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ کب کھل جائے اور آس پاس کے لوگ آپ پر کھلکھلا پڑیں۔لاچے کے کثیر المقاصد ہونے کی دلیل یہ بھی ہے کہ یہ دونوں موسموں میں پہنا،باندھا،اوڑھا اور بچھایا جا سکتا ہے یعنی اسے موسم سرما میں اوڑھ کر سویا جا سکتا ہے جبکہ موسم گرما میں اسے بچھا کر بھی آپ استراحت فرما سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ وقت رات کا ہووگرنہ دن کے اجالے میں ایسی حرکت آپ پہ برا وقت بھی لا سکتی ہے۔لاچے کو سونے سے قبل باندھا جائے تو بہتر ہے اور اٹھتے ہی سب سے پہلے لاچے کو ہی باندھنے میں آپ کی عزت ہے۔باقی یہ ہے کہ لاچے کو کوئی جوڑ نہیں ہوتا ،اسے سلوانا نہیں پڑتا،بس پہننا ہی پڑتا ہے اور اور اگر پہنا ہو تو اسے اتارنا بھی نہیں پڑتا کہ پہنا اور اتارا ہوا ایک سا ہی دکھائی دیتا ہے۔لاچے میں ایک نہیں دو دو پاکٹ ہوتی ہیں جسے پنجابی میں ’’ڈب‘‘ کہا جاتا ہے ۔ڈب ایسی محفوظ جیب(پاکٹ) ہے جس میں رکھے پیسے سمجھو ڈوب ہی جاتے ہیں۔اور اگر پیسے کم رکھے ہوں تو ڈب کی سلوٹوں میں انہیں تلاش کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوہ قاف کی کسی غار میں گم ہوگئے ہوں ۔لاچا پہننے والوں کو بس ایک بات کا از بس...

جگتوں کی سر زمین ۔۔۔۔۔فیصل آباد 

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جب 1962 کا آئین پیش کیا گیا تو ملک کے کونے کونے سے احباب فکرو ادب اور ارباب سیاست نے آئین پر تنقید کو اپنا حق سمجھتے ہوئے ایسے آڑے ہاتھوں لیا کہ جیسے رضیہ غنڈوں میں پھنس کر رہ گئی ہو۔بلکہ چائے کے کھو کھے پہ بیٹھنے والا وہ بندہ جسے گھر والے چولھے کے پاس بھی نہیں بیٹھنے دیتے وہ بھی کہتا پھر رہا تھا کہ ایوب خان نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔تنقید کی بڑی وجہ آئین کا صدارتی ہونا تھا کہ جس کے مطابق اختیارات کا منبع صدرِ محترم کی ذات کو خیال کیا گیا۔ایک سیاستدان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق صدر کے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ اگر مرد کو عورت اور عورت کو مرد ڈکلئیر کردے تو آئینی اختیارات کی رو سے عوام کو اس آئینی حق پر تسلیم بجا لانا ہوگا۔اس آئینی اختیارات کے بارے میں جسٹس کیانی سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ آئین میں صدر کو وہی حیثیت حاصل ہے جو فیصل آباد کے آٹھ بازاروں میں گھنٹہ گھر کو حاصل ہے‘‘گویا انگریزوں کے بنائے ہوئے اس گھنٹہ گھر کو شہرت دوام 62 کے آئین نے بخشی۔ویسے فیصل آبادتین باتوں کی وجہ سے اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے،نصرت فتح علی خان،جگت اور گھنٹہ گھر۔آٹھ بازاروں میں سے کسی ایک میں بھی قدم رنجہ فرما ہو جائیے گھنٹہ گھر ہر بازار سے منہ چڑاتا ہوا ایسے نظر آئے گا جیسے محبوب کے گھر کسی گلی سے بھی داخل ہونے کی کوشش کر لیجئے ایک خاص قسم کا مخصوص کھانسی والا بابا ہر بار آپ کے سامنے آ جائے گا۔بلکہ کبھی کبھار تو وہ پوچھ بھی لے گا کہ کاکا تیرا تیسرا چکر اے ایس گلی دا،سب خیر تے ہے نا۔فیصل آباد میں کسی بھی دکان میں تشریف لے جائیں ہر بندہ جگت کے لئے ہمہ وقت تیار ملے گا۔ایسے ہی اگرکسی بچے سے بھی نصرت کے بارے میں بات کر کے دیکھ لیں تو وہ گیان پہلے لگائے گا تعارف بعد میں کروائے گا۔ پرانی بات ہے کہ جب کمپیوٹر نیا نیا پاکستان میں متعارف ہوا تھا ،مجھے ڈیٹا کیبل کی خریداری کے لئے کچہری بازار جانے کا اتفاق ہوا۔ایک دکان سے کیبل لیتے ہوئے میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ بابا جی ذرا مضبوط سی ڈیٹا کیبل دینا،بابا جی معا میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے گویا ہوئے کہ’’بیرے توں ایہدے نال لیپ ٹاپ چلانا اے کہ کھوتا ریڑھی کھچنی اے‘‘یعنی تم نے اس کیبل سے لیپ ٹاپ چلانا ہے یا گدھا گاڑٰی کھینچنی ہے۔اس دن مجھے اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا کہ واقعی فیصل آباد میں اتنی فصل نہیں ہوتی جتنی کہ جگت ہوتی ہے۔یہاں یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ لفظ ’’بیرا‘‘ ویر کی بگڑی شکل ہے جو برادر یا بھائی کے معنی میں مستعمل ہے۔یہ لفظ فیصل آباد میں اس قدر بولا جاتا ہے کہ کبھی کبھار تو بیوی اپنے سکے شوہر کو بھی ’’بیرا‘‘ کہہ کر ہی مخاطب کر دیتی ہے،بیرے کے اس بے محل استعمال کے بعد اب ضلعی حکومت کو...

ہمارے بلاگرز